Al-Hashr 59:3
The Exile · Juz 28 · Page 545
وَلَوۡلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ ٣
And if not that Allāh had decreed for them evacuation, He would have punished them in [this] world, and for them in the Hereafter is the punishment of the Fire.
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 59:1–17
تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17)
تفسیر سورۂ حشر
اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔
[1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔
Page 545
58:22
لَّا تَجِدُ قَوۡمٗا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ يُوَآدُّونَ مَنۡ حَآدَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَوۡ كَانُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ أَوۡ أَبۡنَآءَهُمۡ أَوۡ إِخۡوَٰنَهُمۡ أَوۡ عَشِيرَتَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٖ مِّنۡهُۖ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ رَضِيَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُواْ عَنۡهُۚ أُوْلَٰٓئِكَ حِزۡبُ ٱللَّهِۚ أَلَآ إِنَّ حِزۡبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٢٢
You will not find a people who believe in Allāh and the Last Day having affection for those who oppose Allāh and His Messenger, even if they were their fathers or their sons or their brothers or their kindred. Those - He has decreed within their hearts faith and supported them with spirit1 from Him. And We will admit them to gardens beneath which rivers flow, wherein they abide eternally. Allāh is pleased with them, and they are pleased with Him - those are the party of Allāh. Unquestionably, the party of Allāh - they are the successful.
1 translator’s note
- i.e., "that which gives life," explained as the guidance of the Qur’ān or victory over their opponents. ↩
سورة الحشر
Al-Hashr
The Exile · Medinan · 24 ayahs
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
59:1
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ١
Whatever is in the heavens and whatever is on the earth exalts Allāh,1 and He is the Exalted in Might, the Wise.
1 translator’s note
- See footnote to 57:1. ↩
59:2
هُوَ ٱلَّذِيٓ أَخۡرَجَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن دِيَٰرِهِمۡ لِأَوَّلِ ٱلۡحَشۡرِۚ مَا ظَنَنتُمۡ أَن يَخۡرُجُواْۖ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُم مَّانِعَتُهُمۡ حُصُونُهُم مِّنَ ٱللَّهِ فَأَتَىٰهُمُ ٱللَّهُ مِنۡ حَيۡثُ لَمۡ يَحۡتَسِبُواْۖ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَۚ يُخۡرِبُونَ بُيُوتَهُم بِأَيۡدِيهِمۡ وَأَيۡدِي ٱلۡمُؤۡمِنِينَ فَٱعۡتَبِرُواْ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٢
It is He who expelled the ones who disbelieved among the People of the Scripture1 from their homes at the first gathering.2 You did not think they would leave, and they thought that their fortresses would protect them from Allāh; but [the decree of] Allāh came upon them from where they had not expected, and He cast terror into their hearts [so] they destroyed their houses by their [own] hands and the hands of the believers. So take warning, O people of vision.
59:3
وَلَوۡلَآ أَن كَتَبَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِمُ ٱلۡجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمۡ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ عَذَابُ ٱلنَّارِ ٣
And if not that Allāh had decreed for them evacuation, He would have punished them in [this] world, and for them in the Hereafter is the punishment of the Fire.