Al-Ma'idahJuz 6 · Page 110

Al-Ma'idah 5:17

The Table Spread · Juz 6 · Page 110

لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ أَن يُهۡلِكَ ٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗاۗ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧

They have certainly disbelieved who say that Allāh is Christ, the son of Mary. Say, "Then who could prevent Allāh at all if He had intended to destroy Christ, the son of Mary, or his mother or everyone on the earth?" And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them. He creates what He wills, and Allāh is over all things competent.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 5:17–18

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)

[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 110

Al-Ma'idahJuz 6 · Page 110

5:14

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ ١٤

And from those who say, "We are Christians" We took their covenant; but they forgot a portion of that of which they were reminded.1 So We caused among them2 animosity and hatred until the Day of Resurrection. And Allāh is going to inform them about what they used to do.

2 translator’s notes
  1. In the Gospel concerning the coming of Prophet Muḥammad (ﷺ).

    [250] i.e., among their various denominations or sects.

    ↩
  2. ↩

5:15

يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ كَثِيرٗا مِّمَّا كُنتُمۡ تُخۡفُونَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖۚ قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ ١٥

O People of the Scripture, there has come to you Our Messenger making clear to you much of what you used to conceal of the Scripture and overlooking much.1 There has come to you from Allāh a light and a clear Book [i.e., the Qur’ān]

1 translator’s note
  1. Of your sin in that regard. ↩

5:16

يَهۡدِي بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِهِۦ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ١٦

By which Allāh guides those who pursue His pleasure to the ways of peace1 and brings them out from darknesses into the light, by His permission, and guides them to a straight path.

1 translator’s note
  1. i.e., security, well-being, integrity and escape from Hellfire. Literally, "freedom from all evil." ↩

5:17

لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ أَن يُهۡلِكَ ٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗاۗ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧

They have certainly disbelieved who say that Allāh is Christ, the son of Mary. Say, "Then who could prevent Allāh at all if He had intended to destroy Christ, the son of Mary, or his mother or everyone on the earth?" And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them. He creates what He wills, and Allāh is over all things competent.

As-Sa'diTafsir · 5:17

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском