Ас-СаадиАль‑Касас · 28:1–51

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Аль-Касас 28:1–51, продолжение

[38]﴿ وَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ﴾ فرعون نے اپنے رب کے بارے میں جسارت اور اپنی قوم کے احمق اور کمزور عقل والوں کے سامنے خوشنما باتیں کرتے ہوئے کہا: ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَاُ مَا عَلِمۡتُ لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’اے اہل دربار! میں تمھارا اپنے سوا کسی کو معبود نہیں جانتا‘‘ یعنی میں اکیلا تمھارا الٰہ اور معبود ہوں اگر میرے سوا کوئی اور الٰہ ہوتا تو میرے علم میں ضرور ہوتا۔ ذرا فرعون کی یہ کامل احتیاط ملاحظہ کیجیے، اس نے یہ نہیں کہا:﴿ مَا لَكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرِيۡ﴾ ’’میرے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ۔‘‘ بلکہ یہ کہا ’’میں تمھارا اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا۔‘‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک ایک عالم فاضل شخص تھا وہ جو بھی کوئی بات کرتا تھا وہ ان کے نزدیک حق ہوتی تھی اور وہ جو بھی کوئی حکم دیتا تھا اس کی اطاعت کرتے تھے۔ پس جب اس نے یہ بات کہی جس میں یہ احتمال تھا کہ فرعون کے سوا کوئی اور بھی الٰہ ہے تو اس نفی کو متحقق کرنے کے ارادے سے ہامان سے کہا: ﴿ فَاَوۡقِدۡ لِيۡ يٰهَامٰنُ عَلَى الطِّيۡنِ﴾ ’’اے ہامان! تو میرے لیے مٹی پر آگ جلا۔‘‘ تاکہ وہ پکی اینٹیں تیار کرے۔ ﴿ فَاجۡعَلۡ لِّيۡ صَرۡحًا﴾ ’’پھر میرے لیے ایک محل بنوا دو۔‘‘ یعنی ایک بلند عمارت ﴿لَّعَلِّيۡۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوۡسٰؔى١ۙ وَاِنِّيۡ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ﴾ ’’تاکہ میں موسیٰ کے معبود کی طرف جھانک لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں ۔‘‘ مگر اس میں اس گمان کو سچ کر دکھاؤں گا اور تمھارے سامنے موسیٰu کا جھوٹ عیاں کروں گا۔ ملاحظہ کیجیے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ کسی آدمی نے اتنی بڑی جسارت نہیں کی۔ اس نے موسیٰu کی تکذیب کی، خود اللہ ہونے کا دعویٰ کیا، اس نے اس بات کی بھی نفی کی کہ اسے معبود حق کے بارے میں علم ہے اور اس نے موسیٰu کے معبود تک پہنچنے کے لیے اسباب مہیا کرنے کا حکم دیا۔ یہ سب ابہام پیدا کرنے کی کوشش ہے مگر حیرت ہے ان درباریوں پر جو اپنے آپ کو مملکت کے ستون اور سلطنت کے معاملات میں بڑا مدبر سمجھتے تھے۔ فرعون کیسے ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا رہا اور کیسے ان کو بیوقوف بناتا رہا۔ اس کا سبب ان کا فسق تھا جو ان کا وصف راسخ بن گیا تھا۔ ان کا دین فاسد ہو گیا پھر اس کے نتیجے میں ان کی عقل بھی خرابی کا شکار ہو گئی۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایمان پر ثابت قدمی اور استقامت کا سوال کرتے ہیں ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر۔ تو ہمیں اپنی بے پایاں رحمت سے نواز بلاشبہ تو بہت زیادہ نوازش کرنے والا ہے۔

[39] اللہ وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاسۡتَؔكۡبَرَ هُوَ وَجُنُوۡدُهٗ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور فرعون نے اور اس کے لشکر نے ناحق طورپر ملک میں تکبر کیا۔‘‘ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ متکبرانہ رویہ رکھا اور ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان کی دعوت کو تکبر کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انھوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور اس زعم باطل میں مبتلا رہے کہ ان کا مسلک اعلیٰ و افضل ہے۔ ﴿ وَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ اِلَيۡنَا لَا يُرۡجَعُوۡنَ﴾ ’’اور وہ خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ اس لیے انھیں ایسا کرنے کی جرأت ہوئی ورنہ اگر انھیں علم ہوتا اور انھیں اس بات کا یقین ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جائیں گے تو وہ کبھی بھی ایسا کام نہ کرتے جو انھوں نے کیا۔

[40]﴿ فَاَخَذۡنٰهُ وَجُنُوۡدَهٗ﴾ جب وہ اپنے عناد اور سرکشی پر جمے رہے تو ہم نے فرعون اور اس کے لشکروں کو پکڑ لیا ﴿ فَنَبَذۡنٰهُمۡ فِي الۡيَمِّ١ۚ فَانۡظُرۡؔ كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر ہم نے انھیں دریا میں ڈال دیا، پس دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔‘‘ ان کا انجام گھاٹے والا اور بدترین انجام تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیاوی سزا کے ساتھ ساتھ اخروی عذاب میں بھی مبتلا کیا۔

[41]﴿ وَجَعَلۡنٰهُمۡ اَىِٕمَّةً يَّدۡعُوۡنَ اِلَى النَّارِ﴾ ’’نیز ہم نے انھیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے سرغنے بنا دیا‘‘ یعنی ہم نے فرعون اور اس کے سرداروں کو ایسے راہنما بنایا جن کی پیروی کا انجام جہنم کی رسوائی اور بدبختی ہے۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ لَا يُنۡصَرُوۡنَ ﴾ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لیے ان کی مدد نہیں کی جا سکے گی، وہ کمزور ترین لوگ ہوں گے، اپنے آپ سے عذاب کو دور نہ کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا کوئی والی اور مددگار نہ ہو گا۔

[42]﴿ وَاَتۡبَعۡنٰهُمۡ فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا لَعۡنَةً﴾ ’’اور ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی‘‘ یعنی اس سزا اور رسوائی کے علاوہ، دنیا میں ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی ہے۔ وہ مخلوق کے ہاں نہایت قبیح اوصاف کے ساتھ معروف، مغضوب اور مذموم ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کا روز مرہ مشاہدہ ہوتا ہے، چنانچہ وہ اس دنیا میں ائمہ ملعونین اور ان کے پیشواؤں میں شمار ہوتے ہیں ۔ ﴿ وَيَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ هُمۡ مِّنَ الۡمَقۡبُوۡحِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ قیامت کے دن بدحالوں میں سے ہوں گے۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گے، ان کے افعال نہایت گندے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض، اس کی مخلوق کے ہاں اور خود اپنی نظر میں ناپسندیدہ ہیں ۔

[43]﴿ وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور ہم نے موسیٰ(u) کو کتاب عطا کی۔‘‘ اس سے مراد تورات ہے ﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ مَاۤ اَهۡلَكۡنَا الۡقُرُوۡنَ الۡاُوۡلٰى﴾ ’’پہلے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کرنے کے بعد۔‘‘ وہ لوگ جن کا خاتمہ تمام لوگوں کو یعنی فرعون اور اس کی افواج کو ہلاک کر کے کیا گیا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نزول تورات کے بعد قوموں کی ہلاکت عامہ کی سزا منقطع ہو گئی اور کفار کے خلاف جہاد بالسیف مشروع ہوا۔ ﴿ بَصَآىِٕرَ لِلنَّاسِ﴾ ’’لوگوں کے لیے بصیرت افروز دلائل‘‘ اس سے مراد کتاب اللہ ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰu پر نازل فرمائی جس میں لوگوں کے لیے بصیرت ہے، یعنی اس میں ایسے اصول بیان كيے گئے ہیں جن کے ذریعے سے وہ دیکھ سکتے ہیں کہ کیا چیز ان کو فائدہ دیتی ہے اور کیا چیز ان کو نقصان دیتی ہے۔ پس اس سے نافرمان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جاتی ہے اور مومن اس سے فائدہ اٹھاتا ہے تب یہ کتاب مومن کے حق میں رحمت اور اس کے لیے راہ راست کی طرف راہنمائی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’اور ہدایت اور رحمت بنا کر تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘

[44] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (ﷺ)کو ان اخبار غیب سے آگاہ فرمایا تو پھر بندوں کو متنبہ کیا کہ یہ خبریں محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور رسول (ﷺ)کے پاس وحی الٰہی کے سوا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے وہ یہ خبریں حاصل کر سکیں ۔ بنابریں فرمایا: ﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ﴾ ’’اور آپ (اس وقت) مغرب کی طرف نہیں تھے۔‘‘ یعنی کوہ طور کے مغربی گوشے میں جب ہم نے موسیٰ کو حکم احکام کی وحی پہنچائی تھی ﴿وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اور نہ آپ دیکھنے والوں میں سے تھے۔‘‘ یعنی آپ ان تمام واقعات کا مشاہدہ نہیں کر رہے تھے کہ یہ کہا جائے کہ اس طریقے سے آپ کو اس قصے کی خبر ہوئی ہے۔

[45]﴿وَلٰكِنَّاۤ اَنۡشَاۡنَا قُرُوۡنًا فَتَطَاوَلَ عَلَيۡهِمُ الۡعُمُرُ﴾ ’’لیکن ہم نے (موسیٰ کے بعد) کئی امتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گزر گئی۔‘‘ اس لیے علم ناپید ہو گیا اور آیات الٰہی کو فراموش کر دیا گیا۔ ہم نے آپ کو ایسے وقت میں مبعوث کیا جب آپ کی سخت ضرورت اور اس علم کی شدید حاجت تھی جو ہم نے آپ کو عطا کیا اور آپ کی طرف وحی کیا ﴿وَمَا كُنۡتَ ثَاوِيًا ﴾ یعنی آپ مقیم نہ تھے ﴿فِيۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ تَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِنَا﴾ ’’اہل مدین میں کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے۔‘‘ یعنی آپ ان کو تعلیم دیتے تھے نہ ان سے تعلیم لیتے تھے، حتیٰ کہ (گمان گزرتا کہ) آپ نے موسیٰu اور اہل مدین کے بارے میں جو خبر دی ہے اسی بنا پر دی ہے۔ ﴿وَلٰكِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِيۡنَ ﴾ ’’لیکن ہم ہی رسول بھیجنے والے رہے ہیں ۔‘‘ یعنی موسیٰu کے بارے میں یہ خبر جو آپ ﷺ لے کر آئے ہیں وہ آپ کی رسالت کے آثار اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور ہماری طرف سے وحی بھیجے جانے کے بغیر اس کو جاننے کا آپ کے پاس کوئی اور ذریعہ نہیں ۔

[46]﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الطُّوۡرِ اِذۡ نَادَيۡنَا ﴾ ’’اور آپ طور کی جانب بھی نہیں تھے جبکہ ہم نے آواز دی۔‘‘ موسیٰu کو اور انھیں حکم دیا کہ وہ اس ظالم قوم کے پاس جائیں ، انھیں ہمارا پیغام پہنچائیں ، انھیں ہماری نشانیاں اور معجزات دکھائیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر چکے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ تمام واقعات جو ان مقامات پر موسیٰu کو پیش آئے آپ ﷺ نے ان کو بغیر کسی کمی بیشی کے اسی طرح بیان کیا ہے جس طرح وہ حقیقت میں واقع ہوئے تھے اور یہ چیز دو امور میں سے کسی ایک امر سے خالی نہیں :یا تو آپ وہاں موجود تھے اور آپ نے ان کا مشاہدہ کیا تھا یا آپ نے ان مقامات پر جا کر ان واقعات کو وہاں کے رہنے والوں سے معلوم کیا تب یہ چیز اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ جن امور کے بارے میں ان کے مشاہدے کے ذریعے سے اور ان کا علم حاصل کر کے خبر دی جائے وہ تمام لوگوں میں مشترک ہوتے ہیں ، وہ صرف انبیاء کے ساتھ مخصوص نہیں ہوتے … مگر یہ چیز پورے یقین کے ساتھ معلوم ہے کہ ایسا نہیں ہوا اور اس حقیقت کو آپ کے دوست اور دشمن سب جانتے ہیں ۔پس امر ثانی متعین ہو گیا کہ یہ تمام خبریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے سے آپ ﷺ تک پہنچی ہیں ، لہٰذا قطعی دلیل سے آپ ﷺ کی رسالت ثابت ہو گئی اور یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت آپ ﷺ پر اور اس کے بندوں پر سایہ فگن ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿ وَلٰكِنۡ رَّحۡمَةً مِّنۡ رَّبِّكَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اَتٰىهُمۡ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’لیکن یہ آپ کے رب کی رحمت ہے تاکہ ان لوگوں کو ڈرائیں جن کے ہاں آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا‘‘ یعنی قریش اور عربوں کے پاس کیونکہ رسول اللہﷺ سے پہلے زمانہ طویل سے رسالت ان کے ہاں معروف نہ تھی۔ ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ یعنی شاید کہ وہ خیر اور شر کے فرق میں غور کریں ، خیر کو لائحہ عمل بنائیں اور شر کو ترک کر دیں ۔ جب آپ ﷺ اس بلند مقام پر فائز ہیں تو ان پر فرض ہے کہ وہ آپ پر ایمان لانے اور اس نعمت کا شکر ادا کرنے میں جلدی کریں جس کی قدروقیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے نہ اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے۔اہل عرب کے لیے آپ کا انذار وتنذیر اس امر کی نفی نہیں کرتا کہ آپ کو دوسری قوموں کے لیے بھی مبعوث کیا گیا ہے۔ عربوں کے لیے انذاروتنذیر کی وجہ یہ ہے کہ آپ عرب تھے، آپ پر نازل کیا گیا قرآن عربی میں تھا اور آپ کی دعوت کے اولین مخاطب عرب تھے۔ اس لیے اصولی طور پر آپ کی دعوت عربوں کے لیے تھی اور تبعاً دیگر قوموں کے لیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّؔنۡهُمۡ اَنۡ اَنۡذِرِ النَّاسَ﴾(یونس:10؍2) ’’کیا لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ ہم نے خود انھی میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ لوگوں کو ان کی بداعمالیوں کے انجام سے ڈراؤ۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا﴾(الاعراف:7؍158) ’’کہہ دیجیے اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا رسول ہوں ۔‘‘

[47]﴿ وَلَوۡلَاۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ مُّصِيۡبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ایسا نہ ہو کہ ان کے (اعمال) کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت نازل ہو۔‘‘ یعنی ان کے ارتکاب کفرومعاصی کی پاداش میں ﴿ فَيَقُوۡلُوۡا رَبَّنَا لَوۡلَاۤ اَرۡسَلۡتَ اِلَيۡنَا رَسُوۡلًا فَنَتَّبِـعَ اٰيٰتِكَ وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’تو یہ کہنے لگیں کہ اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں سے ہوتے۔‘‘ یعنی اے محمد! (ﷺ)ہم نے ان کی حجت کو ختم کرنے اور ان کی بات کو رد کرنے کے لیے آپ کو مبعوث کیا ہے۔

[48]﴿ فَلَمَّا جَآءَهُمُ الۡحَقُّ ﴾ ’’پس جب ان کے پاس حق آگیا۔‘‘ جس میں کوئی شک نہیں ﴿ مِنۡ عِنۡدِنَا ﴾ ’’ہماری طرف سے‘‘ اس سے مراد قرآن ہے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا۔ ﴿ قَالُوۡا ﴾ تو اس قرآن کی تکذیب کرتے اور اس پر لایعنی اعتراضات کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ﴿ لَوۡلَاۤ اُوۡتِيَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى﴾ ’’انھیں وہ کیوں نہیں دیا گیا جو موسیٰ(u) کودیا گیا۔‘‘ یعنی موسیٰu پر تمام کتاب اکٹھی نازل کی گئی اور رہی وہ کتاب جو ٹکڑوں کی صورت میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ کی کی طرف سے نہیں ہے۔ ان کے اس قول میں کون سی دلیل ہے؟ اور یہ کونسا شبہ ہے کہ اگر کتاب ٹکڑوں میں نازل ہوئی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے؟ بلکہ یہ تو اس قرآن کا کمال ہے اور جس ہستی پر یہ قرآن نازل کیا گیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اعتنائے خاص ہے کہ اس نے اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اپنے رسول کو ثابت قدمی اور استقامت عطا کرے اور مومنین کے ایمان میں اضافہ ہو۔ فرمایا:﴿ وَلَا يَاۡتُوۡنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰكَ بِالۡحَقِّ وَاَحۡسَنَ تَفۡسِيۡرًا﴾(الفرقان:25؍33) ’’اور وہ جب کبھی کوئی مثال لے کر آپ کے پاس آئے اس کا درست اور بروقت جواب ہم نے آپ کو دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کو کھل کر بیان کر دیا۔‘‘نیز قرآن کو موسیٰu کی کتاب پر قیاس کرنا ایک ایسا قیاس ہے جسے یہ خود ہی توڑ رہے ہیں ۔ یہ قرآن کریم کو ایک ایسی کتاب پر کیونکر قیاس کرتے ہیں جس کا یہ انکار کرتے ہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِيَ مُوۡسٰؔى مِنۡ قَبۡلُ١ۚ قَالُوۡا سِحۡرٰؔنِ تَظٰهَرَا﴾ ’’کیا جو پہلے موسیٰ(u) کو دیا گیا تھا انھوں نے اس کا کفر نہیں کیا، کہنے لگے کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ایک دوسرے کے موافق۔‘‘ یعنی قرآن مجید اور تورات مقدس، جو ان دونوں کی جادوگری اور لوگوں کو گمراہ کرنے میں ان کی مدد کرتی ہیں ۔ ﴿ وَقَالُوۡۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’انھوں نے کہا، ہم تو ہر ایک سے انکار کرنے والے ہیں۔‘‘ اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ لوگ بلا دلیل حق کا ابطال اور ایسی چیز کے ذریعے سے حق کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں جو حق کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ ان کے اقوال میں تناقض اور اختلاف ہے اور ہر کافر کا یہی رویہ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تصریح فرما دی کہ انھوں نے دونوں کتابوں اور دونوں رسولوں کا انکار کیا ہے۔

[49] مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان کا ان دونوں کتابوں کا انکار کرنا طلب حق اور کسی اپنے حکم کی اتباع کی بنا پر تھا جو ان دونوں کتابوں سے بہتر تھا یا محض خواہش نفس پر مبنی تھا؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِكِتٰبٍ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ هُوَ اَهۡدٰؔى مِنۡهُمَاۤ ﴾ ’’کہہ دیجیے، اللہ کے پاس سے کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کرنے والی ہو۔‘‘ یعنی تورات اور قرآن سے بڑھ کر ہدایت کی حامل ﴿ اَتَّبِعۡهُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’میں اس کی اتباع کروں گا اگر تم سچے ہو‘‘ اور وہ ایسی کتاب لانے پر قادر نہیں اور نہ ہی کوئی دوسرا یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ قرآن اور تورات جیسی کتاب تصنیف کر لائے۔ جب سے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے، تب سے علم و ہدایت، بیان و تبیین اور مخلوق کے لیے رحمت کے اعتبار سے ان دو کتابوں جیسی کوئی اور کتاب وجود میں نہیں آئی۔یہ داعی کا کمال انصاف ہے کہ وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اس کا مقصد حق اور رشدوہدایت ہے اور وہ ایسی کتاب لے کر آیا ہے جو حق پر مشتمل ہے اور موسیٰu کی کتاب کے موافق ہے، اس لیے ان دونوں کے سامنے سرنگوں ہونا ہم پر واجب ہے کیونکہ دونوں کتابیں حق اور ہدایت پر مشتمل ہیں اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسی کتاب لے آؤ جو ان دونوں سے زیادہ حق اور ہدایت پر مشتمل ہو تو میں اس کی پیروی کروں گا۔ ورنہ میں ہدایت اور حق کو چھوڑ کر کسی ایسی کتاب کی اتباع نہیں کر سکتا جو ہدایت اور حق پر مشتمل نہ ہو۔

[50]﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ ﴾ ’’پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں ۔‘‘ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنۡ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيۡرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟‘‘ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں ، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ فَاِنۡ لَّمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَكَ فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا يَتَّبِعُوۡنَ اَهۡوَآءَهُمۡ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسولﷺکی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔

[51]﴿ وَلَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَهُمُ الۡقَوۡلَ ﴾ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔‘‘ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟

قصۂ موسیٰu سے بعض فوائد اور عبرتوں کا استنباطm آیات الٰہی، اللہ تعالیٰ کے نشانات عبرت اورگزشتہ قوموں میں اس کے ایام سے صرف اہل ایمان ہی فائدہ اٹھاتے اور روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ بندۂ مومن اپنے ایمان کے مطابق عبرت حاصل کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انھی کی خاطر گزشتہ قوموں کے قصے بیان کرتا ہے۔ رہے دیگر لوگ تو اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پروا نہیں ، ان کے نصیب میں روشنی ہے نہ ہدایت۔m اللہ تبارک و تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور اسے یک لخت منصۂ شہود پر نہیں لاتا بلکہ بتدریج آہستہ آہستہ وجود میں لاتا ہے۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مستضعفین خواہ کمزوری اور محکومی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ سستی اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنے حقوق کے حصول اور بلند مقاصد کے لیے جدوجہد کو چھوڑ دیں خاص طور پر جبکہ وہ مظلوم ہوں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل جیسی کمزور اور محکوم قوم کو فرعون اور اس کے سرداروں کی غلامی سے نجات دی، پھر انھیں زمین میں اقتدار بخشا اور انھیں اپنے شہروں کا مالک بنایا۔m ان آیات کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جب تک قوم مقہور و محکوم رہتی ہے اور اپنے حقوق حاصل کرتی ہے نہ ان کا مطالبہ کرتی ہے اس کے دین و دنیا کا معاملہ درست نہیں ہوتا اور نہ وہ دین میں امامت سے سرفراز ہوتی ہے۔m حضرت موسیٰu کی والدہ ماجدہ پر اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم تھا کہ اس نے اس بشارت کے ذریعے سے ان کی مصیبت کو آسان کر دیا کہ وہ ان کو ان کا بیٹا واپس لوٹائے گا اور اسے رسول بنائے گا۔m یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کے لیے بعض سختیاں مقدر کر دیتا ہے تاکہ مآل کار اسے ان شدائد سے بڑھ کر سرور حاصل ہو یا ان سے بڑا کوئی شر دور ہو، جیسا کہ موسیٰu کی والدہ کو شدید حزن و غم میں مبتلا کیا پھر یہی حزن و غم ان کے لیے اپنے بیٹے تک پہنچنے کا وسیلہ بنا جس سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہو گئیں اور ان کی فرحت و مسرت میں اضافہ ہوا۔m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق کا طبعی خوف ایمان کے منافی ہے نہ ایمان کو زائل کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰu اور ان کی والدہ کو خوف کے مقام پر خوف لاحق ہوا۔m اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایمان گھٹتا اور بڑھتا ہے اور سب سے بڑی چیز جس سے ایمان میں اضافہ اور یقین کی تکمیل ہوتی ہے، مصائب کے وقت صبر اور شدائد کے وقت ثابت قدمی اور استقامت ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ لَوۡلَاۤ اَنۡ رَّبَطۡنَا عَلٰى قَلۡبِهَا لِتَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ﴾(القصص:28؍10) ’’اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھاتے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے‘‘ یعنی تاکہ حضرت موسیٰu کی والدہ کے ایمان میں اضافہ ہو اور ان کا دل مطمئن ہو۔m اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر سب سے بڑی نعمت اور بندے کے معاملات میں اس کی طرف سے سب سے بڑی اعانت یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی طرف سے ثابت قدمی اور استقامت سے سرفراز کرے، خوف اور اضطراب کے وقت اس کے دل کو قوت عطا کرے کیونکہ اسی صورت میں بندۂ مومن صحیح قول و فعل پر قادر ہو سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص پریشانی، خوف اور اضطراب کا شکار ہے اس کے افکار ضائع اور اس کی عقل زائل ہو جاتی ہے اور وہ اس حال میں اپنے آپ سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔m اگر بندے کو اس حقیقت کی معرفت حاصل ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور اس کے وعدے کا نفاذ لازمی امر ہے، تب بھی وہ اسباب کو ترک نہ کرے اور یہ چیز، اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبر پر ایمان کے منافی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی والدہ سے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ انھیں ان کا بیٹا لوٹا دے گا۔ بایں ہمہ وہ اپنے بیٹے کو واپس لینے کے لیے کوشش کرتی رہیں انھوں نے اپنی بیٹی کو بھیجا کہ حضرت موسیٰu کے پیچھے پیچھے جائے اور دیکھے کہ وہ کہاں جاتا ہے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ عورت کا اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا اور مردوں سے ہم کلام ہونا جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰu کی بہن اور صاحب مدین کی بیٹیوں کے ساتھ پیش آیا۔m اس قصہ سے ثابت ہوتا ہے کہ کفالت اور رضاعت پر اجرت لینا جائز ہے اور جو اس طرح کرتا ہے، اس کے لیے دلیل ہے۔m ان آیات کریمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے کمزور بندے کو، جسے وہ اپنے اکرام و تکریم سے سرفراز کرنا چاہتا ہے، اسے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور واضح دلائل کا مشاہدہ کراتا ہے جن سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ موسیٰu کو ان کی والدہ کے پاس لوٹا دیا تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔m اس قصہ سے ثابت ہوا کہ ایسے کافر کو، جو کسی معاہدے اور عرف کی بنا پر ذمی ہو، قتل کرنا جائز نہیں کیونکہ حضرت موسیٰu نے کافر قبطی کے قتل کو گناہ شمار کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی۔m اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے، وہ ان جابروں میں شمار ہوتا ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔m نیز جو کوئی لوگوں کو ناحق قتل کرتا ہے اور بزعم خود زمین میں اصلاح کرتا ہے اور اہل معاصی کو ہیبت زدہ کرتا ہے، وہ جھوٹا اور فساد برپا کرنے والا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قبطی کا قول نقل فرمایا:﴿ اِنۡ تُرِيۡدُ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ جَبَّارًؔا فِي الۡاَرۡضِ وَمَا تُرِيۡدُ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡمُصۡلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍19) ’’تو زمین میں صاحب جبرو استبداد بن کر رہنا چاہتا ہے تو اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ قول انکار کے لیے نہیں بلکہ تحقیق و تقریر کے لیے نقل فرمایا ہے۔m کسی شخص کا کسی دوسرے شخص کو اس کے بارے میں خبر دینا کہ اس کے خلاف کوئی منصوبہ بن رہا ہے تاکہ وہ اس کے شر سے بچ سکے، چغلی اور غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ بلکہ بسا اوقات ایسا کرنا واجب ہے جیسا کہ اس (درباری) شخص نے خیرخواہی کے طور پر اور حضرت موسیٰu کو بچانے کے لیے دربار فرعون کے منصوبے کے بارے میں حضرت موسیٰu کو آگاہ کیا تھا۔m جب کسی جگہ قیام کرنے میں جان و مال کا خطرہ ہو تو انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے اور نہ اپنے آپ کو ہلاکت کے حوالے کرنا چاہیے بلکہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہاں سے نکل جانا چاہیے، جیسا کہ حضرت موسیٰu مصر سے فرار ہوئے۔m جب انسان کو دو برائیوں کا سامنا ہو اور ان میں سے کسی ایک کو اختیار كيے بغیر کوئی چارہ نہ ہو تو وہ خفیف تر برائی کو اختیار کرے جس میں قدرے زیادہ سلامتی ہو۔ جیسے موسیٰu کا معاملہ دو امور کے مابین تھا:1 مصر میں رہتے مگر اس صورت میں یقینا قتل کر دیے جاتے۔2 یا دور کسی شہر میں چلے جاتے جس کا راستہ بھی انھیں معلوم نہ تھا اور ان کے رب کے سوا کوئی راہنمائی کرنے والا بھی ان کے ساتھ نہ تھا مگر اس صورت حال میں ، مصر میں رہنے کی نسبت، مصر چھوڑ جانے میں سلامتی کی زیادہ توقع تھی۔m علم میں شغف رکھنے والے کو جب کبھی علمی بحث کی ضرورت پیش آئے، دو اقوال میں سے کوئی قول اس کے نزدیک راجح نہ ہو تو وہ اپنے رب سے ہدایت کی استدعا کرے کہ وہ اس کی راہ صواب کی طرف راہنمائی کرے، اپنے دل میں حق کو مقصود و مطلوب بنائے رکھے اور حق ہی کو تلاش کرے اور جس کا یہ حال ہو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی خائب و خاسر نہیں کرتا۔ جیسا کہ موسیٰu نے مصر سے نکل کر مدین کی طرف رخ کیا تو کہنے لگے:﴿ عَسٰؔى رَبِّيۡۤ اَنۡ يَّهۡدِيَنِيۡ سَوَآءَؔ السَّبِيۡلِ﴾(القصص:28؍22) ’’امید ہے میرا رب سیدھے راستے کی طرف میری راہنمائی کرے گا۔‘‘m ان آیات کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ مخلوق پر رحم کرنا اور جان پہچان رکھنے والے یا اجنبی لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا انبیائے کرام کا اخلاق ہے، پیاسے مویشیوں کو پانی پلانا اور کسی عاجز اور لاچار کی مدد کرنا احسان کے زمرے میں آتا ہے۔m اپنے حال کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا مستحب ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ کو بندے کے احوال کا علم ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو بندے کی عاجزی اور اس کے تذلل و مسکنت کا اظہار پسند ہے، جیسا کہ حضرت موسیٰu نے عرض کیا:﴿ رَبِّ اِنِّيۡ لِمَاۤ اَنۡزَلۡتَ اِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيۡرٌ﴾(القصص:28؍24) ’’اے میرے رب! جو بھلائی بھی تو مجھ پر نازل کرے، میں اس کا ضرورت مند ہوں ۔‘‘m شرم و حیا، خاص طور پر باعزت لوگوں میں ، ایک قابل مدح صفت ہے۔m حسن سلوک کا اچھا بدلہ دینا گزشتہ قوموں کا بھی وتیرہ رہا ہے۔m بندہ جب کوئی کام اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے اور بغیر کسی قصدوارادے کے اس کو اس کام کا اچھا بدلہ عطا ہو جاتا ہے تو وہ اس پر قابل ملامت نہیں جیسا کہ حضرت موسیٰu نے، صاحب مدین سے، اپنی نیکی کا بدلہ قبول کیا جو انھوں نے کسی عوض کے لیے کی تھی نہ وہ اپنے دل میں کسی عوض کے منتظر تھے۔m اس قصہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ ملازم رکھنا مشروع ہے نیز بکریاں وغیرہ چرانے یا کسی ایسے کام کی اجرت ادا کرنا جائز ہے، جسے کرنے پر وہ قادر نہ ہو۔ اس کا دارومدار عرف عام پر ہے۔m کسی کام کی اجرت میں کوئی منفعت حاصل کرنا جائز ہے خواہ یہ منفعت نکاح کی صورت ہی میں کیوں نہ ہو۔m کسی ایسے شخص سے اس کی بیٹی کے رشتے کی درخواست کرنا، جس نے اسے رشتہ طلب کرنے کا اختیار دے رکھا ہو، جائز ہے اس پر کوئی ملامت نہیں ۔m بہترین نوکر اور مزدور وہ ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو۔m اپنے خادم اور نوکر سے حسن سلوک سے پیش آنا اور اس سے پُرمشقت کام نہ لینا مکارم اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔ کیونکہ فرمایا:﴿ وَمَاۤ اُرِيۡدُ اَنۡ اَشُقَّ عَلَيۡكَ١ؕ سَتَجِدُنِيۡۤ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰؔلِحِيۡنَ﴾(القصص:28؍27) ’’میں تمھیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا اور تم مجھے ان شاء اللہ نیک آدمی پاؤ گے۔‘‘m آیت کریمہ: ﴿ وَاللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوۡلُ وَؔكِيۡلٌ﴾(القصص:28؍28) سے ثابت ہوتا ہے کہ بغیر کسی گواہی کے اجرت کا معاہدہ کرنا جائز ہے۔m اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کے ہاتھ پر واضح نشانات اور ظاہری معجزات جاری كيے، مثلاً:عصا کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا بغیر کسی عیب کے سفید ہو جانا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت موسیٰ اور حضرت ہارونi کو فرعون کی اذیتوں اور سمندر میں غرق ہونے سے بچانا۔m انسان کے لیے بدترین سزا یہ ہے کہ وہ برائی میں لوگوں کا امام ہو اور یہ امامت آیات الٰہی اور روشن دلائل کی مخالفت کے مطابق ہوتی ہے جس طرح بہترین نعمت جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سرفراز فرماتا ہے، یہ ہے کہ وہ اسے نیکی کے راستے میں امامت کے مرتبے پر فائز کرے اور اسے لوگوں کے لیے ہادی اور مہدی بنا دے۔m ان آیات کریمہ میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر واضح دلیل ہے کیونکہ حضرت رسول مصطفی ﷺ نے اس قصہ کو تفصیل کے ساتھ اصل واقعات کے عین مطابق بیان کیا جس کے ذریعے سے آپ نے رسولوں کی تصدیق اور حق مبین کی تائید کی، حالانکہ آپ ان واقعات کے وقت حاضر تھے نہ آپ نے ان مقامات میں سے کسی مقام کا مشاہدہ کیا تھا، آپ نے ان امور کے بارے میں کچھ پڑھا تھا نہ کسی سے درس لیا تھا اور نہ کسی اہل علم کی مجلس میں بیٹھے تھے یہ تو خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے رسالت اور وحی ہے جسے بے پایاں احسان کے مالک، اللہ کریم نے نازل کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے سے جاہل اور انبیاء و رسل سے غافل قوم کو اس کے برے انجام سے ڈرائے۔اللہ تعالیٰ کے درود و سلام ہوں اس ہستی پر جس کی مجرد خبر ہی آگاہ کرتی ہے کہ بلاشبہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہے اور جس کے مجرد اوامر و نواہی عقلوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ یہ احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کیونکر نہ ہوں جبکہ اولین و آخرین کی خبر، اس کی لائی ہوئی خبر اور وحی کی صحت و صداقت کی تائید و تصدیق کرتی ہے۔وہ شریعت جو رسول اللہ ﷺ، اللہ رب العالمین سے لے کر مبعوث ہوئے ہیں ، وہ اخلاق فاضلہ جو آپ کی جبلت میں رکھ دیے گئے، صرف اسی ہستی کے لائق اور اسی کے لیے مناسب ہیں جو اخلاق کے بلند ترین درجہ پر فائز ہو جس کے دین اور امت کو فتح مبین سے سرفراز کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ آپ کا دین اس مقام تک پہنچ گیا جہاں تک سورج طلوع ہوتا اور غروب ہوتا ہے۔ آپ کی امت نے بڑے بڑے شہروں کو شمشیر و سنان کے ذریعے سے اور لوگوں کے دلوں کو علم و ایمان کے ذریعے سے فتح کر لیا۔تمام معاند قومیں اور شاہان کفار اسلام کے خلاف متحد رہے اس کی روشنی کو بجھانے اور روئے زمین سے اس کو نیست و نابود کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہے مگر دین ظاہر اور غالب ہو کر رہا، دین بڑھتا ہی رہا اس کے دلائل و براہین ظاہر ہوتے رہے۔ ہر وقت دین کی ایسی نشانیاں ظاہر ہوتی رہی ہیں ، جو تمام جہانوں کے لیے عبرت، اہل علم کے لیے ہدایت اور فراست مندوں کے لیے روشنی اور بصیرت ہیں ۔ والحمد للہ وحدہ.

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English