Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аль-Хиджр 15:57–86
15:57–77Страница 265
قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٥٧
Он сказал: «Какова же ваша миссия, о посланцы?».
قَالُوٓاْ إِنَّآ أُرۡسِلۡنَآ إِلَىٰ قَوۡمٖ مُّجۡرِمِينَ ٥٨
Они сказали: «Мы посланы к грешным людям.
إِلَّآ ءَالَ لُوطٍ إِنَّا لَمُنَجُّوهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٥٩
И только семью Лута (Лота) мы спасем целиком,
إِلَّا ٱمۡرَأَتَهُۥ قَدَّرۡنَآ إِنَّهَا لَمِنَ ٱلۡغَٰبِرِينَ ٦٠
кроме его жены. Мы решили, что она останется позади».
فَلَمَّا جَآءَ ءَالَ لُوطٍ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٦١
Когда посланцы пришли к Луту (Лоту),
قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ ٦٢
он сказал: «Воистину, вы - люди незнакомые».
قَالُواْ بَلۡ جِئۡنَٰكَ بِمَا كَانُواْ فِيهِ يَمۡتَرُونَ ٦٣
Они сказали: «Но мы явились к тебе с тем, по поводу чего они препирались.
وَأَتَيۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ ٦٤
Мы принесли тебе истину, и мы говорим правду.
فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَٱتَّبِعۡ أَدۡبَٰرَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٞ وَٱمۡضُواْ حَيۡثُ تُؤۡمَرُونَ ٦٥
Среди ночи выведи свою семью и сам иди вслед за ними. И пусть никто из вас не оборачивается. Ступайте туда, куда вам приказано».
وَقَضَيۡنَآ إِلَيۡهِ ذَٰلِكَ ٱلۡأَمۡرَ أَنَّ دَابِرَ هَٰٓؤُلَآءِ مَقۡطُوعٞ مُّصۡبِحِينَ ٦٦
Мы объявили ему приговор о том, что к утру все они будут уничтожены.
وَجَآءَ أَهۡلُ ٱلۡمَدِينَةِ يَسۡتَبۡشِرُونَ ٦٧
Жители города пришли, ликуя.
قَالَ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ ضَيۡفِي فَلَا تَفۡضَحُونِ ٦٨
Он сказал им: «Это - мои гости, не позорьте же меня.
وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ ٦٩
Побойтесь Аллаха и не унижайте меня».
قَالُوٓاْ أَوَلَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٠
Они сказали: «Разве мы не запрещали тебе укрывать людей?».
قَالَ هَٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِيٓ إِن كُنتُمۡ فَٰعِلِينَ ٧١
Он сказал: «Вот мои дочери, если вы хотите этого».
لَعَمۡرُكَ إِنَّهُمۡ لَفِي سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُونَ ٧٢
Клянусь твоей жизнью! Они слепо блуждали, опьяненные.
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِينَ ٧٣
А на восходе солнца их поразил вопль.
فَجَعَلۡنَا عَٰلِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةٗ مِّن سِجِّيلٍ ٧٤
Мы перевернули город вверх дном и обрушили на них каменья из обожженной глины.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّلۡمُتَوَسِّمِينَ ٧٥
Воистину, в этом - знамения для зрячих.
وَإِنَّهَا لَبِسَبِيلٖ مُّقِيمٍ ٧٦
Воистину, они жили прямо на дороге из Мекки в Сирию.
إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَةٗ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ ٧٧
Воистину, в этом - знамение для верующих.
