Al-An'amJuz 8 · Page 145

Al-An'am 6:137

The Cattle · Juz 8 · Page 145

وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ ١٣٧

And likewise, to many of the polytheists their partners1 have made [to seem] pleasing the killing of their children in order to bring about their destruction and to cover them with confusion in their religion. And if Allāh had willed, they would not have done so. So leave them and that which they invent.

1 translator’s note
  1. Their evil associates. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:136–140

اور ٹھہرایا انھوں نے اللہ کے لیے اس میں سے جو پیدا کی اس نے کھیتی اور چوپائے، ایک حصہ، پس کہا یہ اللہ کے لیے ہے ان کے خیال کے مطابق اور یہ (حصہ) ہے ہمارے دیوتاؤں کے لیے تو جو (حصہ) ہے ان کے دیوتاؤں کا، پس وہ نہیں پہنچتا اللہ کی طرف اور جو حصہ ہے اللہ کا تو وہ پہنچ جاتا ہے طرف ان کے دیوتاؤں کی، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (136)اور اسی طرح مزین کر دیا بہت سے مشرکوں کے لیے قتل کرنا اپنی اولاد کا ان کے دیوتاؤں نےتاکہ وہ ہلاک کردیں انھیں اور تاکہ خلط ملط کر دیں ان پر ان کا دین اور اگر چاہتا اللہ تو نہ کرتے وہ یہ، پس چھوڑ دیجیے انھیں اور جو وہ افترا باندھتے ہیں(137) اور کہا انھوں نے، یہ چوپائے اور کھیتی ممنوع ہے، نہیں کھا سکتا اسے مگر وہی جسے ہم چاہیں،(یہ کہا انھوں نے) اپنے خیال کے مطابق اور بعض چوپائے ہیں کہ حرام کردی گئیں ان کی پیٹھیں اوربعض چوپائے ہیں کہ نہیں ذکر کرتے وہ اللہ کا نام ان پر، افترا باندھتے ہوئے اس( اللہ) پر، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں بوجہ اس کے جو تھے وہ افترا باندھتے (138)اور کہا انھوں نے، جو (بچہ) ہے پیٹوں میں ان چوپایوں کے، وہ خالص ہے صرف ہمارے مردوں کے لیے اور حرام ہے ہماری بیویوں پر اور اگر ہو وہ مردہ تو وہ سب (مردو عورت) اس میں شریک ہیں، عنقریب وہ سزا دے گا انھیں ان کے (اس) بیان کی، یقینا وہ حکمت والا جاننے والا ہے(139) تحقیق خسارے میں رہے وہ لوگ، جنھوں نے قتل کیا اپنی اولاد کو بیوقوفی سے، بغیر علم کےاور حرام ٹھہرایا انھوں نے جو رزق دیا انھیں اللہ نے، افترا باندھتے ہوئے اللہ پر، تحقیق گمراہ ہوگئے وہ اور نہ ہوئے وہ ہدایت یافتہ(140)

[136] اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی بیوقوفی، کم عقلی اور انتہا کو پہنچی ہوئی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، چنانچہ ان کی متعدد خرافات کا ذکر کیا ہے تاکہ وہ ان کی گمراہی پر متنبہ کر کے اہل ایمان کو ان سے بچائے اور ان بیوقوفوں کا اس حق کی مخالفت کرنا، جسے انبیا و رسل لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، حق میں نقص کا باعث نہیں ۔ کیونکہ وہ حق کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الۡحَرۡثِ وَالۡاَنۡعَامِ نَصِيۡبًا ﴾ ’’اور (یہ لوگ) اللہ ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں اللہ کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مویشی اور کھیتی پیدا کی ہے وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کا حصہ بھی مقرر کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے مقرر کرتے ہیں ۔ درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو پیدا کر کے بندوں کے لیے رزق فراہم کیا ہے۔ انھوں نے دو محظور امور بلکہ تین کو یکجا کر دیا جن سے بچنے کے لیے ان کو کہا گیا تھا۔ (۱) اللہ تعالیٰ پر ان کا احسان دھرنا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کا حصہ مقرر کیا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ یہ ان کی طرف سے اللہ تعالیٰ پر نوازش ہے۔ (ب) اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مویشیوں اور کھیتیوں کی پیداوار میں شریک کرنا حالانکہ وہ ان میں سے کسی چیز کو بھی وجود میں نہیں لائے۔ (ج) اور ظلم و جور پر مبنی ان کا یہ فیصلہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حصے کی کوئی پروا نہیں کرتے، اگرچہ یہ حصہ اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیں اور اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے حصے کو درخور اعتناء سمجھتے ہوئے اس کی حفاظت کرتے ہیں اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصے کے ساتھ نہیں ملاتے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب مشرکین کو کھیتیوں اور پھلوں کی پیداوار اور مویشی حاصل ہوتے، جن کو اللہ تعالیٰ ان کے لیے وجود میں لایا تو اس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتے (۱) ایک حصے کے بارے میں بزعم خود کہتے ’’یہ اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔‘‘حالانکہ اللہ تعالیٰ اسی چیز کو قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے ہو۔ اللہ تعالیٰ شرک کرنے والے کے عمل کو قبول نہیں فرماتا۔ (۲) دوسرا حصہ اپنے ٹھہرائے ہوئے معبودوں اور بتوں کی نذر کرتے تھے، اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے حصے میں سے نکل کر اس حصے میں خلط ملط ہو جاتی جو غیر اللہ کے لیے مقرر کیا تھا تو اس کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اور اس کو اللہ تعالیٰ کے حصہ کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور کہتے تھے ’’اللہ اس سے بے نیاز ہے‘‘ اور اگر کوئی چیز، جو انھوں نے اپنے معبودوں اور بتوں کے لیے مقرر کی تھی اس حصے کے ساتھ خلط ملط ہو جاتی جو اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا تھا تو اسے بتوں کے لیے مقرر حصے کی طرف لوٹا دیتے اور کہتے ’’یہ بت تو محتاج ہیں اس لیے ان کے حصے کو ان کی طرف لوٹانا ضروری ہے‘‘۔۔۔۔ کیا اس سے بڑھ کر ظلم پر مبنی، بدترین فیصلہ کوئی اور ہو سکتا ہے؟ کیونکہ انھوں نے جو حصہ مخلوق کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اللہ تعالیٰ کے حق سے زیادہ خیر خواہی اور حفاظت کرتے ہیں ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر میں اس معنی کا احتمال بھی ہو سکتا ہے جو رسول اللہﷺ کی ایک صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں تمام شریکوں سے زیادہ شرک سے بے نیاز ہوں ۔ جو کوئی میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے میں اسے چھوڑ کر اس کے شرک کے حوالے کر دیتا ہوں ۔۔۔۔‘‘(صحیح مسلم، کتاب الزھد، باب تحریم الریاء، حدیث: 3985) آیت کریمہ کے معنی یہ ہیں کہ مشرکین نے اپنے معبودوں اور بتوں کے تقرب کے حصول کے لیے جو حصے مقرر کر رکھے ہیں وہ خالص غیر اللہ کے لیے ہیں ۔ ان میں سے کچھ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ۔ اور ان کے زعم باطل کے مطابق انھوں نے جو حصہ اللہ تعالیٰ کے لیے مقرر کیا ہے وہ ان کے شرک کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے حضور نہیں پہنچتا۔ بلکہ یہ بھی ان کے معبودوں اور بتوں کا حصہ ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے۔ وہ مخلوق میں سے اس شخص کا عمل کبھی قبول نہیں کرتا جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔

[137] مشرکین کی حماقت اور گمراہی یہ ہے کہ اکثر مشرکین کے سامنے ان کے خداؤں یعنی ان کے سرداروں اور شیاطین نے ان کے اعمال، یعنی قتل اولاد کو مزین کر دیا ہے۔ یہاں قتل اولاد سے مراد ان لوگوں کا اپنے بچوں کو قتل کرنا ہے جو بھوک اور فقر کے ڈر سے اپنے بچوں کو اور عار کے ڈر سے اپنی بچیوں کو زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔ یہ سب شیاطین کی فریب کاری ہے جو انھیں ہلاکت کی وادیوں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا دین ان پر مشتبہ ہو جائے اس لیے وہ انتہائی برے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ ان کے یہ شرکاء ان کے ان اعمال کو آراستہ کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ یہ ان کے ہاں نیکی کے اعمال اور اچھے خصائل بن جاتے ہیں ۔ اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ان اعمال سے روکنا اور ان کے اور ان افعال قبیحہ کے درمیان حائل ہونا چاہتا اور اگر وہ چاہتا کہ ماں باپ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں تو وہ کبھی قتل نہ کرتے۔ مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ ان کو مہلت دینے کے لیے ان کے اور ان کے اعمال کے درمیان سے ہٹ جائے اور ان کے اعمال کی پروا نہ کرے، اس لیے فرمایا:﴿فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُوۡنَ﴾ ’’تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ۔‘‘ یعنی ان کو ان کے جھوٹ اور افترا کے ساتھ چھوڑ دیں اور ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

[138] ان کی حماقت و سفاہت کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ انھوں نے ان مویشیوں اور چوپائیوں کے سلسلے میں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے عام طور پر حلال ٹھہرایا اور ان کے لیے ان کو رزق اور رحمت کا ذریعہ بنایا، جن سے یہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی طرف سے بدعات اور بدعی اقوال گھڑ لیے ہیں ۔ بعض مویشیوں اور کھیتیوں کے بارے میں انھوں نے اصطلاح وضع کر رکھی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں :﴿ هٰؔذِهٖۤ اَنۡعَامٌ وَّحَرۡثٌ حِجۡرٌ ﴾ ’’یہ مویشی اور کھیتی ممنوع ہے‘‘ یعنی یہ حرام ہیں ﴿ لَّا يَطۡعَمُهَاۤ اِلَّا مَنۡ نَّشَآءُ ﴾ ’’اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے۔‘‘ یعنی اس کا کھانا کسی کے لیے جائز نہیں اور اس کو صرف وہی کھا سکتا ہے جسے ہم چاہیں یا ہم بیان کریں کہ فلاں قسم کا شخص کھا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ ان کا زعم باطل ہے جس کی کوئی دلیل نہیں ۔ سوائے اس کے کہ یہ ان کی خواہشات نفس اور باطل آراء ہیں ۔ مویشی ان پر کسی لحاظ سے حرام نہیں تھے بلکہ انھوں نے ان کی پیٹھ کو حرام ٹھہرایا یعنی ان پر سواری کرنے اور بوجھ لادنے کو۔ اور ایسے جانور کو انھوں نے (حام) سے موسوم کر رکھا تھا۔ ’’حام‘‘ حمی یحمی سے ہے بمعنی ’’حفاظت کرنا۔‘‘ پیٹھ کی، سواری اور بوجھ سے حفاظت کرنے کی وجہ سے یہ نام پڑا۔ کچھ جانور وہ تھے جن پر وہ اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتے تھے بلکہ ان بتوں کا نام لیتے تھے جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کیا کرتے تھے۔ اور وہ تمام افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔ حالانکہ وہ جھوٹے اور فاسق و فاجر تھے ﴿ سَيَجۡزِيۡهِمۡ بِمَا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’عنقریب وہ سزا دے گا ان کو اس جھوٹ کی‘‘ یعنی شرک کو حلال ٹھہرانے اور کھانے پینے اور دیگر منفعت کی اشیا کو حرام ٹھہرانے میں وہ اللہ تعالیٰ پر جو جھوٹ گھڑتے تھے۔

[139] ان کی کم عقلی پر مبنی آراء میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ بعض مویشیوں کو معین کر دیتے اور کہتے کہ ان کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہے، چنانچہ وہ کہتے تھے:﴿وَقَالُوۡا مَا فِيۡ بُطُوۡنِ هٰؔذِهِ الۡاَنۡعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوۡرِنَا ﴾ ’’جو کچھ ان مویشیوں کے پیٹوں میں ہے، اس کو صرف ہمارے مرد ہی کھائیں گے‘‘ یعنی ان کے لیے حلال ہے اس کے کھانے میں عورتیں شریک نہیں ہوں گی ﴿ وَمُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزۡوَاجِنَا ﴾ ’’اور ہماری عورتوں کو (اس کاکھانا) حرام ہے۔‘‘ یعنی یہ ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ مگر یہ اس صورت میں ہے کہ وہ زندہ پیدا ہو۔ اگر مویشی کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ مردہ پیدا ہوا تو اس میں سب شریک ہوں گے یعنی وہ مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال ہے ﴿سَيَجۡزِيۡهِمۡ وَصۡفَهُمۡ ﴾ ’’وہ عنقریب سزا دے گا ان کو ان کی غلط بیانیوں کی‘‘ اس لیے کہ انھوں نے اس چیز کو حرام ٹھہرایا جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھا۔ اور حرام کو حلال سے موصوف کیا پس اس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی شریعت کی مخالفت کی اور پھر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر ڈالا ﴿ اِنَّهٗ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک وہ حکمت والا ہے۔‘‘ کیونکہ اس نے ان کو مہلت دی اور اس گمراہی کا ان کو اختیار دیا جس میں یہ سرگرداں ہیں ﴿ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’جاننے والا ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جانتا ہے وہ ان کی باتوں اور افترا پردازیوں کا بھی خوب علم رکھتا ہے۔ بایں ہمہ وہ ان کو معاف کرتا اور ان کو رزق سے نوازتا ہے۔

Continue in the whole surah's tafsir

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 145

Al-An'amJuz 8 · Page 145

6:132

وَلِكُلّٖ دَرَجَٰتٞ مِّمَّا عَمِلُواْۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ ١٣٢

And for all are degrees [i.e., positions resulting] from what they have done. And your Lord is not unaware of what they do.

6:133

وَرَبُّكَ ٱلۡغَنِيُّ ذُو ٱلرَّحۡمَةِۚ إِن يَشَأۡ يُذۡهِبۡكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢ بَعۡدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ ءَاخَرِينَ ١٣٣

And your Lord is the Free of need, the possessor of mercy. If He wills, He can do away with you and give succession after you to whomever He wills, just as He produced you from the descendants of another people.

6:134

إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَأٓتٖۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعۡجِزِينَ ١٣٤

Indeed, what you are promised is coming, and you will not cause failure [to Allāh].1

1 translator’s note
  1. i.e., You will neither escape nor prevent its occurrence. ↩

6:135

قُلۡ يَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَامِلٞۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ١٣٥

Say, "O my people, work according to your position; [for] indeed, I am working. And you are going to know who will have succession in the home.1 Indeed, the wrongdoers will not succeed."

1 translator’s note
  1. i.e., in the land or in the Hereafter. ↩

6:136

وَجَعَلُواْ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلۡحَرۡثِ وَٱلۡأَنۡعَٰمِ نَصِيبٗا فَقَالُواْ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعۡمِهِمۡ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَاۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمۡ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمۡۗ سَآءَ مَا يَحۡكُمُونَ ١٣٦

And they [i.e., the polytheists] assign to Allāh from that which He created of crops and livestock a share and say, "This is for Allāh," by their claim, "and this is for our 'partners' [associated with Him]." But what is for their "partners" does not reach Allāh, while what is for Allāh - this reaches their "partners." Evil is that which they rule.

6:137

وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٖ مِّنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ قَتۡلَ أَوۡلَٰدِهِمۡ شُرَكَآؤُهُمۡ لِيُرۡدُوهُمۡ وَلِيَلۡبِسُواْ عَلَيۡهِمۡ دِينَهُمۡۖ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُۖ فَذَرۡهُمۡ وَمَا يَفۡتَرُونَ ١٣٧

And likewise, to many of the polytheists their partners1 have made [to seem] pleasing the killing of their children in order to bring about their destruction and to cover them with confusion in their religion. And if Allāh had willed, they would not have done so. So leave them and that which they invent.

1 translator’s note
  1. Their evil associates. ↩
As-Sa'diTafsir · 6:137

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском