Ас-Саади · Тафсир · на урду
Юсуф 12:69–92
12:69–79Страница 243
وَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَخَاهُۖ قَالَ إِنِّيٓ أَنَا۠ أَخُوكَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٦٩
Когда они вошли к Йусуфу (Иосифу), он прижал к себе своего брата и сказал: «Воистину, я - твой брат. Пусть не печалит тебя то, что они совершали».
فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِي رَحۡلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلۡعِيرُ إِنَّكُمۡ لَسَٰرِقُونَ ٧٠
Снабдив их провизией, он положил чашу в мешок своего брата. А затем глашатай закричал: «О караванщики! Вы - воры».
قَالُواْ وَأَقۡبَلُواْ عَلَيۡهِم مَّاذَا تَفۡقِدُونَ ٧١
Повернувшись к ним лицом, братья сказали: «Что вы потеряли?».
قَالُواْ نَفۡقِدُ صُوَاعَ ٱلۡمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمۡلُ بَعِيرٖ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٞ ٧٢
Они сказали: «Мы потеряли чашу царя. Кто принесет ее, получит верблюжий вьюк. Я отвечаю за это».
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُم مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ ٧٣
Братья сказали: «Клянемся Аллахом! Вы знаете, что мы не прибыли для того, чтобы распространять нечестие. Мы не являемся ворами».
قَالُواْ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمۡ كَٰذِبِينَ ٧٤
Они сказали: «Каким же будет возмездие ему, если вы лжете?».
قَالُواْ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِي رَحۡلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥۚ كَذَٰلِكَ نَجۡزِي ٱلظَّٰلِمِينَ ٧٥
Братья сказали: «Тот, в чьем вьюке она будет найдена, будет задержан в наказание. Так мы воздаем беззаконникам».
فَبَدَأَ بِأَوۡعِيَتِهِمۡ قَبۡلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسۡتَخۡرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِۚ كَذَٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوسُفَۖ مَا كَانَ لِيَأۡخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ ٱلۡمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُۚ نَرۡفَعُ دَرَجَٰتٖ مَّن نَّشَآءُۗ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٞ ٧٦
Он начал с их мешков до того, как обыскал мешок своего брата, а затем вытащил чашу из мешка своего брата. Мы научили Йусуфа этой хитрости, ибо по законам царя он не мог задержать своего брата, если бы того не захотел Аллах. Мы возносим по степеням тех, кого пожелаем, и выше любого обладающего знанием есть более знающий.
۞ قَالُوٓاْ إِن يَسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ أَخٞ لَّهُۥ مِن قَبۡلُۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفۡسِهِۦ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡۚ قَالَ أَنتُمۡ شَرّٞ مَّكَانٗاۖ وَٱللَّهُ أَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُونَ ٧٧
Они сказали: «Если он украл, то ведь еще раньше воровал его брат». Йусуф (Иосиф) утаил это в своей душе и не открылся им, а только подумал: «Ваше положение еще более отвратительно, и Аллаху лучше знать о том, что вы измышляете».
قَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبٗا شَيۡخٗا كَبِيرٗا فَخُذۡ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٧٨
Они сказали: «О повелитель! Его отец - многолетний старик. Задержи вместо него кого-либо из нас. Мы видим, что ты - один из творящих добро».
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأۡخُذَ إِلَّا مَن وَجَدۡنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذٗا لَّظَٰلِمُونَ ٧٩
Он сказал: «Упаси нас Аллах задержать кого-нибудь вместо того, у которого мы нашли нашу вещь. Поступив так, мы стали бы одними из беззаконников».
