Al-A'raf 7:180
The Heights · Juz 9 · Page 174
وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٨٠
And to Allāh belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names.1 They will be recompensed for what they have been doing.
1 translator’s note
- i.e., use them improperly or deny them. ↩
Tafsir · in Urdu
As-Sa'di
Medium · Clear and to the point: what to take from each passage.
Change
Commentary on 7:180
اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے، سو تم پکارو اسے ساتھ ان (ناموں) کےاور چھوڑ دو ان لوگوں کو کج روی اختیار کرتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب بدلہ دیے جائیں گے وہ اس کا جو تھے وہ عمل کرتے(180)
[180] یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنیٰ ہیں ، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہو بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتے یعنی بہ یک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہیں کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معنی کو شامل ہے۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (اَلْعَلِیم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں ۔ اس کا اسم مبارک (اَلرَّحِیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (اَلْقَدِیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کر سکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کامل طور پر (حُسْنٰی) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے سوا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنابریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾’’پس اس کو انھی ناموں سے پکارو‘‘ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں ۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ’’اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر‘‘ ’’اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر‘‘ اور ’’اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز...‘‘ وغیرہ۔﴿ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِيۡۤ اَسۡمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ، عنقریب ان کو ان کے عملوں کا بدلہ دیا جائے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کی پاداش میں انھیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لیے ان کو وضع کیا گیا ہے، دوسری طرف موڑنا، (اور اس کی مختلف صورتیں ہیں )۔ (۱) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں ، مثلاً: مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسوم کرنا۔ (۲) ان اسماء کے اصل معانی مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ۔ (۳) ان اسماء سے دوسروں کو تشبیہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبئ اکرمﷺ سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کر لیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الإقرار… الخ، ح: 2736)
Page 174
7:179
وَلَقَدۡ ذَرَأۡنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرٗا مِّنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِۖ لَهُمۡ قُلُوبٞ لَّا يَفۡقَهُونَ بِهَا وَلَهُمۡ أَعۡيُنٞ لَّا يُبۡصِرُونَ بِهَا وَلَهُمۡ ءَاذَانٞ لَّا يَسۡمَعُونَ بِهَآۚ أُوْلَٰٓئِكَ كَٱلۡأَنۡعَٰمِ بَلۡ هُمۡ أَضَلُّۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡغَٰفِلُونَ ١٧٩
And We have certainly created for Hell many of the jinn and mankind. They have hearts with which they do not understand, they have eyes with which they do not see, and they have ears with which they do not hear. Those are like livestock; rather, they are more astray.1 It is they who are the heedless.
1 translator’s note
- The reference is to their inability (i.e., refusal) to think and reason, while blindly following (as they are accustomed). ↩
7:180
وَلِلَّهِ ٱلۡأَسۡمَآءُ ٱلۡحُسۡنَىٰ فَٱدۡعُوهُ بِهَاۖ وَذَرُواْ ٱلَّذِينَ يُلۡحِدُونَ فِيٓ أَسۡمَٰٓئِهِۦۚ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ١٨٠
And to Allāh belong the best names, so invoke Him by them. And leave [the company of] those who practice deviation concerning His names.1 They will be recompensed for what they have been doing.
1 translator’s note
- i.e., use them improperly or deny them. ↩
7:181
وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَآ أُمَّةٞ يَهۡدُونَ بِٱلۡحَقِّ وَبِهِۦ يَعۡدِلُونَ ١٨١
And among those We created is a community1 which guides by truth and thereby establishes justice.
1 translator’s note
- The followers of Prophet Muḥammad (ﷺ). ↩
7:182
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُم مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨٢
But those who deny Our signs - We will progressively lead them [to destruction]1 from where they do not know.
1 translator’s note
- Allāh will test them with one favor after another in spite of their disobedience, which only increases them in arrogance and sin. ↩
7:183
وَأُمۡلِي لَهُمۡۚ إِنَّ كَيۡدِي مَتِينٌ ١٨٣
And I will give them time. Indeed, My plan is firm.
7:184
أَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُواْۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا نَذِيرٞ مُّبِينٌ ١٨٤
Then do they not give thought? There is in their companion [i.e., Muḥammad (ﷺ)] no madness. He is not but a clear warner.
7:185
أَوَلَمۡ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا خَلَقَ ٱللَّهُ مِن شَيۡءٖ وَأَنۡ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ قَدِ ٱقۡتَرَبَ أَجَلُهُمۡۖ فَبِأَيِّ حَدِيثِۭ بَعۡدَهُۥ يُؤۡمِنُونَ ١٨٥
Do they not look into the realm of the heavens and the earth and everything that Allāh has created and [think] that perhaps their appointed time has come near? So in what statement [i.e., message] hereafter will they believe?
7:186
مَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُۥۚ وَيَذَرُهُمۡ فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ ١٨٦
Whoever Allāh sends astray - there is no guide for him. And He leaves them in their transgression, wandering blindly.
7:187
يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرۡسَىٰهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ رَبِّيۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقۡتِهَآ إِلَّا هُوَۚ ثَقُلَتۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ لَا تَأۡتِيكُمۡ إِلَّا بَغۡتَةٗۗ يَسۡـَٔلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنۡهَاۖ قُلۡ إِنَّمَا عِلۡمُهَا عِندَ ٱللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ١٨٧
They ask you, [O Muḥammad], about the Hour: when is its arrival?1 Say, "Its knowledge is only with my Lord. None will reveal its time except Him. It lays heavily2 upon the heavens and the earth. It will not come upon you except unexpectedly." They ask you as if you are familiar with it. Say, "Its knowledge is only with Allāh, but most of the people do not know."