Al-A'raf 7:185
The Heights · Juz 9 · Page 174
أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ وَأَنۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ ١٨٥
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allāh has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement [i.e., message] hereafter will they believe?
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:182–186
اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔
Page 174
7:179
وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٧٩
And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray.1 It is they who are the heedless.
1 translator’s note
- The reference is to their inability (i.e., refusal) to think and reason, while blindly following (as they are accustomed). ↩
7:180
وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٨٠
And to Allāh belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names.1 They will be recompensed for what they have been doing.
1 translator’s note
- i.e., use them improperly or deny them. ↩
7:181
وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَآ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ ١٨١
And among those We created is a community1 which guides by truth and thereby establishes justice.
1 translator’s note
- The followers of Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩
7:182
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨٢
But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction]1 from where they do not know.
1 translator’s note
- Allāh will test them with one favor after another in spite of their disobedience, which only increases them in arrogance and sin. ↩
7:183
وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ ١٨٣
And I will give them time. Indeed, My plan is firm.
7:184
أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٌ ١٨٤
Then do they not give thought? There is in their companion [i.e., Muḥammad (ﷺ)] no madness. He is not but a clear warner.
7:185
أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ وَأَنۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ ١٨٥
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allāh has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement [i.e., message] hereafter will they believe?
7:186
مَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُۥۚ وَيَذَرُهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ ١٨٦
Whoever Allāh sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.
7:187
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّيۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقۡتِهَآ إِلَّا هُوَۚ ثَقُلَتۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا تَأۡتِيكُمۡ إِلَّا بَغۡتَةٗۗ يَسۡـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨٧
They ask you, [O Muḥammad], about the Hour: when is its arrival?1 Say, "Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily2 upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly." They ask you as if you are familiar with it. Say, "Its knowledge is only with Allāh, but most of the people do not know."