Al-Ma'idahJuz 7 · Page 125

Al-Ma'idah 5:108

The Table Spread · Juz 7 · Page 125

ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ١٠٨

That is more likely that they will give testimony according to its [true] objective, or [at least] they would fear that [other] oaths might be taken after their oaths. And fear Allāh and listen [i.e., obey Him]; and Allāh does not guide the defiantly disobedient people.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:106–108

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شہادت ہونی چاہیے تمھارے درمیان جب آپہنچے کسی کو تم میں سے موت، وقت وصیت کے دو عادل شخصوں کی تم میں سے یا دو اور ہوں تم مسلمانوں کے سوا، اگر تم سفر کر رہے ہو زمین میں ، پھر پہنچے تمھیں مصیبت موت کی، روک لو ان دونوں کو بعد نماز کے، پس قسمیں کھائیں وہ اللہ کی اگر تم شک کرو (وہ کہیں ) ہم نہیں لیتے اس (قسم) کے بدلے کوئی قیمت، اگرچہ ہو وہ رشتے داراور نہیں چھپاتے ہم گواہی اللہ کی، یقینا ہم اس وقت گناہ گاروں میں سے ہوں گے(106) پھر اگر اطلاع ہو جائے اس پر کہ وہ دونوں مرتکب ہوئے ہیں گناہ کے تو دو اور گواہ کھڑے ہوں ان کی جگہ ان لوگوں میں سے جن کی حق تلفی ہوئی ہے، قریب تر (میت کے) ، پھر قسمیں کھائیں دونوں اللہ کی کہ ہماری شہادت زیادہ سچی ہے ان کی شہادت سے اور نہیں زیادتی کی ہم نے، بے شک ہم اس وقت ظالموں میں سے ہوں گے(107) یہ (طریقہ) قریب تر ہے اس کے کہ دیں وہ شہادت ٹھیک طریقے پر یا ڈریں اس سے کہ رد کر دی جائیں گی قسمیں (ان کی) بعد ان (ورثاء) کی قسموں کےاور ڈرو تم اللہ سے اور سنواور اللہ نہیں ہدایت دیتا فاسق لوگوں کو(108)

[106] اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوۡ اٰخَرٰنِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ ﴾ ’’یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا‘‘ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنۡ اَنۡتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو‘‘ ﴿ فَاَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةُ الۡمَوۡتِ﴾ ’’اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی‘‘ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ الصَّلٰوةِ ﴾ ’’نماز کے بعد‘‘ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ ﴾ ’’پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ‘‘ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِ ارۡتَبۡتُمۡ ﴾ ’’اگر تمھیں (ان کی گواہی میں ) شک ہو‘‘ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَا نَشۡتَرِيۡ بِهٖ ﴾ ’’نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے‘‘ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾ ’’کوئی مال‘‘ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبٰى ﴾ ’’اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو‘‘ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَا نَؔكۡتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ﴾ ’’اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے‘‘ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا ﴾ ’’بے شک تب ہم‘‘ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّمِنَ الۡاٰثِمِيۡنَ ﴾ ’’تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے‘‘۔

[107]﴿ فَاِنۡ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا ﴾ ’’پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں ‘‘ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسۡتَحَقَّـاۤ اِثۡمًا ﴾ ’’حق بات دبا گئے ہیں ‘‘ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں ، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَيُقۡسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنۡ شَهَادَتِهِمَا ﴾’’پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے‘‘ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَا اعۡتَدَيۡنَاۤ١ۖٞ اِنَّـاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے‘‘ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔

[108] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس گواہی، اس کی تاکید اور دونوں گواہوں سے خیانت ظاہر ہونے پر گواہی کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹانے کی حکمت بیان کی ہے۔ ﴿ ذٰلِكَ اَدۡنٰۤى ﴾ ’’اس طریق سے بہت قریب ہے۔‘‘ یعنی یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے ﴿ اَنۡ يَّاۡتُوۡا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجۡهِهَاۤ ﴾ ’’کہ وہ ادا کریں گواہی کو ٹھیک طریقے پر‘‘ یعنی جب ان گواہوں کو مذکورہ تاکیدات کے ذریعے سے تاکید کی جائے گی ﴿ اَوۡ يَخَافُوۡۤا اَنۡ تُرَدَّ اَيۡمَانٌۢ بَعۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ ﴾ ’’اس بات سے خوف کریں کہ ہماری قسمیں ان کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔‘‘ یعنی ان کو خوف ہو گا کہ ان کی قسمیں قبول نہیں کی جائیں گی اور ان قسموں کو میت کے اولیاء کی طرف لوٹا دیا جائے گا ﴿وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف فسق ہے جو ہدایت چاہتے ہیں، نہ راہ راست پر چلنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان آیات کریمہ کا حاصل یہ ہے کہ سفر وغیرہ میں جب میت کی موت کا وقت آ جائے اور وہ ایسی جگہ پر ہو جہاں گمان یہ ہو کہ معتبر گواہ بہت کم ہوں گے تو میت کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ دو مسلمان عادل گواہوں کے سامنے وصیت کرے اور اگر صرف دو کافر گواہ مہیا ہو سکیں تو ان کے پاس بھی وصیت کرنا جائز ہے۔اگر ان گواہوں کے کفر کی وجہ سے میت کے اولیاء ان کے بارے میں شک کریں تو نماز کے بعد ان سے حلف لیں کہ انھوں نے خیانت کا ارتکاب کیا ہے نہ جھوٹ بولا ہے اور نہ انھوں نے وصیت میں کوئی تغیر و تبدل کیا ہے۔ اس طرح وہ اس حق کی ذمہ داری سے بری ہو جائیں گے جو ان پر ڈال دی گئی تھی۔ اگر میت کے اولیاء ان کی گواہی کو تسلیم نہ کریں اور وہ کوئی ایسا قرینہ پائیں جو گواہوں کے جھوٹ پر دلالت کرتا ہو۔ پس اگر میت کے اولیاء میں سے دو گواہ کھڑے ہو کر قسم اٹھائیں کہ ان کی گواہی پہلے گواہوں کی گواہی سے صحیح ہے اور یہ کہ پہلے گواہ خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں اور انھوں نے جھوٹ بولا ہے تو وہ ان پہلے گواہوں کے مقابلے میں اپنے دعوے میں مستحق قرار پائیں گے۔یہ آیات کریمہ تمیم داریt اور عدی بن بداء کے قصہ میں نازل ہوئی ہیں جو بہت مشہور ہے اور قصہ یوں ہے کہ عدوی(مفسر موصوف سے سہوہوا ہے۔ صحیح بخاری، ترمذی، ابن کثیر اور دیگر مفسرین کے نزدیک عدوی کی جگہ سہمی وارد ہوا ہے یعنی بنو سہم کا ایک آدمی) نے ان دونوں حضرات کے پاس وصیت کی تھی۔ واللہ اعلم(یہ قصہ اصل میں اس طرح ہے کہ حضرت تمیم داری (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) اور عدی بن بداء، یہ دونوں نصرانی تھے اور تجارت کے لیے شام گئے ہوئے تھے۔ ایک مسلمان بدیل بن ابی مریم بھی وہاں گئے ہوئے تھے، وہاں بدیل سخت بیمار ہوگئے حتیٰ کہ زندگی سے مایوس ہوگئے۔ انہوں نے ان دونوں کو وصیت کی اور اپنا سامان بھی ان کے سپرد کردیا کہ وہ اسے ان کے گھر پہنچادیں ۔ ان دونوں نے اس سامان میں سے چاندی کا ایک پیالہ نکال کر بیچ دیا اور اس کی رقم آپس میں بانٹ لی۔ بعد میں ورثاء کو اس کا علم ہوا، تو رسول اللہﷺ نے ان سے حلف اٹھوایا۔ (صحیح البخاري، الوصایا، حدیث:2780۔ جامع الترمذي، التفسیر، حدیث: 3059)(ص۔ی)ان آیات کریمہ سے متعدد احکام پر استدلال کیا جاتا ہے۔(۱)وصیت کرنا مشروع ہے جس کی موت کا وقت قریب آ جائے تو اسے چاہیے کہ وصیت کرے۔(۲) جب موت کے مقدمات و آثار نمودار ہو جائیں تو مرنے والے کی وصیت اس وقت تک معتبر ہے جب تک اس کے ہوش و حواس قائم ہیں ۔ (۳) وصیت میں دو عادل گواہوں کی گواہی ضروری ہے۔ (۴) وصیت اور اس قسم کے دیگر مواقع پر، بوقت ضرورت کفار کی گواہی مقبول ہے۔ یہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ بہت سے اہل علم دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ مگر نسخ کے اس دعویٰ پر کوئی دلیل نہیں ۔ (۵) اس حکم کے اشارہ اور اس کے معنی سے مستفاد ہوتا ہے کہ مسلمان گواہوں کی عدم موجودگی میں وصیت کے علاوہ دیگر مسائل میں بھی کفار کی گواہی قابل قبول ہے۔ جیسا کہ یہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔ (۶) اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر خوف کی بات نہ ہو تو کفار کی معیت میں سفر جائز ہے۔ (۷) تجارت کے لیے سفرکرنا جائز ہے۔ (۸) اگر دونوں گواہوں کی گواہی کے بارے میں شک ہو مگر ایسا کوئی قرینہ موجود نہ ہو جو ان کی خیانت پر دلالت کرتا ہو اور وصیت کرنے والے کے اولیاء ان گواہوں سے قسم لینا چاہتے ہوں تو وہ انھیں نماز کے بعد روک لیں اور ان سے اس طریقے سے قسم لیں جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ (۹) اگر ان دونوں کی گواہی میں کوئی شک اور تہمت نہ ہو تو ان کو روکنے اور ان سے قسم لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ (۱۰) یہ آیت کریمہ شہادت کے معاملے کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شہادت کو اپنی طرف مضاف کیا ہے، نیز یہ کہ اس کو درخور اعتنا سمجھنا اور انصاف کے مطابق اس کو قائم کرنا واجب ہے۔ (۱۱) گواہوں کے بارے میں اگر شک ہو تو گواہوں کا امتحان اور ان کو علیحدہ علیحدہ کر کے گواہی لینا جائز ہے۔ تاکہ سچ اور جھوٹ کے اعتبار سے گواہی کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ (۱۲) جب ایسے قرائن پائے جائیں جو اس مسئلہ میں دونوں وصیّوں (گواہوں ) کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں تو میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور اللہ کی قسم کھائیں کہ ہماری قسم ان کی قسم سے زیادہ سچی ہے۔ انھوں نے خیانت کی ہے اور جھوٹ کہا ہے پھر جس چیز کا وہ دعویٰ کرتے ہیں ان کے حوالے کر دی جائے گی۔ ان کی قسموں کے ساتھ، قرینہ، ثبوت کے قائم مقام ہے۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 125

Al-Ma'idahJuz 7 · Page 125

5:104

وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡاْ إِلَىٰ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَإِلَى ٱلرَّسُولِ قَالُواْ حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَيۡهِ ءَابَآءَنَآۚ أَوَلَوۡ كَانَ ءَابَآؤُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَهۡتَدُونَ ١٠٤

And when it is said to them, "Come to what Allāh has revealed and to the Messenger," they say, "Sufficient for us is that upon which we found our fathers." Even though their fathers knew nothing, nor were they guided?

5:105

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ عَلَيۡكُمۡ أَنفُسَكُمۡۖ لَا يَضُرُّكُم مَّن ضَلَّ إِذَا ٱهۡتَدَيۡتُمۡۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيعٗا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ١٠٥

O you who have believed, upon you is [responsibility for] yourselves. Those who have gone astray will not harm you when you have been guided. To Allāh is your return all together; then He will inform you of what you used to do.

5:106

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ شَهَٰدَةُ بَيۡنِكُمۡ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ حِينَ ٱلۡوَصِيَّةِ ٱثۡنَانِ ذَوَا عَدۡلٖ مِّنكُمۡ أَوۡ ءَاخَرَانِ مِنۡ غَيۡرِكُمۡ إِنۡ أَنتُمۡ ضَرَبۡتُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَأَصَٰبَتۡكُم مُّصِيبَةُ ٱلۡمَوۡتِۚ تَحۡبِسُونَهُمَا مِنۢ بَعۡدِ ٱلصَّلَوٰةِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ إِنِ ٱرۡتَبۡتُمۡ لَا نَشۡتَرِي بِهِۦ ثَمَنٗا وَلَوۡ كَانَ ذَا قُرۡبَىٰ وَلَا نَكۡتُمُ شَهَٰدَةَ ٱللَّهِ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلۡأٓثِمِينَ ١٠٦

O you who have believed, testimony [should be taken] among you when death approaches one of you at the time of bequest - [that of] two just men from among you or two others from outside if you are traveling through the land and the disaster of death should strike you. Detain them after the prayer and let them both swear by Allāh if you doubt [their testimony, saying], "We will not exchange it [i.e., our oath] for a price [i.e., worldly gain], even if he should be a near relative, and we will not withhold the testimony of [i.e., ordained by] Allāh. Indeed, we would then be of the sinful."

5:107

فَإِنۡ عُثِرَ عَلَىٰٓ أَنَّهُمَا ٱسۡتَحَقَّآ إِثۡمٗا فَـَٔاخَرَانِ يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَحَقَّ عَلَيۡهِمُ ٱلۡأَوۡلَيَٰنِ فَيُقۡسِمَانِ بِٱللَّهِ لَشَهَٰدَتُنَآ أَحَقُّ مِن شَهَٰدَتِهِمَا وَمَا ٱعۡتَدَيۡنَآ إِنَّآ إِذٗا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٠٧

But if it is found that those two were guilty of sin [i.e., perjury], let two others stand in their place [who are] foremost [in claim] from those who have a lawful right. And let them swear by Allāh, "Our testimony is truer than their testimony, and we have not transgressed. Indeed, we would then be of the wrongdoers."

5:108

ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَن يَأۡتُواْ بِٱلشَّهَٰدَةِ عَلَىٰ وَجۡهِهَآ أَوۡ يَخَافُوٓاْ أَن تُرَدَّ أَيۡمَٰنُۢ بَعۡدَ أَيۡمَٰنِهِمۡۗ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَٱسۡمَعُواْۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ١٠٨

That is more likely that they will give testimony according to its [true] objective, or [at least] they would fear that [other] oaths might be taken after their oaths. And fear Allāh and listen [i.e., obey Him]; and Allāh does not guide the defiantly disobedient people.

As-Sa'diTafsir · 5:108

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском