Ас-Саади · Тафсир · на урду
الأحزاب
Аль-Ахзаб
Союзники · Мединская · 73 аята
33:1–3Страница 418
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ ٱتَّقِ ٱللَّهَ وَلَا تُطِعِ ٱلۡكَٰفِرِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا ١
О Пророк! Бойся Аллаха и не повинуйся неверующим и лицемерам. Воистину, Аллах - Знающий, Мудрый.
وَٱتَّبِعۡ مَا يُوحَىٰٓ إِلَيۡكَ مِن رَّبِّكَۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِيرٗا ٢
Следуй тому, что внушается тебе в откровении от твоего Господа. Воистину, Аллах ведает о том, что вы совершаете.
وَتَوَكَّلۡ عَلَى ٱللَّهِۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَكِيلٗا ٣
Уповай на Аллаха, и довольно того, что Аллах является Попечителем и Хранителем!
اے نبی! ڈریں اللہ سے اور نہ اطاعت کریں کافروں اور منافقوں کی، بلاشبہ اللہ ہے خوب جاننے والا، حکمت والا(1) اور پیروی کیجیے اس چیز کی جووحی کی جاتی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے بے شک اللہ ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو، خوب خبردار(2) اور توکل کیجیے اوپر اللہ کے اور کافی ہے اللہ کار ساز(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1، 2]یعنی اے وہ ہستی! جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا اور اپنی وحی کے لیے چن لیا اور تمام مخلوق پر فضیلت بخشی، اپنے اوپر اپنے رب کی اس نعمت پر تقویٰ کے ذریعے سے اس کا شکر ادا کیجیے جس کے دوسروں کی نسبت آپ زیادہ مستحق ہیں اور اسے اختیار کرنا دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ فرض ہے۔ پس اس کے اوامر و نواہی پر عمل کیجیے، اس کے پیغامات کی تبلیغ کیجیے، اس کے بندوں تک اس کی وحی کو پہنچائیے اور تمام مخلوق کی خیرخواہی کیجیے کوئی آپ کو آپ کے مقصد سے ہٹا سکے نہ آپ کی راہ کو کھوٹی کر سکے اور کسی کافر کی اطاعت نہ کیجیے جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے عداوت ظاہر کی ہو اور نہ کسی منافق کی اطاعت کیجیے، کیونکہ اس نے تکذیب اور کفر کو اپنے باطن میں چھپا رکھا ہے اور ان کے برعکس تصدیق و ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ بس یہی لوگ ہیں جو حقیقی دشمن ہیں ، لہٰذا بعض معاملات میں جو تقویٰ کے متناقض ہیں ان کی بات نہ مانئے اور ان کی خواہشات نفس کی پیروی نہ کیجیے ورنہ وہ آپ کو راہ صواب سے ہٹا دیں گے۔﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ لیکن ﴿اتَّبِـعۡ مَا يُوۡحٰۤى اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ﴾ ’’جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے اسی کی اتباع کیجیے۔‘‘ کیونکہ یہی ہدایت اور رحمت ہے اس کی پیروی کر کے اپنے رب کے ثواب کی امید رکھیے کیونکہ وہ تمھارے اعمال سے باخبر ہے، وہ تمھیں تمھارے اچھے اور برے اعمال کی اپنے علم کے مطابق جزا دے گا۔
[3]اگر آپ کے دل میں یہ بات ہو کہ آپ نے ان کی گمراہ کن خواہشات نفس کی پیروی نہ کی تو آپ کو ان سے کوئی نقصان پہنچ جائے گا یا مخلوق کی ہدایت میں نقص واقع ہو جائے گا تو اس خیال کو اپنے دل سے نکال پھینکیے اور اللہ پر بھروسہ کیجیے۔ ان کے شر سے سلامتی اور اقامت دین میں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اپنے رب پر اس شخص کی مانند اعتماد کیجیے جو اپنی ذات کے لیے کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا، جو موت پر اختیار رکھتا ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کر سکتا ہے، لہٰذا اس امر کے حصول کے بارے میں ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔﴿وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَؔكِيۡلًا﴾ ’’اور اللہ کافی کارساز ہے۔‘‘ اس لیے تمام معاملات کو اسی کے سپرد کر دیجیے وہ ان کا اس طریقہ سے انتظام کرے گا جو بندے کے لیے سب سے زیادہ درست ہو گا، پھر وہ ان مصالح کو اپنے بندے تک پہنچانے کی پوری قدرت رکھتا ہے جبکہ بندہ ان پر قادر نہیں، وہ اپنے بندے پر اس سے بھی کہیں زیادہ رحم کرتا ہے جتنا بندہ خود اپنے آپ پر رحم کر سکتا ہے یا اس پر اس کے والدین رحم کر سکتے ہیں۔ وہ اپنے بندے پر ہر ایک سے زیادہ رحمت والا ہے خصوصاً اپنے خاص بندوں پر، جن پر ہمیشہ سے اس کی ربوبیت اور احسان کا فیضان جاری ہے اور جن کو اپنی ظاہری اور باطنی برکتوں سے سرفراز کیا ہے، خاص طور پر اس نے حکم دیا ہے کہ تمام امور اس کے سپرد کر دیے جائیں، اس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی تدبیر کرے گا۔تب آپ نہ پوچھیں کہ ہر معاملہ کیسے آسان ہوگا، مشکلات کیسے دور ہوں گی، مصائب کیسے ختم ہوں گے، تکلیفیں کیسے زائل ہوں گی، ضرورتیں اور حاجتیں کیسے پوری ہوں گی، برکتیں کیسے نازل ہوں گی، سزائیں کیسے ختم ہو ں گی اور شر کیسے اٹھا لیا جائے گا... یہاں آپ کمزور بندے کو دیکھیں گے جس نے اپنا تمام معاملہ اپنے آقا کے سپرد کر دیا، اس کے آقا نے اس کے معاملات کا اس طرح انتظام کیا کہ لوگوں کی ایک جماعت بھی اس کا انتظام نہ کر سکتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ایسے معاملات اس کے لیے نہایت آسان کر دیے جو بڑے بڑے طاقتور لوگوں کے لیے بھی نہایت مشکل تھے۔ وباللہ المستعان۔
33:4–5Страница 418
مَّا جَعَلَ ٱللَّهُ لِرَجُلٖ مِّن قَلۡبَيۡنِ فِي جَوۡفِهِۦۚ وَمَا جَعَلَ أَزۡوَٰجَكُمُ ٱلَّٰٓـِٔي تُظَٰهِرُونَ مِنۡهُنَّ أُمَّهَٰتِكُمۡۚ وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ ٤
Аллах не даровал человеку двух сердец в одном теле. Он не сделал вашими матерями тех ваших жен, которых вы объявляете запретными для себя, и не сделал ваших приемных сыновей вашими сыновьями. Это - всего лишь слова из ваших уст. Аллах же глаголет истину и наставляет на прямой путь.
ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا ٥
Зовите их (приемных детей) по именам их отцов. Это более справедливо перед Аллахом. Если же вы не знаете их отцов, то они являются вашими братьями по вере и вашими близкими. Не будет на вас греха, если вы совершите ошибку, если только вы не вознамерились совершить такое в сердце. Аллах - Прощающий, Милосердный.
نہیں بنائے اللہ نے واسطے کسی آدمی کے دو دل اس کے سینے میں اور نہیں بنایا اس نے تمھاری بیویوں کو، وہ جو ظہار کرتے ہو تم ان سے، تمھاری مائیں، اور نہیں بنایا اس نے تمھارے لے پالکوں کو تمھارے بیٹے، یہ تمھارا کہنا ہے اپنے مونہوں سے، اور اللہ کہتا ہے حق اور وہی ہدایت دیتا ہے سیدھے راستے کی (4) پکارو تم ان کو ان کے باپوں کی طرف (نسبت کر کے) یہ زیادہ انصاف کی بات ہے نزدیک اللہ کے، پس اگر نہ جانوان کے باپوں کو تو (وہ) بھائی ہیں تمھارے دین میں اور دوست تمھارے، اور نہیں ہے تم پر کوئی گناہ اس میں جو چوک جاؤ تم اس (کے بولنے) میں لیکن (وہ گناہ ہے) جوارادہ کیا تمھارے دلوں نے اور ہے اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5)
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسے امور میں گفتگو نہ کریں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مقرر نہیں فرمایا جیسا کہ وہ کہتے ہیں۔ یہ ان کی اپنی بات ہے جو جھوٹ اور باطل ہے، جس پر شرعی برائیاں مرتب ہوتی ہیں۔ یہ ہر معاملے میں گفتگو کرنے اور کسی چیز کے وقوع و وجود کے بارے میں، جسے اللہ تعالیٰ نے نہ کیا ہو، خبر دینے میں ایک عام قاعدہ ہے، مگر مذکورہ چیزوں کو ان کے کثرت و قوع اور ان کو بیان کرنے کی حاجت کی بنا پر مخصوص کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنۡ قَلۡبَيۡنِ فِيۡ جَوۡفِهٖ﴾’’اللہ نے کسی آدمی کے پہلو میں دو دل نہیں بنائے‘‘ یہ صورت کبھی نہیں پائی جاتی۔ پس کسی کے بارے میں یہ کہنے سے بچو کہ اس کے پہلو میں دو دل ہیں ورنہ تم تخلیق الٰہی کے بارے میں جھوٹ کے مرتکب بنو گے۔﴿وَمَا جَعَلَ اَزۡوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔيۡ تُظٰهِرُوۡنَ ﴾ ’’اور (اللہ نے) نہیں بنایا تمھاری عورتوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو‘‘ یعنی تم میں سے کسی شخص کا اپنی بیوی سے یہ کہنا: ’’تو میرے لیے ایسے ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یا، جیسے میری ماں‘‘ تو نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے انھیں ﴿اُمَّهٰؔتِكُمۡ ﴾ ’’تمھاری مائیں‘‘ تیری ماں تو وہ ہے جس نے تجھے جنم دیا، جو تیرے لیے تمام عورتوں سے بڑھ کر حرمت و تحریم کی حامل ہے اور تیری بیوی تیرے لیے سب سے زیادہ حلال عورت ہے، تب تو دو متناقض امور کو کیسے ایک دوسرے کے مشابہ قرار دے رہا ہے جبکہ یہ ہرگز جائز نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلَّذِيۡنَ يُظٰهِرُوۡنَ مِنۡكُمۡ مِّنۡ نِّسَآىِٕهِمۡ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمۡ١ؕ اِنۡ اُمَّهٰتُهُمۡ اِلَّا الّٰٓـِٔيۡ وَلَدۡنَهُمۡ١ؕ وَاِنَّهُمۡ لَيَقُوۡلُوۡنَ مُنۡؔكَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَزُوۡرًا ؔ﴾(المجادلۃ:58؍2)’’تم میں سے جو لوگ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتے ہیں، وہ اس طرح ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے ان کو جنم دیا، بلاشبہ وہ ایک جھوٹی اور بری بات کہتے ہیں۔‘‘﴿وَمَا جَعَلَ اَدۡعِيَآءَكُمۡ۠ اَبۡنَآءَكُمۡ﴾ ’’اور تمھاری لے پالکوں کو تمھارے بیٹے نہیں بنایا۔‘‘ (اَدْعِیَاء) اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کے بارے میں کوئی شخص اپنا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے مگر وہ اس کا بیٹا نہ ہو یا اسے متبنیٰ ہونے کی وجہ سے بیٹا کہا جائے۔ جیسا کہ ایام جاہلیت اور اسلام کی ابتدا میں یہ رواج موجود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس رواج کو ختم کرنے کا ارادہ فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے اس رواج کی برائی بیان کی اور واضح کیا کہ یہ باطل اور جھوٹ ہے۔ باطل اور جھوٹ کا اللہ تعالیٰ کی شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندے اس سے متصف ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو، جن کو تم بیٹا کہتے ہو یا وہ تمھارا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،تمھارا بیٹا نہیں بنایا۔ حقیقت میں تمھارے بیٹے وہ ہیں جو تم میں سے ہیں اور جن کو تم نے جنم دیا ہے اور رہے دوسرے لوگ جن کے بارے میں تم اپنے بیٹے ہونے کا دعویٰ کرتے ہو وہ تمھارے حقیقی بیٹوں کی مانند نہیں ہیں۔ ﴿ذٰلِكُمۡ ﴾ یہ بات جو تم منہ بولے بیٹوں کے بارے میں کہتے ہو کہ یہ فلاں کا بیٹا ہے، اس شخص کے لیے جو اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس کا باپ فلاں ہے ﴿قَوۡلُكُمۡ بِاَفۡوَاهِكُمۡ ﴾ ’’تمھارے منہ کی باتیں ہیں۔‘‘ یعنی یہ ایسی بات ہے کہ جس کی کوئی حقیقت ہے نہ معنی۔ ﴿وَاللّٰهُ يَقُوۡلُ الۡحَقَّ﴾ ’’اور اللہ حق بات کہتا ہے۔‘‘ یعنی جو صداقت اور یقین پر مبنی ہے اس لیے اس نے تمھیں اس کی اتباع کا حکم دیا ہے۔ اس کا قول حق اور اس کی شریعت حق ہے، تمام باطل اقوال و افعال کسی بھی لحاظ سے اس کی طرف منسوب نہیں کیے جاسکتے اور نہ اس کی ہدایت سے ان کا کوئی تعلق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو صرف صراط مستقیم اور صدق کے طریقوں کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اگر یہ اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوا ہے تو اس کی مشیت اس کائنات میں جو بھی خیروشر موجود ہے، سب کے لیے عام ہے۔
[5] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا:﴿اُدۡعُوۡهُمۡ ﴾ ’’ان کو پکارو‘‘ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمۡ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَ اَقۡسَطُ عِنۡدَ اللّٰهِ ﴾یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔﴿فَاِنۡ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ ﴾ ’’پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے‘‘ ﴿فَاِخۡوَانُكُمۡ فِي الدِّيۡنِ وَمَوَالِيۡكُمۡ ﴾تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔﴿وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٌ فِيۡمَاۤ اَخۡطَاۡتُمۡ بِهٖ﴾ ’’اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔‘‘ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنۡ ﴾ ’’مگر‘‘ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ ﴾ ’’جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔‘‘ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔
33:6Страница 418
ٱلنَّبِيُّ أَوۡلَىٰ بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ مِنۡ أَنفُسِهِمۡۖ وَأَزۡوَٰجُهُۥٓ أُمَّهَٰتُهُمۡۗ وَأُوْلُواْ ٱلۡأَرۡحَامِ بَعۡضُهُمۡ أَوۡلَىٰ بِبَعۡضٖ فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُهَٰجِرِينَ إِلَّآ أَن تَفۡعَلُوٓاْ إِلَىٰٓ أَوۡلِيَآئِكُم مَّعۡرُوفٗاۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡكِتَٰبِ مَسۡطُورٗا ٦
Пророк ближе к верующим, чем они сами, а его жены - их матери. В соответствии с предписанием Аллаха, кровные родственники ближе друг к другу, чем верующие и мухаджиры, если только вы не сделаете добро своим друзьям. Так было записано в Писании (Хранимой скрижали).
پیغمبر زیادہ حق دار ہے(ہر قسم کا تصرف کرنے میں) مومنوں پر ان کے نفسوں سے بھی اور بیویاں اس کی مائیں ہیں ان کی اور رشتے دار، بعض ان کے زیادہ حق دار ہیں ساتھ بعض کے، اللہ کی کتاب میں، (دیگر) مومنوں اور مہاجروں سے، مگر یہ کہ کرو تم ساتھ اپنے دوستوں کے کوئی بھلائی، (تو یہ جائز ہے) ہے یہی (حکم)کتاب میں لکھا ہوا(6)
[6] اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفیﷺ کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبہ کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں، چنانچہ فرمایا ﴿اَلنَّبِيُّ اَوۡلٰى بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔‘‘ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ ﷺ ان کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کا احسان ہے کیونکہ انھیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد، رسول اللہ ﷺ کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے قول سے، کسی شخص کے قول کا، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، مقابلہ نہ کریں، آپ ﷺ پر اپنی جان، مال اور اولاد کو فدا کر دیں، آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں، جب تک کہ آپ بول نہ لیں، ہرگز نہ بولیں، اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔ رسول مصطفیﷺ، مومنوں کے باپ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام yکی قراء ت میں پڑھا گیا ہے، آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ یعنی حرمت، احترام اور اکرام کے اعتبار سے نہ کہ خلوت و محرمیت کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہw کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا، زید بن حارثہw اس سے پہلے ’’زید بن محمد‘‘ کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِكُمۡ ﴾(الاحزاب:33؍40) ’’محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کر دیے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان، رسول (ﷺ)کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہو گیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غمزدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں ، لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے:﴿وَلَاۤ اَنۡ تَنۡكِحُوۡۤا اَزۡوَاجَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖۤ اَبَدًا ﴾(الاحزاب:33؍53) ’’اور نہ تمھارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ(ﷺ)کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔‘‘﴿وَاُولُوا الۡاَرۡحَامِ ﴾ یعنی رشتہ دار، خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ ﴿بَعۡضُهُمۡ اَوۡلٰى بِبَعۡضٍ فِيۡ كِتٰبِ اللّٰهِ ﴾’’آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے، ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے، اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس توارث کو منقطع کر دیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنا دیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُهٰؔجِرِيۡنَ ﴾ خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں، بہر حال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے، مثلاً: نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت ﴿اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰۤى اَوۡلِيٰٓؔىِٕكُمۡ۠ مَّعۡرُوۡفًا ﴾ ’’مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔‘‘ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمھارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو۔ ﴿كَانَ ذٰلِكَ ﴾ یہ حکم مذکور ﴿ فِي الۡكِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴾ کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کر دیا ہے، لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔
33:7–8Страница 419
وَإِذۡ أَخَذۡنَا مِنَ ٱلنَّبِيِّـۧنَ مِيثَٰقَهُمۡ وَمِنكَ وَمِن نُّوحٖ وَإِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَى ٱبۡنِ مَرۡيَمَۖ وَأَخَذۡنَا مِنۡهُم مِّيثَٰقًا غَلِيظٗا ٧
Вот Мы заключили завет с пророками, с тобой, Нухом (Ноем), Ибрахимом (Авраамом), Мусой (Моисеем) и Исой (Иисусом), сыном Марьям (Марии). Мы заключили с ними суровый завет,
لِّيَسۡـَٔلَ ٱلصَّٰدِقِينَ عَن صِدۡقِهِمۡۚ وَأَعَدَّ لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَابًا أَلِيمٗا ٨
чтобы Он спросил правдивых об их правдивости. Он приготовил неверующим мучительные страдания.
اور جب لیا ہم نے نبیوں سے عہد ان کا اورآپ سے اور نوح سے، اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے اور لیا ہم نے ان سے عہد بڑا پختہ(7) تاکہ وہ (اللہ) پوچھے سچوں سے ان کی سچائی کی بابت اور تیارکیا ہے اس نے واسطے کافروں کے عذاب درد ناک(8)
[7، 8] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء و مرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آ کر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انھیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے؟ یا انھوں نے کفر کیا تاکہ انھیں دردناک عذاب دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾(الأحزاب:33؍23) ’’اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔‘‘
33:9–11Страница 419
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱذۡكُرُواْ نِعۡمَةَ ٱللَّهِ عَلَيۡكُمۡ إِذۡ جَآءَتۡكُمۡ جُنُودٞ فَأَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِمۡ رِيحٗا وَجُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرًا ٩
О те, которые уверовали! Помните милость Аллаха, которая была оказана вам, когда воины выступили против вас. Мы наслали на них ветер и воинов, которых вы не видели. Аллах видит то, что вы совершаете.
إِذۡ جَآءُوكُم مِّن فَوۡقِكُمۡ وَمِنۡ أَسۡفَلَ مِنكُمۡ وَإِذۡ زَاغَتِ ٱلۡأَبۡصَٰرُ وَبَلَغَتِ ٱلۡقُلُوبُ ٱلۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِٱللَّهِ ٱلظُّنُونَا۠ ١٠
Вот они напали на вас сверху и снизу, и тогда взоры замерли, сердца достигли горла, и вы стали делать предположения об Аллахе.
هُنَالِكَ ٱبۡتُلِيَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَزُلۡزِلُواْ زِلۡزَالٗا شَدِيدٗا ١١
Там верующие подверглись испытанию и сильному потрясению.
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو تم احسان اللہ کا اوپر اپنے، جب (چڑھ) آئے تھے تم پر کئی لشکر، پس بھیجی ہم نے ان پر (سخت) ہوا اور ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو، اور تھا اللہ ساتھ اس کے جو تم کر رہے تھے، خوب دیکھنے والا(9)جب وہ (چڑھ) آئے تھے تم پر تمھارے اوپر سے اور نیچے سے تمھارے، اور جب ، پھر گئی تھیں آنکھیں اور پہنچ گئے تھے دل گلوں تک اور گمان کرتے تھے تم اللہ کے بارے میں (طرح طرح کے) گمان(10)اس جگہ (ا س موقعے) پر آزمائے گئے مومن اور ہلائے گئے وہ ہلایا جانا نہایت سخت(11)
[11-9] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمت یاد دلا کر انھیں اس پر شکر ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ جب ان کے اوپر سے مشرکین مکہ اور مشرکین حجاز کے لشکر اور نیچے سے کفار نجد کے لشکر ان پر حملہ آور ہوئے۔ حملہ آوروں نے آپس میں عہد کر رکھا تھا کہ وہ رسول (ﷺ)اور صحابہ کرام کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔ یہ غزوہ احزاب کا واقعہ ہے۔ ان یہودی گروہوں نے بھی ان کی مدد کی جو مدینہ منورہ کے اردگرد رہتے تھے، وہ بھی بڑے بڑے لشکر لے آئے۔رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ کے اردگرد دفاع کے لیے خندق کھود لی۔ کفار نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا۔ معاملہ بہت سخت ہو گیا، کلیجے منہ کو آگئے اور لوگوں نے جب بہت سخت حالات اور اسباب دیکھے تو بہت سے لوگ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ ایک طویل مدت تک مدینہ منورہ کا محاصرہ جاری رہا۔ معاملہ ایسے ہی تھا جیسے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا:﴿وَاِذۡ زَاغَتِ الۡاَبۡصَارُ وَبَلَغَتِ الۡقُلُوۡبُ الۡحَنَاجِرَ وَتَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوۡنَا ﴾’’اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے برے گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرے گا نہ اپنے کلمہ کی تکمیل کرے گا۔﴿هُنَالِكَ ابۡتُلِيَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ اس وقت اہل ایمان اس عظیم فتنے کے ذریعے سے آزمائے گئے ﴿وَزُلۡزِلُوۡا زِلۡزَالًا شَدِيۡدًا ﴾ اور ان کو خوف، قلق اور بھوک کے ذریعے سے ہلا ڈالا گیا تاکہ ان کا ایمان واضح اور ان کے ایقان میں اضافہ ہو… ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے… ان کے ایمان اور ان کے یقین کی پختگی اس طرح ظاہر ہوئی کہ وہ اولین و آخرین پر فوقیت لے گئے۔ جب غم کی شدت بڑھ گئی اور سختیوں نے گھیر لیا تو ان کا ایمان عین الیقین کے درجے پر پہنچ گیا۔ ﴿وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ١ۙ قَالُوۡا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ١ٞ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا﴾(الاحزاب:33؍22) ’’اور جب اہل ایمان نے لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ یہ تو وہی ہے جس کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ کیا تھا، اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا تھا اور اس واقعے نے ان کے ایمان و تسلیم میں اور اضافہ کر دیا۔‘‘
یہاں منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہو گیا اور وہ چیز سامنے آگئی جسے وہ چھپایا کرتے تھے۔
33:12Страница 419
وَإِذۡ يَقُولُ ٱلۡمُنَٰفِقُونَ وَٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ مَّا وَعَدَنَا ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ إِلَّا غُرُورٗا ١٢
Вот сказали лицемеры и те, чьи сердца поражены недугом: «Обещания Аллаха и Его Посланника были всего лишь обольщением».
اور جب کہہ رہے تھے منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے، نہیں وعدہ کیا ہم سے اللہ نے اور اس کے رسول نے، مگر فریب کا(12)
[12] یہ منافق کی عادت ہے کہ مصیبت اور امتحان کے وقت اس کا ایمان قائم نہیں رہتا۔ وہ موجودہ حالت میں اپنی کوتاہ عقل سے غور کرتا ہے اور اپنے ناقص گمان کی تصدیق کرتا ہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии