Ар-РадДжуз 13 · Страница 253

Ар-Рад 13:29

Гром · Джуз 13 · Страница 253

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَـَٔابٖ ٢٩

Тем, которые уверовали и совершали праведные деяния, уготованы блаженство и прекрасное место возвращения.

Тафсир · на урду

Ас-Саади

Средний · Ясно и по существу: что взять для себя.

Вся сура

Изменить

Комментарий к аятам 13:27–29

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)

[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء: 4؍82) ’’اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔

[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح ، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ﴾ ’’ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں ، جنت کا ’’شجر طوبیٰ‘‘ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)

Эльмир Кулиев · Ас-Саади · Quranic Universal Library (Tarteel), через spa5k/tafsir_api · Quran Foundation

Страница 253

Ар-РадДжуз 13 · Страница 253

13:29

ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَـَٔابٖ ٢٩

Тем, которые уверовали и совершали праведные деяния, уготованы блаженство и прекрасное место возвращения.

13:30

كَذَٰلِكَ أَرۡسَلۡنَٰكَ فِيٓ أُمَّةٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهَآ أُمَمٞ لِّتَتۡلُوَاْ عَلَيۡهِمُ ٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَهُمۡ يَكۡفُرُونَ بِٱلرَّحۡمَٰنِۚ قُلۡ هُوَ رَبِّي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ مَتَابِ ٣٠

Так Мы отправили тебя к народу, до которого жили другие народы, чтобы ты прочел им то, что Мы внушили тебе в откровении, но они не уверовали в Милостивого. Скажи: «Он - мой Господь, и нет божества, кроме Него. Я уповаю только на Него, и к Нему я вернусь с покаянием».

13:31

وَلَوۡ أَنَّ قُرۡءَانٗا سُيِّرَتۡ بِهِ ٱلۡجِبَالُ أَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ ٱلۡأَرۡضُ أَوۡ كُلِّمَ بِهِ ٱلۡمَوۡتَىٰۗ بَل لِّلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ جَمِيعًاۗ أَفَلَمۡ يَاْيۡـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُواْ قَارِعَةٌ أَوۡ تَحُلُّ قَرِيبٗا مِّن دَارِهِمۡ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ وَعۡدُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ٣١

Если бы был Коран, благодаря которому сдвинулись бы горы, разверзлась бы земля или заговорили бы покойники, то им оказался бы этот Коран. Но любое решение остается только за Аллахом. Разве верующие еще не знают, что если бы Аллах захотел, то наставил бы всех людей на прямой путь? Бедствия не перестанут поражать неверующих за то, что они содеяли, или будут рядом с их жилищами до тех пор, пока не явится обещание Аллаха. Воистину, Аллах не нарушает Своего обещания.

13:32

وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَمۡلَيۡتُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ٣٢

До тебя посланники также подвергались осмеянию. Я предоставлял отсрочку неверующим, но потом хватал их. Каким же было Мое наказание!

13:33

أَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلۡ سَمُّوهُمۡۚ أَمۡ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَم بِظَٰهِرٖ مِّنَ ٱلۡقَوۡلِۗ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّواْ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ ٣٣

Разве Тот, Кто заботится за каждым человеком и тем, что он приобретает, подобен ложным божествам? Но они приобщают сотоварищей к Аллаху. Скажи: «Назовите их! Неужели вы поведаете Ему о существующем на земле такое, что Ему не известно, или же это - всего лишь пустые слова?». Неверующих обольстили их собственной хитростью и сбили с пути. А для того, кого Аллах вводит в заблуждение, нет наставника.

13:34

لَّهُمۡ عَذَابٞ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَقُّۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ ٣٤

Им уготованы мучения в мирской жизни, но мучения в Последней жизни будут еще более тяжкими, и никто не защитит их от Аллаха.

Ас-СаадиТафсир · 13:29

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Режим

Read in English