Ас-Саади · Тафсир · на урду
Ан-Намль 27:86–93
27:86Страница 384
أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا جَعَلۡنَا ٱلَّيۡلَ لِيَسۡكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبۡصِرًاۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٨٦
Разве они не видели, что Мы создали ночь для того, чтобы они отдыхали в течение нее, и день для освещения? Воистину, в этом - знамения для верующих людей.
کیا نہیں دیکھا انھوں نے کہ بے شک بنایا ہم نے رات کو تاکہ وہ آرام کریں اس میں اور (بنایا) دن کودکھلانے والا (روشن)؟ بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں (86)
[86] یعنی کیا انھوں نے اس عظیم نشانی اور بہت بڑی نعمت کا مشاہدہ نہیں کیا؟ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شب و روز کو مسخر کر دیا۔ یہ رات اپنے اندھیرے کی وجہ سے نعمت ہے لوگ اس میں سکون پاتے اور تھکن سے آرام کرتے ہیں اور کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور دن اپنی روشنی کی وجہ سے نعمت ہے تاکہ لوگ اس روشنی میں پھیل جائیں اور اپنی معاش اور دیگر مصروفیات میں مشغول ہو جائیں ۔ ﴿ اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ایمان رکھتے ہیں ‘‘ اللہ تعالیٰ کی کامل وحدانیت اور اس کی بے پایاں نعمت پر۔
27:87–90Страница 384
وَيَوۡمَ يُنفَخُ فِي ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوۡهُ دَٰخِرِينَ ٨٧
В тот день подуют в Рог, и перепугаются те, кто на небесах и на земле, кроме тех, кого Аллах пожелает выделить. Все предстанут перед Ним смиренными.
وَتَرَى ٱلۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةٗ وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنۡعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِيٓ أَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفۡعَلُونَ ٨٨
И ты увидишь, что горы, которые ты считал неподвижными, придут в движение, словно облака. Таково творение Аллаха, Который выполнил все в совершенстве. Воистину, Он ведает о том, что вы делаете.
مَن جَآءَ بِٱلۡحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيۡرٞ مِّنۡهَا وَهُم مِّن فَزَعٖ يَوۡمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩
Те, которые предстанут с добрым деянием, получат нечто лучшее. В тот день они будут защищены от испуга.
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتۡ وُجُوهُهُمۡ فِي ٱلنَّارِ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٩٠
А те, которые предстанут с дурными деяниями, будут повергнуты в Огонь ничком: «Разве вы не получаете воздаяние только за то, что совершали?».
اور جس دن پھونکا جائے گا صور میں تو گھبرا جائے گا جو کوئی ہے آسمانوں میں اور جو کوئی ہے زمین میں سوائے اس کے جسے چاہے اللہ اور سب (لوگ) آئیں گے اللہ کے پاس ذلیل ہو کر (87) اور آپ دیکھیں گے پہاڑوں کو تو گمان کریں گے آپ ان کو جمے ہوئے جبکہ وہ چل رہے ہوں گے مانند چلنے بادلوں کے (یہ) کاری گری ہے اللہ کی جس نے پختہ کیا ہرچیز کو، بلاشبہ وہ خوب خبردار ہے ساتھ اس کے جو تم کرتے ہو (88) جو شخص لائے گا نیکی تو اس کے لیے بہت بہتر (بدلہ) ہو گا اس سےاور اور وہ لوگ گھبراہٹ سے ا س دن بے خوف ہوں گے (89) اور جو شخص لائے گا برائی تو اوندھے کر دے جائیں گے ان کے منہ آگ میں (اورکہا جائے گا) نہیں سزا دیے جاؤ گے تم مگر (اس کی) جو کچھ تھے تم عمل کرتے (90)
[87] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انھیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انھیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلا دینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُنۡفَخُ فِي الصُّوۡرِ فَفَزِعَ ﴾ ’’اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔‘‘ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ ﴿ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے گی اور وہ خوف کی وجہ سے جو انھیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے ﴿ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ﴾ سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کر ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ ﴿ وَكُلٌّ ﴾ یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق ﴿ اَتَوۡهُ دٰخِرِيۡنَ﴾ ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہو گی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنۡ كُلُّ مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ اِلَّاۤ اٰتِي الرَّحۡمٰنِ عَبۡدًا﴾(مریم:19؍93) ’’زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔‘‘ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔
[88] قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے ﴿تَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً ﴾ ’’آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں ۔‘‘ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑ جائیں گے اس لیے فرمایا: ﴿ وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ﴾ ’’اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ ﴿ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِيۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَيۡءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔
[89] پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ ﴾ ’’جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے ﴿ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّؔنۡهَا﴾ ’’تو اس کے لیے اس سے بہتر ہے۔‘‘ یہ کمترین تفصیل ہے۔(مصنف a نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت ﴿ فَلَهٗ عَشۡرُ اَمۡثَالِهَا﴾ کی تفسیر کردی ہے) ﴿ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَىِٕذٍ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ ان تمام امور سے مامون اور مصؤن ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہو گی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرا رہے ہوں گے۔
[90]﴿ وَمَنۡ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ ﴾ ’’اور جو برائی لے کر آئے گا۔‘‘ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے ﴿ فَكُبَّتۡ وُجُوۡهُهُمۡ فِي النَّارِ﴾ یعنی انھیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا ﴿ هَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔‘‘
27:91–93Страница 385
إِنَّمَآ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ رَبَّ هَٰذِهِ ٱلۡبَلۡدَةِ ٱلَّذِي حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَيۡءٖۖ وَأُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَ ٩١
Скажи: «Мне велено только поклоняться Господу этого города (Мекки), который Он провозгласил заповедным. Ему принадлежит всякая вещь, мне же велено быть одним из мусульман
وَأَنۡ أَتۡلُوَاْ ٱلۡقُرۡءَانَۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلۡ إِنَّمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُنذِرِينَ ٩٢
и читать Коран». Кто следует прямым путем, тот поступает во благо себе. А тому, кто впал в заблуждение, скажи: «Я - всего лишь один из тех, кто предостерегает».
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمۡ ءَايَٰتِهِۦ فَتَعۡرِفُونَهَاۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُونَ ٩٣
Скажи: «Хвала Аллаху! Он покажет вам Свои знамения, и вы узнаете их». Твой Господь не находится в неведении о том, что вы совершаете.
یقینا حکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ عبادت کروں میں رب کی اس شہر(مکہ) کے وہ جس نے حرمت دی اس کو اور اسی کے لیے ہے ہر چیزاورحکم دیا گیا ہوں میں یہ کہ ہوں میں مسلمانوں میں سے (91) اوریہ کہ تلاوت کروں میں قرآن کی، پس جس نے ہدایت پائی تو یقینا وہ ہدایت پائے گا اپنی ہی ذات کے لیےاور جو شخص گمراہ ہوا تو آپ کہہ دیجیے! یقینا میں تو ہوں ڈرانے والوں میں سے (92) اور کہہ دیجیے! تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ دکھائے گا تمھیں اپنی نشانیاں سو پہچان لو گے تم ان کو اور نہیں ہے آپ کا رب غافل اس سے جو تم عمل کرتے ہو (93)
[91] اے محمد (ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: ﴿ اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰؔذِهِ الۡبَلۡدَةِ ﴾ ’’مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔‘‘ یعنی مکہ مکرمہ ﴿ الَّذِيۡ حَرَّمَهَا ﴾ ’’جس نے اس کو محترم بنایا۔‘‘ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لیے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ ﴿ وَلَهٗ كُلُّ شَيۡءٍ﴾ عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے ﴿ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾(یہاں مصنف نے سبقت قلم سے ﴿ وَّاُمِرۡتُ لِاَنۡ اَ كُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِيۡنَ﴾ لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر کی ہے) یعنی مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں جلدی سے اسلام کی طرف بڑھوں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعمیل کی کیونکہ وہ اولین مسلمان اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے مطیع تھے۔
[92]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ اسی طرح مجھے یہ حکم بھی دیا گیا ہے ﴿ اَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ﴾ ’’کہ میں تمھارے سامنے قرآن کی تلاوت کروں ‘‘ تاکہ تم اس کے ذریعے سے راہ نمائی حاصل کرو اور اس کے الفاظ اور معانی کو سیکھو۔ یہی میری ذمہ داری ہے جو میں نے پوری کر دی ہے۔ ﴿ فَمَنِ اهۡتَدٰؔى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِيۡ لِنَفۡسِهٖ﴾ ’’پس جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرتا ہے۔‘‘ یعنی اس کا فائدہ اسی کو ہو گا اور وہی اس کا پھل پائے گا۔ ﴿ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ ﴾ ’’اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف متنبہ کرنے والا ہوں ۔‘‘ اور ہدایت میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔
[93]﴿ وَقُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ یعنی دنیا وآخرت میں ، تمام خلائق، خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خاص اور چنے ہوئے بندوں کی طرف سے ہر قسم کی حمد وثنا صرف اسی کے لیے ہے۔ کیونکہ ان کی طرف سے اپنے رب کے لیے ہونے والی حمد و ثنا دوسرے لوگوں کی طرف سے ہونے والی حمد و ثنا کی بنسبت زیادہ عظمت کے لائق ہے کیونکہ ان کے درجات بلند، ان کا اللہ تعالیٰ سے قرب کامل نیز ان پر اس کے احسانات زیادہ ہیں ۔ ﴿ سَيُرِيۡكُمۡ اٰيٰتِهٖ فَتَعۡرِفُوۡنَهَا﴾ ’’وہ عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جنھیں تم پہچان لو گے۔‘‘ ان آیات الٰہی کی تمھیں ایسی معرفت حاصل ہو گی جو حق اور باطل کے بارے میں راہنمائی کرے گی۔ اللہ تعالیٰ ضرور تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کے ذریعے سے تم اندھیروں میں اپنی راہوں کو روشن کرو گے۔ ﴿ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَيَّ عَنۢۡ بَيِّنَةٍ ﴾(الانفال:8؍42)’’تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ واضح دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔‘‘﴿ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور تمھارا رب تمھارے عملوں سے بے خبر نہیں ہے۔‘‘ بلکہ وہ تمھارے اعمال و احوال کو خوب جانتا ہے اور اسے ان اعمال کی جزا کی مقدار کا بھی علم ہے وہ تمھارے درمیان ایسا فیصلہ کرے گا کہ تم اس فیصلے پر اس کی حمدوثنا بیان کرو گے اور یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے تمھارے لیے اس کے خلاف حجت نہ ہو گا۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии