Ас-Саади · Тафсир · на урду
فصلت
Фуссилят
Разъяснены · Мекканская · 54 аята
41:1–8Страница 477
حمٓ ١
Ха. Мим.
تَنزِيلٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٢
Ниспосланное от Милостивого, Милосердного
كِتَٰبٞ فُصِّلَتۡ ءَايَٰتُهُۥ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ ٣
является Писанием, аяты которого разъяснены в виде Корана на арабском языке для людей знающих.
بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا فَأَعۡرَضَ أَكۡثَرُهُمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُونَ ٤
Оно возвещает благую весть и предостерегает, однако большинство их отворачивается и не слышит.
وَقَالُواْ قُلُوبُنَا فِيٓ أَكِنَّةٖ مِّمَّا تَدۡعُونَآ إِلَيۡهِ وَفِيٓ ءَاذَانِنَا وَقۡرٞ وَمِنۢ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٞ فَٱعۡمَلۡ إِنَّنَا عَٰمِلُونَ ٥
Они говорят: «Наши сердца закрыты для того, к чему ты призываешь нас, наши уши поражены глухотой, а между нами и тобой - завеса. Трудись же, и мы будем трудиться».
قُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ بَشَرٞ مِّثۡلُكُمۡ يُوحَىٰٓ إِلَيَّ أَنَّمَآ إِلَٰهُكُمۡ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ فَٱسۡتَقِيمُوٓاْ إِلَيۡهِ وَٱسۡتَغۡفِرُوهُۗ وَوَيۡلٞ لِّلۡمُشۡرِكِينَ ٦
Скажи: «Я - такой же человек, как и вы. Мне внушено в откровении, что ваш бог - Бог Единственный. Идите к Нему прямым путем и просите у Него прощения. И горе многобожникам,
ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ٧
которые не выплачивают закята и не веруют в Последнюю жизнь».
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمۡ أَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُونٖ ٨
Воистину, тем, которые уверовали и совершали праведные деяния, уготована неиссякаемая награда.
حٰمٓ(1)(یہ قرآن )نا زل کیا ہوا ہے رحمٰن رحیم کی طرف سے(2) ایک ایسی کتاب ہے کہ کھول کر بیان کی گئی ہیں آیتیں اس کی درآں حا لیکہ قرآن ہے عربی، اس قوم کے لیے جو علم رکھتی ہے(3) خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا، پس منہ موڑلیا اکثر نے ان میں سے پس وہ نہیں سنتے(4) اور انھوں نے کہا، ہمارے دل پردوں میں ہیں اس بات سے کہ بلاتا ہے تو ہمیں اس کی طرف اور ہمارے کانوں میں ڈاٹ (کارک) ہے اور ہمارے درمیان اور تیرے درمیان ایک پردہ ہے، پس تو (اپنا) کام کر، بلاشبہ ہم (اپنا) کام کرنے والے ہیں(5)کہہ دیجیے:بے شک میں تو ایک بشر ہوں تمھاری مثل، وحی کی جاتی ہے میری طرف یہ کہ معبود تمھارا معبود ہے ایک ہی، پس یکسوئی سے متوجہ رہو اس کی طرف اور بخشش مانگو اس سے اور ہلاکت ہے مشرکین کے لیے(6) وہ لوگ جو نہیں دیتے زکاۃ اور وہ آخرت کا بھی، وہ انکار کرنے والے ہیں(7) بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک ان کے لیے اجر ہے غیر منقطع(8)
[2] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب جلیل اور قرآن جمیل ﴿تَنۡزِيۡلٌ ﴾ اتارا گیا ہے‘‘ یعنی صادر ہواہے ﴿مِّنَ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴾ ’’رحمان و رحیم کی طرف سے‘‘ جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے، جس کی سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر نعمت یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب نازل کی جس سے علم و ہدایت، نوروشفا، رحمت اور خیر کثیر حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ دنیا و آخرت میں سعادت کی راہ ہے۔
[3] پھر اللہ نے اس کتاب جلیل کی پوری طرح مدح و ثنا بیان کی ، چنانچہ فرمایا:﴿فُصِّلَتۡ اٰيٰتُهٗ﴾ ’’جس کی آیتیں کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں۔‘‘ ہر چیز کی تمام انواع کو علیحدہ علیحدہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور یہ چیز بیانِ کامل، ہر چیز کے درمیان تفریق اور حقائق کے مابین امتیاز کو مستلزم ہے۔ ﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ یعنی فصیح عربی میں، جو کامل ترین زبان ہے جس کی آیات کو تفصیل سے بیان گیا ہے اور اس کتاب کو قرآن عربی بنایا گیا ہے۔ ﴿لِّقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’علم رکھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی (یہ قرآن) اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ علم رکھنے والے لوگوں پر جس طرح اس کے الفاظ واضح ہیں، اس کے معانی بھی واضح ہوں، اور ان کے سامنے ہدایت اور گمراہی نمایاں ہو کر ایک دوسرے سے ممیز ہو جائیں۔ اور رہے جہلاء جن کو ہدایت گمراہی میں اور بیا ن اور اندھے پن میں اضافہ کرتا ہے، تو ان لوگوں کے لیے یہ کلام نہیں لایا گیا۔ ﴿سَوَؔآءٌؔ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ۠ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَؔ﴾(البقرۃ: 2؍6) ’’ان کے لیے برابر ہے خواہ آپ ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘
[4]﴿بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا ﴾ یعنی دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری سنانے والا اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے والا، پھر تبشیر و انذار کی تفصیل کا ذکر کیا اور ان اسباب و اوصاف کا ذکر کیا جن کے ذریعے سے تبشیر و انذار حاصل ہوتے ہیں۔ یہ اس کتاب کے وہ اوصاف ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ اسے قبول کیا جائے، اس کے سامنے سراطاعت خم کیا جائے، اس پر ایمان لایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگوں نے اس طرح روگردانی کی ہے جس طرح متکبرین کا وتیرہ ہے۔ ﴿فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ اور وہ اسے قبول کرنے کے ارادے سے نہیں سنتے اگرچہ وہ اسے اس طرح ضرور سنتے ہیں جس سے ان پر شرعی حجت قائم ہو جائے۔
[5]﴿وَقَالُوۡا ﴾ یعنی اس کتاب کریم سے روگردانی کرنے والے، اس سے اپنے عدم انتفاع اور اس تک پہنچانے والے دروازوں کے بند ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:﴿قُلُوۡبُنَا فِيۡۤ اَكِنَّةٍ ﴾ ’’ہمارے دل پردوں میں ہیں۔‘‘ یعنی پردوں میں ڈھانپے ہوئے ہیں۔ ﴿مِّؔمَّا تَدۡعُوۡنَاۤ اِلَيۡهِ وَفِيۡۤ اٰذَانِنَا وَقۡرٌ ﴾ ’’اس چیز سے جس چیز کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو اور اس سے ہمارے کانوں میں بوجھ ہے۔‘‘ یعنی ہمارے کانوں میں گرانی ہے پس ہم سن نہیں سکتے۔ ﴿وَّمِنۢۡ بَيۡنِنَا وَبَيۡنِكَ حِجَابٌ ﴾ ’’اور ہمارے اور تمھارے درمیان پردہ ہے۔‘‘ اس لیے ہم تجھے دیکھ نہیں سکتے۔ ان کا مقصد صرف ہر لحاظ سے اس کتاب عظیم سے اعراض کا اظہار تھا، انھوں نے اس کتاب سے اپنے بغض اور اپنے باطل موقف پر پسندیدگی کا اظہار کیا، اس لیے انھوں نے کہا:﴿فَاعۡمَلۡ اِنَّنَا عٰمِلُوۡنَ ﴾ ’’پس تو اپنا کام کیے جا، ہم اپناکام کرنے والے ہیں۔‘‘ یعنی جیسے اپنے دین پر عمل کرنا تم پسند کرتے ہو ویسے ہی ہم بھی اپنے دین پر پوری پسندیدگی کے ساتھ عمل پیراہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سب سے بڑی محرومی ہے کہ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی پر راضی ہو گئے، ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کیا اور دنیا کے بدلے آخرت کو بیچ دیا۔
[6، 7]﴿قُلۡ ﴾ اے نبی! ان سے کہہ دیجیے: ﴿اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّؔثۡلُكُمۡ يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو تمھارے جیسا ہی ایک انسان ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے۔‘‘ یعنی میرا وصف اور میرا وظیفہ یہ ہے کہ میں تمھارے جیسا بشر ہوں، میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں اور نہ میرے اختیار میں وہ عذاب ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس وحی کے ذریعے سے مجھے تم پر فضیلت عطا کی، اس کے ذریعے سے مجھے تم سے ممتاز کیا اور اس کے لیے مجھے مختص کیا، جو وحی اس نے میری طرف بھیجی، مجھے اس کی اتباع اور تمھیں اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا۔ ﴿فَاسۡتَقِيۡمُوۡۤا اِلَيۡهِ ﴾ ’’ لہٰذا سیدھے اس طرف متوجہ رہو‘‘ یعنی میں جن امور کے بارے میں تمھیں خبر دے رہا ہوں اس کی تصدیق، اوامر کی اتباع اور نواہی سے اجتناب کر کے، اس راستے پر گامزن ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے ۔ یہ حقیقت استقامت ہے۔ اور پھر اس پر قائم رہو۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد:﴿اِلَيۡهِ ﴾ میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی عمل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچنا قرار دے، اس طرح اس کا عمل خالص، صالح اور نفع مند ہو گا اور اخلاص کی عدم موجودگی سے اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور چونکہ بندہ، خواہ وہ استقامت کا کتنا ہی حریص کیوں نہ ہوں، مامورات میں تقصیر، منہیات کے ارتکاب کی بنا پر خلل کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو استغفار کی دوا کے استعمال کا حکم دیا ہے، جو توبہ کو متضمن ہے، پس فرمایا:﴿وَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ﴾ ’’اور اس سے مغفرت طلب کرو۔‘‘ پھر ترک استقامت پر اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی، چنانچہ فرمایا:﴿وَوَيۡلٌ لِّلۡمُشۡرِكِيۡنَۙ۰۰ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾’’مشرکین کے لیے ہلاکت ہے۔ جو زکاۃ نہیں دیتے۔‘‘ یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر ان ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں جو کسی کو نفع و نقصان دینے کا اختیار رکھتی ہیں نہ موت و حیات کا اور نہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا۔ انھوں نے اپنے آپ کو گندگی میں دھنسا لیا ہے اور اپنے رب کی توحید اور اخلاص کے ذریعے سے اپنے آپ کو پاک نہیں کرتے، وہ نماز پڑھتے ہیں نہ زکاۃ دیتے ہیں اور وہ توحید اور نماز کے ذریعے سے اپنے رب کے لیے اخلاص رکھتے ہیں نہ زکاۃ کے ذریعے سے مخلوق کو نفع پہنچاتے ہیں۔ ﴿وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں۔‘‘ یعنی وہ حیات بعدالموت پر ایمان رکھتے ہیں نہ جنت اور جہنم پر، اس لیے ان کے دلوں سے خوف زائل نہیں ہو گا۔ انھوں نے ایسے ایسے کام کیے ہیں جو آخرت میں انھیں سخت نقصان دیں گے۔
[8] اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کا ذکر کرنے کے بعد اہل ایمان کے اوصاف اور ان کی جزا کا ذکر فرمایا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے‘‘ یعنی اس کتاب پر اور ان امور پر ایمان لائے جن پر کتاب مشتمل ہے اور ان اعمال صالحہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی جو اخلاص للہ اور متابعت رسول کے جامع ہیں۔ ﴿لَهُمۡ اَجۡرٌ غَيۡرُ مَمۡنُوۡنٍ ﴾ ’’ان کے لیے (ختم) نہ ہونے والا اجر ہے۔‘‘ یعنی ان کے لیے اجر عظیم ہے جو کبھی منقطع ہو گا نہ ختم ہو گا بلکہ وہ ہمیشہ رہے گا اور ہر گھڑی بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ اجر ہر قسم کی لذات و مشتہیات پر مشتمل ہو گا۔
41:9–12Страница 477
۞ قُلۡ أَئِنَّكُمۡ لَتَكۡفُرُونَ بِٱلَّذِي خَلَقَ ٱلۡأَرۡضَ فِي يَوۡمَيۡنِ وَتَجۡعَلُونَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ ذَٰلِكَ رَبُّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٩
Скажи: «Неужели вы не веруете в Того, Кто создал землю за два дня, и равняете с Ним других? Он же - Господь миров.
وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ مِن فَوۡقِهَا وَبَٰرَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَآ أَقۡوَٰتَهَا فِيٓ أَرۡبَعَةِ أَيَّامٖ سَوَآءٗ لِّلسَّآئِلِينَ ١٠
Он воздвиг над землей незыблемые горы, наделил ее благодатью и распределил на ней пропитание для страждущих (или для тех, кто спрашивает) за четыре полных дня.
ثُمَّ ٱسۡتَوَىٰٓ إِلَى ٱلسَّمَآءِ وَهِيَ دُخَانٞ فَقَالَ لَهَا وَلِلۡأَرۡضِ ٱئۡتِيَا طَوۡعًا أَوۡ كَرۡهٗا قَالَتَآ أَتَيۡنَا طَآئِعِينَ ١١
Потом Он обратился к небу, которое было дымом, и сказал ему и земле: «Придите по доброй воле или по принуждению». Они сказали: «Мы пришли по доброй воле».
فَقَضَىٰهُنَّ سَبۡعَ سَمَٰوَاتٖ فِي يَوۡمَيۡنِ وَأَوۡحَىٰ فِي كُلِّ سَمَآءٍ أَمۡرَهَاۚ وَزَيَّنَّا ٱلسَّمَآءَ ٱلدُّنۡيَا بِمَصَٰبِيحَ وَحِفۡظٗاۚ ذَٰلِكَ تَقۡدِيرُ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡعَلِيمِ ١٢
Он сотворил их семью небесами за два дня и внушил каждому небу его обязанности. Мы украсили нижнее небо светильниками и оберегаем его (или для оберегания его). Таково предопределение Могущественного, Знающего».
کہہ دیجیے! کیا بے شک تم البتہ کفر کرتے ہو ساتھ اس ذات کے جس نے پیدا کیا زمین کو دو دن میں اور بناتے ہو تم اس کے لیے شریک، وہ رب ہے جہانوں کا(9) اور بنائے اس نے اس میں مضبوط پہاڑ اس کے اوپر اور برکت دی اس میں اور اندازہ کیا اس میں اس کی غذاؤ ں کا (یہ سارے کام ہوئے) چار دن میں، یکساں طور پر پوچھنے والوں کے لیے (10) پھر وہ متوجہ ہوا آسمان کی طرف جبکہ وہ دھواں تھا، پس کہا اللہ نے اس سے اور زمین سے، آؤ تم دونوں خوشی یا ناخوشی سے، تو کہا ان دونوں نے، آئے ہم برضاو رغبت(خوشی خوشی)(11) پس بنا دیا ان کو سات آسمان دو دن میں اور القا کیا اس نے ہر آسمان میں اس کا کام اور مزین کیا ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے اور (اس کی) حفا ظت (بھی) کی، یہ اندازہ ہے غالب خوب جاننے والے کا (12)
[9، 10] اللہ تبارک وتعالیٰ تعجب کے ساتھ کفار کے کفر کا انکار کرتا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ہم سر گھڑ رکھے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرایا ہوا ہے، ان کی عبادت کرتے ہیں، انھیں رب عظیم اور مالک کریم کے برابر گردانتے ہیں، جس نے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں پیدا کیا، پھر دو دن میں اس کو ہموار کیا، اس کے اندر بڑے بڑے پہاڑ رکھ دیے جو اسے مٹنے، ہلنے اور عدم استقرار سے روکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تخلیق کی تکمیل کی، پھر پھیلا کر ہموار کیا، اس میں سے خوراک اور اس کی توابعات نکالیں ﴿فِيۡۤ اَرۡبَعَةِ اَيَّامٍ١ؕ سَوَآءًؔ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’چار دن میں، سوال کرنے والوں کے لیے یکساں ہے۔‘‘ یہ اس بارے میں سوال کرنے والوں کے لیے ٹھیک ٹھیک جواب ہے۔ تجھے یہ خبر ایک خبردار ہستی کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ہے اور یہ ایسی سچی خبر ہے جس میں کوئی کمی ہے نہ بیشی۔
[11]﴿ثُمَّ ﴾ یعنی زمین کی تخلیق کے بعد ﴿اسۡتَوٰۤى ﴾ قصد کیا ﴿اِلَى السَّمَآءِ ﴾ آسمان کی تخلیق کا ﴿وَهِيَ دُخَانٌ ﴾ ’’اور وہ دھواں تھا۔‘‘ جو پانی کی سطح پر اٹھ رہا تھا۔ ﴿فَقَالَ لَهَا ﴾ ’’پس آسمان سے کہا‘‘ چونکہ اس میں اختصاص کا وہم تھا اس لیے اس پر اپنے اس فرمان کا عطف ڈالا: ﴿وَلِلۡاَرۡضِ ائۡتِيَا طَوۡعًا اَوۡ كَرۡهًا ﴾ ’’اور زمین سے کہ دونوں آؤ ! خوشی سے یا ناخوشی سے۔‘‘ یعنی میرے حکم کی طوعاً یا کرہاً تعمیل کرو یہ نافذ ہو کر رہے گا ﴿قَالَتَاۤ اَتَيۡنَا طَآىِٕعِيۡنَ ﴾ ’’دونوں نے کہا ہم خوشی سے آتے ہیں۔‘‘ ہمارا ارادہ تیرے ارادے کی مخالفت نہیں کر سکتا۔
[12]﴿فَقَضٰىهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوَاتٍ فِيۡ يَوۡمَيۡنِ ﴾ ’’ پھر دو دن میں سات آسمان بنائے۔‘‘ پس آسمانوں اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں مکمل ہو گئی۔ پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعہ تھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت تمام کائنات کو لمحہ میں تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی مگر وہ قدرت رکھنے کے ساتھ ساتھ رفق اور حکمت والا بھی ہے، یہ اس کی حکمت اور رفق ہی ہے کہ اس نے اس کائنات کی تخلیق اس مقررہ مدت میں کی۔معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کریمہ اور سورۃ النازعات کی آیت:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَا۰۰﴾(النّٰزعٰت: 79؍30) ’’اور اس کے بعد زمین کو پھیلا دیا۔‘‘ میں بظاہر تعارض دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں کوئی تعارض ہے نہ اختلاف… سلف میں بہت سے اہل علم نے اس کا جواب دیا ہے کہ زمین کی تخلیق اور اس کی صورت گری آسمانوں کی تخلیق سے متقدم ہے۔ جیسا کہ یہاں ذکر کیا گیا ہے اور زمین کو پھیلانا ﴿اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰۳۱ وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النّٰزعٰت: 79؍31۔32) ’’اس نے اس میں سے اس کا پانی جاری کیا اور چارہ اگایا، پھر اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا۔‘‘ آسمانوں کی تخلیق سے متأخر ہے جیسا کہ سورۃ النازعات میں آتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَالۡاَرۡضَ بَعۡدَ ذٰلِكَ دَحٰؔىهَاؕ۰۰ اَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعٰىهَا۪۰۰وَالۡجِبَالَ اَرۡسٰؔىهَا﴾(النزعت: 32-30/79)اور اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا: (وَالْاَرْضَ بَعَدَ ذٰلِکَ خَلَقَھَا)﴿وَاَوۡحٰى فِيۡ كُلِّ سَمَآءٍ اَمۡرَهَا ﴾ ’’اور ہر آسمان کی طرف اس کے کام کا حکم بھیجا۔‘‘ یعنی ہر آسمان کے لائق امروتدبیر وحی کی جوا حکم الحاکمین کی حکمت کا تقاضا تھا۔ ﴿وَزَيَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡيَا بِمَصَابِيۡحَ ﴾ ’’اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ذریعے سے مزین کیا۔‘‘ اس سے مراد ستارے ہیں جن سے روشنی اور راہنمائی حاصل ہوتی ہے اور ظاہری طور پر یہ ستارے آسمان کی زینت اور خوبصورتی ہیں ﴿وَحِفۡظًا ﴾ اور باطنی طور پر شیاطین سے حفاظت کے لیے ان کو شہاب ثاقب بنایا ہے تاکہ وہ آسمانوں سے سن گن نہ لے سکیں۔ ﴿ذٰلِكَ ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی زمین، آسمانوں اور ان میں جوکچھ ہے، سب کا یہ مذکورہ انتظام ﴿تَقۡدِيۡرُ الۡعَزِيۡزِ الۡعَلِيۡمِ ﴾ ’’منصوبہ ہے ایک زبردست ہستی کا جو علیم بھی ہے۔‘‘ یعنی زبردست ہستی کا مقرر کردہ اندازہ ہے جو اپنی قوت اور غلبے کی بنا پر تمام اشیاء پر غالب ہے اور ان کی تدبیر کر رہی ہے اور اس نے اپنی قوت اور غلبے سے تمام مخلوقات کو تخلیق کیا۔ ﴿الۡعَلِيۡمِ ﴾ جس کے علم نے غائب اور شاہد، تمام مخلوقات کا اپنے علم کے ساتھ احاطہ کر رکھا ہے۔ پس مشرکین کا اس رب عظیم اور واحد قہار کے لیے اخلاص کو ترک کر دینا، جس کے سامنے تمام مخلوق سرافگندہ ہے اور تمام کائنات پر اس کی قدرت نافذ ہے، سب سے زیادہ تعجب انگیز چیز ہے، پھر خودساختہ معبود بنانا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دینا، حالانکہ وہ اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں، اس سے بھی عجیب تر ہے۔ اگر یہ اپنی روگردانی پر جمے رہے تو دنیاوی اور اخروی عذاب کے سوا ان کا کوئی علاج نہیں۔ اس لیے ان کو ڈراتے ہوئے فرمایا:
41:13–14Страница 478
فَإِنۡ أَعۡرَضُواْ فَقُلۡ أَنذَرۡتُكُمۡ صَٰعِقَةٗ مِّثۡلَ صَٰعِقَةِ عَادٖ وَثَمُودَ ١٣
Если же они отвернутся, то скажи: «Я предостерегаю вас от мучений, подобных мучениям адитов и самудян».
إِذۡ جَآءَتۡهُمُ ٱلرُّسُلُ مِنۢ بَيۡنِ أَيۡدِيهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّا ٱللَّهَۖ قَالُواْ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَأَنزَلَ مَلَٰٓئِكَةٗ فَإِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ١٤
Посланники приходили к ним спереди и сзади: «Не поклоняйтесь никому, кроме Аллаха». Они же говорили: «Если бы наш Господь захотел, то ниспослал бы ангелов. Воистину, Мы не веруем в то, с чем вы посланы».
پس اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دیجیے: میں نے ڈرا دیا تم کو کڑک (آسمانی عذاب) سے مثل کڑک عاد اور ثمود کے(13) جب آئے ان کے پاس رسول ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے یہ (کہتے ہوئے)کہ نہ عبادت کرو تم مگر اللہ ہی کی، تو انھوں نے کہا، اگر چاہتا ہمارا رب تو البتہ نازل کر دیتا فرشتے، پس بلاشبہ ہم تو ساتھ اس چیز کے، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں (14)
[13، 14] یعنی اگر یہ مکذبین اس کے باوجود بھی اعراض کریں، حالانکہ ان کے سامنے قرآن کے اوصاف حمیدہ اور رب عظیم کی صفات جلیلہ بیان کی جاچکی ہیں۔ ﴿فَقُلۡ اَنۡذَرۡتُكُمۡ صٰعِقَةً ﴾ ’’تو کہہ دیجیے: میں تمھیں ایسی کڑک سے ڈراتا ہوں‘‘ یعنی کہ میں تمھیں ایسے عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمھاری جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔ ﴿مِّثۡلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّثَمُوۡدَ﴾’’جیسی کڑک قوم عاد اور ثمود پر گری تھی۔‘‘ عاد اور ثمود یہ دو معروف قبیلے تھے، ان پر ٹوٹنے والے عذاب نے ان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیا تھا اور انھیں سخت سزا دی گئی، یہ سب کچھ ان کے ظلم اور کفر کے باعث تھا۔﴿اِذۡ جَآءَتۡهُمُ الرُّسُلُ مِنۢۡ بَيۡنِ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمِنۡ خَلۡفِهِمۡ ﴾ ’’جب ان کے پاس رسول ان کے آگے سے اور پیچھے سے آئے۔‘‘ یعنی یکے بعد دیگرے لگاتار رسول آئے، ان تمام رسولوں کی دعوت ایک تھی۔ ﴿اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰهَ ﴾ ’’اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے، مگر انھوں نے انبیائے کرام کی دعوت کو رد کرتے ہوئے ان کی تکذیب کی اور کہنے لگے:﴿ لَوۡ شَآءَ رَبُّنَا لَاَنۡزَلَ مَؔلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’اگر ہمارا رب چاہتا تو فرشتے اتار دیتا۔‘‘ رہے تم، تو تم ہماری ہی طرح بشر ہو ﴿فَاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم جو دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔‘‘ اور یہ شبہ تمام کافر قوموں میں نسل در نسل متوارث چلا آرہا ہے اور یہ انتہائی کمزور شبہ ہے۔ کیونکہ رسالت کے لیے یہ شرط نہیں کہ جس کو رسول بنا کر بھیجا جا رہا ہو، وہ فرشتہ ہو ۔ رسالت کی شرط صرف یہ ہے کہ رسول ایسی دعوت پیش کرے جو اس کی صداقت کی دلیل ہو، لہٰذا اگر وہ کر سکتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ وہ عقلی اور شرعی دلائل کی بنیاد پر جرح و قدح کریں، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔
یہ ان مذکورہ بالا دو قوموں یعنی عادوثمود کا مفصل قصہ ہے۔
41:15–16Страница 478
فَأَمَّا عَادٞ فَٱسۡتَكۡبَرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَقَالُواْ مَنۡ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةًۖ أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّ ٱللَّهَ ٱلَّذِي خَلَقَهُمۡ هُوَ أَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةٗۖ وَكَانُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَجۡحَدُونَ ١٥
Что касается адитов, то они возгордились на земле без всякого права и сказали: «Кто может превзойти нас силой?». Неужели они не видели, что Аллах, Который сотворил их, превосходит их силой? Они отвергали Наши знамения.
فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا صَرۡصَرٗا فِيٓ أَيَّامٖ نَّحِسَاتٖ لِّنُذِيقَهُمۡ عَذَابَ ٱلۡخِزۡيِ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَخۡزَىٰۖ وَهُمۡ لَا يُنصَرُونَ ١٦
Мы наслали на них морозный (или завывающий) ветер в злополучные дни, чтобы дать им вкусить муки позора в мирской жизни. А мучения в Последней жизни будут еще более позорными, и им не будет оказана помощь.
پس لیکن عاد (قوم) نے تو تکبر کیا زمین میں ناحق اور انھوں نے کہا، کون ہے زیادہ سخت ہم سے قوت میں؟ کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک اللہ جس نے پیدا کیا ان کو، وہ زیادہ سخت ہے ان سے قوت میں، اور تھے وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے (15) پس بھیجی ہم نے ان پر ہوا سخت منحوس ثابت ہونے والے دنوں میں تاکہ چکھائیں ہم ان کو عذاب رسوائی کا زندگانی ٔدنیا میں، اور البتہ عذاب آخرت کا بہت زیادہ رسوا کرنے والا ہے اور وہ مدد نہیں کیے جائیں گے (16)
[15] فرمایا: ﴿فَاَمَّا عَادٌ ﴾ قوم عاد اپنے کفر، آیات الٰہی اور انبیاء و مرسلین کی تکذیب کے ساتھ ساتھ، زمین پر تکبر کے ساتھ رہتے تھے۔ اپنے اردگرد بندگان الٰہی پر قہر اور ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے تھے، ان کی قوت نے ان کو فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ ﴿وَقَالُوۡا مَنۡ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ﴾ ’’اور وہ کہتے تھے: بھلا ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا جواب دیا جسے ہر شخص جانتا ہے۔ ﴿اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيۡ خَلَقَهُمۡ هُوَ اَشَدُّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً ﴾ ’’کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ جس نے ان کو پیدا کیا، وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔‘‘ اگر اللہ تعالیٰ ان کو تخلیق نہ کرتا تو وہ کبھی وجود میں نہ آسکتے، اگر وہ اپنے اس حال پر صحیح طریقے سے غور کرتے تو کبھی اپنی طاقت کے فریب میں مبتلا نہ ہوتے۔
[16] اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی سزا دی جو ان کی اس قوت سے عین مناسبت رکھتی تھی جس کی وجہ سے وہ مغرور تھے۔﴿فَاَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيۡحًا صَرۡصَرًا ﴾ یعنی ہم نے ان پر انتہائی سخت طوفانی آندھی بھیجی جس میں بجلی کی کڑک کی مانند سخت ہولناک آواز تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس طوفانی ہوا کو ان پر ﴿ سَبۡعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ١ۙ حُسُوۡمًا١ۙ فَتَرَى الۡقَوۡمَ فِيۡهَا صَرۡعٰى١ۙ كَاَنَّهُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِيَةٍ﴾(الحاقۃ: 69؍7) ’’ لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک چلائے رکھا، اس ہوا میں تو ان لوگوں کو اس طرح پچھاڑے ہوئے دیکھتا گویا وہ کھجوروں کے خالی تنے ہیں۔‘‘ ﴿نَحِسَاتٍ﴾یعنی یہ دن ان کے لیے منحوس تھا۔اس ہوا نے ان کو ہلاک کرکے تباہ و برباد کر دیا اور ان کی یہ حالت ہو گئی کہ ان کے اجڑے ہوئے گھروں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ﴿لِّنُذِيۡقَهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی ہی میں رسوائی کا عذاب چکھائیں‘‘ اس عذاب کی وجہ سے انھوں نے مخلوق میں فضیحت اور رسوائی کا سامنا کیا۔ ﴿وَلَعَذَابُ الۡاٰخِرَةِ اَخۡزٰى وَهُمۡ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ ’’اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے، اور ان کی مددنہیں کی جائے گی۔‘‘ کوئی ان سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روک سکے گا نہ وہ اپنے آپ کو کوئی فائدہ پہنچا سکیں گے۔
41:17–18Страница 478
وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيۡنَٰهُمۡ فَٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡعَمَىٰ عَلَى ٱلۡهُدَىٰ فَأَخَذَتۡهُمۡ صَٰعِقَةُ ٱلۡعَذَابِ ٱلۡهُونِ بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ١٧
Что же касается самудян, то Мы указали им на прямой путь, но они предпочли слепоту верному руководству, и их поразила молния унизительных мучений за то, что они приобретали.
وَنَجَّيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ١٨
А тех, которые уверовали и были богобоязненны, Мы спасли.
اور لیکن ثمود (قوم) پس رہنمائی کی ہم نے ان کی تو انھوں نے پسند کیا اندھے پن کو اوپر ہدایت کے، پس پکڑ لیا ان کو کڑک نے عذابِ رسوائی کی بسبب اس کے جو تھے وہ کماتے (17) اور نجات دی ہم نے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور تھے وہ تقوٰی اختیار کرتے (18)
[17]﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ ﴾ اور رہے ثمود تو یہ ایک معروف قبیلہ ہے جو حجر اور اس کے اردگرد کے علاقے میں آباد تھا۔ جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کو ان کے رب کی توحید کی دعوت دیتے تھے اور ان کو شرک سے روکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزے کے طور پر اونٹنی عطا کی، جس کے لیے پانی پینے کا ایک دن مقرر تھا۔ ثمود کے لوگ ایک دن اس اونٹنی کا دودھ پیتے تھے اور ایک دن پانی پیتے تھے اور اس پر انھیں کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا تھا بلکہ اونٹنی زمین پر چر کر گزارہ کرتی تھی۔ اس لیے ثمود کے بارے میں فرمایا:﴿وَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَهَدَيۡنٰهُمۡ ﴾ ’’جو ثمود تھے، ہم نے انھیں سیدھا راستہ دکھایا۔‘‘ یہاں ہدایت سے مراد ہدایت بیان ہے۔ ہرچندکہ ہلاکت کا شکار ہونے والی تمام امتوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی اور راہ راست ان کے سامنے واضح کر دی گئی، مگر اللہ تعالیٰ نے ثمود کے لیے ہدایت کا ذکر اس لیے کیا کیونکہ ان کو بہت بڑا معجزہ عطا کیا گیا تھا، اس معجزے کو ان کے بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت اور بیان کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ مگر انھوں نے اپنے شر اور ظلم کی وجہ سے ہدایت یعنی علم و ایمان کی بجائے، اندھے پن یعنی کفر اور گمراہی کو پسند کیاتو جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے، اس کی وجہ سے انھیں عذاب نے پکڑ لیا اور یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہ تھا۔
[18]﴿وَنَجَّيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم نے ان لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے اور (نافرمانی سے) بچتے رہے‘‘یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت صالحu اور ان کی اتباع کرنے والے ان مومنین کو نجات دی جو شرک اور معاصی سے بچتے رہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии