As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Ma'idah 5:12–19
5:12–13Page 109
۞ وَلَقَدۡ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ ٱثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيبٗاۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّي مَعَكُمۡۖ لَئِنۡ أَقَمۡتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيۡتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِي وَعَزَّرۡتُمُوهُمۡ وَأَقۡرَضۡتُمُ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَلَأُدۡخِلَنَّكُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۚ فَمَن كَفَرَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ مِنكُمۡ فَقَدۡ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١٢
And Allāh had already taken a covenant from the Children of Israel, and We delegated from among them twelve leaders. And Allāh said, "I am with you. If you establish prayer and give zakāh and believe in My messengers and support them and loan Allāh a goodly loan,1 I will surely remove from you your misdeeds and admit you to gardens beneath which rivers flow. But whoever of you disbelieves after that has certainly strayed from the soundness of the way."
فَبِمَا نَقۡضِهِم مِّيثَٰقَهُمۡ لَعَنَّٰهُمۡ وَجَعَلۡنَا قُلُوبَهُمۡ قَٰسِيَةٗۖ يُحَرِّفُونَ ٱلۡكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٖ مِّنۡهُمۡ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۖ فَٱعۡفُ عَنۡهُمۡ وَٱصۡفَحۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ١٣
So for their breaking of the covenant We cursed them and made their hearts hardened. They distort words from their [proper] places [i.e., usages] and have forgotten a portion of that of which they were reminded.1 And you will still observe deceit among them, except a few of them. But pardon them and overlook [their misdeeds]. Indeed, Allāh loves the doers of good.
اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)
[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار کرتا ہے ﴿فَقَدۡ ضَلَّ سَوَؔآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾ ’’تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔‘‘ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہو گا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔
[13] گویا یوں کہا گیا ہے کہ ’’ کاش ہمیں بھی معلوم ہو تا کہ انھوں نے کیا کیا؟ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟‘‘ پس اللہ نے واضح کر دیا کہ انھوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے اس عہد کو توڑ دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَبِمَا نَقۡضِهِمۡ مِّؔيۡثَاقَهُمۡ ﴾’’تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔‘‘ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں ۔(۱)﴿لَعَنّٰهُمۡ ﴾’’ہم نے ان پر لعنت کی۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کر دیا کیونکہ انھوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لیے اور انھوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۲)﴿وَجَعَلۡنَا قُلُوۡبَهُمۡ قٰسِيَةً﴾’’اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔‘‘ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا، پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آ سکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ کوئی شوق انھیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لیے بے قرار کر سکتا ہے۔ بندے کے لیے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہو جائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں ۔(۳)﴿يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ﴾ ’’یہ لوگ کلمات (کتاب)کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انھوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔(۴)﴿وَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ﴾’’اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔‘‘ انھیں تورات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰu پر نازل کی گئی تھیں مگر انھوں نے ان کو فراموش کر دیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انھوں نے جناب موسیٰu کے علم کو فراموش کر دیا بنابریں علم ان سے ضائع ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہو گیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انھیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے بعض ان امور کا جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انھوں نے فراموش کیا۔(۵) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا:﴿وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىِٕنَةٍ مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت۔ اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انھوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے ۔ اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے۔ اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں ۔پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلب گار ہیں ۔جس امر کی انھیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو﴿حَظًّا ﴾ ’’حصہ، نصیبہ‘‘ کے نام سے اس لیے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَخَرَ جَ عَلٰى قَوۡمِهٖ فِيۡ زِيۡنَتِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا يٰؔلَيۡتَ لَنَا مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ قَارُوۡنُ١ۙ اِنَّهٗ لَذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(القصص: 28؍79) ’’قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔‘‘ اور حظ نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا١ۚ وَمَا يُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوۡ حَظٍّ عَظِيۡمٍ﴾(حم السجدۃ: 41؍35)’’یہ بات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں ۔‘‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِلَّا قَلِيۡلًا مِّؔنۡهُمۡ ﴾ ’’تھوڑے آدمیوں کے سوا۔‘‘ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی ﴿فَاعۡفُ عَنۡهُمۡ وَاصۡفَحۡ﴾ ’’پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے درگزر فرمائیں ۔‘‘ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کر دینے کے قابل ہو اسے معاف کر دیا کریں ۔ اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے ﴿اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔‘‘ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انھیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔
5:14Page 110
وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذۡنَا مِيثَٰقَهُمۡ فَنَسُواْ حَظّٗا مِّمَّا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَأَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ ٱلۡعَدَاوَةَ وَٱلۡبَغۡضَآءَ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُواْ يَصۡنَعُونَ ١٤
And from those who say, "We are Christians" We took their covenant; but they forgot a portion of that of which they were reminded.1 So We caused among them2 animosity and hatred until the Day of Resurrection. And Allāh is going to inform them about what they used to do.
اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں ، لیا ہم نے عہد ان سے، پس بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو ڈال دی ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض روز قیامت تک اور عنقریب خبر دے گا ان کو اللہ ساتھ اس چیز کے جو تھے وہ کرتے(14)
[14] یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى ﴾ ’’اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں ۔‘‘ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰu کے مددگار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا ﴿فَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی‘‘ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہو گئے ﴿ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک‘‘ یعنی ہم نے انھیں ایک دوسرے پر مسلط کر دیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیاجا سکتا ہے کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آ رہے ہیں ﴿وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے‘‘ اور انھیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔
5:15–16Page 110
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ كَثِيرٗا مِّمَّا كُنتُمۡ تُخۡفُونَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَيَعۡفُواْ عَن كَثِيرٖۚ قَدۡ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٞ وَكِتَٰبٞ مُّبِينٞ ١٥
O People of the Scripture, there has come to you Our Messenger making clear to you much of what you used to conceal of the Scripture and overlooking much.1 There has come to you from Allāh a light and a clear Book [i.e., the Qur’ān]
يَهۡدِي بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضۡوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخۡرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِهِۦ وَيَهۡدِيهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ١٦
By which Allāh guides those who pursue His pleasure to the ways of peace1 and brings them out from darknesses into the light, by His permission, and guides them to a straight path.
اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)
[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔
[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
5:17–18Page 110
لَّقَدۡ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓاْ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡمَسِيحُ ٱبۡنُ مَرۡيَمَۚ قُلۡ فَمَن يَمۡلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيۡـًٔا إِنۡ أَرَادَ أَن يُهۡلِكَ ٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗاۗ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧
They have certainly disbelieved who say that Allāh is Christ, the son of Mary. Say, "Then who could prevent Allāh at all if He had intended to destroy Christ, the son of Mary, or his mother or everyone on the earth?" And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them. He creates what He wills, and Allāh is over all things competent.
وَقَالَتِ ٱلۡيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحۡنُ أَبۡنَٰٓؤُاْ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥۚ قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُمۖ بَلۡ أَنتُم بَشَرٞ مِّمَّنۡ خَلَقَۚ يَغۡفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُۚ وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ ١٨
But the Jews and the Christians say, "We are the children of Allāh and His beloved." Say, "Then why does He punish you for your sins?" Rather, you are human beings from among those He has created. He forgives whom He wills, and He punishes whom He wills. And to Allāh belongs the dominion of the heavens and the earth and whatever is between them, and to Him is the [final] destination.
البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)
[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے آپ کو پاک گردانتے ہیں ﴿ نَحۡنُ اَبۡنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ﴾ ’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ‘‘ ان کی لغت میں بیٹے سے مراد محبوب ہے وہ اس سے حقیقی ابنیت (بیٹا ہونا) مراد نہیں لیتے۔ کیونکہ یہ ان کا مذہب نہیں ہے سوائے حضرت مسیح کے بارے میں کہ عیسائی ان کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں ۔ چونکہ ان کا دعویٰ دلیل و برہان سے محروم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُلۡ فَلِمَ يُعَذِّبُؔكُمۡ بِذُنُوۡبِكُمۡ﴾’’کہہ دیجیے، پھر وہ کیوں تمھیں تمھارے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا؟‘‘ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے تو وہ تمھیں کبھی عذاب نہ دیتا کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف اسی کو محبوب بناتا ہے جو اس کی مرضی کو پورا کرتا ہے۔﴿ بَلۡ اَنۡتُمۡ بَشَرٌ مِّمَّنۡ خَلَقَ﴾ ’’بلکہ تم بھی ایک آدمی ہو، اس کی مخلوق میں سے‘‘ تم پر بھی اللہ تعالیٰ کے عدل و فضل کے تمام احکام جاری ہوتے ہیں ﴿يَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب دے۔‘‘ یعنی جب وہ مغفرت یا عذاب کے اسباب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں تو اللہ ان اسباب کے مطابق ان کو بخش دیتا ہے یا عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ ﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا١ٞ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یعنی کس چیز نے تمھارے لیے اس فضیلت کو مختص کیا ہے جبکہ تم بھی اللہ تعالیٰ کے جملہ مملوکات میں شامل ہو اور تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جنھیں قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہاں وہ تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
5:19Page 111
يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ قَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمۡ عَلَىٰ فَتۡرَةٖ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُواْ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٖ وَلَا نَذِيرٖۖ فَقَدۡ جَآءَكُم بَشِيرٞ وَنَذِيرٞۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٩
O People of the Scripture, there has come to you Our Messenger to make clear to you [the religion] after a period [of suspension] of messengers, lest you say, "There came not to us any bringer of good tidings or a warner." But there has come to you a bringer of good tidings and a warner. And Allāh is over all things competent.
اے اہل کتاب! تحقیق آیا تمھارے پاس ہمارا رسول، بیان کرتا ہے وہ تمھارے لیے، پیچھے موقوف ہو جانے رسولوں کے کہیں تم نہ کہو کہ نہیں آیا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ ڈرانے والا، پس تحقیق آگیا تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے(19)
[19] اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انھیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا ﴿عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ ’’رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد‘‘ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر۔ یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کیے جائیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کر دی تاکہ وہ یہ نہ کہیں ﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ﴾ ’’کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا‘‘ ﴿فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾’’پس تحقیق تمھارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا‘‘ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں ، نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں ۔ یہ اس کی قدرت کاملہ ہی ہے کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انھیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences