Al-Hashr 59:21
The Exile · Juz 28 · Page 548
لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
If We had sent down this Qur’ān upon a mountain, you would have seen it humbled and splitting from fear of Allāh. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 59:18–21
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور چاہیے کہ دیکھے (ہر) نفس کیا آگے بھیجا ہے اس نے کل کے لیے؟ اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو (18) او ر نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جنھوں نے بھلا دیا اللہ کو، پس بھلوا دیے اللہ نے ان کو ان کے نفس یہی لوگ فاسق ہیں(19) نہیں برابر آگ والے(جہنمی)اور باغ والے (جنتی) جنتی ہی کامیاب ہیں (20) اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو دیکھتا تو اس (پہاڑ) کو جھکنے والا پھٹنے والااللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں ہیں، ہم بیان کرتے ہیں ان کو لوگوں کے لیے، شاید کہ وہ غور و فکر کریں (21)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کا حکم دیتا ہے جن کا ایمان موجب ہے اور کھلے چھپے تمام احوال میں التزام تقویٰ کا تقاضا کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ان اوامر و حدود کی رعایت رکھیں جن کا اللہ نے انھیں حکم دیا ہے اور اس بات پر غور کریں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور ان کے لیے عنایات کیا ہیں اور انھوں نے کون کون سے اعمال کیے جو انھیں قیامت کے روز نفع یا نقصان دیں گے۔ کیونکہ جب وہ آخرت کو اپنا نصب العین اور اپنے دلوں کا قبلہ بنا لیں گے اور اس میں قیام کا اہتمام کریں گے تو وہ کثرت اعمال کی کوشش کریں گے جو اس نصب العین تک پہنچاتے ہیں اور ایسے قواطع طریق سے اس کو پاک کرتے ہیں جو انھیں سیر و سلوک سے روکتے ہیں یا انھیں باز رکھتے ہیں یا ان کا رخ بدل دیتے ہیں۔جب انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے ان کے اعمال اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، ان کے اعمال اس کے ہاں ضائع ہوتے ہیں نہ بیکار جاتے ہیں تو یہ چیز ان پر جدوجہد کو واجب کرتی ہے۔یہ آیت کریمہ بندے کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ اپنے اندر کوئی لغزش دیکھے تو اس کو ختم کر کے، خالص توبہ کے ذریعے سے ، ان امور سے منہ موڑ کر اس کا تدارک کرے جو اس لغزش کا باعث ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے بارے میں اپنے آپ میں کوئی کوتاہی دیکھے تو اپنی پوری کوشش صرف کر دے، اس کی تکمیل و اتمام اور اس کی اچھی طرح تعمیل کے لیے اپنے رب سے مدد مانگے، اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عنایات و احسانات اور اپنی تقصیر کے مابین موازنہ کرے۔ یہ چیز لا محالہ اس کے لیے حیا کی موجب ہو گی۔
[19] یہ ہر لحاظ سے حرماں نصیبی ہے کہ بندہ اس معاملے میں غافل رہے اور ان لوگوں کے مشابہ ہو جائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اس کے ذکر سے اور اس کے حق کو ادا کرنے سے غافل ہو گئے۔ وہ اپنے حظوظ نفس اور اس کی شہوات کی طرف متوجہ ہو گئے، پس وہ کامیاب ہوئے نہ کوئی فائدہ حاصل کر سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے مصالح کو فراموش کرا دیا اور ان کو ان مصالح کے منافع سے غافل کر دیا۔ ان کا معاملہ افراط و تفریط کا شکار ہو گیا، تب وہ دنیا و آخرت کے خسارے کی طرف لوٹ گئے اور ایسے نقصان میں پڑ گئے کہ جس کا تدارک ممکن ہے نہ اس کی اصلاح کیونکہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے رب کی اطاعت سے نکل کر اس کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گئے۔
[20] پس کیا وہ شخص جو تقویٰ کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے سلامت زندگی کا مستحق ہوا۔ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا، اس نے اس کے حقوق فراموش کر دیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
[21] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حقائق کو واضح کر دیا اور اس نے اپنی کتاب عزیز میں اپنے بندوں کو اوامر و نواہی عطا کیے تو یہ چیز اس بات کی موجب تھی کہ وہ اس کی طرف سبقت کرنے میں جلدی کرتے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان کو دعوت اور ترغیب دی، خواہ وہ قساوت اور صلابت قلبی میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہی کیوں نہ ہوتے۔اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی نازل کر دیا جاتا تو آپ اسے خشیت الٰہی سے عاجز اور ٹکڑے ٹکڑے ہوا پاتے۔ یعنی اس کا سبب دلوں میں اس کی کمال تاثیر ہے۔ کیونکہ قرآن کے مواعظ علی الاطلاق سب سے بڑے مواعظ ہیں۔ اس کے اوامر و نواہی، حکمتوں اور مصالح پر مشتمل ہیں، یہ نفوس کے لیے سب سے زیادہ سہل اور ابدان کے لیے سب سے زیادہ آسان ہیں، یہ ہر قسم کے تکلف سے خالی ہیں، ان میں کوئی تناقض ہے نہ اختلاف، ان پر عمل کرنے میں کوئی صعوبت ہے نہ بے راہ روی، یہ اوامر و نواہی ہر زمان و مکان کے لیے درست اور ہر شخص کے لائق ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حرام اور حلال واضح کرتا ہے تاکہ وہ اس کی آیات میں تفکر و تدبر کریں، کیونکہ آیات الٰہی میں تفکر، بندے کے لیے علم کے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے، اس کے سامنے خیر اور شر کے راستوں کو واضح کر دیتا ہے اور اس کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کی ترغیب دیتا ہے اور برے اخلاق سے اسے روکتا ہے۔ پس بندے کے لیے قرآن میں تفکر اور اس کے معانی میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز فائدہ مند نہیں۔
Page 548
59:17
فَكَانَ عَٰقِبَتَهُمَآ أَنَّهُمَا فِي ٱلنَّارِ خَٰلِدَيۡنِ فِيهَاۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُاْ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٧
So the outcome for both of them is that they will be in the Fire, abiding eternally therein. And that is the recompense of the wrongdoers.
59:18
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨
O you who have believed, fear Allāh. And let every soul look to what it has put forth for tomorrow - and fear Allāh. Indeed, Allāh is Aware of what you do.
59:19
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ١٩
And be not like those who forgot Allāh, so He made them forget themselves. Those are the defiantly disobedient.
59:20
لَا يَسۡتَوِيٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۚ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠
Not equal are the companions of the Fire and the companions of Paradise. The companions of Paradise - they are the attainers [of success].
59:21
لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
If We had sent down this Qur’ān upon a mountain, you would have seen it humbled and splitting from fear of Allāh. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.
59:22
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢
He is Allāh, other than whom there is no deity, Knower of the unseen and the witnessed.1 He is the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
1 translator’s note
- See footnotes to 6:73. ↩
59:23
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡقُدُّوسُ ٱلسَّلَٰمُ ٱلۡمُؤۡمِنُ ٱلۡمُهَيۡمِنُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡجَبَّارُ ٱلۡمُتَكَبِّرُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٢٣
He is Allāh, other than whom there is no deity, the Sovereign,1 the Pure,2 the Perfection,3 the Grantor of Security,4 the Overseer,5 the Exalted in Might,6 the Compeller,7 the Superior.8 Exalted is Allāh above whatever they associate with Him.
8 translator’s notes
And owner of everything in existence.
[1659] i.e., transcendent above any aspect belonging to His creation. Also, the possessor and grantor of blessings.
[1660] Literally, "Free" from any imperfection. Also, "Peace" or "Soundness."
[1661] And safety, i.e., reassurance that His promise is always fulfilled. Also, He who bestows faith.
[1662] i.e., who observes, guards and protects. Also, "the Criterion."
[1663] Refer to footnote in 2:129.
[1664] Whose irresistible force is without limitation; the one above all things who compels the creation to be as He wills it. Also, "the Amender" or "the Rectifier" who repairs, restores, completes or sets something right once again, out of His mercy.
[1665] Supreme, complete and perfect in His essence, attributes and actions.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
59:24
هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡخَٰلِقُ ٱلۡبَارِئُ ٱلۡمُصَوِّرُۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٤
He is Allāh, the Creator,1 the Producer,2 the Fashioner;3 to Him belong the best names.4 Whatever is in the heavens and earth is exalting Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.5
5 translator’s notes
i.e., He who destined existence for His creation.
[1667] i.e., He who brings His creation into existence.
[1668] i.e., He who gives every creation its particular form.
[1669] Refer to the final paragraphs of the "Introduction" for a brief discussion of these attributes.
[1670] Refer to footnote in 6:18.
↩- ↩
- ↩
- ↩
- ↩
Translation: Saheeh International · Text and layout: Quran Foundation · Mushaf fonts: King Fahd Complex, provided by Quran Foundation · Privacy