اور جب وہ داخل ہوئے اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے بھائی کو (اور) کہا، بلاشبہ میں بھائی ہوں تیرا، سو نہ غم کھا تو بوجہ اس کے جو تھے وہ عمل کرتے (69) ، پھر جب تیار کر دیا یوسف نے ان کے لیے سامان ان کا تو رکھ دیا مرصع پیالہ سامان میں اپنے بھائی کے، پھر اعلان کیا ایک اعلان کرنے والے نے، اے قافلہ والو! بے شک تم لوگ تو چور ہو (70) انھوں نے کہااور وہ متوجہ ہوئے ان کی طرف، کیا چیز گم پاتے ہو تم؟(71) انھوں نے کہا، گم پاتے ہیں ہم پیالہ بادشاہ کااور واسطے اس شخص کے جو لائے گا اسے، ایک بار شتر ہے(غلہ) اور میں ساتھ اس (وعدے) کے ضامن ہوں (72) انھوں نے کہا، اللہ کی قسم! البتہ تحقیق جانتے ہو تم کہ نہیں آئے ہم تاکہ فساد کریں ہم اس زمین میں اور نہیں ہیں ہم چور (73) انھوں نے کہا، پھر کیا سزا ہے اس (چور) کی اگر ہو تم جھوٹے؟ (74) انھوں نے کہا، سزا اس کی یہ ہے، جو شخص کہ پایا جائے وہ (پیالہ) اس کے سامان میں پس وہی شخص ہے بدلہ اس کا، اسی طرح ہم سزا دیتے ہیں ظالموں کو (75) پس شروع ہوا (لگا) یوسف (تلاشی لینے) ان کے بوروں کی پہلے اپنے بھائی کے بورے کے ، پھر نکال لیا وہ (پیالہ) بورے سے اپنے بھائی کے، اسی طرح تدبیر کی ہم نے واسطے یوسف کے، نہیں تھا یوسف کہ وہ لے سکتا اپنے بھائی کو قانون میں اس بادشاہ کے مگر یہ کہ چاہے اللہ، بلند کرتے ہیں ہم درجے جس کے چاہیں ،اور اوپر ہر صاحب علم کے ایک زیادہ علم والا ہے (76) انھوں نے کہا، اگر اس نے چوری کی ہے تو تحقیق چوری کی تھی ایک بھائی نے اس کے، اس سے پہلے، پس چھپایا اس (بات) کو یوسف نے اپنے دل میں اور نہ ظاہر کیااس نے اسے واسطے ان کے، کہا (دل میں ) تم بدترین ہو مرتبے میں اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو تم بیان کرتے ہو (77) انھوں نے کہا، اے عزیز! بے شک ان (بنیا مین) کا باپ ہے بوڑھا بڑی عمر والا، پس آپ لے لیں کسی ایک کو ہم میں سے اس کی جگہ، بے شک ہم دیکھتے ہیں آپ کو احسان کرنے والوں میں سے (78)یوسف نے کہا، پناہ اللہ کی اس بات سے کہ لیں ہم (کسی اور کو) سوائے اس شخص کے کہ پایا ہم نے سامان اپنا اس کے پاس، (ایسا کیا تو) بلاشبہ ہم اس وقت ، البتہ ظالم ہوں گے (79)
[69] جب یوسفu کے بھائی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَخَاهُ﴾’’تو اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یوسفu نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو جس کو لانے کے لیے انھوں نے اپنے بھائیوں کو حکم دیا تھا… پاس بلا کر اپنے ساتھ بٹھایا اور بھائیوں سے اس کو الگ کر لیا اور اسے تمام حقیقت حال سے آگاہ کر دیا۔ ﴿ قَالَ اِنِّيۡۤ اَنَا اَخُوۡكَ فَلَا تَبۡتَىِٕسۡ﴾ ’’اس سے کہا، میں تیرا بھائی ہوں ، پس غمگین مت ہو‘‘ یعنی غم زدہ نہ ہو ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَؔ ﴾ ’’ان کاموں سے جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘ کیونکہ ہماری عاقبت اچھی ہے، پھر انھوں نے بنیامین کو اپنے اس منصوبے اور حیلے سے آگاہ کیا جس کے مطابق یوسفu بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے جب تک کہ معاملہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتا۔
[70]﴿ فَلَمَّا جَهَّزَهُمۡ بِجَهَازِهِمۡ﴾ ’’پس جب تیار کر دیا ان کے واسطے ان کا اسباب‘‘ یعنی جب یوسفu نے اپنے بھائیوں میں سے ہر ایک کو غلہ ناپ کر دے دیا، ان میں ان کا حقیقی بھائی بنیامین بھی شامل تھا۔ ﴿ جَعَلَ السِّقَايَةَ ﴾ ’’تو رکھ دیا پینے کا پیالہ‘‘ اس سے مراد وہ پیالہ ہے جس میں پانی پیا جاتا ہے اور اس میں اناج وغیرہ بھی ناپا جاتا ہے ﴿ فِيۡ رَحۡلِ اَخِيۡهِ ثُمَّ﴾ ’’اپنے بھائی کے سامان میں ، پھر‘‘ یعنی پیالہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا۔ پس جب وہ کوچ کرنے لگے تو ﴿ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌؔ اَيَّتُهَا الۡعِيۡرُ اِنَّـكُمۡ لَسٰرِقُوۡنَؔ﴾ ’’اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ اے قافلے والو! تم تو چور ہو‘‘ شاید اعلان کرنے والے کو حقیقت حال کا علم نہیں تھا۔
[71]﴿ قَالُوۡا﴾ یوسفu کے بھائیوں نے کہا: ﴿ وَاَقۡبَلُوۡا عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور ان کی طرف متوجہ ہوئے‘‘ تہمت کو دور کرنے کے لیے کیونکہ چور ہمیشہ اس شخص سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے جس کی اس نے چوری کی ہو تاکہ اس کی چوری پکڑی نہ جائے اور یہ لوگ ان کے پاس واپس آگئے، تہمت کے ازالے کے سوا ان کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ اس صورت میں انھوں نے اعلان کرنے والوں سے پوچھا ﴿ مَّاذَا تَفۡقِدُوۡنَؔ ﴾ ’’تمھاری کیا چیز گم ہوگئی ہے؟‘‘ انھوں نے یہ نہیں پوچھا ’’ہم نے تمھاری کیا چیز چرا لی ہے؟‘‘ کیونکہ وہ چوری کے اس الزام سے اپنے آپ کو یقینی طور پر بری سمجھتے تھے۔
[72]﴿ قَالُوۡا نَفۡقِدُ صُوَاعَ الۡمَلِكِ وَلِمَنۡ جَآءَ بِهٖ حِمۡلُ بَعِيۡرٍ ﴾ ’’ہم نہیں پاتے بادشاہ کا پیمانہ اور جو کوئی اس کو لائے گا، اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے‘‘ یعنی اس کو ڈھونڈنے کی اجرت میں ایک بار شتر اناج ملے گا ﴿ وَّاَنَا بِهٖ زَعِيۡمٌ﴾ ’’اور میں اس کا ضامن ہوں ۔‘‘ یعنی یہ اناج دلانے کا میں ذمہ لیتا ہوں ، یہ بات تلاش کرنے والے نے کہی تھی۔
[73]﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا جِئۡنَا لِنُفۡسِدَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، تم جانتے ہو، ہم ملک میں بگاڑ ڈالنے کے لیے نہیں آئے‘‘ گناہوں کی تمام اقسام کے ذریعے سے ﴿ وَمَا كُنَّا سٰؔرِقِيۡنَ ﴾ ’’اور نہ ہم چور ہی ہیں ‘‘ کیونکہ چوری فساد فی الارض کی سب سے بڑی قسم ہے۔انھوں نے قسم اس لیے اٹھائی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ فساد پھیلانے والے ہیں نہ چور۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے احوال کی خوب جانچ پڑتال ہوئی ہے جو ان کی پاکیزگی اور پرہیزگاری پر دلالت کرتی ہے اور یہ کام ان کے علم سے نہیں ہو سکتا جن پر وہ چوری کی تہمت لگا رہے ہیں … یہ پیرایہ چوری کی تہمت کی نفی میں اس فقرے سے زیادہ بلیغ ہے (تَاللہِ لَمْ نُفْسِدْ فِیْ الْاَرْضِ وَلَمْ نَسْرِقْ) ’’اللہ کی قسم ہم نے زمین میں فساد کیا ہے نہ ہم نے چوری کی ہے۔‘‘
[74]﴿قَالُوۡا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ ﴾ ’’انھوں نے کہا تو اس کی جزا کیا ہے۔‘‘ یعنی اس فعل کی جزا کیا ہوگی ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اگر تم جھوٹے ہوئے‘‘ یعنی اگر بادشاہ کا پیمانہ تمھارے پاس ہوا؟
[75]﴿ قَالُوۡا جَزَآؤُهٗ مَنۡ وُّجِدَ فِيۡ رَحۡلِهٖ فَهُوَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، اس کی جزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ پیالہ پایا جائے تو وہی‘‘ یعنی جس کے سامان میں موجود ہوگا ﴿ جَزَآؤُهٗ﴾ ’’اس کی جزا ہے‘‘ یعنی جس کی چوری کی گئی ہے وہ اس کا مالک بن جائے گا، ان کے دین میں چوری کی سزا یہ تھی کہ اگر اس پر چوری کا الزام ثابت ہو جاتا تو وہ مال مسروقہ کے مالک کی ملکیت بن جاتا۔ اسی لیے انھوں نے کہا:﴿ كَذٰلِكَ نَجۡزِي الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔‘‘
[76]﴿ فَبَدَاَ بِاَوۡعِيَتِهِمۡ۠ قَبۡلَ وِعَآءِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’پھر انھوں نے اپنے بھائی کے سامان سے پہلے ان کے سامان کو دیکھنا شروع کیا۔‘‘ یعنی تلاشی لینے والے نے پہلے یوسفu کے بھائیوں کی خرجیوں کی تلاشی لی تاکہ وہ شک زائل ہو جائے کہ سب کچھ قصداً کیا گیا ہے۔ ﴿ ثُمَّ ﴾ ’’پھر‘‘یعنی جب بھائیوں کی خرجیوں سے کچھ نہ ملا ﴿ اسۡتَخۡرَجَهَا مِنۡ وِّعَآءِ اَخِيۡهِ﴾ ’’اس برتن کو نکال لیا اپنے بھائی کی خرجی سے‘‘ یعنی حقیقت واقعہ کی رعایت رکھتے ہوئے (وَجَدَھَا) یا (سَرَقَھَا) نہیں کہا۔اس طرح یوسفu کے اس منصوبے کی تکمیل ہوگئی جس کے مطابق وہ اپنے بھائی کو اس طرح اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے کہ ان کے بھائیوں کو اصل صورت حال کا علم نہ ہو۔ فرمایا: ﴿ كَذٰلِكَ كِدۡنَا لِيُوۡسُفَ﴾ ’’اس طرح تدبیر کی ہم نے یوسف کے لیے‘‘ یعنی ہم نے یوسفu کے لیے اس تدبیر کو آسان کر دیا جس کے ذریعے سے وہ غیر مذموم طریقے سے اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ﴿ مَا كَانَ لِيَاۡخُذَ اَخَاهُ فِيۡ دِيۡنِ الۡمَلِكِ﴾’’وہ اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا اس بادشاہ کے دین میں ‘‘ یعنی بادشاہ کے قانون کے مطابق مال مسروقہ کے مالک کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ وہ چور کا مالک بن سکے۔ ان کے ہاں چوری کی کوئی اور سزا تھی۔ اگر فیصلہ بادشاہ کے قانون کے مطابق ہوتا تو یوسفu اپنے بھائی کو اپنے پاس نہ رکھ سکتے۔ اس لیے حضرت یوسفu نے اپنے بھائیوں سے فیصلہ کروایا تاکہ ان کے منصوبے کی تکمیل ہو۔﴿ نَرۡفَعُ دَرَجٰؔتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ﴾ ’’ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں ‘‘ یعنی علم نافع اور اس راستے کی معرفت عطا کر کے جو منزل مقصود تک پہنچاتا ہے۔ جیسے ہم نے حضرت یوسفu کے درجات بلند کیے۔ ﴿ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِيۡ عِلۡمٍ عَلِيۡمٌ﴾ ’’اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے۔‘‘ یعنی ہر صاحب علم کے اوپر ایک شخص ہوتا ہے جو اس سے زیادہ علم رکھتا ہے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ غائب اور موجود کا علم رکھنے والی ہستی تک جا پہنچتا ہے۔
[77] جب یوسفu کے بھائیوں نے یہ معاملہ دیکھا تو ﴿ قَالُوۡۤا اِنۡ يَّسۡرِقۡ﴾ ’’انھوں نے کہا، اگر اس (بھائی) نے چوری کی ہے‘‘ تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ﴿ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ﴾ ’’اس سے پہلے اس کے بھائی نے بھی چوری کی تھی‘‘ ان کی مراد یوسفu تھے۔ ان کا مقصود خود اپنی براء ت کا اظہار کرنا تھا۔ نیز یہ کہ بنیامین اور اس کے بھائی سے چوری صادر ہوئی ہے اور یہ دونوں ہمارے حقیقی بھائی نہیں ہیں ۔ یہ ان کی طرف سے یوسفu اور ان کے بھائی بنیامین کا مرتبہ گھٹانے کی کوشش تھی۔ اس لیے یوسفu نے اس کے جواب کو اپنے دل میں رکھا۔ ﴿ وَلَمۡ يُبۡدِهَا لَهُمۡ﴾ ’’اور اس کو ان کے سامنے ظاہر نہیں کیا‘‘ اس لیے ان کی اس بات پر کسی ایسے ردعمل کا اظہار نہ کیا جو انھیں ناگوار گزرے بلکہ وہ اپنے غصے کو پی گئے اور تمام معاملے کو اپنے دل میں چھپا لیا۔ ﴿ قَالَ ﴾ حضرت یوسف نے اپنے دل میں کہا: ﴿ اَنۡتُمۡ شَرٌّ مَّكَانًا﴾ ’’تم بدتر ہو درجے میں ‘‘ کیونکہ تم نے ایک بے بنیاد بات پر ہماری مذمت کی ہے اور خود اس سے بھی بدتر اعمال کے مرتکب ہو۔ ﴿ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا تَصِفُوۡنَ﴾ ’’اور اللہ خوب جانتا ہے جو تم بیان کرتے ہو۔‘‘ ہماری بابت، جو تم ہمیں سرقہ سے متصف کرتے ہو اللہ تبارک و تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہم چوری کے بہتان سے بری ہیں ۔
[78] پھر انھوں نے یوسفu کی خوشامد شروع کر دی شاید کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں نرمی سے کام لیں ۔ پس ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَيۡخًا كَبِيۡرًا﴾ ’’انھوں نے کہا، اے عزیز! اس کا باپ بوڑھا ہے، بڑی عمر کا‘‘ یعنی وہ اس کی جدائی پر صبر نہیں کر سکے گا، اس کی جدائی اس پر بہت شاق گزرے گی۔ ﴿فَخُذۡ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو رکھ لے، یقینا ہم تجھے احسان کرنے والا دیکھتے ہیں ‘‘ پس ہم پر اور ہمارے باپ پر احسان کیجیے۔
[79]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے کہا: ﴿ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنۡ نَّاۡخُذَ اِلَّا مَنۡ وَّجَدۡنَا مَتَاعَنَا عِنۡدَهٗۤ﴾’’اللہ پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا کسی اور کو پکڑ لیں ۔‘‘ یعنی ہماری طرف سے یہ بہت بڑا ظلم ہوگا اگر ہم اس شخص کے بدلے جس کے پاس سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے… ایک بے گناہ شخص کو پکڑ لیں ۔ یوسفu نے یہ نہیں کہا ’’جس نے چوری کی‘‘ یہ جھوٹ سے احتراز ہے۔﴿ اِنَّـاۤ اِذًا﴾ ’’ہم تو پھر‘‘ یعنی اگر ہم اس شخص کو پکڑنے کی بجائے جس کے سامان سے ہمارا مال برآمد ہوا ہے کسی اور شخص کو پکڑ لیں ﴿ لَّظٰلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’ظالم ہوں گے‘‘ کیونکہ اس طرح ہم ایسے شخص کو سزا دیں گے جو سزا کا مستحق نہیں ۔
12:80–83Страница 245
فَلَمَّا ٱسۡتَيۡـَٔسُواْ مِنۡهُ خَلَصُواْ نَجِيّٗاۖ قَالَ كَبِيرُهُمۡ أَلَمۡ تَعۡلَمُوٓاْ أَنَّ أَبَاكُمۡ قَدۡ أَخَذَ عَلَيۡكُم مَّوۡثِقٗا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبۡلُ مَا فَرَّطتُمۡ فِي يُوسُفَۖ فَلَنۡ أَبۡرَحَ ٱلۡأَرۡضَ حَتَّىٰ يَأۡذَنَ لِيٓ أَبِيٓ أَوۡ يَحۡكُمَ ٱللَّهُ لِيۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلۡحَٰكِمِينَ ٨٠
Отчаявшись, они уединились для совета, и старший из них сказал: «Помните ли вы о том, что отец заставил нас поклясться Аллахом и что раньше вы неправедно поступили с Йусуфом (Иосифом)? Я ни за что не покину этой страны, пока отец не разрешит мне или пока Аллах не примет Свое решение относительно меня. Воистину, Он - Наилучший из судий.
ٱرۡجِعُوٓاْ إِلَىٰٓ أَبِيكُمۡ فَقُولُواْ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبۡنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدۡنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمۡنَا وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حَٰفِظِينَ ٨١
Возвращайтесь к отцу и скажите: "Отец наш! Твой сын украл. Мы свидетельствуем только о том, что знаем, и не ведаем о сокровенном.
وَسۡـَٔلِ ٱلۡقَرۡيَةَ ٱلَّتِي كُنَّا فِيهَا وَٱلۡعِيرَ ٱلَّتِيٓ أَقۡبَلۡنَا فِيهَاۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٨٢
Спроси жителей селения, в котором мы были, и караванщиков, с которыми мы вернулись. Воистину, мы говорим правду"».
قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ أَنفُسُكُمۡ أَمۡرٗاۖ فَصَبۡرٞ جَمِيلٌۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأۡتِيَنِي بِهِمۡ جَمِيعًاۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ٨٣
Он сказал: «О нет! Это ваши души ввели вас в соблазн, и лучше проявить терпение. Возможно, Аллах возвратит мне всех вместе. Воистину, Он - Знающий, Мудрый».
پس جب وہ ناامید ہو گئے اس سے تو الگ ہوئے وہ (اور لگے) باہم مشورہ کرنے، کہا ان کے بڑے نے ، کیا نہیں جانتے تم کہ بے شک تمھارے باپ نے لیا ہے تم سے پختہ وعدہ اللہ کا؟اور (کیا نہیں جانتے) اس سے پہلے جو کوتاہی کر چکے ہو تم یوسف کی بابت؟ پس ہرگز نہیں چھوڑوں گا میں تو اس زمین (مصر) کو یہاں تک کہ اجازت دے میرے لیے میرا باپ یا فیصلہ کردے اللہ میرے لیےاور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (80)(اے بھائیو!) تم واپس جاؤ طرف باپ اپنے کی اور کہو، اے ہمارے باپ! بے شک آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے اور نہیں گواہی دی ہم نے مگر ساتھ اس چیز کے جس کاعلم تھا ہمیں اور نہیں تھے ہم غیب کے یاد رکھنے والے (81) اور پوچھ لیجیے اس بستی (والوں ) سے کہ تھے ہم اس میں اور اس قافلہ (والوں ) سے (بھی) کہ آئے ہیں ہم اس میں اور بے شک ہم ، البتہ سچے ہیں (82) یعقوب نے کہا، (حقیقت یہ نہیں )بلکہ بنا لی ہے تمھارے لیے تمھارے نفسوں نے ایک بات، پس صبر ہی بہتر ہے امید ہے اللہ، یہ کہ لے آئے میرے پاس ان کو اکٹھا، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا، خوب حکمت والا (83)
[80] جب یوسفu کے بھائی اس بارے میں مایوس ہو گئے کہ وہ ان کے بھائی کے معاملے میں نرمی اختیار کریں ۔ ﴿ خَلَصُوۡا نَجِيًّا﴾ ’’تو وہ علیحدگی میں اکٹھے ہوئے اور صلاح کرنے لگے۔‘‘ جہاں کوئی اور موجود نہ تھا انھوں نے سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے مشورہ کیا۔ ﴿ قَالَ كَبِيۡرُهُمۡ اَلَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اَبَاكُمۡ قَدۡ اَخَذَ عَلَيۡكُمۡ مَّوۡثِقًا مِّنَ اللّٰهِ ﴾ ’’ان کے بڑے نے کہا، کیا تم نہیں جانتے کہ تمھارے باپ نے تم سے اللہ کا عہد لیا تھا‘‘ یعنی تم سے اس کی حفاظت کرنے اور ساتھ لے کر آنے کا عہد لیا تھا سوائے اس کے کہ تم کسی مصیبت میں گھر کر بے بس ہو جاؤ۔ ﴿ وَمِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِيۡ يُوۡسُفَ﴾’’اور اس سے پہلے تم یوسف کے بارے میں کوتاہی کر چکے ہو۔‘‘ پس تم میں دو امور اکٹھے ہوگئے ہیں ۔(۱)یوسفu کے بارے میں تمھاری گزشتہ کوتاہی۔(۲)اس کے چھوٹے بھائی کو اپنے ساتھ نہ لانا… میرے پاس تو ایسی کوئی دلیل نہیں جس کے ذریعے سے میں اپنے باپ کا سامنا کر سکوں ۔﴿ فَلَنۡ اَبۡرَحَ الۡاَرۡضَ ﴾ پس میں تو یہیں مقیم رہوں گا اور یہاں سے نہیں جاؤں گا ﴿ حَتّٰى يَاۡذَنَ لِيۡۤ اَبِيۡۤ اَوۡ يَحۡكُمَ اللّٰهُ لِيۡ﴾ ’’یہاں تک کہ حکم دے مجھ کو میرا باپ یا اللہ میری بابت فیصلہ کر دے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ میرے لیے اکیلے یا بھائی کے ساتھ آنا مقدر کر دے۔ ﴿ وَهُوَ خَيۡرُ الۡحٰؔكِمِيۡنَ ﴾ اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔
[81] پھر اس نے اپنے بھائیوں کو وصیت کی کہ انھیں اپنے باپ سے جا کر کیا کہنا ہے۔﴿ اِرۡجِعُوۡۤا اِلٰۤى اَبِيۡكُمۡ فَقُوۡلُوۡا يٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابۡنَكَ سَرَقَ﴾ ’’اپنے باپ کے پاس جاؤ اور کہو، ابا جان، آپ کے بیٹے نے تو چوری کی‘‘ یعنی وہ چوری کے جرم میں دھر لیا گیا ہے اس کے باوجود کہ ہم نے اس کے بارے میں بھرپور کوشش کی مگر ہم اس کو ساتھ نہ لا سکے۔ صورت حال یہ ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی گواہی نہیں دیتے جو ہمارے سامنے نہ تھی ہم تو صرف اسی چیز کا مشاہدہ کر سکتے تھے جو ہمارے سامنے تھی کیونکہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ بادشاہ کا پیمانہ بنیامین کی خرجی سے برآمد ہوا۔ ﴿ وَمَا كُنَّا لِلۡغَيۡبِ حٰؔفِظِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم کو غیب کی بات کا دھیان نہ تھا‘‘ اگر ہمیں غیب کا علم ہوتا تو ہم اسے اپنے ساتھ لے جانے کی خواہش کرتے نہ اس کو ساتھ لے جانے کے لیے اتنی کوشش کرتے اور نہ آپ کو کوئی عہد دیتے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا۔
[82]﴿ وَسۡـَٔلِ﴾ ’’اور دریافت کرلیجیے۔‘‘ یعنی اگر آپ کو ہماری بات میں کوئی شک ہے۔ تو ﴿ الۡقَرۡيَةَ الَّتِيۡ كُنَّا فِيۡهَا وَالۡعِيۡرَ الَّتِيۡۤ اَقۡبَلۡنَا فِيۡهَا﴾ ’’اس بستی سے جس میں ہم تھے اور اس قافلے سے جس میں ہم آئے ہیں ‘‘ ہم نے جو آپ کو خبر سنائی ہے وہ اس کے بارے میں پوری اطلاع رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَؔ﴾ ’’اور ہم البتہ سچے ہیں ‘‘ ہم نے جھوٹ بولا ہے نہ ہم نے تغیر و تبدل کیا ہے بلکہ یہی واقعات ہیں ۔ (جو ہم آپ کو بتا رہے ہیں )
[83] جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے اور انھیں ان واقعات سے آگاہ کیا تو یعقوبu بہت غم زدہ ہوئے اور ان کی اداسی کئی گنا بڑھ گئی۔ پہلے کی طرح اس واقعہ میں بھی حضرت یعقوبu نے ان کو متہم قرار دیا اور ان سے کہا: ﴿ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَكُمۡ اَنۡفُسُكُمۡ اَمۡرًا١ؕ فَصَبۡرٌ جَمِيۡلٌ﴾ ’’بلکہ بنا لی ہے تمھارے جی نے ایک بات، پس اب صبر ہی بہتر ہے‘‘ یعنی میں اس معاملے میں صبر جمیل کی پناہ لیتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ناراضی ہے، نہ بے صبری کا مظاہرہ اور نہ مخلوق کے پاس شکوہ۔ اور جب انھوں نے دیکھا کہ غم و کرب بہت شدید ہوگیا تو انھوں نے سکون کا سہارا لینے کے لیے کہا:﴿ عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِيَنِيۡ بِهِمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’شاید اللہ لے آئے میرے پاس ان سب کو‘‘ یعنی یوسف، بنیامین اور سب سے بڑا بھائی، جو مصر میں رہ پڑا تھا۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا ہے۔‘‘ جو میرے حال کو جانتا ہے، جو یہ بھی جانتا ہے کہ میں اس کی طرف سے کشادگی اور نوازش کا محتاج اور اس کے احسان کا ضرورت مند ہوں ۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ﴾ ’’وہ دانا ہے۔‘‘ جس نے اپنی حکمت ربانی کے تقاضے کے مطابق ہر چیز کا اندازہ اور اس کا منتہا مقرر کیا ہے۔
12:84–86Страница 245
وَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبۡيَضَّتۡ عَيۡنَاهُ مِنَ ٱلۡحُزۡنِ فَهُوَ كَظِيمٞ ٨٤
Он отвернулся от них и сказал: «Как жаль Йусуфа (Иосифа)!». И его глаза покрылись бельмами от печали, которую он сдерживал.
قَالُواْ تَٱللَّهِ تَفۡتَؤُاْ تَذۡكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوۡ تَكُونَ مِنَ ٱلۡهَٰلِكِينَ ٨٥
Они сказали: «Клянемся Аллахом, ты не перестанешь поминать Йусуфа (Иосифа), пока не ослабеешь или не умрешь».
قَالَ إِنَّمَآ أَشۡكُواْ بَثِّي وَحُزۡنِيٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٨٦
Он сказал: «Мои жалобы и печаль обращены только к Аллаху, и я узнаю от Аллаха то, чего вы не знаете.
اور اس نے منہ پھیرا ان سے اور کہا ہائے افسوس اوپر یوسف کے اور سفید ہو گئیں آنکھیں اس کی غم سے اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا (84)انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! تو سدا یاد کرتا رہے گا یوسف کو یہاں تک کہ ہو جائے تو (غم میں ) گھل جانے والا یا ہو جائے تو ہلاک ہونے والوں سے (85)اس نے کہا، میں تو شکایت کرتا ہوں اپنی بے قراری اور اپنے غم کی صرف اللہ کی طرف اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو نہیں جانتے تم(86)
[84] یعنی جب یعقوبu کے بیٹوں نے انھیں یہ خبر سنائی تو انھوں نے اپنے بیٹوں سے منہ پھیر لیا، ان پر غم و اندوہ کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، دل میں چھپے ہوئے غم اور کرب کی وجہ سے رو رو کر ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں ۔ ﴿ فَهُوَ كَظِيۡمٌ ﴾ ’’سو وہ اپنے آپ کو گھونٹ رہا تھا‘‘ یعنی ان کا دل حزن و غم سے لبریز تھا۔ ﴿ وَقَالَ يٰۤاَسَفٰى عَلٰى يُوۡسُفَ ﴾ ’’اور کہا، اے افسوس یوسف پر‘‘ یعنی پرانا حزن و غم اور نہ ختم ہونے والا اشتیاق جو حضرت یعقوبu نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا، ظاہر ہوگیا اور اس نئی اور پہلی مصیبت کی نسبت قدرے ہلکی مصیبت نے پہلی مصیبت کی یاد تازہ کر دی۔
[85] یعقوبu کے بیٹوں نے ان کے حال پر تعجب کرتے ہوئے کہا: ﴿تَاللّٰهِ تَفۡتَؤُا تَذۡكُرُ يُوۡسُفَ ﴾ ’’اللہ کی قسم! آپ اسی طرح یوسف کو یاد کرتے رہیں گے۔‘‘ یعنی آپ اپنے تمام احوال میں یوسفu کو یاد کرتے رہیں گے۔ ﴿ حَتّٰى تَكُوۡنَ حَرَضًا ﴾ ’’یہاں تک کہ آپ فنا ہو جائیں گے‘‘ آپ حرکت تک نہیں کر سکیں گے اور آپ میں بولنے کی قدرت نہیں رہے گی۔ ﴿اَوۡ تَكُوۡنَؔ مِنَ الۡهٰؔلِكِيۡنَ ﴾ ’’یا ہو جائیں گے آپ ہلاک‘‘ یعنی آپ یوسفu کو یاد کرنے کی قدرت رکھتے ہوئے اس کو یاد کرنا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
[86]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے کہا: ﴿ اِنَّمَاۤ اَشۡكُوۡا بَثِّيۡ ﴾ ’’میں تو کھولتا ہوں اپنا اضطراب‘‘ یعنی میں جو بات کرتا ہوں ﴿ وَحُزۡنِيۡۤ ﴾ ’’اور اپنا غم‘‘ وہ جو میرے دل میں پوشیدہ ہے ﴿ اِلَى اللّٰهِ ﴾ ’’اللہ کے سامنے‘‘ یعنی میں اپنے حزن و غم کا شکوہ تمھارے پاس یا کسی اور کے پاس نہیں کرتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس کرتا ہوں ۔ اس لیے تم جو چاہو کہتے رہو۔ ﴿ وَاَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے جو تم نہیں جانتے‘‘ یعنی میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ضرور انھیں میرے پاس لوٹائے گا اور ان سب کو میرے پاس اکٹھا کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کرے گا۔
12:87–92Страница 246
يَٰبَنِيَّ ٱذۡهَبُواْ فَتَحَسَّسُواْ مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلَا تَاْيۡـَٔسُواْ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِۖ إِنَّهُۥ لَا يَاْيۡـَٔسُ مِن رَّوۡحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ ٨٧
О сыновья мои! Ступайте и разыщите Йусуфа (Иосифа) и его брата и не теряйте надежды на милость Аллаха, ибо отчаиваются в милости Аллаха только люди неверующие».
فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَيۡهِ قَالُواْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡعَزِيزُ مَسَّنَا وَأَهۡلَنَا ٱلضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَٰعَةٖ مُّزۡجَىٰةٖ فَأَوۡفِ لَنَا ٱلۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَآۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَجۡزِي ٱلۡمُتَصَدِّقِينَ ٨٨
Войдя к нему, они сказали: «О повелитель! Нас и наш род поразила беда. Мы прибыли с небольшим товаром. Отмерь нам меру сполна и окажи нам милость. Воистину, Аллах вознаграждает творящих добро».
قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُم مَّا فَعَلۡتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذۡ أَنتُمۡ جَٰهِلُونَ ٨٩
Он сказал: «Поняли ли вы, как вы поступили с Йусуфом (Иосифом) и его братом, когда были невежественны?».
قَالُوٓاْ أَءِنَّكَ لَأَنتَ يُوسُفُۖ قَالَ أَنَا۠ يُوسُفُ وَهَٰذَآ أَخِيۖ قَدۡ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَيۡنَآۖ إِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٩٠
Они сказали: «Неужели ты - Йусуф (Иосиф)?». Он сказал: «Я - Йусуф, а это - мой брат. Аллах облагодетельствовал нас. Воистину, если кто богобоязнен и терпелив, то ведь Аллах не теряет вознаграждения творящих добро».
قَالُواْ تَٱللَّهِ لَقَدۡ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيۡنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ ٩١
Они сказали: «Клянемся Аллахом! Аллах предпочел тебя нам. Мы же были грешниками».
قَالَ لَا تَثۡرِيبَ عَلَيۡكُمُ ٱلۡيَوۡمَۖ يَغۡفِرُ ٱللَّهُ لَكُمۡۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ ٩٢
Он сказал: «Сегодня я не стану укорять вас. Да простит вас Аллах, ибо Он - Милосерднейший из милосердных.
اے میرے بیٹو! تم جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کواور نہ مایوس ہو اللہ کی رحمت سے، بے شک نہیں مایوس ہوتے اللہ کی رحمت سے مگر کافر لوگ ہی (87) پھر جب وہ داخل ہوئے یوسف پر تو انھوں نے کہا، اے عزیز! پہنچی ہے ہمیں اور ہمارے اہل و عیال کو تکلیف اور لائے ہیں ہم پونجی ناقص، پس آپ پورادیجیے ہمارے لیے ماپ (غلے کا) اور صدقہ خیرات کیجیے ہم پر، بے شک اللہ جزا دیتا ہے صدقہ خیرات کرنے والوں کو (88) یوسف نے کہا، کیا معلوم ہے تمھیں جو کچھ کیا تم نے ساتھ یوسف اور اس کے بھائی کے جب تھے تم نادان؟ (89) انھوں نے کہا، کیاواقعی تو یوسف ہی ہے؟ اس نے کہا، (ہاں ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، تحقیق احسان کیاہے اللہ نے ہم پر، بے شک جو شخص ڈرتا ہے اور صبر کرتا ہے تو بلاشبہ اللہ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنے والوں کا (90) انھوں نے کہا، قسم اللہ کی! یقینا فضیلت دی تجھے اللہ نے ہم پراور بلاشبہ ہم ہی تھے خطا کار (91) اس نے کہا، نہیں کوئی ملامت اوپر تمھارے آج، معاف کرے اللہ تمھیں اوروہی سب مہربانوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے (92)
[87] یعنی یعقوبu نے اپنے بیٹوں سے کہا: ﴿ يٰبَنِيَّ اذۡهَبُوۡا فَتَحَسَّسُوۡا مِنۡ يُّوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’اے بیٹو! جاؤ اور تلاش کرو یوسف اور اس کے بھائی کو‘‘ یعنی پوری حرص اور کوشش کے ساتھ دونوں کو تلاش کرو۔ ﴿ وَلَا تَايۡــَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے ناامید نہ ہو‘‘ کیونکہ امید بندے کو اپنے مقصد کے لیے کوشش اور جدوجہد کے لیے آمادہ کرتی ہے اور مایوسی اسے سست اور کاہل بنا دیتی ہے اور سب سے بہترین چیز جس کی بندے کو امید رکھنی چاہیے وہ ہے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی رحمت و مہربانی۔ ﴿ اِنَّهٗ لَا يَايۡــَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰهِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور اللہ کے فیض سے کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ‘‘ کیونکہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے دور ہے، اس لیے کفار کی مشابہت اختیار نہ کرو۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ بندہ اپنے ایمان کے مطابق ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت و مہربانی کی امید رکھتا ہے۔
[88] پس وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔ ﴿ فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلَيۡهِ ﴾ ’’جب وہ اس کے پاس گئے۔‘‘ یعنی جب وہ یوسفu کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ﴿ قَالُوۡا﴾ تو انھوں نے عاجزی کے ساتھ عرض کیا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡعَزِيۡزُ مَسَّنَا وَاَهۡلَنَا الضُّرُّ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ وَتَصَدَّقۡ عَلَيۡنَا﴾ ’’اے عزیز! پڑی ہے ہم پر اور ہمارے گھر والوں پر سختی اور ہم ناقص پونجی لے کر آئے ہیں ، سو ہمیں بھرتی پوری دیں اور ہم پر خیرات کریں ‘‘ یعنی ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت محتاج ہو گئے ہیں ۔ ﴿ وَجِئۡنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزۡجٰؔىةٍ ﴾’’اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں ۔‘‘ یعنی ہم ایسا مال لے کر آئے ہیں جو قلیل، بے وقعت ہونے کی بنا پر کسی اہمیت کا حامل نہیں ۔﴿ فَاَوۡفِ لَنَا الۡكَيۡلَ﴾ ’’پس آپ ہمیں پورا غلہ دیجیے۔‘‘ یعنی ہمارے پاس قیمت کم ہونے کے باوجود، ہمیں قیمت سے زیادہ غلہ عنایت کر کے ہم پر صدقہ کیجیے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ يَجۡزِي الۡمُتَصَدِّقِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ صدقہ کرنے والوں کو ثواب دیتاہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو دنیا و آخرت کا ثواب عطا کرتا ہے۔
[89] جب معاملہ اپنی انتہا اور شدت کو پہنچ گیا تو یوسفu نرم پڑ گئے اور انھوں نے ان کو اپنا تعارف کرایا اور ان پر عتاب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قَالَ هَلۡ عَلِمۡتُمۡ مَّا فَعَلۡتُمۡ بِيُوۡسُفَ وَاَخِيۡهِ ﴾ ’’کیا تمھیں معلوم ہے، تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا‘‘ رہے یوسفu تو ان کے ساتھ ان کا سلوک ظاہر ہے اور رہا ان کا بھائی بنیامین تو شاید… واللہ اعلم… اس سے مراد بھائیوں کا یہ قول ہے ﴿ اِنۡ يَّسۡرِقۡ فَقَدۡ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنۡ قَبۡلُ﴾(یوسف: 77/12) یا اس سے مراد وہ حادثہ ہے جس کی بنا پر باپ اور بیٹے میں جدائی واقع ہوئی اور اس جدائی کے اصل سبب اور موجب وہی تھے۔ ﴿ اِذۡ اَنۡتُمۡ جٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’جب تم ناسمجھ تھے‘‘ یہ ان کی جہالت پر ایک قسم کا اعتذار ہے یا ان پر زجر و توبیخ ہے کیونکہ انھوں نے جاہلوں کا سا کام کیا، حالانکہ یہ کام ان کے شایان شان نہیں تھا۔
[90] انھوں نے پہچان لیا کہ جو شخص ان سے مخاطب ہے وہ یوسف ہے اس لیے انھوں نے پوچھا: ﴿ ءَاِنَّكَ لَاَنۡتَ يُوۡسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا يُوۡسُفُ وَهٰؔذَاۤ اَخِيۡ١ٞ قَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡنَا﴾ ’’کیا آپ یوسف ہیں ؟ انھوں نے کہا، ہاں میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے، اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے‘‘ کہ اس نے ہمیں ایمان، تقویٰ اور زمین میں اقتدار سے نوازا۔ یہ سب کچھ صبر اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنۡ يَّتَّقِ وَيَصۡبِرۡ ﴾ ’’بے شک جو شخص اللہ سے ڈرتا اور صبر کرتاہے۔‘‘ یعنی جو کوئی فعل حرام سے پرہیز کرتا ہے، آلام و مصائب پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتا ہے۔ ﴿ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ﴾ ’’تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔‘‘ یہ تمام امور احسان کے زمرے میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کے اعمال حسنہ کو ضائع نہیں کرتا۔
[91]﴿قَالُوۡا تَاللّٰهِ لَقَدۡ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيۡنَا ﴾ ’’انھوں نے کہا، اللہ کی قسم، اللہ نے آپ کو ہمارے مقابلے میں پسند کر لیا ہے‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو مکارم اخلاق اور محاسن عادات کے ذریعے سے ہم پر فضیلت سے نوازا۔ ہم نے آپ کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا، ہم نے آپ کو تکلیف پہنچانے اور آپ کو اپنے باپ سے دور کرنے کی خواہش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت بخشی اور ان امور کو آپ کے لیے ممکن بنا دیا جو آپ چاہتے تھے۔ ﴿ وَاِنۡ كُنَّا لَخٰطِــِٕيۡنَ﴾ ’’اور بلاشبہ ہم خطا کار تھے۔‘‘
[92]﴿ قَالَ ﴾ یوسفu نے اپنے جود و کرم کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ لَا تَثۡرِيۡبَ عَلَيۡكُمُ الۡيَوۡمَ﴾ ’’آج تم پر کوئی الزام نہیں ‘‘ یعنی میں تمھارا کوئی مواخذہ اور تم پر کوئی ملامت نہیں کرتا۔ ﴿ يَغۡفِرُ اللّٰهُ لَكُمۡ١ٞ وَهُوَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِيۡنَ ﴾ ’’اللہ تمھیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘ یوسفu نے اپنے بھائیوں کے گزشتہ جرائم پر عار دلائے بغیر ان کے ساتھ انتہائی نرمی اور فراخ دلی کا سلوک کیا اور ان کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی، یہ احسان کی انتہا ہے، اس سلوک کا مظاہرہ اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندے ہی کر سکتے ہیں ۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии