Ас-Саади · Тафсир · на урду
ق
Каф
Каф · Мекканская · 45 аятов
50:1–4Страница 518
قٓۚ وَٱلۡقُرۡءَانِ ٱلۡمَجِيدِ ١
Каф. Клянусь славным Кораном!
بَلۡ عَجِبُوٓاْ أَن جَآءَهُم مُّنذِرٞ مِّنۡهُمۡ فَقَالَ ٱلۡكَٰفِرُونَ هَٰذَا شَيۡءٌ عَجِيبٌ ٢
Но удивились они тому, что к ним явился предостерегающий увещеватель из них самих, и неверующие сказали: «Это - нечто удивительное!
أَءِذَا مِتۡنَا وَكُنَّا تُرَابٗاۖ ذَٰلِكَ رَجۡعُۢ بَعِيدٞ ٣
Неужели это (воскрешение) произойдет после того, как умрем и станем прахом? Это возвращение невероятно!».
قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنقُصُ ٱلۡأَرۡضُ مِنۡهُمۡۖ وَعِندَنَا كِتَٰبٌ حَفِيظُۢ ٤
Мы знаем, что земля отнимает от них, и у Нас есть сохраняющее (или хранимое) Писание.
قٓ! قسم ہے قرآن مجید کی(1)بلکہ انھوں نے تعجب کیا کہ آیا ان کے پاس ایک ڈرانے والا انھی میں سے، تو کہا کافروں نے یہ ایک عجیب چیز ہے(2) کیا جب ہم مر جائیں گے اور ہو جائیں گے ہم مٹی (تو کیا ہم اٹھائے جائیں گے؟) یہ واپسی تو بہت بعید ہے(3) تحقیق ہمیں علم ہے جو کچھ کم کرتی ہے زمین ان میں سے، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے (ہر چیز کی) حفاظت کرنے والی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن مجید کی قسم کھاتا ہے۔ یعنی اس کے معانی بہت وسیع اور عظیم، اس کے پہلو بے شمار ہیں، اس کی برکات بے پایاں اور اس کی عنایات بہت زیادہ ہیں۔ (مَجْد) کا معنی ہے اوصاف کی وسعت اور ان کی عظمت۔ (مجد) سے موصوف ہونے کا سب سے زیادہ مستحق کلام، یہ قرآن ہے جو اولین و آخرین کے علوم پر مشتمل ہے، جس کی فصاحت کامل ترین، جس کے الفاظ عمدہ ترین اور جس کے معانی عام اور حسین ترین ہیں۔
[2] یہ اوصاف اس کی کامل اتباع، اس کی فوری اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر شکر کے موجب ہیں۔مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے بنابریں فرمایا:﴿ بَلۡ عَجِبُوۡۤا﴾ یعنی رسول مصطفیﷺ کو جھٹلانے والے تعجب کرتے ہیں۔ ﴿ اَنۡ جَآءَهُمۡ مُّؔنۡذِرٌؔ﴾یعنی ان ہی میں سے ایک متنبہ کرنے والا آیا، جو انھیں ایسے امور کے بارے میں متنبہ کرتا ہے جو انھیں نقصان دیتے ہیں اور وہ انھیں ایسے امور کا حکم دیتا ہے جو انھیں فائدہ دیتے ہیں، اور وہ خود ان کی جنس سے ہے جس سے علم حاصل کرنا، اس کے احوال اور اس کی صداقت کے بارے میں معرفت حاصل کرنا ممکن ہے۔ پس انھوں نے ایک ایسے امر پر تعجب کیا جس پر تعجب کرنا ان کے لیے مناسب نہیں بلکہ اس پر تعجب کرنے والی عقل پر تعجب کرنا چاہیے۔﴿ فَقَالَ الۡكٰفِرُوۡنَ﴾ ’’ کافر کہنے لگے۔‘‘ جس نے ان کو اس تعجب پر آمادہ کیا ہے وہ ان کی ذہانت اور عقل کی کمی نہیں بلکہ ان کا کفر اور تکذیب ہے۔ ﴿هٰؔذَا شَيۡءٌ عَجِيۡبٌ﴾یہ بڑی انوکھی چیز ہے، ان کا اس کو انوکھا اور نادر سمجھنا دو امور میں سے کسی ایک پر مبنی ہے۔(۱)یا تو وہ اپنے تعجب اور اسے انوکھا سمجھنے میں سچے ہیں، تب یہ چیز ان کی جہالت اور کم عقلی پر دلالت کرتی ہے، اس پاگل اور مجنون شخص کی مانند، جو عقل مند شخص کے کلام پر تعجب کرتا ہے، اس بزدل شخص کی مانند جو شہسوار کے شہسواروں کے ساتھ بھڑ جانے پر تعجب کرتا ہے اور اس کنجوس کی مانند جو سخی لوگوں کی سخاوت پر تعجب کرتا ہے جس کا یہ حال ہو، اس کے تعجب کرنے سے کون سا نقصان ہے؟ کیا اس کا تعجب اس کی بہت زیادہ جہالت اور اس کے ظلم کی دلیل نہیں؟(۲) یا ان کا تعجب اس لحاظ سے ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی غلطی کو جانتے ہیں، تب یہ سب سے بڑا اور بد ترین ظلم ہے۔
[4,3] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے تعجب کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ ءَاِذَا مِتۡنَا وَؔكُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجۡعٌۢ بَعِيۡدٌ﴾ ’’بھلا جب ہم مرگئے اور مٹی ہوگئے (تو کیا پھر زندہ ہوں گے) یہ زندہ ہونا بعید ہے۔‘‘ انھوں نے اس ہستی کی قدرت کو، جو ہر چیز پر قادر اور ہر لحاظ سے کامل ہے محتاج بندے کی قدرت پر قیاس کیا ہے جو ہر لحاظ سے عاجز ہےاور جاہل کو، جسے کسی چیز کا علم نہیں، اس ہستی پر قیاس کیا ہے جو ہر چیز کا علم رکھتی ہے اور برزخ میں قیام کی مدت کے دوران، زمین ان کے اجساد میں جو کمی کرتی ہے، وہ اسے بھی جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کتاب میں درج کر رکھا ہے، یعنی جو کچھ ان کی زندگی اور موت میں ان کے ساتھ وقوع پذیر ہو گا، اس کے بارے میں یہ کتاب ہر قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے کامل اور وسیع علم کے ذریعے سے ، جس کا اس کے سوا اور کوئی احاطہ نہیں کر سکتا، اس کی مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت پر استدلال ہے۔
50:5Страница 518
بَلۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِيٓ أَمۡرٖ مَّرِيجٍ ٥
Но они сочли ложью истину, когда она явилась к ним, и теперь они находятся в замешательстве.
بلکہ انھوں نے جھٹلایا حق کو جب وہ آیا ان کے پاس، پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں(5)
[5]﴿ بَلۡ﴾ ان کا وہ کلام جو ان سے صادر ہوا ہے، محض عناد اور تکذیب ہے جو صدق کی بلند ترین نوع ہے۔ ﴿ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَهُمۡ فِيۡۤ اَمۡرٍ مَّرِيۡجٍ﴾ ’’جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک الجھاؤ میں پر گئے۔‘‘ یعنی وہ ایک مختلف اور مشتبہ معاملے میں پڑے ہوئے ہیں، کسی چیز پر انھیں ثبات حاصل ہے نہ قرار۔ کبھی تو آپ کے بارے میں الزام تراشی کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’تو جادوگر ہے‘‘ کبھی کہتے ہیں ’’تو پاگل ہے‘‘ اور کبھی کہتے ہیں ’’تو شاعر ہے‘‘ اسی طرح انھوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، ہر کسی نے اپنی فاسد رائے کے تقاضے کے مطابق اس میں کلام کیا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس نے حق کی تکذیب کی، وہ مشتبہ معاملے میں پڑا ہوا ہے، اسے کوئی راہ سجھائی دیتی ہے نہ قرار آتا ہے۔ اس لیے تو اس کے معاملات کو باہم متناقض اور افک و بہتان پر مبنی پائے گا۔ جو کوئی حق کی اتباع اور اس کی تصدیق کرتا ہے، اس کا معاملہ درست اور اعتدال کی راہ پر ہوتا ہے، اس کا فعل، اس کے قول کی تصدیق کرتا ہے۔
50:6–11Страница 518
أَفَلَمۡ يَنظُرُوٓاْ إِلَى ٱلسَّمَآءِ فَوۡقَهُمۡ كَيۡفَ بَنَيۡنَٰهَا وَزَيَّنَّٰهَا وَمَا لَهَا مِن فُرُوجٖ ٦
Неужели они не смотрели на то, как Мы построили и украсили небо над ними? В нем нет расщелин.
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوۡجِۭ بَهِيجٖ ٧
Мы простерли землю, установили на ней незыблемые горы и взрастили на ней всякие великолепные пары растений
تَبۡصِرَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِكُلِّ عَبۡدٖ مُّنِيبٖ ٨
для разъяснения и напоминания каждому рабу, который обращается к Аллаху.
وَنَزَّلۡنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ مُّبَٰرَكٗا فَأَنۢبَتۡنَا بِهِۦ جَنَّٰتٖ وَحَبَّ ٱلۡحَصِيدِ ٩
Мы ниспослали с неба благословенную воду и взрастили посредством нее сады и зерна собранного урожая,
وَٱلنَّخۡلَ بَاسِقَٰتٖ لَّهَا طَلۡعٞ نَّضِيدٞ ١٠
и высокие финиковые пальмы с висящими рядами плодами.
رِّزۡقٗا لِّلۡعِبَادِۖ وَأَحۡيَيۡنَا بِهِۦ بَلۡدَةٗ مَّيۡتٗاۚ كَذَٰلِكَ ٱلۡخُرُوجُ ١١
Таково пропитание для рабов. Мы оживили ею мертвую землю. Таким же будет выход из могил!
کیا پس نہیں دیکھا انھوں نے آسمان کی طرف اپنے اوپر (کہ) کیسا بنایا ہم نے اس کو اور ہم نے مزین کیا اسے اور نہیں اس میں کوئی شگاف؟(6) اور زمین کو، پھیلایا ہم نے اسے، اور ڈال (گاڑ) دیے ہم نے اس میں مضبوط پہاڑ، اور ہم نے اگائی اس میں ہر ایک قسم خوشنما(7) بطور بصیرت اور نصیحت کے ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے(8) اور نازل کیا ہم نے آسمان سے پانی بابرکت، پھر ہم نے اگائے اس کے ذریعے سے باغات اور اناج (اور غلے) کاٹی جانے والی (کھیتی) کے(9) اور کھجوریں بلند و بالا، ان کے شگوفے ہیں تہ بہ تہ (10) روزی کے لیے بندوں کی اور ہم نے زندہ کیا اس (پانی) کے ذریعے سے ایک شہر مردہ (بنجر زمین) کو، اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے (11)
[6] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل تکذیب کا حال اور ان کے قابل مذمت افعال کا ذکر کرنے کے بعد، انھیں آیات آفاقیہ میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی ہے تاکہ عبرت حاصل کریں اور ان امور پر استدلال کریں جن کے لیے ان کو دلیل بنایا ہے، فرمایا:﴿ اَفَلَمۡ يَنۡظُرُوۡۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوۡقَهُمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟‘‘ یعنی غور و فکر کی یہ نظر کسی مشقت اور سامانِ سفر باندھنے کی محتاج نہیں بلکہ بہت آسان ہے۔ وہ دیکھیں ﴿ كَيۡفَ بَنَيۡنٰهَا﴾ کہ ہم نے اسے کیسے ایک گنبد بنایا، جو اپنے کناروں پر برابر اور مضبوط بنیاد رکھتا ہے، جسے ان ستاروں سے آراستہ کیا گیا ہے جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چلتے چلتے غائب ہو جاتے ہیں، جو ایک افق سے دوسرے افق تک اپنے حسن اور ملاحت میں انتہا کو پہنچا ہوا ہے، تو اس میں کوئی سوراخ دیکھے نہ شگاف اور نہ تجھے اس میں کوئی خلل نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اہل زمین کے لیے چھت بنایا ہے اور اس کے اندر ان کے لیے ضروری مصالح ودیعت کیے ہیں۔
[7]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ طرف ﴿ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰهَا﴾ ’’زمین کی‘‘ دیکھیں کہ کیسے ﴿مَدَدۡنَهَا﴾ ’’ہم نے اسے کشادہ بنایا ہے؟‘‘ حتیٰ کہ ہر حیوان کے لیے سکون و قرار اور اس کے تمام مصالح اور استعداد کو ممکن بنایا، اور اس پر پہاڑوں کا بوجھ رکھ دیا کہ وہ نہ ہلے اور ٹھہری رہے ﴿ وَاَنۢۡـبَتۡنَا فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ زَوۡجٍۭ بَهِيۡجٍ﴾ انسانوں اور جانوروں کی خوراک اور ان کے فائدے کے لیے نباتات کی اصناف میں سے ہر صنف اگائی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگتی اور خوش کرتی ہے اور اس کا نظارہ کرنے والے کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے.
[11-8] اور ان فوائد میں سے ان باغات کا خاص طور پر ذکر کیا جو لذیذ پھلوں پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلاً: انگور، انار، لیموں اور سیب وغیرہ اور دیگر پھلوں کی تمام اقسام، نیز کھجور کے لمبے لمبے درخت، جن کا فائدہ بھی بہت طویل اور دیر پا ہوتا ہے۔ جو آسمان میں اتنے بلند ہو جاتے کہ بہت سے درخت اس بلندی تک نہیں پہنچ سکتے۔ وہ تہ بہ تہ گابھے میں سے گچھوں کی صورت میں ایسا پھل نکالتے ہیں جو بندوں کے لیے رزق، خوراک، سالن اور میوہ ہے۔ جسے وہ کھاتے ہیں اور اپنے اور اپنے مویشیوں کے لیے ذخیرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس بارش اور ان عوامل کے ذریعے سے، جس کے نتیجے میں روئے زمین پر دریا بہتے ہیں اور اس کے نیچے ﴿حَبَّ الۡحَصِيۡدِ﴾کھیتی کا اناج ہوتا ہے، یعنی وہ کھیتی جسے پکنے پر کاٹا جاتا ہے، مثلاً: گیہوں، جو، مکئی، چاول اور باجرہ وغیرہ۔کیونکہ ان اشیاء میں غور و فکر کرنے میں ﴿ تَبۡصِرَةً﴾ ’’ہدایت ہے‘‘ جس کے ذریعے سے بندہ جہالت کے اندھے پن میں بصیرت حاصل کرتا ہے ﴿وَّذِكۡرٰى﴾ ’’اور یاد دہانی ہے‘‘ جس سے نصیحت حاصل کرتا ہے جو دین و دنیا میں اسے فائدہ دیتی ہے اور اس کے ذریعے سے وہ ان امور میں نصیحت حاصل کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے، اور اس سے ہر شخص بہرہ مند نہیں ہوتا بلکہ ﴿ لِكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ﴾ صرف وہی بندہ بہرہ مند ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا، حق اور خوف و رجا کے ساتھ اس کی طرف توجہ کرنے والا اور اس کے داعی کی آواز پر لبیک کہنے والا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس نصیحت کو جھٹلاتا اور اس سے روگردانی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی نشانیاں اور تنبیہ کرنے والے اسے کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ اس زمین پر جو بڑی بڑی مخلوق ، قوت، اور شدت کا وجود ملتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے، اور اس میں جو حسن، مہارت، نادر صنعت کاری اور بے مثال تخلیق پائی جاتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ اس کے اندر بندوں کے لیے جو فوائد اور مصالح پنہاں ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہے جو ہر چیز پر وسیع اور اس کے جود و کرم کی دلیل ہے، جو ہر زندہ کے لیے عام اور سب کو شامل ہے۔ اس کے اندر جو بڑی بڑی مخلوق اور بے مثال نظام ہے وہ اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی واحد، یکتا اور بےنیاز ہے، جس کی کوئی بیوی ہے نہ بیٹا، اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہی ہے۔ یہ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی عبادت، تذلل، اور محبت کے لائق نہیں۔ زمین کے مردہ ہو جانے کے بعد جو اسے زندگی عطا ہوتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالٰی مردوں کو زندہ کرے گا تاکہ ان کو ان کے اعمال کا بدلہ دے۔ اس لیے فرمایا:﴿ وَاَحۡيَيۡنَا بِهٖ بَلۡدَةً مَّؔيۡتًا١ؕ كَذٰلِكَ الۡخُرُوۡجُ﴾ ’’اور ہم نے اس (پانی) کے ذریعے سے مردہ شہرکو زندہ کیا بس اسی طرح (قیامت کے دن) نکل پڑنا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو سماوی ارضی اور آیات کے ذریعے سے نصیحت کرنے کے بعد قوموں کو گرفت میں لینے والے عذاب سے ڈرایا کہ وہ تکذیب کے رویے پر جمے نہ رہیں، ورنہ ان پر بھی وہی عذاب ٹوٹ پڑے گا جو ان کے تکذیب کرنے والے بھائیوں پر ٹوٹ پڑا تھا۔ فرمایا:
50:12–15Страница 518
كَذَّبَتۡ قَبۡلَهُمۡ قَوۡمُ نُوحٖ وَأَصۡحَٰبُ ٱلرَّسِّ وَثَمُودُ ١٢
До них сочли лжецами посланников народ Нуха (Ноя), жители Расса и самудяне,
وَعَادٞ وَفِرۡعَوۡنُ وَإِخۡوَٰنُ لُوطٖ ١٣
адиты, народ Фараона и братья Лута (Лота),
وَأَصۡحَٰبُ ٱلۡأَيۡكَةِ وَقَوۡمُ تُبَّعٖۚ كُلّٞ كَذَّبَ ٱلرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ١٤
жители Айки и народ Тубба (Тобба). Все они сочли лжецами посланников, и сбылась Моя угроза.
أَفَعَيِينَا بِٱلۡخَلۡقِ ٱلۡأَوَّلِۚ بَلۡ هُمۡ فِي لَبۡسٖ مِّنۡ خَلۡقٖ جَدِيدٖ ١٥
Разве Мы изнемогли после первого сотворения? Но они сомневаются в новом сотворении (воскрешении).
جھٹلایا ان سے پہلے قوم نوح نے اور رَس (کنویں) والوں نے اور ثمود نے (12) اور عاد اور فرعون اور بر ادرانِ لوط نے (13)اور ایکہ (بستی) والوں اور قوم تُبَّعْ نے، (ان) سب نے جھٹلایا رسولوں کو تو ثابت ہو گئی (ان پر) میری وعید (14)کیا پس ہم تھک گئے ہیں پہلی بار پیدا کر کے؟ (نہیں)بلکہ وہ شک میں ہیں پیدا کرنے سے از سر نو (15)
[14-12] یعنی ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں نے بھی اپنے انبیائے عظام اور مرسلین کرام کو جھٹلایا، جیسے نوحu کو ان کی قوم نے جھٹلایا، ثمود نے حضرت صالحu کی تکذیب کی، عاد نے ہودu کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے لوطu کو اور اصحاب ایکہ نے شعیبu کو جھوٹا سمجھا۔ زمانہ اسلام سے قبل یمن کے ہر بادشاہ کو (تبع) کہا جاتا تھا، چنانچہ تبع کی قوم نے اپنے رسول کی تکذیب کی جو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں آگاہ نہیں فرمایا کہ وہ رسول کون تھا اور اسے کس (تبع) کے زمانے میں مبعوث کیا گیا؟ کیونکہ… واللہ اعلم… وہ رسول عربوں میں مشہور اور معروف تھا اور عرب میں پیش آنے والے واقعات ان سے چھپے ہوئے نہ تھے، خاص طور پر اس قسم کے عظیم حادثے سے وہ بے خبر نہیں رہ سکتے تھے۔ پس ان تمام قوموں نے ان رسولوں کو جھٹلایا جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مبعوث کیا تھا۔ پس اس پاداش میں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی وعید اور اس کی سزا واجب ہو گئی۔حضرت محمد(ﷺ) کو جھٹلانے والو! تم ان گزری ہوئی قوموں سے بہتر ہو نہ گزرے ہوئے رسول تمھارے رسولﷺسے بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے جرم سے بچو ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔
[15] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق اول یعنی ابتدائی پیدائش کے ذریعے سے آخرت کی تخلیق پر استدلال کیا۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو عدم کے بعد وجود میں لایا اسی طرح وہ ان کے مرنے اور ان کے مٹی ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا ۔اس لیے فرمایا: ﴿ اَفَعَيِيۡنَا ﴾ کیا ہم بے بس ہو گئے اور ہماری قدرت کمزور پڑ گئی ﴿ بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ﴾ ’’پہلی بار پیدا کرکے۔‘‘ معاملہ ایسا نہیں ہے، ہم ایسا کرنے سے عاجز ہیں نہ بے بس اور انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں، وہ تو تخلیق جدید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا معاملہ ان پر ملتبس ہو کر رہ گیا۔ حالانکہ یہ التباس کا مقام نہیں کیونکہ اعادہ، ابتدا سے زیادہ سہل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَهُوَ الَّذِيۡ يَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيۡدُهٗ وَهُوَ اَهۡوَنُ عَلَيۡهِ ﴾(الروم:30؍27) ’’وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور وہ اس کے لیے آسان تر ہے۔‘‘
50:16–18Страница 519
وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ وَنَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِهِۦ نَفۡسُهُۥۖ وَنَحۡنُ أَقۡرَبُ إِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ ٱلۡوَرِيدِ ١٦
Мы сотворили человека и знаем, что нашептывает ему душа. Мы ближе к нему, чем яремная вена.
إِذۡ يَتَلَقَّى ٱلۡمُتَلَقِّيَانِ عَنِ ٱلۡيَمِينِ وَعَنِ ٱلشِّمَالِ قَعِيدٞ ١٧
Двое ангелов сидят справа и слева и принимают (записывают деяния).
مَّا يَلۡفِظُ مِن قَوۡلٍ إِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيبٌ عَتِيدٞ ١٨
Стоит ему произнести слово, как при нем оказывается готовый наблюдатель.
اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو اور ہم جانتے ہیں ان کو جو باتیں کرتا ہے اس (انسان) سے اس کا دل اور ہم قریب تر ہیں اس سے (اس کی) شہ رگ سے بھی (16) جب ضبط کرتے ہیں دو ضبط کرنے والے(ایک)دائیں پہلو میں (بیٹھا ہوا) اور (دوسرا) بائیں پہلو میں بیٹھا ہوا (17) نہیں بولتا وہ (انسان) کوئی بات مگر اس کے پاس ہوتا ہے ایک نگران (فرشتہ)تیار (لکھنے کے لیے)(18)
[16] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ انسان کی جنس مرد اور عورت کو پیدا کرنے میں وہ تنہا ہے۔ وہ انسان کے تمام احوال کو جنھیں وہ چھپاتا ہے اور اس کا نفس اسے وسوسے میں مبتلا کرتا ہے، خوب جانتا ہے اور وہ ﴿ اَقۡرَبُ اِلَيۡهِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِيۡدِ﴾ ’’اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہے۔‘‘ جو انسان کے سب سے زیادہ قریب والی رگ ہے، اس سے مراد وہ رگ ہے جس نے سینے کے گڑھے کا احاطہ کر رکھا ہے۔ یہ چیز انسان کو اپنے خالق کے مراقبے کی دعوت دیتی ہے، جو اس کے ضمیر اور اس کے باطن سے مطلع ہے اور اس کے تمام احوال میں اس کے قریب والی رگ ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ ایسے کام کے ارتکاب سے حیا کرے جس کام سے اللہ نے اس کو روکا ہے، اس لیے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے، اور جس کام کا اللہ نے حکم دیا ہے اسے ترک نہ کرے۔
[17] اسی طرح اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں’’ کرامًا کاتبین‘‘ کا لحاظ رکھے، ان کی عزت و توقیر کرے۔ وہ کسی ایسے قول و فعل سے بچے جو اس کی طرف سے لکھ لیا جائے جس سے رب کائنات راضی نہ ہو۔ اسی لیے فرمایا:﴿ اِذۡ يَتَلَقَّى الۡمُتَلَقِّيٰنِ۠﴾ ’’جب دو لکھنے والے لکھ لیتے ہیں۔‘‘ یعنی بندے کے تمام اعمال درج کر رہے ہیں ﴿ عَنِ الۡيَمِيۡنِ﴾ دائیں جانب کا فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے اور دوسرا فرشتہ۔ ﴿ عَنِ الشِّمَالِ﴾ بائیں جانب سے برائیاں لکھتا ہے اور ان میں ہر ایک ﴿ قَعِيۡدٌ﴾ یہ کام کرنے کے لیے بیٹھا ہوا اور اپنے اس عمل کے لیے مستعد ہے، جس کے لیے اسے مقرر کیا گیا ہے یعنی اس کام میں لگا ہوا ہے۔
[18]﴿ مَا يَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ﴾ وہ خیر یا شر جو بھی لفظ بولتا ہے ﴿ اِلَّا لَدَيۡهِ رَقِيۡبٌ عَتِيۡدٌ﴾ تو ایک نگران موجود ہوتا ہے، جو اس کے پاس ہر حال میں موجود ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحٰؔفِظِيۡنَۙ۰۰كِرَامًا كَاتِبِيۡنَۙ۰۰ يَعۡلَمُوۡنَ مَا تَفۡعَلُوۡنَ﴾(الانفطار:82؍10-12) ’’اور بے شك تم پر نگہبان مقرر ہیں، بلند مرتبہ کاتب، جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب جانتے ہیں۔‘‘
50:19–22Страница 519
وَجَآءَتۡ سَكۡرَةُ ٱلۡمَوۡتِ بِٱلۡحَقِّۖ ذَٰلِكَ مَا كُنتَ مِنۡهُ تَحِيدُ ١٩
Смертельная агония явится с истиной. Вот то, чего ты избегал!
وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِۚ ذَٰلِكَ يَوۡمُ ٱلۡوَعِيدِ ٢٠
И подуют в Рог. Это - День угрозы!
وَجَآءَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّعَهَا سَآئِقٞ وَشَهِيدٞ ٢١
И каждая душа явится вместе с погонщиком и свидетелем.
لَّقَدۡ كُنتَ فِي غَفۡلَةٖ مِّنۡ هَٰذَا فَكَشَفۡنَا عَنكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ ٱلۡيَوۡمَ حَدِيدٞ ٢٢
Ты был беспечен к этому, но Мы сорвали с тебя твое покрывало, и острым является сегодня твой взор.
اور (سامنے) لے آتی ہے سختی موت کی حق کو یہ وہ (موت) ہے کہ تھا تو اس سے بھاگتا(19) اور پھونکا جائے گا صورمیں، یہ ہے دن وعید کا (20) اور آئے گا ہر نفس، اس کے ساتھ ہو گا ایک ہانکنے والا اور ایک شہادت دینے والا (21) البتہ تحقیق تھا تو غفلت میں اس سے، سو کھول (ہٹا) دیا ہم نے تجھ سے پردہ تیرا، پس تیری نگاہ آج بڑی تیز ہے (22)
[19]﴿ وَجَآءَتۡ﴾ ’’اور آئی‘‘ یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس ﴿ سَكۡرَةُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ﴾ ’’موت کی بے ہوشی، حق کے ساتھ۔‘‘ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنۡتَ مِنۡهُ تَحِيۡدُ﴾ یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
[20]﴿ وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ١ؕ ذٰلِكَ يَوۡمُ الۡوَعِيۡدِ﴾ ’’اور صور پھونکا جائے گا، یہی وعید کا دن ہے۔‘‘ یہ وہ دن ہے جس دن ظالموں کو عذاب دیا جائے گا، جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا اور مومنوں کو ثواب عطا کیا جائے گا جس کا اس نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا۔
[21]﴿ وَجَآءَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ ﴾ ’’اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔‘‘ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کر لے جائے گا یہ اس سے بچ کر پیچھے نہیں رہ سکے گا ﴿وَّشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور ایک گواہ ہوگا۔‘‘ جو اس کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گا۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف اعتنا اور اس کی طرف سے ان کے اعمال کی حفاظت اور نہایت عدل و انصاف سے اس کو جزا و سزا دینے پر دلالت کرتی ہے۔
[22] یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کا اہتمام کرے۔مگر اکثر لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس لیے فرمایا:﴿ لَقَدۡ كُنۡتَ فِيۡ غَفۡلَةٍ مِّنۡ هٰؔذَا﴾ ’’اس سے تو غافل ہورہا تھا۔‘‘ یہ بات قیامت کے روز روگردانی کرنے والے اور انبیاء و رسل کو جھٹلانے والے کو زجر و توبیخ، ملامت اور عتاب کے طور پر کہی جائے گی۔ یعنی تو اس دن کو جھٹلایا کرتا تھا اور اس دن کے لیے عمل نہ کرتا تھا، پس اب ﴿ فَكَشَفۡنَا عَنۡكَ غِطَآءَكَ﴾ ’’ہم نے تجھ سے پردہ ہٹا دیا‘‘ جس نے تیرے دل کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی بنا پر تو کثرت سے سوتا تھا اور اپنی روگردانی پر جما ہوا تھا۔ ﴿ فَبَصَرُكَ الۡيَوۡمَ حَدِيۡدٌ﴾ ’’پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔‘‘ وہ مختلف قسم کے عذاب اور سزاؤ ں کو دیکھتا ہے جو اسے ڈرا رہی ہوں گی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی ہوں گی ۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب ہے، کیونکہ دنیا میں وہ ان فرائض سے غافل تھا جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا تھا مگر قیامت کے روز وہ بیدار ہو گا، اس کی غفلت دور ہو جائے گی اور یہ سب ایسے وقت میں ہو گا جب کوتاہی کا تدارک اور ناکامی کی تلافی ممکن نہ ہو گی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم دن کو اہل تکذیب کے ساتھ سلوک کے ذکر کے ذریعے سے، بندوں کے لیے تخویف اور ترہیب ہے۔
50:23–29Страница 519
وَقَالَ قَرِينُهُۥ هَٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيدٌ ٢٣
Его товарищ (ангел) скажет: «Вот то, что подготовлено у меня».
أَلۡقِيَا فِي جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيدٖ ٢٤
Вдвоем бросайте в Геенну каждого упрямого неверующего,
مَّنَّاعٖ لِّلۡخَيۡرِ مُعۡتَدٖ مُّرِيبٍ ٢٥
который отказывал в добре, совершал преступления и терзался сомнениями,
ٱلَّذِي جَعَلَ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ فَأَلۡقِيَاهُ فِي ٱلۡعَذَابِ ٱلشَّدِيدِ ٢٦
который признавал наряду с Аллахом другого бога. Бросайте их в тяжкие мучения!».
۞ قَالَ قَرِينُهُۥ رَبَّنَا مَآ أَطۡغَيۡتُهُۥ وَلَٰكِن كَانَ فِي ضَلَٰلِۭ بَعِيدٖ ٢٧
Его товарищ (дьявол) скажет: «Господь наш! Я не сбивал его с пути. Он сам находился в глубоком заблуждении».
قَالَ لَا تَخۡتَصِمُواْ لَدَيَّ وَقَدۡ قَدَّمۡتُ إِلَيۡكُم بِٱلۡوَعِيدِ ٢٨
Он скажет: «Не препирайтесь предо Мной. Я предупреждал вас заранее.
مَا يُبَدَّلُ ٱلۡقَوۡلُ لَدَيَّ وَمَآ أَنَا۠ بِظَلَّٰمٖ لِّلۡعَبِيدِ ٢٩
Мое Слово неизменно, и Я не поступаю несправедливо с рабами».
اور کہے گا اس کا ساتھی (فرشتہ)، یہ ہے وہ (روز نامچہ) جو میر ے پاس تیار ہے(23)(حکم ہو گا) ڈال دو تم دونوں جہنم میں ہر کافر سرکش کو (24) بھلائی سے منع کرنے والے کو، حد سے نکلنے والے، (دین میں) شک کرنے والے کو(25) وہ جس نے بنا لیا تھا اللہ کے ساتھ معبود دوسرا، پس ڈال دو تم دونوں اس کو عذاب شدید میں (26) کہے گا اس کا ساتھی (شیطان)، اے ہمارے رب! نہیں سرکش بنایا تھا میں نے اس کو اور لیکن تھا وہ (خود ہی) گمراہی میں دور کی (27) وہ (اللہ) فرمائے گا، نہ جھگڑا کرو تم میرے پاس حالانکہ میں پہلے ہی بھیج چکا تھا تمھاری طرف وعید (وعدۂ عذاب)(28) نہیں تبدیل کی جاتی بات میرے ہاں، اور نہیں میں ظلم کرنے والا بندوں پر(29)
[23] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَقَالَ قَرِيۡنُهٗ﴾ اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لیے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہو گا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا:﴿هٰؔذَا مَا لَدَيَّ عَتِيۡدٌ﴾ ’’یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔‘‘ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کر دیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا ۔
[24] پس اب اس کے عمل کی جزا دی جائے گی۔ جو کوئی جہنم کا مستحق ہو گا اس سے کہا جائے گا: ﴿اَلۡقِيَا فِيۡ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيۡدٍ﴾ ’’ہر ناشکر ے، سرکش کو جہنم میں ڈال دو۔‘‘ یعنی جو بہت زیادہ کفر کرنے والا، آیات الٰہی سے عناد رکھنے والا، بہت کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والا، اور اللہ تعالیٰ کے محارم اور معاصی میں جسارت کرنے والا ہے۔
[25]﴿مَّنَّاعٍ لِّلۡخَيۡرِ﴾ ’’بھلائی سے روکنے والا۔‘‘ اس کے پاس جو بھلائی موجود ہے وہ اسے روکتا ہے، جس میں سے سب سے بڑی بھلائی اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان ہے اور وہ اپنے مال اور بدن کے فائدے کو (لوگوں تک پہنچنے سے) روکتا ہے ﴿مُعۡتَدٍ﴾ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر زیادتی کرنے والا اور اس کی حدود سے تجاوز کرنے والا ہے ﴿مُّرِيۡبِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے وعد ے اور وعید میں شک کرنے والا ہے۔ اس میں کوئی ایمان ہے نہ احسان، بلکہ اس کا وصف، کفر و عدوان، شک و ریب، بخل اور رحمان کو چھوڑ کر خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرنا ہے۔
[26] بنابریں فرمایا: ﴿الَّذِيۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ ﴾ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کرتا ہے جو کسی نفع و نقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ ﴿ فَاَلۡقِيٰهُ﴾ اس کے دونوں ساتھی فرشتو! اس کو ڈال دو ﴿ فِي الۡعَذَابِ الشَّدِيۡدِ ﴾ ’’سخت عذاب میں۔‘‘ جو سب سے بڑا، سب سے سخت اور سب سے برا عذاب ہے۔
[27]﴿ قَالَ قَرِيۡنُهٗ ﴾ اس کا شیطان ساتھی اس سے بری ٔالذمہ ہوتے ہوئے اور اس کے گناہ کا اسی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہے گا: ﴿ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَيۡتُهٗ ﴾ ’’اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا‘‘ کیونکہ مجھے اس پر کوئی اختیار تھا نہ میرے پاس کوئی دلیل و برہان تھی’’بلکہ یہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا، وہ خود ہی اپنے اختیار سے گمراہ ہو کر حق سے دور ہو گیا۔ جیسا کہ ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَقَالَ الشَّيۡطٰنُ لَمَّا قُضِيَ الۡاَمۡرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمۡ وَعۡدَ الۡحَقِّ وَوَعَدۡتُّكُمۡ فَاَخۡلَفۡتُكُمۡ۠ ﴾(ابراہیم:14؍22) ’’جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا: بے شک اللہ نے تمھارے ساتھ سچا وعدہ کیا اور میں نے جو وعدہ تمھارے ساتھ کیا ، میں نے اس کی خلاف ورزی کی ۔ میرا تم پر کوئی دباؤ تو تھا ہی نہیں، میں نے تمھیں پکارا اور تم نے میری مان لی۔ پس تم مجھے الزام نہ لگاؤ بلکہ خود اپنے تئیں ملامت کرو نہ میں تمھارا فریادرس اور نہ تم میری فریاد کو پہنچنے والے ہو میں تو سرے سے مانتا ہی نہیں کہ تم مجھے اس سے پہلے اللہ کا شریک مانتے رہے، یقیناً ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
[28] اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی آپس کی خصومت کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَيَّ ﴾ ’’میرے پاس نہ جھگڑو‘‘ یعنی میرے پاس تمھارے آپس میں جھگڑنے کا فائدہ نہیں۔ ﴿ وَ ﴾ حالانکہ ﴿ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَيۡكُمۡ بِالۡوَعِيۡدِ ﴾ ’’میں تمھارے پاس وعید بھیج چکا تھا۔‘‘ یعنی میرے رسول کھلی نشانیاں، واضح دلائل، اور روشن براہین لے کر تمھارے پاس آئے، تم پر میری حجت قائم اور تمھاری حجت منقطع ہو گئی تم نے اپنے گزشتہ اعمال میرے سامنے پیش کیے جن کی جزا واجب ہے۔
[29]﴿ مَا يُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَيَّ ﴾ ’’میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔‘‘ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ﴾ ’’اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии