Al-Qamar 54:24
The Moon · Juz 27 · Page 529
فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ ٢٤
And said, "Is it one human being1 among us that we should follow? Indeed, we would then be in error and madness.
1 translator’s note
- i.e., the prophet Ṣāliḥ. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 54:23–32
جھٹلایا (قوم) ثمود نے ڈرانے والوں کو (23) پس انھوں نے کہا، کیا ایسے آدمی کی جو ہم میں سے ہے تنہا ، پیروی کریں ہم اس کی؟ بلاشبہ ہم تو اس وقت ہوں گے گمراہی اور دیوانگی میں (24) کیا القا کی گئی ہے وحی اسی پر ہم سب کے درمیان میں سے؟(نہیں)بلکہ وہ سخت جھوٹا خود پسند ہے (25) عنقریب وہ جان لیں گے کل، کون ہے کذاب خود پسند؟ (26) بلاشبہ ہم بھیجنے(چٹان سے نکالنے)والے ہیں اونٹنی آزمائش کے لیے ان کی سو انتظار کر ان کا اور صبر کر (27) اور خبر دے ان کو کہ بے شک پانی تقسیم شدہ ہے ان کے درمیان، ہر ایک پانی کی باری حاضر کی گئی ہے (28) پس انھوں نے پکارا اپنے ساتھی کو تو اس نے پکڑا ، پھر اُس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں(29) تو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈراوا؟ (30) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر چیخ ایک ہی، تو ہو گئے وہ (ایسے) جیسے روندی ہوئی باڑ، باڑ لگانے والے کی (31) اور یقیناً ہم نے آسان کیا ہے قرآن کو نصیحت کے لیے، تو کیا کوئی ہے نصیحت پکڑنے والا؟ (32)
[23]﴿ كَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ﴾ ’’ثمود نے جھٹلایا‘‘ اس آیت میں ثمود سے مراد معروف قبیلہ ہے جو حِجر کے علاقے میں آباد تھا جب ان کے نبی حضرت صالحu نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا، جس کا کوئی شریک نہیں اور مخالفت کی صورت میں انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا۔
[24] تو انھوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور استکبار کا مظاہرہ کیا اور تکبر سے ڈینگیں مارتے ہوئے کہا: ﴿ اَبَشَرًا مِّؔنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ﴾ ’’بھلا ایک ایسا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے، ہم اس کی پیروی کریں؟‘‘ یعنی ہم ایک بشر کی اتباع کیسے کر سکتے ہیں جو فرشتہ نہیں، جو ہم میں سے ہے جو ہمارے علاوہ ان لوگوں میں سے بھی نہیں جو لوگوں کے نزدیک ہم سے افضل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اکیلا ہی تو ہے ﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ یعنی اگر ہم نے اس حالت میں اس کی اتباع کی ﴿ لَّفِيۡ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ﴾ تو تب ہم گمراہی اور بدبختی میں ہوں گے۔ یہ کلام ان کی گمراہی اور بدبختی کے سبب سے صادر ہوا کیونکہ انھوں نے محض تکبر کی بنا پر ایک ایسے رسول کی اتباع سے تو انکار کر دیا جو ان کی جنس میں سے تھا مگر انھیں شجر و حجر اور بتوں کے پجاری بنتے ہوئے غیرت نہ آئی۔
[25، 26]﴿ ءَاُلۡقِيَ الذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢۡ بَيۡنِنَا﴾ ’’کیا ہمارے سب کے درمیان سے صرف اسی پر وحی اتاری گئی ہے؟‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ہم میں سے اس کو کس بنا پر خصوصیت عطا کرتا ہے اور اس پر ذکر نازل کرتا ہے؟ اس میں کون سی ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر ہم میں سے صرف اسے ہی یہ خصوصیت عطا کی ہے؟ یہ وہ اعتراض ہے جو اہل تکذیب ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ پر کرتے چلے آئے ہیں، اسی کی بنیاد پر انبیاء و مرسلین کی دعوت پر حملہ آور ہوتے رہے اور اس کو رد کرتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا جواب رسولوں کے اس قول کے ذریعے سے دیا جو انھوں نے امتوں سے کہا تھا:﴿ قَالَتۡ لَهُمۡ رُسُلُهُمۡ اِنۡ نَّحۡنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَمُنُّ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ﴾(ابراہیم:14؍11) ’’ان رسولوں نے ان سے کہا: واقعی ہم محض تم جیسے بشر ہی ہیں لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس پر احسان کرتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو ایسے اوصاف، اخلاق اور کمالات سے نوازا ہوتا ہے جن کی بنا پر وہ اپنے رب کی رسالت اور اس کی وحی کے اختصاص کی صلاحیت رکھتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت ہے کہ رسول نوع بشری میں سے ہیں۔ اگر رسول فرشتوں میں سے ہوتے تو انسانوں کا ان سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اگر فرشتوں کو رسول بنایا ہوتا تو جھٹلانے والوں پر فوراً عذاب نازل ہو جاتا۔قومِ ثمود سے اپنے نبی صالحu کے بارے میں صادر ہونے والے اس کلام کا مقصد صرف حضرت صالحu کو جھٹلانا ہے، اس لیے انھوں نے آپ پر یہ ظالمانہ حکم لگایا ، چنانچہ انھوں نے کہا:﴿ بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ﴾ ’’بلکہ وہ تو سخت جھوٹا اور شر کا حامل ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، ان کی آرزوئیں کس قدر بے وقوفی پر مبنی ہیں اور وہ سچے خیر خواہوں کے مقابلے میں ان کو برے خطابات سے مخاطب کرنے میں کتنے ظالم اور کتنے سخت ہیں؟
[27] جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اونٹنی بھیجی جو ان کے لیے اللہ کی سب سے بڑی نعمت تھی جو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی اور اس کی ایک نعمت تھی۔ وہ اس کا دودھ دوہتے تھے جو ان سب کے لیے کافی ہوتا تھا۔ ﴿ فِتۡنَةً لَّهُمۡ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اونٹنی ان کی آزمائش اور امتحان کے طور پر تھی۔ ﴿فَارۡتَقِبۡهُمۡ وَاصۡطَبِرۡ﴾ پس ان کو دعوت دینے پر ڈٹے رہیے اور منتظر رہیے کہ ان پر کیا عذاب نازل ہوتا ہے۔ یا اس بات کے منتظر رہیے کہ آیا وہ ایمان لاتے ہیں یا کفر ہی پر ڈٹے رہتے ہیں؟
[28]﴿ وَنَبِّئۡهُمۡ اَنَّ الۡمَآءَ قِسۡمَةٌۢ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی ان کو آگاہ کر دیجیے کہ پانی ان کے درمیان تقسیم ہو گا ، یعنی ان کا پانی پینے کا چشمہ اب ان کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہو گا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیئے گی اور ایک مقرر دن ان کے پانی پینے کے لیے ہے۔ ﴿ كُلُّ شِرۡبٍ مُّحۡتَضَرٌ﴾ ’’ہر ایک (اپنی) باری پر حاضر ہوگا۔‘‘ یعنی اس روز صرف وہی پانی پر آئے گا جس کی باری ہو گی اور جس کی باری نہ ہو گی اس کے لیے پانی پر آنے کی ممانعت ہو گی۔
[29]﴿ فَنَادَوۡا صَاحِبَهُمۡ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے (ایک) ساتھی کو بلایا۔‘‘ جو اونٹنی کو ہلاک کرنے میں براہ راست ملوث تھا جو اپنے قبیلے کا سب سے بدبخت شخص تھا۔ ﴿ فَتَعَاطٰى﴾ تو قومِ ثمود نے اس کو اونٹنی ہلاک کرنے کا جو حکم دیا تھا اس نے اس کی اتباع کی ﴿ فَعَقَرَ﴾ چنانچہ اس نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا۔
[32-30]﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِيۡ وَنُذُرِ﴾ ’’پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈراوا کیسا تھا؟‘‘ یعنی یہ سخت ترین عذاب تھا اللہ تعالیٰ نے ایک سخت چنگھاڑ اور زلزلہ بھیجا، جس نے ان کے آخری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح uاور ان لوگوں کو بچا لیا جو آپ پر ایمان لائے تھے۔
Page 529
54:7
خُشَّعًا أَبۡصَٰرُهُمۡ يَخۡرُجُونَ مِنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ كَأَنَّهُمۡ جَرَادٞ مُّنتَشِرٞ ٧
Their eyes humbled, they will emerge from the graves as if they were locusts spreading,
54:8
مُّهۡطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِۖ يَقُولُ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوۡمٌ عَسِرٞ ٨
Racing ahead toward the Caller. The disbelievers will say, "This is a difficult Day."
54:9
۞ كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ فَكَذَّبُواْ عَبۡدَنَا وَقَالُواْ مَجۡنُونٞ وَٱزۡدُجِرَ ٩
The people of Noah denied before them, and they denied Our servant and said, "A madman," and he was repelled.
54:10
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَغۡلُوبٞ فَٱنتَصِرۡ ١٠
So he invoked his Lord, "Indeed, I am overpowered, so help."
54:11
فَفَتَحۡنَآ أَبۡوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٖ مُّنۡهَمِرٖ ١١
Then We opened the gates of the heaven with rain pouring down
54:12
وَفَجَّرۡنَا ٱلۡأَرۡضَ عُيُونٗا فَٱلۡتَقَى ٱلۡمَآءُ عَلَىٰٓ أَمۡرٖ قَدۡ قُدِرَ ١٢
And caused the earth to burst with springs, and the waters met for a matter already predestined.
54:13
وَحَمَلۡنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلۡوَٰحٖ وَدُسُرٖ ١٣
And We carried him on a [construction of] planks and nails,
54:14
تَجۡرِي بِأَعۡيُنِنَا جَزَآءٗ لِّمَن كَانَ كُفِرَ ١٤
Sailing under Our observation as reward for he who had been denied.
54:15
وَلَقَد تَّرَكۡنَٰهَآ ءَايَةٗ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ١٥
And We left it as a sign, so is there any who will remember?
54:16
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ١٦
And how [severe] were My punishment and warning.1
1 translator’s note
- To those after them, who were expected to derive a lesson from previous occurrences. ↩
54:17
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ١٧
And We have certainly made the Qur’ān easy for remembrance, so is there any who will remember?
54:18
كَذَّبَتۡ عَادٞ فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ١٨
ʿAad denied; and how [severe] were My punishment and warning.
54:19
إِنَّآ أَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِي يَوۡمِ نَحۡسٖ مُّسۡتَمِرّٖ ١٩
Indeed, We sent upon them a screaming wind on a day of continuous misfortune,
54:20
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمۡ أَعۡجَازُ نَخۡلٖ مُّنقَعِرٖ ٢٠
Extracting the people1 as if they were trunks of palm trees uprooted.
1 translator’s note
- From their hiding places. ↩
54:21
فَكَيۡفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ٢١
And how [severe] were My punishment and warning.
54:22
وَلَقَدۡ يَسَّرۡنَا ٱلۡقُرۡءَانَ لِلذِّكۡرِ فَهَلۡ مِن مُّدَّكِرٖ ٢٢
And We have certainly made the Qur’ān easy for remembrance, so is there any who will remember?
54:23
كَذَّبَتۡ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ ٢٣
Thamūd denied the warning.
54:24
فَقَالُوٓاْ أَبَشَرٗا مِّنَّا وَٰحِدٗا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّفِي ضَلَٰلٖ وَسُعُرٍ ٢٤
And said, "Is it one human being1 among us that we should follow? Indeed, we would then be in error and madness.
1 translator’s note
- i.e., the prophet Ṣāliḥ. ↩
54:25
أَءُلۡقِيَ ٱلذِّكۡرُ عَلَيۡهِ مِنۢ بَيۡنِنَا بَلۡ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٞ ٢٥
Has the message been sent down upon him from among us? Rather, he is an insolent liar."
54:26
سَيَعۡلَمُونَ غَدٗا مَّنِ ٱلۡكَذَّابُ ٱلۡأَشِرُ ٢٦
They will know tomorrow who is the insolent liar.
54:27
إِنَّا مُرۡسِلُواْ ٱلنَّاقَةِ فِتۡنَةٗ لَّهُمۡ فَٱرۡتَقِبۡهُمۡ وَٱصۡطَبِرۡ ٢٧
Indeed, We are sending the she-camel as trial for them, so watch them and be patient.1
1 translator’s note
- This and the following verse are an address to Ṣāliḥ (upon him be peace). ↩