Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аль-Анкабут 29:45–63
29:45Страница 401
ٱتۡلُ مَآ أُوحِيَ إِلَيۡكَ مِنَ ٱلۡكِتَٰبِ وَأَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَۖ إِنَّ ٱلصَّلَوٰةَ تَنۡهَىٰ عَنِ ٱلۡفَحۡشَآءِ وَٱلۡمُنكَرِۗ وَلَذِكۡرُ ٱللَّهِ أَكۡبَرُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُونَ ٤٥
Читай то, что внушено тебе из Писания, и совершай намаз. Воистину, намаз оберегает от мерзости и предосудительного. Но поминание Аллаха - гораздо важнее, и Аллах знает о том, что вы творите.
آپ تلاوت کیجیے جو کچھ وحی کیا گیا آپ کی طرف کتا ب سے، اور قائم کیجیے نماز، بلاشبہ نماز روکتی ہے بے حیائی اور برے کاموں سے، اور البتہ یاد کرنا اللہ کا(اپنے بندوں کو) بہت بڑی چیزہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو(45)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی وحی و تنزیل یعنی اس کتاب عظیم کی تلاوت کا حکم دیتا ہے۔ یہاں اس کتاب عظیم کی تلاوت کا معنی یہ ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کیا جائے، اس کی ہدایت کو راہ نما بنایا جائے، اس کی خبر کی تصدیق، اس کے معانی میں تدبر اور اس کے الفاظ کی تلاوت کی جائے۔ تب اس کے الفاظ کی تلاوت، معنی ہی کا جزو شمار ہو گی۔جب تلاوت کا معنی مذکورہ بالا امور کو شامل ہے تو معلوم ہوا کہ مکمل اقامت دین تلاوت کتاب میں داخل ہے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد:﴿وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ﴾’’اورنماز قائم کرو۔‘‘عام پر عطفِ خاص کے باب میں سے ہے اور اس کی وجہ نماز کی فضیلت، اس کا شرف اور اس کے اچھے اثرات ہیں۔ ﴿اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡؔكَرِ﴾ ’’بے شک نماز بے حیائی اور منکر سے روکتی ہے۔‘‘ ﴿الۡفَحۡشَآءِ ﴾سے مراد ہر وہ بڑا گناہ ہے جس کی قباحت مسلّم اور نفس میں اس کی چاہت ہو۔ ﴿الۡمُنۡؔكَرِ﴾سے مراد ہر وہ گناہ ہے جس کو عقل وفطرت برا سمجھے۔نماز کا فواحش و منکرات سے روکنے کا پہلو یہ ہے کہ بندۂ مومن جو نماز کو قائم کرتا ہے اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے ارکان و شرائط کو پورا کرتا ہے، اس کا دل روشن اور پاک ہو جاتا ہے، اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے، نیکیوں میں رغبت بڑھ جاتی ہے اور برائیوں کی طرف رغبت کم یا بالکل معدوم ہو جاتی ہے۔ اس طریقے سے نماز پر دوام اور اس کی محافظت ضرور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔پس فواحش و منکرات سے روکنا نماز کا سب سے بڑا مقصد اور اس کا سب سے بڑا ثمرہ ہے۔ نماز کو قائم کرنے میں ایک اور مقصد بھی ہے جو پہلے مقصد سے عظیم تر ہے اور وہ ہے نماز کا اللہ تعالیٰ کے قلبی، لسانی اور بدنی ذکر پر مشتمل ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور بہترین عبادت جو ان کی طرف سے پیش کی جاتی ہے وہ نماز ہے۔ نیز نماز کے اندر تمام جوارح کی عبودیت شامل ہوتی ہے جو کسی اور عبادت میں نہیں ہوتی۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلَذِكۡرُ اللّٰهِ اَكۡبَرُ﴾ ’’اور اللہ کا ذکر بڑا ہے۔‘‘ اس میں دوسرا احتمال یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور اس کی مدح کی ، اس لیے آگاہ فرمایا کہ نماز کے باہر اللہ تعالیٰ کا ذکر نماز سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، جیسا کہ جمہور مفسرین کا قول ہے، مگر پہلا معنی اولیٰ ہے کیونکہ نماز اس ذکر سے بہتر ہے جو نماز سے باہر ہو کیونکہ نماز بذات خود سب سے بڑا ذکر ہے۔ ﴿وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ مَا تَصۡنَعُوۡنَ﴾ اور تم جو نیکی یا برائی کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ تمھیں اس کی پوری پوری جزا دے گا۔
29:46Страница 402
۞ وَلَا تُجَٰدِلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡۖ وَقُولُوٓاْ ءَامَنَّا بِٱلَّذِيٓ أُنزِلَ إِلَيۡنَا وَأُنزِلَ إِلَيۡكُمۡ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمۡ وَٰحِدٞ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُسۡلِمُونَ ٤٦
Если вступаете в спор с людьми Писания, то ведите его наилучшим образом. Это не относится к тем из них, которые поступают несправедливо. Скажите: «Мы уверовали в то, что ниспослано нам, и то, что ниспослано вам. Наш Бог и ваш Бог - один, и мы покоряемся только Ему».
اور نہ جھگڑو تم اہل کتاب سے مگر اس طریقے سے کہ وہ بہت بہتر ہے، مگر ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا ان میں سے، اور کہو تم: ہم ایمان لائے اس (کتاب) پر جو نازل کی گئی ہماری طرف، اور (جو) نازل کی گئی تمھاری طرف اور ہمارا معبود اور تمھارا معبود ایک ہی ہے، اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں(46)
[46]اللہ تبارک وتعالیٰ اہل کتاب سے ایسی بحث کرنے سے روکتا ہے جو بصیرت کی بنیاد پر اور کسی مسلمہ قاعدے کے مطابق نہ ہو، نیز اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جب بھی اہل کتاب سے بحث کریں تو احسن انداز، حسن اخلاق اور نرم کلامی سے ان کے ساتھ بحث کریں اور دعوت اسلام بہترین طریقے سے پیش کریں اور باطل کو قریب ترین ذریعے سے رد کریں۔ اس بحث کا مقصد محض جھگڑنا اور مدمقابل پر غلبہ حاصل کرنا نہ ہو بلکہ اس کا مقصد تبیین حق اور مخلوق کی ہدایت ہو۔اہل کتاب میں سے ایسے آدمی کے سوا جس نے اپنے اس ارادے اور حالت کا اظہار کرکے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اس کے بحث کرنے کا مقصد وضاحت حق نہیں بلکہ وہ تو صرف غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو ایسے شخص کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے بحث کرنے کا مقصد ضائع ہو جائے گا۔﴿وَقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا بِالَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَاُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَاِلٰهُنَا وَاِلٰهُكُمۡ وَاحِدٌ ﴾ ’’اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اتری اور جو (کتابیں) تم پر اتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمھارا معبود ایک ہی ہے۔‘‘ یعنی اہل کتاب کے ساتھ تمھاری بحث اور مناظرے کی بنیاد اس کتاب پر ہونی چاہیے جو تم پر نازل ہوئی ہے اور جو ان پر نازل ہوئی ہے نیز تمھارے رسول اور ان کے رسول پر ایمان اور اللہ تعالیٰ کے واحد ہونے پر ایمان اس بحث و مناظرے کی اساس ہو۔ ان کے ساتھ اس طریقے سے بحث کریں جس سے کتب الٰہیہ اور انبیاء و مرسلین میں جرح و قدح لازم نہ آتی ہو جیسا کہ مناظرہ و بحث کے وقت جہلاء کا وتیرہ ہے۔ جہلاء اپنے مدمقابل کی حق اور باطل، ہر بات میں جرح و قدح کرتے ہیں۔ یہ طریقۂ بحث ظلم، واجب کو نظرانداز کرنا اور آداب مناظرہ کی حدود سے تجاوز ہے کیونکہ واجب یہ ہے کہ مخالف کے باطل نظریات کو رد کیا جائے اور اس کی حق باتوں کو قبول کیا جائے۔ اپنے موقف کو حق ثابت کرنے کے لیے مخالف کی حق بات کو کبھی رد نہ کیا جائے خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو، نیز اہل کتاب کے ساتھ اس نہج پر مناظرہ کرنے سے ان پر قرآن اور قرآن کے لانے والے رسول (ﷺ)کا اقرار لازم آتا ہے۔ کیونکہ جب وہ ان اصول دینیہ پر بحث کرے گا جن پر تمام انبیاء ورسل اور کتب الٰہیہ متفق ہیں، مناظرہ کرنے والے دونوں گروہوں کے نزدیک وہ مسلمہ اور اس کے حقائق ثابت شدہ ہیں نیز تمام کتب سابقہ اور انبیاء و مرسلین قرآن اور نبی مصطفی محمد ﷺ کی تائید کرتے ہیں… یہ کتب الٰہیہ ان حقائق کو واضح کرتی ہیں، ان پر دلالت کرتی ہیں اور ان ہی کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں… تو اس پر تمام کتابوں اور تمام رسولوں کی تصدیق لازم آئے گی اور یہ اسلام کے خصائص میں سے ہے۔یہ کہنا کہ ہم فلاں کتاب کی بجائے فلاں کتاب کی دلیل کو تسلیم کرتے ہیں، یہی حق ہے جس پر کتب سابقہ دلالت کرتی ہیں تو یہ ظلم اور خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ ان کا یہ قول کتب الٰہیہ کی تکذیب ہے کیونکہ اگر وہ قرآن کی دلیل کی تکذیب کرتا ہے، جو کہ گزشتہ کتب سماویہ کی تصدیق کرتا ہے، تو یہ ایسے ہی ہے جیسے وہ ان تمام کتب سماویہ کی تکذیب کرتا ہے جن پر ایمان لانے کا وہ دعویدار ہے، نیز ہر وہ طریقہ جس سے کسی بھی نبی کی نبوت ثابت ہوتی ہے تو اسی طریقے سے محمد مصطفیﷺ کی نبوت بہتر طور پر ثابت ہوتی ہے۔ ہر وہ شبہ جو رسول اللہﷺ کی نبوت میں جرح وقدح کا باعث ہے اس جیسا یا اس سے بھی بڑا شبہ دیگر انبیاء کی نبوت میں جرح و قدح کا موجب بن سکتا ہے۔ اگر دیگر انبیاء کی نبوت میں اس شبہ کا بطلان ثابت کیا جا سکتا ہے تو نبی اکرم ﷺ کی نبوت میں اس قسم کے شبہات کا بطلان بدرجہ اولیٰ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ﴿وَّنَحۡنُ لَهٗ مُسۡلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔‘‘ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اسے معبود بناتا ہے، اس کی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کی اطاعت کرتا ہے تو وہ سعادت مند ہے اور جو کوئی اس راستے سے انحراف کرتا ہے وہ بدبخت ہے۔
29:47–48Страница 402
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَۚ فَٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۖ وَمِنۡ هَٰٓؤُلَآءِ مَن يُؤۡمِنُ بِهِۦۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلۡكَٰفِرُونَ ٤٧
Так Мы ниспослали тебе Писание. Те, кому Мы даровали Писание, веруют в него. И среди этих (современников Пророка Мухаммада из числа людей Писания) есть такие, которые веруют в него (Коран), и только неверующие отвергают Наши знамения.
وَمَا كُنتَ تَتۡلُواْ مِن قَبۡلِهِۦ مِن كِتَٰبٖ وَلَا تَخُطُّهُۥ بِيَمِينِكَۖ إِذٗا لَّٱرۡتَابَ ٱلۡمُبۡطِلُونَ ٤٨
Ты не читал прежде ни одного Писания и не переписывал его своей десницей. В противном случае приверженцы лжи впали бы в сомнение.
اسی طرح نازل کی ہم نے آپ کی طرف(یہ)کتاب (قرآن)، پس وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب (تورات)، وہ ایمان لاتے ہیں اس پر ، اور بعض ان (اہل مکہ) میں سے بھی وہ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس پراور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر کافر لوگ ہی(47) اور نہیں تھے آپ پڑھتے پہلے اس (قرآن) سے کوئی کتاب اور نہ لکھتے تھے آپ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے (اگر ایسا ہوتا) تب البتہ شک کرتے باطل پرست(48)
[47]﴿وَؔكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰب ﴾ ’’اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اتاری کتاب‘‘ یعنی اے محمد(ﷺ) ہم نے آپ پر یہ کتاب کریم نازل کی جو ہر بڑی خبر کو کھول کھول کر بیان کرتی ہے جو ہر خلق حسن اور ہر امر کامل کی طرف دعوت دیتی ہے، جو تمام کتب سابقہ کی تصدیق کرتی ہے جن کے بارے میں گزشتہ انبیاء نے خبر دی ہے۔ ﴿فَالَّذِيۡنَ اٰتَيۡنٰهُمُ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’پس جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی ہے‘‘ انھوں نے اسے اس طرح پہچان لیا ہے جیسا کہ پہچاننے کا حق ہے اور ان کے ہاں کسی حسد نے مداخلت کی ہے نہ خواہشات نفس نے۔ ﴿يُؤۡمِنُوۡنَ بِهٖ﴾’’وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں۔‘‘ کیونکہ انھیں اس کے برحق اور سچ ہونے کا یقین ہوگیا ہے، اس لیے کہ انھی کی کتابوں میں ایسی باتیں ہیں جو قرآن کے موافق ہیں اور بشارتیں ہیں اور ایسے امور ہیں جن کے ذریعے سے وہ حسن و قبح اور صدق و کذب میں امتیاز کرتے ہیں۔﴿وَمِنۡ هٰۤؤُلَآءِ ﴾ ’’اور ان لوگوں میں سے۔‘‘ جو موجود ہیں ﴿مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِهٖ﴾ ’’ایسے بھی ہیں جو ایمان لاتے ہیں اس کے ساتھ۔‘‘ یعنی جو اس پر رغبت اور خوف کی بنا پر نہیں بلکہ بصیرت کی بنا پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الۡكٰفِرُوۡنَ ﴾ ’’اور صرف کفار ہی ہماری آیتوں کا انکار کرتے ہیں‘‘ جن کی فطرت میں انکار حق اور عناد رچا بسا ہوا ہے۔ اس حصر کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جنھوں نے اس کا انکار کیا یعنی ان میں سے کسی شخص کا مقصد متابعت حق نہیں۔ ورنہ جس شخص کا مقصد صحیح ہے تو وہ لازمی طور پر ایمان لاتا ہے کیونکہ یہ واضح دلائل پر مشتمل ہے اور ان دلائل کو ہر وہ شخص سمجھ سکتا ہے جو عقل سے بہرہ ور ہے، جو اسے توجہ سے سنتا ہے اور اس کی صداقت پر گواہ بھی ہے۔اس عظیم کتاب کی صداقت پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ اسے وہ نبی امین لے کر آیا ہے جس کی صداقت اور امانت کا اس کی پوری قوم اعتراف کرتی ہے، جس کے پورے معمولات اور تمام احوال کو اس کی قوم اچھی طرح جانتی ہے وہ اپنے ہاتھ سے لکھ نہیں سکتا بلکہ وہ تو لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتا۔ اس صورت حال میں ایک کتاب پیش کرنا سب سے بڑی اور قطعی دلیل ہے، جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب اور قابل ستائش ہے۔
[48] بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَا كُنۡتَ تَتۡلُوۡا ﴾ یعنی آپ پڑھ نہیں سکتے تھے ﴿مِنۡ قَبۡلِهٖ مِنۡ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُطُّهٗ بِيَمِيۡنِكَ اِذًا ﴾ ’’اس سے پہلے کوئی کتاب اور نہ اسے اپنے ہاتھ سے لکھ ہی سکتے تھے، اگر ایسا ہوتا۔‘‘ یعنی اگر آپ کا یہ حال ہوتا کہ آپ لکھ پڑھ سکتے ہوتے ﴿لَّارۡتَابَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴾ ’’تو اہل باطل ضرور شک کرتے‘‘ اور کہتے کہ محمد (ﷺ)نے تمام چیزیں پچھلی کتابوں سے پڑھی ہیں یا وہاں سے نقل کی ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے قلب پر ایک جلیل القدر کتاب نازل فرمائی۔ اس جیسی کتاب لانے یا اس جیسی ایک سورت ہی بنا لانے کے لیے بڑے بڑے فصیح و بلیغ اور جھگڑالو دشمنوں کو مقابلے کی دعوت دی گئی مگر وہ بالکل عاجز آ گئے بلکہ اس کی فصاحت و بلاغت کو دیکھ کر انھوں نے اس کا مقابلہ کرنے کا خیال بھی دل سے نکال دیا کہ کسی بشر کا کلام اس کا مقابلہ کر سکتا ہے نہ اس کی برابری۔ اس لیے فرمایا:
29:49Страница 402
بَلۡ هُوَ ءَايَٰتُۢ بَيِّنَٰتٞ فِي صُدُورِ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡعِلۡمَۚ وَمَا يَجۡحَدُ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَّا ٱلظَّٰلِمُونَ ٤٩
Напротив, это - ясные аяты в груди тех, кому даровано знание, и только беззаконники отвергают Наши знамения.
بلکہ وہ (قرآن) تو آیتیں ہیں واضح، سینوں میں ان لوگوں کے جو دیے گئے علم، اور نہیں انکار کرتے ہماری آیتوں کا مگر ظالم لوگ ہی(49)
[49]﴿بَلۡ ﴾ ’’بلکہ‘‘ یہ قرآن کریم ﴿اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ ﴾ ’’واضح آیات ہیں‘‘ نہ کہ مخفی ﴿فِيۡ صُدُوۡرِ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ﴾ ’’ان لوگوں کے سینوں میں جو علم دیے گئے ہیں۔‘‘ یہ لوگ تمام مخلوق کے سردار، ان کے زیادہ عقل و خرد رکھنے والے اور کامل لوگ ہیں۔ جب ان آیات بینات نے اس قسم کے اصحاب خرد کے سینوں کو منور کر رکھا ہے تو دوسروں پر تو بدرجہ اولیٰ حجت ہیں اور دوسرے لوگ انکار کر کے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور یہ انکار ظلم کے سوا کچھ نہیں۔ بنا بریں فرمایا:﴿وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ یعنی ان آیات کا انکار ایک جاہل شخص ہی کر سکتا ہے جو علم کے بغیر بحث کرتا ہے اور اہل علم اور ان لوگوں کی اقتدا نہیں کرتا جو اس کی حقیقت کی معرفت رکھتے ہیں یا ان آیات کا انکار وہ لوگ کرتے ہیں جو حق کو جان کر اس سے عناد رکھتے ہیں اور اس کی صداقت کو پہچان کر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
29:50–52Страница 402
وَقَالُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَٰتٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّمَا ٱلۡأٓيَٰتُ عِندَ ٱللَّهِ وَإِنَّمَآ أَنَا۠ نَذِيرٞ مُّبِينٌ ٥٠
Они говорят: «Почему ему не ниспосланы знамения от его Господа?». Скажи: «Воистину, знамения - у Аллаха, а я - всего лишь предостерегающий и разъясняющий увещеватель».
أَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ أَنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ يُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَرَحۡمَةٗ وَذِكۡرَىٰ لِقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ ٥١
Неужели им не достаточно того, что Мы ниспослали тебе Писание, которое им читается? Воистину, в этом - милость и напоминание для верующих людей.
قُلۡ كَفَىٰ بِٱللَّهِ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيدٗاۖ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ بِٱلۡبَٰطِلِ وَكَفَرُواْ بِٱللَّهِ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ ٥٢
Скажи: «Довольно того, что Аллах является Свидетелем между мною и вами. Он знает то, что на небесах и на земле. Те же, которые уверовали в ложь и не уверовали в Аллаха, непременно окажутся в убытке».
اور کہا انھوں نے، کیوں نہیں اتارے گئے آپ پر معجزے آپ کے رب کی طرف سے ؟ آپ کہہ دیجیے:یقیناً معجزے تو اللہ کے پاس ہیں، اور بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں ظاہر(50) کیا نہیں کافی انھیں (یہ کہ) بے شک ہم نے نازل کی آپ پر(یہ) کتاب ، وہ پڑھی جاتی ہے ان پر؟ بلاشبہ اس میں البتہ رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(51)کہہ دیجیے: کافی ہے اللہ میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ لوگ جو ایمان لائے باطل (جھوٹ) پر اور کفر کیا انھوں نے ساتھ اللہ کے، یہی لوگ ہیں خسارہ پانے والے(52)
[50] جب رسول اللہ ﷺ یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسراء یل:17؍90) ’’اور انھوں نے کہا: ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول (ﷺ)کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اس لیے فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنَّمَا الۡاٰيٰتُ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’کہہ دیجیے! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔‘‘ پس اگر وہ چاہے تو یہ آیات نازل کر دے اور نہ چاہے تو روک دے۔ ﴿وَاِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور میں تو صرف کھلا خبردار کرنے والا ہوں‘‘ اور اس سے زیادہ میرا کوئی مرتبہ نہیں۔مقصد تو باطل سے حق کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی بھی طریقے سے مقصد حاصل ہو گیا تو معین معجزات کا مطالبہ کرنا ظلم و جور، اللہ تعالیٰ اور حق کے ساتھ تکبر اور عناد ہے، بلکہ اگر رسول اللہ ﷺ ان آیات و معجزات کو نازل کرنے پر قادر ہوتے اور ان کے دلوں میں یہ بات ہوتی کہ وہ ان معجزات کے بغیر حق کو نہیں مانیں گے، تو یہ حقیقی ایمان نہیں بلکہ ایک ایسی چیز ہے جو ان کی خواہشات نفس کے مطابق ہے اس لیے وہ ایمان لے آئے۔ وہ اس لیے ایمان نہیں لائے کہ وہ حق ہے بلکہ اس لیے ایمان لائے ہیں کہ ان کا معجزے کا مطالبہ پورا ہو گیا۔ فرض کیا اگر ایسا ہی ہو تو معجزات نازل کرنے کا کون سا فائدہ ہے۔
[51] چونکہ مقصد تو حق بیان کرنا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَوَلَمۡ يَكۡفِهِمۡ ﴾ ’’کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں؟‘‘ یعنی کیا انھیں آپ کی صداقت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب کی صداقت کا یقین کافی نہیں؟ ﴿اَنَّـاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ يُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’کہ بلاشبہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔‘‘ یہ مختصر اور جامع کلام ہے جو واضح آیات اور بہت سے روشن دلائل پر مشتمل ہے۔جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ رسول (ﷺ)کا ان پڑھ ہونے کے باوجود مجرد قرآن ہی کا پیش کرنا، آپ کی صداقت کی بہت بڑی دلیل ہے اس پر مستزاد اس کا انھیں مقابلہ کرنے کا چیلنج دینا اور ان کا مقابلہ کرنے میں بے بس ہونا دوسری بڑی دلیل ہے۔ پھر علانیہ ان کے سامنے اس کا پڑھا جانا، اس کا غالب و ظاہر ہونا اور یہ دعویٰ کیا جانا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور رسول (ﷺ)کا ایسے حالات میں اس کو دلائل کے ذریعے سے غالب کرنا، جبکہ آپ کے انصار و اعوان بہت کم اور مخالفین اور دشمن بہت زیادہ تھے، پس ان حالات میں بھی آپ کا اس کو نہ چھپانا اور آپ کا اپنے عزم و ارادہ سے باز نہ آنا بلکہ برسرعام شہروں اور دیہات میں پکار پکار کر کہنا کہ یہ میرے رب کا کلام ہے... آپ کی صداقت کا بین ثبوت ہے۔کیا کوئی اس کے ساتھ معارضہ کر سکتا ہے، یا اس سے مقابلہ کرنے کی بات کر سکتا ہے؟ پھر گزشتہ کتابوں پر اس کی نگہبانی کرنا، صحیح باتوں کی تصدیق کرنا، تحریف اور تغیر و تبدل کی نفی کرنا اور پھر اس کا اپنے اوامر و نواہی میں راہ راست کی طرف راہنمائی کرنا، اس کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ اس نے کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے یہ حکم نہ دیا ہوتا اور کسی ایسی چیز سے نہیں روکا جس کے بارے میں عقل یہ کہتی ہو کہ کاش اس نے اس چیز سے نہ روکا ہوتا بلکہ یہ کتاب اصحاب بصیرت اور خرد مندوں کے نزدیک عدل اور میزان کے عین مطابق ہے۔ پھر اس کے ارشادات، اس کی ہدایت و راہنمائی اور اس کے احکام تمام حالات و زماں کے لیے جاری و ساری ہیں، نیز تمام امور کی اصلاح اسی سے ممکن ہے۔… یہ تمام چیزیں اس شخص کے لیے کافی ہیں جو حق کی تصدیق چاہتا ہے اور حق کا متلاشی ہے۔اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو کفایت عطا نہیں کرتا، جس کے لیے قرآن کافی نہ ہو اور ایسے شخص کو شفا سے نہیں نوازتا جس کے لیے قرآن شافی نہ ہو۔ جو کوئی قرآن سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اور اسے اپنے لیے کافی سمجھتا ہے تو یہ اس کے لیے رحمت اور بھلائی ہے، اس لیے فرمایا:﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَرَحۡمَةً وَّذِكۡرٰى لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’بے شک مومنوں کے لیے اس میں نصیحت اور رحمت ہے۔‘‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عظیم کتاب علم کثیر، لامحدود بھلائی، تزکیۂ قلب و روح، تطہیر عقائد، تکمیل اخلاق، فتوحات الٰہیہ اور اسرار ربانیہ پر مشتمل ہے۔
[ً52]﴿قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيۡدًا ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ میرے اور تمھارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے۔‘‘ اس لیے میں نے اسے گواہ بنایا ہے اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کا عبرتناک عذاب نازل ہو اگر اللہ تعالیٰ میری تائید اور مدد کرتا اور میرے لیے میرے تمام معاملات آسان کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ جلیل القدر شہادت تمھارے لیے کافی ہونی چاہیے اور اگر تمھارے دلوں میں یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت... جسے تم نے سنا ہے نہ دیکھا ہے… دلیل کے لیے کافی نہیں تو اللہ تعالیٰ ﴿يَعۡلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ میرا حال، تمھارا حال اور میری باتیں اس کے جملہ علم میں شامل ہیں۔ اگر میں نے اس پر جھوٹ گھڑا ہے، حالانکہ وہ اس کا علم رکھتا ہے اور مجھے سزا دینے کی قدرت رکھتا ہے، تو یہ اس کے علم، قدرت اور حکمت میں قادح ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ۰۰لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِۙ۰۰ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾(الحاقۃ: 69؍44-46)’’اور اگر اس نے ہم پر کوئی جھوٹ باندھا ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور ، پھر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔‘‘﴿وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِالۡبَاطِلِ وَكَفَرُوۡا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا، وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور روز قیامت پر ایمان نہ لا کر خسارے میں رہے اور چونکہ ان سے دائمی نعمتیں چھوٹ گئیں اور حق کے مقابلے میں باطل حاصل ہوا اور نعمتوں کے مقابلے میں الم ناک عذاب، اسی لیے وہ قیامت کے روز اپنے اور اپنے گھر والوں کے بارے میں گھاٹے میں رہیں گے۔
29:53–55Страница 403
وَيَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَلَوۡلَآ أَجَلٞ مُّسَمّٗى لَّجَآءَهُمُ ٱلۡعَذَابُۚ وَلَيَأۡتِيَنَّهُم بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ٥٣
Они торопят тебя с мучениями. Если бы не назначенный срок, то мучения уже явились бы к ним. Воистину, они явятся к ним внезапно, и они даже не почувствуют этого.
يَسۡتَعۡجِلُونَكَ بِٱلۡعَذَابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةُۢ بِٱلۡكَٰفِرِينَ ٥٤
Они торопят тебя с мучениями. Воистину, Геенна непременно обступит неверующих.
يَوۡمَ يَغۡشَىٰهُمُ ٱلۡعَذَابُ مِن فَوۡقِهِمۡ وَمِن تَحۡتِ أَرۡجُلِهِمۡ وَيَقُولُ ذُوقُواْ مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٥٥
В тот день мучения покроют их сверху и из-под ног. Он скажет: «Вкусите то, что вы совершали!».
اور وہ لوگ جلدی مانگتے ہیں آپ سے عذاب، اور اگر نہ ہوتا (عذاب کا) وقت مقرر تو البتہ آ جاتا ان کے پاس عذاب، اور البتہ وہ ضرور آئے گا ان کے پاس اچانک ہی، اور وہ نہیں شعور رکھتے ہوں گے(53) وہ جلدی مانگتے ہیں آپ سے عذاب، اور بلاشبہ جہنم البتہ گھیرنے والی ہے کافروں کو(54) اس دن ڈھانپ لے گا ان کو عذاب، ان کے اوپر سے اور نیچے سے ان کے پاؤ ں کے، اور فرمائے گا وہ (اللہ:) چکھو تم (مزہ اس کا) جو کچھ تھے تم عمل کرتے(55)
[53] اللہ تبارک و تعالیٰ، رسول (ﷺ)اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلاء کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾(الملک:67؍25) ’’یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوۡلَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى ﴾ یعنی اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کر دی گئی ہوتی ﴿لَّجَآءَهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’توان پر عذاب آچکا ہوتا۔‘‘ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بے بس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہو جاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انھیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن جاتیں، بایں ہمہ اس کے وقت نزول کو دور نہ سمجھیں کیونکہ یہ عذاب عنقریب ان کو پہنچے گا ﴿بَغۡتَةً وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ﴾ ’’اچانک اور ان کو معلوم بھی نہیں ہوگا۔‘‘ لہٰذا ایسے ہی ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی جب وہ اتراتے اور تکبر کرتے ہوئے میدان ’’بدر‘‘ میں اترے تو وہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و رسوا کیا، ان کے بڑے بڑے سردار قتل ہو گئے اور تمام شریر لوگوں کا استیصال ہو گیا اور (مکہ میں) کوئی گھر نہ ایسا نہ بچا جسے یہ مصیبت نہ پہنچی ہو۔ ان پر اس طرح عذاب آیا کہ ان کو وہم و گمان اور شعور تک نہ تھا...
[54] تاہم اگر ان پر دنیاوی عذاب نازل نہیں ہوا تو اخروی عذاب ان کے سامنے ہے جس سے کوئی شخص نہیں بچ سکے گا خواہ دنیا میں اس پر عذاب نازل ہوا ہو یا اسے مہلت دے دی گئی ہو۔ ﴿وَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيۡطَةٌۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ﴾ ’’اور بے شک جہنم کافروں کو گھیرنے والا والی ہے۔‘‘ جہنم کا عذاب ان سے دور ہو گا نہ اسے ان سے ہٹایا جا سکے گا۔ جہنم کا عذاب انھیں ہر طرف سے گھیرلے گا جیسے ان کے گناہوں، ان کی برائیوں اور ان کے کفر نے انھیں گھیر رکھا ہے۔ یہ عذاب بہت سخت عذاب ہو گا۔
[55] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَوۡمَ يَغۡشٰىهُمُ الۡعَذَابُ مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَمِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ وَيَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جس دن ان کو عذاب ڈھانپ لے گا، ان کے اوپر اور ان کے قدموں کے نیچے سے اور اللہ کہے گا، چکھو مزا اس کا جو تم کرتے تھے۔‘‘ کیونکہ تمھارے اعمال تمھارے لیے عذاب بن گئے جس طرح تمھارا کفر اور تمھارے گناہ بے شمار تھے اسی طرح تمھارے لیے عذاب بھی لامحدود ہو گا۔
29:56–59Страница 403
يَٰعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّ أَرۡضِي وَٰسِعَةٞ فَإِيَّٰيَ فَٱعۡبُدُونِ ٥٦
О Мои верующие рабы! Воистину, Моя земля обширна, поклоняйтесь же Мне!
كُلُّ نَفۡسٖ ذَآئِقَةُ ٱلۡمَوۡتِۖ ثُمَّ إِلَيۡنَا تُرۡجَعُونَ ٥٧
Каждая душа вкусит смерть, а потом вы будете возвращены к Нам.
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِّنَ ٱلۡجَنَّةِ غُرَفٗا تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَاۚ نِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ ٥٨
Тех, которые уверовали и совершали праведные деяния, Мы непременно поселим в горницах в Раю, в котором текут реки. Они пребудут там вечно. Как же прекрасно вознаграждение тружеников,
ٱلَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ ٥٩
которые были терпеливы и уповали на своего Господа!
اے میرے (وہ) بندو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ میری زمین(بہت) وسیع ہے، پس صرف میری ہی عبادت کرو تم(56) ہر نفس چکھنے والا ہے موت کو، پھر ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے تم (57) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک ، البتہ ضرور جگہ دیں گے ہم انھیں جنت کے بالاخانوں میں، بہتی ہوں گی ان کے نیچے نہریں، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ، بہت اچھا اجر ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا(58) وہ لوگ جنھوں نے صبر کیا اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے (ہیں)(59)
[59-56] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يٰعِبَادِيَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو!‘‘ اور جنھوں نے میرے رسول کی تصدیق کی ہے ﴿اِنَّ اَرۡضِيۡ وَاسِعَةٌ فَاِيَّايَ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴾ ’’میری زمین فراخ ہے، پس تم میری ہی عبادت کرو۔‘‘ یعنی جب کسی سرزمین میں تمھارے لیے اپنے رب کی عبادت کرنا ممکن نہ رہے تو اس کو چھوڑ کر کسی اور سرزمین میں چلے جاؤ جہاں تم اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکو۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جگہیں بہت کشادہ ہیں۔ تمھارا معبود ایک ہے اور موت تمھیں آ کر رہے گی ، پھر تمھیں اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پس وہ اس شخص کو بہترین جزا سے نوازے گا جس نے ایمان اور عمل صالح کو اکٹھا کیا، وہ انھیں رفیع الشان بالاخانوں اور خوبصورت منازل میں نازل کرے گا وہاں وہ تمام چیزیں جمع ہوں گی جسے نفس چاہتے اور آنکھیں لذت حاصل کرتی ہیں اور ان منازل میں تم ہمیشہ رہو گے۔ ﴿نِعۡمَ ﴾ نعمتوں بھری جنت کے اندر یہ منازل بہترین ﴿اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ﴾ ’’اجر ہے عمل کرنے والوں کا‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے۔ ﴿الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡا ﴾ ’’جنھوں نے صبر کیا‘‘ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ﴿وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَؔكَّلُوۡنَ ﴾ اور وہ اس معاملے میں اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ عبودیت الٰہی پر ان کا صبر اس بارے میں سخت جدوجہد اور شیطان کے خلاف بہت بڑی جنگ کا تقاضا کرتا ہے، جو اس عبادت میں خلل ڈالنے کے لیے ان کو دعوت دیتا رہتا ہے۔ان کا توکل، اللہ تعالیٰ پر ان کے بہت زیادہ اعتماد کا مقتضی ہے نیز اللہ تعالیٰ پر ان کا حسن ظن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان کے اعمال کو متحقق کر کے پایۂ تکمیل کو پہنچائے گا جن کا انھوں نے عزم کیا ہے۔ ہر چند کہ توکل، صبر کے اندر داخل ہے تاہم یہاں اس کو الگ بیان کیا ہے کیونکہ بندہ ہر فعل کے کرنے اور ترک کرنے میں، جن کا انھیں حکم دیا گیا ہے، توکل کا محتاج ہے اور کسی کام کو ترک کرنا یا اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا، توکل علی اللہ کے بغیر اتمام پذیر نہیں ہوتا۔
29:60Страница 403
وَكَأَيِّن مِّن دَآبَّةٖ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ٱللَّهُ يَرۡزُقُهَا وَإِيَّاكُمۡۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ٦٠
Сколько есть живых существ, которые не уносят своего пропитания (или не запасаются своим пропитанием)! Аллах наделяет пропитанием их и вас. Он - Слышащий, Знающий.
اور کتنے ہی زمین پر چلنے والے (جانور) ہیں کہ نہیں اٹھائے پھرتے وہ رزق اپنا، اللہ ہی رزق دیتا ہے ان کو اور تمھیں بھی، اور وہی ہے خوب سننے والا، خوب جاننے والا(60)
[60] اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات، خواہ وہ عاجز ہوں یا طاقت ور، سب کے رزق کا ذمہ لیا ہے۔ ﴿مِّنۡ دَآبَّةٍ ﴾ روئے زمین پر کتنے ہی کمزور اعضا اور کمزور عقل والے چوپائے ہیں ﴿لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَهَا ﴾ ’’جو اپنا رزق نہیں اٹھائے پھرتے‘‘ اور نہ وہ ذخیرہ کرتے ہیں بلکہ ان کے پاس رزق کے لیے کوئی چیز ہوتی ہی نہیں، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ انھیں وقت پر رزق مہیا کرتا ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَرۡزُقُهَا وَاِيَّاكُمۡ ﴾ ’’اللہ ہی ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔‘‘ تم سب اللہ تعالیٰ کی کفالت میں ہو جو تمھارے رزق کا اسی طرح انتظام کرتا ہے جس طرح اس نے تمھاری تخلیق اور تدبیر کی ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ کوئی جانور عدم رزق کی بنا پر ہلاک نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہ گیا اور اسے رزق مہیا نہ ہو سکا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا مِنۡ دَآبَّةٍ فِي الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزۡقُهَا وَيَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّهَا وَمُسۡتَوۡدَعَهَا١ؕ كُلٌّ فِيۡؔ كِتٰبٍ مُّبِيۡنٍ ﴾(ہود:11؍6) ’’اور زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں جس کے رزق کی کفالت اللہ کے ذمہ نہ ہو وہ جانتا ہے کہ کہاں اس کا ٹھکانا ہے اور کہاں اسے سونپا جانا ہے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج ہے۔‘‘
29:61–63Страница 403
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ يُؤۡفَكُونَ ٦١
Если ты спросишь их: «Кто создал небеса и землю и подчинил солнце и луну?». - они непременно скажут: «Аллах». До чего же они отвращены от истины!
ٱللَّهُ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ٦٢
Аллах увеличивает или ограничивает удел тому из Своих рабов, кому пожелает. Воистину, Аллах знает о всякой вещи.
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّن نَّزَّلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ مِنۢ بَعۡدِ مَوۡتِهَا لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ ٦٣
Если ты спросишь их: «Кто ниспосылает с неба воду и оживляет ею землю после того, как она умерла?». - они непременно скажут: «Аллах». Скажи: «Хвала Аллаху!». Но большинство их не разумеет.
اور البتہ اگر پوچھیں آپ ان سے، کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ؟ اور (کس نے) خدمت پر لگایا سورج اور چاند کو؟تو ضرور کہیں گے وہ: اللہ نے ،پس کہاں پھیرے جاتے ہیں وہ ؟(61) اللہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے وہ چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، اور وہی تنگ کرتا ہے جس کے لیے (چاہتا ہے)، بلاشبہ اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے(62) اور البتہ اگر آپ پوچھیں ان سے، کس نے اتارا ہے آسمان سے پانی، پھر اس نے زندہ (آباد) کیازمین کو اس کےذریعے سے بعد اس کی موت (ویرانی) کے؟ تو البتہ ضرور کہیں گے وہ: اللہ نے، کہہ دیجیے: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں بلکہ اکثر ان کے نہیں عقل رکھتے(63)
[63-61] ان آیات کریمہ میں مشرکین کے خلاف، جو توحید الوہیت اور توحید عبادت کی تکذیب کرتے ہیں… توحید ربوبیت کے ذریعے سے، جس کا وہ اقرار کرتے ہیں..... الزامی استدلال کیا گیا ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا ہے؟ کون ہے جو آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعے سے زمین کے مرنے کے بعد اس کو زندگی عطا کرتا ہے اور کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر ہے؟ ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ تو وہ جواب دیں گے کہ اکیلے اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ ان تمام امور میں بتوں اور خود ساختہ معبودوں کی، جن کی وہ عبادت کرتے ہیں، بے بسی کا اعتراف کریں گے۔ ان کے جھوٹ اور بہتان طرازی پر تعجب کیجیے کہ وہ خود ساختہ معبودوں کی عاجزی اور بے بسی کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ کسی چیز کی تدبیر کرنے کے مستحق نہیں بایں ہمہ وہ ان کی عبادت کی طرف مائل ہیں۔ آپ ان کو لوگوں کی اس فہرست میں لکھ دیجیے جن میں عقل معدوم ہے، جو بے وقوف اور ضعیف العقل ہیں۔ کیا آپ کسی کو اس شخص سے زیادہ کم عقل اور بے بصیرت پائیں گے جو اپنی حاجت روائی کے لیے کسی پتھر کے بت یا قبر کے پاس آتا ہے حالانکہ اسے علم ہے کہ وہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ جو تخلیق پر قادر ہیں نہ رزق رسانی پر؟ پھر ان کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہیں اور انھیں اپنے رب کا شریک بنا دیتے ہیں جو خالق و رزاق اور نفع و نقصان کا مالک ہے۔آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمد و ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے ہدایت اور گمراہی کو کھول کھول کر بیان کر دیا اور مشرکین کے موقف کا بطلان واضح کر دیا تاکہ اہل ایمان اس سے بچے رہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ ہر قسم کی حمدوستائش کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے عالم علوی اور عالم سفلی کو تخلیق فرمایا، جو ان کی تدبیر کرتا ہے، جو ان کو رزق بہم پہنچاتا ہے، جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جس پر چاہتا ہے رزق کو تنگ کر دیتا ہے یہ اس کی حکمت پر مبنی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے بندوں کے لیے درست اور مناسب کیا ہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии