Al-Ahzab 33:29
The Combined Forces · Juz 21 · Page 421
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٢٩
But if you should desire Allāh and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allāh has prepared for the doers of good among you a great reward."
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 33:28–29
اے پیغمبر! کہہ دیجیے! اپنی بیویوں سے، اگر ہو تم چاہتی زندگی دنیا کی اور زیب و زینت اس کی تو آؤ ! میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کر دوں رخصت کرنا اچھے طریقے سے (28) اور اگر ہو تم چاہتی اللہ کو اور اس کےرسول کو اور آخرت کے گھر کو تو بلاشبہ اللہ نے تیار کیا ہے نیکی کرنے و الیوں کے لیے تم میں سے، اجر بہت بڑا (29)
[28] رسول اللہ کی ازواج مطہراتg نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلاء (زو جہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کے معاملے کو آسان اور آپ کی ازواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔‘‘ یعنی اگر دنیا کے سوا تمھارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو۔ اگر تمھارا یہی حال ہے تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں۔ ﴿فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ ﴾ ’’تو آؤ میں تمھیں کچھ مال دوں۔‘‘ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمھیں عطا کر دوں۔ ﴿وَاُسَرِّحۡؔكُنَّ ﴾ اور تمھیں الگ کر دوں ﴿سَرَاحًا جَمِيۡلًا﴾ یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمھیں آزاد کر دوں۔
[29]﴿وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو۔‘‘ یعنی اگر آخرت کا گھر تمھارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمھیں اللہ، اس کا رسول اور آخرت حاصل ہو جائیں تو تمھیں دنیا کی کشادگی اور تنگی، اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمھیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡؔكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول (ﷺ)کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسولﷺ کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے تمام ازواج مطہراتg کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کر لیا، ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی ۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (ﷺ)کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا، آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔(۲) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا، اپنے آپ میں آزاد ہونا، اگر آپ ﷺ چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ﴾(الاحزاب:33؍38)’’نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دیا۔‘‘(۳) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے ، مثلاً:اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا... تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔(۴)آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ پر ان کی ناراضی کو ختم کر دیا، جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی، آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔(۵)ان آیات کریمہ سے، ازواج مطہرات کی رفعت، ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انھوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔(۶)ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے۔ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔(۷) اس آیت کریمہ سے نبی ﷺ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کامل ترین ہستی ہیں اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ ﴿وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ ﴾(النور:24؍26)’’پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔‘‘(۸)یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے، لالچ اور عدم رضا زائل ہو جاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق، اضطراب اور ہم و غم کا باعث ہوتے ہیں۔(۹) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا، ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔
Page 421
33:23
مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ رِجَالٞ صَدَقُواْ مَا عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ عَلَيۡهِۖ فَمِنۡهُم مَّن قَضَىٰ نَحۡبَهُۥ وَمِنۡهُم مَّن يَنتَظِرُۖ وَمَا بَدَّلُواْ تَبۡدِيلٗا ٢٣
Among the believers are men true to what they promised Allāh. Among them is he who has fulfilled his vow [to the death], and among them is he who awaits [his chance]. And they did not alter [the terms of their commitment] by any alteration -
33:24
لِّيَجۡزِيَ ٱللَّهُ ٱلصَّٰدِقِينَ بِصِدۡقِهِمۡ وَيُعَذِّبَ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ إِن شَآءَ أَوۡ يَتُوبَ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ غَفُورٗا رَّحِيمٗا ٢٤
That Allāh may reward the truthful for their truth and punish the hypocrites if He wills or accept their repentance. Indeed, Allāh is ever Forgiving and Merciful.
33:25
وَرَدَّ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِغَيۡظِهِمۡ لَمۡ يَنَالُواْ خَيۡرٗاۚ وَكَفَى ٱللَّهُ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٱلۡقِتَالَۚ وَكَانَ ٱللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزٗا ٢٥
And Allāh repelled those who disbelieved, in their rage, not having obtained any good. And sufficient was Allāh for the believers in battle, and ever is Allāh Powerful and Exalted in Might.
33:26
وَأَنزَلَ ٱلَّذِينَ ظَٰهَرُوهُم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡكِتَٰبِ مِن صَيَاصِيهِمۡ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ ٱلرُّعۡبَ فَرِيقٗا تَقۡتُلُونَ وَتَأۡسِرُونَ فَرِيقٗا ٢٦
And He brought down those who supported them among the People of the Scripture1 from their fortresses and cast terror into their hearts [so that] a party [i.e., their men] you killed, and you took captive a party [i.e., the women and children].
1 translator’s note
- The Jews of Banū Quraythah, who had violated their treaty with the Muslims. ↩
33:27
وَأَوۡرَثَكُمۡ أَرۡضَهُمۡ وَدِيَٰرَهُمۡ وَأَمۡوَٰلَهُمۡ وَأَرۡضٗا لَّمۡ تَطَـُٔوهَاۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٗا ٢٧
And He caused you to inherit their land and their homes and their properties and a land which you have not trodden.1 And ever is Allāh, over all things, competent.
1 translator’s note
- i.e., that taken in subsequent conquests. ↩
33:28
يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ أُمَتِّعۡكُنَّ وَأُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحٗا جَمِيلٗا ٢٨
O Prophet, say to your wives, "If you should desire the worldly life and its adornment, then come, I will provide for you and give you a gracious release.
33:29
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٢٩
But if you should desire Allāh and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allāh has prepared for the doers of good among you a great reward."
33:30
يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ مَن يَأۡتِ مِنكُنَّ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖ يُضَٰعَفۡ لَهَا ٱلۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٗا ٣٠
O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allāh, easy.