اس نے کہا، پس کیا مقصد ہے تمھارا اے بھیجے ہوئے (فرشتو)؟ (57) انھوں نے کہا، بے شک ہم بھیجے گئے ہیں مجرم قوم کی طرف (58) سوائے کنبے لوط کے، بے شک ہم ، البتہ نجات دینے والے ہیں ان کو سب کو (59) سوائے اس کی بیوی کے، مقدر کردیا ہم نے کہ بے شک وہ ضرور پیچھے رہنے والوں میں سے ہو گی (60) پھر جب آئے آلِ لوط کے پاس وہ قاصد(61)لوط نے کہا، بے شک تم لوگ تو ہو اجنبی (62) انھوں نے کہابلکہ آئے ہیں ہم تیرے پاس ساتھ اس چیز (عذاب) کے کہ تھے وہ لوگ اس میں شک کرتے (63)اور لائے ہیں ہم تیرے پاس حق اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں (64) پس لے چل تو اپنے گھر والوں کو ایک حصے میں رات کےاور چل تو پیچھے ان (سب) کےاور نہ پیچھے مڑ کر دیکھے تم میں سے کوئی بھی، چلے جاؤ جہاں حکم کیے جاتے ہو تم (65) اور فیصلہ سنا دیا ہم ن اسے اس معاملے کا کہ بے شک جڑ ان لوگوں کی کاٹ دی جائے گی صبح کے وقت (66) اور آئے اس شہر (سدوم) والے خوشیاں مناتے ہوئے (67) لوط نے کہا، بے شک یہ لوگ میرے مہمان ہیں ، پس نہ رسوا کرو تم مجھے (68) اور ڈرو اللہ سے، نہ ذلیل کرو تم مجھے (69) انھوں نے کہا، کیا نہیں روکا تھا ہم نے تجھے جہان والوں (کی حمایت) سے؟ (70) اس نے کہا، یہ ہیں بیٹیاں میری (قوم کی، ان سے نکاح کر لو)، اگرہو تم کرنے والے (71) آپ کی زندگی کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مستی (گمراہی) میں سرگرداں تھے (72) پس آپکڑا انھیں ایک چیخ نے سورج نکلتے وقت (73) پس (الٹ کر) کر دیا ہم نے ان کے اوپر والے حصے کو نیچے اور برسائے ہم نے ان پر پتھر، کھنگر کی قسم سے (74) بلاشبہ اس میں ، البتہ نشانیاں ہیں گہری نظر سے غوروفکر کرنے والوں کے لیے (75) اور بے شک وہ (بستیاں ) ایسے راستے پر ہیں (جواب تک) موجود ہے (76) بلاشبہ اس (واقعے) میں نشانیاں ہیں واسطے مومنوں کے (77)
[57]﴿ قَالَ ﴾ خلیلu نے فرشتوں سے پوچھا: ﴿ فَمَا خَطۡبُكُمۡ اَيُّهَا الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ ’’پس کیا تمھاری مہم ہے اے اللہ کے بھیجے ہوؤ؟‘‘ یعنی تمھارا کیا معاملہ ہے اور تمھیں کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے؟
[58]﴿ قَالُوۡۤا اِنَّاۤ اُرۡسِلۡنَاۤ اِلٰى قَوۡمٍ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم ایک گناہ گار قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ‘‘ یعنی ان میں شر اور فساد بہت زیادہ ہو گیا ہے، اس لیے ہمیں ان کو سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
[60,59]﴿ اِلَّاۤ اٰلَ لُوۡطٍ ﴾ سوائے لوط(u) اور ان کے گھر والوں کے ۔‘‘ ﴿اِلَّا امۡرَاَتَهٗ قَدَّرۡنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الۡغٰبِرِيۡنَ ﴾ ’’سوائے اس کی بیوی کے، ہم نے ٹھہرا لیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔‘‘ یعنی وہ عذاب میں رہ جانے والوں میں شامل ہو گی۔ رہے لوطu تو ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو وہاں سے نکال کر بچا لیں گے۔ حضرت ابراہیمu قوم لوط کی ہلاکت کے بارے میں فرشتوں سے جھگڑنے لگے۔ حضرت ابراہیم سے کہا گیا:﴿يٰۤاِبۡرٰهِيۡمُ اَعۡرِضۡ عَنۡ هٰؔذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدۡ جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ١ۚ وَاِنَّهُمۡ اٰتِيۡهِمۡ عَذَابٌ غَيۡرُ مَرۡدُوۡدٍ ﴾(ھود: 11؍76) ’’اے ابراہیم! اس بات کو جانے دو تیرے رب کا حکم صادر ہو چکا ہے اب ان پر عذاب آ کر رہے گا اب اس کو روکا نہیں جا سکتا۔‘‘ اور فرشتے حضرت ابراہیم کے پاس سے چلے گئے۔
