Al-An'amJuz 7 · Page 135

Al-An'am 6:60

The Cattle · Juz 7 · Page 135

وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٦٠

And it is He who takes your souls by night1 and knows what you have committed by day. Then He revives you therein [i.e., by day] that a specified term2 may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do.

2 translator’s notes
  1. i.e., when you sleep.

    [313] One's decreed life span.

    ↩
  2. ↩

Tafsir · in Urdu

As-Sa'di

Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.

Whole surah

Change

Commentary on 6:60–62

اور وہی ہے جو فوت کرتا ہے تمھیں رات کواور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم دن میں ، پھر اٹھاتا ہے تمھیں اس (دن) میں تاکہ پورا کیا جائے وقت معین، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تمھارا، پھر خبر دے گا وہ تمھیں اس کی جو تھے تم کرتے (60) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے اور بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتے ) حتی کہ جب آتی ہے کسی ایک کو تم میں سے موت تو فوت کرتے ہیں اسے ہمارے رسول(فرشتے) اور وہ نہیں کوتاہی کرتے (61) پھر لوٹائے جاتے ہیں وہ اللہ کی طرف جو مالک ہے ان کا سچا خبردار! اسی کے لیے ہے فیصلہ کرنااور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (62)

[60] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں ، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں ۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے‘‘ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔‘‘ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔

[61]﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۰۰ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾(ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

[62]﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ ﴾ ’’پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے‘‘ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم شرعی کے ذریعے سے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انھیں عذاب دے گا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ ’’سن رکھو! حکم اسی کا ہے‘‘ وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں ، فیصلے کا مالک ہے ﴿ وَهُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰؔسِبِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے‘‘ کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے، پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخور اعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے، پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں ؟ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے اللہ کی قسم! اگر انھیں یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہو جائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انھوں نے شیطان کے داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں ۔

Saheeh International · As-Sa'di · Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Page 135

Al-An'amJuz 7 · Page 135

6:60

وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٦٠

And it is He who takes your souls by night1 and knows what you have committed by day. Then He revives you therein [i.e., by day] that a specified term2 may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do.

2 translator’s notes
  1. i.e., when you sleep.

    [313] One's decreed life span.

    ↩
  2. ↩

6:61

وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ ٦١

And He is the subjugator over His servants, and He sends over you guardian-angels until, when death comes to one of you, Our messengers [i.e., angels of death] take him, and they do not fail [in their duties].

6:62

ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ ٦٢

Then they [i.e., His servants] are returned to Allāh, their true Lord. Unquestionably, His is the judgement, and He is the swiftest of accountants.

6:63

قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٣

Say, "Who rescues you from the darknesses of the land and sea [when] you call upon Him imploring [aloud] and privately, 'If He should save us from this [crisis], we will surely be among the thankful.'"

6:64

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٦٤

Say, "It is Allāh who saves you from it and from every distress; then you [still] associate others with Him."

6:65

قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ ٦٥

Say, "He is the [one] Able to send upon you affliction from above you or from beneath your feet or to confuse you [so you become] sects1 and make you taste the violence of one another." Look how We diversify the signs that they might understand.

1 translator’s note
  1. Following your own inclinations rather than the truth, biased and hostile toward each other. ↩

6:66

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوۡمُكَ وَهُوَ ٱلۡحَقُّۚ قُل لَّسۡتُ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ ٦٦

But your people have denied it while it is the truth. Say, "I am not over you a manager [i.e., authority]."

6:67

لِّكُلِّ نَبَإٖ مُّسۡتَقَرّٞۚ وَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٦٧

For every news [i.e., happening] is a finality;1 and you are going to know.

1 translator’s note
  1. Other shades of meaning include "a permanence," "a realization" and "a time of stability." ↩

6:68

وَإِذَا رَأَيۡتَ ٱلَّذِينَ يَخُوضُونَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا فَأَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ حَتَّىٰ يَخُوضُواْ فِي حَدِيثٍ غَيۡرِهِۦۚ وَإِمَّا يُنسِيَنَّكَ ٱلشَّيۡطَٰنُ فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ ٱلذِّكۡرَىٰ مَعَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ٦٨

And when you see those who engage in [offensive] discourse1 concerning Our verses, then turn away from them until they enter into another conversation. And if Satan should cause you to forget, then do not remain after the reminder with the wrongdoing people.

1 translator’s note
  1. i.e., denials or mockery. ↩
As-Sa'diTafsir · 6:60

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
View

Читать на русском