Ас-СаадиАль‑Инфитар · 82:1–19

Ас-Саади · Тафсир · на урду

الإنفطار

Аль-Инфитар

Раскалывание · Мекканская · 19 аятов

82:1–5Страница 587

إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتۡ ١

Когда небо расколется,

وَإِذَا ٱلۡكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتۡ ٢

когда тела небесные осыплются,

وَإِذَا ٱلۡبِحَارُ فُجِّرَتۡ ٣

когда моря перельются и смешаются (или высохнут),

وَإِذَا ٱلۡقُبُورُ بُعۡثِرَتۡ ٤

когда могилы перевернутся,

عَلِمَتۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ وَأَخَّرَتۡ ٥

тогда каждая душа узнает, что она совершила и что оставила после себя.

جب آسمان پھٹ جائے گا(1) اور جب تارے بکھر جائیں گے(2) اور جب سمندر چلا دیے جائیں گے(3) اور جب قبریں اکھیڑ دی جائیں گی(4) تو جان لے گا ہر نفس جو آگے بھیجا اس نے اور (جو) پیچھے چھوڑا(5)

تفسیر سورۂ انفطار

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[5-1] یعنی جب آسمان پھٹ کر پراگندہ ہو جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے اور ان کا حسن و جمال زائل ہو جائے گا، جب سمندر بہہ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک ہی سمندر بن جائیں گے، قبریں شق کر کے اکھاڑ دی جائیں گی، اور ان میں سے مردے باہر نکال لیے جائیں گے اور ان کو اعمال کی جزا و سزا کی خاطر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا کرنے کے لیے جمع کیا جائے گا، پس اس وقت پردہ ہٹ جائے گا اور وہ سب کچھ زائل ہو جائے گا جو چھپاہوا تھا۔ اور ہر نفس جان لے گا کہ اس کے پاس کیا نفع اور خسران ہے، اس وقت جب ظالم دیکھے گا کہ اس کے ہاتھوں نے کیا کمائی آگے بھیجی ہے اور شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی کا یقین ہو جائے گا تو وہ (حسرت اور پشیمانی سے) اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا۔ اس وقت متقین جنھوں نے صالح اعمال آگے بھیجے ہیں، عظیم کامیابی، دائمی نعمتوں اور جہنم کے عذاب سے سلامتی سے بہرہ مند ہوں گے۔

82:6–12Страница 587

يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلۡكَرِيمِ ٦

О человек! Что ввело тебя в заблуждение относительно твоего Великодушного Господа,

ٱلَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ ٧

Который сотворил тебя и сделал твой облик совершенным и соразмеренным?

فِيٓ أَيِّ صُورَةٖ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ ٨

Он сложил тебя в том облике, в каком пожелал.

كـَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ ٩

Но нет! Вы же считаете ложью воздаяние.

وَإِنَّ عَلَيۡكُمۡ لَحَٰفِظِينَ ١٠

Воистину, над вами есть хранители -

كِرَامٗا كَٰتِبِينَ ١١

благородные писцы,

يَعۡلَمُونَ مَا تَفۡعَلُونَ ١٢

которые знают о том, что вы совершаете.

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12)

[8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘

[12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔

82:13–19Страница 587

إِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ ١٣

Воистину, благочестивые окажутся в блаженстве.

وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ ١٤

Воистину, грешники окажутся в Аду,

يَصۡلَوۡنَهَا يَوۡمَ ٱلدِّينِ ١٥

куда они войдут в День воздаяния.

وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآئِبِينَ ١٦

Они не смогут избежать этого.

وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ ١٧

Откуда ты мог знать, что такое День воздаяния?

ثُمَّ مَآ أَدۡرَىٰكَ مَا يَوۡمُ ٱلدِّينِ ١٨

Да, откуда ты мог знать, что такое День воздаяния?

يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٞ لِّنَفۡسٖ شَيۡـٔٗاۖ وَٱلۡأَمۡرُ يَوۡمَئِذٖ لِّلَّهِ ١٩

В тот день ни одна душа не сможет ничем помочь другой, и власть в тот день будет принадлежать Аллаху.

بلاشبہ نیک لوگ ، البتہ نعمت (جنت) میں ہوں گے(13)اوربلا شبہ بدکار لوگ ، البتہ جہنم میں ہوں گے(14) وہ داخل ہوں گے اس میں یوم جزا کو (15) اور نہ وہ اس سے غائب ہوں گے (16) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے یوم جزا؟ (17) پھر کس چیز نے خبر دی آپ کوکہ کیا ہے یوم جزا؟ (18) اس دن نہیں اختیار رکھے گا کوئی نفس کسی نفس کے لیے کچھ بھی، اور حکم اس دن صرف اللہ ہی کا ہو گا(19)

[19-13]﴿الۡاَبۡرَارَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ ﴿ وَاِنَّ الۡؔفُجَّارَ ﴾ ’’اور بے شک فاجر لوگ۔‘‘ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَفِيۡ جَحِيۡمٍ ﴾ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ يَّصۡلَوۡنَهَا ﴾ ’’وہ اس میں داخل ہوں گے۔‘‘ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ يَوۡمَ الدِّيۡنِ ﴾ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمۡ عَنۡهَا بِغَآىِٕبِيۡنَ﴾ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا يَوۡمُ الدِّيۡنِ﴾ ’’اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟‘‘ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ يَوۡمَ لَا تَمۡلِكُ نَفۡسٌ لِّنَفۡسٍ شَيۡـًٔؔا﴾ اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالۡاَمۡرُ يَوۡمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ﴾ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English