Al-HashrJuz 28 · Page 546

Al-Hashr 59:4

The Exile · Juz 28 · Page 546

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٤

That is because they opposed Allāh and His Messenger. And whoever opposes Allāh - then indeed, Allāh is severe in penalty.

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 59:1–17

تسبیح کرتی ہے اللہ کے لیے جو چیز ہے آسمانوں میں اور جو چیز ہے زمین میں، اور وہ بڑا زبردست ، خوب حکمت والا ہے(1) وہ، وہ ذات ہے جس نے نکالا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، ان کے گھروں سے، وقت پہلی جلا وطنی کے نہیں گمان کیا تھا تم نے (کبھی بھی) یہ کہ وہ نکلیں گے اور انھوں نے سمجھا تھا کہ بے شک وہ، بچا لیں گے ان کو ان کے قلعے اللہ (کے عذاب) سے پس آیا ان پر اللہ (کا عذاب) جہاں سے نہیں گمان کیا تھا انھوں نے، اور اس نے ڈال دیا ان کے دلوں میں رعب، اجاڑتے تھے وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اور مومنوں کے ہاتھوں سے بھی،پس تم عبرت پکڑو اے آنکھوں والو!(2) اور اگرنہ ہوتی یہ بات کہ لکھ دیا تھا اللہ نے ان پر جلا وطن ہونا تو وہ ضرور عذاب دیتا ان کو دنیا ہی میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب ہے آگ کا(3) یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کےرسول کی، اور جو کوئی مخالفت کرے اللہ کی تو بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(4) جو کاٹا تم نے کوئی کھجور کا درخت یا چھوڑ دیا تم نے اسے قائم اس کی جڑوں پر، تو (یہ سب) اللہ کے حکم سے ہے، اور تاکہ وہ رسوا کرے فاسقوں کو(5) اور جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے ان (کے مال) سے، پس نہیں دوڑائے تم نے اس پر کوئی گھوڑے اور نہ اونٹ، اور لیکن اللہ غالب کرتا ہے اپنے رسولوں کو اوپر جس کے وہ چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(6) جو لوٹایا اللہ نے اوپر اپنے رسول کے بستیوں والوں (کے مال) سے تو (وہ) اللہ کے لیے اور رسول کے لیے اور (رسول کے) قرابت داروں کے لیے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ نہ ہو وہ (مال) گردش کرنے والا درمیان دولت مندوں ہی کے تم میں سے، اور جو کچھ دے تمھیں رسول تو تم لے لو اس کو اور جو کچھ کہ وہ روک دے تمھیں اس سے تو تم رک جاؤ اور ڈرو اللہ سے، بلاشبہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(7)(مال فَے) فقراء مہاجرین کے لیے ہے وہ جو نکالے گئے اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے اس حال میں کہ وہ تلاش کرتے ہیں فضل اللہ کا اور رضا مندی، اور وہ مدد کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی، یہی لوگ تو سچے ہیں(8) اور (ان کے لیے ہے) جنھوں نے بنا لیا تھا (مدینہ کو) گھر اور (قبول کر لیا تھا) ایمان ان (کی ہجرت) سے پہلے، وہ (انصار) محبت کرتے ہیں اس سے جو ہجرت کرے ان کی طرف اور نہیں پاتے وہ اپنے سینوں میں کوئی حاجت (حسد) اس سے جو دیے جائیں وہ (مہاجرین) اور وہ ترجیح دیتے ہیں (ان کو) اوپر اپنے نفسوں کے، اگرچہ ہو خود ان کو سخت حاجت اور جو کوئی بچا لیا گیا بخیلی سے اپنے نفس کی پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے(9) اور (ان کے لیے ہے) جو آئے ان کے بعد، وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب! بخش دے ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جنھوں نے پہل کی ہم سے ایمان (لانے) میں اور نہ رکھ تو ہمارے دلوں میں کینہ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت شفقت کرنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے (10) کیا نہیں دیکھا آپ نے طرف ان لوگوں کی جنھوں نے منافقت کی، وہ کہتے ہیں اپنے ان بھائیوں سے جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے، البتہ اگر نکالے گئے تم تو ہم ضرور نکلیں گے تمھارے ساتھ اور نہیں اطاعت کریں گے ہم تمھارے معاملے میں کسی کی کبھی بھی، اور اگر لڑائی کیے گئے تم تو ہم ضرور مدد کریں گے تمھاری اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں (11) البتہ اگر نکالے گئے وہ تو نہیں نکلیں گے یہ ان کے ساتھ اور اگر لڑائی کیے گئے وہ تو نہیں مدد کریں گے وہ ان کی، اور البتہ اگر وہ مدد کریں گے بھی ان کی تو ضرور پھیر جائیں گے وہ پیٹھیں ، پھر نہیں مدد کیے جائیں گے وہ (12) البتہ تم (اے مسلمانو!) زیادہ ہو باعتبار ہیبت کے ان کے دلوں میں بنسبت اللہ کے، یہ اس لیے کہ بے شک وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں سمجھتے (13) نہیں لڑیں گے وہ تم سے سب مل کر بھی مگر ایسی بستیوں میں جو قلعہ بند ہیں یا دیواروں کے پیچھے سے، ان کی لڑائی(عداوت) آپس میں بہت سخت ہے آپ گمان کرتے ہیں ان کو اکٹھے جبکہ ان کے دل جدا جدا ہیں، یہ بوجہ اس کےکہ بلاشبہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ نہیں عقل رکھتے (14) مانند صفت ان لوگوں کے جو ان سے پہلے ہوئے قریب ہی، چکھ لیا انھوں نے وبال اپنے کام (کفر) کا اور ان کے لیے ہے عذاب درد ناک (15)(ان کی مثال) مانند حالت شیطان کے ہے جب وہ کہتا ہے انسان کو کہ تو کفر کر، پس جب وہ کفر کرتا ہے تو شیطان کہتا ہے بلاشبہ میں تو بری ہوں تجھ سے بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے (16) پھر ہوتا ہے ان دونوں کا انجام کہ بلاشبہ وہ دونوں ہی آگ میں ہوں گے، ہمیشہ رہیں گے اس میں اور یہی ہے جزا (سزا) ظالموں کی (17)

تفسیر سورۂ حشر

اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۂ بنی نضیر‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ بنو نضیر یہودیوں کا ایک بڑا قبیلہ تھا جو نبی ٔاکرمﷺ کی بعثت کے وقت مدینہ کے مضافات میں آباد تھا۔ جب نبی ٔاکرمﷺ مبعوث ہوئے اور آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو انھوں نے جملہ یہود کے ساتھ آپ کی نبوت کا انکار کر دیا، نبی ٔاکرم ﷺ نے یہود کے ان قبائل کے ساتھ معاہدہ کیا جو مدینہ منورہ میں آپ کے پڑوس میں آباد تھے۔ غروۂ بدر کے تقریباً چھ ماہ بعد نبی اکرم ﷺ ان کے پاس گئے اور ان سے گفتگو کی کہ (معاہدے کے مطابق) وہ ان کلابیوں کی دیت کے بارے میں آپ کی مدد کریں، جن کو عمرو بن امیہ ضمری نے قتل کیا تھا۔ انھوں نے کہا ’’اے ابوالقاسم! ہم آپ کی مدد کریں گے آپ یہاں بیٹھیے، یہاں تک کہ ہم آپ کے لیے دیت اکٹھی کردیں، چنانچہ وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملے اور شیطان نے ان کے لیے اس بدبختی کو آسان بنا دیا جو ان کے لیے لکھ دی گئی تھی، چنانچہ انھوں نے آپ کے قتل کی سازش کی اور آپ کے بارے میں کہنے لگے ’’تم میں سے کون ہے جو اس چکی کو اٹھائے چھت پر چڑھ کر آپ کے سر پر دے مارے اور اس سے آپ کا سر کچل ڈالے؟‘‘ان میں سے بدبخت ترین شخص عمرو بن جحاش نے کہا: ’’یہ کام میں کروں گا‘‘ سَلَام بِن مِشْکَمْ نے ان سے کہا ’’یہ کام نہ کرواللہ کی قسم! تمھارے ارادے سے اسے ضرور آگاہ کر دیا جائے گا، اور یہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان ہوا ہے۔‘‘ انھوں نے جو سازش کی تھی اس کے بارے میں آپ پر فوراً وحی نازل ہو گئی، آپ جلدی سے وہاں سے اٹھ گئے اور مدینہ کا رخ کیا اور آپ کے صحابہ بھی (جو ساتھ گئے تھے) آپ سے مل گئے اور عرض کیا ’’آپ وہاں سے اٹھ آئے اور ہمیں خبر بھی نہ ہوئی۔‘‘ آپ نے انھیں اس سازش کے بارے میں آگاہ فرمایا جو یہودیوں نے آپ کے خلاف کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کو پیغام بھجوایا کہ ’’مدینہ سے نکل جاؤ اور اس میں مت رہو، میں تمھیں دس دن کی مہلت دیتا ہوں، اس کے بعد میں نے جس کسی کو مدینہ میں پایا، اس کی گردن مار دوں گا۔‘‘ بنونضیر مدینہ منورہ میں کچھ دن ٹھہرے اور (وہاں سے نکلنے کی) تیاری کرتے رہے، عبداللہ بن ابی ابن سلول منافق نے ان کو پیغام بھجوایا ’’اپنے گھروں سے مت نکلو، میرے ساتھ دو ہزار آدمی ہیں جو تمھارے ساتھ تمھارے قلعے میں داخل ہوں گے اور تمھاری خاطر اپنی جان دیں گے، بنوقریظہ اور بنوغطفان میں سے تمھارے حلیف بھی تمھاری مدد کریں گے۔‘‘ بنونضیر کا سردار حُیَي بن اخطب، عبداللّٰہ بن اُبَّی کے کہنے میں آ گیا اور رسول اللہ ﷺ کو کہلا بھیجا ’’ہم اپنے گھروں سے نہیں نکلیں گے، جو چاہو کر لو‘‘ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور یہود کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیt نے جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ یہودی اپنے قلعوں میں مقیم ہو کر پتھر اور تیر پھینکنے لگے، بنوقریظہ ان سے الگ ہو گئے، عبداللہ بن ابی اور بنو غطفان میں سے ان کے حلیفوں نے بھی ان سے خیانت کی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ کر لیا، ان کے کھجوروں کے باغات کاٹ کر نذر آتش کر دیے، بنونضیر نے پیغام بھیجا کہ ہم مدینہ سے نکل جائیں گے، رسول اللہ ﷺ نے ان پر یہ شرط عائد کی کہ وہ اپنی اولاد کو لے کر نکل جائیں اور اسلحہ کے سوا وہ سب کچھ لے جائیں جو ان کے اونٹ اٹھا سکتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے مال اور اسلحہ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔بنونضیر کے اموال خالص رسول اللہ ﷺ کی مہمات اور مسلمانوں کے مصالح کے لیے تھے، آپ نے اس مال میں سے خمس نکالا، کیونکہ یہ مال اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلوایا تھا، مسلمانوں نے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ ان پر چڑھائی نہیں کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے بنونضیر کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا، ان میں ان کا سردار حُیَيبن اخطب بھی شامل تھا اور ان کی اراضی اور گھروں پر قبضہ کر لیا۔ نیز ان کے اسلحہ کو بھی قبضہ میں لے لیا، اسلحہ میں پچاس زر ہیں، پچاس خود اور تین سو چالیس تلواریں ہاتھ لگیں۔ یہ ہے بنونضیر کے قصے کا ماحصل جیسا کہ اسے اہل سیرت نے بیان کیا ہے۔

[1] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس کے ساتھ اس سورۂ مبارکہ کا افتتاح کیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کر رہی ہے اور اس وصف سے اس کو منزہ قرار دے رہی ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں ،وہ اس کی عبادت کر رہی ہے اور اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں ہے کیونکہ وہ غلبے والا ہے اور ہر چیز پر غالب ہے، کوئی چیز اس سے بچ سکتی ہے نہ کوئی ہستی اس کی نافرمانی کر سکتی ہے۔ وہ اپنی تخلیق و امر میں حکمت رکھنے والا ہے، وہ کوئی چیز عبث پیدا کرتا ہے نہ کوئی ایسا امر مشروع کرتا ہے جس میں کوئی مصلحت نہ ہو اور نہ کوئی ایسا فعل سرانجام دیتا ہے جو اس کی حکمت کے تقاضے کے مطابق نہ ہو۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 546

Al-HashrJuz 28 · Page 546

59:4

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ شَآقُّواْ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥۖ وَمَن يُشَآقِّ ٱللَّهَ فَإِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٤

That is because they opposed Allāh and His Messenger. And whoever opposes Allāh - then indeed, Allāh is severe in penalty.

59:5

مَا قَطَعۡتُم مِّن لِّينَةٍ أَوۡ تَرَكۡتُمُوهَا قَآئِمَةً عَلَىٰٓ أُصُولِهَا فَبِإِذۡنِ ٱللَّهِ وَلِيُخۡزِيَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٥

Whatever you have cut down of [their] palm trees or left standing on their trunks - it was by permission of Allāh and so He would disgrace the defiantly disobedient.

59:6

وَمَآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡهُمۡ فَمَآ أَوۡجَفۡتُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ خَيۡلٖ وَلَا رِكَابٖ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُۥ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٦

And what Allāh restored [of property] to His Messenger from them - you did not spur for it [in an expedition] any horses or camels,1 but Allāh gives His messengers power over whom He wills, and Allāh is over all things competent.

1 translator’s note
  1. Meaning that they went through no hardship (i.e., war) to obtain it. ↩

59:7

مَّآ أَفَآءَ ٱللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ مِنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينِ وَٱبۡنِ ٱلسَّبِيلِ كَيۡ لَا يَكُونَ دُولَةَۢ بَيۡنَ ٱلۡأَغۡنِيَآءِ مِنكُمۡۚ وَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ٧

And what Allāh restored to His Messenger from the people of the towns - it is for Allāh and for the Messenger and for [his] near relatives1 and orphans and the needy and the [stranded] traveler2 - so that it will not be a perpetual distribution among the rich from among you. And whatever the Messenger has given you - take; and what he has forbidden you - refrain from. And fear Allāh; indeed, Allāh is severe in penalty.

2 translator’s notes
  1. Those of Banū Hāshim and Banū Muṭṭalib, whom he (ﷺ) had prohibited from accepting zakāh.

    [1655] This ruling concerning properties abandoned by an enemy without a war effort differs from that in Sūrah al-Anfāl, verse 41, which refers to spoils of war in which four fifths is distributed among those who fought in Allāh's cause.

    ↩
  2. ↩

59:8

لِلۡفُقَرَآءِ ٱلۡمُهَٰجِرِينَ ٱلَّذِينَ أُخۡرِجُواْ مِن دِيَٰرِهِمۡ وَأَمۡوَٰلِهِمۡ يَبۡتَغُونَ فَضۡلٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَٰنٗا وَيَنصُرُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصَّٰدِقُونَ ٨

For the poor emigrants who were expelled from their homes and their properties, seeking bounty from Allāh and [His] approval and supporting [the cause of] Allāh and His Messenger, [there is also a share]. Those are the truthful.

59:9

وَٱلَّذِينَ تَبَوَّءُو ٱلدَّارَ وَٱلۡإِيمَٰنَ مِن قَبۡلِهِمۡ يُحِبُّونَ مَنۡ هَاجَرَ إِلَيۡهِمۡ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمۡ حَاجَةٗ مِّمَّآ أُوتُواْ وَيُؤۡثِرُونَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡ وَلَوۡ كَانَ بِهِمۡ خَصَاصَةٞۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفۡسِهِۦ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ ٩

And [also for] those who were settled in the Home [i.e.,al-Madīnah] and [adopted] the faith before them.1 They love those who emigrated to them and find not any want in their breasts of what they [i.e., the emigrants] were given but give [them] preference over themselves, even though they are in privation. And whoever is protected from the stinginess of his soul - it is those who will be the successful.

1 translator’s note
  1. Before the settlement of the emigrants (Muhājireen) among the Anṣār, for whom a share is delegated as well. ↩
As-Sa'diTafsir · 59:4

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском