Ас-Саади · Тафсир · на урду
Ар-Рад 13:27–41
13:27–29Страница 252
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَنۡ أَنَابَ ٢٧
Неверующие говорят: «Почему ему не ниспослано знамение от его Господа?». Скажи: «Аллах вводит в заблуждение того, кого пожелает, и ведет прямым путем тех, кто обратился к Нему с покаянием».
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكۡرِ ٱللَّهِۗ أَلَا بِذِكۡرِ ٱللَّهِ تَطۡمَئِنُّ ٱلۡقُلُوبُ ٢٨
Они уверовали, и их сердца утешаются поминанием Аллаха. Разве не поминанием Аллаха утешаются сердца?
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ طُوبَىٰ لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَـَٔابٖ ٢٩
Тем, которые уверовали и совершали праведные деяния, уготованы блаженство и прекрасное место возвращения.
اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کیوں نہیں نازل کی گئی آپ پر کوئی (بڑی) نشانی آپ کے رب کی طرف سے؟ کہہ دیجیے، بے شک اللہ گمراہ کرتا ہے جسے چاہے اور وہ ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس شخص کو جو (اس کی طرف) رجوع کرے (27) وہ لوگ جو ایمان لائے اور مطمئن ہوتے ہیں دل ان کے ساتھ اللہ کے ذکر کے، آگاہ رہو! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی مطمئن ہوتے ہیں دل (28)وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک، راحت و فرحت ہے ان کے لیے اور اچھا ٹھکانا ہے (29)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ، اللہ کے رسول سے بطریق تلبیس بے سوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ﴾ ’’کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کے زعم کے مطابق، اگر ان کے پاس معجزہ آ گیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا ﴿ قُلۡ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ اَنَابَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ اسے آیات و معجزات پر موقوف قرار دیں ۔ بایں ہمہ وہ سخت جھوٹے ہیں ۔ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کر دیں ، ان کے ساتھ مردے ہم کلام ہوں اور ان کے سامنے ہر چیز اکٹھی کر دیں تب بھی یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر ایمان نہیں لائیں گے۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ جاہل ہیں ۔یہ لازم نہیں کہ رسول ان کے پاس وہی متعین معجزہ لے کر آئے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں بلکہ وہ جو نشانی لے کر آئے جس سے حق واضح ہو جائے تو کافی ہے اور اس سے مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور ان کے لیے ان کے متعین معجزات کے طلب کرنے سے زیادہ نفع مند ہے۔ کیونکہ اگر ان کے مطالبے کے مطابق نشانی آ جائے اور وہ اس پر ایمان لانے سے انکار کر دیں تو بہت جلد ان کو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ لے گا۔
[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَىِٕنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دلوں کا قلق اور اضطراب دور ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ فرحت اور لذت آ جاتی ہے۔ فرمایا ﴿اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَىِٕنُّ الۡقُلُوۡبُ﴾ ’’سنو! اللہ کے ذکر سے ہی دل چین پاتے ہیں ‘‘ دلوں کے لائق اور سزا وار بھی یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا کسی چیز سے مطمئن نہ ہوں کیونکہ دلوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے انس اور اس کی معرفت سے بڑھ کر کوئی چیز لذیذ اور شیریں نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت کی مقدار کے مطابق دل اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اس قول کے مطابق یہاں ذکر سے مراد بندے کا اپنے رب کا ذکر کرنا ہے ، مثلاً: تسبیح اور تکبیر و تہلیل وغیرہ۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی یاد دہانی کے لیے نازل فرمائی ہے۔ تب ذکر الٰہی کے ذریعے سے اطمینان قلب کے معنی یہ ہوں گے کہ دل جب قرآن کے معانی اور اس کے احکام کی معرفت حاصل کر لیتے ہیں تو اس پرمطمئن ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے معانی حق مبین پر دلالت کرتے ہیں اور دلائل و براہین سے ان کی تائید ہوتی ہے اور اس پر دل مطمئن ہوتے ہیں کیونکہ علم اور یقین کے بغیر دلوں کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا اور کتاب اللہ کامل ترین وجوہ کے ساتھ علم اور یقین کو متضمن ہے۔ کتاب اللہ کے سوا دیگر کتب علم و یقین کی طرف راجع نہیں ہوتیں اس لیے دل ان پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اس کے برعکس وہ، دلائل کے تعارض اور احکام کے تضاد کی بنا پر ہمیشہ قلق کا شکار رہتے ہیں ﴿ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا﴾(النساء: 4؍82) ’’اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔‘‘ اور یہ چیز کتاب اللہ کی دی ہوئی خبر، کتاب اللہ میں تدبیر اور دیگر مختلف علوم میں غوروفکر سے واضح ہوجاتی ہے پس (طالب حق) ان کتب علوم اور کتاب اللہ کے درمیان بہت بڑا فرق پائے گا۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔‘‘ یعنی جو اپنے دل سے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور یوم آخرت پر ایمان لائے، اعمال صالحہ یعنی اعمال قلوب ، مثلاً: محبت الٰہی، خشیت الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر امید وغیرہ اور اعمال جوارح ، مثلاً: نماز وغیرہ کے ذریعے سے اس ایمان کی تصدیق کرے۔ ﴿ طُوۡبٰى لَهُمۡ وَحُسۡنُ مَاٰبٍ ﴾ ’’ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی ان کا حال پاک صاف اور ان کا انجام اچھا ہے اور یہ اس بنا پر ہے کہ انھیں دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی طرف سے اکرام و تکریم حاصل ہے اور انھیں کامل راحت اور پورا اطمینان قلب عطا کیا گیا ہے۔ ان جملہ نعمتوں میں ، جنت کا ’’شجر طوبیٰ‘‘ بھی شامل ہے کہ ایک سوار اس درخت کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا مگر سایہ ختم ہونے کو نہیں آئے گا۔ جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہوا ہے۔(مسند أحمد، (3؍71)
13:30Страница 253
كَذَٰلِكَ أَرۡسَلۡنَٰكَ فِيٓ أُمَّةٖ قَدۡ خَلَتۡ مِن قَبۡلِهَآ أُمَمٞ لِّتَتۡلُوَاْ عَلَيۡهِمُ ٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَهُمۡ يَكۡفُرُونَ بِٱلرَّحۡمَٰنِۚ قُلۡ هُوَ رَبِّي لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ مَتَابِ ٣٠
Так Мы отправили тебя к народу, до которого жили другие народы, чтобы ты прочел им то, что Мы внушили тебе в откровении, но они не уверовали в Милостивого. Скажи: «Он - мой Господь, и нет божества, кроме Него. Я уповаю только на Него, и к Нему я вернусь с покаянием».
(جیسے پہلے رسول بھیجے تھے) اسی طرح بھیجا ہم نے آپ کو ایسی امت میں کہ گزر چکی ہیں پہلے اس سے کئی امتیں تاکہ آپ پڑھیں اوپر ان کے وہ (قرآن) جو وحی کیا ہم نے آپ کی طرف اور وہ کفر کرتے ہیں ساتھ رحمن کے، کہہ دیجیے وہ میرا رب ہے، نہیں کوئی معبود (برحق) مگر وہی، اسی پر بھروسہ کیا میں نے اور اسی کی طرف ہے لوٹنا میرا (30)
[30] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمدﷺ سے فرماتا ہے ﴿كَذٰلِكَ اَرۡسَلۡنٰكَ﴾ ’’اسی طرح ہم نے آپ کوبھیجا۔‘‘ یعنی ہم نے آپﷺ کو آپ کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں ﴿فِيۡۤ اُمَّةٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهَاۤ اُمَمٌ ﴾ ’’ایک امت میں کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزر چکی ہیں ‘‘ جن کے اندر ہم نے اپنے رسول بھیجے، لہٰذا آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں کہ وہ آپ کی رسالت کو اوپرا سمجھیں اور نہ آپ اپنی طرف سے کوئی بات کرتے ہیں ۔ بلکہ آپ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی ہیں جو دلوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ کرتی ہیں اور آپ کی قوم کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کا انکار کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت اور احسان سے نوازا اور سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ ہم نے آپ کو ان کی طرف مبعوث فرمایا اور ہم نے آپ پر کتاب نازل فرمائی مگر انھوں نے شکر گزاری کے ساتھ اس کو قبول کرنے کی بجائے اس کا انکار کر کے اسے ٹھکرا دیا۔ پس انھوں نے تکذیب کرنے والی ان قوموں سے عبرت حاصل نہ کی جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں ، کہ اللہ تعالیٰ نے کیسے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا۔ ﴿ قُلۡ هُوَ رَبِّيۡ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ﴾ ’’کہہ دیجیے! وہ میرا رب ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یہ آیت کریمہ دو قسم کی توحید کو متضمن ہے توحید الوہیت اور توحید ربوبیت۔ پس وہ میرا رب ہے اور جب سے وہ مجھے وجود میں لایا ہے اس وقت سے میری پرورش کر رہا ہے اور وہی میرا معبود ہے ﴿ عَلَيۡهِ تَوَؔكَّؔلۡتُ ﴾ ’’میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنے تمام امور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ﴿ وَاِلَيۡهِ مَتَابِ ﴾ ’’اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں اپنی تمام عبادات اور حاجات میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔
13:31Страница 253
وَلَوۡ أَنَّ قُرۡءَانٗا سُيِّرَتۡ بِهِ ٱلۡجِبَالُ أَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ ٱلۡأَرۡضُ أَوۡ كُلِّمَ بِهِ ٱلۡمَوۡتَىٰۗ بَل لِّلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ جَمِيعًاۗ أَفَلَمۡ يَاْيۡـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعٗاۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُواْ قَارِعَةٌ أَوۡ تَحُلُّ قَرِيبٗا مِّن دَارِهِمۡ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ وَعۡدُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ ٣١
Если бы был Коран, благодаря которому сдвинулись бы горы, разверзлась бы земля или заговорили бы покойники, то им оказался бы этот Коран. Но любое решение остается только за Аллахом. Разве верующие еще не знают, что если бы Аллах захотел, то наставил бы всех людей на прямой путь? Бедствия не перестанут поражать неверующих за то, что они содеяли, или будут рядом с их жилищами до тех пор, пока не явится обещание Аллаха. Воистину, Аллах не нарушает Своего обещания.
اوراگر بے شک ہوتا کوئی قرآن کہ چلائے جاتے اس کے ذریعے سے پہاڑ یا قطع کی جاتی اس کے ذریعے سے زمین یا بلوائے جاتے اس کے ذریعے سے مردے (تو وہ یہی قرآن ہوتا )بلکہ واسطے اللہ ہی کے ہے معاملہ (اختیار)سارا، کیا پس (ابھی تک) نہیں جانا ان لوگوں نے جو ایمان لائے کہ اگر چاہتا اللہ تو ، البتہ ہدایت دیتا لوگوں کو سب کواور ہمیشہ رہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا پہنچے گی انھیں بوجہ اس کے جو انھوں نے کیا، سخت آفت یا وہ اترے گی قریب ان کے گھروں کے یہاں تک کہ آجائے وعدہ اللہ کا، بے شک اللہ نہیں خلاف کرتا (اپنے )وعدے کے (31)
[31] اللہ تبارک و تعالیٰ تمام کتب منزلہ پر قرآن کریم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ قُرۡاٰنًا ﴾ ’’اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا۔‘‘ یعنی کتب الٰہیہ میں سے کوئی قرآن ایسا ہوتا ﴿ سُيِّرَتۡ بِهِ الۡجِبَالُ ﴾ ’’کہ اس کے ذریعے سے پہاڑوں کو (اپنی جگہ سے) ہلا دیا جاتا‘‘ ﴿ اَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’یا ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی اس سے زمین‘‘ اور اس کے ذریعے سے زمین پھٹ جاتی اور وہ باغات اور دریاؤں میں تبدیل ہو جاتی ﴿ اَوۡ كُلِّمَ بِهِ الۡمَوۡتٰى﴾ ’’اور اس کے ذریعے سے مردے بولنے لگتے‘‘ تو وہ یہی قرآن ہوتا ﴿ بَلۡ لِّلّٰهِ الۡاَمۡرُ جَمِيۡعًا ﴾’’بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ‘‘ اس لیے اللہ تعالیٰ صرف وہی معجزے دکھاتا ہے جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ تب ان جھٹلانے والوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی خواہش سے معجزات کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ پس کیا ان کو یا کسی اور کو آیات و معجزات پر کوئی اختیار ہے؟﴿ اَفَلَمۡ يَايۡــَٔسِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيۡعًا﴾ ’’کیا ایمان والوں کو اس بات پر اطمینان نہیں کہ اللہ چاہے تو سب لوگوں کو ہدایت سے نواز دے‘‘ پس انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو ہدایت دینے پر قادر ہے مگر اللہ تعالیٰ ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ ﴿ وَلَا يَزَالُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور کفار اپنے کفر پر جمے رہیں گے‘‘ یعنی وہ عبرت حاصل کریں گے نہ نصیحت حاصل کریں گے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے شہروں پر پے درپے ہلاکتیں اور عذاب نازل فرماتا ہے یا ان کے قریب علاقوں پر مصائب نازل ہوتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے کفر پر مصر ہیں ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ وَعۡدُ اللّٰهِ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے۔‘‘ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے فوری نزول عذاب کے وعدے کا وقت آ جائے جس کو روکنا ممکن نہیں ۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ ﴾ ’’بے شک اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نزول عذاب کے بارے میں تہدید و تخویف ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر، عناد اور ظلم کی بنا پر وعدہ کر رکھا ہے۔
13:32Страница 253
وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَمۡلَيۡتُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ٣٢
До тебя посланники также подвергались осмеянию. Я предоставлял отсрочку неверующим, но потом хватал их. Каким же было Мое наказание!
اور البتہ تحقیق استہزاء کیا گیا ساتھ رسولوں کے آپ سے پہلے تو مہلت دی میں نے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، پھر پکڑا میں نے ان کو، پس کیسا (شدید) تھا عذاب میرا؟ (32)
[32] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو ثبات کی تلقین کرتے اور تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور ٹھٹھا کیا گیا آپ سے پہلے کتنے رسولوں کے ساتھ‘‘ یعنی آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی تکذیب کی گئی اور جسے ایذا پہنچائی گئی ہو۔ ﴿ فَاَمۡلَيۡتُ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’پس میں نے کافروں کو ڈھیل دی‘‘ یعنی جنھوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا، میں نے ایک مدت تک ان کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا ہو گئے کہ ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا ﴿ ثُمَّ اَخَذۡتُهُمۡ﴾ ’’پھر میں نے ان کو (مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے) پکڑ لیا‘‘ ﴿ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ ﴾ ’’پس کیسا تھا میرا عقاب‘‘ اللہ تعالیٰ کی سزا بڑی سخت اور اس کا عذاب بڑا درد ناک ہے۔ وہ لوگ جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں ، ہماری دی ہوئی مہلت سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں ، ان کے سامنے ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا نمونہ موجود ہے۔ لہذا انھیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی سلوک نہ کیا جائے جو گزشتہ نافرمان قوموں کے ساتھ کیا گیا۔
13:33–34Страница 253
أَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلۡ سَمُّوهُمۡۚ أَمۡ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَم بِظَٰهِرٖ مِّنَ ٱلۡقَوۡلِۗ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّواْ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ ٣٣
Разве Тот, Кто заботится за каждым человеком и тем, что он приобретает, подобен ложным божествам? Но они приобщают сотоварищей к Аллаху. Скажи: «Назовите их! Неужели вы поведаете Ему о существующем на земле такое, что Ему не известно, или же это - всего лишь пустые слова?». Неверующих обольстили их собственной хитростью и сбили с пути. А для того, кого Аллах вводит в заблуждение, нет наставника.
لَّهُمۡ عَذَابٞ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَقُّۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٖ ٣٤
Им уготованы мучения в мирской жизни, но мучения в Последней жизни будут еще более тяжкими, и никто не защитит их от Аллаха.
کیا پس وہ ذات جو نگہبان ہے ہر نفس پر، ساتھ اس کے جو اس نے کمایا (مانند اس کے ہے جو ایسا نہیں ؟) اور بنائے انھوں نے اللہ کے لیے شریک، کہہ دیجیے، تم نام تو لو ان کےبلکہ تم خبر دیتے ہو اللہ کو ان چیزوں کی کہ نہیں جانتا وہ (انھیں ) زمین میں ؟بلکہ (تم شریک قرار دیتے ہو ان کو) ظن باطل سےبلکہ مزین کر دیا گیا واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے کفر کیا، مکران کااور وہ روکے گئے راہ حق سےاور جسے گمراہ کرے اللہ تو نہیں ہے واسطے اس کے کوئی بھی ہدایت دینے والا (33) ان کے لیے عذاب ہے زندگانی دنیا میں اور البتہ عذاب آخرت کا سخت ترین ہے اور نہیں ہے واسطے ان کے اللہ (کے عذاب) سے (کوئی بھی) بچانے والا (34)
[33]﴿ اَفَمَنۡ هُوَ قَآىِٕمٌ عَلٰى كُلِّ نَفۡسٍۭؔ بِمَا كَسَبَتۡ﴾ ’’تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کانگران ہے۔‘‘ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے… اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ… اس ہستی کی مانند ہو سکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَجَعَلُوۡا لِلّٰهِ شُرَؔكَآءَ﴾ ’’اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرا لیے‘‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بے نیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نظیر۔ ﴿ قُلۡ ﴾ اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجیے ﴿ سَمُّوۡهُمۡ﴾ ’’ان کے نام لو‘‘ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو ﴿ اَمۡ تُنَبِّـُٔوۡنَهٗ۠ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں ‘‘ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور حاضر ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے علم میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس کی شریک ہو تو ان کے اس دعویٰ کا بطلان واضح ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہے اور تم اس شخص کی مانند ہو جو اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس کا کوئی شریک ہے اور اللہ تعالیٰ کو اس کا علم نہیں ہے اور یہ باطل ترین قول ہے اس لیے فرمایا: ﴿ اَمۡ بِظَاهِرٍ مِّنَ الۡقَوۡلِ﴾’’یا کرتے ہو اوپر ہی اوپر باتیں ‘‘ تمھارے دعویٰ، کہ اللہ تعالیٰ کا شریک ہے، کی انتہا یہ ہے کہ یہ تمھاری خالی خولی باتیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور تمام کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو کچھ بھی عبادت کی مستحق ہو۔﴿ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مَكۡرُهُمۡ ﴾ ’’بلکہ خوب صورت کر دیے گئے ہیں کافروں کے لیے ان کے فریب‘‘ وہ چال جو انھوں نے چلی، یعنی ان کا کفر، شرک اور آیات الٰہی کو جھٹلانا ﴿ وَصُدُّوۡا عَنِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور وہ (ہدایت کے) راستے سے روک لیے گئے ہیں ۔‘‘ یعنی انھیں صراط مستقیم سے روک دیا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے ﴿ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍ ﴾ ’’اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ‘‘ کیونکہ کسی کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔
[34]﴿ لَهُمۡ عَذَابٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَشَقُّ﴾ ’’ان کے لیے عذاب ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے‘‘ یعنی آخرت کا عذاب اپنی شدت اور دوام کی بنا پر دنیا کے عذاب سے زیادہ سخت ہے۔ ﴿ وَمَا لَهُمۡ مِّنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّاقٍ ﴾ ’’اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں ‘‘ جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جب اس کے عذاب کا رخ ان کی طرف پھیر دیا جائے گا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
13:35Страница 254
۞ مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ أُكُلُهَا دَآئِمٞ وَظِلُّهَاۚ تِلۡكَ عُقۡبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْۚ وَّعُقۡبَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ ٣٥
Вот описание Рая, обещанного богобоязненным. Там текут реки, не иссякают яства, и не исчезает тень. Таков конец богобоязненных, а концом неверующих будет Огонь.
صفت اس جنت کی جس کا وعدہ دیے گئے ہیں متقی لوگ (یہ ہے کہ) بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اس کا سایہ بھی، یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا اور انجام کافروں کا آگ ہے (35)
[35] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ مَثَلُ الۡجَنَّةِ الَّتِيۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ﴾ ’’جنت کا حال، جس کا وعدہ پرہیز گاروں سے ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے نواہی کو ترک کر دیا اور اس کے اوامر کی تعمیل میں کوتاہی نہیں کی، ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔ اس جنت کا وصف اور اس کی حقیقت یہ ہے ﴿ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾ ’’بہتی ہیں اس کے نیچے نہریں ‘‘ یعنی شہد، شراب، دودھ اور پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جن میں گڑھے نہ ہوں گے۔ یہ نہریں جنت کے باغات اور درختوں کو سیراب کریں گی، یہ باغات اور درخت ہر قسم کے پھل اٹھائیں گے۔ ﴿ اُكُلُهَا دَآىِٕمٌ وَّظِلُّهَا﴾ ’’ان کے پھل ہمیشہ رہنے والے ہیں اور ان کا سایہ بھی لازوال ہے‘‘ ﴿ تِلۡكَ عُقۡبَى الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا ﴾ ’’یہ انجام ہے ان لوگوں کا جو ڈرتے رہے‘‘ یعنی ان کا انجام اور ان کی عاقبت جس کی طرف یہ رواں دواں ہیں ﴿ وَّعُقۡبَى الۡكٰفِرِيۡنَ النَّارُ ﴾ ’’اور کافروں کا انجام جہنم ہے۔‘‘ پس دیکھ لو! دونوں فریقوں کے درمیان کتنا واضح فرق ہے۔
13:36Страница 254
وَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَفۡرَحُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيۡكَۖ وَمِنَ ٱلۡأَحۡزَابِ مَن يُنكِرُ بَعۡضَهُۥۚ قُلۡ إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ وَلَآ أُشۡرِكَ بِهِۦٓۚ إِلَيۡهِ أَدۡعُواْ وَإِلَيۡهِ مَـَٔابِ ٣٦
Те, кому Мы даровали Писание, радуются тому, что ниспослано тебе. Но среди союзников (иудеев и язычников) есть такие, которые отрицают часть этого. Скажи: «Мне велено лишь поклоняться Аллаху и не приобщать к Нему сотоварищей. К Нему я призываю, и к Нему предстоит возвращение».
اور وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، وہ خوش ہوتے ہیں ساتھ اس (قرآن) کے جو اتارا گیا ہے آپ کی طرف اور کچھ گروہ وہ ہیں جو انکار کرتے ہیں اس کے بعض (احکام) کا، کہہ دیجیے مجھے تو حکم دیا گیا ہے اس کا کہ میں عبادت کروں صرف اللہ ہی کی اور نہ شریک ٹھہراؤں ساتھ اس کے (کسی کو بھی) اسی کی طرف بلاتا ہوں میں اور اسی کی طرف واپسی ہے میری (36)
[36]﴿وَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ﴾ ’’اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب‘‘ یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا ﴿ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ ﴾ ’’وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر‘‘ پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الٰہیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ ﴿ وَمِنَ الۡاَحۡزَابِ مَنۡ يُّنۡؔكِرُ بَعۡضَهٗ﴾ ’’اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں ‘‘ یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ ﴿مَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ١ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا﴾(بنی اسرائیل: 17؍15) ’’جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے تو اس کی راست روی اس کے اپنے لیے فائدہ مند ہے۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے۔‘‘اے محمد! (ﷺ)آپ تو صرف ڈرانے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں ۔﴿ قُلۡ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰهَ وَلَاۤ اُشۡرِكَ بِهٖ﴾ ’’کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں ‘‘ یعنی مجھے صرف اللہ وحدہ کے لیے دین کو خالص کرنے کا حکم دیا گیا ہے ﴿ اِلَيۡهِ اَدۡعُوۡا وَاِلَيۡهِ مَاٰبِ ﴾ ’’اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے‘‘ یعنی وہی میرا مرجع ہے جس کی طرف میں لوٹوں گا وہ مجھے اس بات کی جزا دے گا کہ میں نے اس کے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور مجھے جو حکم دیا گیا میں نے اس کی تعمیل کی۔
13:37Страница 254
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيّٗاۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَكَ مِنَ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا وَاقٖ ٣٧
Таким образом Мы ниспослали Коран законом на арабском языке. Если ты станешь потакать их желаниям после того, как к тебе явилось знание, то никто вместо Аллаха не станет твоим покровителем и защитником.
اور اسی طرح نازل کیا ہم نے اس (قرآن) کو حکم عربی زبان میں اور البتہ اگر پیروی کی آپ نے ان کی خواہشوں کی بعد اس کے کہ آیا آپ کے پاس علم تو نہیں ہو گا واسطے آپ کے اللہ (کے عذاب) سے کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا (37)
[37] یعنی ہم نے اس قرآن اور اس کتاب کو فرمان عربی بنا کر نازل کیا ہے یعنی واضح ترین اور فصیح ترین زبان کے ذریعے سے اسے محکم اور پختہ بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اس میں کوئی شک و شبہ واقع نہ ہو تاکہ یہ اس امر کا موجب ہو کہ صرف اسی کی اتباع کی جائے، اس میں مداہنت نہ کی جائے اور بے علم لوگوں کی خواہشات نفس میں سے اس کے متضاد اور متناقض امور کی پیروی نہ کی جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو… درآں حالیکہ آپ معصوم ہیں … وعید سنائی تاکہ آپ کو آپ کی عصمت یاد دلائے اور تاکہ تمام احکام میں آپ امت کے لیے نمونہ بنیں ۔ فرمایا:﴿ وَلَىِٕنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَؔآءَؔهُمۡ بَعۡدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِ﴾ ’’اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کے پاس پہنچا‘‘ واضح علم، جو آپ کو ان کی خواہشات نفس کی پیروی سے روکتا ہے ﴿ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِيٍّ ﴾ ’’تو نہیں ہو گا آپ کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی‘‘ جو آپ کی سرپرستی کرے اور آپ کو آپ کا امر محبوب عطا کرے ﴿وَّلَا وَاقٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی بچانے والا‘‘ جو آپ کو امر مکروہ سے بچا سکے۔
13:38–39Страница 254
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا رُسُلٗا مِّن قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَذُرِّيَّةٗۚ وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأۡتِيَ بِـَٔايَةٍ إِلَّا بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ لِكُلِّ أَجَلٖ كِتَابٞ ٣٨
Мы посылали до тебя посланников и даровали им супруг и потомство. Ни один посланник не мог явить знамение без соизволения Аллаха. Для каждого срока есть предписание.
يَمۡحُواْ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ وَيُثۡبِتُۖ وَعِندَهُۥٓ أُمُّ ٱلۡكِتَٰبِ ٣٩
Аллах стирает и утверждает то, что пожелает, и у Него - Мать Писания.
اور البتہ تحقیق بھیجے ہم نے کئی رسول آپ سے پہلےاور کیں ہم نے واسطے ان کے بیویاں اور اولاداور نہیں ہے (اختیار) واسطے کسی رسول کے یہ کہ وہ لے آئے کوئی نشانی (معجزہ) مگر ساتھ اللہ کے حکم کے، ہر مقررہ وعدے کے لیے لکھا ہوا (وقت) ہے (38) مٹاتا ہے اللہ جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے (جو چاہے)اور اسی کے پاس ہے اصل کتاب(39)
[38] یعنی آپﷺ پہلے رسول نہیں ہیں جن کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آپ کی رسالت کو کوئی انوکھی چیز سمجھیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا رُسُلًا مِّنۡ قَبۡلِكَ وَجَعَلۡنَا لَهُمۡ اَزۡوَاجًا وَّذُرِّيَّةً﴾’’اور آپ سے پہلے ہم نے کئی رسول بھیجے اور دیں ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد‘‘ اس لیے آپﷺ کے دشمن اس وجہ سے آپ کی عیب چینی نہ کریں کہ آپ کے بیوی بچے ہیں ۔ آپ کے بھائی دیگر انبیاء و مرسلین کے بھی بیوی بچے تھے۔ تب وہ آپ میں کس بات پر جرح و قدح کرتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ سے قبل انبیاء و رسل بھی اسی طرح تھے۔ ان کی یہ عیب چینی اپنی اغراض فاسدہ اور خواہشات نفس کی خاطر ہے… اگر وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں تو اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں ۔ آپ کو کسی چیز کا بھی اختیار نہیں ۔﴿ وَمَا كَانَ لِرَسُوۡلٍ اَنۡ يَّاۡتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِـاِذۡنِ اللّٰهِ﴾ ’’اور کسی رسول سے یہ نہیں ہوا کہ وہ لے آئے کوئی نشانی مگر اللہ کے حکم سے‘‘ اور اللہ تعالیٰ معجزے دکھانے کی تب اجازت دیتا ہے جب اس کی قضا و قدر کے مطابق مقرر کیا ہوا وقت آ جاتا ہے۔ ﴿ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ ﴾ ’’ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے‘‘ اور یہ مقرر کیا ہوا وقت آگے بڑھ سکتا ہے نہ پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ لہذا ان کا آیات و معجزات اور عذاب کے مطالبے میں جلدی مچانا اس بات کا موجب نہیں ہو سکتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقررکردہ وقت کو آگے کر دے جس کو اس نے اپنی تقدیر میں موخر کر رکھا ہے۔ بایں ہمہ کہ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔
[39]﴿ يَمۡحُوا اللّٰهُ مَا يَشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے۔‘‘ یعنی وہ اپنی مقرر کردہ تقدیر میں سے جو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے ﴿وَيُثۡبِتُ﴾ ’’اور قائم رکھتا ہے۔‘‘ یعنی اس تقدیر میں سے جو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور یہ تغیر اور محو کرنا ان امور کے علاوہ ہے جن کو اس کا قلم تقدیر لکھ چکا ہے۔ پس ان امور میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ محال ہے کہ اس کے علم میں کوئی نقص یا خلل ہو۔ اس لیے فرمایا ﴿وَعِنۡدَهٗۤ اُمُّ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔‘‘ یعنی اس کے پاس لوح محفوظ ہے۔ جس کی طرف تمام اشیاء لوٹتی ہیں یہ اصل ہے اور باقی تمام اشیاء اس کی فروع ہیں ۔ پس تغیر و تبدل فروع میں واقع ہوتا ہے ، مثلاً: روز و شب کے اعمال جن کو فرشتے لکھ لیتے ہیں اور ان اعمال کو قائم رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ اسباب فراہم کرتا ہے اور ان کو محو کرنے کے لیے بھی اسباب مہیا کرتا ہے اور یہ اسباب اس نوشۂ تقدیر سے تجاوز نہیں کرتے جو لوح محفوظ میں مرقوم ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے نیکی، صلہ رحمی اور احسان کو لمبی عمر اور کشائش رزق کے لیے اسباب بنایا ہے، جیسے گناہوں کو رزق اور عمر میں بے برکتی کا سبب بنایا ہے۔ اور جیسے ہلاکت سے نجات کے اسباب کو سلامتی کا سبب بنایا اور جیسے ہلاکت کے مواقع میں پڑنے کو ہلاکت کا سبب بنایا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور ارادے کے مطابق تمام امور کی تدبیر کرتا ہے، اس کی تدبیر اس کے مخالف نہیں ہوتی جسے اس نے اپنے علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔
13:40–41Страница 254
وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعۡضَ ٱلَّذِي نَعِدُهُمۡ أَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيۡكَ ٱلۡبَلَٰغُ وَعَلَيۡنَا ٱلۡحِسَابُ ٤٠
Покажем Мы тебе часть того, что Мы обещаем им, или умертвим тебя, на тебя возложена только передача откровения, а Нам надлежит предъявлять счет.
أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا نَأۡتِي ٱلۡأَرۡضَ نَنقُصُهَا مِنۡ أَطۡرَافِهَاۚ وَٱللَّهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهِۦۚ وَهُوَ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٤١
Разве они (неверующие) не видят, как Мы постепенно уменьшаем землю по краям (отдаем ее во владение верующим)? Аллах принимает решения, и никто не отменит Его решения. Он скор в расчете.
اور اگر ہم دکھائیں آپ کو بعض وہ (عذاب) جس کا ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے یا ہم وفات دے دیں آپ کو، پس آپ پر توصرف پہنچانا ہی ہےاور ہم پر ہے حساب (لینا)(40)کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک ہم چلے آتے ہیں (ان کی) زمین کو، کم کرتے ہوئے اسے اس کے اطراف سےاور اللہ حکم کرتا ہے، نہیں ہے کوئی رد کرنے والا اس کے حکم کواور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے (41)
[40] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں ۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ مَّا نُرِيَنَّكَ ﴾ ’’اگر دکھلا دیں ہم آپ کو‘‘ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھا دیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمد و ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کر سکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ ﴿ اَوۡ نَتَوَفَّيَنَّكَ۠ ﴾ ’’یا آپ کو اٹھا لیں ‘‘ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں مشغول نہ ہوں ۔ ﴿ فَاِنَّمَا عَلَيۡكَ الۡبَلٰغُ ﴾ ’’آپ کے ذمہ تو پہنچا دینا ہے۔‘‘ اور مخلوق کے سامنے بیان کر دینا ہے ﴿ وَعَلَيۡنَا الۡحِسَابُ ﴾ ’’اور حساب لینا ہمارے ذمے ہے‘‘ ہم مخلوق سے ان کی ذمہ داریوں کا حساب لیں گے کہ انھوں نے ان کو پورا کیا ہے یا ضائع کیا ہے، پھر ہم انھیں ثواب سے نوازیں گے یا عذاب میں مبتلا کریں گے۔
[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِي الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا﴾ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں ‘‘ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے… اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں ۔اس کے ظاہر معنی یہ ہیں...واللہ تعالیٰ اعلم… کہ اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کی اراضی کی حالت یہ بنا دی کہ وہ فتح ہو رہی ہیں اور چھینی جا رہی ہیں ، ان پر چاروں طرف سے مصائب ٹوٹ رہے ہیں ، ان کی جان و مال میں کمی سے پہلے یہ ان کے لیے تنبیہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان پر ایسے عذاب نازل کر رہا ہے جسے کوئی رد کرنے پر قادر نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ﴾ ’’اور اللہ، فیصلہ کرتا ہے، اس کے فیصلے کو کوئی پیچھے ڈالنے والا نہیں ‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ کا حکم شرعی، حکم کونی و قدری اور حکم جزائی داخل ہے۔ یہ تمام احکام، جن کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے، حکمت اور پختگی کے بلند ترین درجے پر پائے جاتے ہیں جن میں کوئی نقص اور کوئی خلل نہیں ۔ بلکہ یہ تمام احکام عدل و انصاف اور اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا پر مبنی ہیں کوئی ان فیصلوں میں خامی اور نقص تلاش نہیں کر سکتا اور نہ ان میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ اس کے برعکس دیگر ہستیوں کے فیصلے کبھی حق و صواب کے موافق ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے۔ ﴿وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور وہ جلد حساب لینے والا ہے‘‘ یعنی وہ عذاب کے مطالبے میں جلدی نہ مچائیں کیونکہ ہر وہ چیز جسے آنا ہے وہ قریب ہوتی ہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии