Ас-СаадиЮсуф · 12:110–111

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Юсуф 12:110–111

12:110–111Страница 248

حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَآءُۖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُنَا عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ ١١٠

Когда же посланники приходили в отчаяние и понимали, что их сочли лжецами, к ним приходила Наша помощь, и спасались те, кого Мы хотели спасти. Наше наказание нельзя отвратить от грешных людей!

لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ١١١

В повествовании о них содержится назидание для обладающих разумом. Это - не вымышленный рассказ, а подтверждение тому, что было до него, разъяснение всякой вещи, верное руководство и милость для верующих людей.

یہاں تک کہ جب نا امید ہو گئے رسول اور انھوں نے گمان کیا(وسوسے کی حد تک) کہ بے شک وہ جھوٹ بولے گئے تو آگئی ان کے پاس مدد ہماری ، پھر نجات دی گئی اسے جسے ہم چاہتے تھےاور نہیں پھیرا جاتا عذاب ہمارا مجرم قوم سے (110) ، البتہ تحقیق ہے ان کے بیان (احوال) میں عبرت واسطے عقل والوں کے، نہیں ہے یہ (قرآن) ایسی بات کہ گھڑ لی گئی ہو لیکن (یہ تو) تصدیق ہے اس کی جو اس سے پہلے ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت ہے اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (111)

[110] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ انبیاء کرام کو مبعوث فرماتا ہے ان کی قوم کے مجرم اور لئیم لوگ انھیں جھٹلا دیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں ۔ اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پر مہلت دیے چلا جاتا ہے یہاں تک کہ انبیاء کرام پر ان کی سختیاں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں اور انبیاء و مرسلین یقین کامل اور اللہ تعالیٰ کے وعد و وعید کی تصدیق کے باوجود کبھی کبھی ان کے دل میں مایوسی کا کوئی خیال سا گزرتا ہے اور ان کے علم اور یقین میں ایک قسم کا ضعف سا آجاتا ہے۔ جب معاملہ اس حال کو پہنچ جاتا ہے ﴿ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا ١ۙ فَنُجِّيَ مَنۡ نَّشَآءُ﴾ ’’تو ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی، پس جن کو ہم نے چاہا، نجات دے دی گئی‘‘ اس سے مراد انبیاء و رسل اور ان کے متبعین ہیں ۔ ﴿ وَلَا يُرَدُّ بَاۡسُنَا عَنِ الۡقَوۡمِ الۡمُجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’اور ہمارا عذاب مجرموں سے پھر انہیں کرتا۔‘‘ یعنی ہمارے عذاب کو مجرموں اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں جرأت کرنے والے پر سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی کوئی پیش چل سکے گی نہ ان کی کوئی مدد کر سکے گا۔

[111]﴿لَقَدۡ كَانَ فِيۡ قَصَصِهِمۡ ﴾ ’’ان کے قصے میں ۔‘‘ یعنی انبیاء و رسل کے اپنی قوم کے ساتھ قصے میں ﴿ عِبۡرَةٌ لِّاُولِي الۡاَلۡبَابِ﴾’’عقل والوں کے لیے عبرت ہے‘‘ یعنی وہ اہل خیر اور اہل شر کے بارے میں عبرت لیتے ہیں ۔ جو کوئی ان جیسے افعال کا ارتکاب کرے گا تو اپنے فعل کے مطابق کرامت یا اہانت کا مستحق ٹھہرے گا۔ وہ ان قصوں میں سے اللہ تعالیٰ کی صفات کمال اور اس کی عظیم حکمت کا استنباط کرتے ہیں ۔ نیز وہ ان قصوں سے اس حقیقت کو اخذ کرتے ہیں کہ اللہ واحد کے سوا عبادت کسی کے لیے مناسب نہیں ۔﴿ مَا كَانَ حَدِيۡثًا يُّفۡتَرٰى ﴾ ’’یہ ایسی بات نہیں جو بنالی گئی ہو۔‘‘ یعنی یہ قرآن جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ تمھیں غیب کی خبروں سے آگاہ کرتا ہے، گھڑی ہوئی باتوں اور خود ساختہ کہانیوں پر مشتمل نہیں ہے۔ ﴿ وَلٰكِنۡ تَصۡدِيۡقَ الَّذِيۡ بَيۡنَ يَدَيۡهِ ﴾ ’’بلکہ جو اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کرنے والا ہے۔‘‘ بلکہ کتب سابقہ کی تصدیق، ان کی موافقت اور ان کی صحت کی شہادت پر مشتمل ہے۔ ﴿ وَتَفۡصِيۡلَ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل ہے۔‘‘ بندے جن کے محتاج ہیں ، مثلاً:دین کے اصول و فروع اور دلائل و براہین۔ ﴿ وَّهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے‘‘ یعنی اس سبب سے کہ اس قرآن کے ذریعے سے انھیں جو حق کا علم حاصل ہوتا ہے اور وہ حق کو ترجیح دیتے ہیں … انھیں ہدایت حاصل ہوتی ہے اور انھیں جو دنیاوی یا اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے اس کے ذریعے سے رحمت سے نوازے جاتے ہیں ۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English