Ас-Саади · Тафсир · на урду
Саба 34:28–45
34:28–30Страница 431
وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةٗ لِّلنَّاسِ بَشِيرٗا وَنَذِيرٗا وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٨
Мы отправили тебя ко всем людям добрым вестником и предостерегающим увещевателем, но большинство людей не знает этого.
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٢٩
Они сказали: «Когда же сбудется это обещание, если вы говорите правду?».
قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوۡمٖ لَّا تَسۡتَـٔۡخِرُونَ عَنۡهُ سَاعَةٗ وَلَا تَسۡتَقۡدِمُونَ ٣٠
Скажи: «Вам обещан день, который вы не сможете отдалить или приблизить даже на час».
اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر تمام انسانوں کے لیے، خوشخبری دینے اور ڈرانے والا (بنا کر) لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(28) اور وہ کہتے ہیں، کب (پورا) ہوگا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟(29) کہہ دیجیے! تمھارے لیے وعدہ ہے ایک ایسے دن کا کہ نہ تم پیچھے رہ سکو گے اس سے ایک گھڑی اور نہ تم آگے بڑھ سکو گے(30)
[28] اللہ تبارک وتعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو صرف اس لیے مبعوث فرمایا کہ تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ثواب کی خوشخبری دے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس ثواب کے موجب ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائے اور انھیں ان اعمال سے آگاہ کرے جو اس عذاب کے موجب ہیں اور آپ کا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اہل تکذیب اور اہل عناد آپ سے جن معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ آپ کے فرائض میں شامل نہیں ہیں بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ ﴿وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ یعنی ان کے پاس صحیح علم نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ یا تو جاہل ہیں یا عناد رکھتے ہیں اور اپنے علم کے مطابق عمل نہیں کرتے، تب ان کا حال یہ ہے کہ گویا ان کے پاس علم ہی نہیں۔ جن کے پاس علم نہ ہو، ان کا رسول سے معجزے کا مطالبہ پورا نہ ہونا، رسول کی دعوت کو ٹھکرانے کا موجب ہوتا ہے۔
[29] انھوں نے جن چیزوں کا مطالبہ کیا تھا ان میں سے ایک عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ تھا جس سے انھیں ڈرایا گیا تھا۔ فرمایا: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’اور کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب وقوع پذیر ہو گا؟‘‘ یہ مطالبہ ان کی طرف سے محض ظلم تھا کیونکہ رسول کی صداقت اور اس وعدے کے پورا ہونے کے وقت سے آگاہ کرنے میں کون سا تلازم ہے؟ کیا یہ حق کو ٹھکرانے اور حماقت و سفاہت کے سوا کچھ اور ہے؟ کیا دنیا کے کسی معاملے میں ڈرانے والا کوئی شخص اگر ایسے لوگوں کے پاس آئے جو اس کی صداقت اور خیرخواہی کو جانتے ہیں اور ان کا ایک دشمن بھی ہے جو ان پر حملہ کرنے کے لیے تیار اور اس کے لیے موقع کا متلاشی ہے، تو یہ شخص ان لوگوں کے پاس آ کر کہتا ہے: ’’میں تمھارے دشمن کو اس حال میں چھوڑ کر آیا ہوں کہ وہ روانہ ہو چکا ہے وہ تمھیں نیست و نابود کرنا چاہتا ہے۔‘‘ اگر ان میں سے بعض لوگ کہیں: ’’اگر تو سچا ہے تو ہمیں بتا کہ کس وقت وہ ہمارے پاس پہنچے گا اور اس وقت وہ کہاں ہے؟‘‘ کیا یہ سوال کرنے والا شخص عقل مند شمار کیا جائے گا یا اس پر سفاہت اور پاگل پن کا حکم لگایا جائے گا؟خبر دینے والا سچا یا جھوٹا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن کا ارادہ کسی اور طرف کا ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ دشمن اپنا ارادہ ترک کر دے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی مضبوط قلعے میں ہوں جہاں وہ اس دشمن سے اپنی مدافعت کر سکتے ہوں۔ تب وہ اس شخص کو کیوں کر جھٹلا سکتے ہیں جو مخلوق میں سب سے زیادہ سچ بولنے والا ہے، جو اپنی خبر میں ہر غلطی سے پاک ہے، جو اس آنے والے یقینی عذاب کے بارے میں اپنی خواہش نفس سے کچھ نہیں کہتا، اس عذاب سے بچنے کے لیے کوئی پناہ گاہ ہے نہ اس سے بچانے والا کوئی مددگار ہے۔ کیا اس شخص کی خبر کو محض اس لیے رد کرنا کہ اس عذاب کے وقوع کا وقت نہیں بتایا گیا، سب سے بڑی حماقت نہیں!
[30]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے:‘‘ ان کو اس عذاب کے وقوع کی خبر دیتے ہوئے جس میں کوئی شک نہیں ﴿لَّكُمۡ مِّؔيۡعَادُ يَوۡمٍ لَّا تَسۡتَاۡخِرُوۡنَ۠ عَنۡهُ سَاعَةً وَّلَا تَسۡتَقۡدِمُوۡنَ۠ ﴾ ’’تم سے ایک دن کا وعدہ ہے جس سے ایک گھڑی پیچھے رہو گے نہ آگے بڑھو گے۔‘‘ پس اس دن سے ڈرو اور اس کے لیے تیاری کرو۔
34:31–33Страница 431
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّؤۡمِنَ بِهَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ وَلَا بِٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِۗ وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوۡقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمۡ يَرۡجِعُ بَعۡضُهُمۡ إِلَىٰ بَعۡضٍ ٱلۡقَوۡلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لَوۡلَآ أَنتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِينَ ٣١
Неверующие сказали: «Мы никогда не уверуем ни в этот Коран, ни в то, что было до него». Если бы ты видел беззаконников, когда они будут стоять перед их Господом, отвечая друг другу словами. Те, которые были слабыми, скажут тем, которые превозносились: «Если бы не вы, то мы стали бы верующими».
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُوٓاْ أَنَحۡنُ صَدَدۡنَٰكُمۡ عَنِ ٱلۡهُدَىٰ بَعۡدَ إِذۡ جَآءَكُمۖ بَلۡ كُنتُم مُّجۡرِمِينَ ٣٢
Те, которые превозносились, скажут тем, которые были слабыми: «Разве мы удержали вас от верного руководства после того, как оно явилось к вам? Нет, вы сами были грешниками».
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ بَلۡ مَكۡرُ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ إِذۡ تَأۡمُرُونَنَآ أَن نَّكۡفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجۡعَلَ لَهُۥٓ أَندَادٗاۚ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۚ وَجَعَلۡنَا ٱلۡأَغۡلَٰلَ فِيٓ أَعۡنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۖ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٣٣
Тогда те, которые были слабыми, скажут тем, которые превозносились: «Вы замышляли козни ночью и днем и велели нам не верить в Аллаха и равнять с Ним других». Когда же они увидят мучения, они утаят раскаяние. Мы наложим оковы на шеи неверующих. Разве им не воздается только за то, что они совершали?
اور کہا ان لوگوں نے جنھوں نے کفر کیا، ہرگز نہیں ایمان لائیں گے ہم ا س قرآن پر او ر نہ ان (کتابوں) پرجو اس سے پہلے تھیں اور آپ اگر دیکھیں جب ظالم لوگ کھڑے کیے جائیں گے سامنے اپنے رب کے، جبکہ رد کر رہا ہوگا بعض ان کا بعض کی بات کا، (تو آپ کو تعجب ہو گا)کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان لوگوں سے جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے اگر نہ ہوتے تم تو یقیناً ہوتے ہم مومن(31)کہیں گے وہ لوگ جو تکبر کرتے (بڑے بنتے) تھے، ان سے جو کمزور سمجھے جاتے تھے، کیا ہم نے روک دیا تھا تمھیں ہدایت(اختیار کرنے) سے بعد اس کے جب وہ آ گئی تھی تمھارے پاس؟بلکہ تھے تم (خود ہی) مجرم(32)اور کہیں گے وہ لوگ جو کمزور سمجھے جاتے تھے، ان سے جو بڑے بنتے تھے، (نہیں)بلکہ (تمھاری) رات اور دن کی چالوں ہی نے (ہمیں روکا تھا) جب حکم دیتے تھے تم ہمیں یہ کہ کفر کریں ہم ساتھ اللہ کے اور ٹھہرائیں اس کے لیے شریک، اور چھپائیں گے وہ ندامت کو جب دیکھیں گے عذاب، اور ہم کر (ڈال) دیں گے طوق گردنوں میں ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، نہیں بدلہ دیے جائیں گے وہ، مگر(اسی کا) جو تھے وہ عمل کرتے(33)