[62,61]﴿ فَلَمَّا جَآءَؔ اٰلَ لُوۡطِ ِ۟ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾’’پس جب فرشتے آل لوط کے پاس آئے۔‘‘﴿ قَالَ ﴾ تو لوطu نے فرشتوں سے کہا: ﴿ اِنَّـكُمۡ قَوۡمٌ مُّؔنۡؔكَرُوۡنَ ﴾ ’’بے شک تم اوپرے لوگ ہو‘‘ یعنی میں تمھیں پہچانتا نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو۔ انھوں نے جواب دیا۔
[63]﴿ بَلۡ جِئۡنٰكَ بِمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَمۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’ہم آپ کے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں لوگ شک کرتے تھے۔‘‘ یعنی ہم ان پر وہ عذاب نازل کرنے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں جس کے بارے میں وہ شک کیا کرتے تھے اور جب آپ ان کو عذاب کی وعید سناتے تھے تو آپ کو جھٹلایا کرتے تھے۔
[64]﴿ وَاَتَيۡنٰكَ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ہم آپ کے پاس پکی بات لے کر آئے ہیں ‘‘ جو مذاق نہیں ہے۔ ﴿ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴾ ’’اور بے شک ہم سچے ہیں ۔‘‘ اس میں جو ہم آپ سے کہہ رہے ہیں ۔
[65]﴿ؔ فَاَسۡرِ بِاَهۡلِكَ بِقِطۡعٍ مِّنَ الَّيۡلِ ﴾ ’’پس لے نکل اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے سے‘‘ یعنی رات کے اوقات میں جب لوگ سو رہے ہوں اور کسی کو آپ کے نکل جانے کا علم نہ ہو ﴿ وَاتَّبِـعۡ اَدۡبَارَهُمۡ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنۡكُمۡ اَحَدٌ ﴾ ’’اور تو ان کے پیچھے چل اور تم میں سے کوئی مڑ کر نہ دیکھے‘‘ یعنی جلدی سے نکل جاؤ ﴿ وَّامۡضُوۡا حَيۡثُ تُؤۡمَرُوۡنَ ﴾ ’’اور چلے جاؤ جہاں تم کو حکم دیا جاتا ہے‘‘ گویا ان کے ساتھ کوئی رہبر تھا جو ان کی راہنمائی کرتا تھا کہ انھیں کہاں جانا ہے۔
[66]﴿وَقَضَيۡنَاۤ اِلَيۡهِ ذٰلِكَ الۡاَمۡرَ ﴾ ’’اور مقرر کر دی ہم نے اس کی طرف یہ بات‘‘ یعنی ہم نے اسے ایسی خبر سے آگاہ کیا جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ﴿اَنَّ دَابِرَ هٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہوتے کاٹ دی جائے گی۔‘‘ یعنی صبح سویرے عذاب انھیں آ لے گا اور ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دے گا۔
[69-67]﴿ وَجَآءَ اَهۡلُ الۡمَدِيۡنَةِ ﴾ ’’اور اہل شہر آئے۔‘‘ یعنی اس شہر کے لوگ آئے جس میں لوطu رہتے تھے۔ ﴿ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾’’خوشیاں کرتے‘‘ یعنی لوطu کے خوبصورت مہمانوں کی آمد اور ان پر انھیں قدرت حاصل ہونے کی بنا پر وہ ایک دوسرے کو خوشخبری دیتے تھے۔ ان کا مقصد ان کے ساتھ بدفعلی کرنے کا تھا۔ پس وہ آئے اور حضرت لوطu کے گھر پہنچ گئے اور ان کے مہمانوں کے بارے میں ان کے ساتھ جھگڑنے لگے اور لوطu نے ان سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا:﴿ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيۡـفِيۡ فَلَا تَفۡضَحُوۡنِ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخۡزُوۡنِ ﴾ ’’یہ میرے مہمان ہیں مجھے رسوا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو اور میری رسوائی کا سامان نہ کرو۔‘‘ یعنی اس بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کرو، اگر اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں تو میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔ انتہائی گندے کام کے ذریعے سے ان کی ہتک حرمت کرنے سے باز آ جاؤ۔
[70]﴿ قَالُوۡۤا﴾ انھوں نے لوطu کے قول ’’مجھے رسوا نہ کرو‘‘ کے جواب میں بس یہی کہا: ﴿ اَوَ لَمۡ نَنۡهَكَ عَنِ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا جہان کی حمایت کرنے سے‘‘ یعنی ان کی مہمان نوازی وغیرہ کرنے سے۔ پس ہم نے تجھے ان باتوں سے ڈرایا ہے اور جس نے ڈرا دیا ہے وہ بریٔ الذمہ ہے۔
[72,71]﴿ قَالَ ﴾ لوطu نے معاملے کی شدت کی بنا پر ان سے کہا: ﴿ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيۡۤ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں اگر تم کو کرنا ہے‘‘ مگر انھوں نے جناب لوطu کے اس قول کی کوئی پروا نہ کی۔(بیٹیوں سے مراد، ان کی بیویاں ہیں ، یعنی اپنی بیویوں سے اپنی جنسی خواہش پوری کرو۔ پیغمبر بمنزلہ باپ کے ہوتا ہے، اس لیے ان کی بیویوں کو اپنی بیٹیاں کہا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم میری بیٹیوں سے نکاح کر لو اور اپنی خواہش کی تسکین کا سامان کر لو، میں اپنی بیٹیاں تمھارے حبالۂ عقد میں دینے کو تیار ہوں ۔ (ص ۔ ی)اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسولﷺ سے فرمایا: ﴿ لَعَمۡرُكَ اِنَّهُمۡ لَفِيۡ سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’آپ کی زندگی کی قسم، وہ اپنی مستی میں مدہوش ہیں ‘‘ اور یہ مستی فحش کام کی چاہت کی مستی ہے جس کے ہوتے ہوئے وہ کسی ملامت کی پروا نہیں کرتے۔
[73] پس جب فرشتوں نے حضرت لوطu کے سامنے اپنی حقیقت کھول دی تو ان کا کرب اور پریشانی دور ہو گئی۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ راتوں رات وہاں سے نکل گئے اور نجات پائی۔ رہے بستی کے لوگ ﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُشۡرِقِـيۡنَ ﴾ ’’پس آپکڑا ان کو چنگھاڑ نے سورج نکلتے وقت‘‘ یعنی طلوع آفتاب کے وقت کیونکہ اس وقت عذاب کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔
[74]﴿ فَجَعَلۡنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا ﴾ ’’پھر کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر تلے‘‘ یعنی ہم نے ان پر ان کی بستی کو الٹ دیا ﴿ وَاَمۡطَرۡنَا عَلَيۡهِمۡ حِجَارَةً مِّنۡ سِجِّيۡلٍ ﴾ ’’اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی‘‘ یہ پتھر اس شخص کا پیچھا کرتے تھے جو بستی سے فرار ہوتا تھا۔
[75]﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلۡمُتَوَسِّمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اس میں دھیان کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘‘ یعنی غوروفکر کرنے والوں کے لیے۔ وہ لوگ جو فکر و رائے اور فراست کے مالک ہیں ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے کیا مراد ہے، انھیں معلوم ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جرأت کرتا ہے، خاص طور پر اس انتہائی فحش کام کا ارتکاب تو اللہ تعالیٰ اسے اسی طرح بدترین سزا دے گا جس طرح انھوں نے بدترین جرم کے ارتکاب کی جسارت کی ہے۔
[76]﴿وَاِنَّهَا ﴾ یعنی حضرت لوطu کی قوم کا شہر ﴿لَبِسَبِيۡلٍ مُّقِيۡمٍ ﴾ ’’واقع ہے سیدھے راستے پر‘‘ یعنی یہ بستی گزرنے والوں کے لیے ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے اور جس کسی کا اس علاقے میں آنا جانا ہے وہ اس جگہ کو پہچانتا ہے۔
[77]﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾’’بے شک اس (واقعے)میں مومنوں کے نشانیاں ہیں‘‘اس قصے میں بہت سی عبرتیں ہیں ۔(۱)اللہ تعالیٰ کی اپنے خلیل ابراہیمu پر بے حد عنایات تھیں ۔ لوطu اور ان پر ایمان لانے والے اہل ایمان ابراہیمu کے متبعین میں شمار ہوتے ہیں ۔ گویا حضرت لوطu حضرت ابراہیمu کے شاگرد تھے۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کے ہلاکت کے مستحق ہونے پر ان کو ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا تو اس نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ ابراہیمu کے پاس سے ہوکر جائیں تاکہ وہ ان کو بیٹے کی خوشخبری دے سکیں اور ان کو آگاہ بھی کریں کہ ان کو کس کام کے لیے بھیجا گیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیمu قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے بحث کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فرشتوں نے ان کو مطمئن کر دیا اور وہ مطمئن ہو گئے۔(۲) اسی طرح حضرت لوطu پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں عنایات تھیں ۔ کیونکہ ان کی قوم کے لوگ، ان کے اہل وطن تھے، اس لیے بسااوقات ان کو ان پر رحم آجاتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب مقرر فرمائے جن کی بنا پر ان کو اپنی قوم پر سخت غصہ آیا حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگے کہ ان کی قوم پر عذاب نازل ہونے میں دیر ہو رہی ہے۔ ان سے کہا گیا:﴿ اِنَّ مَوۡعِدَهُمُ الصُّبۡحُ١ؕ اَلَيۡسَ الصُّبۡحُ بِقَرِيۡبٍ﴾(ھود: 11؍8 1)’’ان کے عذاب کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے، کیا صبح قریب نہیں ؟‘‘(۳) جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ان کا شر اور ان کی سرکشی بڑھ جاتی ہے اور جب شر اور سرکشی کی انتہا ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر وہ عذاب واقع کر دیتا ہے جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں ۔
15:78–79Страница 266
وَإِن كَانَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡأَيۡكَةِ لَظَٰلِمِينَ ٧٨
Жители Айки также были беззаконниками.
فَٱنتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٖ مُّبِينٖ ٧٩
Мы отомстили им. Воистину, оба эти поселения находились на ясной дороге.
اور بے شک تھے ایکہ (بستی) والے ، البتہ ظالم (78) پس انتقام لیا ہم نے ان سےاور بے شک وہ دونوں (تباہ شدہ بستیاں ) البتہ راستے ظاہر پر (واقع) ہیں (79)
[78] یہ حضرت شعیبu کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الأیکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الأیکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت شعیبu ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔
[79]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ﴾ ’’پس ہم نے ان سے بدلہ لیا‘‘ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آ لیا، بلاشبہ یہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ ﴿ وَاِنَّهُمَا ﴾ ’’اور یہ دونوں ‘‘ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ ﴿ لَبِـاِمَامٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کھلے راستے پر ہیں ۔‘‘ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں ۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں ۔
15:80–84Страница 266
وَلَقَدۡ كَذَّبَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡحِجۡرِ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٨٠
Жители Хиджра тоже сочли лжецами посланников.
وَءَاتَيۡنَٰهُمۡ ءَايَٰتِنَا فَكَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٨١
Мы даровали им Наши знамения, но они отвернулись от них.
وَكَانُواْ يَنۡحِتُونَ مِنَ ٱلۡجِبَالِ بُيُوتًا ءَامِنِينَ ٨٢
Они высекали в горах безопасные жилища.
فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِينَ ٨٣
А на заре их поразил вопль,
فَمَآ أَغۡنَىٰ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٨٤
и не помогло им то, что они приобретали.
اور البتہ تحقیق جھٹلایا باشندگان حجر نے رسولوں کو (80) اور دیں ہم نے انھیں اپنی نشانیاں پس تھے وہ ان سے اعراض کرنے والے (81) اور تھے وہ تراشتے پہاڑوں سے گھر بے خوف ہو کر(82) پس آپکڑا انھیں چیخ نے صبح کے وقت (83) پس نہ فائدہ دیا انھیں اس (مال) نے جو تھے وہ کماتے (84)
[80] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل، حجر یعنی صالحu کی قوم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو حجاز کے علاقہ حجر میں آباد تھی انھوں نے اپنے رسولوں ، یعنی صالحu کو جھٹلایا، جس نے کسی ایک رسول کو جھٹلایا اس نے گویا تمام رسولوں کو جھٹلایا کیونکہ ان سب کی دعوت ایک تھی۔ انھوں نے کسی رسول کی اس کی ذاتی شخصیت کی بنا پر تکذیب نہیں کی بلکہ انھوں نے حق کی تکذیب کی جس کے لانے میں تمام رسول مشترک تھے۔
[81]﴿وَاٰتَيۡنٰهُمۡ اٰيٰتِنَا ﴾ اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں عطا کیں جو اس حق کی صحت پر دلالت کرتی تھیں جنھیں صالحu لے کر آئے تھے، ان نشانیوں میں سے وہ اونٹنی بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی بہت بڑی نشانی تھی۔ ﴿ فَكَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ﴾ ’’پس وہ ان سے منہ پھیرتے رہے‘‘ وہ تکبر اور سرکشی کی بنا پر ان نشانیوں سے روگردانی کیا کرتے تھے۔
[82]﴿ وَؔكَانُوۡا ﴾ ’’اور تھے وہ‘‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی کثرت کی بنا پر ﴿ يَنۡحِتُوۡنَ مِنَ الۡجِبَالِ بُيُوۡتًا اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’تراشتے تھے پہاڑوں کے گھر اطمینان کے ساتھ‘‘ یعنی اپنے گھروں میں ہر قسم کے خوف سے مطمئن ہو کر۔ پس اگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کیا ہوتا اور اپنے نبی صالحu کی تصدیق کی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو بے پناہ رزق عطا کرتا اور مختلف انواع کے دنیاوی اور اخروی ثواب کے ذریعے سے ان کی عزت افزائی کرتا۔ مگر انھوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کرتے ہوئے کہنے لگے: ﴿ يٰصٰلِحُ ائۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَ﴾(الاعراف:7؍77) ’’اے صالح! لے آؤ وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو، اگر تم واقعی رسول ہو۔‘‘
[83]﴿ فَاَخَذَتۡهُمُ الصَّيۡحَةُ مُصۡبِحِيۡنَ ﴾ ’’سو پکڑ لیا ان کو چنگھاڑنے، صبح ہونے کے وقت‘‘ پس ان کے سینوں میں ان کے دل پارہ پارہ ہو کر رہ گئے اور وہ اپنے گھر میں ہلاک ہو کر اوندھے منہ پڑے رہ گئے اور اس کے ساتھ ساتھ دائمی رسوائی اور لعنت نے ان کا پیچھا کیا۔
[84]﴿ فَمَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’پس کام نہ آیا ان کے جو کچھ وہ کماتے تھے۔‘‘ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کا حکم (عذاب) آجاتا ہے تو پھر اس کو لشکروں کی کثرت، انصار و اعوان کی قوت اور مال و دولت کی بہتات واپس نہیں لوٹا سکتی۔
15:85–86Страница 266
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞۖ فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ ٨٥
Мы сотворили небеса, землю и все, что между ними, только ради истины. Час непременно настанет. Посему прощай их красиво.
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ ٱلۡخَلَّٰقُ ٱلۡعَلِيمُ ٨٦
Воистину, твой Господь - Творец, Знающий.
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے مگر ساتھ حق کےاور بے شک قیامت ، البتہ آنے والی ہے، پس آپ درگزر کریں (ان سے) درگزر کرنا اچھے انداز سے (85) بلاشبہ آپ کا رب ، وہی پیدا کرنے والا، خوب جاننے والا ہے (86)
[85] یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں ۔ ﴿اِلَّا بِالۡحَقِّ﴾ بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بے پایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں ۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ۔ ﴿ وَاِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ ﴾ ’’اور قیامت بے شک آنے والی ہے‘‘ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ ﴿ فَاصۡفَحِ الصَّفۡحَ الۡجَمِيۡلَ﴾ ’’پس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا‘‘ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجروثواب حاصل کریں ۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کیے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ… رسول اللہﷺ کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لیے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً:زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کر سکتا… یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔
[86]﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الۡخَلّٰقُ﴾ بے شک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿ الۡعَلِيۡمُ ﴾ اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطۂ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بے بس نہیں کر سکتی۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии