Ас-СаадиЮсуф · 12:23–35

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Юсуф 12:23–35

12:23–29Страница 238

وَرَٰوَدَتۡهُ ٱلَّتِي هُوَ فِي بَيۡتِهَا عَن نَّفۡسِهِۦ وَغَلَّقَتِ ٱلۡأَبۡوَٰبَ وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَۚ قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ رَبِّيٓ أَحۡسَنَ مَثۡوَايَۖ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٣

Женщина, в доме которой он жил, стала соблазнять его, заперла двери и сказала: «Иди ко мне». Он сказал: «Упаси Аллах! Ведь он - мой господин, обеспечивший мне прекрасную жизнь. Воистину, беззаконники не преуспеют».

وَلَقَدۡ هَمَّتۡ بِهِۦۖ وَهَمَّ بِهَا لَوۡلَآ أَن رَّءَا بُرۡهَٰنَ رَبِّهِۦۚ كَذَٰلِكَ لِنَصۡرِفَ عَنۡهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلۡفَحۡشَآءَۚ إِنَّهُۥ مِنۡ عِبَادِنَا ٱلۡمُخۡلَصِينَ ٢٤

Она возжелала его, и он возжелал бы ее, если бы не увидел знамение своего Господа. Так Мы отвратили от него зло и мерзость. Воистину, он был из числа Наших избранных (или искренних) рабов.

وَٱسۡتَبَقَا ٱلۡبَابَ وَقَدَّتۡ قَمِيصَهُۥ مِن دُبُرٖ وَأَلۡفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا ٱلۡبَابِۚ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ أَرَادَ بِأَهۡلِكَ سُوٓءًا إِلَّآ أَن يُسۡجَنَ أَوۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ ٢٥

Они бросились к двери, пытаясь опередить друг друга, и она порвала его рубаху со спины. У двери они встретили ее господина. Она сказала: «Как иначе можно покарать того, кто хотел причинить зло твоей жене, если не заточить его в темницу или не подвергнуть мучительным страданиям?!».

قَالَ هِيَ رَٰوَدَتۡنِي عَن نَّفۡسِيۚ وَشَهِدَ شَاهِدٞ مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٖ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلۡكَٰذِبِينَ ٢٦

Он сказал: «Это она пыталась соблазнить меня». А свидетель из ее семьи сказал: «Если его рубаха разорвана спереди, то она говорит правду, а он - один из тех, кто лжет.

وَإِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ ٢٧

А если его рубаха разорвана со спины, то она лжет, а он - один из тех, кто говорит правду».

فَلَمَّا رَءَا قَمِيصَهُۥ قُدَّ مِن دُبُرٖ قَالَ إِنَّهُۥ مِن كَيۡدِكُنَّۖ إِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيمٞ ٢٨

Увидев, что его рубаха разорвана со спины, он сказал: «Воистину, все это - ваши женские козни. Воистину, ваши козни велики!

يُوسُفُ أَعۡرِضۡ عَنۡ هَٰذَاۚ وَٱسۡتَغۡفِرِي لِذَنۢبِكِۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ ٱلۡخَاطِـِٔينَ ٢٩

Йусуф (Иосиф), забудь об этом! А ты проси прощения за свое прегрешение, ибо ты совершила грех».

اور پھسلایا اس نے اس کو کہ تھا وہ (یوسف) اس کے گھر میں ، اس کے نفس سےاور بند کر دیے اس (عورت) نے دروازےاور کہا،لو آجاؤ! یوسف نے کہا، اللہ کی پناہ! وہ (عزیز) تو میرا آقا ہے، اچھا کیا اس نے میرا ٹھکانا، بے شک نہیں فلاح پاتے ظالم لوگ (23) اور البتہ تحقیق ارادہ کیا اس عورت نے یوسف کا اور وہ بھی ارادہ کر لیتا اس کا اگر نہ ہوتی یہ بات کہ دیکھ لی تھی اس نے برہان اپنے رب کی، اسی طرح (اسے برہان دکھائی) تاکہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بے حیائی کو، بے شک یوسف ہمارے خالص کیے ہوئے بندوں میں سے تھا (24) اور دوڑے وہ دونوں دروازے کواور پھاڑ دی اس نے قمیص یوسف کی پیچھے سےاور پایا دونوں نے اس کے خاوند کو نزدیک دروازے کے، کہا اس عورت نے، کیا سزا ہے اس کی جو ارادہ کر ے تیری بیوی سے برائی کا، سوائے اس کے کہ وہ قید کیا جائے یا (دیا جائے) عذاب درد ناک (25) یوسف نے کہا، اسی نے ورغلایا مجھے میرے نفس سے اور گواہی دی ایک شاہد نے اس عورت کے خاندان میں سے کہ اگر ہے قمیص یوسف کی پھٹی ہوئی آگے (کی طرف) سے تو وہ عورت سچی ہے اوریوسف جھوٹوں میں سے ہے (26) اور اگر ہے قمیص یوسف کی پھٹی ہوئی پیچھے سے تو جھوٹی ہے وہ عورت اور یوسف سچوں میں سے ہے (27) پھر جب دیکھی عزیز نے اس کی قمیص کہ وہ پھٹی ہوئی تھی پیچھے سے تو کہا عزیز نے، بے شک یہ تم عورتوں کے مکرو فریب سے ہے، بلاشبہ تم عورتوں کا مکروفریب بہت بڑا ہے (28)اے یوسف! درگزر کر اس (بات) سےاور (بیوی سے کہا) تو مغفرت طلب کر واسطے اپنے گناہ کے، بلاشبہ تو ہی ہے خطا کاروں میں سے (29)

[24,23] اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسفu عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کامل حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ ﴿وَرَاوَدَتۡهُ الَّتِيۡ هُوَ فِيۡ بَيۡتِهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔‘‘ یعنی یوسفu جس عورت کے غلام اور اس کے زیردست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کر دیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ ﴿وَغَلَّقَتِ الۡاَبۡوَابَ ﴾ ’’اس نے دروازے بند کر دیے‘‘ اور مکان خالی ہو گیا اور دروازوں کو بند کر دینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈر نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسفu کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ ﴿وَقَالَتۡ هَيۡتَ لَكَ﴾ ’’کہنے لگی، جلدی آؤ۔‘‘ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سرانجام دو۔اس کے باوجود کہ یوسفu ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کر سکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے غلام تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسفu خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف (u)نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انھیں قید خانے میں بھجوا دے گی یا انھیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گی۔مگر بایں ہمہ، جناب یوسفu اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے کیونکہ جس فعل کا ارادہ انھوں نے کر لیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کر دیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انھیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کر دیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔﴿قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی پناہ‘‘ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کر دیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں ۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسفu نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دیا وہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفu کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جاگزیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا… اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسفu سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیا تھا کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کر لیا اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کر دی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کر دیا۔ بنابریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔

[25] جب حضرت یوسفu اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کی پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دونوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انھوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعویٰ کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی: ﴿ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَهۡلِكَ سُوۡٓءًا﴾ ’’اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے‘‘ اور یہ نہیں کہا ﴿من فعل باهلك سوء ا﴾ ’’جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی‘‘ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسفu کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا۔ ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ يُّسۡجَنَ اَوۡ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ ﴾ ’’مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔‘‘

[26] یوسفu نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا:﴿هِيَ رَاوَدَتۡنِيۡ عَنۡ نَّفۡسِيۡ﴾ ’’اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا۔‘‘ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں ۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنھیں بسااوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چنانچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسفu کی براء ت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کر دیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا:﴿ اِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتۡ وَهُوَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ﴾ ’’اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔

[27]﴿ وَاِنۡ كَانَ قَمِيۡصُهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَكَذَبَتۡ وَهُوَ مِنَ الصّٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے‘‘ کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسفu کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسفu پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔

[28]﴿ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيۡصَهٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ ﴾ ’’پس جب عزیز مصر نے ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا‘‘ تو اسے جناب یوسفu کی صداقت اور ان کی براء ت کا یقین ہوگیا، نیز یہ کہ عورت جھوٹی ہے تو عورت کے شوہر نے اس سے کہا:﴿اِنَّهٗ مِنۡ كَيۡدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَيۡدَكُنَّ عَظِيۡمٌ﴾ ’’یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا، یقینا تمھارا فریب بڑا ہے‘‘ اس سے بڑھ کر کوئی اور فریب ہو سکتا ہے کہ اس عورت نے بدی کا ارادہ کیا، اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی پھر اپنے آپ کو بری قرار دے کر اپنا کرتوت اللہ تعالیٰ کے نبی جناب یوسفu کے سر تھوپ دیا۔

[29] جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسفu سے کہا ﴿ يُوۡسُفُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا﴾ ’’یوسف! جانے دو اس ذکر کو‘‘ یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ ﴿وَاسۡتَغۡفِرِيۡ﴾ ’’اے عورت! بخشش مانگ‘‘ ﴿ لِذَنۢۡبِكِ١ۖ ۚ اِنَّكِ كُنۡتِ مِنَ الۡخٰطِــِٕيۡنَ ﴾ ’’اپنے گناہ پر، بے شک تو ہی گناہ گار تھی‘‘ اس شخص نے یوسفu کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔

12:30–35Страница 238

۞ وَقَالَ نِسۡوَةٞ فِي ٱلۡمَدِينَةِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفۡسِهِۦۖ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٣٠

Женщины в городе стали говорить: «Жена знатного мужа пыталась соблазнить своего юного раба! Она страстно возлюбила его, и мы полагаем, что она впала в очевидное заблуждение».

فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ أَرۡسَلَتۡ إِلَيۡهِنَّ وَأَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـٔٗا وَءَاتَتۡ كُلَّ وَٰحِدَةٖ مِّنۡهُنَّ سِكِّينٗا وَقَالَتِ ٱخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۖ فَلَمَّا رَأَيۡنَهُۥٓ أَكۡبَرۡنَهُۥ وَقَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٞ كَرِيمٞ ٣١

Когда она услышала про их хитрость, то пригласила их, велела приготовить им подушки, дала каждой по ножу для фруктов и сказала: «Выйди к ним». Когда они увидели его, то так превознесли его, что порезали ножами себе руки и сказали: «Упаси Аллах! Да ведь это - не человек. Он - не кто иной, как благородный ангел».

قَالَتۡ فَذَٰلِكُنَّ ٱلَّذِي لُمۡتُنَّنِي فِيهِۖ وَلَقَدۡ رَٰوَدتُّهُۥ عَن نَّفۡسِهِۦ فَٱسۡتَعۡصَمَۖ وَلَئِن لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَآ ءَامُرُهُۥ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُونٗا مِّنَ ٱلصَّٰغِرِينَ ٣٢

Она сказала: «Перед вами тот, из-за которого вы меня порицали. Я действительно пыталась его соблазнить, но он отказался. Но если он не выполнит мой приказ, то будет заточен в темницу и окажется в числе презренных».

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجۡنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُونَنِيٓ إِلَيۡهِۖ وَإِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّي كَيۡدَهُنَّ أَصۡبُ إِلَيۡهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٣

Он сказал: «Господи! Темница мне милее того, к чему меня призывают. Если Ты не отвратишь от меня их козни, то я уступлю им и окажусь в числе невежд».

فَٱسۡتَجَابَ لَهُۥ رَبُّهُۥ فَصَرَفَ عَنۡهُ كَيۡدَهُنَّۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٣٤

Господь ответил на его мольбу и отвратил от него их козни. Воистину, Он - Слышащий, Знающий.

ثُمَّ بَدَا لَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا رَأَوُاْ ٱلۡأٓيَٰتِ لَيَسۡجُنُنَّهُۥ حَتَّىٰ حِينٖ ٣٥

Они увидели его доказательства, но после этого все равно решили заточить его на некоторое время.

اور کہا عورتوں نے شہر (مصر) میں کہ عزیز مصر کی بیوی نے پھسلایا (ورغلایا) اپنے غلام کو اس کے نفس سے، تحقیق غالب آگیا ہے یوسف اس پر ازروئے محبت کے، بے شک ہم البتہ دیکھتی ہیں اسے گمراہی ظاہر میں (30) پس جب اس عورت نے سنی ملامت ان کی تو اس نے (پیغام) بھیجا ان کی طرف (بلانے کو) اور تیار کیں ان کے لیے نشست گاہیں اور دی اس نے ہر ایک عورت کو ان میں سے ایک چھری اور کہا (یوسف سے) نکل ان پر، پس جب ان عورتوں نے یوسف کو دیکھا تو بہت بڑا جانا اسے اور کاٹ لیے اپنے ہاتھ اور بولیں ، حاشاللہ! (پاکیزگی اللہ کی)، نہیں ہے یہ بشر، نہیں ہے یہ مگر فرشتہ نہایت معزز(31) اس نے کہا، پس یہی تو ہے وہ شخص کہ ملامت کی تم نے مجھے اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق ورغلایا تھا میں نے اسے اس کے نفس سے، پس وہ بچ گیا اور البتہ اگر نہ کیا اس نے جو حکم دیتی ہوں میں اسے تو ضرور قید کیا جائے گا اور یقینا ہو گا بے عزت ہونے والوں میں سے (32) یوسف نے کہا، اے رب! قید خانہ زیادہ پسند ہے مجھے اس سے کہ بلاتی ہیں یہ عورتیں مجھے اس کی طرف اور اگر نہ پھیرے گا تو مجھ سے ان کا مکر تو مائل ہو جاؤں گا میں طرف ان کی اور ہو جاؤں گا میں جاہلوں میں سے (33) پس قبول کر لی (دعا) اس کی اس کے رب نے، سو پھیر دیا اس نے اس سے مکران عورتوں کا، بے شک وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا (34) پھر ظاہر ہو اواسطے ان کے بعد اس کے کہ دیکھ لیں انھوں نے نشانیاں کہ بہر صورت قید کریں وہ لوگ اس (یوسف) کو کچھ وقت تک (35)

[30] یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : ﴿ امۡرَاَتُ الۡعَزِيۡزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنۡ نَّفۡسِهٖ﴾ ’’عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ یہ کام بہت برا ہے۔ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالتی رہی جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی ﴿ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّا ﴾ ’’اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔‘‘ یعنی یوسفu کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ ﴿ اِنَّا لَـنَرٰىهَا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں ‘‘ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں ، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔

[31] ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ بات کہہ کر جناب یوسفu تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑ گئی… تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لیے یوسفu کا دیدار کروا دے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔چنانچہ فرمایا: ﴿ فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَؔكۡرِهِنَّ اَرۡسَلَتۡ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بلوا بھیجا‘‘ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا ﴿ وَاَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَاً ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک مجلس تیار کی‘‘ ان کے لیے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکیے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کیے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً:لیموں وغیرہ۔ ﴿ وَّاٰتَتۡ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنۡهُنَّ سِكِّيۡنًا ﴾ ’’اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی‘‘ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ ﴿ وَّقَالَتِ ﴾ اور یوسفu سے بولی: ﴿ اخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّ﴾ ’’ان کے سامنے نکل آؤ‘‘ اپنے پورے جمال اور رعنائیوں کے ساتھ ان عورتوں کے سامنے آؤ۔ ﴿فَلَمَّا رَاَيۡنَهٗۤ اَكۡبَرۡنَهٗ ﴾ ’’پس جب انھوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا سمجھا‘‘ یعنی اپنے دل میں اسے بہت بڑا سمجھا اور انھیں ایک نہایت عمدہ اور سحر انگیز منظر نظر آیا کہ اس سے پہلے انھوں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ﴿وَقَطَّعۡنَ ﴾ ’’اور کاٹ لیے انھوں نے‘‘ یعنی تحیر اور مدہوشی میں ﴿ اَيۡدِيَهُنَّ ﴾ ’’اپنے ہاتھ‘‘ ان چھریوں سے جو ان کے پاس تھیں اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ ﴿ وَقُلۡنَ حَاشَ لِلّٰهِ ﴾ ’’اور کہنے لگیں اللہ تعالیٰ پاک ہے۔‘‘ ﴿ مَا هٰؔذَا بَشَرًا١ؕ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِيۡمٌ﴾ ’’یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ جناب یوسفu کو بے پناہ حسن و جمال، نورانیت اور مردانہ وجاہت عطا کی گئی تھی جو دیکھنے والوں کے لیے ایک نشانی اور غور کرنے والوں کے لیے عبرت تھی۔

[32] جب ان عورتوں کے سامنے یوسفu کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسفu ان کو بہت ہی اچھے لگے تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا، پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسفu کے باطنی جمال… یعنی عفت کامل… کا نظارہ کروائے چنانچہ اس عورت نے کسی چیز کی پروا کیے بغیر کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہو گئی تھی… یوسفu سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا:﴿ قَالَتۡ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيۡ لُمۡتُنَّنِيۡ فِيۡهِ وَلَقَدۡ رَاوَدۡتُّهٗ عَنۡ نَّفۡسِهٖ فَاسۡتَعۡصَمَ ﴾ ’’یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا‘‘ یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسفu کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے قراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا، لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسفu سے کہا:﴿وَلَىِٕنۡ لَّمۡ يَفۡعَلۡ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَيُسۡجَنَنَّ وَلَيَكُوۡنًا مِّنَ الصّٰغِرِيۡنَؔ﴾ ’’اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں تو یہ یقینا قید کر دیا جائے گا اور بے عزت ہو گا‘‘ تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسفu سے اپنا مقصد حاصل کر سکے۔

[33] تب یوسفu نے اپنے رب سے پناہ مانگی اور ان عورتوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہوئے ﴿ قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَيَّ مِمَّا يَدۡعُوۡنَنِيۡۤ اِلَيۡهِ﴾’’انھوں نے کہا، اے رب! مجھے قید اس سے زیادہ پسند ہے جس طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں ‘‘ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان عورتوں نے یوسفu کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مالکہ کا حکم مانیں اور ان عورتوں نے یوسفu کو فریب سے پھسلانا شروع کر دیا تھا۔ اس لیے یوسفu نے اس لذت کے مقابلے میں ، جو اخروی عذاب کی موجب ہے، قید خانے اور دنیاوی عذاب کو پسند کیا۔﴿ وَاِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّيۡؔ كَيۡدَهُنَّ اَصۡبُ اِلَيۡهِنَّ ﴾ ’’اور اگر تو نے ان عورتوں کی چالوں اور مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو کر ان کے دام میں پھنس جاؤں گا‘‘ کیونکہ میں تو ایک عاجز اور کمزور بندہ ہوں ﴿ وَاَكُنۡ مِّنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’اور میں جاہلوں سے ہو جاؤں گا‘‘ کیونکہ یہ سب جہالت کا کام ہے کیونکہ جاہل ختم ہو جانے والی قلیل لذت کو جنت میں حاصل ہونے والی دائمی لذات اور انواع و اقسام کی شہوات پر ترجیح دیتا ہے اور جو دنیا کی اس لذت کو جنت کی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے اس سے بڑھ کر جاہل کون ہے؟ علم و عقل ہمیشہ بڑی مصلحت اور دائمی لذت کو مقدم رکھنے اور ان امور کو ترجیح دینے کی دعوت دیتے ہیں جن کا انجام قابل ستائش ہوتا ہے۔

[34]﴿ فَاسۡتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ﴾ ’’تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی۔‘‘ جب یوسفu نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا ﴿ فَصَرَفَ عَنۡهُؔ كَيۡدَهُنَّ﴾ ’’پس ان سے ان عورتوں کا فریب پھیر دیا‘‘ وہ عورت جناب یوسفu پر ڈورے ڈال کر ان کو اپنے دام فریب میں پھانسنے کی کوشش کرتی رہی اور اس سلسلے میں وہ تمام وسائل استعمال کرتی رہی جو اس کی قدرت و اختیار میں تھے۔ یہاں تک کہ یوسفu نے اس کو مایوس کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مکر و فریب کو یوسفu سے رفع کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی دعا کو سنتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ اور اس کی نیک نیت اور کمزور نیت کو خوب جانتا ہے جو اس کی مدد، معاونت اور اس کے لطف و کرم کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ دعا تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جناب یوسفu کو اس فتنہ اور بہت بڑی آزمائش سے نجات دی۔

[35] رہے ان کے آقا تو جب یہ خبر مشہور ہوئی اور بات کھل گئی تو لوگوں میں سے کسی نے ان کو معذور سمجھا، کسی نے ملامت کی اور کسی نے جرح و قدح کی۔ ﴿ بَدَا لَهُمۡ﴾ ’’ان پر ظاہر ہوا۔‘‘ ﴿ مِّنۢۡ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰيٰتِ ﴾ ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد جو یوسفu کی براء ت پر دلالت کرتی تھیں ﴿ لَيَسۡجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِيۡنٍ﴾ ’’کہ ایک وقت تک ان کو قید میں رکھیں ‘‘ تاکہ اس طرح خبر منقطع ہو جائے اور لوگ اس واقعہ کو بھول جائیں کیونکہ جب کوئی خبر شائع ہو جاتی ہے تو اس کا ذکر عام ہونے لگتا ہے اور وجود اسباب کے باعث یہ خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب اسباب معدوم ہو جاتے ہیں تو اس واقعہ کو بھلا دیا جاتا ہے… چنانچہ انھوں نے اس میں یہی مصلحت دیکھی اور یوسفu کو قید خانے میں ڈال دیا۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English