[31] اللہ تبارک وتعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کے لیے عذاب کا جو وعدہ کیا گیا ہے اپنے وقت پر اس کا پورا ہونا ضروری ہے۔ یہاں فرمایا کہ اگر آپ اس روز ان کا حال دیکھیں، جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے، سردار اور کفروضلالت میں ان کی پیروی کرنے والے اکٹھے کھڑے ہوں گے، تو آپ کو بہت بڑا اور انتہائی ہولناک معاملہ نظر آئے گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ کیسے ایک دوسرے کی بات کو رد کرتے ہیں۔ ﴿يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا ﴾ ’’وہ لوگ جو کمزور کیے گئے تھے وہ کہیں گے‘‘ یعنی متبعین ﴿لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا ﴾ ’’ان سے جنھوں نے تکبر کیا۔‘‘ اس سے مراد قائدین کفر ہیں ﴿لَوۡلَاۤ اَنۡتُمۡ لَكُنَّا مُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔‘‘ مگر تم ہمارے اور ایمان کے درمیان حائل ہو گئے، تم نے کفر کو ہمارے سامنے مزین کیا اور تمھاری پیروی میں ہم نے کفر کو اختیار کیا۔ ایسا کہنے میں ان کا مقصود یہ ہو گا کہ ان کی بجائے عذاب ان سرداروں کو دیا جائے۔
[32]﴿قَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡۤا ﴾ ’’جنھوں نے تکبر کیا وہ کمزور بنائے ہوئے لوگوں سے کہیں گے۔‘‘ یہ سردار استفہامی انداز میں ان کو خبر دیں گے کہ سب اس عذاب کو بھگتیں گے۔ ﴿اَنَحۡنُ صَدَدۡنٰكُمۡ عَنِ الۡهُدٰؔى بَعۡدَ اِذۡ جَآءَكُمۡ ﴾ ’’کیا ہم نے تمھیں ہدایت آجانے کے بعد اس سے روکا تھا؟، ، یعنی کیا ہم نے تمھیں اپنی قوت اور غلبے کی وجہ سے ایمان لانے سے روکا تھا؟ ﴿بَلۡ كُنۡتُمۡ مُّجۡرِمِيۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم مجرم تھے۔‘‘ یعنی تم مقہور ومغلوب نہ تھے، تم سے جبراً کفر کا ارتکاب نہیں کرایا گیا تھا بلکہ تم نے اپنے اختیار سے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ اگرچہ ہم نے تمھارے سامنے کفر کو مزین کیا تھا، تاہم تم پر ہمیں کوئی تسلط اور اختیار تو حاصل نہ تھا۔
[33]﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا لِلَّذِيۡنَ اسۡتَكۡبَرُوۡا بَلۡ مَكۡرُ الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ اِذۡ تَاۡمُرُوۡنَنَاۤ۠ اَنۡ نَّـكۡفُرَ بِاللّٰهِ وَنَجۡعَلَ لَهٗۤ اَنۡدَادًا ﴾ ’’اور کمزور لوگ تکبر کرنے والے لوگوں سے کہیں گے، بلکہ تم رات دن مکر وفریب کرتے رہتے تھے جس وقت تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا انکار کریں اور اس کے لیے شریک ٹھرائیں۔‘‘ یعنی تم نے جو دن رات سازشیں کیں اور تم نے ہمارے ساتھ مکروفریب کیا اور اس مکروفریب سے ہم پر گمراہی کو مسلط کیا، تم ہمارے سامنے کفر کو مزین کیا کرتے تھے ، پھر اس کی طرف دعوت دیا کرتے تھے۔ تم اس کے بارے میں دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ حق ہے اور حق میں جرح و قدح کر کے اس کی قدر گھٹایا کرتے تھے اور بزعم خود حق کو باطل قرار دیا کرتے تھے۔ تم ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہے یہاں تک کہ تم نے ہمیں گمراہ کر کے فتنے میں مبتلا کر دیا۔آپس میں ان کی یہ گفتگو اس کے سوا انھیں کوئی فائدہ نہ دے گی کہ وہ ایک دوسرے سے بیزاری اور سخت ندامت کا اظہار کریں گے، اس لیے فرمایا:﴿وَاَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ﴾ ’’اور جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے۔‘‘ یعنی اس حجت کا تاروپود بکھر جائے گا جس کے ذریعے سے وہ ایک دوسرے پر حجت قائم کرتے تھے کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ وہ ظالم ہیں اور عذاب کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ہر مجرم بے حد پشیمان ہو گا اور وہ تمنا کرے گا کہ کاش وہ حق پر ہوتا اور اس نے باطل کو چھوڑ دیا ہوتا جس نے اسے اس عذاب میں مبتلا کیا ہے۔ اپنے جرائم کا اقرار کر لینے کی فضیحت کا خوف ان پر چھا جائے گا۔قیامت کے بعض مواقف پر اور جہنم میں داخل ہوتے وقت، وہ بآواز بلند اپنی ندامت کا اظہار کریں گے:﴿وَيَوۡمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى يَدَيۡهِ يَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِي اتَّؔخَذۡتُ مَعَ الرَّسُوۡلِ سَبِيۡلًا۰۰ يٰوَيۡلَتٰى لَيۡتَنِيۡ لَمۡ اَتَّؔخِذۡ فُلَانًا خَلِيۡلًا ﴾(الفرقان:25/27-28) ’’اور ظالم اس روز اپنے ہاتھوں پر کاٹے گا اور کہے گا کاش! میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری ہلاکت! کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔‘‘ ﴿وَقَالُوۡا لَوۡ كُنَّا نَسۡمَعُ اَوۡ نَعۡقِلُ مَا كُنَّا فِيۡۤ اَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ۰۰ فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۢۡبِهِمۡ١ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰؔبِ السَّعِيۡرِ ﴾(الملک : 67 ؍10۔11)’’وہ کہیں گے اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم اصحاب جہنم میں شامل نہ ہوتے، وہ اپنے گناہ کا اعتراف کریں گے۔ پس جہنمی اللہ کی رحمت سے دور ہیں۔‘‘﴿وَجَعَلۡنَا الۡاَغۡلٰلَ فِيۡۤ اَعۡنَاقِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ﴾ ’’اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔‘‘ یعنی ان کو بیڑیاں پہنائی جائیں گی جیسے اس قیدی کو پہنا دی جاتی ہیں جس کی قید میں اہانت مقصود ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِذِ الۡاَغۡلٰلُ فِيۡۤ اَعۡنَاقِهِمۡ وَالسَّلٰسِلُ١ؕ يُسۡحَبُوۡنَۙ۰۰ فِي الۡحَمِيۡمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسۡجَرُوۡنَ﴾(المؤمن:40؍71۔72) ’’جب طوق اور زنجیریں ان کی گردنوں میں پہنا دی جائیں گی، پھر انھیں کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا، پھر ان کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔‘‘ ﴿هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ یہ عذاب اور یہ سزا جو انھیں دی گئی ہے اور یہ بوجھل طوق جو انھیں پہنائے گئے ہیں ﴿اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ صرف ان اعمال کی پاداش میں ہے جن کا وہ کفر، فسق اور نافرمانی کرکے ارتکاب کیا کرتے تھے۔
34:34–39Страница 432
وَمَآ أَرۡسَلۡنَا فِي قَرۡيَةٖ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلۡتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ ٣٤
В какое бы селение Мы ни направляли предостерегающего увещевателя, его изнеженные роскошью жители говорили: «Воистину, мы не веруем в то, с чем вы посланы».
وَقَالُواْ نَحۡنُ أَكۡثَرُ أَمۡوَٰلٗا وَأَوۡلَٰدٗا وَمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِينَ ٣٥
Они говорили: «У нас больше богатства и детей, и нас не подвергнут мучениям».
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٦
Скажи: «Воистину, мой Господь увеличивает или ограничивает удел тому, кому пожелает, но большинство людей не знает этого».
وَمَآ أَمۡوَٰلُكُمۡ وَلَآ أَوۡلَٰدُكُم بِٱلَّتِي تُقَرِّبُكُمۡ عِندَنَا زُلۡفَىٰٓ إِلَّا مَنۡ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا فَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ جَزَآءُ ٱلضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُواْ وَهُمۡ فِي ٱلۡغُرُفَٰتِ ءَامِنُونَ ٣٧
Ни ваше богатство, ни ваши дети не приближают вас к Нам, если только вы не уверовали и не поступаете праведно. Для таких людей будет приумножено воздаяние за то, что они совершили, и они будут пребывать в горницах, находясь в безопасности.
وَٱلَّذِينَ يَسۡعَوۡنَ فِيٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُوْلَٰٓئِكَ فِي ٱلۡعَذَابِ مُحۡضَرُونَ ٣٨
А те, которые стараются ослабить Наши знамения, будут ввергнуты в мучения.
قُلۡ إِنَّ رَبِّي يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ مِنۡ عِبَادِهِۦ وَيَقۡدِرُ لَهُۥۚ وَمَآ أَنفَقۡتُم مِّن شَيۡءٖ فَهُوَ يُخۡلِفُهُۥۖ وَهُوَ خَيۡرُ ٱلرَّٰزِقِينَ ٣٩
Скажи: «Воистину, мой Господь увеличивает или ограничивает удел тому из Своих рабов, кому пожелает. Он возместит все, что бы вы ни израсходовали. Он - Наилучший из дарующих удел».
اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا، مگر کہا اس کے خوش حال لوگوں نے، بلاشبہ ہم اس چیز کا، کہ بھیجے گئے ہو تم ساتھ اس کے، انکار کرنے والے ہیں(34) اور انھوں نے کہا، ہم زیادہ ہیں(تم سے) مال اوراولاد میں اور نہیں ہم عذاب دیے جائیں گے (35)کہہ دیجیے! بلاشبہ میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور کم کرتا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے(36)اور نہیں ہیں تمھارے مال اور نہ تمھاری اولاد، (ایسی چیز) کہ جو قریب کر دے تمھیں ہمارے پاس درجے میں، مگر جو ایمان لایا اور عمل کیے اس نے نیک، پس یہی لوگ ہیں، ان کے لیے بدلہ ہے دگنا بہ سبب ان (عملوں) کے جو انھوں نے کیے، اور وہ بالاخانوں میں پر امن ہوں گے (37)اور جن لوگوں نے کوشش کی ہماری آیتوں میں (ہمیں) عاجز کرنے کی، وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے(38) کہہ دیجیے! بے شک میرا رب ہی کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور تنگ کرتا ہے اس کے لیے اور جو خرچ کرتے ہو تم کوئی چیز، تو وہ بدلہ دیتا ہے اس کا، اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے(39)
[34] اللہ تبارک وتعالیٰ گزشتہ قوموں کا حال بیان کرتا ہے جنھوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا۔ ان کا حال بھی انھی لوگوں جیسا تھا جنھوں نے اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذیب کی، نیز آگاہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی رسول مبعوث فرمایا تو اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے اس کا انکار کیا، انھوں نے نعمتوں پر تکبر اور فخر کیا۔
[35]﴿وَقَالُوۡا نَحۡنُ اَكۡثَرُ اَمۡوَالًا وَّاَوۡلَادًا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ ہم زیادہ مال اور اولاد والے ہیں‘‘ یعنی ان لوگوں سے جنھوں نے حق کی اتباع کی۔ ﴿وَّمَا نَحۡنُ بِمُعَذَّبِيۡنَ ﴾ ’’اور ہم عذاب دیے جانے والوں میں سے نہیں ہیں۔‘‘ یعنی اول تو ہمیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا، اگر ہمیں دوبارہ زندہ کیا بھی گیا تو وہ ہستی جس نے ہمیں اس دنیا میں مال اور اولاد سے نوازا ہے، وہ ہمیں آخرت میں اس سے بھی زیادہ مال اور اولاد سے نوازے گی اور ہمیں عذاب نہ دے گی۔
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ رزق کی کشادگی اور تنگی تمھارے دعوے کی دلیل نہیں کیونکہ رزق اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت عطا ہوتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے بندے کے لیے رزق کو کشادہ کر دیتا ہے اور اگر چاہے تو تنگ کر دیتا ہے۔
[37] مال اور اولاد اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں کرتے اور جو چیز اللہ کے قریب کرتی ہے وہ ہے انبیاء ومرسلین کی دعوت پر ایمان اور عمل صالح جو ایمان کے لوازم میں شمار ہوتا ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کئی گنا اجر ہے جنھیں ایک نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ عطا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا ﴿وَهُمۡ فِي الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴾ یعنی وہ بہت ہی بلند مرتبہ منازل میں، ہر قسم کے تکدر اور ناخوشگواری سے محفوظ اطمینان سے رہیں گے، انھیں وہاں مختلف قسم کی لذات اور دل پسند چیزیں عطا ہوں گی اور انھیں وہاں سے نکلنے کا خوف ہو گا نہ کوئی حزن و غم۔
[38] رہے وہ لوگ جو ہمیں اور ہمارے رسولوں کو عاجز اور بے بس بنانے اور ان کو جھٹلانے کے لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں تو ﴿اُولٰٓىِٕكَ فِي الۡعَذَابِ مُحۡضَرُوۡنَ﴾ ’’وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔‘‘ جہنم کے فرشتے انھیں جہنم میں دھکیل دیں گے اور انھیں جن ہستیوں پر بھروسہ تھا وہ انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکیں گی۔
[39] اللہ تبارک وتعالیٰ نے پھر اعادہ فرمایا: ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ وَيَقۡدِرُ لَهٗ﴾ ’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے روزی فراخ کر دیتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔‘‘ تاکہ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مترتب ہو: ﴿وَمَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور تم جو چیز خرچ کرو گے۔‘‘ خواہ وہ نفقہ واجبہ ہو یا نفقہ مستحبہ، اسے کسی قریبی رشتہ دار، پڑوسی، مسکین، اور یتیم پر خرچ کیا گیا ہو یا کسی اور پر ﴿فَهُوَ يُخۡلِفُهٗ﴾ ’’تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ تمھیں اور رزق عطا کر دیتا ہے۔‘‘ اس لیے اس وہم میں مبتلا نہ ہوں کہ خرچ کرنے سے رزق میں کمی واقع ہو جائے گی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی جگہ اور رزق عطا کرے گا، وہ جسے چاہتا ہے رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا رزق دیتا ہے۔ ﴿وَهُوَ خَيۡرُ الرّٰزِقِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘ اس لیے اسی سے رزق طلب کرو اور ان اسباب رزق کو بڑھاؤ جن کا اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے۔
34:40–42Страница 433
وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ يَقُولُ لِلۡمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٤٠
В тот день Он соберет их всех, а затем скажет ангелам: «Это они поклонялись вам?».
قَالُواْ سُبۡحَٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنَا مِن دُونِهِمۖ بَلۡ كَانُواْ يَعۡبُدُونَ ٱلۡجِنَّۖ أَكۡثَرُهُم بِهِم مُّؤۡمِنُونَ ٤١
Они скажут: «Пречист Ты! Ты - наш Покровитель, а не они. Они поклонялись джиннам, и большинство их веровали именно в них».
فَٱلۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٖ نَّفۡعٗا وَلَا ضَرّٗا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُواْ ذُوقُواْ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ ٤٢
Сегодня вы не можете принести друг другу ни пользы, ни вреда. Мы скажем беззаконникам: «Вкусите мучения в Огне, который вы считали ложью!».
اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب (مشرکوں) کو ، پھر کہے گا وہ فرشتوں سے، کیا یہی لوگ ہیں(وہ جو) تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟(40) وہ کہیں گے، پاک ہے تو، تو ہی ہے ہمارا کارساز، ان کے ماسوا، بلکہ وہ تو تھے عبادت کرتے جنوں کی، اکثر ان میں سے انھی پر ایمان رکھتے تھے(41) پس آج نہیں اختیار رکھتا کوئی تمھارا واسطے کسی کے، کسی نفع کا اور نہ نقصان کا، اور ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنھوں نے ظلم کیا: چکھو عذاب آگ کا، وہ جو تھے تم اسے جھٹلاتے (42)
[40، 41]﴿وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’اور وہ جس دن ان سب کو جمع کرے گا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر غیر اللہ یعنی فرشتوں وغیرہ کی عبادت کرنے والے مشرکین اور ان کے معبودوں کو اکٹھا کرے گا۔ ﴿ثُمَّ يَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓىِٕكَةِ۠﴾ ’’پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا‘‘ مشرکین کو زجروبیخ کرتے ہوئے ﴿اَهٰۤؤُلَآءِ اِيَّاكُمۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ ﴾ ’’کیا یہ لوگ تمھاری عبادت کیاکرتے تھے۔‘‘ اور وہ جواب میں ان مشرکین کی عبادت سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿قَالُوۡا سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’وہ کہیں گے تو پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس چیز سے تنزیہ و تقدیس کرتے ہوئے کہ اس کا کوئی شریک یا ہمسر ہو، کہیں گے:﴿اَنۡتَ وَلِيُّنَا مِنۡ دُوۡنِهِمۡ ﴾ ’’ہمارا سرپرست اور والی تو ہی ہے نہ کہ یہ مشرک۔‘‘ ہم تو خود تیری سرپرستی کے محتاج اور ضرورت مند ہیں ہم دوسروں کو اپنی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتے ہیں؟ یا یہ بات کیسے درست ہو سکتی ہے کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو اپنا سرپرست اور شریک بنائیں؟ بلکہ یہ مشرکین ﴿بَلۡ كَانُوۡا يَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ﴾ ’’ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے۔‘‘ شیاطین انھیں حکم دیتے تھے کہ وہ ہماری اور دیگر خودساختہ معبودوں کی عبادت کریں اور یہ ان کے حکم کی اطاعت کرتے تھے۔ ان کی اطاعت ہی درحقیقت ان کی عبادت تھی کیونکہ اطاعت، عبادت ہی کا دوسرا نام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو بھی معبود بنا رکھا تھا:﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌۙ۰۰ وَّاَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ١ؔؕ هٰؔذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ ﴾(یٰسٓ:36؍60-61) ’’اے بنی آدم! کیا میں نے تمھیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور میری ہی عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے۔‘‘ ﴿اَكۡثَرُهُمۡ بِهِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’ان میں سے اکثر لوگ ان پر ایمان لاتے تھے‘‘ جنوں کو سچا جانتے اور ان کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ایمان ایسی تصدیق کا نام ہے جو اطاعت کی موجب ہو۔
[42] جب فرشتے ان کے شرک اور عبادت سے بیزاری کا اعلان کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا: ﴿فَالۡيَوۡمَ لَا يَمۡلِكُ بَعۡضُكُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّلَا ضَرًّا ﴾ ’’پس آج تم میں سے کوئی کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘ تمھارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہو گئے ہیں اور تم ایک دوسرے سے کٹ گئے ہو۔ ﴿وَنَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ یعنی جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کر کے ظلم کیا، ہم انھیں جہنم میں داخل کرنے کے بعد ان سے کہیں گے:﴿ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ ﴾ ’’دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔‘‘ آج تم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اپنی تکذیب کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہو چکے، نیز اس کی وجہ یہ تھی کہ تم نے ان اسباب سے اجتناب نہ کیا جو جہنم میں داخلے کے موجب تھے۔
34:43–45Страница 433
وَإِذَا تُتۡلَىٰ عَلَيۡهِمۡ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٖ قَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٞ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُكُمۡ وَقَالُواْ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفۡكٞ مُّفۡتَرٗىۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ ٤٣
Когда им читают Наши ясные аяты, они говорят: «Это - всего лишь мужчина, который хочет удержать вас от того, чему поклонялись ваши отцы». Они говорят: «Это - всего лишь вымышленная ложь». А те, которые не уверовали в истину, когда она явилась к ним, говорят: «Это - всего лишь очевидное колдовство».
وَمَآ ءَاتَيۡنَٰهُم مِّن كُتُبٖ يَدۡرُسُونَهَاۖ وَمَآ أَرۡسَلۡنَآ إِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِن نَّذِيرٖ ٤٤
Мы не даровали им Писаний, которые они могли бы изучить, и не посылали к ним до тебя предостерегающего увещевателя.
وَكَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡ وَمَا بَلَغُواْ مِعۡشَارَ مَآ ءَاتَيۡنَٰهُمۡ فَكَذَّبُواْ رُسُلِيۖ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيرِ ٤٥
Те, которые были до них, сочли лжецами посланников. Они (мекканские многобожники) не получили даже десятой части того, что Мы даровали им, однако они сочли лжецами Моих посланников. Каким же было Мое обличение!
اور جب تلاوت کی جاتی ہیں ان پرہماری آیتیں واضح تو وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ مگر ایک ایسا آدمی جو چاہتا ہے کہ روک دے تمھیں ان (معبودوں) سے کہ تھے (جن کی) عبادت کرتے تمھارے باپ دادااور وہ کہتے ہیں، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر ایک جھوٹ گھڑا ہوا، اور کہا انھوں نے جنھوں نے کفر کیا: حق کی بابت، جب وہ آیا ان کے پاس، نہیں ہے یہ مگرجادو بالکل واضح(43) اور نہیں دیں ہم نے ان (عربوں) کو کچھ کتابیں کہ وہ پڑھتے ہوں انھیں اور نہیں بھیجا ہم نے ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا(44) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے ہوئے، جبکہ نہیں پہنچتے یہ دسویں حصے کو اس کےجو دیا تھا ہم نے ان (پہلوں) کو، پس جھٹلایا انھوں نے میرے رسولوں کو توکیسا ہوا (ان پر) میرا عذاب؟(45)
[43] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس وقت مشرکین کی کیا حالت ہوتی تھی جب ان کے سامنے واضح آیات تلاوت کی جاتی تھیں اور ایسے قطعی براہین و دلائل پیش کیے جاتے تھے جو ہر بھلائی پر دلالت کرتے اور ہر برائی سے روکتے تھے، یہ آیات اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو نوازا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا احسان اور اس کی عنایت تھی جو ان کے دروازے تک پہنچی اور اس بات کی موجب تھی کہ ایمان و تصدیق اور اطاعت و تسلیم کے ساتھ اس کو قبول کیا جاتا۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ انھوں نے اس مناسب رویے سے متضاد رویے کے ساتھ ان کا سامنا کیا۔ وہ ان انبیاء کی تکذیب کیاکرتے تھے جو ان کے پاس آئے تھے اور کہا کرتے تھے:﴿مَا هٰؔذَاۤ اِلَّا رَجُلٌ يُّرِيۡدُ اَنۡ يَّصُدَّكُمۡ عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک ایسا شخص ہے جو چاہتا ہے کہ جن چیزوں کی تمھارے باپ دادا عبادت کیا کرتے تھے ان سے تم کو رو ک دے۔‘‘ یعنی جب وہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کا حکم دیا کرتا تھا تو اس وقت اس کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ تم اپنے باپ دادا کی عادات کو ترک کر دو، جن کی تم تعظیم اور ان کی پیروی کرتے ہو۔ پس انھوں نے گمراہوں کے کہنے پر حق کو ٹھکرا دیا اور اس کو ٹھکراتے وقت انھوں نے کوئی دلیل اور برہان پیش کی نہ کوئی شبہ وارد کیا اور یہ کون سا شبہ ہے کہ جب رسول بعض گمراہ لوگوں کو اتباع حق کی دعوت دیں تو یہ لوگ دعویٰ کریں کہ گزشتہ زمانے میں ان کے بھائی بند بھی، جن کے یہ پیروکار ہیں، اسی طریقہ پر کاربند تھے۔اگر آپ ان کی اس سفاہت، حماقت اور گمراہ لوگوں کے کہنے کی وجہ سے ان کے حق کو ٹھکرانے پر غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کی حماقت کے ڈانڈے مشرکوں، دہریوں، فلسفیوں، صابیوں، ملحدوں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل بھاگنے والوں کے گمراہ نظریات سے جا ملتے ہیں۔ قیامت تک ہر شخص کے لیے یہی اسوہ رہے گا جو حق کو ٹھکراتا ہے۔ انھوں نے اپنے آباء و اجداد کے افعال کو دلیل بنا کر انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرایا اور اس کے بعد حق کو مطعون کیا ﴿وَقَالُوۡا مَا هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡكٌ مُّفۡتَرًى ﴾ ’’اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن صرف اور صرف گھڑا ہوا جھوٹ ہے۔‘‘ یعنی یہ اس شخص کا گھڑا ہوا جھوٹ ہے جو اسے لے کر آیا ہے ﴿وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمۡ١ۙ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’اور ان کافروں کے پاس جب حق آگیا تو انھوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔‘‘ یعنی یہ کھلا جادو ہے جو ہر ایک پر ظاہر ہے۔ وہ یہ بات حق کی تکذیب اور بے عقل لوگوں کو فریب میں مبتلا کرنے کے لیے کہتے تھے۔
[44] جب وہ تمام اعتراضات واضح ہو گئے جن کی بنیاد پر وہ حق کو ٹھکراتے تھے کہ ان کا دلیل ہونا تو کجا ان کی بنیاد پر تو شبہ بھی نہیں کیا جا سکتا، تو ذکر فرمایا کہ کوئی شخص ان کی تائید میں دلیل لانے کی کوشش کرے تو ان کے پاس کوئی دلیل نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔ ﴿وَمَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ مِّنۡ كُتُبٍ يَّدۡرُسُوۡنَهَا۠﴾ ’’اور ہم نے نہ تو انھیں کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں۔‘‘ کہ وہ کتاب ان کے لیے کوئی دلیل ہوتی ﴿وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلَيۡهِمۡ قَبۡلَكَ مِنۡ نَّذِيۡرٍ﴾ ’’اور نہ آپ سے پہلے ہم نے ان کے پاس کوئی ڈرانے والا بھیجا ہے۔‘‘ کہ ان کے پاس اس کے اقوال و احوال ہوں جن کی بنیاد پر یہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا رہے ہوں۔ ان کے پاس علم ہے نہ علم کا کوئی نشان۔
[45] پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں، ان سے پہلے انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کے انجام سے ڈراتے ہوئے فرمایا:﴿وَؔكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ١ۙ وَمَا بَلَغُوۡا ﴾ ’’اور جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے انھوں نے (حق کو) جھٹلایا تھا اور یہ لوگ نہیں پہنچے‘‘ یعنی یہ مخاطبین نہیں پہنچتے ﴿مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا ﴾ ’’اس سازو سامان کے عشر عشیر کو بھی جو ہم نے ان (پہلے لوگوں) کو عطا کیا تھا تو انھوں نے جھٹلایا‘‘ یعنی ان سے پہلے امتوں نے ﴿رُسُلِيۡ١۫ فَكَيۡفَ كَانَ نَؔكِيۡرِ ﴾ ’’میرے رسولوں کو تو پھر میرا عذاب کیسا ہوا۔‘‘ یعنی میری ان پر گرفت اور میرا ان پر عذاب کیسا تھا؟ہم اس سے قبل بتا چکے ہیں کہ گزشتہ قوموں کو کیا کیا سزائیں دی گئیں ان میں سے کچھ قوموں کو سمندر میں غرق کر دیا، کچھ لوگوں کو سخت طوفانی ہوا کے ذریعے سے ہلاک کر ڈالا، کچھ قوموں کو ایک سخت چنگھاڑ کے ذریعے سے، کچھ کو زلزلے کے ذریعے سے ہلاک کیا اور کچھ قوموں کو زمین میں دھنسا دیا اور بعض قوموں پر ہم نے ہوا کے ذریعے سے آسمان سے پتھر برسائے۔ انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والے لوگو! تکذیب پر جمے رہنے سے بچو، ورنہ تم بھی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے تھے اور تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جیسے تم سے پہلی قوموں پر عذاب نازل ہوا تھا۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии