As-Sa'diAl‑An'am · 6:51–67

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-An'am 6:51–67

6:51–55Page 133

وَأَنذِرۡ بِهِ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَن يُحۡشَرُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ لَيۡسَ لَهُم مِّن دُونِهِۦ وَلِيّٞ وَلَا شَفِيعٞ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ٥١

And warn by it [i.e., the Qur’ān] those who fear that they will be gathered before their Lord - for them besides Him will be no protector and no intercessor - that they might become righteous.

وَلَا تَطۡرُدِ ٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ رَبَّهُم بِٱلۡغَدَوٰةِ وَٱلۡعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجۡهَهُۥۖ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِم مِّن شَيۡءٖ وَمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِم مِّن شَيۡءٖ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُونَ مِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ ٥٢

And do not send away those who call upon their Lord morning and afternoon, seeking His face [i.e., favor]. Not upon you is anything of their account and not upon them is anything of your account.1 So were you to send them away, you would [then] be of the wrongdoers.

وَكَذَٰلِكَ فَتَنَّا بَعۡضَهُم بِبَعۡضٖ لِّيَقُولُوٓاْ أَهَٰٓؤُلَآءِ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡهِم مِّنۢ بَيۡنِنَآۗ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِأَعۡلَمَ بِٱلشَّٰكِرِينَ ٥٣

And thus We have tried some of them through others that they [i.e., the disbelievers] might say, "Is it these whom Allāh has favored among us?" Is not Allāh most knowing of those who are grateful?1

وَإِذَا جَآءَكَ ٱلَّذِينَ يُؤۡمِنُونَ بِـَٔايَٰتِنَا فَقُلۡ سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡۖ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَ أَنَّهُۥ مَنۡ عَمِلَ مِنكُمۡ سُوٓءَۢا بِجَهَٰلَةٖ ثُمَّ تَابَ مِنۢ بَعۡدِهِۦ وَأَصۡلَحَ فَأَنَّهُۥ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٥٤

And when those come to you who believe in Our verses, say, "Peace be upon you. Your Lord has decreed upon Himself mercy: that any of you who does wrong out of ignorance and then repents after that and corrects himself - indeed, He is Forgiving and Merciful."

وَكَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلۡأٓيَٰتِ وَلِتَسۡتَبِينَ سَبِيلُ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ٥٥

And thus do We detail the verses, and [thus] the way of the criminals will become evident.

اور ڈرائیں آپ اسکے ذریعے ان کو جو ڈرتے ہیں اس سے کہ وہ اکٹھے کیے جائیں گے اپنے رب کی طرف ، نہیں ہوگا ان کا اس کے سوا کوئی دوست اور نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں (51) اور مت دور کریں ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام، چاہتے ہیں وہ چہرہ اس کا ، نہیں ہے آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ اور نہیں ہے آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ کہ دور کریں آپ ان کو! (ایسا کیا) تو ہوجائیں گے آپ ظالموں سے (52) اور اسی طرح فتنے میں ڈالا ہم نے ان کے ایک کو دوسرے کے ذریعے سے تاکہ کہیں وہ کیا یہی لوگ ہیں کہ احسان کیا اللہ نے ان پر ہمارے درمیان میں سے؟ کیا نہیں ہے اللہ خوب جانتا شکر کرنے والوں کو؟(53) اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیات پر تو کہہ دیجیے سلام ہو تم پر لازم کر لیا ہے تمھارے رب نے اوپر اپنے نفس کے مہربانی کرنا، بے شک جو شخص عمل کرے تم میں سے برا ، جہالت سے ، پھر وہ توبہ کرے اس کے بعد او ر اصلاح کرلے تو یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے(54) اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیات کو اور تا کہ واضح ہو جائے راستہ مجرموں کا(55)

[51] یہ قرآن تمام مخلوق کے لیے انذار ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں ﴿ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انھیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کیے جانا ہے۔‘‘ پس انھیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انھیں نقصان دیتا ہے۔ ﴿ لَيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے اس کے بغیر‘‘ یعنی اللہ کے بغیر ﴿ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ ﴾ ’’کوئی دوست اور نہ سفارشی‘‘ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہو گی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کر سکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہو جائے اور ان سے تکلیف دور ہو جائے، نہ ان کا کوئی سفارشی ہو گا کیونکہ تمام مخلوق کے پاس کوئی اختیار نہیں ﴿ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ پرہیز گار بنیں ۔‘‘ شاید وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت اور اس کے نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کریں ۔ کیونکہ انذار، تقویٰ کا موجب اور اس کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔

[52]﴿ وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰؔوةِ وَالۡعَشِيِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ ﴾ ’’اور مت دور کیجیے ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، چاہتے ہیں اسی کا چہرہ‘‘ یعنی دوسروں کی مجالست کی امید میں اہل اخلاص اور اہل عبادت کو اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے جو ہمیشہ اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں ، ذکر اور نماز کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں ، صبح و شام اس سے سوال کرتے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کا چہرہ ہے۔ اس مقصد جلیل کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ بنابریں یہ لوگ اس چیز کے مستحق نہیں کہ انھیں اپنے سے دور کیا جائے یا ان سے روگردانی کی جائے بلکہ یہ لوگ تو آپﷺ کی موالات، محبت اور قربت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ یہ مخلوق میں سے چنے ہوئے لوگ ہیں اگرچہ یہ فقرا اور نادار ہیں ۔ اور یہی درحقیقت اللہ کے ہاں باعزت لوگ ہیں اگرچہ یہ لوگوں کے نزدیک گھٹیا اور کم مرتبہ ہیں ۔ ﴿مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’نہیں ہے آپ پر ان کے حساب میں سے کچھ اور نہ آپ کے حساب میں سے ان پر ہے کچھ‘‘ یعنی ہرشخص کے ذمہ اس کا اپنا حساب ہے، اس کا نیک عمل اسی کے لیے ہے اور برے عمل کی شامت بھی اسی پر ہے ﴿ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پس اگر ان کو دور کرو گے تو ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پوری طرح پیروی کی، چنانچہ جب آپﷺ فقرائے مومنین کی مجلس میں بیٹھتے تو دلجمعی سے ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے، ان کے ساتھ حسن خلق اور نرمی کا معاملہ کرتے اور انھیں اپنے قریب کرتے بلکہ آپﷺ کی مجلس میں زیادہ تر یہی لوگ ہوتے تھے۔ ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ قریش میں سے یا اعراب میں سے چند اجڈ لوگوں نے آپﷺ سے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم پر ایمان لائیں اور تمھاری پیروی کریں تو فلاں فلاں شخص جو کہ فقرائے صحابہy میں سے تھے، اپنے پاس سے اٹھا دو۔ کیونکہ ہمیں شرم آتی ہے کہ عرب ہمیں ان گھٹیا لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھیں ۔ ان معترضین کے اسلام لانے اور ان کے اتباع کرنے کی خواہش کی بنا پر آپﷺ کے دل میں بھی یہ خیال آیا مگر اللہ تعالیٰ نے اس آیت اور ان جیسی دیگر آیات کے ذریعے سے آپ کو ایسا کرنے سے منع فرمایا۔

[53]﴿ وَؔكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لِّيَقُوۡلُوۡۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض لوگوں کو بعضوں سے تاکہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟‘‘ یعنی یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی آزمائش ہے کہ اس نے بعض کو خوشحال بنایا اور بعض کو محتاج اور تنگ دست پیدا کیا، بعض کو صاحب شرف پیدا کیا بعض کو گھٹیا اور کم تر۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی نادار اور کم تر شخص کو ایمان عطا کر کے اس پر احسان کرتا ہے تو یہ چیز خوشحالی اور بلند مرتبہ شخص کے لیے امتحان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر اس کا مقصد اتباع حق ہے تو وہ ایمان لا کر مسلمان ہو جاتا ہے اور اسے ایمان لانے سے اس شخص کی مشارکت نہیں روک سکتی جس کو وہ مال و دولت اور جاہ و مرتبہ میں اپنے سے کم تر خیال کرتا ہے۔ اگر وہ طلب حق میں سچا نہیں تو یہ وہ گھاٹی ہے جو اسے اتباع حق سے روک دیتی ہے۔ جن کو وہ اپنے آپ سے کم تر خیال کرتے ہیں ان کو حقیر گردانتے ہوئے کہتے ہیں ﴿ اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۢۡ بَيۡنِنَا ﴾ ’’کیا یہی لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان میں سے، اللہ نے فضل کیا؟‘‘ اسی چیز نے ان کی عدم طہارت کے باعث ان کو اتباع حق سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس کلام کا جو اللہ تعالیٰ پر اعتراض کو متضمن ہے کہ اس نے ان کو ہدایت سے نواز دیا اور ان کو محروم کر دیا۔۔۔ جواب دیتے ہوئے فرمایا:﴿ اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا نہیں ہے اللہ خوب جاننے والا شکر کرنے والوں کو‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل صالح کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ایسے ہی کو اپنے فضل و احسان سے نوازتا ہے نہ کہ ان کو جو اس کے شکر گزار نہیں ہوتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے وہ اپنے فضل و کرم سے کسی ایسے شخص کو نہیں نوازتا جو اس کا اہل نہ ہو اور یہ معترضین اسی وصف کے مالک ہیں۔ اس کے برعکس جن فقرا کو اللہ تعالیٰ نے ایمان سے نوازا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار لوگ ہیں ۔

