Ас-СаадиАль‑Ахзаб · 33:70–73

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Аль-Ахзаб 33:70–73

33:70–71Страница 427

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَقُولُواْ قَوۡلٗا سَدِيدٗا ٧٠

О те, которые уверовали! Бойтесь Аллаха и говорите правое слово.

يُصۡلِحۡ لَكُمۡ أَعۡمَٰلَكُمۡ وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوبَكُمۡۗ وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيمًا ٧١

Тогда Он исправит для вас ваши дела и простит вам ваши грехи. А кто повинуется Аллаху и Его Посланнику, тот уже достиг великого успеха.

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ڈرو اللہ سے، اور کہو بات سیدھی(سچی)(70)وہ درست کر دے گا تمھارے لیے تمھارے عمل اور بخش دے گا تمھارے لیے تمھارے گناہ اور جو اطاعت کرے اللہ اور اس کے رسول کی، تو تحقیق کامیابی حاصل کر لی اس نے کامیابی بہت بڑی(71)

[70] اللہ تبارک و تعالیٰ اہل ایمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ کھلے چھپے، اپنے تمام احوال میں تقویٰ کا التزام کریں اور درست بات کہنے پر خاص طور پر زور دیا ہے (اَلْقَوْلُ السَّدِیْد) اس قول کو کہتے ہیں جو صحیح اور حق کے موافق یا اس کے قریب تر ہو، مثلاً: قراء تِ قرآن، ذکرِ الٰہی، نیکی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، علم کا سیکھنا ، پھر اس کی تعلیم دینا، علمی مسائل میں حق و صواب کے حصول کی حرص، ہر اس راستے پر گامزن ہونے کی کوشش کرنا جو حق تک پہنچتا ہو اور وہ وسیلہ اختیار کرنا جو حق کے حصول میں مددگار ہو۔ لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نرم اور لطیف کلام بھی قولِ سدید کے زمرے میں آتا ہے، کوئی ایسی بات کہنا جو خیرخواہی کو متضمن ہو، یا کسی درست تر امر کا مشورہ دینا یہ سب قولِ سدید میں داخل ہیں۔

[71] پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اور قول سدید پر مترتب ہوتے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿يُّصۡلِحۡ لَكُمۡ اَعۡمَالَكُمۡ ﴾ یعنی تقویٰ اعمال کی اصلاح کا سبب اور ان کی قبولیت کا ذریعہ ہے کیونکہ تقویٰ کے استعمال ہی سے اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا شرف پاتے ہیں، جیسا کہ فرمایا:﴿اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾(المائدۃ : 5؍ 27) ’’اللہ تعالیٰ صرف متقین ہی کا عمل قبول فرماتا ہے۔‘‘ تقویٰ کے وجود سے انسان کو عمل صالح کی توفیق عطا ہوتی ہے، تقویٰ ہی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اعمال کی اصلاح کرتا ہے اور ان کے ثواب کی مفاسد سے حفاظت کرتا ہے اور ثواب کو کئی گنا زیادہ کرتا ہے۔اسی طرح تقویٰ اور قول سدید میں خلل اور فساد اعمال، ان کی عدم قبولیت اور ان کے اثرات مترتب نہ ہونے کا سبب بنتا ہے۔ ﴿وَيَغۡفِرۡ لَكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ تمھارے گناہوں کو بخش دے گا‘‘ جو تمھاری ہلاکت کا سبب ہیں۔ تقویٰ ہی سے تمام معاملات درست اور تمام برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا ﴾’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بہت بڑی مراد پائے گا۔‘‘

33:72–73Страница 427

إِنَّا عَرَضۡنَا ٱلۡأَمَانَةَ عَلَى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱلۡجِبَالِ فَأَبَيۡنَ أَن يَحۡمِلۡنَهَا وَأَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا وَحَمَلَهَا ٱلۡإِنسَٰنُۖ إِنَّهُۥ كَانَ ظَلُومٗا جَهُولٗا ٧٢

Мы предложили небесам, земле и горам взять на себя ответственность, но они отказались нести ее и испугались этого, а человек взялся нести ее. Воистину, он является несправедливым и невежественным.

لِّيُعَذِّبَ ٱللَّهُ ٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱلۡمُنَٰفِقَٰتِ وَٱلۡمُشۡرِكِينَ وَٱلۡمُشۡرِكَٰتِ وَيَتُوبَ ٱللَّهُ عَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمَۢا ٧٣

Это произошло для того, чтобы Аллах наказал лицемеров и лицемерок, многобожников и многобожниц и принял покаяния верующих мужчин и верующих женщин. Аллах - Прощающий, Милосердный.

بلاشبہ ہم نے پیش کی (اپنی) امانت اوپر آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے، تو انھوں نے انکار کر دیا اس کے اٹھانے سے اور ڈر گئے وہ اس سے اور اٹھا لیا اس (امانت) کو انسان نے، یقیناً تھا وہ بڑا ظالم اور بہت جاہل(72) تاکہ عذاب دے اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں کو اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور توجہ (رحم) فرمائے اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر اور ہے اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان(73)

[72] اللہ تبارک وتعالیٰ اس امانت کی عظمت بیان کرتا ہے جو اس نے مکلفین کے سپرد کی۔ اس امانت سے مراد اللہ تعالیٰ کے اوامر کے سامنے سرافگندہ ہونا اور کھلے چھپے تمام احوال میں محارم سے اجتناب کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو بڑی بڑی مخلوقات، آسمان، زمین اور پہاڑوں وغیرہ کے سامنے پیش کر کے اسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا کہ اگر تم اسے قائم کروگے اور اس کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو تمھارے لیے ثواب ہے اور اگر تم اس کو قائم کر سکے نہ اسے ادا کر سکے تو تمھیں عذاب ملے گا۔ ﴿فَاَبَؔيۡنَ اَنۡ يَّحۡمِلۡنَهَا وَاَشۡفَقۡنَ مِنۡهَا ﴾ یعنی انھوں نے اس خوف سے اس امانت کا بار اٹھانے سے انکار کر دیا کہ وہ اس امانت کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے طور پر نہ تھا، اور نہ اس کے ثواب میں بے رغبتی کے سبب سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو، اسی شرط کے ساتھ، انسان کے سامنے پیش کیا، اس نے اسے قبول کر کے اس کا بار اٹھا لیا، اس نے اپنی جہالت اور ظلم کے باوصف اس بھاری ذمہ داری کو قبول کر لیا۔

[73]لوگ اس امانت کو قائم رکھنے اور قائم نہ رکھنے کے لحاظ سے تین اقسام میں منقسم ہیں:(۱)منافقین: جو ظاہری طور پر اس امانت کو قائم رکھتے ہیں اور باطن میں اس کو ضائع کرتے ہیں۔(۲)مشرکین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی طور پر اس امانت کو ضائع کر دیا ہے۔(۳) مومنین: جنھوں نے ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے اس امانت کو قائم کر رکھا ہے۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان تینوں اقسام کے لوگوں کے اعمال اور ان کے ثواب و عقاب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿لِّيُعَذِّبَ اللّٰهُ الۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقٰتِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ وَالۡمُشۡرِكٰتِ وَيَتُوۡبَ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتِ١ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا ﴾ ’’تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور اللہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر مہربانی کرے اور اللہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اس آیت مبارکہ کو ان دو اسمائے حسنیٰ پر ختم کیا جو اللہ تعالیٰ کی کامل مغفرت، بے پایاں رحمت اور لامحدود جودوکرم پر دلالت کرتے ہیں۔ بایں ہمہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ اپنے نفاق اور شرک کے باعث اس مغفرت اور رحمت کے مستحق نہیں۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English