As-Sa'diAl‑Ahzab · 33:28–37

As-Sa'di · Tafsir · in Urdu

Al-Ahzab 33:28–37

33:28–29Page 421

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ أُمَتِّعۡكُنَّ وَأُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحٗا جَمِيلٗا ٢٨

O Prophet, say to your wives, "If you should desire the worldly life and its adornment, then come, I will provide for you and give you a gracious release.

وَإِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلدَّارَ ٱلۡأٓخِرَةَ فَإِنَّ ٱللَّهَ أَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنَٰتِ مِنكُنَّ أَجۡرًا عَظِيمٗا ٢٩

But if you should desire Allāh and His Messenger and the home of the Hereafter - then indeed, Allāh has prepared for the doers of good among you a great reward."

اے پیغمبر! کہہ دیجیے! اپنی بیویوں سے، اگر ہو تم چاہتی زندگی دنیا کی اور زیب و زینت اس کی تو آؤ ! میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اور تمھیں رخصت کر دوں رخصت کرنا اچھے طریقے سے (28) اور اگر ہو تم چاہتی اللہ کو اور اس کےرسول کو اور آخرت کے گھر کو تو بلاشبہ اللہ نے تیار کیا ہے نیکی کرنے و الیوں کے لیے تم میں سے، اجر بہت بڑا (29)

[28] رسول اللہ کی ازواج مطہراتg نے جمع ہو کر آپ ﷺ سے کچھ ایسے مطالبات کیے جن کو ہر وقت پورا نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر وہ متفق ہو کر اپنا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ چیز رسول اللہ ﷺ پر بہت شاق گزری۔ حالت یہاں تک پہنچی کہ آپ کو ان کے ساتھ ایک ماہ کے لیے ایلاء (زو جہ کے قریب نہ جانے کا عہد) کرنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول (ﷺ)کے معاملے کو آسان اور آپ کی ازواج مطہرات کے درجات کو بلند کرنا چاہتا تھا اور آپ کی ازواج مطہرات سے ہر اس بات کو دور کرنا چاہتا تھا جو ان کے اجر کو کم کرے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی ازواج کو (اپنے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا) اختیار دے دیں۔ فرمایا: ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِكَ اِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا وَزِيۡنَتَهَا ﴾ ’’اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو۔‘‘ یعنی اگر دنیا کے سوا تمھارا کوئی مطلب نہیں اور تم دنیا کی زندگی پر راضی اور اس کے فقدان پر ناراض ہو۔ اگر تمھارا یہی حال ہے تو مجھے تمھاری کوئی ضرورت نہیں۔ ﴿فَتَعَالَيۡنَ اُمَتِّعۡكُنَّ ﴾ ’’تو آؤ میں تمھیں کچھ مال دوں۔‘‘ یعنی میرے پاس جو بھی سروسامان ہے، وہ تمھیں عطا کر دوں۔ ﴿وَاُسَرِّحۡؔكُنَّ ﴾ اور تمھیں الگ کر دوں ﴿سَرَاحًا جَمِيۡلًا﴾ یعنی کسی ناراضی اور سب و شتم کے بغیر، بلکہ خوش دلی اور انشراح صدر کے ساتھ، اس سے قبل کہ حالات نامناسب سطح تک پہنچ جائیں تمھیں آزاد کر دوں۔

[29]﴿وَاِنۡ كُنۡتُنَّ تُرِدۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَالدَّارَ الۡاٰخِرَةَ ﴾ ’’اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کی طلبگار ہو۔‘‘ یعنی اگر آخرت کا گھر تمھارا مطلوب و مقصود ہے اور جب تمھیں اللہ، اس کا رسول اور آخرت حاصل ہو جائیں تو تمھیں دنیا کی کشادگی اور تنگی، اس کی آسانی اور سختی کی پروا نہ ہو اور تم اسی پر قناعت کرو جو تمھیں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے میسر ہے اور آپ سے ایسا مطالبہ نہ کرو جو آپ پر شاق گزرے ﴿فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلۡمُحۡسِنٰتِ مِنۡؔكُنَّ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’تو (جان لو) اللہ نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کررکھا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے وصف احسان پر اجر مرتب کیا ہے کیونکہ اس اجر کا سبب اور موجب یہ نہیں کہ وہ رسول (ﷺ)کی بیویاں ہیں بلکہ اس کا موجب یہی وصف ہے۔ احسان کا وصف معدوم ہوتے ہوئے مجرد رسولﷺ کی بیویاں ہونا کافی نہیں۔رسول اللہ ﷺ نے تمام ازواج مطہراتg کو اختیار دے دیا۔ تمام ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول اور آخرت کو اختیار کر لیا، ان میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہی ۔ اس تخییر سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں:(۱) اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول (ﷺ)کے لیے اہتمام کرنا اور اس پر غیرت کا اظہار کرنا، آپ کا ایسے حال میں ہونا کہ آپ کی ازواج مطہرات کے بہت سے دنیاوی مطالبات کا آپ پر شاق گزرنا۔(۲) اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج مطہرات کے حقوق کے بوجھ سے سلامت ہونا، اپنے آپ میں آزاد ہونا، اگر آپ ﷺ چاہیں تو عطا کریں اور اگر چاہیں تو محروم رکھیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿مَا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنۡ حَرَجٍ فِيۡمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ ﴾(الاحزاب:33؍38)’’نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی حرج نہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کر دیا۔‘‘(۳) اللہ تعالیٰ کے رسول کا ان امور سے منزہ ہونا جو اگر ازواج مطہرات میں ہوتے ، مثلاً:اللہ اور اس کے رسول پر دنیا کو ترجیح دینا... تو آپ ان کے قریب نہ جاتے۔(۴)آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کا گناہ اور کسی ایسے امر سے تعرض سے سلامت ہونا جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضی کا موجب ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس تخییر کے ذریعے سے رسول اللہ ﷺ پر ان کی ناراضی کو ختم کر دیا، جو آپ کی ناراضی کا موجب تھی، آپ کی ناراضی اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا باعث ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی عذاب کی موجب ہے۔(۵)ان آیات کریمہ سے، ازواج مطہرات کی رفعت، ان کے درجات کی بلندی اور ان کی عالی ہمتی کا اظہار ہوتا ہے کہ انھوں نے دنیا کے چند ٹکڑوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو اپنا مطلوب و مقصود اور اپنی مراد بنایا۔(۶)ازواج مطہرات کا اس اختیار کے ذریعے سے ایک ایسے معاملے کو اختیار کرنے کے لیے تیار ہونا جو جنت کے درجات تک پہنچاتا ہے۔ نیز اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ تمام ازواج مطہرات دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔(۷) اس آیت کریمہ سے نبی ﷺ کے اور آپ کی ازواج مطہرات کے درمیان کامل مناسبت کا اظہار ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کامل ترین ہستی ہیں اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ آپ کی ازواج مطہرات بھی کامل اور پاک عورتیں ہوں۔ ﴿وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبِيۡنَ وَالطَّيِّبُوۡنَ لِلطَّيِّبٰتِ ﴾(النور:24؍26)’’پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے ہیں۔‘‘(۸)یہ تخییر قناعت کی داعی اور اس کی موجب ہے۔ جس سے اطمینان قلب اور انشراح صدر حاصل ہوتا ہے، لالچ اور عدم رضا زائل ہو جاتے ہیں جو قلب کے لیے قلق، اضطراب اور ہم و غم کا باعث ہوتے ہیں۔(۹) ازواج مطہرات کا آپ کو اختیار کرنا، ان کے اجر میں کئی گنا اضافے کا سبب ہے نیز یہ کہ وہ ایک ایسے مرتبے پر فائز ہیں جس میں دنیا کی کوئی عورت شریک نہیں۔

33:30–31Page 421

يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ مَن يَأۡتِ مِنكُنَّ بِفَٰحِشَةٖ مُّبَيِّنَةٖ يُضَٰعَفۡ لَهَا ٱلۡعَذَابُ ضِعۡفَيۡنِۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٗا ٣٠

O wives of the Prophet, whoever of you should commit a clear immorality - for her the punishment would be doubled two fold, and ever is that, for Allāh, easy.

۞ وَمَن يَقۡنُتۡ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتَعۡمَلۡ صَٰلِحٗا نُّؤۡتِهَآ أَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ وَأَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقٗا كَرِيمٗا ٣١

And whoever of you devoutly obeys Allāh and His Messenger and does righteousness - We will give her her reward twice; and We have prepared for her a noble provision.

اے نبی کی بیویو! جو کرے گی تم میں سے بے حیائی کھلی، تو دگنا دیا جائے گااسے عذاب دوہرا، اور ہے یہ اوپر اللہ کے آسان (30) اور جو فرماں برداری کرے تم میں سے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور عمل کرے نیک تو دیں گے ہم اسے اس کا اجر دوبار، اور تیار کیا ہے ہم نے اس کے لیے رزق عزت کا(31)

[30] جب ازواج مطہراتg نے اللہ، اس کے رسول ﷺ اور آخرت کو چن لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے کئی گنا اجر کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی ذکر کر دیا کہ ان کے گناہوں کی سزا بھی کئی گنا ہو گی تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور اجر پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اگر ان میں سے کوئی فحش کام کا ارتکاب کرے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دوگنا عذاب مقرر فرمایا ہے۔

[31]﴿وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡؔكُنَّ ﴾ یعنی تم میں جو کوئی اطاعت شعار ہو گی ﴿لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًا ﴾ ’’اللہ کی اور اس کے رسول کی اور وہ نیک عمل کرے گی۔‘‘ خواہ وہ عمل تھوڑا ہو یا بہت ﴿نُّؤۡتِهَاۤ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِ ﴾ ’’ہم اسے دگنا اجر دیں گے‘‘ یعنی وہ اجر جو ہم دوسروں کو عطا کرتے ہیں، ان کو اُن سے دوگنا اجر عطا کریں گے ﴿وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ﴾ ’’اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔‘‘ اس سے مراد جنت ہے، چنانچہ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی، نیک عمل کیے تو اس سے ان کا اجر و ثواب بھی معلوم ہوگیا۔

33:32–34Page 422

يَٰنِسَآءَ ٱلنَّبِيِّ لَسۡتُنَّ كَأَحَدٖ مِّنَ ٱلنِّسَآءِ إِنِ ٱتَّقَيۡتُنَّۚ فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِٱلۡقَوۡلِ فَيَطۡمَعَ ٱلَّذِي فِي قَلۡبِهِۦ مَرَضٞ وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا ٣٢

O wives of the Prophet, you are not like anyone among women. If you fear Allāh, then do not be soft in speech [to men],1 lest he in whose heart is disease should covet, but speak with appropriate speech.

وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰۖ وَأَقِمۡنَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتِينَ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِعۡنَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥٓۚ إِنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيُذۡهِبَ عَنكُمُ ٱلرِّجۡسَ أَهۡلَ ٱلۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَكُمۡ تَطۡهِيرٗا ٣٣

And abide in your houses and do not display yourselves as [was] the display of the former times of ignorance. And establish prayer and give zakāh and obey Allāh and His Messenger. Allāh intends only to remove from you the impurity [of sin], O people of the [Prophet's] household, and to purify you with [extensive] purification.

وَٱذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ وَٱلۡحِكۡمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا ٣٤

And remember what is recited in your houses of the verses of Allāh and wisdom.1 Indeed, Allāh is ever Subtle2 and Aware.

اے نبی کی بیویو! نہیں ہو تم مانند کسی ایک کے عورتوں میں سے اگر تم تقویٰ اختیار کرو، پس نہ نزاکت اختیار کرو تم بات چیت میں کہ طمع کرنے لگے وہ شخص جس کے دل میں روگ (ہوس) ہو اور کہو تم بات معقول(32) اور ٹک کر رہو تم اپنے گھروں میں اور نہ زیب و زینت ظاہر کرو(مانند) زینت ظاہر کرنے کے جاہلیت اُولیٰ میں اور قائم کرو نماز اور ادا کرو زکاۃ اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی، بے شک چاہتا ہے اللہ کہ دور کر دے وہ تم سے ناپاکی اے (نبی کے) گھر والو! اور پاک کر دے تمھیں پوری طرح پاک کرنا(33) اور یاد کرو تم، جو پڑھی جاتی ہیں تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت سے، بلاشبہ اللہ ہے نہایت باریک بین ،بڑا باخبر(34)

[32]﴿يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ ﴾ ’’ اے نبی کی بیویو!‘‘ تمام ازواج مطہرات سے خطاب ہے۔ ﴿لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَيۡتُنَّ ﴾ ’’تم عام عورتوں کی مانند نہیں ہو، اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو‘‘ کیونکہ اس طرح تمھیں تمام عورتوں پر فوقیت حاصل ہو گی اور کوئی عورت تمھارے درجے کو نہیں پہنچ سکے گی۔ پس ازواج رسول نے تقویٰ کی اس کے تمام وسائل اور مقاصد کے ساتھ تکمیل کی، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمام حرام و سائل کو منقطع کرنے میں ان کی راہنمائی فرمائی اور فرمایا:﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’پس تم نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ یعنی مردوں کے ساتھ مخاطب ہوتے ہوئے یا اس وقت کہ لوگ تمھاری گفتگو سن رہے ہوں اور تم دھیمے لہجے اور رغبت دلانے والی نرم کلامی سے گفتگو کرو تو ہوسکتا ہے کہ تمھاری طرف مائل ہوجائے۔ ﴿الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ﴾ ’’وہ شخص جس کے دل میں روگ ہے۔‘‘ یعنی شہوت زنا کا مرض۔ بے شک ایسا شخص تیار رہتا ہے اور کسی ادنیٰ سے محرک کا منتظر رہتا ہے جو اس کو متحرک کر دے کیونکہ اس کا قلب صحت مند نہیں اور صحت مند قلب میں کسی ایسی چیز کی شہوت نہیں ہوتی جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہو۔ اس کے قلب کے صحت مند اور مرض سے سلامت ہونے کی وجہ سے اسباب اسے شہوت حرام کے لیے متحرک کر سکتے ہیں نہ اسے اس کی طرف مائل کر سکتے ہیں، بخلاف اس قلب کے جو مریض ہے وہ اس چیز کا متحمل نہیں ہو سکتا جس کا متحمل ایک صحت مند قلب ہو سکتا ہے، وہ اس چیز پر صبر نہیں کر سکتا جس پر ایک صحت مند صبر کر سکتا ہے۔ پس اگر ایک ادنیٰ سا سبب بھی اسے حرام کی طرف دعوت دے تو وہ اس کی دعوت پر لبیک کہے گا اور اس کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ آیت کریمہ اس بات کی دلیل ہے کہ وسائل کے احکام بھی وہی ہیں جو مقاصد کے احکام ہیں کیونکہ دھیمے لہجے میں بات کرنا اور نرم کلامی، اصل میں مباح ہیں چونکہ اس قسم کی نرم کلامی حرام کردہ امر کے لیے وسیلہ بن سکتی ہے اس لیے اس سے روک دیا گیا، اس لیے عورت کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مردوں سے مخاطب ہوتے وقت نرم لہجے میں بات نہ کرے۔ چونکہ انھیں نرم لہجے میں بات کرنے سے روکا گیا ہے اس لیے بسااوقات یہ وہم لاحق ہو سکتا ہے کہ انھیں درشت کلامی کا حکم ہے ، چنانچہ اس وہم کو اس ارشاد کے ذریعے سے دور کیا گیا ہے:﴿وَّقُلۡنَ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا﴾ ’’اور دستور کے مطابق بات کیا کرو۔‘‘ یعنی جس طرح دھیما پن اور نرم کلامی نہیں ہونی چاہیے اسی طرح درشت لہجے اور بداخلاقی پر مشتمل کلام بھی نہیں ہونا چاہیے۔ غور کیجیے کیسے ارشاد فرمایا: ﴿فَلَا تَخۡضَعۡنَ بِالۡقَوۡلِ ﴾ ’’نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو۔‘‘ اور یہ نہیں کہا : فَلاَ تَلِنَّ بِالْقَوْلِ ’’بات کرنے میں نرمی نہ کرو۔‘‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی نرم کلامی ممنوع ہے جس میں مرد کے لیے عورت کی اطاعت اور اس کے انکسار کی جھلک ہو۔ اطاعت مند اور جھکنے والے کے بارے میں کسی قسم کا طمع کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس جو کوئی ایسے نرم لہجے میں بات کرتا ہے، جس میں اطاعت اور جھکاؤ کی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس میں ترفع اور مدمقابل کے لیے سختی ہوتی ہے، اس شخص کے بارے میں مدمقابل کوئی طمع نہیں کر سکتا، (ورنہ نرمی تو مطلوب ہے) اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی نرم مزاجی کی مدح کرتے ہوئے فرمایا: ﴿فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ ﴾(آل عمران:3؍159) ’’پس اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہیں۔‘‘ حضرت موسیٰ اور ہارون iسے فرمایا: ﴿اِذۡهَبَاۤ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ اِنَّهٗ طَغٰى ۚۖ۰۰ فَقُوۡلَا لَهٗ قَوۡلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهٗ يَتَذَكَّـرُ اَوۡ يَخۡشٰى﴾(طہ:20/43۔44) ’’تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ نرمی سے بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد: ﴿فَيَطۡمَعَ الَّذِيۡ فِيۡ قَلۡبِهٖ مَرَضٌ ﴾ اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دینا، شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مردوں اور عورتوں کی مدح و ثنا اور اس کا زنا کے قریب جانے سے منع کرنا یہ سب کچھ دلالت کرتا ہے کہ بندے کے لیے مناسب یہ ہے کہ جب وہ اپنے نفس کو اس حالت میں دیکھے کہ وہ کسی حرام فعل کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے یا کسی محبوب ہستی کا کلام سن کر خوش ہوتا ہے اور اپنے اندر طمع کے داعیے کو حرام کی طرف رخ کرتے ہوئے پاتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ یہ مرض ہے۔ وہ اس مرض کو کمزور کرنے، ردی خیالات کا قلع قمع کرنے، اس خطرناک مرض سے نفس کو محفوظ کرنے کی پوری جدوجہد کرے اور اللہ تعالیٰ سے حفاظت اور توفیق کا سوال کرتا رہے۔ یہ بھی شرم گاہ کی حفاظت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حکم دیا گیا ہے۔

[33]﴿وَقَرۡنَ فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ ﴾ اپنے گھروں میں قرار پکڑو یہ تمھارے لیے زیادہ حفاظت اور سلامتی کا مقام ہے۔﴿وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاهِلِيَّةِ الۡاُوۡلٰى﴾ اور بناؤ سنگار کر کے اور خوشبو لگا کر بہت زیادہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلا کرو، جیسا کہ اہل جاہلیت کی عادت تھی جن کے پاس علم تھا نہ دین۔ یہ حکم شر اور اس کے اسباب کو روکنے کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمومی طور پر انھیں تقویٰ اور تقویٰ کی جزئیات کا حکم دینے کے بعد، اسے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے کیونکہ عورتیں اس کی سب سے زیادہ محتاج ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس نے انھیں اطاعت کا حکم دیا، خاص طور پر نماز اور زکاۃ کا حکم دیا جن کی ضرورت ہر شخص کو ہوتی ہے۔ نماز اور زکاۃ سب سے بڑی عبادتیں اورجلیل القدر نیکیاں ہیں۔ نماز کے اندر معبود کے لیے اخلاص اور زکاۃ میں اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احسان ہے۔ پھر ان کو عمومی اطاعت کا حکم دیا، فرمایا :﴿وَاَطِعۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ﴾ ’’اور اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول کی۔‘‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں ہر قسم کا معاملہ داخل ہے، خواہ اس کا حکم وجوب کے طور پر دیا گیا ہو یا استحباب کے طور پر۔ ﴿اِنَّمَا يُرِيۡدُ اللّٰهُ ﴾ ’’اللہ تعالیٰ صرف یہ چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمھیں جن چیزوں کا حکم دیا اور جن امور سے منع کیا، اس کا مقصد صرف یہ ہے ﴿لِيُذۡهِبَ عَنۡكُمُ الرِّجۡسَ ﴾ کہ وہ تم سے گندگی، شر اور ناپاکی کو دور کر دے ﴿اَهۡلَ الۡبَيۡتِ وَيُطَهِّرَؔكُمۡ تَطۡهِيۡرًا﴾ ’’اے نبی کی گھر والیو! اور تمھیں خوب پاک کردے۔‘‘ یہاں تک کہ تم سب طاہر اور مطہر بن جاؤ ۔ پس تم ان اوامرونواہی پر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو، جن کی مصلحتوں کے بارے میں تمھیں آگاہ فرمایا کہ وہ محض تمھارے فائدے کے لیے ہیں، ان اوامرونواہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں کسی مشقت اور تنگی میں مبتلا کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمھارے نفوس کا تزکیہ، تمھارے اخلاق کی تطہیر اور تمھارے اعمال کی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور اس طرح تمھارے اجر کو بڑا کرنا مقصود ہے۔

[34] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے ازواج مطہرات کو عمل کا حکم دیا جو فعل و ترک پر مشتمل ہے تو پھر انھیں علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور اس کا طریقہ بیان فرمایا، لہٰذا فرمایا:﴿وَاذۡكُرۡنَ مَا يُتۡلٰى فِيۡ بُيُوۡتِكُنَّ مِنۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ وَالۡحِكۡمَةِ ﴾ ’’اور تمھارے گھروں میں جو اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں اور حکمت کی باتیں سنائی جاتی ہیں ان کو یاد رکھو۔، ، یہاں آیات الٰہی سے مراد قرآن، حکمت سے مراد قرآن کے اسرار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنا ذکر کرنے کا حکم دیا جو تلاوت قرآن کے ذریعے سے لفظی ذکر، اس کے معانی میں غوروفکر، اس کے احکام اور اس کی حکمتوں کے استخراج، اس پر عمل اور اس کی تاویل کے ذکر کو شامل ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِيۡفًا خَبِيۡرًا ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ باریک بین، خبردار ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کے اسرار نہاں، سینوں کے بھید، آسمانوں اور زمین میں چھپی ہوئی تمام چیزوں اور تمام کھلے چھپے اعمال کی خبر رکھتا ہے۔ اس کا لطف و کرم اور خبرگیری اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ وہ انھیں اخلاص للہ اور اعمال کو چھپانے کی ترغیب دے، نیز تقاضا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان اعمال کی جزا دے۔ (اَللَّطِیفُ) اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو اپنے بندے کو ایسے مخفی طریقے سے بھلائی عطا کرتی ہے اور شر سے بچاتی ہے، جس کا اسے شعور تک نہیں ہوتا، وہ اسے اس طرح رزق عطا کرتی ہے کہ اسے اس کا ادراک تک نہیں ہوتا اور وہ اسے ایسے اسباب دکھاتی ہے جسے نفس ناپسند کرتے ہیں، مگر یہ اسباب اس کے لیے بلند درجات اور اعلیٰ مراتب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔

33:35Page 422

إِنَّ ٱلۡمُسۡلِمِينَ وَٱلۡمُسۡلِمَٰتِ وَٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ وَٱلۡقَٰنِتِينَ وَٱلۡقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلۡخَٰشِعِينَ وَٱلۡخَٰشِعَٰتِ وَٱلۡمُتَصَدِّقِينَ وَٱلۡمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلۡحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمۡ وَٱلۡحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرٗا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغۡفِرَةٗ وَأَجۡرًا عَظِيمٗا ٣٥

Indeed, the Muslim men and Muslim women, the believing men and believing women, the obedient men and obedient women, the truthful men and truthful women, the patient men and patient women, the humble men and humble women, the charitable men and charitable women, the fasting men and fasting women, the men who guard their private parts and the women who do so, and the men who remember Allāh often and the women who do so - for them Allāh has prepared forgiveness and a great reward.

بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرماں بردار مرداور فرماں بردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزے دار مرد اور روزے دار عورتیں اور حفاظت کرنے والے مرد اپنی شرم گاہوں کی اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور ذکر کرنے والے مرد اللہ کا کثرت سے اور ذکر کرنے والی عورتیں، تیار کر رکھی ہے اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم(35)

[35] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول ﷺ کی ازواج مطہرات کے لیے ثواب اور (بفرض محال عدم اطاعت کی صورت میں) عذاب کا ذکر کیا اور یہ بھی واضح کیا کہ ان جیسی کوئی عورت نہیں تو اس کے بعد، ان کے علاوہ دیگر عورتوں کا ذکر کیا۔ چونکہ عورتوں اور مردوں کا ایک ہی حکم ہے اس لیے دونوں کے لیے مشترک بیان کیا، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الۡمُسۡلِمِيۡنَ وَالۡمُسۡلِمٰتِ ﴾ ’’بلاشبہ مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں‘‘ یہ شریعت کے ظاہری احکام کے بارے میں ہے جبکہ وہ اسے قائم کریں۔ ﴿وَالۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ ﴾ ’’اور ایمان لانے والے مرد اور ایمان لانے والی عورتیں۔‘‘ یہ باطنی امور کے بارے میں ہے ، مثلاً: عقائد اور اعمال قلوب وغیرہ۔ ﴿وَالۡقٰنِتِيۡنَ ﴾ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والے مرد ﴿وَالۡقٰنِتٰؔتِ﴾’’اور اطاعت کرنے والی عورتیں ﴿وَالصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور سچ بولنے والے مرد۔‘‘ اپنے قول و فعل میں ﴿وَالصّٰؔدِقٰتِ ﴾ ’’اور سچ بولنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالصّٰؔبِرِيۡنَ ﴾ ’’اور صبر کرنے والے مرد ‘‘ مصائب وآلام پر ﴿وَالصّٰؔبِرٰتِ﴾ ’’اور صبر کرنے والی عورتیں‘‘ ﴿وَالۡخٰؔشِعِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ مرد جو عاجزی کرتے ہیں۔‘‘ اپنے تمام احوال میں، خاص طور پر عبادات میں اور عبادات میں سے خاص طور پر نمازوں میں، ﴿وَالۡخٰؔشِعٰتِ ﴾ ’’اور عاجزی کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ مرد جو صدقہ دیتے ہیں۔‘‘ خواہ یہ صدقہ فرض ہو یا نفل۔ ﴿وَالۡمُتَصَدِّقٰتِ۠﴾’’اور صدقہ دینے والی عورتیں ‘‘﴿وَالصَّآىِٕمِيۡنَ۠﴾’’اور روزہ رکھنے والے مرد‘‘ ﴿وَالصّٰٓىِٕمٰتِ﴾ ’’اور روزہ رکھنے والی عورتیں۔‘‘ یہ فرض اور نفل تمام روزوں کو شامل ہے ﴿وَالۡحٰؔفِظِيۡنَ فُرُوۡجَهُمۡ ﴾ زنا اور مقدمات زنا سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے مرد ﴿وَالۡحٰؔفِظٰتِ ﴾ ’’اور حفاظت کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿وَالذّٰكِرِيۡنَ اللّٰهَؔ كَثِيۡرًا ﴾ اور اپنے اکثر اوقات میں، خصوصاً مقررہ اوراد کے اوقات میں ، مثلاً: صبح و شام یا فرض نمازوں کے بعد اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے مرد ﴿وَّالذّٰكِرٰتِ ﴾ ’’اور ذکر کرنے والی عورتیں۔‘‘ ﴿اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمۡ ﴾ ’’اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے لیے جو ان صفات جمیلہ اور مناقب جلیلہ سے موصوف ہیں۔ یہ امور اعتقادات، اعمال قلوب، اعمال جوارح، اقوال لسان، دوسروں کو نفع پہنچانے، بھلائی کے کام کرنے اور شر کو ترک کرنے پر مشتمل ہیں۔ جو کوئی متذکرہ صدر امور پر عمل پیرا ہوتا ہے وہ ظاہری اور باطنی طور پر تمام دین کو قائم کرتا ہے یعنی وہ اسلام، ایمان اور احسان پر عمل کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی یہ جزا دی کہ ان کے گناہوں کو بخش دیا، کیونکہ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ ﴿وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾ ’’اور ان کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا اندازہ صرف وہی کر سکے گا جس کو اللہ تعالیٰ عطا کرے گا۔ وہ ایسی نعمتیں ہوں گی جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کے خیال کا گزر ہوا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل کرے۔

33:36Page 423

وَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗا ٣٦

It is not for a believing man or a believing woman, when Allāh and His Messenger have decided a matter, that they should [thereafter] have any choice about their affair. And whoever disobeys Allāh and His Messenger has certainly strayed into clear error.

اور نہیں ہے لائق واسطے کسی مومن اور نہ کسی مومنہ کے، جب فیصلہ کر دے اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا، یہ کہ ہو (اس کےبعد) ان کے لیے اختیاران کے معاملے میں اور جو نافرمانی کرے اللہ اور اس کے رسول کی تو تحقیق گمراہ ہو گیا وہ گمراہ ظاہر(36)

[36] جو شخص ایمان سے متصف ہے اس کے لیے اس کے سوا اور کچھ مناسب نہیں کہ وہ فوراً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کی طرف سبقت کرے، ان کی ناراضی سے بچے، ان کے حکم کی تعمیل کرے اور جس کام سے وہ روک دیں، اس سے اجتناب کرے۔ کسی مومن مرد اور مومن عورت کے لائق نہیں کہ ﴿اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗۤ اَمۡرًا ﴾ ’’جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کر دیں۔‘‘ اور اس کی تعمیل کو لازم قرار دے دیں تو ﴿اَنۡ يَّكُوۡنَ لَهُمُ الۡخِيَرَةُ مِنۡ اَمۡرِهِمۡ﴾’’ان کے لیے اس فیصلے پر عمل کا اختیار باقی رہے۔‘‘ کہ آیا وہ اس کام کو کریں یا نہ کریں؟ بلکہ مومن مرد اور مومن عورتیں جانتے ہیں کہ رسول ﷺ ان کی جانوں سے بڑھ کر عزیز ہیں، اس لیے وہ اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان، اپنی کسی خواہشِ نفس کو حجاب نہ بنائیں۔﴿وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيۡنًا﴾ ’’اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہ ہو گیا۔‘‘ یعنی وہ واضح طور پر گمراہ ہو گیا کیونکہ اس نے صراط مستقیم کو ترک کر کے، جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک جاتا ہے، دوسرا راستہ اختیار کر لیا جو دردناک عذاب تک پہنچتا ہے۔سب سے پہلے اس سبب کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کے حکم سے عدم معارضہ کا موجب ہے اور وہ ہے ایمان، پھر اس سے مانع کا ذکر فرمایا اور وہ ہے گمراہی سے ڈرانا، جو عذاب اور سزا پر دلالت کرتا ہے۔

33:37Page 423

وَإِذۡ تَقُولُ لِلَّذِيٓ أَنۡعَمَ ٱللَّهُ عَلَيۡهِ وَأَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ أَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ وَٱتَّقِ ٱللَّهَ وَتُخۡفِي فِي نَفۡسِكَ مَا ٱللَّهُ مُبۡدِيهِ وَتَخۡشَى ٱلنَّاسَ وَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخۡشَىٰهُۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيۡدٞ مِّنۡهَا وَطَرٗا زَوَّجۡنَٰكَهَا لِكَيۡ لَا يَكُونَ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ حَرَجٞ فِيٓ أَزۡوَٰجِ أَدۡعِيَآئِهِمۡ إِذَا قَضَوۡاْ مِنۡهُنَّ وَطَرٗاۚ وَكَانَ أَمۡرُ ٱللَّهِ مَفۡعُولٗا ٣٧

And [remember, O Muḥammad], when you said to the one on whom Allāh bestowed favor and you bestowed favor,1 "Keep your wife and fear Allāh," while you concealed within yourself that which Allāh is to disclose.2 And you feared the people,3 while Allāh has more right that you fear Him.4 So when Zayd had no longer any need for her, We married her to you in order that there not be upon the believers any discomfort [i.e., guilt] concerning the wives of their claimed [i.e., adopted] sons when they no longer have need of them. And ever is the command [i.e., decree] of Allāh accomplished.

اور (یاد کریں) جب آپ کہتے تھے اس شخص سے کہ انعام کیا اللہ نے اس پر اور انعا م کیا تھا آپ نے بھی اس پر، کہ روکے رکھ تو اپنے پاس اپنی بیوی، اور ڈر اللہ سے، اور چھپاتے تھے آپ اپنے دل میں وہ بات کہ اللہ ظاہر کرنے والا تھا اسے اور ڈرتے تھے آپ لوگوں سے، حالانکہ اللہ زیادہ حقدار ہے یہ کہ ڈریں آپ اس سے، پس جب پوری کر لی زید نے اس سے (اپنی) حاجت تو نکاح کر دیا ہم نے آپ کا اس سے، تاکہ نہ ہو مومنوں پر کوئی حرج اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں (سے نکاح کر لینے) میں، جب پوری کر لیں وہ ان سے (اپنی) حاجت، اور ہے حکم اللہ کا (پورا) کیا ہوا (37)

[37] ان آیات کریمہ کا سبب نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے ایک عام قانون مشروع کرنے کا ارادہ فرمایا کہ منہ بولے بیٹے، تمام وجوہ سے، حقیقی بیٹوں کے حکم میں داخل نہیں ہیں اور ان کی بیویوں کے ساتھ، متبنیٰ بنانے والوں کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ معاملہ ان امور عادیہ میں شمار ہوتا تھا جو کسی بہت بڑے حادثے کے بغیر ختم نہیں ہو سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ یہ قانون رسول (ﷺ)کے قول و فعل کے ذریعے سے وجود میں آئے اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے کوئی سبب مقرر کر دیتا ہے۔زید بن حارثہw کو ’’زید بن محمد‘‘ کہہ کر پکارا جاتا تھا جنھیں نبی مصطفیٰ ﷺ نے اپنا متبنیٰ بنایا تھا۔ ان کو ’’زید بن محمد‘‘ کہا جاتا رہا حتیٰ کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ﴿اُدۡعُوۡهُمۡ لِاٰبَآىِٕهِمۡ﴾(الاحزاب:33/5) ’’ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔‘‘ تب ان کو زید بن حارثہw کہا جانے لگا۔ ان کی بیوی ز ینب بنت جحشr رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔ آپ کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا تھا کہ زید نے طلاق دے دینی ہے اور اس کے بعد اس کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا۔ اس وحی ٔالٰہی کی وجہ سے آپﷺ یہ یقین رکھتے تھے کہ زید کے طلاق دینے کے بعد آپ اس سے نکاح کر لیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر کر دیا کہ حضرت زینبr اور حضرت زید بن حارثہw کے درمیان کچھ ایسے واقعات ہوئے جن کی بنا پر زیدt نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت ز ینبr کو طلاق دینے کی اجازت طلب کی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِذۡ تَقُوۡلُ لِلَّذِيۡۤ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب آپ اس شخص سے، جس پر اللہ نے احسان کیا، کہہ رہے تھے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے اسلام سے سرفراز فرمایا ﴿وَاَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور آپ نے بھی اس پر انعام کیا۔‘‘ یعنی آپ نے اس کو آزادی عطا کر کے اور ارشاد و تعلیم کے ذریعے سے اس پر احسان فرمایا۔ جب زیدt نبیﷺ کے پاس اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں مشورہ طلب کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے آپ نے اس کی خیرخواہی کرتے اور اس کو اس کی مصلحت سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَمۡسِكۡ عَلَيۡكَ زَوۡجَكَ ﴾ ’’اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو۔‘‘ یعنی اسے طلاق نہ دے اس کی طرف سے تمھیں جو کوئی تکلیف پہنچی ہے اس پر صبر کر۔ ﴿وَاتَّقِ اللّٰهَ ﴾ اپنے عام معاملات میں اور خاص طور پر اپنی بیوی کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر، کیونکہ تقویٰ صبر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کا حکم دیتا ہے۔ ﴿وَتُخۡفِيۡ فِيۡ نَفۡسِكَ مَا اللّٰهُ مُبۡدِيۡهِ ﴾ ’’اورآپ اپنے دل میں وہ بات پوشیدہ رکھتے تھے جس کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔‘‘ جو چیز آپ نے اپنے دل میں چھپائی ہوئی تھی وہ یہی تھی جس کی اطلاع آپ کو بذریعہ وحی دی گئی تھی کہ اگر زیدt زینبr کو طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کر لیں گے۔ ﴿وَتَخۡشَى النَّاسَ ﴾ ’’اور آپ لوگوں سے ڈرتے تھے‘‘ اس چیز کے عدم ظہور کے معاملے میں جو آپ کے دل میں ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنۡ تَخۡشٰىهُ ﴾’’حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔‘‘ کیونکہ اس کا خوف ہر بھلائی کے عطا ہونے کا سبب اور ہر برائی کے روکنے کا ذریعہ ہے۔﴿فَلَمَّا قَضٰى زَيۡدٌ مِّؔنۡهَا وَطَرًا ﴾ ’’پس جب زید نے اس سے اپنی ضرورت پوری کر لی۔‘‘ یعنی جب زیدt نے خوش دلی سے اور حضرت ز ینبr میں بے رغبتی کے باعث طلاق دے دی ﴿زَوَّجۡنٰـكَهَا﴾ ’’تو ہم نے اس کا نکاح آپ سے کر دیا‘‘ اور ہم نے یہ سب کچھ ایک عظیم فائدے کے لیے کیا۔ ﴿لِكَيۡؔ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِيۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآىِٕهِمۡ ﴾ ’’تاکہ مومنوں کے لیے ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی حرج نہ رہے۔‘‘ یہ دیکھ کر کہ نبیﷺ نے زید بن حارثہw کی مطلقہ سے نکاح کر لیا ہے جو اس سے قبل آپ کا منہ بولا بیٹا تھا۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿لِكَيۡؔ لَا يَكُوۡنَ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ حَرَجٌ فِيۡۤ اَزۡوَاجِ اَدۡعِيَآىِٕهِمۡ ﴾ تمام احوال میں عام ہے جبکہ بعض احوال میں ایسا کرنا جائز نہیں ہوتااور وہ حالت حاجت پوری ہونے سے پہلے کی حالت ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ساتھ اسے مقید کر دیا کہ ﴿اِذَا قَضَوۡا مِنۡهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَكَانَ اَمۡرُ اللّٰهِ مَفۡعُوۡلًا ﴾ ’’جب وہ ان سے اپنی ضرورت پوری کر چکیں، اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہنے والا تھا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم پورا ہوکر رہتا ہے اور اس کے لیے کوئی رکاوٹ اور کوئی مانع نہیں بن سکتا۔ان آیات کریمہ سے، جو اس واقعے پر مشتمل ہیں، متعدد نکات مستنبط ہوتے ہیں:(۱)ان آیات کریمہ میں دو لحاظ سے حضرت زید بن حارثہw کی مدح کی گئی ہے:(ا)اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں آپ کا نام ذکر کیا ہے جبکہ آپ کے علاوہ صحابہ میں سے کسی صحابی کا نام قرآن مجید میں مذکور نہیں۔(ب) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زید (t)کو نعمت سے نوازا یعنی اسلام اور ایمان کی نعمت سے سرفراز فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گواہی ہے کہ زید ظاہری اور باطنی طور پر مسلمان اور مومن تھے ورنہ اس نعمت کو ان کے ساتھ مختص کرنے کی کوئی وجہ نہیں، سوائے اس کے کہ اس سے مراد نعمت خاص ہے۔(۲)جس شخص کو آزاد کیا گیا ہو وہ آزاد کرنے والے کا ممنونِ نعمت ہے۔(۳)ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے نکاح جائز ہے جیسا کہ اس کی تصریح کی گئی ہے۔(۴)ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ عملی تعلیم، قولی تعلیم سے زیادہ بلیغ اور مؤثر ہے خاص طور پر جب عملی تعلیم قولی تعلیم سے مقرون ہو تو پھر ’’سونے پہ سہاگہ‘‘ ہے۔(۵)بندے کے دل میں اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی اور عورت کی رغبت کا پیدا ہوجانا قابل گرفت نہیں ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ رغبت یا محبت فعل حرام سے مقرون نہ ہو۔ بندہ اس محبت پر گناہ گار نہیں خواہ اس کی یہ آرزو ہی کیوں نہ ہو کہ اگر اس کا شوہر اسے طلاق دے دے تو وہ اس سے نکاح کرے گا، مگر وہ کسی بھی سبب سے ان کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے کوشش نہ کرے۔(۶)ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کو واضح طریقے سے پہنچا دیا۔ آپ کی طرف جو کچھ بھی وحی کیا گیا وہ سب پہنچا دیا اور کچھ بھی باقی نہیں رکھا حتی کہ وہ حکم بھی پہنچایا جس میں آپ پر عتاب کیا گیا تھا اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور وہی بات کہتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اور آپ اپنی بڑائی نہیں چاہتے۔(۷)آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امین ہے، جب بھی کسی معاملے میں اس سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ اپنے علم کے مطابق بہترین مشورہ دے اور مشورہ طلب کرنے والے کے مفاد کو اپنی خواہش نفس اور اپنی غرض پر مقدم رکھے، خواہ اس میں اس کا اپنا حظ نفس ہی کیوں نہ ہو۔(۸)جو کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے مشورہ طلب کرتا ہے، اس کے لیے بہترین رائے یہ ہے کہ جہاں تک اصلاح احوال ممکن ہو، اس کو اپنی بیوی کو طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا جائے کیونکہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا، طلاق دینے سے بہتر ہے۔(۹)یہ بات متعین ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے خوف کو لوگوں کے خوف پر مقدم رکھے اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہی زیادہ لائق اور اولیٰ ہے۔(۱۰) ان آیات کریمہ سے ام المومنین حضرت ز ینب بنت جحش r کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ ان کے نکاح کی اللہ تعالیٰ نے سرپرستی فرمائی جس میں کوئی خطبہ تھا نہ گواہ۔ بنا بریں ز ینب r رسول اللہﷺ کی دیگر ازواج مطہراتg پر فخر کا اظہار کیا کرتی تھیں، فرمایا کرتی تھیں:’’تمھارا نکاح تمھارے گھر والوں نے کیا ہے میرا نکاح سات آسمانوں پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔‘‘ (۱۱) ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر عورت شادی شدہ ہو اور اس کا شوہر موجود ہو تو اس کے ساتھ نکاح جائز ہے نہ اس کے اسباب میں کوشش کرناجائز ہے جب تک اس کا شوہر اس سے اپنی حاجت پوری نہ کرے اور اس کی حاجت اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک کہ طلاق کی عدت پوری نہ ہو جائے کیونکہ عورت عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی حفاظت میں ہوتی ہے خواہ کسی بھی پہلو سے ہو۔

Text: Quranic Universal Library (Tarteel), via spa5k/tafsir_api (MIT), at a fixed version. The ayahs: Quran Foundation. Sources and licences

Contents

Ayat al-Kursi36Al-Kahfpage 42juz 15Bukhari 1Muslim 2999

Style

Theme
Text size
Layout

Читать на русском