Al-Hashr 59:22
The Exile · Juz 28 · Page 548
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢
He is Allāh, other than whom there is no deity, Knower of the unseen and the witnessed.1 He is the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
1 translator’s note
- See footnotes to 6:73. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 59:22–24
وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، وہ رحمن ہےرحیم ہے (22) وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہی، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سالم تمام عیبوں سے، امن دینے والا، نگہبان، زبردست، زور آور، بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (23) وہ ہے اللہ، خالق، موجد، صورت گر، اسی کے لیے ہیں اسمائے حُسنیٰ، تسبیح کرتی ہے اسی کی جو چیز آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ غالب خوب حکمت والا ہے (24)
[22] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف عالیہ پر مشتمل اور عظمت شان اور بے مثال برہان کی حامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیونکہ وہ عظیم کمال، سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے، اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کا ذرہ بھر کے مستحق نہیں، کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں، وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عمومِ علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے، اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں اور ہر زندہ ہستی تک پہنچتی ہے۔
[23] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عموم الوہیت اور اس میں متفرد ہونے کا بتکرار ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ تمام ممالک کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی اور ان میں رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک، محتاج اور اس کے دستِ تدبیر کے تحت ہیں۔﴿ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ﴾ یعنی وہ مقدس، ہر عیب و نقص سے سلامت، معظم اور بزرگی والا ہے۔ کیونکہ صفت ’’قدوس‘‘ ہر عیب و نقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، اس کے اوصاف و جلال میں اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے ﴿الۡمُؤۡمِنُ﴾ یعنی وہ اپنے انبیاء و رسل کی اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں، اس کی براہین قاطعہ اور واضح دلائل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے (اور انھیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھتا ہے) ۔﴿ الۡعَزِيۡزُ﴾ جس پر غالب آیا جا سکتا ہے نہ اس کے سامنے رکاوٹ بنا جا سکتا ہے، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور ہر چیز اس کے سامنے فروتن و سرافگندہ ہے ﴿ الۡؔجَبَّارُ﴾ جو تمام بندوں پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا اور محتاج کو بے نیاز کرتا ہے۔ ﴿ الۡمُتَكَبِّرُ﴾ جو عظمت و کبریا ئی کا مالک، ظلم و جور اور تمام عیوب سے منزہ ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ یہ تنزیہ عام ہے، ہر اس وصف سے جس سے شرک کرنے اور عناد رکھنے والے اس کو موصوف کرتے ہیں۔
[24]﴿ هُوَ اللّٰهُ الۡؔخَالِـقُ﴾ جو تمام مخلوقات کا خالق ہے ﴿ الۡبَارِئُ﴾ جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے ﴿ الۡمُصَوِّرُ﴾ وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے۔ یہ تمام اسمائے حسنیٰ تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں، ان تمام اوصاف میں اللہ تبارک و تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى﴾ یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کر سکتا ہے نہ شمار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں، یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسماء کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں، جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں۔ ان اسماء کا حسن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسماء کو پسند کرتا ہے ۔وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں اور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا مالک ہے، نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں، اس کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضل و کرم سے انھیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔
Page 548
59:17
فَكَانَ عَٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِي ٱلنَّارِ خَٰلِدَيۡنِ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُاْ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٧
So the outcome for both of them is that they will be in the Fire, abiding eternally therein. And that is the recompense of the wrongdoers.
59:18
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨
O you who have believed, fear Allāh. And let every soul look to what it has put forth for tomorrow - and fear Allāh. Indeed, Allāh is Aware of what you do.
59:19
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ١٩
And be not like those who forgot Allāh, so He made them forget themselves. Those are the defiantly disobedient.
59:20
لَا يَسۡتَوِيٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۚ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠
Not equal are the companions of the Fire and the companions of Paradise. The companions of Paradise - they are the attainers [of success].
59:21
لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
If We had sent down this Qur’ān upon a mountain, you would have seen it humbled and splitting from fear of Allāh. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.
59:22
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢
He is Allāh, other than whom there is no deity, Knower of the unseen and the witnessed.1 He is the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
1 translator’s note
- See footnotes to 6:73. ↩
59:23
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡقُدُّوسُ ٱلسَّلَٰمُ ٱلۡمُؤۡمِنُ ٱلۡمُهَيۡمِنُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡجَبَّارُ ٱلۡمُتَكَبِّرُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٢٣
He is Allāh, other than whom there is no deity, the Sovereign,1 the Pure,2 the Perfection,3 the Grantor of Security,4 the Overseer,5 the Exalted in Might,6 the Compeller,7 the Superior.8 Exalted is Allāh above whatever they associate with Him.
8 translator’s notes
And owner of everything in existence.
[1659] i.e., transcendent above any aspect belonging to His creation. Also, the possessor and grantor of blessings.
[1660] Literally, "Free" from any imperfection. Also, "Peace" or "Soundness."
[1661] And safety, i.e., reassurance that His promise is always fulfilled. Also, He who bestows faith.
[1662] i.e., who observes, guards and protects. Also, "the Criterion."
[1663] Refer to footnote in 2:129.
[1664] Whose irresistible force is without limitation; the one above all things who compels the creation to be as He wills it. Also, "the Amender" or "the Rectifier" who repairs, restores, completes or sets something right once again, out of His mercy.
[1665] Supreme, complete and perfect in His essence, attributes and actions.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
59:24
هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡخَٰلِقُ ٱلۡبَارِئُ ٱلۡمُصَوِّرُۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٤
He is Allāh, the Creator,1 the Producer,2 the Fashioner;3 to Him belong the best names.4 Whatever is in the heavens and earth is exalting Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.5
5 translator’s notes
i.e., He who destined existence for His creation.
[1667] i.e., He who brings His creation into existence.
[1668] i.e., He who gives every creation its particular form.
[1669] Refer to the final paragraphs of the "Introduction" for a brief discussion of these attributes.
[1670] Refer to footnote in 6:18.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