[54] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو اپنے مطیع مومن بندوں کو دور کرنے سے روک دیا تو ان کفار کے مقابلے میں انھیں اکرام، تعظیم، عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا ﴿ وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’جب آپ کے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو انھیں السلام علیکم کہیں ۔‘‘ یعنی جب اہل ایمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو آپ ان کو سلام کہیں ، ان کو خوش آمدید کہیں ۔ سلام و تحیات سے ان کا استقبال کریں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے جود و احسان کی بشارت دیں جو ان کے عزائم اور ارادوں میں نشاط پیدا کرے اور انھیں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ہر راستہ اور ہر سبب اختیار کرنے کی ترغیب دیں ۔ ان کو گناہوں پر قائم رہنے سے ڈرائیں اور انھیں گناہوں سے توبہ کرنے کا حکم دیں تاکہ وہ اپنے رب کی مغفرت اور اس کے جود و کرم کو پا سکیں ۔ ﴿ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡكُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’لکھ لیا ہے تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو جو کوئی کرے تم میں سے برائی، ناواقفیت سے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیک ہو جائے‘‘ یعنی (قبولیت توبہ کے لیے) گناہوں کو ترک کرنا، ان کا قلع قمع کرنا، ان پر نادم ہونا اور اعمال کی اصلاح کرنا ضروری ہے، نیز ان امور کی ادائیگی جن کو اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور جو ظاہری اور باطنی اعمال فاسد ہو چکے ہیں ، ان کی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ جب یہ تمام امور موجود ہوں ﴿فَاَنَّهٗ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’تو بات یہ ہے کہ وہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو جن امور کا حکم دیا ہے اس کی بجا آوری کے مطابق ان پر اپنی مغفرت اور رحمت کا فیضان کرتا ہے۔

[55]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی اسی طرح ہم اپنی آیات کو واضح کرتے ہیں ، گمراہی میں سے ہدایت کے راستے کو ممیز کرتے ہیں ، رشد و ہدایت اور ضلالت میں فرق کرتے ہیں تاکہ راہ ہدایت پر چلنے والے ہدایت پا لیں تاکہ حق کا راستہ عیاں ہوجائے جس پر گامزن ہونا چاہیے۔ ﴿ وَلِتَسۡتَبِيۡنَ سَبِيۡلُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہو جائے‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب تک پہنچاتا ہے۔ کیونکہ جب مجرموں کا راستہ ظاہر اور صاف واضح ہو جاتا ہے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس سے دور رہنا آسان ہو جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر راستہ مشتبہ اور غیر واضح ہو تو یہ مقصد جلیل حاصل نہیں ہو سکتا۔

6:56–58Page 134

قُلۡ إِنِّي نُهِيتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِۚ قُل لَّآ أَتَّبِعُ أَهۡوَآءَكُمۡ قَدۡ ضَلَلۡتُ إِذٗا وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُهۡتَدِينَ ٥٦

Say, "Indeed, I have been forbidden to worship those you invoke besides Allāh." Say, "I will not follow your desires, for I would then have gone astray, and I would not be of the [rightly] guided."

قُلۡ إِنِّي عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَكَذَّبۡتُم بِهِۦۚ مَا عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦٓۚ إِنِ ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِۖ يَقُصُّ ٱلۡحَقَّۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡفَٰصِلِينَ ٥٧

Say, "Indeed, I am on clear evidence from my Lord, and you have denied it. I do not have that for which you are impatient.1 The decision is only for Allāh. He relates the truth, and He is the best of deciders."

قُل لَّوۡ أَنَّ عِندِي مَا تَسۡتَعۡجِلُونَ بِهِۦ لَقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۗ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِٱلظَّٰلِمِينَ ٥٨

Say, "If I had that for which you are impatient, the matter would have been decided between me and you, but Allāh is most knowing of the wrongdoers."

کہہ دیجیے! یقینا میں روک دیا گیا ہوں اس سے کہ عبادت کروں ان کی جنھیں تم پکارتے ہو سوائے اللہ کے، کہہ دیجیے! نہیں پیچھے چلتا میں تمھاری خواہشات کے، تحقیق گمراہ ہو جاؤں گا میں اس وقت اور نہ ہوں گا میں ہدایت پانے والوں سے (56) کہہ دیجیے! یقیناً میں دلیل پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور جھٹلایا تم نے اسے، نہیں ہے میرے پاس وہ چیز کہ جلدی طلب کررہے ہو تم اس کو ، نہیں ہے حکم مگر اللہ ہی کا بیان فرماتا ہے وہ حق بات اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57) کہہ دیجیے، اگر میرے پاس ہوتی وہ چیز کہ جلدی طلب کر رہے ہو تم اس کو تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا میرے درمیان اور تمھارے درمیان اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو(58)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارتے ہیں ﴿اِنِّيۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔‘‘ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں ۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمھارے لیے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا: ﴿قُلۡ لَّاۤ اَتَّبِـعُ اَهۡوَؔآءَؔكُمۡ١ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا ﴾ ’’کہہ دیجیے میں تمھاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، بیشک تب میں بہک جاؤں گا‘‘ یعنی اگر میں تمھاری خواہشات کی پیروی کروں تو گمراہ ہو جاؤں گا ﴿ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ﴾ ’’اور کسی پہلو سے بھی راہ راست پر نہیں رہوں گا۔‘‘

[57] رہی وہ توحید اور اخلاص عمل جن پر میں عمل پیرا ہوں تو یہی حق ہے جس کی تائید واضح براہین اور قطعی دلائل کرتے ہیں ۔ ﴿ عَلٰى بَيِّنَةٍ مِّنۡ رَّبِّيۡ ﴾ ’’میں تو آپ رب کی دلیل روشن پر ہوں ۔‘‘ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اس قرآن کی صحت اور اس کے ماسوا کے بطلان کا واضح یقین رکھتا ہوں ۔ یہ رسول کی طرف سے قطعی شہادت ہے جو ہر قسم کے تردد سے پاک ہے۔ رسول علی الاطلاق سب سے عادل گواہ ہوتا ہے۔ اہل ایمان نے رسول کی گواہی کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جس ایمان سے نوازا ہے اس ایمان کے مطابق ان کے ہاں اس شہادت کی صحت اور صداقت متحقق ہے۔ ﴿وَ﴾ مگر اے مشرکو! ﴿ؔكَذَّبۡتُمۡ بِهٖ ﴾ ’’تم نے اس کی تکذیب کی‘‘ اور یہ تمھاری طرف سے اس سلوک کا مستحق نہ تھا، تصدیق کے سوا کوئی اور سلوک اس کے شایان شان نہ تھا۔ جب تم تکذیب پر مصر ہو تو جان رکھو کہ لامحالہ عذاب تم پر واقع ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عذاب مقرر ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا تم پر نازل کرے گا۔ اگر تم جلدی مچاتے ہو تو معاملہ میرے اختیار میں نہیں ﴿ اِنِ الۡحُكۡمُ اِلَّا لِلّٰهِ ﴾ ’’حکم صرف اللہ کا ہے‘‘ جس طرح اس نے اوامر و نواہی میں اپنا حکم شرعی نافذ کیا ہے اسی طرح وہ حکم جزائی نافذ کرے گا اور اپنی حکمت کے تقاضوں کے مطابق ثواب و عقاب دے گا۔ پس اس کے فیصلے پر اعتراض در خور اعتنا نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے راہ حق کو واضح کر دیا ہے اور اپنے بندوں کے سامنے حق بیان کر کے ان کا عذر ختم کر دیا اور یوں ان کی حجت منقطع ہو گئی۔ تاکہ جو ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الۡفٰصِلِيۡنَ ﴾ ’’وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘ وہ دنیا و آخرت میں اپنے بندوں کے درمیان بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، وہ ان کے درمیان ایسا فیصلہ کرتا ہے جس پر اس کی تعریف کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ بھی تعریف کیے بغیر نہیں رہتا جس کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے اور وہ حق کو واضح اور متعین کر دیتا ہے۔

[58]﴿ قُلۡ ﴾ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو جہالت، عناد اور ظلم کی بنا پر عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ﴿ لَّوۡ اَنَّ عِنۡدِيۡ مَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ۠ بِهٖ لَقُضِيَ الۡاَمۡرُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کی تم جلدی کر رہے ہو تو طے ہو چکا ہوتا جھگڑا، میرے اور تمھارے درمیان‘‘ پس میں تم پر عذاب واقع کر دیتا۔ اس جلدی مچانے میں تمھارے لیے بھلائی نہیں ۔ لیکن تمام تر معاملہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ اختیار میں ہے جو نہایت بردبار اور صبر کرنے والا ہے، نافرمان اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب کرنے والے اس کے سامنے بڑی جرأ ت سے گناہ کرتے ہیں مگر وہ ان سے درگزر کرتا ہے، ان کو رزق عطا کرتا ہے اور ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے بھی نوازتا ہے ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِالظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے‘‘ ان کے احوال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، پس وہ ان کو مہلت دیتا ہے مگر مہمل نہیں چھوڑتا۔

6:59Page 134

۞ وَعِندَهُۥ مَفَاتِحُ ٱلۡغَيۡبِ لَا يَعۡلَمُهَآ إِلَّا هُوَۚ وَيَعۡلَمُ مَا فِي ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِۚ وَمَا تَسۡقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعۡلَمُهَا وَلَا حَبَّةٖ فِي ظُلُمَٰتِ ٱلۡأَرۡضِ وَلَا رَطۡبٖ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَٰبٖ مُّبِينٖ ٥٩

And with Him are the keys of the unseen; none knows them except Him. And He knows what is on the land and in the sea. Not a leaf falls but that He knows it. And no grain is there within the darknesses of the earth and no moist or dry [thing] but that it is [written] in a clear record.

اور اسی کے پاس ہیں چابیاں غیب کی، نہیں جانتا انھیں کوئی بھی مگر وہی اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی اور تری میں ہےاور نہیں گرتا کوئی پتا بھی مگر وہ جانتا ہے اس کواور نہیں کوئی دانہ اندھیروں میں زمین کے اور نہ کوئی تر چیز اور نہ خشک چیز مگر (سب) کتاب واضح میں ہے(59)

[59] یہ آیت کریمہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے علم محیط کی تفصیل بیان کرتی ہے جو تمام غیوب کو شامل ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اسے ان غیوب میں سے کسی پر مطلع کر دیتا ہے۔ اس نے اپنا بہت سا علم، عام جہان والے تو کجا ملائکہ مقربین اور انبیا و مرسلین سے بھی پوشیدہ رکھا ہے۔ صحراؤں اور بیابانوں میں حیوانات، درخت، ریت کے ذرات کنکر اور مٹی سب اس کے علم میں ہیں ۔ سمندروں کے جانوروں ، ان کی معدنیات، ان کے شکار وغیرہ اور ان تمام اشیا کو وہ جانتا ہے جو ان کے کناروں کے اندر اور ان کے پانیوں میں شامل ہے۔ ﴿ وَمَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَةٍ ﴾ ’’اور نہیں گرتا کوئی پتا۔‘‘بحروبر، آبادیوں اور بیابانوں اور دنیا و آخرت کے درختوں پر سے اگر کوئی پتہ گرتا ہے تو اسے بھی وہ جانتا ہے ﴿ وَلَا حَبَّةٍ فِيۡ ظُلُمٰؔتِ الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور نہیں گرتا کوئی دانہ زمین کے اندھیروں میں ‘‘ یعنی پھل اور کھیتیوں کے دانے، وہ بیج جو لوگ زمین میں بوتے ہیں اور جنگلی نباتات کے بیج جن سے مختلف اصناف کی نباتات پیدا ہوتی ہے ﴿ وَلَا رَطۡبٍ وَّلَا يَابِسٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی ہری چیز اور نہ کوئی سوکھی چیز‘‘ یہ خصوص کے بعد عموم کا ذکر ہے ﴿ اِلَّا فِيۡ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر وہ سب کتاب مبین میں ہے‘‘ یعنی لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور لوح محفوظ ان تمام امور کو شامل ہے۔ ان میں سے بعض امور تو بڑے بڑے عقل مندوں کو حیران اور مبہوت کر دیتے ہیں اور یہ چیز رب عظیم کی عظمت اور اس کے تمام اوصاف میں اس کی وسعت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر تمام مخلوق کے اولین و آخرین جمع ہو کر اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا احاطہ کرنا چاہیں تو وہ اس پر قادر نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے۔ نہایت بابرکت ہے رب عظیم کی ذات جو وسیع اور علم رکھنے والی، قابل تعریف بزرگی والی، دیکھنے والی اور ہر چیز کا احاطہ کرنے والی ہے۔ وہ الہ جلیل ہے کوئی اس کی حمدو ثنا کا شمار نہیں کر سکتا بلکہ وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے اس کی جو حمد و ثنا اس کے بندے بیان کرتے ہیں وہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے اور اس کی کتاب تمام حوادث پر محیط ہے۔

یہ آیت کریمہ تمام تر توحید الوہیت کے تحقق، مشرکین کے خلاف دلائل اور اس بیان پر مشتمل ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی محبت، تعظیم، اجلال اور اکرام کا مستحق ہے۔

6:60–62Page 135

وَهُوَ ٱلَّذِي يَتَوَفَّىٰكُم بِٱلَّيۡلِ وَيَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُم بِٱلنَّهَارِ ثُمَّ يَبۡعَثُكُمۡ فِيهِ لِيُقۡضَىٰٓ أَجَلٞ مُّسَمّٗىۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٦٠

And it is He who takes your souls by night1 and knows what you have committed by day. Then He revives you therein [i.e., by day] that a specified term2 may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do.

وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۖ وَيُرۡسِلُ عَلَيۡكُمۡ حَفَظَةً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَ أَحَدَكُمُ ٱلۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُونَ ٦١

And He is the subjugator over His servants, and He sends over you guardian-angels until, when death comes to one of you, Our messengers [i.e., angels of death] take him, and they do not fail [in their duties].

ثُمَّ رُدُّوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ مَوۡلَىٰهُمُ ٱلۡحَقِّۚ أَلَا لَهُ ٱلۡحُكۡمُ وَهُوَ أَسۡرَعُ ٱلۡحَٰسِبِينَ ٦٢

Then they [i.e., His servants] are returned to Allāh, their true Lord. Unquestionably, His is the judgement, and He is the swiftest of accountants.

اور وہی ہے جو فوت کرتا ہے تمھیں رات کواور جانتا ہے جو کچھ کرتے ہو تم دن میں ، پھر اٹھاتا ہے تمھیں اس (دن) میں تاکہ پورا کیا جائے وقت معین، پھر اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تمھارا، پھر خبر دے گا وہ تمھیں اس کی جو تھے تم کرتے (60) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کے اور بھیجتا ہے تم پر محافظ (فرشتے ) حتی کہ جب آتی ہے کسی ایک کو تم میں سے موت تو فوت کرتے ہیں اسے ہمارے رسول(فرشتے) اور وہ نہیں کوتاہی کرتے (61) پھر لوٹائے جاتے ہیں وہ اللہ کی طرف جو مالک ہے ان کا سچا خبردار! اسی کے لیے ہے فیصلہ کرنااور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (62)

[60] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ اکیلا ہی ہے جو بندوں کی ان کے سوتے جاگتے میں تدبیر کرتا ہے، وہ رات کو انھیں وفات یعنی نیند کی وفات دیتا ہے، ان کی حرکات پر سکون طاری ہو جاتا ہے اور ان کے بدن آرام کرتے ہیں ، نیند سے بیداری کے بعد وہ ان کو دوبارہ زندہ کرتا ہے تاکہ وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں تصرف کریں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں اور وہ جن اعمال کا اکتساب کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان میں اسی طرح تصرف کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لیتے ہیں ۔ وہ اپنی اس تدبیر کے ذریعے سے ان کی مدت مقررہ کا فیصلہ کرتا ہے یعنی مدت حیات اور اس کے بعد ایک اور مدت ہے اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانا۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ ثُمَّ اِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ ﴾ ’’پھر اس کی طرف ہی تمھارا لوٹنا ہے‘‘ اس کے سوا اور کسی کی طرف لوٹنا نہیں ہے ﴿ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ تم کو تمھارے عمل جو تم کرتے ہو، بتائے گا۔‘‘ نیک اور بد جو کام بھی تم کرتے رہے ہو، اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے آگاہ فرمائے گا۔

[61]﴿ وَهُوَ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ﴿ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ وہ ان پر اپنا ارادہ اور اپنی مشیت عامہ نافذ کرتا ہے۔ بندے کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے، وہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر حرکت و سکون کے بھی مالک نہیں ۔ بایں ہمہ اس نے اپنے بندوں پر فرشتوں کو محافظ مقرر کر رکھا ہے اور بندے جو عمل کرتے ہیں یہ فرشتے اس کو محفوظ کر لیتے ہیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰ كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾(الانفطار: 82؍10-12) ’’اور تم پر نگہبان مقرر ہیں باعزت اور تمھاری باتوں کو لکھنے والے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ہیں ۔‘‘ ارشاد فرماتا ہے ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيۡدٌ۰۰ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾(ق: 50؍17،18) ’’اس کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوتے ہیں وہ جب کوئی بات کہتا ہے تو ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔‘‘ یہ ان کی زندگی کے احوال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حفاظت ہے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے تم میں سے کسی کو موت تو قبضے میں لے لیتے ہیں اس کو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے‘‘ یعنی وہ فرشتے جو روح قبض کرنے پر مقرر ہیں ﴿ وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ کوتاہی نہیں کرتے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قضا و قدر سے جو مدت مقرر کر دی ہے وہ اس میں ایک گھڑی کا اضافہ کر سکتے ہیں نہ ایک گھڑی کی کمی، وہ صرف مکتوب الٰہی اور تقدیر ربانی کو نافذ کرتے ہیں ۔

[62]﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘ موت اور حیات برزخ کے بعد اور جو کچھ اس میں خیر و شر ہے ﴿ رُدُّوۡۤا اِلَى اللّٰهِ مَوۡلٰىهُمُ الۡحَقِّ ﴾ ’’پہنچائے جائیں گے وہ اللہ کی طرف جو ان کا سچا مالک ہے‘‘ یعنی وہ مولائے حق اپنے حکم قدری کے مطابق ان کا والی ہے اور ان کے اندر اپنی مختلف انواع کی تدابیر کو نافذ کرتا ہے، پھر وہ امرونہی اور حکم شرعی کے ذریعے سے ان کا والی ہے، اس نے ان کی طرف رسول بھیجے اور ان پر کتابیں نازل کیں پھر ان کو اسی کی طرف لوٹایا جائے گا وہ ان میں اپنا حکم جزائی نافذ کرے گا اور ان کو ان کے اچھے اعمال کا ثواب عطا کرے گا اور ان کی بدیوں اور برائیوں کی پاداش میں انھیں عذاب دے گا۔ ﴿ اَلَا لَهُ الۡحُكۡمُ ﴾ ’’سن رکھو! حکم اسی کا ہے‘‘ وہ اکیلا جس کا کوئی شریک نہیں ، فیصلے کا مالک ہے ﴿ وَهُوَ اَسۡرَعُ الۡحٰؔسِبِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے‘‘ کیونکہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس نے ان کے اعمال کو بھی محفوظ کیا ہوا ہے، پہلے اس نے ان کو لوح محفوظ میں ثبت کیا، پھر فرشتوں نے اپنی اس کتاب میں ثبت کیا جو ان کے ہاتھوں میں ہے۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے، وہ اپنے بندوں کو ان کے تمام احوال میں درخور اعتنا سمجھتا ہے، وہی حکم قدری، حکم شرعی اور حکم جزائی کا مالک ہے، پھر مشرکین کیوں کر اس ہستی سے روگردانی کر کے جو ان صفات کی مالک ہے ایسی ہستیوں کی بندگی اختیار کرتے ہیں جن کے اختیار میں کچھ بھی نہیں جو ذرہ بھر نفع کی مالک نہیں اور ان میں کوئی قدرت اور ارادہ نہیں ؟ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ کھلے عام کفر و شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت پر بہتان کی جرأت کرتے ہیں اور وہ ان کو معاف کر دیتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے اللہ کی قسم! اگر انھیں یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کتنا حلیم ہے اور اس کا عفو اور اس کی رحمت ان پر سایہ کناں ہے تو ان کے داعیے اس کی معرفت کی طرف خود بخود کھنچے چلے آئیں اور ان کی عقل اس کی محبت میں (دیگر ہر شے سے) غافل ہو جائے اور وہ خود اپنے آپ پر سخت ناراض ہوں کیونکہ انھوں نے شیطان کے داعی کی اطاعت کی جو رسوائی اور خسارے کا موجب ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو عقل سے عاری ہیں ۔

6:63–64Page 135

قُلۡ مَن يُنَجِّيكُم مِّن ظُلُمَٰتِ ٱلۡبَرِّ وَٱلۡبَحۡرِ تَدۡعُونَهُۥ تَضَرُّعٗا وَخُفۡيَةٗ لَّئِنۡ أَنجَىٰنَا مِنۡ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٣

Say, "Who rescues you from the darknesses of the land and sea [when] you call upon Him imploring [aloud] and privately, 'If He should save us from this [crisis], we will surely be among the thankful.'"

قُلِ ٱللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنۡهَا وَمِن كُلِّ كَرۡبٖ ثُمَّ أَنتُمۡ تُشۡرِكُونَ ٦٤

Say, "It is Allāh who saves you from it and from every distress; then you [still] associate others with Him."

کہہ دیجیے! کون نجات دیتا ہے تمھیں خشکی اور تری کے اندھیروں سے ؟ پکارتے ہو تم اسے عاجزی سے اور چپکے چپکے، (کہتے ہو) اگر وہ نجات دے دے ہمیں اس سے تو ضرور ہو جائیں گے ہم شکر گزاروں سے (63)کہہ دیجیے! اللہ ہی نجات دیتا ہے تمھیں اس سے اور ہر غم سے ، پھر تم شریک ٹھہراتے ہو (64)

[63]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ﴿ مَنۡ يُّؔنَؔجِّيۡكُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰؔتِ الۡـبَرِّ وَالۡبَحۡرِ ﴾ ’’کون تمھیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے‘‘ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمھیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لیے پکارتے رہے ہو۔ اور اپنی اس مصیبت کی حالت میں کہتے ہو ﴿ لَىِٕنۡ اَنۡجٰؔىنَا مِنۡ هٰؔذِهٖ ﴾ ’’اگر اس نے ہمیں بچا لیا اس سے‘‘ یعنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ) کے شکر گزار ہوں گے‘‘ یعنی اس کی نعمت کا اعتراف کریں گے اور اس نعمت کو اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں گے اور اس نعمت کو اس کی نافرمانی میں صرف کرنے سے بچیں گے۔

[64]﴿قُلِ اللّٰهُ يُنَجِّيۡكُمۡ مِّؔنۡهَا وَمِنۡ كُلِّ كَرۡبٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ ہی تمھیں اس (خاص مصیبت) اور دیگر تمام مصائب سے نجات دلاتا ہے‘‘ ﴿ ثُمَّ اَنۡتُمۡ تُشۡرِكُوۡنَ﴾ ’’پھر بھی تم شرک کرتے ہو‘‘ تم اللہ کے بارے میں جو کہتے ہو اسے پورا نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو فراموش کر دیتے ہو۔ پس شرک کے بطلان اور توحید کی صحت پر اس سے واضح اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟

6:65–67Page 135

قُلۡ هُوَ ٱلۡقَادِرُ عَلَىٰٓ أَن يَبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابٗا مِّن فَوۡقِكُمۡ أَوۡ مِن تَحۡتِ أَرۡجُلِكُمۡ أَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعٗا وَيُذِيقَ بَعۡضَكُم بَأۡسَ بَعۡضٍۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُونَ ٦٥

Say, "He is the [one] Able to send upon you affliction from above you or from beneath your feet or to confuse you [so you become] sects1 and make you taste the violence of one another." Look how We diversify the signs that they might understand.

وَكَذَّبَ بِهِۦ قَوۡمُكَ وَهُوَ ٱلۡحَقُّۚ قُل لَّسۡتُ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖ ٦٦

But your people have denied it while it is the truth. Say, "I am not over you a manager [i.e., authority]."

لِّكُلِّ نَبَإٖ مُّسۡتَقَرّٞۚ وَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٦٧

For every news [i.e., happening] is a finality;1 and you are going to know.

آپ کہہ دیجیے! وہی قادر ہے اوپر اس کے کہ وہ بھیجے تم پر تمھارے اوپر سے یا نیچے سے تمھارے پاؤں کے یا خلط ملط کردے تمھیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو( مزہ) لڑائی کا بعض سے ، دیکھیں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیات کو تاکہ وہ سمجھیں (65)اور جھٹلایا اس (قرآن) کو آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے، کہہ دیجیے! نہیں ہو ں میں تم پر نگہبان (66)ہر ایک خبر کا وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے (67)

[65] یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا: ﴿ مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے اوپر سے تمھارے پاؤں کے نیچے سے۔‘‘ ﴿ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَعًا ﴾ ’’یا تمھیں فرقہ فرقہ کردے۔‘‘ یعنی تمھیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے ﴿ وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ ﴾ ’’اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی‘‘ یعنی تمھیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لیے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھیں عذاب آ لے اور وہ تمھیں تلف کر کے تمھارا نام و نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ اس کی بے پایاں رحمت کا فیضان ہے کہ اس نے اس امت پر سے اوپر سے پتھر برسنے اور نیچے زمین میں دھنس جانے کے عذاب کو اٹھا لیا ہے۔ اس نے اس امت میں سے جس کسی کو بھی عذاب کا مزا چکھایا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ایک دوسرے کو ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھایا ہے۔ اور ان کو ان سزاؤں کے ساتھ ایک دوسرے پر مسلط کر دیا یہ ایک ایسی فوری سزا ہے جسے عبرت پکڑنے والے دیکھ سکتے ہیں اور عمل کرنے والے اسے سمجھ سکتے ہیں ۔ ﴿ اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو ہم آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ان آیات کو مختلف انواع میں لاتے ہیں اور انھیں بہت سے پہلوؤں سے ان کو بیان کرتے ہیں ۔ یہ تمام آیات حق پر دلالت کرتی ہیں ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ یہ لوگ سمجھیں ۔‘‘ یعنی شاید وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ انھیں کس چیز کی خاطر پیدا کیا گیا ہے۔ نیز حقائق شرعیہ اور مطالب الہٰیہ ان کی سمجھ میں آ جائیں ۔

[66]﴿وَ كَذَّبَ بِهٖ﴾ ’’اور اس کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی قرآن کو جھٹلایا ﴿قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَقُّ ﴾ ’’آپ کی قوم نے، حالانکہ وہ حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ﴿ قُلۡ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے! میں تم پر داروغہ نہیں ہوں ‘‘ کہ تمھارے اعمال کی نگرانی کروں اور اس پر تمھیں بدلہ دوں میں تو صرف پہنچانے والا اور ڈرانے والا ہوں ۔

[67]﴿ لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسۡتَقَرٌّ ﴾ ’’ہر خبر کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔‘‘ یعنی ہر خبر کے استقرار کا ایک وقت اور ایک زمانہ ہے جس سے وہ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ﴿ وَّسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔‘‘ یعنی جس عذاب کی تمھیں وعید سنائی گئی ہے تم اسے عنقریب جان لو گے۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском