An-Najm 53:21
The Star · Juz 27 · Page 526
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلۡأُنثَىٰ ٢١
Is the male for you and for Him the female?
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 53:19–25
خبر دو تم مجھے لَات اور عُزّٰی کی(19) اور مَنَات تیسرے کی جو گھٹیا ہے (20) کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس (اللہ) کے لیے لڑکیاں؟ (21) یہ تو اس وقت تقسیم ہے ظالمانہ (22) نہیں ہیں یہ (بت کچھ بھی)مگر چند نام ہی کہ نام رکھے ہیں وہ، تم نے اور تمھارے باپ دادوں نے، نہیں نازل کی اللہ نے ان کی کوئی دلیل، نہیں پیروی کرتے وہ (لوگ) مگر گمان کی اور اس چیز کی جو چاہتے ہیں (ان کے) نفس (دل)، حالانکہ یقیناً آچکی ہے ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت (23) کیا (میسر) ہے انسان کے لیے جو وہ تمنا کرے؟ (24) پس اللہ ہی کے لیے ہے پچھلا جہان اور پہلا جہان (25)
[19، 20] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تھے، نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے، یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت، جو اوصاف کمال سے محروم ہیں، جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباء و اجداد نے گھڑ لیا ہے، انھوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے، جن کی وہ مستحق نہ تھیں، پس انھوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے۔ یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انھوں نے ان ناموں سے موسوم کیا ہے اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ نام ان اوصاف سے مشتق ہیں، جن سے یہ متصف ہیں۔ پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد اور شرک کی جسارت کرتے ہوئے لات کو الٰہ سے مشتق کر کے موسوم کیا جو عبادت کا مستحق ہے، عزیز سے عزّٰی اورمنان سے منات کو مشتق کیا۔ یہ تمام نام معانی سے خالی ہیں، چنانچہ ہر وہ شخص جو ادنیٰ سی عقل سے بہرہ مند ہے وہ ان نام نہادمعبودوں کے اندر ان اوصاف کے بطلان کا علم رکھتا ہے۔
[21]﴿ اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الۡاُنۡثٰى ﴾ یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کے لیے بزعم خود بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لیے بیٹے؟
[22]﴿ تِلۡكَ اِذًا قِسۡمَةٌ ضِيۡزٰى ﴾ تب تو یہ بہت ہی ظالمانہ تقسیم ہے۔ اس تقسیم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہو سکتا ہے جو خالق پر بندۂ مخلوق کی فضیلت کو مقتضی ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے۔
[23]﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّاۤ اَسۡمَآءٌ سَمَّيۡتُمُوۡهَاۤ اَنۡتُمۡ وَاٰبَآؤُكُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ﴾ ’’یہ تو صرف نام ہیں جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری۔‘‘ یعنی تمھارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمھارے پاس کوئی دلیل و برہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ تعالیٰ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے، اسے دین نہیں بنایا جا سکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل و برہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انھیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں، حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے، وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمُ الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور البتہ یقیناً ان کے رب کی طرف سے، ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔‘‘ جو توحید و نبوت اور ان تمام امور میں ان کی راہ نمائی کرتی ہے، بندے جن کے محتاج ہیں، پس ان تمام امور کو اللہ تعالیٰ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل و براہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں۔ اس بیان و برہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔جب ان کے مذہب کی غرض و غایت محض ظن و گمان کی پیروی، اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے، تو (ان کا) اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے۔
[24، 25] بایں ہمہ وہ اپنی آرزوؤ ں میں گم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَمۡ لِلۡاِنۡسَانِ مَا تَمَنّٰى ٞۖ۰۰ فَلِلّٰهِ الۡاٰخِرَةُ وَالۡاُوۡلٰى﴾ ’’کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے۔ وہ اسے ضرور ملتی ہے؟ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ پس وہ جس کو چاہتا عطا کرتا اور جس کو چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔ لہذا امر الٰہی ان کی آرزوؤ ں کے تابع ہے نہ ان کی خواہشات کے موافق۔
Page 526
سورة النجم
An-Najm
The Star · Meccan · 62 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
53:1
وَٱلنَّجۡمِ إِذَا هَوَىٰ ١
By the star when it descends,
53:2
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوَىٰ ٢
Your companion [i.e., Muḥammad] has not strayed, nor has he erred,
53:3
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلۡهَوَىٰٓ ٣
Nor does he speak from [his own] inclination.
53:4
إِنۡ هُوَ إِلَّا وَحۡيٞ يُوحَىٰ ٤
It is not but a revelation revealed,
53:5
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلۡقُوَىٰ ٥
Taught to him by one intense in strength [i.e., Gabriel] -
53:6
ذُو مِرَّةٖ فَٱسۡتَوَىٰ ٦
53:7
وَهُوَ بِٱلۡأُفُقِ ٱلۡأَعۡلَىٰ ٧
While he was in the higher [part of the] horizon.1
1 translator’s note
- i.e., in the sky, above the eastern horizon. ↩
53:8
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨
Then he approached and descended
53:9
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ أَوۡ أَدۡنَىٰ ٩
And was at a distance of two bow lengths or nearer.
53:10
فَأَوۡحَىٰٓ إِلَىٰ عَبۡدِهِۦ مَآ أَوۡحَىٰ ١٠
And he revealed to His Servant1 what he revealed [i.e., conveyed].
1 translator’s note
- i.e., to the Servant of Allāh, Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩
53:11
مَا كَذَبَ ٱلۡفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ ١١
The heart1 did not lie [about] what it saw.
1 translator’s note
- i.e., mind or perception (of the Prophet [ﷺ]). ↩
53:12
أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ١٢
So will you dispute with him over what he saw?
53:13
وَلَقَدۡ رَءَاهُ نَزۡلَةً أُخۡرَىٰ ١٣
And he certainly saw him in another descent1
1 translator’s note
- i.e., on another occasion. During his ascent into the heavens (al-Miʿrāj), the Prophet (ﷺ) also saw Gabriel in his true form. ↩
53:14
عِندَ سِدۡرَةِ ٱلۡمُنتَهَىٰ ١٤
At the Lote Tree of the Utmost Boundary -
53:15
عِندَهَا جَنَّةُ ٱلۡمَأۡوَىٰٓ ١٥
Near it is the Garden of Refuge [i.e., Paradise] -
53:16
إِذۡ يَغۡشَى ٱلسِّدۡرَةَ مَا يَغۡشَىٰ ١٦
When there covered the Lote Tree that which covered [it].1
1 translator’s note
- Then and there he (ﷺ) saw Gabriel in angelic form. ↩
53:17
مَا زَاغَ ٱلۡبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧
The sight [of the Prophet (ﷺ)] did not swerve, nor did it transgress [its limit].
53:18
لَقَدۡ رَأَىٰ مِنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلۡكُبۡرَىٰٓ ١٨
He certainly saw of the greatest signs of his Lord.
53:19
أَفَرَءَيۡتُمُ ٱللَّٰتَ وَٱلۡعُزَّىٰ ١٩
So have you considered al-Lāt and al-ʿUzzā?
53:20
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ ٢٠
And Manāt, the third - the other one?1
1 translator’s note
- The three names given in this and the previous verse are those of well-known "goddesses" which were worshipped by the pagan Arabs before the spread of Islām. ↩
53:21
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلۡأُنثَىٰ ٢١
Is the male for you and for Him the female?
53:22
تِلۡكَ إِذٗا قِسۡمَةٞ ضِيزَىٰٓ ٢٢
That, then, is an unjust division.1
1 translator’s note
- According to their own standards. ↩
53:23
إِنۡ هِيَ إِلَّآ أَسۡمَآءٞ سَمَّيۡتُمُوهَآ أَنتُمۡ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلۡطَٰنٍۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهۡوَى ٱلۡأَنفُسُۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلۡهُدَىٰٓ ٢٣
They are not but [mere] names you have named them - you and your forefathers - for which Allāh has sent down no authority. They follow not except assumption and what [their] souls desire, and there has already come to them from their Lord guidance.
53:24
أَمۡ لِلۡإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰ ٢٤
Or is there for man whatever he wishes?
53:25
فَلِلَّهِ ٱلۡأٓخِرَةُ وَٱلۡأُولَىٰ ٢٥
Rather, to Allāh belongs the Hereafter and the first [life].
53:26
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغۡنِي شَفَٰعَتُهُمۡ شَيۡـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ أَن يَأۡذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرۡضَىٰٓ ٢٦
And how many angels there are in the heavens whose intercession will not avail at all except [only] after Allāh has permitted [it] to whom He wills and approves.