As-Sa'diAz‑Zukhruf · 43:74–89

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Az-Zukhruf 43:74–89

43:74–78Page 495

إِنَّ ٱلۡمُجۡرِمِينَ فِي عَذَابِ جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ ٧٤

Indeed, the criminals will be in the punishment of Hell, abiding eternally.

لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ وَهُمۡ فِيهِ مُبۡلِسُونَ ٧٥

It will not be allowed to subside for them, and they, therein, are in despair.

وَمَا ظَلَمۡنَٰهُمۡ وَلَٰكِن كَانُواْ هُمُ ٱلظَّٰلِمِينَ ٧٦

And We did not wrong them, but it was they who were the wrongdoers.

وَنَادَوۡاْ يَٰمَٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَۖ قَالَ إِنَّكُم مَّٰكِثُونَ ٧٧

And they will call, "O Mālik,1 let your Lord put an end to us!" He will say, "Indeed, you will remain."

لَقَدۡ جِئۡنَٰكُم بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كَٰرِهُونَ ٧٨

We had certainly brought you the truth, but most of you, to the truth, were averse.

بلاشبہ مجرم لوگ عذاب جہنم ہی میں ہمیشہ رہیں گے (74) نہیں ہلکا کیا جائے گا ان سے وہ (عذاب) اور وہ اس میں مایوس ہوں گے (75) اور نہیں ظلم کیا ہم نے ان پر اور لیکن تھے وہ خود ہی ظلم کرنے والے (76) اور پکاریں گے وہ، اے مالک! چاہیے کہ فیصلہ ٔ (موت) صادر کر دے ہم پر تیرا رب، وہ کہے گا، بے شک تم (اسی میں) ٹھہرنے والے ہو (77) البتہ تحقیق لائے ہم تمھارے پاس حق، لیکن اکثر تمھارے حق کو ناپسند کرنے والے ہی تھے (78)

[74]﴿اِنَّ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ جنھوں نے کفر اور تکذیب کے جرم کا ارتکاب کیا ﴿فِيۡ عَذَابِ جَهَنَّمَ ﴾ وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا۔ ﴿خٰؔلِدُوۡنَ﴾ وہ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس عذاب سے باہر نہیں نکلیں گے۔

[75]﴿لَا يُفَتَّرُ عَنۡهُمۡ ﴾ ایک گھڑی کے لیے بھی انھیں عذاب سے چھٹکارا نہیں ملے گا، نہ تو عذاب ختم ہو گا اور نہ اس میں نرمی ہی ہوگی۔ ﴿وَهُمۡ فِيۡهِ مُبۡلِسُوۡنَ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس اور ہر خوشی سے ناامید ہوں گے۔ وہ اپنے رب کو پکاریں گے: ﴿رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡهَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ۰۰ قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِيۡهَا وَلَا تُكَلِّمُوۡنِ﴾(المومنون: 23؍107، 108) ’’اے ہمارے رب! ہمیں جہنم سے نکال لے، اگر ہم نے دوبارہ گناہ کیے تو ہم ظالم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔‘‘

[76] یہ عذاب عظیم ان کی بداعمالیوں کا نتیجہ اور اس ظلم کی پاداش ہے جو انھوں نے اپنے آپ پر کیا۔اللہ تعالیٰ ان پر ظلم نہیں کرتا اور نہ وہ کسی کو گناہ اور جرم کے بغیر ہی سزا دیتا ہے۔

[77]﴿وَنَادَوۡا ﴾ ’’اور وہ پکاریں گے۔‘‘ درآں حالیکہ وہ آگ میں ہوں گے، شاید کہ انھیں کوئی آرام ملے۔ ﴿يٰمٰلِكُ لِيَقۡضِ عَلَيۡنَا رَبُّكَ ﴾ ’’اے مالك! تمھارا رب ہمارا کام تمام کردے۔‘‘ یعنی تیرا رب ہمیں موت دے دے تاکہ ہم عذاب سے آرام پائیں کیونکہ ہم شدید غم اور سخت عذاب میں مبتلا ہیں، ہم اس عذاب پر صبر کر سکتے ہیں نہ ہم میں اسے برداشت کرنے کی قوت ہے۔ ﴿قَالَ ﴾ جب وہ جہنم کے داروغہ ’’ مالک‘‘ سے التماس کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ انھیں موت عطا کر دے تو مالک جواب دے گا: ﴿اِنَّـكُمۡ مّٰكِثُوۡنَ ﴾ تم جہنم ہی میں رہو گے اور اس میں سے کبھی نہیں نکلو گے۔ انھیں ان کا مقصد حاصل نہیں ہو گا بلکہ انھیں ان کے مقصد کے بالکل الٹ جواب دیا جائے گا اور ان کے غم میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

[78] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے افعال بد پر زجروتوبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿لَقَدۡ جِئۡنٰكُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’بلاشبہ ہم تمھارے پاس حق لے کر آئے۔‘‘ جو اس بات کا موجب ہے کہ تم اس کی اتباع کرو اور اگر تم نے حق کی اتباع کی ہوتی تو تم فوزوسعادت سے بہرہ مند ہو تے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَكُمۡ لِلۡحَقِّ كٰرِهُوۡنَ ﴾ ’’لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔‘‘ بنابریں تم ایسی بدبختی کا شکار ہو گئے کہ اس کے بعد کوئی سعادت نہیں۔

43:79–80Page 495

أَمۡ أَبۡرَمُوٓاْ أَمۡرٗا فَإِنَّا مُبۡرِمُونَ ٧٩

Or have they devised [some] affair?1 But indeed, We are devising [a plan].

أَمۡ يَحۡسَبُونَ أَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ وَنَجۡوَىٰهُمۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُونَ ٨٠

Or do they think that We hear not their secrets and their private conversations? Yes, [We do], and Our messengers [i.e., angels] are with them recording.

بلکہ انھوں نے پختہ فیصلہ کیا ایک کام کا، تو ہم بھی قطعی فیصلہ کرنے والے ہیں(79) کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ بلاشبہ ہم نہیں سنتے بھید ان کا اور سرگوشی کرنا ان کا؟ کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ان کے پاس لکھتے ہیں (80)

[79] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: کیا حق کی تکذیب کرنے والوں اور اس سے عناد رکھنے والوں نے کوئی تدبیر کی ہے؟ ﴿اَمۡرًا ﴾ یعنی انھوں نے حق کے خلاف سازش کی اور حق لانے والے کے خلاف چال چلی ہے تاکہ وہ ملمع سازی سے باطل کو مزین کر کے اور دلچسپ بنا کر حق کو سرنگوں کریں۔ ﴿فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ﴾ یعنی ہم بھی ایک بات کو محکم بنا رہے ہیں اور ایسی تدبیر کر رہے ہیں جو ان کی تدبیر پر غالب ہے اور اس کو توڑ کر باطل کر کے رکھ دے گی اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ حق کو ثابت کرنے اور باطل کے ابطال کے لیے اسباب اور دلائل مقرر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿بَلۡ نَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ عَلَى الۡبَاطِلِ فَيَدۡمَغُهٗ﴾(الانبیاء: 21؍18) ’’بلکہ ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں تو حق باطل کا سر توڑ ڈالتا ہے۔‘‘

[80]﴿اَمۡ يَحۡسَبُوۡنَ ﴾ کیا وہ اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ ﴿اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّهُمۡ ﴾ وہ بھید جس کو وہ اپنی زبان پر نہیں لائے بلکہ ابھی وہ ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے، ہم سنتے نہیں۔ ﴿وَنَجۡوٰىهُمۡ ﴾ اور ان کی خفیہ بات چیت کو جو وہ سرگوشیوں میں کرتے ہیں؟ بنابریں وہ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان معاصی پر کوئی متابعت نہیں اور نہ ان باتوں کی سزا ہی ملے گی جو چھپی ہوئی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:﴿بَلٰى ﴾ ’’ہاں، ہاں‘‘ ہم ان کے بھید اور ان کی سرگوشیوں کو جانتے ہیں ﴿وَرُسُلُنَا ﴾ ’’اور ہمارے قاصد۔‘‘ یعنی با تکریم فرشتے ﴿لَدَيۡهِمۡ يَكۡتُبُوۡنَ ﴾ وہ ان کے تمام اعمال کو لکھتے ہیں اور ان اعمال کو محفوظ رکھیں گے اور جب یہ لوگ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں گے تو وہ ان تمام اعمال کو موجود پائیں گے جو انھوں نے کیے تھے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔

43:81–83Page 495

قُلۡ إِن كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ وَلَدٞ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلۡعَٰبِدِينَ ٨١

Say, [O Muḥammad], "If the Most Merciful had a son, then I would be the first of [his] worshippers."1

سُبۡحَٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ رَبِّ ٱلۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُونَ ٨٢

Exalted is the Lord of the heavens and the earth, Lord of the Throne, above what they describe.

فَذَرۡهُمۡ يَخُوضُواْ وَيَلۡعَبُواْ حَتَّىٰ يُلَٰقُواْ يَوۡمَهُمُ ٱلَّذِي يُوعَدُونَ ٨٣

So leave them to converse vainly and amuse themselves until they meet their Day which they are promised.

کہہ دیجیے! اگر ہو (اللہ) رحمان کی کوئی اولاد تو میں سب سے پہلے (اس کی) عبادت کرنے والا ہوں (81) پاک ہے رب آسمانوں اور زمین کا اور رب عرش کا، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں (82) پس چھوڑ دیجیے ان کو وہ الجھے رہیں (اپنے جہل میں) اور کھیلیں کودیں یہاں تک کہ ملیں وہ اپنے اس دن کو جس کا وعدہ دیے جاتے ہیں وہ (83)

[81] اے رسول ! ان لوگوں سے کہہ دیجیے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کا بیٹا قرار دے رکھا ہے، حالانکہ وہ اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے کوئی بیوی بنائی نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے ﴿قُلۡ اِنۡ كَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ١ۖ ۗ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِيۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے: اگر رحمٰن کے اولاد ہوتی تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوتا۔‘‘ اس بیٹے کی کیونکہ بیٹا اپنے باپ کا جز ہوتا ہے۔ میں تمام مخلوق میں ان تمام اوامر پر عمل کرنے میں سب سے آگے ہوں، جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں، مگر (تم دیکھ رہے ہو) کہ میں اس کا انکار کرنے والا پہلا شخص ہوں اور اس کی نفی کرنے میں سب سے زیادہ سخت ہوں، پس اس سے اس مشرکانہ قول کا بطلان ثابت ہو گیا۔ جو لوگ انبیائے کرام کے احوال کو جانتے ہیں اور انھیں یہ معلوم ہے کہ انبیاء کامل ترین مخلوق ہیں، ہر بھلائی پر عمل کرنے اور اس کی تکمیل کے لیے وہ پیش پیش رہتے ہیں اور ہر برائی کو ترک کرنے، اس کا انکار کرنے اور اس سے دور رہنے میں سب سے آگے ہیں تو ایسے لوگوں کے نزدیک یہ ایک بہت بڑی دلیل ہے۔ پس اگر رحمان کا کوئی بیٹا ہوتا، تو محمد بن عبداللہ (ﷺ) جو سب سے افضل رسول ہیں، اولین شخص ہوتے جو اس کی عبادت کرتے اور اس کی عبادت کرنے میں مشرکین آپ پر کبھی سبقت نہ لے جاسکتے۔ آیت کریمہ میں اس معنی کا احتمال ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا اولین شخص ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے میری عبادت یہ ہے کہ اس نے جس چیز کا اثبات کیا ہے میں اس کا اثبات کرتا ہوں اور جس چیز کی اس نے نفی کی ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں، پس یہ قولی و اعتقادی عبادت ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر یہ بات حق ہوتی تو میں پہلا شخص ہوتا جو اس کا اثبات کرتا، لہٰذا اس سے اور عقل و نقل کے اعتبار سے مشرکین کے دعوے کا بطلان اور فساد معلوم ہوگیا۔

[82]﴿سُبۡحٰؔنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا يَصِفُوۡنَ ﴾ ’’یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں، آسمانوں اور زمین کا رب (اور) عرش عظیم کا رب اس سے پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ شریک، معاون مددگار اور اولاد وغیرہ ان تمام چیزوں سے پاک اور منزہ ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

[83]﴿فَذَرۡهُمۡ يَخُوۡضُوۡا وَيَلۡعَبُوۡا ﴾ ’’پس آپ انھیں چھوڑ دیں کہ وہ بے ہودہ کھیل کود میں لگے رہیں۔‘‘ یعنی یہ باطل میں مبتلا ہو کر محال امور سے کھیلتے ہیں، ان کے علوم ضرر رساں ہیں ان میں کوئی نفع نہیں، وہ ایسے علوم میں بحث کرتے اور ان میں مشغول ہوتے ہیں جن کے ذریعے سے یہ لوگ حق اور دعوت کی مخالفت کرتے ہیں جو انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں۔ ان کے اعمال محض لہوولعب ہیں جو نفوس کا تزکیہ کرتے ہیں نہ ان سے معارف حاصل ہوتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے انھیں اس انجام کی وعید سنائی ہے جس کا قیامت کے روز انھیں سامنا کرنا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿حَتّٰى يُلٰقُوۡا يَوۡمَهُمُ الَّذِيۡ يُوۡعَدُوۡنَ﴾ ’’حتی کہ جس دن کا ان سے وعدہ کیا جاتاہے وہ اس کو دیکھ لیں۔‘‘ تب انھیں معلوم ہو گا کہ انھیں اس میں کیا حاصل ہوا کہ وہ دائمی بدبختی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب میں پھنس گئے ہیں۔

43:84–89Page 495

وَهُوَ ٱلَّذِي فِي ٱلسَّمَآءِ إِلَٰهٞ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَٰهٞۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡعَلِيمُ ٨٤

And it is He [i.e., Allāh] who is [the only] deity in the heaven, and on the earth [the only] deity. And He is the Wise, the Knowing.

وَتَبَارَكَ ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلۡمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٨٥

And blessed is He to whom belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them and with whom is knowledge of the Hour and to whom you will be returned.

وَلَا يَمۡلِكُ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ ٨٦

And those they invoke1 besides Him do not possess [power of] intercession; but only those who testify to the truth [can benefit], and they know.2

وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٨٧

And if you asked them1 who created them, they would surely say, "Allāh." So how are they deluded?

وَقِيلِهِۦ يَٰرَبِّ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوۡمٞ لَّا يُؤۡمِنُونَ ٨٨

And [Allāh acknowledges] his saying,1 "O my Lord, indeed these are a people who do not believe."

فَٱصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلَٰمٞۚ فَسَوۡفَ يَعۡلَمُونَ ٨٩

So turn aside from them and say, "Peace."1 But they are going to know.

اور وہ، وہ ہے جو آسمان میں بھی معبود ہے اور زمین میں بھی معبود اور وہ نہایت حکمت والا، خوب جاننے والا ہے (84) اور بہت بابرکت ہے وہ ذات، جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اور جو درمیان ہے ان دونوں کے، اور اسی کے پاس ہے علم قیامت کا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (85) اور نہیں اختیار رکھتے وہ، جن کو وہ پکارتے ہیں اس کے سوا، سفارش کا، مگر وہ جس نے گواہی دی ساتھ حق کے اور وہ جانتے ہیں (86) اور اگر آپ سوال کریں ان سے کہ کس نے پیدا کیا ان کو تو یقیناً ضرور وہ کہیں گے: اللہ نے، پس وہ کہاں پھیرے جاتے ہیں؟ (87) قسم ہے اس (رسول) کے (یہ) کہنے کی کہ اے رب! بلاشبہ یہ لوگ ہیں کہ نہیں ایمان لائیں گے (88) پس منہ پھیر لیجیے ان سے اور کہہ دیجیے: سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے(89)

[84] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں وہ اکیلا ہی معبود ہے پس آسمان کی تمام مخلوق اور زمین پر بسنے والے اہل ایمان اس کی عبادت و تعظیم کرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے کمال کے محتاج ہیں۔ ﴿تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ ﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جو بھی ہے، سب اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔‘‘ اورفرمایا:﴿وَلِلّٰهِ يَسۡجُدُ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ طَوۡعًا وَّكَرۡهًا﴾(الرعد:13؍15) ’’آسمانوں اور زمین کے تمام باسی چاہتے اور نا چاہتے ہوئے اللہ ہی کے لیے سجدہ کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، تمام مخلوق جس کی خوشی اور ناخوشی سے عبادت کرتی ہے۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس قول کی مانند ہے:﴿وَهُوَ اللّٰهُ فِي السَّمٰوٰتِ وَفِي الۡاَرۡضِ ﴾(الانعام:6؍3) یعنی اس کی الوہیت اور محبت آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ خود تمام مخلوق سے جدا اپنے عرش پر ہے، وہ اپنے جلال میں یکتا اور اپنے کمال کے ساتھ بزرگی کا مالک ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ حکمت والا ہے۔‘‘ جس نے اپنی مخلوق کو نہایت محکم طور پر تخلیق کیا اور اپنی شریعت کو نہایت مہارت سے وضع کیا۔ اس نے جو چیز بھی پیدا کی کسی حکمت ہی کی بنا پر پیدا کی، اس کا حکم کونی و قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی تمام تر حکمت پر مشتمل ہے۔ ﴿الۡعَلِيۡمُ ﴾ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، وہ ہر بھید اور مخفی معاملے کو جانتا ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی میں چھوٹی یا بڑی ذرہ بھر چیز بھی اس کی نظر سے اوجھل نہیں۔

[85]﴿وَتَبٰرَكَ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ﴾ ’’اور بابرکت ہے وہ ذات جس کی آسمانوں، زمین اور جو ان کے درمیان موجود ہے، سب پر حکومت ہے۔‘‘(تبارک) کا معنی ہے کہ وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے، اس کی بھلائیاں بے شمار، اس کی صفات لامحدود اور اس کی سلطنت بہت عظیم ہے۔ بنابریں فرمایا کہ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان ہر چیز پر حاوی ہے، اس کا علم بہت وسیع ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ تمام امور غیب کا وہ اکیلا ہی علم رکھتا ہے، جن کا علم کوئی نبئ مرسل، کوئی مقرب فرشتہ اور مخلوق میں سے کوئی ہستی نہیں رکھتی۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾ یہاں افادۂ حصر کے لیے ظرف کو مقدم رکھا ہے یعنی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی؟ اس کا کامل اقتدار اور اس کی وسعت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ اس لیے فرمایا ﴿وَاِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور تم (آخرت میں) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ تمھارے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرے گا۔

[86] یہ اس کا کامل اقتدار ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کا، کوئی ہستی کوئی اختیار نہیں رکھتی اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے ہاں کوئی کسی قسم کی سفارش نہیں کر سکے گا۔ پس فرمایا:﴿وَلَا يَمۡلِكُ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِ الشَّفَاعَةَ ﴾ یعنی انبیاء اور فرشتے اور دیگر لوگوں میں سے ایسی تمام ہستیاں جنھیں اللہ کے سواپکارا جاتا ہےوہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتیں، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کر سکیں گی اور صرف اسی کے حق میں سفارش کر سکیں گی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہو گا۔ بنابریں فرمایا:﴿اِلَّا مَنۡ شَهِدَ بِالۡحَقِّ ﴾ یعنی جس نے دل سے حق کا اقرار کرتے ہوئے اور جس امر کی شہادت دی جا رہی ہے اس کا علم رکھتے ہوئے زبان سے حق کی شہادت دی اور اس شرط کے ساتھ کہ یہ شہادت حق کے ساتھ شہادت ہو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کے لیے اس کی وحدانیت کی شہادت، اس کے رسولوں کے لیے ان کی نبوت و رسالت کی شہادت اور دین کے اصول و فروع، اس کے حقائق اور شرائع کی شہادت جنھیں لے کر وہ مبعوث ہوئے ہیں۔ پس یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں سفارش کرنے والوں کی سفارش فائدہ دے گی اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات پائیں گے اور اس کا ثواب حاصل کریں گے۔

[87] پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَىِٕنۡ سَاَلۡتَهُمۡ مَّنۡ خَلَقَهُمۡ لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ یعنی اگر آپ مشرکین سے توحید ربوبیت کے بارے میں پوچھیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے، تو وہ اقرار کریں گے کہ اللہ واحد جس کا کوئی شریک نہیں، اس کائنات کا خالق ہے۔ ﴿فَاَنّٰى يُؤۡفَكُوۡنَ﴾ یعنی تب اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس اکیلے کے لیے اخلاص سے کہاں منہ موڑے جا رہے ہیں۔ پس ان کا توحید ربوبیت کا اقرار، ان پر توحید الوہیت کے اقرار کو لازم ٹھہراتا ہے اور یہ شرک کے بطلان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

[88]﴿وَقِيۡلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور پیغمبر کا یہ کہنا کہ اے میرے رب! یہ ایسے لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَعِنۡدَهٗ عِلۡمُ السَّاعَةِ ﴾(الزخرف:43؍85)’’اور اس کے پاس قیامت کا علم ہے۔‘‘ پر معطوف ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ کے آپ کی قوم کی طرف سے آپ کی تکذیب کے وقت، اپنے رب کے پاس شکوہ کرتے ہوئے، نہایت حزن و غم اور اپنی قوم کے عدم ایمان پر نہایت حسرت کے ساتھ دعا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس حال کا علم رکھتا ہے اور ان کو فوراً سزا دینے پر قادر ہے، مگر وہ نہایت بردبار ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے۔

[89] اس لیے فرمایا: ﴿فَاصۡفَحۡ عَنۡهُمۡ وَقُلۡ سَلٰمٌ ﴾ ان کی طرف سے آپ کو جو قولی اور فعلی اذیت پہنچتی ہے اس پر ان سے درگزر کیجیے اور ان کو معاف کر دیجیے۔ آپ کی طرف سے ان کے لیے سلام ہی ہونا چاہیے، جس کے ذریعے سے عقل مند اور اہل بصیرت جاہلوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کے بارے میں فرمایا:﴿وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾(الفرقان:25؍63) ’’جب ان سے جہلاء مخاطب ہوتے ہیں‘‘ یعنی ایسا خطاب جو ان کی جہالت کے تقاضے پر مبنی ہوتا ہے۔ ﴿قَالُوۡا سَلٰمًا ﴾(الفرقان: 25؍63) ’’تو ان کو کہہ دیتے ہیں: تمھیں سلام ہو۔‘‘ پس رسول مصطفیﷺ نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی اور آپ کی قوم نے آپ کو جو اذیتیں دیں ان کا عفوودرگزر کے ساتھ سامنا کیا اور آپ ان کے ساتھ صرف حسن سلوک اور حسن کلام سے پیش آئے۔ پس اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس مقدس ہستی پر جسے اللہ تعالیٰ نے خلق عظیم سے مختص فرمایا اور اس کے ذریعے سے زمین و آسمان کے رہنے والوں کو فضیلت بخشی اور آپ اس خلق عظیم کے ذریعے سے ستاروں سے زیادہ بلندیوں پر پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَسَوۡفَ يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ تو عنقریب انھیں اپنے گناہوں اور جرائم کا انجام معلوم ہو جائے گا۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском