Ас-Саади · Тафсир · на урду
Худ 11:18–24
11:18–22Страница 223
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًاۚ أُوْلَٰٓئِكَ يُعۡرَضُونَ عَلَىٰ رَبِّهِمۡ وَيَقُولُ ٱلۡأَشۡهَٰدُ هَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ أَلَا لَعۡنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ ١٨
Кто может быть несправедливее того, кто возвел навет на Аллаха? Когда они предстанут перед Господом, свидетели скажут: «Это они оболгали своего Господа». Да будет проклятие Аллаха над беззаконниками,
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبۡغُونَهَا عِوَجٗا وَهُم بِٱلۡأٓخِرَةِ هُمۡ كَٰفِرُونَ ١٩
которые сбивают других с пути Аллаха, стремясь исказить его, и не веруют в Последнюю жизнь.
أُوْلَٰٓئِكَ لَمۡ يَكُونُواْ مُعۡجِزِينَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِنۡ أَوۡلِيَآءَۘ يُضَٰعَفُ لَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ مَا كَانُواْ يَسۡتَطِيعُونَ ٱلسَّمۡعَ وَمَا كَانُواْ يُبۡصِرُونَ ٢٠
Они не смогут спастись на земле, и не будет у них покровителей и помощников вместо Аллаха. Их мучения будут приумножены, ведь они не могли слышать и не видели.
أُوْلَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢١
Они потеряют самих себя, и покинет их (или исчезнет) то, что они измышляли.
لَا جَرَمَ أَنَّهُمۡ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ هُمُ ٱلۡأَخۡسَرُونَ ٢٢
Нет сомнения в том, что в Последней жизни они понесут самый большой урон.
اور کون شخص زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے باندھا اوپر اللہ کے جھوٹ؟ یہی لوگ پیش کیے جائیں گے اوپر اپنے رب کے اور کہیں گے گواہ (فرشتے) یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا تھا اوپر اپنے رب کے، آگاہ رہو! لعنت ہے اللہ کی اوپر ظالموں کے (18) وہ لوگ جو روکتے ہیں اللہ کی راہ سے اور تلاش کرتے ہیں اس میں کجی اور وہی ہیں ساتھ آخرت کے کفر کرنے والے (19) یہ لوگ نہ تھے عاجز کرنے والے (اللہ کو) زمین میں اور نہ تھا واسطے ان کے سوائے اللہ کے کوئی حمایتی، دگنا کیا جائے گا واسطے ان کے عذاب، نہ تھے وہ استطاعت رکھتے (حق) سننے کی اور نہ تھے وہ (حق کو) دیکھتے (20) یہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو اور گم ہو گیا ان سے وہ جو تھے وہ افتراء باندھتے (21) یقینا بلاشبہ وہی لوگ آخرت میں خسارہ پانے والے ہیں (22)
[18]﴿وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا﴾ ’’اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے‘‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہے اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی طرف کوئی شریک منسوب کرتا ہے یا اسے کسی ایسی صفت سے متصف کرتا ہے جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس کی طرف سے کوئی ایسی بات کہتا ہے جو اس نے نہیں کہی یا وہ نبوت کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی بھی طرح سے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ پس یہ لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ﴿اُولٰٓىِٕكَ يُعۡرَضُوۡنَ عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیش کیے جائیں گے‘‘ تاکہ وہ انھیں ان کے ظلم کا بدلہ دے۔ جب وہ ان کے خلاف سخت عذاب کا فیصلہ سنائے گا ﴿وَيَقُوۡلُ الۡاَشۡهَادُ ﴾ ’’کہیں گے گواہی دینے والے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ان کے خلاف ان کے کذب و افترا پر گواہی دیں گے ﴿هٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ كَذَبُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ١ۚ اَلَا لَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے جھوٹ بولا اپنے رب پر، خبردار، اللہ کی لعنت ہے جھوٹوں پر‘‘ یعنی وہ لعنت جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا کیونکہ ظلم ان کا وصف لازم بن چکا ہے، جو تخفیف کے قابل نہیں ۔
[19] پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ﴾ ’’جو کہ روکتے ہیں اللہ کے راستے سے‘‘ پس انھوں نے اپنے آپ کو بھی اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکے رکھا اور یہ انبیاء و مرسلین کا راستہ ہے جس کی طرف انبیاء لوگوں کو دعوت دیتے رہے اور وہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکتے رہے۔ پس وہ ائمہ ضلالت بن گئے جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں ۔ ﴿وَيَبۡغُوۡنَهَا ﴾ ’’اور اس میں چاہتے ہیں ۔‘‘ یعنی اللہ کے راستے کے بارے میں چاہتے ہیں ﴿ عِوَجًا ﴾ ’’کجی‘‘ یعنی اس راستے کو ٹیڑھا کرنے، اسے حقیر اور عیب دار قرار دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ لوگوں کے نزدیک غیر مستقیم قرار پائے۔ پس وہ باطل کی تحسین اور حق کی برائیاں بیان کرتے ہیں … اللہ ان کا برا کرے ﴿ وَهُمۡ بِالۡاٰخِرَةِ هُمۡ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘
[20]﴿اُولٰٓىِٕكَ لَمۡ يَكُوۡنُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں ‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں ﴿ وَمَا كَانَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ﴾ ’’اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست‘‘ جو ان کی تکلیف دور کر سکیں یا ان کے لیے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔ ﴿ يُضٰعَفُ لَهُمُ الۡعَذَابُ﴾ ’’دوگنا ہے ان کے لیے عذاب‘‘ ان کے لیے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا کیونکہ انھوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ ﴿ مَا كَانُوۡا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ السَّمۡعَ ﴾ ’’نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی‘‘ یعنی حق کے خلاف بغض اور نفرت رکھنے کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن نہیں سکتے جس سے وہ منتفع ہو سکیں ﴿ فَمَا لَهُمۡ عَنِ التَّذۡكِرَةِ مُعۡرِضِيۡنَۙ۰۰كَاَنَّهُمۡ حُمُرٌ مُّسۡتَنۡفِرَةٌۙ۰۰ فَرَّتۡ مِنۡ قَسۡوَرَةٍ ﴾(المدثر: 74؍49-51) ’’انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ نصیحت سے روگردانی کرتے ہیں گویا وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں جو شیر سے ڈر کر بھاگے ہوں ۔‘‘ ﴿ وَمَا كَانُوۡا يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ دیکھتے تھے‘‘ یعنی وہ عبرت اور تفکر و تدبر کی نظر سے نہیں دیکھتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ وہ تو بہروں اور گونگوں کی مانند ہیں جو سوچنے، سمجھنے سے محروم ہیں ۔
[21]﴿اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ ﴾ ’’وہی لوگ ہیں جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو‘‘ کیونکہ وہ سب سے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور گم ہو گیا ان سے وہ جو جھوٹ باندھتے تھے‘‘ یعنی ان کا وہ دین جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی یہ عبادت کیا کرتے تھے۔
[22]﴿ لَا جَرَمَ ﴾ ’’بلاشبہ‘‘ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ ﴿ اَنَّهُمۡ فِي الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴾ ’’وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کر دیا ہے بلکہ ان کے لیے شدید ترین خسارہ مقررہ کیا کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہو گا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔
11:23–24Страница 224
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَأَخۡبَتُوٓاْ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ ٢٣
Воистину, те, которые уверовали, совершали праведные деяния и были смиренны пред своим Господом, будут обитателями Рая и пребудут там вечно.
۞ مَثَلُ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ كَٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡأَصَمِّ وَٱلۡبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِۚ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ ٢٤
Эти две группы подобны слепому и глухому и зрячему и слышащему. Разве можно их сравнить друг с другом? Неужели вы не помяните назидание?
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔
[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии