Ас-СаадиАн‑Нур · 24:35–46

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Ан-Нур 24:35–46

24:35Страница 354

۞ ٱللَّهُ نُورُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ مَثَلُ نُورِهِۦ كَمِشۡكَوٰةٖ فِيهَا مِصۡبَاحٌۖ ٱلۡمِصۡبَاحُ فِي زُجَاجَةٍۖ ٱلزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوۡكَبٞ دُرِّيّٞ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٖ مُّبَٰرَكَةٖ زَيۡتُونَةٖ لَّا شَرۡقِيَّةٖ وَلَا غَرۡبِيَّةٖ يَكَادُ زَيۡتُهَا يُضِيٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٞۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٖۚ يَهۡدِي ٱللَّهُ لِنُورِهِۦ مَن يَشَآءُۚ وَيَضۡرِبُ ٱللَّهُ ٱلۡأَمۡثَٰلَ لِلنَّاسِۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ٣٥

Аллах - Свет небес и земли. Его свет в душе верующего подобен нише, в которой находится светильник. Светильник заключен в стекло, а стекло подобно жемчужной звезде. Он возжигается от благословенного оливкового дерева, которое не освещается солнцем только с востока или только с запада. Его масло готово светиться даже без соприкосновения с огнем. Один свет поверх другого! Аллах направляет к Своему свету, кого пожелает. Аллах приводит людям притчи, и Аллах знает о всякой вещи.

اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا، مثال اس کے نور کی مانند (روشنی) طاق کے ہے، اس (طاق) میں ایک چراغ ہے، (وہ) چراغ شیشے (کی قندیل) میں ہے، وہ شیشہ، گویا کہ وہ ایک ستارہ ہے چمکتا ہوا، جلایا جاتا ہے وہ (چراغ) ایک درخت سے، جو مبارک ہے، زیتون کا، نہیں ہے وہ مشرقی اور نہ مغربی، قریب ہے کہ تیل اس (زیتون) کا (خود بخود ہی) روشن ہو جائے اگرچہ نہ لگے اسے آگ، نور پر نور ہے، ہدایت دیتا ہے اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے اور بیان کرتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کے لیے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (35)

[35]﴿ اَللّٰهُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ (حسی اور معنوی طور پر)آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ اللہ تعالیٰ بذات خود نور ہے اس کا حجاب نور ہے۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرۂ مبارک کے انوار و جلال حدنگاہ تک تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر دیں ۔ اس کے نور سے عرش، کرسی، سورج، چاند اور جنت منور ہیں … اسی طرح معنوی نور کا منبع بھی اللہ تعالیٰ ہے اس کی کتاب نور ہے، اس کی شریعت نور ہے، ایمان نور ہے، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے مومن بندوں کے دلوں میں موجود معرفت الٰہی نور ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا نور نہ ہو تو گمراہیوں کے گھٹاٹوپ اندھیرے چھا جائیں ، لہٰذا ہر وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا نور نہیں ہے وہ اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔﴿ مَثَلُ نُوۡرِهٖ ﴾ ’’اس کے نور کی مثال‘‘ یعنی وہ نور جس کی طرف اللہ تعالیٰ راہ نمائی فرماتا ہے اور وہ اہل ایمان کے دلوں میں ایمان اور قرآن کا نور ہے۔ ﴿كَمِشۡكٰوةٍ ﴾ ’’ایک طاق کی مانند ہے‘‘ ﴿ فِيۡهَا مِصۡبَاحٌ﴾ ’’جس میں چراغ ہو۔‘‘ کیونکہ طاق چراغ کی روشنی کو جمع کر دیتا ہے اور اسے بکھرنے نہیں دیتا ﴿اَلۡمِصۡبَاحُ فِيۡ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ﴾ ’’چراغ شیشے کے فانوس میں رکھا ہوا ہو اور وہ فانوس‘‘ اپنی صفائی اور خوبصورتی کی وجہ سے یوں لگے ﴿ كَاَنَّهَا كَوۡؔكَبٌ دُرِّيٌّ﴾ ’’جیسے وہ چمکتا ہوا ستارہ ہو‘‘ یعنی وہ موتی کی مانند چمکتا ہو۔ ﴿ يُّوۡقَدُ ﴾ ’’جلایا جائے‘‘ یعنی وہ چراغ جو اس چمک دار فانوس کے اندر ہے ﴿ مِنۡ شَجَرَةٍ مُّؔبٰرَؔكَةٍ زَيۡتُوۡنَةٍ ﴾یعنی وہ زیتون کے تیل سے روشن کیا جاتا ہے جس کا شعلہ سب سے زیادہ روشن ہوتا ہے۔﴿ لَّا شَرۡقِيَّةٍ ﴾ یعنی وہ فقط مشرقی جانب نہیں کہ دن کے آخری حصے میں اس کو سورج کی روشنی نہ پہنچتی ہو ﴿ وَّلَا غَرۡبِيَّةٍ﴾ اور وہ فقط مغربی جانب بھی نہیں کہ دن کے پہلے حصے میں اس کو سورج کی روشنی حاصل نہ ہوتی ہو۔ جب یہ دونوں امور نہیں تو وہ زمین کے درمیان میں اگا ہوا ہے۔ جیسے ملک شام کا زیتون، جسے صبح و شام سورج کی روشنی حاصل ہوتی ہے اس وجہ سے وہ نہایت عمدہ ہوتا ہے اور اس کا تیل انتہائی صاف ہوتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ يَّكَادُ زَيۡتُهَا﴾ ’’قریب ہے کہ اس کا تیل۔‘‘ یعنی انتہائی صاف ہونے کی وجہ سے﴿ يُضِيۡٓءُ وَلَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡهُ نَارٌؔ﴾ ’’آپ ہی روشنی دینے لگے، اگرچہ اسے آگ بھی نہ چھوئے۔‘‘ اور جب اسے آگ چھوئے تو بہت زیادہ روشنی ہو ﴿ نُوۡرٌؔ عَلٰى نُوۡرٍ ﴾ ’’روشنی پر روشنی۔‘‘ یعنی آگ کی روشنی اور زیتون کے تیل کی روشنی۔یہ مثال جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے اور اسے مومن کے احوال کے ساتھ تطبیق دی ہے نیز یہ کہ اس کا قلب اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی فطرت جس پر اسے پیدا کیا گیا ہے وہ زیتون کے پاک صاف تیل کی مانند ہے۔ پس اس کی فطرت صاف اور تعلیمات الٰہیہ اور اعمال مشروعہ کے لیے مستعد ہے۔ جب اس کے پاس علم و ایمان پہنچتا ہے تو یہ نور اس کے قلب میں روشن ہو جاتا ہے جیسے آگ چراغ کی بتی کو روشن کر دیتی ہے۔ اس کا قلب برے ارادوں اور فہم کی خرابی سے پاک ہوتا ہے۔ جب قلب میں ایمان جاگزیں ہوتا ہے تو تمام کدورتوں سے پاک ہونے کی وجہ سے اس نور سے جگمگا اٹھتا ہے اور قلب کی یہ صفائی، موتی کی طرح چمکتے ہوئے فانوس کی مانند ہے۔ پس قلب میں نور فطرت، نور ایمان، نورعلم اور معرفت کی صفائی تمام اسباب مجتمع ہو جاتے ہیں اور یوں قلب میں روشنی پر روشنی بڑھتی چلی جاتی ہے اور چونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا نور ہے اور ہر کسی میں اس نور کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، اس لیے فرمایا:﴿ يَهۡدِي اللّٰهُ لِنُوۡرِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’رہنمائی کرتا ہے اللہ اپنے نور کے لیے جس کی چاہتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے نور کے لیے صرف اسی کی راہ نمائی کرتا ہے جس کے متعلق اسے علم ہے کہ وہ پاک اور طیب و طاہر ہے اور یہ نور اس کی معیت میں مزید بڑھے گا۔﴿ وَيَضۡرِبُ اللّٰهُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ﴾’’اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے‘‘ تاکہ وہ اس سے عقل و فہم حاصل کریں یہ ان پر اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے، نیز یہ مثالیں اس لیے بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ باطل سے حق واضح ہو جائے کیونکہ ضرب الامثال معانی ٔمعقولہ کو محسوسات کے قریب کر دیتی ہیں اور بندوں کو واضح طور پر ان کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔﴿ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ پس اس کا علم تمام اشیاء کا احاطہ كيے ہوئے ہے اس لیے تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ ضرب الامثال اس ہستی کی بیان کی ہوئی ہیں جو تمام اشیاء کے حقائق اور ان کی تفاصیل کو جانتی ہے اور وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان میں بندوں کے لیے مصلحت ہے۔ پس تمھیں ان پر اعتراض اور ان کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے بلکہ تمھیں ان میں تدبر اور غوروفکر کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

24:36–38Страница 354

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ ٱللَّهُ أَن تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيهَا ٱسۡمُهُۥ يُسَبِّحُ لَهُۥ فِيهَا بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ ٣٦

В домах, которые Аллах дозволил воздвигнуть, поминается Его имя. Его славят в них по утрам и перед закатом

رِجَالٞ لَّا تُلۡهِيهِمۡ تِجَٰرَةٞ وَلَا بَيۡعٌ عَن ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَإِقَامِ ٱلصَّلَوٰةِ وَإِيتَآءِ ٱلزَّكَوٰةِ يَخَافُونَ يَوۡمٗا تَتَقَلَّبُ فِيهِ ٱلۡقُلُوبُ وَٱلۡأَبۡصَٰرُ ٣٧

мужи, которых ни торговля, ни купля-продажа не отвлекают от поминания Аллаха, совершения намаза и выплаты закята. Они боятся дня, когда перевернутся сердца и взоры,

لِيَجۡزِيَهُمُ ٱللَّهُ أَحۡسَنَ مَا عَمِلُواْ وَيَزِيدَهُم مِّن فَضۡلِهِۦۗ وَٱللَّهُ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٖ ٣٨

чтобы Аллах воздал им за наилучшее из того, что они совершили (или лучшим, чем то, что они совершили; или наилучшим образом за то, что они совершили), и приумножил это по Своей милости. Аллах наделяет, кого пожелает, без счета.

(یہ چراغ اور قندیلیں ہیں ) ان گھروں میں کہ حکم دیا ہے اللہ نے یہ کہ بلند کیے جائیں وہ اور ذکر کیا جائے ان میں نام اللہ کا تسبیح کرتے ہیں واسطے اس کے ان (گھروں ) میں صبح اورشام (36)وہ مرد کہ نہیں غافل کرتی انھیں تجارت اور نہ خریدو فروخت اللہ کے ذکر سےاور قائم کرنے سے نماز کےاور ادا کرنے سے زکاۃ کے، وہ ڈرتے ہیں اس دن سے کہ الٹ جائیں گے اس میں دل اور آنکھیں (37)(وہ یہ کام کرتے ہیں ) تاکہ جزا دے انھیں اللہ بہترین اس کی جو عمل کیے انھوں نے اور وہ زیادہ دے انھیں اپنے فضل سےاور اللہ رزق دیتا ہے، جسے چاہتا ہے، بغیر حساب کے (38)

[36] یعنی اللہ کی عبادت کی جاتی ہے ﴿ فِيۡ بُيُوۡتٍ ﴾ ’’گھروں میں ‘‘ یعنی فضیلت اور عظمت والے گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کو زمین کے سب ٹکڑوں سے زیادہ محبوب ہیں اور وہ مساجد ہیں ۔ ﴿ اَذِنَ اللّٰهُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے حکم دیا وصیت کی ہے ﴿ اَنۡ تُرۡفَعَ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ ’’کہ انھیں بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا نام ذکر کیا جائے۔‘‘ ان دو امور میں مساجد کے احکام جمع کر دیے گئے ہیں ۔ مساجد کو بلند کرنے میں ان کی تعمیر، ان میں جھاڑو دینا، ان کو نجاستوں سے پاک رکھنا، ان کو بچوں اور فاتر العقل لوگوں سے محفوظ رکھنا جو نجاست سے نہیں بچتے، کفار سے محفوظ رکھنا ان کو لغویات اور ذکر الٰہی کے سوا دیگر بلند آوازوں سے محفوظ رکھنا، شامل ہیں ۔ ﴿ وَيُذۡكَرَ فِيۡهَا اسۡمُهٗ ﴾ذکر میں فرض و نفل ہر قسم کی نماز، قراء ت قرآن، تسبیح و تہلیل اور دیگر اذکار، علم کی تعلیم و تعلم، علمی مذاکرہ، اعتکاف اور دیگر عبادات جن کو مساجد میں سرانجام دیا جاتا ہے، سب شامل ہیں ۔ اسی لیے مساجد کی آبادی دو اقسام پر مشتمل ہے۔(۱)مساجد کی تعمیر اور ان کی حفاظت کے ساتھ ان کو آباد رکھنا۔(۲) نماز اور ذکر الٰہی وغیرہ سے مساجد کو آباد رکھنا… دونوں اقسام میں یہ قسم افضل ہے اسی لیے نماز پنجگانہ اور جمعہ کو مساجد میں مشروع کیا گیا ہے۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یہ حکم وجوب کے طور پر ہے اور بعض دیگر علماء کے نزدیک مستحب ہے۔

[37] پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح کی ہے جو عبادت کے ذریعے مساجد کو آباد کرتے ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيۡهَا ﴾ ’’وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں ان میں ۔‘‘ اخلاص کے ساتھ ﴿ بِالۡغُدُوِّ ﴾ ’’دن کے ابتدائی حصے میں ‘‘ ﴿ وَالۡاٰصَالِ﴾’’اور دن کے آخری حصے میں ‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو اوقات کو ان کے شرف و فضیلت کی بنا پر مخصوص کیا ہے، نیز ان دو اوقات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سفر آسان اور سہل ہوتا ہے۔ اس تسبیح میں نماز وغیرہ داخل ہیں ، اس لیے تمام اذکار اور اوراد صبح اور شام کے اوقات میں مشروع كيے گئے ہیں ۔﴿ رِجَالٌ﴾ یعنی ان مساجد میں ، ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں جو اپنے رب پر دنیا، اس کی لذتوں ، تجارت، کاروبار اور اللہ سے غافل کر دینے والے کسی مشغلے کو ترجیح نہیں دیتے۔ ﴿ لَّا تُلۡهِيۡهِمۡ تِجَارَةٌ ﴾ ’’ان کو غفلت میں نہیں ڈالتی کوئی تجارت۔‘‘ اور یہ ہر اس کسب کو شامل ہے جس میں معاوضہ لینا مقصود ہو تب اس صورت میں ﴿ وَّلَا بَيۡعٌ ﴾ کا جملہ، عام پر عطف خاص کے باب میں سے ہے کیونکہ دیگر کاموں کی نسبت خریدوفروخت میں زیادہ مشغولیت پائی جاتی ہے۔پس یہ لوگ، اگرچہ تجارت کرتے ہیں ، خریدوفروخت کرتے ہیں … کیونکہ اس میں کوئی ممانعت نہیں … مگر یہ تمام کام انھیں غافل نہیں کرتے کہ وہ ان امور کو ﴿ ذِكۡرِ اللّٰهِ وَاِقَامِ الصَّلٰوةِ وَاِيۡتَآءِ الزَّكٰوةِ﴾ ’’اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے‘‘ پر ترجیح دیتے ہوئے ان کو مقدم رکھیں بلکہ اس کے برعکس ان کی غایت مراد اور نہایت مقصود یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کریں ۔ اس اطاعت و عبادت اور ان کے درمیان جو چیز بھی حائل ہو، وہ اسے دور پھینک دیتے ہیں ۔چونکہ اکثر نفوس کے لیے دنیا کا ترک کرنا بہت مشکل ہوتا ہے، مختلف انواع کی تجارت اور مکاسب سے انھیں شدید محبت ہوتی ہے، غالب حالات میں ان امور کو ترک کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور ان امور پر اللہ تعالیٰ کے حقوق کو مقدم رکھنے سے انھیں بہت تکلیف پہنچتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ترغیب و ترہیب کے ذریعے سے اس کی طرف دعوت دی ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ يَخَافُوۡنَ يَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِيۡهِ الۡقُلُوۡبُ وَالۡاَبۡصَارُ﴾ اس روز شدت ہول اور قلب و بدن کے دہشت زدہ ہونے کے باعث دل الٹ جائیں گے اور آنکھیں پتھرا جائیں گی، اس لیے وہ اس دن سے ڈرتے ہیں ، بنابریں ان کے لیے عمل کرنا اور عمل سے غافل کرنے والے امور کو ترک کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

[38]﴿ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا ﴾ ’’تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے۔‘‘ (احسن ماعملوا) سے مراد ان کے اعمال حسنہ اور اعمال صالحہ ہیں کیونکہ یہ ان کے بہترین اعمال ہیں کیونکہ وہ مباح اور دیگر اعمال بجا لاتے ہیں ۔ ثواب صرف اسی عمل پر عطا ہوتا ہے جو عمل حسن کے زمرے میں آتا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾(الزمر:39؍35) ’’تاکہ جو بدترین عمل انھوں نے كيے ہیں اللہ ان کو ان کے حساب سے مٹا دے اور جو انھوں نے بہترین عمل كيے ہیں ، ان کے مطابق ان کو اجر عطا فرمائے۔‘‘ ﴿وَيَزِيۡدَهُمۡ مِّنۡ فَضۡلِهٖ﴾ یعنی وہ ان کے اعمال کے مقابلے میں بہت زیادہ جزا عطا کرے گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَرۡزُقُ مَنۡ يَّشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے روزی عطا فرماتا ہے۔‘‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اتنا اجر عطا کرے گا کہ اس کے اعمال وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے اور اس کی آرزو کی بھی وہاں تک رسائی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اسے بغیر کسی شمار اور بغیر کسی ناپ تول کے اجر عطا کرے گا… اور یہ بہت زیادہ کثرت کے لیے کنایہ ہے۔

یہ دو مثالیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے اعمال کے بطلان، ان کے اکارت جانے اور ان اعمال کو سرانجام دینے والوں کی حسرت ظاہر کرنے کے لیے بیان فرمائی ہیں ، چنانچہ فرمایا:

24:39–40Страница 355

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَعۡمَٰلُهُمۡ كَسَرَابِۭ بِقِيعَةٖ يَحۡسَبُهُ ٱلظَّمۡـَٔانُ مَآءً حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَهُۥ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـٔٗا وَوَجَدَ ٱللَّهَ عِندَهُۥ فَوَفَّىٰهُ حِسَابَهُۥۗ وَٱللَّهُ سَرِيعُ ٱلۡحِسَابِ ٣٩

А деяния неверующих подобны мареву в пустыне, которое жаждущий принимает за воду. Когда он подходит к нему, то ничего не находит. Он находит вблизи себя Аллаха, который воздает ему сполна по его счету. Аллах скор в расчете.

أَوۡ كَظُلُمَٰتٖ فِي بَحۡرٖ لُّجِّيّٖ يَغۡشَىٰهُ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ مَوۡجٞ مِّن فَوۡقِهِۦ سَحَابٞۚ ظُلُمَٰتُۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ إِذَآ أَخۡرَجَ يَدَهُۥ لَمۡ يَكَدۡ يَرَىٰهَاۗ وَمَن لَّمۡ يَجۡعَلِ ٱللَّهُ لَهُۥ نُورٗا فَمَا لَهُۥ مِن نُّورٍ ٤٠

Или же они подобны мраку в глубине морской пучины. Его покрывает волна, над которой находится другая волна, над которой находится облако. Один мрак поверх другого! Если он вытянет свою руку, то не увидит ее. Кому Аллах не даровал света, тому не будет света.

اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان کے اعمال مانند سراب کے ہیں چٹیل میدان میں ، گمان کرتا ہے اس کو پیاسا پانی، یہاں تک کہ جب وہ آیا اس کے پاس تو نہ پایا اسے کچھ بھی اور پایا اللہ کو اپنے پاس، پھر پورا (چکا) دیا اللہ نے اسے اس کاحساب اور اللہ بہت جلد لینے والا ہے حساب (39)یا (ان کے اعمال) اندھیروں کی مانند ہیں نہایت گہرے سمندر کے، ڈھانپتی ہے اسے ایک موج، اس کے اوپر ایک (اور) موج ہے، اس کے اوپر ایک بادل ہے، اندھیرے ہیں بعض ان میں سے اوپر بعض کے (اوپر تلے) ہیں ، جب و ہ نکالے اپنا ہاتھ نہیں قریب کہ وہ دیکھ سکے اس کو اور وہ شخص کہ نہیں بنایا اللہ نے اس کے لیے کوئی نور تو نہیں ہے اس کے لیے (کہیں بھی) کوئی نور (40)

[39]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا‘‘ اپنے رب کے ساتھ اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا﴿ اَعۡمَالُهُمۡ كَسَرَابٍۭ بِقِيۡعَةٍ ﴾ ’’ان کے اعمال چٹیل میدان میں سراب کی طرح ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کی مثال ایسا دشت بے آب ہے جہاں کوئی درخت ہو نہ نباتات ﴿يَّحۡسَبُهُ الظَّمۡاٰنُ مَآءً ﴾ ’’پیاسا آدمی سے پانی سمجھتا ہے۔‘‘ یعنی سخت پیاسا شخص اس سراب کو پانی سمجھتا ہے کیونکہ پیاس کے مارے شخص کو پیاس کی وجہ سے وہ تو ہم لاحق ہوتا ہے جو کسی اور کو لاحق نہیں ہوتا۔ اور یہ گمان باطل ہے لیکن پیاسا شخص اپنی پیاس بجھانے کا ارادہ کرتا ہے﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمۡ يَجِدۡهُ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’حتی کہ جب اس کے پاس آتا ہے تو وہ اس کو کچھ نہیں پاتا۔‘‘ پس اسے سخت ندامت ہوتی ہے اور امید کے منقطع ہو جانے کی وجہ سے اس کی پیاس اور بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح کفار کے اعمال سراب کی مانند ہیں ۔ جاہل شخص جو معاملات کو نہیں جانتا اسے وہ اعمال اچھے دکھائی دیتے ہیں ، ان کی ظاہری شکل و صورت اس کو دھوکے میں ڈال دیتی ہے۔ اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے انھیں بھی اچھے اعمال سمجھتا ہے اور وہ اعمال کا اسی طرح محتاج ہوتا ہے جس طرح ایک پیاسا شخص پانی کا محتاج ہوتا ہے حتیٰ کہ قیامت کے روز جب اپنے اعمال کا سامنا کرے گا تو ان کو ضائع شدہ اور بے فائدہ پائے گا اور حال یہ ہو گا کہ یہ اعمال اس کے حق میں ہوں گے نہ اس کے خلاف ہوں گے۔ ﴿ وَّوَجَدَ اللّٰهَ عِنۡدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ﴾ ’’بلکہ وہ وہاں اللہ کو موجود پاتا ہے جو اس کا پورا پورا حساب چکا دیتا ہے۔‘‘ اس پر اس کا معمولی سا عمل بھی مخفی نہیں رہ سکے گا اور وہاں تھوڑا یا زیادہ عمل مفقود نہ ہو گا۔ ﴿ وَاللّٰهُ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ﴾ ’’اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘ پس یہ جاہل لوگ اللہ تعالیٰ کے وعدے کو دور نہ سمجھیں ۔ یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے کفار کے اعمال کو سراب کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو ایسے دشت بے آب و گیاہ میں نظر آتا ہے جہاں کوئی درخت ہوتا ہے نہ نباتات۔ کفار کے دلوں کی یہی مثال ہے جن میں کوئی بھلائی اور کوئی نیکی نہیں ہوتی۔ پس وہ وہاں اعمال خیر چھوڑ دیتے ہیں ، ایک مانع کی وجہ سے اور وہ کفر ہے۔کفار کے اعمال کے بطلان کو واضح کرنے کے لیے یہ دوسری مثال ہے۔ ﴿ اَوۡؔ كَظُلُمٰتٍ فِيۡ بَحۡرٍ لُّجِّيٍّ ﴾ ’’یا (ان کے عملوں کی مثال) ان اندھیروں کی سی ہے جو نہایت گہرے سمندر کی تہ میں ہوں ۔‘‘ اتھاہ اور بے کراں سمندر ﴿ يَّغۡشٰىهُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُهَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ﴾ ’’جس پر لہر چلی آتی ہو اور اس کے اوپر دوسری لہر اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ، ایک پر ایک۔‘‘ بحربے پایاں کی تاریکی، پھر اس پر ایک دوسری کے اوپر سوار موجوں کی تاریکی، پھر بادلوں کا گھٹاٹوپ اندھیرا اور پھر سیاہ رات کا اندھیرا… اور جہاں یہ حال ہو تو تاریکی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ﴿اِذَاۤ اَخۡرَجَ يَدَهٗ لَمۡ يَكَدۡ يَرٰىهَا﴾ ’’جب آدمی اپنے ہاتھ کو نکالتا ہے تو اسے (اپنے قریب ہونے کے باوجود بھی) نہیں دیکھ پاتا‘‘ پھر دوسری چیزوں کو کیسے دیکھ سکتا ہے۔

[40]کفار کا بھی یہی حال ہے، ان کے دلوں کو تہ در تہ تاریکیوں نے ڈھانپ رکھا ہے۔ طبیعت کی تاریکی، جس میں کوئی بھلائی نہیں ہوتی، اس کے اوپر کفر کی تاریکی، اس کے اوپر جہالت کی تاریکی اور اس کے اوپر ان مذکورہ بالا صفات کی وجہ سے صادر ہونے والے اعمال کی تاریکی… پس کفار ان اندھیروں میں متحیر، اپنی جہالت میں سرگرداں ، صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے، ضلالت اور گمراہی کے راستوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی توفیق سے محروم کر کے ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے اور انھیں اپنا نور عطا نہیں کیا۔﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَجۡعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوۡرًؔا فَمَا لَهٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴾ ’’اور جس کے حصے میں اللہ نور نہ کرے تو اس کے لیے کوئی نور نہیں ۔‘‘ کیونکہ اس کا نفس ظالم اور جاہل ہے، اس میں کوئی بھلائی اور کوئی روشنی نہیں سوائے اس بھلائی اور روشنی کے جو اس کا رب اسے عطا کر دے… ان دونوں تمثیلوں میں اس امر کا احتمال ہے کہ اس سے تمام کفار کے اعمال مراد ہوں ۔ دونوں تمثیلیں کفار کے اعمال پر منطبق ہوتی ہیں اور اعمال کے تعدد اوصاف کی بنا پر ان کو متعدد بیان کیا ہے اور اس بات کا بھی احتمال ہے کہ دونوں مثالیں الگ الگ گروہوں کے لیے بیان کی گئی ہوں ۔ پہلی تمثیل قائدین کے لیے اور دوسری مثال پیروکاروں کے لیے ہو۔واللہ اعلم۔

24:41–42Страница 355

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُۥ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلطَّيۡرُ صَٰٓفَّٰتٖۖ كُلّٞ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهُۥ وَتَسۡبِيحَهُۥۗ وَٱللَّهُ عَلِيمُۢ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٤١

Разве ты не видел, что Аллаха славят те, кто на небесах и на земле, а также птицы с распростертыми крыльями? Каждый знает свою молитву и свое славословие. Аллах знает о том, что они совершают.

وَلِلَّهِ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلۡمَصِيرُ ٤٢

Аллаху принадлежит власть над небесами и землей, и к Аллаху предстоит прибытие.

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ، تسبیح کرتا ہے اس کے لیے جو کوئی ہے آسمانوں اور زمین میں اور پرندے پر پھیلائے ہوئے (بھی) ہر ایک (مخلوق) نے یقینا جان لی ہے اپنی نماز (عبادت) اور اپنی تسبیح اور اللہ خوب جانتا ہے اس کو جو کچھ وہ کرتے ہیں (41)اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف ہے واپسی (42)

[41] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو آگاہ فرمایا ہے کہ وہ عظمت اور کامل تسلط کا مالک ہے، تمام مخلوق اپنی ربوبیت اور عبادت میں اس کی محتاج ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر وہ مخلوق جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی تمام حیوانات و جمادات﴿ وَالطَّيۡرُ صٰٓفّٰتٍ﴾ اور وہ پرندے (جو آسمان میں ) اپنے پر پھیلائے اڑ رہے ہیں وہ بھی تسبیح کرتے ہیں ﴿ كُلٌّ ﴾ ’’ہر ایک نے‘‘ یعنی ان تمام مخلوقات میں سے ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ ﴾ ’’جان لیا ہے اپنی نماز اور اپنی تسبیح کو۔‘‘ یعنی تمام مخلوقات میں ہر نوع کی، اس کی حسب حال نماز اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نماز اور تسبیح الہام کی ہے خواہ انبیاء ومرسلین کے توسط سے، جیسے جنوں ، انسانوں اور فرشتوں کی نماز اور تسبیح۔ یا اپنی جانب سے الہام کے ذریعے سے، جیسے دیگر مخلوق اور یہ احتمال زیادہ راجح ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے اس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے وہ عنقریب انھیں اس کی جزا دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کے بارے میں اپنے علم کو، جو اس کے سکھلانے سے وہ کرتے ہیں اور ان کے ان اعمال کے بارے میں ، جو جزا و سزا کو متضمن ہیں ، اپنے علم کو جمع کر دیا۔آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ قَدۡ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسۡبِيۡحَهٗ﴾ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو یعنی اللہ تعالیٰ ان کی عبادات کو جانتا ہے اگرچہ تم نہیں جانتے… اے بندو! اگرچہ تم اس میں سے صرف وہی کچھ جانتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کیا ہے… یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَالۡاَرۡضُ وَمَنۡ فِيۡهِنَّ١ؕ وَاِنۡ مِّنۡ شَيۡءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمۡدِهٖ وَلٰكِنۡ لَّا تَفۡقَهُوۡنَ تَسۡبِيۡحَهُمۡ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِيۡمًا غَفُوۡرًؔا﴾(بنی اسرائیل:17؍44) ’’ساتوں آسمان، زمین اور ان کے اندر جتنی چیزیں ہیں سب اس کی تسبیح بیان کر رہے ہیں ۔ کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان نہ کر رہی ہو مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے، بے شک وہ بڑا ہی بردبار اور بخشنے والا ہے۔‘‘

[42] اللہ تبارک و تعالیٰ نے عبادت اور توحید کے پہلو سے ان کی عبودیت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی احتیاج بیان فرمائی، بعدازاں بیان فرمایا کہ وہ اقتدار، تربیت اور تدبیر کے پہلو سے بھی اس کے محتاج ہیں ، چنانچہ فرمایا:﴿ وَلِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کا خالق، رازق اور اس دنیا میں اپنے حکم شرعی و قدری کے ذریعے ان میں تصرف کرنے والا ہے اور آخرت میں حکم جزائی کے ذریعے سے ان میں تصرف کرے گا اور اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے:﴿ وَاِلَى اللّٰهِ الۡمَصِيۡرُ ﴾ یعنی آخر کار تمام مخلوق کا مرجع و منتہی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے۔

24:43–44Страница 355

أَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يُزۡجِي سَحَابٗا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيۡنَهُۥ ثُمَّ يَجۡعَلُهُۥ رُكَامٗا فَتَرَى ٱلۡوَدۡقَ يَخۡرُجُ مِنۡ خِلَٰلِهِۦ وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن جِبَالٖ فِيهَا مِنۢ بَرَدٖ فَيُصِيبُ بِهِۦ مَن يَشَآءُ وَيَصۡرِفُهُۥ عَن مَّن يَشَآءُۖ يَكَادُ سَنَا بَرۡقِهِۦ يَذۡهَبُ بِٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٣

Разве ты не видишь, что Аллах гонит облака, потом соединяет их, потом превращает их в кучу облаков, и ты видишь, как из расщелин ее изливается ливень. Он низвергает град с гор, которые на небе. Он поражает им, кого пожелает, и отвращает его, от кого пожелает. Блеск их молний готов унести зрение.

يُقَلِّبُ ٱللَّهُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبۡرَةٗ لِّأُوْلِي ٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٤

Аллах чередует день и ночь. Воистину, в этом - назидание для обладающих зрением.

کیا نہیں دیکھا آپ نے کہ بے شک اللہ (ہی) چلاتا ہے بادل کو، پھر وہ ملاتا ہے باہم ان کو، پھر وہ کر دیتا ہے اسے تہ بہ تہ، پس دیکھتے ہیں آپ بارش کو کہ وہ نکلتی ہے اس کے درمیان میں سے اور وہ اتارتا ہے آسمان سے (یعنی )ان پہاڑوں میں سے جو اس (آسمان) میں ہیں ، اولے ، پھر وہ پہنچاتا (برساتا) ہے وہ اولے اس پر جس کو وہ چاہتا ہےاور پھیر دیتا ہے ان (اولوں ) کو جس سے چاہتا ہے قریب ہے کہ چمک اس کی بجلی کی لے جائے آنکھوں (کی روشنی) کو (43)الٹتا پلٹتا رہتا ہے اللہ رات اور دن کو، بلاشبہ اس میں البتہ عبرت ہے واسطے اہل نظر کے (44)

[43] کیا تو نے اپنی آنکھوں کے ساتھ، اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ کیسے ﴿ يُزۡجِيۡ سَحَابًا ﴾ ’’بادل کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو ہانکتا ہے‘‘﴿ثُمَّ يُؤَلِّفُ ﴾ پھر وہ ان بدلیوں کو اکٹھا کرتا ہے اور ان کو پہاڑوں کی مانند گہرا ابر بنا دیتا ہے۔﴿ فَتَرَى الۡوَدۡقَ ﴾ تو ان بادلوں میں سے متفرق قطروں کی صورت میں بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتا ہے تاکہ کسی ضرر کے بغیر اس بارش سے فائدہ حاصل ہو۔ پس اس بارش سے بڑے بڑے تالاب بھر جاتے ہیں ، دریا ٹھاٹھیں مارنے لگتے ہیں ، وادیاں بہہ نکلتی ہیں اور روئے زمین پر قسم قسم کی نباتات اگ آتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بادل میں سے ژالہ باری بھی کرتا ہے یہ ژالہ باری جہاں ہوتی ہے ہر چیز کو تلف کر کے رکھ دیتی ہے۔ ﴿ فَيُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَصۡرِفُهٗ عَنۡ مَّنۡ يَّشَآءُ﴾ پس وہ اپنے حکم کونی و قدری کے تقاضے اور اپنی قابل ستائش حکمت کے مطابق جس پر چاہتا ہے ژالہ باری کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اس ژالہ باری سے بچا لیتا ہے۔﴿ يَكَادُ سَنَا بَرۡقِهٖ ﴾ یعنی اس بادل میں کوندنے والی بجلی اپنی تیز روشنی کی وجہ سے، قریب ہے کہ ﴿ يَذۡهَبُ بِالۡاَبۡصَارِ﴾ ’’آنکھوں کو لے جائے۔‘‘ وہ ہستی، جس نے ان بادلوں کو اٹھایا اور ان کو اپنے ان بندوں تک پہنچایا جو اس کے محتاج ہیں اور ان کو اس طرح برسایا کہ اس بارش سے فائدہ حاصل ہو اور نقصان نہ ہو… کیا وہ کامل قدرت، اٹل مشیت اور بے پایاں رحمت کی مالک نہیں ؟

[44]﴿ يُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ﴾ ’’بدلتا ہے اللہ رات اور دن کو۔‘‘ یعنی گرمی میں سے نکال کر سردی کی طرف لاتا ہے اور سردی سے نکال کر گرمی کی طرف لاتا ہے۔ رات میں سے دن کو اور دن میں سے رات کو نکال لاتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے درمیان دنوں کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّاُولِي الۡاَبۡصَارِ ﴾ یعنی اس میں اصحاب بصیرت اور امور مطلوبہ کی گہرائی تک پہنچنے والی عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے، جیسے نظر قابل مشاہدہ حسی امور تک پہنچتی ہے۔ صاحب بصیرت ان مخلوقات کو عبرت اور تفکر کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس بات میں تدبر کرتا ہے کہ ان مخلوقات کی تخلیق کا کیا مقصد ہے اور روگردانی کرنے والا جاہل شخص اس کائنات پر غفلت کی نظر ڈالتا ہے، جیسے جانور اشیاء کو دیکھتے ہیں ۔

24:45Страница 356

وَٱللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٖ مِّن مَّآءٖۖ فَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ بَطۡنِهِۦ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰ رِجۡلَيۡنِ وَمِنۡهُم مَّن يَمۡشِي عَلَىٰٓ أَرۡبَعٖۚ يَخۡلُقُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٤٥

Аллах сотворил все живые существа из воды. Среди них есть такие, которые ползают на брюхе, такие, которые ходят на двух ногах, и такие, которые ходят на четырех. Аллах творит то, что пожелает. Воистину, Аллах способен на всякую вещь.

اور اللہ ہی نے پیدا کیا ہر زمین پر چلنے والے جان دار کو پانی سے، پس کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں اپنے پیٹ کے بل اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں دو پاؤں پر اور کچھ ان میں سے وہ ہیں جو چلتے ہیں چار پاؤں پر پیدا کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے قادر ہے (45)

[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے روئے زمین کے تمام جانداروں کو… جیسا کہ وہ مشاہدہ کرتے ہیں ﴿ مِنۡ مَّآءٍ ﴾ ’’پانی سے‘‘ تخلیق فرمایا، یعنی تمام جان داروں کا مادۂ تخلیق پانی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَجَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ كُلَّ شَيۡءٍ حَيٍّ﴾(الانبیاء:21؍30) ’’اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی ہے۔‘‘ پس وہ حیوانات جن کا سلسلۂ تناسل جاری ہے، ان کا مادۂ تخلیق نطفہ کا پانی ہے جب نر مادہ کو حاملہ کرتا ہے تو اسی آب نطفہ سے تخلیق ہوتی ہے اور وہ حیوانات جو زمین سے پیدا ہوتے ہیں وہ صرف پانی کی رطوبتوں سے پیدا ہوتے ہیں ، مثلاً:حشرات الارض۔ ان میں نطفہ وغیرہ موجود نہیں ہوتا، وہ ہمیشہ آب نطفہ کے بغیر پیدا ہوتے ہیں ۔ پس مادۂ تخلیق ایک ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی مخلوق بہت سے پہلوؤں سے (ایک دوسرے سے) مختلف ہوتی ہے۔ ﴿فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰى بَطۡنِهٖ ﴾ ’’پس ان میں سے کوئی پیٹ کے بل چلتا ہے‘‘ جیسے سانپ وغیرہ﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰى رِجۡلَيۡنِ ﴾ ’’اور کوئی دو ٹانگوں پر چلتا ہے ‘‘ جیسے آدمی اور بہت سے پرندے﴿وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ يَّمۡشِيۡ عَلٰۤى اَرۡبَعٍ ﴾ ’’اور بعض ان میں سے چار ٹانگوں پر چلتے ہیں ۔‘‘ جیسے چوپائے اور مویشی وغیرہ۔ اصل ایک کے باوجود ان میں تنوع دلالت کرتا ہے کہ اس کی قدرت سب کو شامل اور اس کی مشیت سب میں نافذ ہے۔بنابریں فرمایا:﴿ يَخۡلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’اللہ جو چاہتا ہے (اور جیسی چاہتا ہے اپنی مخلوق) پیدا کرتا ہے‘‘ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ مثلاً: اللہ تعالیٰ زمین پر پانی نازل کرتا ہے، یعنی پانی ایک ہی ہے۔ ماں ، یعنی زمین ایک ہے مگر اس زمین سے جنم لینے والی اولاد مختلف اوصاف کی حامل اور متنوع ہے۔ فرمایا:﴿ وَفِي الۡاَرۡضِ قِطَعٌ مُّتَجٰؔوِرٰتٌ وَّجَنّٰتٌ مِّنۡ اَعۡنَابٍ وَّزَرۡعٌ وَّنَخِيۡلٌ صِنۡوَانٌ وَّغَيۡرُ صِنۡوَانٍ يُّسۡقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَنُفَضِّلُ بَعۡضَهَا عَلٰى بَعۡضٍ فِي الۡاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّعۡقِلُوۡنَ﴾(الرعد:13؍4) ’’اور زمین میں الگ الگ خطے ہیں جو ساتھ ساتھ پائے جاتے ہیں ، انگور کے باغات ہیں ، کھیتیاں ہیں ، نخلستان ہیں ان میں سے کچھ ایک ہی جڑ سے دو درخت نکلے ہوئے ہیں ، کچھ اکہرے ہیں ، جن کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر مزے میں ہم ان کو ایک دوسرے پر فضیلت دے دیتے ہیں ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں ۔‘‘

24:46Страница 356

لَّقَدۡ أَنزَلۡنَآ ءَايَٰتٖ مُّبَيِّنَٰتٖۚ وَٱللَّهُ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٤٦

Мы уже ниспослали ясные знамения, и Аллах наставляет на прямой путь, кого пожелает.

البتہ تحقیق نازل کیں ہم نے آیتیں کھول کر بیان کرنے والی اور اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے طرف راہ راست کی (46)

[46] ہم نے اپنے بندوں پر رحم کر کے آیات بینات نازل کی ہیں ، جو تمام مقاصد شرعیہ، آداب محمودہ اور معارف رشیدہ پر واضح طور پر دلالت کرتی ہیں ۔ پس اس طرح راستے واضح ہو گئے، گمراہی میں سے راہ راست اور ضلالت میں سے ہدایت نمایاں ہو گئی۔ اس بارے میں کسی باطل پسند کے لیے شبہ کی ادنیٰ سی گنجائش باقی رہی نہ کسی متلاشی حق کے لیے کوئی اشکال باقی رہا… کیونکہ یہ آیات بینات اسی ہستی کی طرف سے نازل کردہ ہیں جس کا علم کامل، جس کی رحمت کامل اور جس کا بیان کامل ہے۔ اس کے بیان سے بڑھ کر کوئی بیان نہیں ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ﴾(الانفال:8؍42) ’’تاکہ (اس کے بعد)جو کوئی ہلاک ہو تو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے تو دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَاللّٰهُ يَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اور اللہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘ ان لوگوں میں سے جن کے لیے بھلائی اور سچی عزت سبقت کر گئی ﴿ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ واضح اور مختصر راستے کی ، جو اس تک اور اس کے اکرام و تکریم والے گھر تک جاتا ہے، جو علم حق، اس کو ترجیح دینے اور اس پرعمل کرنے کو متضمن ہے۔ اس کا بیان کامل تمام مخلوق کے لیے اور سب کو شامل ہے مگر ہدایت صرف اسی کے لیے مخصوص ہے جسے وہ چاہتا ہے۔ یہ اس کا فضل و احسان ہے اور رب کریم کا فضل و کرم کبھی منقطع نہیں ہوتا اور یہ اس کا عدل ہے۔ اس نے کسی کے لیے کوئی حجت باقی نہیں رہنے دی اور احسان کے مواقع کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English