Ас-СаадиАль‑Анам · 6:1–12

Ас-Саади · Тафсир · на урду

الأنعام

Аль-Анам

Скот · Мекканская · 165 аятов

6:1–2Страница 128

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَٰتِ وَٱلنُّورَۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُونَ ١

Хвала Аллаху, Который сотворил небеса и землю и установил мраки и свет. Но даже после этого те, которые не уверовали, приравнивают к своему Господу других.

هُوَ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن طِينٖ ثُمَّ قَضَىٰٓ أَجَلٗاۖ وَأَجَلٞ مُّسَمًّى عِندَهُۥۖ ثُمَّ أَنتُمۡ تَمۡتَرُونَ ٢

Он - Тот, Кто сотворил вас из глины, а затем назначил срок для вашей смерти. У Него есть также назначенный срок для воскрешения, но после этого вы все еще препираетесь.

تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہے جس نے پیدا کیے آسمان و زمین اور بنائے اندھیرے اور روشنی، پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ (اوروں کو) برابر ٹھہراتے ہیں (1) اسی نے پیدا کیا تمھیں مٹی سے، پھر مقرر کیا اس نے ایک وقت اور ایک وقت معین ہے اس کے ہاں (قیامت کا)، پھر (بھی) تم شک کرتے ہو(2)

[1] یہ صفات کمال اور نعوت عظمت و جلال کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عمومی حمد و ثنا اور ان صفات کے ذریعے سے اس کی خصوصی حمد و ثنا ہے، چنانچہ اس نے اس امر پر اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا۔ جو اس کی قدرت کاملہ، وسیع علم و رحمت، حکمت عامہ اور خلق و تدبیر میں اس کی انفرادیت پر دلالت کرتی ہے، نیز اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ اس نے تاریکیوں اور روشنی کو پیدا کیا۔ اور اس میں حسی اندھیرے اور اجالے بھی شامل ہیں ، جیسے رات، دن، سورج اور چاند وغیرہ اور معنوی اندھیرے اجالے بھی، مثلاً: جہالت، شک، شرک، معصیت اور غفلت کے اندھیرے اور علم، ایمان، یقین اور اطاعت کے اجالے۔ یہ تمام امور قطعی طور پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی عبادت اور اخلاص کا مستحق ہے مگر اس روشن دلیل اور واضح برہان کے باوجود ﴿ثُمَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِرَبِّهِمۡ يَعۡدِلُوۡنَ ﴾ ’’پھر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کیے دیتے ہیں ‘‘ غیروں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں ۔ وہ انھیں عبادت اور تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے مساوی قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ کمالات میں ان کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر نہیں سمجھتے اور وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ہستیاں ہر لحاظ سے محتاج، فقیر اور ناقص ہیں ۔

[2]﴿ هُوَ الَّذِيۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ طِيۡنٍ ﴾ ’’وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا‘‘ یعنی تمھارا اور تمھارے باپ کا مادہ مٹی سے تخلیق کیا گیا ہے ﴿ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا ﴾ ’’پھر ایک مدت مقرر کر دی‘‘ یعنی اس دنیا میں رہنے کے لیے تمھارے لیے ایک مدت مقرر کر دی اس مدت میں تم اس دنیا سے فائدہ اٹھاتے ہو اور رسول بھیج کر تمھارا امتحان لیا جاتا ہے اور تمھاری آزمائش کی جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿ لِيَبۡلُوَؔكُمۡ اَيُّؔكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ﴾(الملک: 67؍2) ’’تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔‘‘ ﴿ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنۡدَهٗ ﴾ ’’اور ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک‘‘ اس مدت مقررہ سے مراد آخرت ہے، بندے اس دنیا سے آخرت میں منتقل ہوں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا ﴿ ثُمَّ ﴾ پھر اس کامل بیان اور دلیل قاطع کے باوجود ﴿اَنۡتُمۡ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’تم شک کرتے ہو‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید اور قیامت کے دن جزا و سزا کے وقوع کا انکار کرتے ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اندھیروں ﴿الظُّلُمَاتِ﴾ کو ان کے کثرت مواد اور ان کے تنوع کی بنا پر جمع کے صیغے میں بیان فرمایا ہے اور اجالے ﴿النُّوۡرَ﴾ کو واحد استعمال کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ تک پہنچانے والا راستہ ایک ہی ہوتا ہے، اس میں تعدد نہیں ہوتا اور یہ وہ راستہ ہے جو حق، علم اور اس پر عمل کو متضمن ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاَنَّ هٰؔذَا صِرَاطِيۡ مُسۡتَقِيۡمًا فَاتَّبِعُوۡهُ١ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمۡ عَنۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾(الانعام: 6؍153) ’’اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے اور تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو ورنہ تم اللہ کے راستے سے الگ ہو جاؤ گے۔‘‘

6:3Страница 128

وَهُوَ ٱللَّهُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَفِي ٱلۡأَرۡضِ يَعۡلَمُ سِرَّكُمۡ وَجَهۡرَكُمۡ وَيَعۡلَمُ مَا تَكۡسِبُونَ ٣

Он - Аллах на небесах и на земле. Он знает то, что вы утаиваете и совершаете открыто, и знает то, что вы приобретаете.

اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں ، وہ جانتا ہے تمھارا پوشیدہ اور تمھارا ظاہراور جانتاہے جو کچھ تم کماتے ہو(3)

[3] یعنی آسمانوں میں اور زمین میں وہی معبود ہے۔ آسمان اور زمین کے رہنے والے اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، تمام مقرب فرشتے، انبیا و مرسلین، صدیقین، شہداء اور صالحین سب اس کی عظمت کے سامنے جھکے ہوئے اور اس کے غلبہ و جلال کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ تمھارے ظاہر و باطن کو جانتا ہے اور تمھارے اعمال بھی جانتا ہے اس لیے تم اس کی نافرمانی سے بچو اور ایسے اعمال میں رغبت کرو جو تمھیں اس کے قریب کر دیں اور اس کی رحمت کا مستحق بنا دیں اور ہر ایسے عمل سے بچو جو تمھیں اس سے اور اس کی رحمت سے دور کر دے۔

6:4–6Страница 128

وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٤

Какое бы знамение из знамений их Господа ни являлось к ним, они отворачивались от него.

فَقَدۡ كَذَّبُواْ بِٱلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ فَسَوۡفَ يَأۡتِيهِمۡ أَنۢبَٰٓؤُاْ مَا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ٥

Они сочли ложью истину, когда она явилась к ним, но до них дойдут вести о том, над чем они насмехались.

أَلَمۡ يَرَوۡاْ كَمۡ أَهۡلَكۡنَا مِن قَبۡلِهِم مِّن قَرۡنٖ مَّكَّنَّٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّن لَّكُمۡ وَأَرۡسَلۡنَا ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡهِم مِّدۡرَارٗا وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَنۡهَٰرَ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهِمۡ فَأَهۡلَكۡنَٰهُم بِذُنُوبِهِمۡ وَأَنشَأۡنَا مِنۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا ءَاخَرِينَ ٦

Разве они не видели, сколько поколений Мы погубили до них? Мы одарили их на земле властью, которой не одарили вас, ниспосылали им с неба обильные дожди и заставляли реки течь под ними. Мы погубили их за их грехи и создали после них другие поколения.

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی آیت ان کے رب کی آیات سے مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے(4) پس تحقیق جھٹلایا انھوں نے حق کو جب آیا ان کے پاس، سو عنقریب آئیں گی ان کے پاس خبریں اس چیز کی کہ تھے وہ اس کے ساتھ استہزا کرتے(5) کیا نہیں دیکھا انھوں نے کتنی ہی ہلاک کر دیں ہم نے ان سے پہلے ایسی امتیں کہ طاقت دی تھی ہم نے ان کو زمین میں ، وہ جو نہیں طاقت دی ہم نے تمھیں اور بھیجی ہم نے بارش اوپر ان کے موسلا دھاراور بنائیں ہم نے نہریں کہ وہ بہتی تھیں ان کے (گھر کے) نیچے سے ، پھر ہلاک کر دیا ہم نے انھیں بوجہ ان کے گناہوں کےاور پیدا کیں ہم نے ان کے بعد امتیں اور(6)

[4] یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشرکین کے اعراض، ان کی شدت تکذیب اور ان کی عداوت کے بارے میں خبر ہے۔ نیز یہ کہ آیات و معجزات انھیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے جب تک کہ ان پر عبرتناک عذاب نازل نہ ہو جائے، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے‘‘ جو حق پر دلیل قطعی ہیں جو حق کے قبول کرنے اور اس کی اتباع کرنے کی دعوت دیتی ہیں ۔ ﴿ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی وہ ان آیات کو غور سے سنتے نہیں اور ان میں تدبر نہیں کرتے ان کے دل دوسرے امور میں مصروف ہیں اور انھوں نے پیٹھ پھیر لی ہے۔

[5]﴿ فَقَدۡ كَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَؔهُمۡ ﴾ ’’انھوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا‘‘ حالانکہ حق اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔ اور اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے کہ اس نے ان کے لیے حق کو آسان کر دیا اور وہ ان کے پاس حق لے کر آیا مگر انھوں نے اس حق کا سامنا اس رویہ کے برعکس رویے کے ساتھ کیا جس رویے کے ساتھ انھیں اس کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔ اس لیے وہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ ﴿فَسَوۡفَ يَاۡتِيۡهِمۡ اَنۢۡبٰٓؤُا مَا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَؔ ﴾ ’’سو اب آئی جاتی ہے ان کے پاس حقیقت اس بات کی جس پر وہ ہنستے تھے‘‘ یعنی وہ چیز جس کا تمسخر اڑایا کرتے تھے اس کے بارے میں عنقریب انھیں معلوم ہو جائے گا کہ وہ حق اور سچ ہے، اللہ تعالیٰ جھٹلانے والوں کے جھوٹ اور بہتان کو کھول دے گا۔ یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جانے، جنت اور جہنم کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ قیامت کے روز ان جھٹلانے والوں سے کہا جائے گا ﴿ هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾(الطور: 52؍14) ’’یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ١ۙ لَا يَبۡعَثُ اللّٰهُ مَنۡ يَّمُوۡتُ١ؕ بَلٰى وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾(النحل: 16؍38،39) ’’اور اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ جو مر جاتا ہے اللہ اسے دوبارہ زندہ کر کے نہیں اٹھائے گا۔ کیوں نہیں یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ تاکہ جن باتوں میں یہ لوگ اختلاف کرتے تھے ان پر ظاہر کر دے اور اس لیے بھی کہ کافروں کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘

[6] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ امم سابقہ کے انجام سے عبرت پکڑیں چنانچہ فرمایا: ﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ﴾ ’’کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے جھٹلانے والی کتنی ہی قوموں کو پے در پے ہلاک کر دیا؟‘‘ اور اس ہلاکت سے پہلے ہم نے انھیں مہلت دی ﴿ مَّؔكَّـنّٰهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَؔكِّنۡ لَّـكُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کو زمین میں وہ قوت و طاقت دی جو تمھیں ہم نے نہیں دی‘‘ یعنی ہم نے انھیں مال، اولاد اور خوشحالی سے نوازا ﴿وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَؔ عَلَيۡهِمۡ مِّؔدۡرَارًا١۪ وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ ﴾ ’’اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنا دیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے‘‘ پھر اللہ تعالیٰ جو چاہتا اس پانی سے کھیتیاں اور پھل اگتے تھے جن سے وہ لوگ فائدہ اٹھاتے تھے اور جو دل چاہتا تھا تناول کرتے تھے۔ مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا، شہوات نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا اور لذات نے ان کو غافل کر دیا۔ پس ان کے رسول واضح دلائل کے ساتھ ان کے پاس آئے مگر انھوں نے ان کی تصدیق نہ کی بلکہ ان کو ٹھکرا دیا اور ان کو جھٹلا دیا ﴿ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ۠ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ﴾ ’’تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد دوسری امتوں کو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا پھر ان کے بعد اس نے اور قومیں پیدا کر دیں ۔ گزری ہوئی اور آنے والی قوموں کے بارے میں یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے پس اللہ تعالیٰ نے تمھارے سامنے ان کا جو قصہ بیان کیا ہے اس سے عبرت پکڑو۔

6:7–9Страница 128

وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتَٰبٗا فِي قِرۡطَاسٖ فَلَمَسُوهُ بِأَيۡدِيهِمۡ لَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٧

Если бы даже Мы ниспослали тебе Писание на бумаге, и они прикоснулись бы к ней своими руками, неверующие все равно бы сказали: «Это - очевидное колдовство».

وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٞۖ وَلَوۡ أَنزَلۡنَا مَلَكٗا لَّقُضِيَ ٱلۡأَمۡرُ ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ٨

Они сказали: «Почему к нему не спускается ангел?». Если бы Мы ниспослали ангела, то решение уже было бы вынесено, после чего они не получили бы отсрочки.

وَلَوۡ جَعَلۡنَٰهُ مَلَكٗا لَّجَعَلۡنَٰهُ رَجُلٗا وَلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِم مَّا يَلۡبِسُونَ ٩

Если бы даже Мы ниспослали ангела, Мы все равно сделали бы его мужчиной и привели бы их в замешательство относительно того, в чем они сомневаются.

اور اگر اتارتے ہم آپ پر کوئی نوشتہ (لکھا ہوا) کاغذ میں ، پھر چھوتے وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے تو بھی کہتے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا نہیں ہے یہ مگر جادو ظاہر(7) اور کہا انھوں نے کیوں نہیں نازل کیا گیا اس پر فرشتہ؟ اور اگر نازل کرتے ہم کوئی فرشتہ تو فیصلہ کر دیا جاتا معاملے کا، پھر نہ مہلت دیے جاتے(8) اور اگر بناتے ہم اس کو فرشتہ تو بھی بناتے ہم اس کو آدمی ہی اور البتہ شبہ ڈالتے ہم ان پر (وہی) جو شبہ وہ (اب) کر رہے ہیں (9)

[7] اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ) کو کفار کی شدت عناد سے آگاہ فرمایا ہے۔ اور یہ کہ ان کا یہ جھٹلانا آپ کی لائی ہوئی کتاب میں کسی نقص کی وجہ سے نہ تھا اور نہ اس کا سبب ان کی جہالت تھا، یہ تو محض ظلم اور زیادتی کی بنا پر تھا جس میں تمھارے لیے کوئی چارہ نہیں ۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿وَلَوۡ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ كِتٰبًا فِيۡ قِرۡطَاسٍ فَلَمَسُوۡهُ بِاَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اگر اتاریں ہم آپ پر لکھا ہوا کاغذ میں ، پھر چھو لیں اس کو اپنے ہاتھوں سے‘‘ یعنی انھیں یقین آجائے ﴿لَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’تو جو کافر ہیں وہ کہیں گے۔‘‘ یعنی ظلم اور تعدی کی بنا پر کفار کہیں گے ﴿ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘ اس سے بڑھ کر اور کون سی دلیل ہو سکتی ہے؟ اور یہ ہے اس بارے میں ان کا انتہائی قبیح قول۔ انھوں نے ایسی محسوس چیز کا انکار کر دیا جس کا انکار کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس میں معمولی سی بھی عقل ہے۔

[8]﴿وَقَالُوۡا﴾ یعنی وہ تلبیس کے طور پر کہتے ہیں جو معقول سے لاعلمی اور جہالت پر مبنی ہے ﴿لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡهِ مَلَكٌ ﴾ ’’ان پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا۔‘‘ یعنی محمد (ﷺ) کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ اترا جو اس کی مدد کرتا اور اس کام میں اس کی معاونت کرتا۔ کیونکہ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھے کہ رسول اللہ ﷺ تو بشر ہیں اور رسالت تو فرشتوں میں ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی رحمت اور اپنے بندوں کے ساتھ لطف و کرم کا معاملہ ہے کہ اس نے انھی میں سے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو کچھ وہ لے کر مبعوث ہوتا ہے، اس پر ایمان علم اور بصیرت کی بنا پر اور بالغیب ہو۔ ﴿ وَلَوۡ اَنۡزَلۡنَا مَلَكًا ﴾ ’’اگر ہم فرشتہ نازل کرتے۔‘‘ اگر ہم نے اپنی رسالت کے ساتھ کسی فرشتے کو بھیجا ہوتا تو یہ ایمان معرفت حق کی بنا پر نہ ہوتا بلکہ ایک ایسا ایمان ہوتا جو مشاہدہ سے صادر ہوتا ہے اور ایسا ایمان اکیلا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ یہ اس صورت میں ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں مگر غالب یہ ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اگر وہ ایمان نہ لائے ﴿ لَّقُضِيَ الۡاَمۡرُ ﴾ ’’تو طے ہو جائے قصہ‘‘ تو ان کی فوری ہلاکت اور عدم مہلت کا فیصلہ ہو جائے گا یہ اس شخص کے بارے میں سنت الٰہی ہے جو حسب خواہش معجزات کا مطالبہ کرتا ہے اور ان پر ایمان نہیں لاتا۔ اس لیے ان کی طرف رسول بشری کو آیات بینات کے ساتھ مبعوث کرنا، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندوں کے لیے بہتر اور نرم ہیں ۔ نیز کفار اور جھٹلانے والوں کو مہلت دینا، ان کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ پس ان کا فرشتے اتارنے کا مطالبہ اگر وہ جانیں تو ان کے لیے بہت برا ہے۔

[9] بایں ہمہ اگر فرشتہ نازل کر کے ان کی طرف رسول بنا کر بھیج دیا جائے تو وہ اس سے کچھ سیکھنے کی طاقت رکھتے نہ اس کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ ان کے قوائے فانی اس کا بوجھ اٹھانے کی طاقت رکھتے ہیں ﴿ وَلَوۡ جَعَلۡنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلۡنٰهُ رَجُلًا ﴾ ’’اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتے کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا‘‘ کیونکہ حکمت الہیہ اسی کا تقاضا کرتی ہے ﴿ وَّلَلَبَسۡنَا عَلَيۡهِمۡ مَّا يَلۡبِسُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو اسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں اب پڑ رہے ہیں ‘‘ یعنی ان پر معاملہ مختلط ہو جاتا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو شبہ میں مبتلا کر لیا کیونکہ انھوں نے اپنے معاملے کی بنیاد اسی قاعدے پر رکھی جو مشتبہ تھا اور اس میں حق واضح نہیں تھا۔ پس جب صحیح طریقوں سے حق ان کے پاس آ گیا اور اس کے وہ قواعد بھی آ گئے جو اس کے حقیقی قواعد ہیں تو یہ حق ان کے لیے ہدایت کا باعث نہ بن سکا جبکہ دوسروں نے اس کے ذریعے سے ہدایت پائی۔ گناہ ان کا اپنا ہے کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے گمراہی کے دروازے کھول لیے۔

6:10–11Страница 129

وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٖ مِّن قَبۡلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُواْ مِنۡهُم مَّا كَانُواْ بِهِۦ يَسۡتَهۡزِءُونَ ١٠

До тебя посланников также подвергали осмеянию, но тех, кто насмехался над ними, окружало (или постигало) то, над чем они издевались.

قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ ثُمَّ ٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ ١١

Скажи: «Постранствуйте по земле и посмотрите, каким был конец тех, которые сочли ложью истину».

اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے، پھر گھیر لیا ان کو جنھوں نے تمسخر کیا تھا ان میں سے، اس (عذاب) نے کہ تھے وہ اس کے ساتھ تمسخر کرتے(10) کہہ دیجیے! سیر کرو تم زمین میں ، پھر دیکھو کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا؟(11)

[10] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ کو تسلی دیتا ہے اور اسے صبر کی تلقین کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو تہدید و وعید سناتے ہوئے کہتا ہے ﴿ وَلَقَدِ اسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ﴾’’اور تحقیق استہزا کیا گیا رسولوں سے، آپ سے پہلے۔‘‘جب وہ واضح دلائل کے ساتھ اپنی امتوں کے پاس آئے تو انھوں نے ان کو جھٹلایا انھوں نے ان کے ساتھ اور ان کی تعلیمات کے ساتھ استہزا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کفر اور تکذیب کے باعث ہلاک کر دیا اور عذاب میں سے ان کو پورا پورا حصہ دیا۔ ﴿ فَحَاقَ بِالَّذِيۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠﴾ ’’پس گھیر لیا ان کو جو ان میں سے استہزا کرنے والے تھے، اس چیز نے جس کے ساتھ وہ استہزا کرتے تھے‘‘ پس اے جھٹلانے والو! جھٹلانے کی روش پر قائم رہنے سے باز آجاؤ، ورنہ تمھیں بھی وہی عذاب آ لے گا جو ان قوموں پر آیا تھا۔

[11]﴿ قُلۡ سِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ثُمَّ انۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ۠﴾ ’’کہو کہ ملک میں چلو پھراور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘ یعنی اگر تمھیں اس بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ تم دیکھو گے کہ ایسی قوم ہلاک کر دی گئی اور ایسی امتیں عذاب میں مبتلا کر دی گئیں ۔ ان کے گھر ویران ہو گئے اور ان عیش کدوں میں رہ کر مسرتوں کے مزے لوٹنے والے نیست و نابود ہو گئے۔۔۔ اللہ جبار نے ان کو ہلاک کر دیا اور اہل بصیرت کے لیے ان کو نشان عبرت بنا دیا۔ یہ (سَیْر) جس کا حکم دیا گیا ہے بدنی اور قلبی سیر کو شامل ہے جس سے عبرت جنم لیتی ہے۔ رہا عبرت حاصل کیے بغیر چل پھر کر دیکھنا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔

6:12Страница 129

قُل لِّمَن مَّا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ قُل لِّلَّهِۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفۡسِهِ ٱلرَّحۡمَةَۚ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ١٢

Скажи: «Кому принадлежит то, что на небесах и на земле?». Скажи: «Аллаху! Он предписал Себе милосердие. Он непременно соберет вас вместе в День воскресения, в котором нет сомнения. Те, которые потеряли самих себя, никогда не уверуют».

کہہ دیجیے! کس کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے؟ فرما دیجیے! اللہ ہی کا ہے، لازم کر لیا ہے اس نے اپنے نفس پر مہربانی کرنا، یقینا وہ جمع کرے گا انھیں روزقیامت کے، نہیں ہے کوئی شک اس میں ، جن لوگوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو، پس وہ نہیں ایمان لاتے(12)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ﴿لِّمَنۡ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے؟‘‘ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا۔ کون ان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ﴿قُلۡ ﴾ ان سے کہہ دیجیے ﴿ لِّلّٰه ِ﴾ ’’اللہ کا ہے‘‘ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے تو اس کے لیے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ ﴿ كَتَبَ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ ﴾ ’’اس نے لکھا ہے کہ اپنے نفس پر رحم کرنا‘‘ یعنی تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کے اقتدار اور تدبیر کے تحت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور احسان کی چادر پھیلا رکھی ہے اور اس کی بے پایاں رحمت نے ان سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ اس نے اپنے لیے لکھ رکھا ہے کہ ’’اس کی رحمت اس کے غصے پر غالب ہے۔‘‘عطا کرنا اس کے نزدیک محروم کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے ہیں اگر بندے اپنے گناہوں کے سبب خود ان کو اپنے آپ پر بند نہ کر لیں ، پھر اس نے انھیں ان دروازوں میں داخل ہونے کی دعوت دی ہے اگر ان کے گناہ اور عیب ان کو ان دروازوں کی طلب سے روک نہ دیں ۔ ﴿ لَيَجۡمَعَنَّـكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ ’’البتہ اکٹھا کرے گا تم کو قیامت کے دن جس میں کوئی شک نہیں ‘‘ اور یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے قسم ہے اور وہ سب سے زیادہ سچی خبر دینے والا ہے اور اس پر اس نے ایسے براہین و دلائل قائم کیے ہیں جو اسے حق الیقین قرار دیتے ہیں مگر ان ظالموں نے دلائل و براہین کو ٹھکرا دیا اور اللہ تعالیٰ کی اس قدرت کا انکار کر دیا کہ وہ مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا اور گناہ کرنے میں جلدی کی اور اس کے ساتھ کفر کرنے کی جسارت کی، پس وہ دنیا و آخرت میں خسارے میں پڑ گئے۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا تو وہ ایمان نہیں لاتے‘‘

معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورۂ مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لیے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے۔ بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیا و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English