As-Sa'di · Tafsir · in Urdu
Al-Hashr 59:1–24, continued
[10]﴿ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ﴾ یعنی جو(اہل ایمان)مہاجرین و انصار کے بعد آئے ﴿ يَقُوۡلُوۡنَ﴾ وہ اپنی اور تمام مومنین کی خیر خواہی کے لیے کہتے ہیں ﴿ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ’’اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں۔‘‘ یہ دعا تمام گزرے ہوئے اہل ایمان، صحابہ، ان سے پہلے اور ان کے بعد آنے والے تمام اہل ایمان کو شامل ہے۔یہ ایمان کی فضیلت ہے کہ اہل ایمان ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایمان میں مشارکت کے سبب سے ایک دوسرے کے لیے دعا کرتے ہیں، ایمان مومنین کے درمیان اخوت کا تقاضا کرتا ہے، جس کی فروع میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے دعا کریں اور ایک دوسرے سے محبت کریں۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دعا میں قلب سے کینہ کی نفی کا ذکر فرمایا جو قلیل و کثیر ہر قسم کے کینہ کو شامل ہے، جب کینہ کی نفی ہو گئی تو اس کی ضد ثابت ہو گئی اور وہ ہے اہل ایمان کے مابین محبت و موالات اور خیر خواہی وغیرہ، جو اہل ایمان کے حقوق شمار ہوتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام y کے بعد آنے والوں کو ایمان کے وصف سے موصوف کیا ہے، کیونکہ ان کا قول ﴿ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ﴾ ایمان میں ان کی مشارکت پر دلالت کرتا ہے۔ نیز اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ عقائد، ایمان اور اس کے اصول میں صحابہ کرام کی پیروی کرنے والے ہیں اور وہ ہیں اہل سنت و الجماعت، کیونکہ یہ وصف تام صرف انھی پر صادق آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گناہوں کے اقرار اور پھر ان گناہوں سے استغفار کے ساتھ موصوف کیا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ایک دوسرے کے لیے استغفار کرتے ہیں اور مومن بھائیوں کے خلاف کینہ اور حسد کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ان کا اس چیز کی دعا کرنا ان امور کو مستلزم ہے اور جن کا ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کے ایک دوسرے سے محبت کرنے کو مستلزم ہے اور اس امر کو بھی مستلزم ہے کہ ان میں سے کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کی موجودگی اور عدم موجودگی میں، اس کی زندگی میں اور اس کے مرنے کے بعد اس کی خیر خواہی کرے۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یہ سب کچھ اہل ایمان کے ایک دوسرے پر جملہ حقوق ہیں، پھر انھوں نے اپنی دعا کو اللہ تعالیٰ کے دو اسمائے کریمہ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کے کمال رحمت اور شدت رأفت و احسان پر دلالت کرتے ہیں، اس کے جملہ احسانات میں سے بلکہ ان میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کواپنے حقوق اور اپنے بندوں کے حقوق قائم کرنے کی توفیق سے بہرہ ور کیا۔ یہ تین اصناف کے لو گ اسی امت کے لوگ ہیں جو فَے کے مستحق ہیں جس کا مصرف اسلام کے مصالح کی طرف راجع ہےاور وہی لوگ اس کی اہلیت رکھتے ہیں جو اس کے اہل ہیں ۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی ان میں شامل کرے۔
[11] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے منافقین کے احوال پر تعجب کا اظہار فرمایا ہےجنھوں نے اپنے اہل کتاب بھائیوں کو اپنی مدد اور اہل ایمان کے خلاف موالات کا لالچ دیاتھا، وہ ان سے کہہ رہے تھے:﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجۡتُمۡ لَنَخۡرُجَنَّ مَعَكُمۡ وَلَا نُطِيۡعُ فِيۡكُمۡ اَحَدًا اَبَدًا﴾ ’’اگر تم نکال دیے گئے تو ہم بھی تمھارے ساتھ ہی نکلیں گے۔ اور تمھارے بارے میں کبھی کسی کا کہنا نہیں مانیں گے۔‘‘ یعنی تمھاری نصرت و مدد کے بارے میں جو کوئی ہمیں برا بھلا کہے گا یا ڈرائے گا، ہم تمھاری عدم نصرت میں اس کی اطاعت نہیں کریں گے ﴿ وَّاِنۡ قُوۡتِلۡتُمۡ لَنَنۡصُرَنَّـكُمۡ١ؕ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ﴾ ’’اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو یقیناً ہم تمھاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس وعدے میں جھوٹے ہیں، جس کے ذریعے سے انھوں نے اپنے بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کیا ان کے اس جھوٹے وعدے کو زیادہ اہمیت نہ دیں، کیونکہ جھوٹ ان کا وصف، فریب اور دھوکہ ان کے ساتھی، نفاق اور بزدلی ان کے دوست ہیں۔
[12] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کی تکذیب کی ہے جس ارشاد کو اس شخص نے ویسے ہی پایا جیسے اللہ تعالیٰ نے اس کی خبر دی تھی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَىِٕنۡ اُخۡرِجُوۡا﴾ یعنی اگر ان کو جلا وطن کرنے کے لیے ان کے گھروں سے نکالا جائے ﴿ لَا يَخۡرُجُوۡنَ مَعَهُمۡ﴾ تو اپنے وطن کی محبت، قتال پر ان کے عدم صبر اور اپنے وعدے کے عدم ایفا کی بنا پر وہ ان کے ساتھ ہرگز نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ قُوۡتِلُوۡا لَا يَنۡصُرُوۡنَهُمۡ۠﴾ ’’اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو وہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘ بلکہ ان پر بزدلی غالب آ جائے گی اور کمزوری قبضہ کرے گی اور وہ اپنے بھائیوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے جو ان کے سب سے زیادہ محتاج ہوں گے۔ ﴿ وَلَىِٕنۡ نَّصَرُوۡهُمۡ﴾ اور فرض کیا اگر انھوں نے ان کی مدد کی۔ ﴿ لَيُوَلُّنَّ الۡاَدۡبَارَؔ١۫ ثُمَّ لَا يُنۡصَرُوۡنَ﴾ تو وہ قتال اور ان کی مدد سے پیٹھ پھیرلیں گے اور انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی مدد حاصل نہیں ہو گی۔
[13] اے مومنو! وہ سبب جس نے ان کو اس امر پر آمادہ کیا ہے، یہ ہے کہ ﴿ اَشَدُّ رَهۡبَةً فِيۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’تمھاری ہیبت ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی ہیبت سے بڑھ کر ہے۔‘‘ اس لیے جتنا وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اس سے بڑھ کر وہ تم سے ڈرتے ہیں۔ پس انھوں نے مخلوق کے خوف کو، جو خود اپنے لیے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، خالق کے خوف پر مقدم رکھا ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَفۡقَهُوۡنَ﴾ ’’یہ اس لیے کہ یہ بے سمجھ لوگ ہیں۔‘‘ یعنی وہ امور کے مراتب کو نہیں سمجھتے۔ وہ اشیاء کے حقائق کی معرفت رکھتے ہیں نہ وہ انجام کا تصور کر سکتے ہیں۔ کامل ترین سمجھ اور تفقہ یہ ہے کہ خالق کے خوف، اس پر امید اور اس کی محبت کو، غیر کے خوف، امید اور محبت پر مقدم رکھا جائے، غیر کا خوف، امید اور محبت، خالق کے خوف، امید اور محبت کے تابع ہو۔
[14]﴿ لَا يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’وہ سب مل کر بھی تم سے نہیں لڑسکیں گے۔‘‘ یعنی اجتماعی حالت میں تم سے قتال نہیں کریں گے۔﴿ اِلَّا فِيۡ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوۡ مِنۡ وَّرَآءِ جُدُرٍ﴾ ’’مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کی اوٹ سے۔‘‘ یعنی وہ تمھارے خلاف لڑائی میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں نہ اس پر عزم کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، مگر صرف اس صورت میں جب وہ بستیوں میں قلعہ بند ہو کر لڑ رہے ہوں یا دیواروں اور فصیلوں کے پیچھے سے لڑ رہے ہوں۔ تب اس صورت میں، ان کو اپنی شجاعت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قلعوں اور فصیلوں کے سہارے، بسا اوقات حفاظت حاصل ہو جاتی ہے، اور یہ سب سے بڑی مذمت ہے۔ ﴿ بَاۡسُهُمۡ بَيۡنَهُمۡ شَدِيۡدٌ﴾ ’’ان کی آپس میں لڑائی بہت سخت ہوتی ہے۔‘‘ ان کے بدن میں کوئی آفت ہے نہ ان کی قوت میں، آفت تو ان کے ضعف ایمان اور ان کے کلمہ کے عدم اجتماع میں ہے۔ بنابریں فرمایا :﴿ تَحۡسَبُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ جب آپ انھیں مجتمع اور ایک دوسرے کی مدد کرتے دیکھتے ہیں تو انھیں متحد سمجھتے ہیں۔ ﴿ وَّقُلُوۡبُهُمۡ شَتّٰى﴾ مگر ان کے دل ایک دوسرے کے خلاف بغض رکھنے والے، متفرق اور متَشَتّت ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ﴾ ’’یہ‘‘ جس نے انھیں مذکورہ صفات سے متصف کیا ہے ﴿ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اس سبب سے ہے کہ وہ عقل و خرد نہیں رکھتے۔‘‘اگر وہ عقل سے بہرہ ور ہوتے، تو فاضل کو مفضول پر ترجیح دیتے اور اپنے لیے ناقص ترین حصے پر راضی نہ ہوتے، ان میں اتحاد ہوتا اور ان کے دل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوتے، اور یوں وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے، ایک دوسرے کو مضبوط کرتے اور اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ایک دوسرے کے معاون بنتے۔ اس قسم کے لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اہل کتاب میں سے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی خاطر انتقام لیا اور انھیں دنیا کی زندگی کی رسوائی کا مزا چکھایا۔
[15] ان لوگوں کی مدد کا معدوم ہونا جنھوں نے ان کے ساتھ معاونت کا وعدہ کیا تھا ﴿ كَمَثَلِ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ قَرِيۡبًا﴾ ’’ان کا حال ان لوگ کا سا ہے جو ان سے کچھ ہی پیشتر ہوئے۔‘‘ اس سے مراد قریش ہیں، جن کے اعمال کو شیطان نے مزین کیا اور کہا :﴿ لَا غَالِبَ لَكُمُ الۡيَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَاِنِّيۡ جَارٌ لَّـكُمۡ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَؔتِ الۡفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَيۡهِ وَقَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكُمۡ اِنِّيۡۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوۡنَ﴾(الانفال: 8؍48) ’’آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا، اور میں تمھارا ساتھی ہوں، جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے آئیں تو الٹے پاؤ ں بھاگ نکلا اور کہنے لگا: میں تم سے بری الذمہ ہوں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے۔‘‘ پس انھوں نے خود اپنے آپ کو فریب دیا اور ان کو فریب دینے والوں نے بھی فریب دیا جو ان کے کام آ سکے نہ ان سے عذاب کو دور کر سکے، حتیٰ کہ وہ بڑے فخر اور بڑے کروفر سے ’’بدر‘‘ کے مقام پر پہنچ گئے، وہ سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنوں کو جا لیں گے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں رسولﷺ اور مومنوں کی مدد کی۔ پس ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیے گے، ان میں کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ فرار ہو گئے۔اس طرح ﴿ ذَاقُوۡا وَبَالَ اَمۡرِهِمۡ﴾ انھوں نے اپنے شرک اور بغاوت کے وبال کا مزا چکھ لیا۔ یہ سزا دنیا کے اندر ہے ﴿ وَلَهُمۡ ﴾ اور آخرت میں ان کے لیے ﴿عَذَابٌ اَلِيۡمٌ﴾ درد ناک عذاب ہے۔
[16] ان منافقین کی مثال جنھوں نے ا پنے اہل کتاب بھائیوں کو دھوکے میں مبتلا کر رکھا ہے ﴿ كَمَثَلِ الشَّيۡطٰنِ اِذۡ قَالَ لِلۡاِنۡسَانِ اكۡفُرۡ﴾ ’’ شیطان کی سی ہے کہ وہ انسان سے کہتا رہا کہ کا فر ہوجا۔‘‘ یعنی شیطان نے انسان کے سامنے کفر کو مزین کر کے خوبصورت بنا دیا اور اسے کفر کی طرف دعوت دی۔ جب انسان نے دھوکے میں مبتلا ہو کر کفر کا ارتکاب کیا اور اسے بدبختی حاصل ہوئی، تو شیطان اس کے کسی کام نہ آیا جس نے اس کی سرپرستی کی تھی اور کفر کی طرف دعوت دی تھی بلکہ شیطان نے اس سے براء ت کا اظہار کیا اور ﴿قَالَ اِنِّيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔنۡكَ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’کہا کہ میں تجھ سے بری الذمہ ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘‘یعنی مجھے تجھ سے عذاب کو دور ہٹانے کی کوئی قدرت اور اختیار حاصل نہیں، میں ذرہ بھر بھلائی کے لیے تیرے کوئی کام نہیں آ سکتا۔
[17]﴿ فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ ﴾ ’’پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا۔‘‘ یعنی داعی جو کہ شیطان ہے اور مدعو جو کہ انسان ہے، جبکہ وہ شیطان کی اطاعت کرے ﴿اَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيۡنِ فِيۡهَا﴾ ’’دونوں جہنم میں ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّمَا يَدۡعُوۡا حِزۡبَهٗ لِيَكُوۡنُوۡا مِنۡ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ﴾(فاطر:35؍6) ’’وہ تو اپنے گروہ کو اس لیے دعوت دیتا ہے تاکہ وہ جہنم والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘ ﴿ وَذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘ جنھوں نے ظلم اور کفر میں اشتراک کیا، اگرچہ ان کے لیے عذاب کی شدت مختلف ہو گی۔شیطان کا اپنے تمام دوستوں کے ساتھ یہی رویہ ہے، وہ ان کو دعوت دیتا ہے اور فریب سے انھیں ایسے امور کے قریب لے آتا ہے جو ان کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جب وہ جال میں پھنس جاتے ہیں اور ہلاکت کے اسباب انھیں آ گھیرتے ہیں تو ان سے بری ٔالذمہ ہو کر ان سے علیحدہ ہو جاتا ہے۔ ہر قسم کی ملامت ہے اس شخص پر جو اس کی اطاعت کرتا ہے، کیونکہ اللہ نے اس سے بچنے کے لیے کہا ہے، اس سے ڈرایا ہے اور اس کے اغراض و مقاصد سے خبردار کیا ہے، پس اس کی اطاعت کرنے والا واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا نا فرمان ہے، اس کے پاس کوئی عذر نہیں۔
59:18–21Page 548
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ ١٨
O you who have believed, fear Allāh. And let every soul look to what it has put forth for tomorrow - and fear Allāh. Indeed, Allāh is Aware of what you do.
وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّهَ فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ ١٩
And be not like those who forgot Allāh, so He made them forget themselves. Those are the defiantly disobedient.
لَا يَسۡتَوِيٓ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِ وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۚ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠
Not equal are the companions of the Fire and the companions of Paradise. The companions of Paradise - they are the attainers [of success].
لَوۡ أَنزَلۡنَا هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانَ عَلَىٰ جَبَلٖ لَّرَأَيۡتَهُۥ خَٰشِعٗا مُّتَصَدِّعٗا مِّنۡ خَشۡيَةِ ٱللَّهِۚ وَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَتَفَكَّرُونَ ٢١
If We had sent down this Qur’ān upon a mountain, you would have seen it humbled and splitting from fear of Allāh. And these examples We present to the people that perhaps they will give thought.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو تم اللہ سے اور چاہیے کہ دیکھے (ہر) نفس کیا آگے بھیجا ہے اس نے کل کے لیے؟ اور ڈرو تم اللہ سے، بلاشبہ اللہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کےجو تم عمل کرتے ہو (18) او ر نہ ہو تم مانند ان لوگوں کے جنھوں نے بھلا دیا اللہ کو، پس بھلوا دیے اللہ نے ان کو ان کے نفس یہی لوگ فاسق ہیں(19) نہیں برابر آگ والے(جہنمی)اور باغ والے (جنتی) جنتی ہی کامیاب ہیں (20) اگر نازل کرتے ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو دیکھتا تو اس (پہاڑ) کو جھکنے والا پھٹنے والااللہ کے خوف سے اور یہ مثالیں ہیں، ہم بیان کرتے ہیں ان کو لوگوں کے لیے، شاید کہ وہ غور و فکر کریں (21)
[18] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کا حکم دیتا ہے جن کا ایمان موجب ہے اور کھلے چھپے تمام احوال میں التزام تقویٰ کا تقاضا کرتا ہے۔ نیز یہ کہ وہ ان اوامر و حدود کی رعایت رکھیں جن کا اللہ نے انھیں حکم دیا ہے اور اس بات پر غور کریں کہ ان کے فرائض کیا ہیں اور ان کے لیے عنایات کیا ہیں اور انھوں نے کون کون سے اعمال کیے جو انھیں قیامت کے روز نفع یا نقصان دیں گے۔ کیونکہ جب وہ آخرت کو اپنا نصب العین اور اپنے دلوں کا قبلہ بنا لیں گے اور اس میں قیام کا اہتمام کریں گے تو وہ کثرت اعمال کی کوشش کریں گے جو اس نصب العین تک پہنچاتے ہیں اور ایسے قواطع طریق سے اس کو پاک کرتے ہیں جو انھیں سیر و سلوک سے روکتے ہیں یا انھیں باز رکھتے ہیں یا ان کا رخ بدل دیتے ہیں۔جب انھیں معلوم ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی خبر رکھنے والا ہے ان کے اعمال اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں، ان کے اعمال اس کے ہاں ضائع ہوتے ہیں نہ بیکار جاتے ہیں تو یہ چیز ان پر جدوجہد کو واجب کرتی ہے۔یہ آیت کریمہ بندے کے لیے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی بنیاد ہے۔ وہ یہ کہ بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کا معائنہ کرے۔ اگر وہ اپنے اندر کوئی لغزش دیکھے تو اس کو ختم کر کے، خالص توبہ کے ذریعے سے ، ان امور سے منہ موڑ کر اس کا تدارک کرے جو اس لغزش کا باعث ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے بارے میں اپنے آپ میں کوئی کوتاہی دیکھے تو اپنی پوری کوشش صرف کر دے، اس کی تکمیل و اتمام اور اس کی اچھی طرح تعمیل کے لیے اپنے رب سے مدد مانگے، اپنی ذات پر اللہ تعالیٰ کی عنایات و احسانات اور اپنی تقصیر کے مابین موازنہ کرے۔ یہ چیز لا محالہ اس کے لیے حیا کی موجب ہو گی۔
[19] یہ ہر لحاظ سے حرماں نصیبی ہے کہ بندہ اس معاملے میں غافل رہے اور ان لوگوں کے مشابہ ہو جائے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کر دیا اور اس کے ذکر سے اور اس کے حق کو ادا کرنے سے غافل ہو گئے۔ وہ اپنے حظوظ نفس اور اس کی شہوات کی طرف متوجہ ہو گئے، پس وہ کامیاب ہوئے نہ کوئی فائدہ حاصل کر سکے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے مصالح کو فراموش کرا دیا اور ان کو ان مصالح کے منافع سے غافل کر دیا۔ ان کا معاملہ افراط و تفریط کا شکار ہو گیا، تب وہ دنیا و آخرت کے خسارے کی طرف لوٹ گئے اور ایسے نقصان میں پڑ گئے کہ جس کا تدارک ممکن ہے نہ اس کی اصلاح کیونکہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے رب کی اطاعت سے نکل کر اس کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گئے۔
[20] پس کیا وہ شخص جو تقویٰ کی حفاظت کرتا ہے اور اس چیز پر نظر رکھتا ہے جو اس نے کل کے لیے آگے بھیجی ہے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا، یعنی نبیوں، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ نعمتوں بھری جنت اور تکدر سے سلامت زندگی کا مستحق ہوا۔ اور وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل ہوا، اس نے اس کے حقوق فراموش کر دیے پس وہ دنیا میں بدبخت ٹھہرا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہوا۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نہیں، یقینا نہیں۔ پہلی قسم کے لوگ کامیاب ہیں اور دوسری قسم کے لوگ خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
[21] جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر حقائق کو واضح کر دیا اور اس نے اپنی کتاب عزیز میں اپنے بندوں کو اوامر و نواہی عطا کیے تو یہ چیز اس بات کی موجب تھی کہ وہ اس کی طرف سبقت کرنے میں جلدی کرتے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے ان کو دعوت اور ترغیب دی، خواہ وہ قساوت اور صلابت قلبی میں مضبوط پہاڑوں کی مانند ہی کیوں نہ ہوتے۔اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی نازل کر دیا جاتا تو آپ اسے خشیت الٰہی سے عاجز اور ٹکڑے ٹکڑے ہوا پاتے۔ یعنی اس کا سبب دلوں میں اس کی کمال تاثیر ہے۔ کیونکہ قرآن کے مواعظ علی الاطلاق سب سے بڑے مواعظ ہیں۔ اس کے اوامر و نواہی، حکمتوں اور مصالح پر مشتمل ہیں، یہ نفوس کے لیے سب سے زیادہ سہل اور ابدان کے لیے سب سے زیادہ آسان ہیں، یہ ہر قسم کے تکلف سے خالی ہیں، ان میں کوئی تناقض ہے نہ اختلاف، ان پر عمل کرنے میں کوئی صعوبت ہے نہ بے راہ روی، یہ اوامر و نواہی ہر زمان و مکان کے لیے درست اور ہر شخص کے لائق ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حرام اور حلال واضح کرتا ہے تاکہ وہ اس کی آیات میں تفکر و تدبر کریں، کیونکہ آیات الٰہی میں تفکر، بندے کے لیے علم کے خزانوں کے منہ کھول دیتا ہے، اس کے سامنے خیر اور شر کے راستوں کو واضح کر دیتا ہے اور اس کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کی ترغیب دیتا ہے اور برے اخلاق سے اسے روکتا ہے۔ پس بندے کے لیے قرآن میں تفکر اور اس کے معانی میں تدبر سے بڑھ کر کوئی چیز فائدہ مند نہیں۔
59:22–24Page 548
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۖ عَٰلِمُ ٱلۡغَيۡبِ وَٱلشَّهَٰدَةِۖ هُوَ ٱلرَّحۡمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ ٢٢
He is Allāh, other than whom there is no deity, Knower of the unseen and the witnessed.1 He is the Entirely Merciful, the Especially Merciful.
هُوَ ٱللَّهُ ٱلَّذِي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡمَلِكُ ٱلۡقُدُّوسُ ٱلسَّلَٰمُ ٱلۡمُؤۡمِنُ ٱلۡمُهَيۡمِنُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡجَبَّارُ ٱلۡمُتَكَبِّرُۚ سُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٢٣
He is Allāh, other than whom there is no deity, the Sovereign,1 the Pure,2 the Perfection,3 the Grantor of Security,4 the Overseer,5 the Exalted in Might,6 the Compeller,7 the Superior.8 Exalted is Allāh above whatever they associate with Him.
هُوَ ٱللَّهُ ٱلۡخَٰلِقُ ٱلۡبَارِئُ ٱلۡمُصَوِّرُۖ لَهُ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٢٤
He is Allāh, the Creator,1 the Producer,2 the Fashioner;3 to Him belong the best names.4 Whatever is in the heavens and earth is exalting Him. And He is the Exalted in Might, the Wise.5
وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود (برحق) سوائے اس کے، جاننے والا ہے غیب اور حاضر کا، وہ رحمن ہےرحیم ہے (22) وہ اللہ، وہ ذات ہے کہ نہیں کوئی معبود مگر وہی، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سالم تمام عیبوں سے، امن دینے والا، نگہبان، زبردست، زور آور، بڑائی والا، پاک ہے اللہ ان چیزوں سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (23) وہ ہے اللہ، خالق، موجد، صورت گر، اسی کے لیے ہیں اسمائے حُسنیٰ، تسبیح کرتی ہے اسی کی جو چیز آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ غالب خوب حکمت والا ہے (24)
[22] یہ آیات کریمہ اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسمائے حسنیٰ اور اوصاف عالیہ پر مشتمل اور عظمت شان اور بے مثال برہان کی حامل ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، کیونکہ وہ عظیم کمال، سب کو شامل احسان اور تدبیر عام کا مالک ہے، اس کے سوا ہر معبود باطل ہے اور عبادت کا ذرہ بھر کے مستحق نہیں، کیونکہ وہ محتاج، عاجز اور ناقص ہیں، وہ اپنے لیے اور کسی دوسرے کے لیے کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وصف بیان کیا ہے کہ اس کا عمومِ علم ہر اس چیز کو شامل ہے جو مخلوق کی نظروں سے اوجھل ہے اور جس کا وہ مشاہدہ کرتی ہے، اس کی رحمت عامہ ہر چیز پر سایہ کناں اور ہر زندہ ہستی تک پہنچتی ہے۔
[23] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی عموم الوہیت اور اس میں متفرد ہونے کا بتکرار ذکر کیا، نیز یہ کہ وہ تمام ممالک کا مالک ہے۔ عالم علوی اور عالم سفلی اور ان میں رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے مملوک، محتاج اور اس کے دستِ تدبیر کے تحت ہیں۔﴿ الۡقُدُّوۡسُ السَّلٰمُ﴾ یعنی وہ مقدس، ہر عیب و نقص سے سلامت، معظم اور بزرگی والا ہے۔ کیونکہ صفت ’’قدوس‘‘ ہر عیب و نقص سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، اس کے اوصاف و جلال میں اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے ﴿الۡمُؤۡمِنُ﴾ یعنی وہ اپنے انبیاء و رسل کی اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں، اس کی براہین قاطعہ اور واضح دلائل کے ساتھ تصدیق کرتا ہے (اور انھیں اپنی حفاظت اور امان میں رکھتا ہے) ۔﴿ الۡعَزِيۡزُ﴾ جس پر غالب آیا جا سکتا ہے نہ اس کے سامنے رکاوٹ بنا جا سکتا ہے، بلکہ وہ ہر چیز پر غالب اور ہر چیز اس کے سامنے فروتن و سرافگندہ ہے ﴿ الۡؔجَبَّارُ﴾ جو تمام بندوں پر غالب ہے اور تمام مخلوق اس کے سامنے سر تسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ جو ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا اور محتاج کو بے نیاز کرتا ہے۔ ﴿ الۡمُتَكَبِّرُ﴾ جو عظمت و کبریا ئی کا مالک، ظلم و جور اور تمام عیوب سے منزہ ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ یہ تنزیہ عام ہے، ہر اس وصف سے جس سے شرک کرنے اور عناد رکھنے والے اس کو موصوف کرتے ہیں۔
[24]﴿ هُوَ اللّٰهُ الۡؔخَالِـقُ﴾ جو تمام مخلوقات کا خالق ہے ﴿ الۡبَارِئُ﴾ جو تمام کائنات کو نیست سے ہست (عدم سے وجود) میں لاتا ہے ﴿ الۡمُصَوِّرُ﴾ وہ تمام صورت رکھنے والوں کی صورت گری کرتا ہے۔ یہ تمام اسمائے حسنیٰ تخلیق و تدبیر اور تقدیر سے متعلق ہیں، ان تمام اوصاف میں اللہ تبارک و تعالیٰ متفرد ہے اور کوئی اس میں شریک نہیں ﴿ لَهُ الۡاَسۡمَآءُ الۡحُسۡنٰؔى﴾ یعنی اس کے بہت زیادہ نام ہیں جن کو کوئی معلوم کر سکتا ہے نہ شمار کر سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے تمام نام اچھے ہیں، یعنی اس کے تمام نام صفات کمال ہیں بلکہ یہ اسماء کامل ترین اور عظیم ترین صفات پر دلالت کرتے ہیں، جن میں کسی بھی لحاظ سے کوئی نقص نہیں۔ ان اسماء کا حسن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے اور وہ اس شخص کو بھی پسند کرتا ہے جو ان اسماء کو پسند کرتا ہے ۔وہ اپنے بندوں سے اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اس کو پکاریں اور ان ناموں کے واسطے سے اس سے سوال کریں۔یہ اس کا کمال ہے کہ وہ اسمائے حسنیٰ اور صفات عالیہ کا مالک ہے، نیز یہ کہ آسمانوں اور زمین میں رہنے والے دائمی طور پر اس کے محتاج ہیں، اس کی حمد و ثنا کے ذریعے سے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، اس سے اپنی تمام حوائج کا سوال کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضل و کرم سے انھیں وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جس کا تقاضا اس کی رحمت اور حکمت کرتی ہے۔ ﴿ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ﴾ یعنی وہ جس چیز کا بھی ارادہ کرتا ہے وہ ہو جاتی ہے، اور جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کی حکمت اور مصلحت کے تحت ہوتا ہے۔
Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences