Al-Jathiyah 45:25
The Crouching · Juz 25 · Page 501
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٥
And when Our verses are recited to them as clear evidences, their argument is only that they say, "Bring [back] our forefathers, if you should be truthful."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 45:23–26
کیا پس دیکھا آپ نے اس کو جس نے بنا لیا اپنا معبود اپنی خواہش کو اور گمراہ کر دیا اس کو اللہ نے علم پر اور مہر لگا دی اس کے کان اور اس کے دل پر اور کر دیا اس کی آنکھ پر پردہ؟ پس کون ہے جو ہدایت دے اسے بعد اللہ کے؟ کیا پس نہیں تم نصیحت پکڑتے (23) اور کہا انھوں نے: نہیں ہے یہ (زندگی) سوائے ہماری زندگانی دنیا کے، ہم مرتے اور زندہ ہوتے ہیں اور نہیں ہلاک کرتا ہمیں مگر زمانہ ہی، اور نہیں ہے ان کے لیے اس کا کوئی علم، نہیں ہیں وہ مگر گمان کرتے (24) اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پر ہماری آیتیں اس حال میں کہ وہ واضح ہیں تو نہیں ہوتی دلیل ان کی مگر یہی کہ انھوں نے کہا، لے آؤ ہمارے باپ دادوں کو اگر ہو تم سچے (25) کہہ دیجیے! اللہ ہی زندہ کرتا ہے تم کو ، پھرمارتا ہے تم کو ، پھر وہی جمع کرے گا تمھیں روز قیامت میں، کہ نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (26)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اَفَرَءَيۡتَ ﴾ کیا آپ نے اس گمراہ شخص کو دیکھا ﴿مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ ﴾ ’’جس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا‘‘ جس راستے پر چاہا، چلتا رہا، خواہ اس راستے پر چلنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے یا اس کو سخت ناپسند کرتا ہے۔ ﴿وَاَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلۡمٍ ﴾ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے اسے گمراہی میں پھینک دیا کہ وہ ہدایت کے لائق نہیں اور نہ ہدایت کے ذریعے سے وہ پاک ہی ہو سکتا ہے۔ ﴿وَّخَتَمَ عَلٰى سَمۡعِهٖ ﴾ ’’اور اس کے کانوں پر مہر لگادی۔‘‘ اس لیے وہ کوئی ایسی چیز نہیں سن سکتا جو اس کے لیے فائدہ مند ہو ﴿وَقَلۡبِهٖ﴾ ’’اور اس کے دل پر۔‘‘ پس وہ بھلائی کو یاد نہیں رکھ سکتا ﴿وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً ﴾ ’’اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔‘‘ جو اسے حق دیکھنے سے روکتا ہے ﴿فَمَنۡ يَّهۡدِيۡهِ مِنۢۡ بَعۡدِ اللّٰهِ ﴾ ’’پس کون ہے جو اس کو اللہ کے بعد ہدایت دے؟‘‘ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہدایت کے دروازے بند کر دیے اور گمراہی کے دروازے کھول دیے، کوئی شخص اس کو ہدایت سے بہرہ مند نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ظلم نہیں کیا بلکہ اس نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا، اس نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مانع تھے۔ ﴿اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم (اس چیز سے) نصیحت نہیں پکڑتے۔‘‘ جو تمھیں فائدہ دے اور تم اسے اختیار کرتے اور جو چیز تمھیں نقصان دے تم اس سے اجتناب کرتے۔
[24]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی منکرین آخرت کہتے ہیں: ﴿مَا هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا نَمُوۡتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهۡرُ ﴾ یہ تو سب صرف عادات ہیں اور گردش لیل و نہار کے ساتھ جاری ہیں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور کچھ لوگ جنم لیتے ہیں، جو کوئی مر جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر نہیں جاتا اور نہ اس کو اس کے عمل کی جزا و سزا ہی دی جائے گی۔ ان کا یہ قول بغیر کسی علم کے صادر ہوا ہے۔ ﴿اِنۡ هُمۡ اِلَّا يَظُنُّوۡنَ ﴾ پس انھوں نے معاد کا انکار کیا اور کسی دلیل و برہان کے بغیر سچے رسولوں کی تکذیب کی۔ یہ محض وہم و گمان اور ایسے استبعادات ہیں جو حقیقت سے خالی ہیں۔
[25] بنابریں فرمایا: ﴿وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوا ائۡتُوۡا بِاٰبَآىِٕنَاۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ کہہ دیتے ہیں: اگر تم سچے ہو تو ہمارے آباؤ اجداد کو اٹھالاؤ۔‘‘یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں گستاخی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ کیا اور اس زعم باطل میں مبتلا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی صداقت اس بات پر موقوف ہے کہ ان کے آباء و اجداد کو زندہ کر کے ان کے سامنے لایا جائے، انبیاء و رسل ان کے پاس کوئی بھی نشانی لے آئیں وہ ہرگز نہیں مانیں گے جب تک کہ رسول ان کا وہ مطالبہ پورا نہیں کرتے جو انھوں نے پیش کیا ہے۔ وہ اپنے قول میں سخت جھوٹے ہیں ان کا مقصد بیان حق نہیں بلکہ صرف رسولوں کی دعوت کو ٹھکرانا ہے۔
[26] اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلِ اللّٰهُ يُحۡيِيۡكُمۡ ثُمَّ يُمِيۡتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تم کو زندہ کرتا، پھر تم کو مارتا ہے ، پھر تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اگر یوم آخرت کا علم ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا ہوتا تو وہ ضرور اس کے لیے تیاری کرتے اور نیک عمل کرتے۔
Page 501
45:23
أَفَرَءَيۡتَ مَنِ ٱتَّخَذَ إِلَٰهَهُۥ هَوَىٰهُ وَأَضَلَّهُ ٱللَّهُ عَلَىٰ عِلۡمٖ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمۡعِهِۦ وَقَلۡبِهِۦ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِۦ غِشَٰوَةٗ فَمَن يَهۡدِيهِ مِنۢ بَعۡدِ ٱللَّهِۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٣
Have you seen he who has taken as his god his [own] desire, and Allāh has sent him astray due to knowledge1 and has set a seal upon his hearing and his heart and put over his vision a veil? So who will guide him after Allāh? Then will you not be reminded?
1 translator’s note
- This can refer to Allāh's knowledge of that person and of his preference for his own inclinations or to that person's knowledge of the truth while he refuses it. ↩
45:24
وَقَالُواْ مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا نَمُوتُ وَنَحۡيَا وَمَا يُهۡلِكُنَآ إِلَّا ٱلدَّهۡرُۚ وَمَا لَهُم بِذَٰلِكَ مِنۡ عِلۡمٍۖ إِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ ٢٤
And they say, "There is not but our worldly life; we die and live,1 and nothing destroys us except time." And they have of that no knowledge; they are only assuming.
1 translator’s note
- i.e., some people die and others live, replacing them. ↩
45:25
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ ٱئۡتُواْ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٥
And when Our verses are recited to them as clear evidences, their argument is only that they say, "Bring [back] our forefathers, if you should be truthful."
45:26
قُلِ ٱللَّهُ يُحۡيِيكُمۡ ثُمَّ يُمِيتُكُمۡ ثُمَّ يَجۡمَعُكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٦
Say, "Allāh causes you to live, then causes you to die; then He will assemble you for the Day of Resurrection, about which there is no doubt, but most of the people do not know."
45:27
وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ وَيَوۡمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يَوۡمَئِذٖ يَخۡسَرُ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ٢٧
And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth. And the Day the Hour appears - that Day the falsifiers will lose.
45:28
وَتَرَىٰ كُلَّ أُمَّةٖ جَاثِيَةٗۚ كُلُّ أُمَّةٖ تُدۡعَىٰٓ إِلَىٰ كِتَٰبِهَا ٱلۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٨
And you will see every nation kneeling [from fear]. Every nation will be called to its record [and told], "Today you will be recompensed for what you used to do.
45:29
هَٰذَا كِتَٰبُنَا يَنطِقُ عَلَيۡكُم بِٱلۡحَقِّۚ إِنَّا كُنَّا نَسۡتَنسِخُ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٢٩
This, Our record, speaks about you in truth. Indeed, We were having transcribed1 whatever you used to do."
1 translator’s note
- By recording angels. ↩
45:30
فَأَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَيُدۡخِلُهُمۡ رَبُّهُمۡ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ ٣٠
So as for those who believed and did righteous deeds, their Lord will admit them into His mercy. That is what is the clear attainment.
45:31
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَفَلَمۡ تَكُنۡ ءَايَٰتِي تُتۡلَىٰ عَلَيۡكُمۡ فَٱسۡتَكۡبَرۡتُمۡ وَكُنتُمۡ قَوۡمٗا مُّجۡرِمِينَ ٣١
But as for those who disbelieved, [it will be said], "Were not Our verses recited to you, but you were arrogant and became a criminal people?
45:32
وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱلسَّاعَةُ لَا رَيۡبَ فِيهَا قُلۡتُم مَّا نَدۡرِي مَا ٱلسَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنّٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُسۡتَيۡقِنِينَ ٣٢
And when it was said, 'Indeed, the promise of Allāh is truth and the Hour [is coming] - no doubt about it,' you said, 'We know not what is the Hour. We assume only assumption, and we are not convinced.'"