Al-Ma'idahJuz 7 · Page 126

Al-Ma'idah 5:109

The Table Spread · Juz 7 · Page 126

۞ يَوۡمَ يَجۡمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبۡتُمۡۖ قَالُواْ لَا عِلۡمَ لَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ ١٠٩

[Be warned of] the Day when Allāh will assemble the messengers and say, "What was the response you received?" They will say, "We have no knowledge. Indeed, it is You who is Knower of the unseen" -

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:109–110

جس دن جمع کرے گا اللہ رسولوں کو، پس کہے گا کیا جواب دیے گئے تھے تم؟ وہ کہیں گے نہیں علم ہمیں ، بے شک تو ہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(109)جس وقت کہے گا اللہ، اے عیسیٰ ابن مریم! یاد کر تو میری نعمت (جو ہوئی) تجھ پر اور تیری والدہ پر، جب قوت دی میں نے تجھے ساتھ روح القدس کے، کلام کرتا تھا تو لوگوں سے گود میں اور پختہ عمر میں اور جب تعلیم دی میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی اور جب بناتا تھا تو گارے سے مانند شکل پرندے کی میرے حکم سے، پھر پھونک مارتا اس میں تو ہو جاتا وہ پرندہ، میرے حکم سےاور تندرست کرتا تھا تو پیدائشی نابینے کو اور برص والے کو میرے حکم سےاور جب (زندہ) نکالتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب لایا تھا تو ان کے پاس واضح دلیلیں تو کہا تھا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا ان میں سے، نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(110)

[109] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اور اس کی ہولناکیوں کے بارے میں خبر دیتا ہے نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع کر کے ان سے پوچھے گا ﴿مَاذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ﴾ ’’تمھیں کیا جواب ملا تھا۔‘‘ یعنی اس بارے میں تمھاری امتوں نے کیا جواب دیا ﴿ قَالُوۡا لَا عِلۡمَ لَنَا ﴾ ’’وہ جواب دیں گے کہ ہمیں کوئی علم نہیں ۔‘‘ تجھے ہی علم ہے۔ اے ہمارے رب! تو ہم سے زیادہ جانتا ہے ﴿ اِنَّكَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ﴾ ’’تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔‘‘ یعنی تو حاضر و غائب تمام امور کو جانتا ہے۔

[110]﴿ اِذۡ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ اذۡكُرۡ نِعۡمَتِيۡ عَلَيۡكَ وَعَلٰى وَالِدَتِكَ ﴾ ’’جبکہ ا اللہ نے، اے عیسیٰ بن مریم! یاد کر میری نعمت جو تجھ پر اور تیری ماں پر ہوئی‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان سے یاد کیجیے اور اس کے واجبات کو ادا کر کے اپنے رب کا شکر کیجیے۔ کیونکہ اس نے آپ کو اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کیں ۔ ﴿ اِذۡ اَيَّدۡتُّكَ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ ﴾ ’’جب میں نے روح القدس سے تیری مدد کی۔‘‘ یعنی جب ہم نے تجھ کو روح اور وحی کے ذریعے سے تقویت دی، جس نے تجھ کو پاک کیا اور تجھ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی طرف دعوت دینے کی قوت حاصل ہوئی اور بعض نے کہا کہ روح القدس سے مراد جبریل ہیں ۔ بڑے بڑے سخت مقامات پر اللہ تعالیٰ نے جبریل کی ملازمت (ساتھ رہنے)اور ان کے ذریعے سے ثبات عطا کر کے جناب عیسیٰu کی مدد فرمائی۔﴿ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الۡمَهۡدِ وَؔكَهۡلًا ﴾ ’’تو کلام کرتا تھا لوگوں سے گود میں اور بڑی عمر میں ‘‘ یہاں کلام کرنے سے مراد مجرد کلام کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ کلام ہے جس سے متکلم اور مخاطب دونوں مستفید ہوں ۔ اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینا۔ جناب عیسیٰ کو اس عمر میں رسالت، بھلائیوں کی طرف دعوت اور برائیوں سے روکنے کی ذمہ داری عطا کر دی گئی اور دیگر اولو العزم انبیا و مرسلین کو بڑی عمر میں یہ ذمہ داری عطا کی گئی تھی۔ حضرت عیسیٰ تمام انبیائے کرام میں اس بنا پر ممتاز ہیں کہ انھوں نے پنگھوڑے میں کلام فرمایا ﴿ اِنِّيۡ عَبۡدُ اللّٰهِ١ؕ۫ اٰتٰىنِيَ الۡكِتٰبَ وَجَعَلَنِيۡ نَبِيًّاۙ۰۰وَّجَعَلَنِيۡ مُبٰرَؔكًا اَيۡنَ مَا كُنۡتُ١۪ وَاَوۡصٰنِيۡ بِالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ مَا دُمۡتُ حَيًّا﴾(مریم: 19؍30،31)’’میں اللہ کا بندہ ہوں اس نے مجھے کتاب عطا کی اور مجھے نبی بنایا اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے بابرکت بنایا۔ جب تک میں زندہ رہوں مجھے نماز اور زکٰوۃ کی وصیت فرمائی‘‘۔﴿وَاِذۡ عَلَّمۡتُكَ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ ﴾ ’’اور جب سکھلائی میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت‘‘ یہ کتاب تمام کتب سابقہ خصوصاً تورات کو شامل ہے۔ کیونکہ حضرت عیسیٰu جناب موسیٰ کے بعد تورات کے سب سے بڑے عالم تھے۔۔۔ اور انجیل کو بھی شامل ہے جو ان پر نازل کی گئی.... حکمت سے اسرار شریعت، اس کے فوائد اور اس کی حکمتوں کی معرفت، دعوت و تعلیم کی خوبی اور تمام امور کا ان کی اہمیت اور مناسبت کے مطابق خیال رکھنا مراد ہے۔ ﴿وَاِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ الطِّيۡنِ كَهَيۡـَٔةِ الطَّيۡرِ ﴾ ’’اور جب تو بناتا تھا گارے سے جانور کی سی صورت‘‘ یعنی پرندوں کی تصویر جس میں روح نہیں ہوتی ﴿بِـاِذۡنِيۡ فَتَنۡفُخُ فِيۡهَا فَتَكُوۡنُ طَيۡرًۢا بِـاِذۡنِيۡ وَتُبۡرِئُ الۡاَكۡمَهَ ﴾ ’’پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اڑنے والا ہو جاتا اور اچھا کرتا تھا تو مادر زاد اندھے کو‘‘ (اَ لْاَکْمَہَ) اس شخص کو کہتے ہیں جس کی بینائی ہو نہ آنکھ ﴿وَالۡاَبۡرَصَ بِـاِذۡنِيۡ١ۚ وَاِذۡ تُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰى بِـاِذۡنِيۡ ﴾’’اور کوڑھی کو، میرے حکم سے اور جب نکال کھڑا کرتا تھا تو مردوں کو میرے حکم سے‘‘ یہ واضح نشانیاں اور نمایاں معجزات ہیں جن سے بڑے بڑے اطباء وغیرہ بھی عاجز ہیں ۔ ان معجزات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے عیسیٰu کی مدد فرمائی اور اس کے ذریعے سے ان کی دعوت کو تقویت بخشی۔﴿وَاِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ عَنۡكَ اِذۡ جِئۡتَهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡهُمۡ ﴾ ’’اور جب روکا میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے جب تو لے کر آیا ان کے پاس نشانیاں تو کہا ان لوگوں نے جو ان میں سے کافر تھے‘‘ یعنی جب ان کے پاس حق آ گیا جس کی ایسے دلائل کے ساتھ تائید کی گئی تھی جن پر ایمان لانا واجب ہے تو انھوں نے کہا ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے‘‘ اور انھوں نے جناب عیسیٰ کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی پوری کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ روک دیے اور حضرت عیسیٰ کی ان سے حفاظت کی اور ان کو ان کے شر سے بچا لیا۔ پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے احسانات جن سے اس نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم کو نوازا اور ان کو ان احسانات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے اور ان کو قائم کرنے کا حکم دیا۔۔۔ حضرت عیسیٰ نے ان احسانات کے تقاضوں کو پوری طرح ادا کیا اور اس راہ کی سختیوں پر اسی طرح صبر کیا جس طرح دیگر اولو العزم انبیا و رسل نے صبر کیا تھا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 126

Al-Ma'idahJuz 7 · Page 126

5:109

۞ يَوۡمَ يَجۡمَعُ ٱللَّهُ ٱلرُّسُلَ فَيَقُولُ مَاذَآ أُجِبۡتُمۡۖ قَالُواْ لَا عِلۡمَ لَنَآۖ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلۡغُيُوبِ ١٠٩

[Be warned of] the Day when Allāh will assemble the messengers and say, "What was the response you received?" They will say, "We have no knowledge. Indeed, it is You who is Knower of the unseen" -

5:110

إِذۡ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ ٱذۡكُرۡ نِعۡمَتِي عَلَيۡكَ وَعَلَىٰ وَٰلِدَتِكَ إِذۡ أَيَّدتُّكَ بِرُوحِ ٱلۡقُدُسِ تُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِي ٱلۡمَهۡدِ وَكَهۡلٗاۖ وَإِذۡ عَلَّمۡتُكَ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡحِكۡمَةَ وَٱلتَّوۡرَىٰةَ وَٱلۡإِنجِيلَۖ وَإِذۡ تَخۡلُقُ مِنَ ٱلطِّينِ كَهَيۡـَٔةِ ٱلطَّيۡرِ بِإِذۡنِي فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيۡرَۢا بِإِذۡنِيۖ وَتُبۡرِئُ ٱلۡأَكۡمَهَ وَٱلۡأَبۡرَصَ بِإِذۡنِيۖ وَإِذۡ تُخۡرِجُ ٱلۡمَوۡتَىٰ بِإِذۡنِيۖ وَإِذۡ كَفَفۡتُ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ عَنكَ إِذۡ جِئۡتَهُم بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ١١٠

[The Day] when Allāh will say, "O Jesus, Son of Mary, remember My favor upon you and upon your mother when I supported you with the Pure Spirit [i.e., the angel Gabriel] and you spoke to the people in the cradle and in maturity; and [remember] when I taught you writing and wisdom and the Torah and the Gospel; and when you designed from clay [what was] like the form of a bird with My permission, then you breathed into it, and it became a bird with My permission; and you healed the blind [from birth] and the leper with My permission; and when you brought forth the dead with My permission; and when I restrained the Children of Israel from [killing] you when you came to them with clear proofs and those who disbelieved among them said, "This is not but obvious magic."

5:111

وَإِذۡ أَوۡحَيۡتُ إِلَى ٱلۡحَوَارِيِّـۧنَ أَنۡ ءَامِنُواْ بِي وَبِرَسُولِي قَالُوٓاْ ءَامَنَّا وَٱشۡهَدۡ بِأَنَّنَا مُسۡلِمُونَ ١١١

And [remember] when I inspired to the disciples, "Believe in Me and in My messenger [i.e., Jesus]." They said, "We have believed, so bear witness that indeed we are Muslims [in submission to Allāh]."

5:112

إِذۡ قَالَ ٱلۡحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآئِدَةٗ مِّنَ ٱلسَّمَآءِۖ قَالَ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ١١٢

[And remember] when the disciples said, "O Jesus, Son of Mary, can your Lord1 send down to us a table [spread with food] from the heaven?" [Jesus] said, "Fear Allāh, if you should be believers."

1 translator’s note
  1. i.e., will Allāh consent to. (His ability is undoubted.) ↩

5:113

قَالُواْ نُرِيدُ أَن نَّأۡكُلَ مِنۡهَا وَتَطۡمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعۡلَمَ أَن قَدۡ صَدَقۡتَنَا وَنَكُونَ عَلَيۡهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ ١١٣

They said, "We wish to eat from it and let our hearts be reassured and know that you have been truthful to us and be among its witnesses."

As-Sa'diTafsir · 5:109

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском