Ас-Саади · Тафсир · на урду
Йа Син 36:41–70
36:41–50Страница 443
وَءَايَةٞ لَّهُمۡ أَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي ٱلۡفُلۡكِ ٱلۡمَشۡحُونِ ٤١
Знамением для них является то, что Мы перенесли их потомство в переполненном ковчеге.
وَخَلَقۡنَا لَهُم مِّن مِّثۡلِهِۦ مَا يَرۡكَبُونَ ٤٢
Мы создали для них по его подобию то, на что они садятся.
وَإِن نَّشَأۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنقَذُونَ ٤٣
Если Мы пожелаем, то потопим их, и тогда никто не спасет их, и сами они не спасутся,
إِلَّا رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٖ ٤٤
если только Мы не окажем им милость и не позволим им пользоваться благами до определенного времени.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُواْ مَا بَيۡنَ أَيۡدِيكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُونَ ٤٥
Когда им говорят: «Бойтесь того, что перед вами, и того, что после вас, чтобы вы были помилованы», - они не отвечают.
وَمَا تَأۡتِيهِم مِّنۡ ءَايَةٖ مِّنۡ ءَايَٰتِ رَبِّهِمۡ إِلَّا كَانُواْ عَنۡهَا مُعۡرِضِينَ ٤٦
Какое бы знамение из знамений их Господа не явилось к ним, они непременно отворачиваются от него.
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَنُطۡعِمُ مَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطۡعَمَهُۥٓ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٤٧
Когда им говорят: «Расходуйте из того, чем вас наделил Аллах», - неверующие говорят верующим: «Неужели мы будем кормить того, кого накормил бы Аллах, если бы пожелал? Воистину, вы лишь находитесь в очевидном заблуждении».
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلۡوَعۡدُ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٤٨
Они говорят: «Когда сбудется это обещание, если вы говорите правду?».
مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ تَأۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُونَ ٤٩
Им нечего ожидать, кроме одного только гласа, который поразит их тогда, когда они будут препираться.
فَلَا يَسۡتَطِيعُونَ تَوۡصِيَةٗ وَلَآ إِلَىٰٓ أَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُونَ ٥٠
Они не смогут ни оставить завещание, ни вернуться к своим семьям.
اور ایک نشانی ان کے لیے یہ ہے کہ بے شک ہم نے اٹھایا ان کی نسل کو اس کشتی میں (جو) بھری ہوئی (تھی)(41) اور پیدا کیں ہم نے ان کے لیے اس جیسی(اور سواریاں) جن پر وہ سوار ہوتے ہیں (42) اور اگر ہم چاہیں تو غرق کر دیں ان کو، پس نہیں ہوگا کوئی فریاد رس واسطے ان کے اور نہ وہ چھڑائے جائیں (43) مگر رحمت سے ہماری، اور فائدہ پہنچانے کو ایک مدت تک (44) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، بچو اس (عذاب) سے جو تمھارے سامنے اور جو تمھارے پیچھے ہے، تاکہ تم رحم کیے جاؤ (45) اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی، ان کے رب کی نشانیوں میں سے، مگر ہوتے ہیں وہ اس سے اعراض کرنے والے ہی (46) اور جب کہا جاتا ہے ان سے، تم خرچ کرو اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے، تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، ان سے جو ایمان لائے، کیا کھلائیں ہم اس کو کہ اگر چاہتا اللہ(کھلانا) تو کھلا دیتا اس کو، نہیں ہو تم مگر گمراہی صریح میں (47) اور وہ کہتے ہیں: کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ اگر ہو تم سچے؟ (48) نہیں انتظار کر رہے وہ مگر ایک زور کی آواز کا جو آ پکڑے گی ان کو اور وہ آپس میں جھگڑ رہے ہوں گے(49) پس نہ طاقت رکھیں گے وہ وصیت کرنے کی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف ہی لوٹ سکیں گے (50)
[41] نیز یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود بر حق ہے کیونکہ وہی اکیلا نعمتیں عطا کرتا ہے اور مصائب و شدائد کو دور کرتا ہے اور اس کی جملہ نعمتوں میں ایک نعمت یہ ہے کہ ﴿اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ ﴾ ’’ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا۔‘‘ بہت سے مفسرین کی رائے ہے کہ اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں۔
[42]﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ ﴾ ’’اور ہم نے ان کے لیے پیدا کیں۔‘‘ یعنی موجود اور آنے والے لوگوں کے لیے ﴿مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ﴾ ’’ویسی ہی‘‘ یعنی اس کشتی جیسی یعنی اس کی جنس میں سے ﴿مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’جس پر یہ سواری کرتے ہیں۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کے آباء و اجداد پر اپنی نعمت کا ذکر فرمایا کہ اس نے ان کو کشتی میں سوار کرایا۔ ان پر نعمت کا فیضان گویا اولاد پر نعمت کا فیضان ہے۔ تفسیر کے اعتبار سے یہ مقام میرے لیے مشکل ترین مقام ہے کیونکہ بہت سے مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد آباء و اجداد ہیں، مگر قرآن کریم میں ذریت کا آباء و اجداد پر اطلاق کہیں نہیں آتا… بلکہ اگر اس کو ان معنوں میں لیا جائے تو اس میں ابہام اور کلام کو اصل موضوع کے دائرے سے خارج کرنا ہے جس سے رب العالمین کا کلام انکار کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ اپنے بندوں کے سامنے ایضاح و بیان ہے۔یہاں ایک اور احتمال بھی ہے جو اس سے بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ’’ذریت‘‘ سے مراد جنس ہے یعنی اس سے مراد وہ خود ہیں کیونکہ وہی آدم کی ذریت ہیں، مگر یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس قول کے متناقض ہے۔ ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کے لیے اسی جیسی اور چیزیں پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوجاتے ہیں۔‘‘ اگر اس سے مراد یہ ہو کہ ہم نے اس کشتی جیسی کشتی تخلیق کی۔ یعنی ان مخاطبین کے لیے جو مختلف انواع کی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں… تو یہ معنی کا تکرار ہے، قرآن کریم کی فصاحت اس سے انکار کرتی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد ﴿وَخَلَقۡنَا لَهُمۡ مِّنۡ مِّؔثۡلِهٖ مَا يَرۡؔكَبُوۡنَ ﴾ سے اونٹ مراد لیے جائیں جو صحرا کے جہاز ہیں تو معنی نہایت درست اور واضح ہے… البتہ اس معنی کے مطابق بھی کلام میں تشویش باقی رہ جاتی ہے کیونکہ اگر یہ معنی مراد ہوتا تو اللہ یوں ارشاد فرماتا: (وَاٰیَۃٌ لَّھَم اَنَّا حَمَلْنَا ھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُونَ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُونَ ) ’’اور ان کے لیے نشانی ہے کہ ہم نے انھیں بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا اور ان کے لیے اسی جیسی دوسری چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔‘‘ رہا پہلی آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے ان کی اولاد کو سوار کیا اور دوسری آیت کریمہ میں یہ فرمانا کہ ہم نے انھیں سوار کیا، تو اس سے معنی واضح نہیں ہوتا۔ سوائے اس کے یہ کہا جائے کہ ضمیر (ذریۃ) کی طرف لوٹتی ہو اور حقیقت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔جب میں یہاں تک لکھ چکا تو مجھ پر ایک معنی ظاہر ہوا جو اللہ تعالیٰ کی مراد سے بعید نہیں، جو کوئی کتاب اللہ کے جلال اور ہر لحاظ سے حال، ماضی اور مستقبل کے امور کے لیے اس کے بیان کامل کی معرفت رکھتا ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ وہ معنی ذکر کرتا ہے جو اپنے احوال میں کامل ترین معنی ہوں۔ کشتی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی اور اس کے بندوں کے لیے اس کی نعمت ہے… جب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو کشتی کی نعمت اور اس کی تعلیم سے نوازا ہے اس وقت سے لے کر روز قیامت اور قرآن کے مخاطبین کے زمانے تک، ہر زمانے میں کشتی موجود رہی ہے۔ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو قرآن کے ذریعے سے مخاطب کیا اور کشتی کا حال بیان کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ ان مخاطبین کے زمانے کے بعد ایسی ایسی کشتیاں ایجاد ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں ہوں گی اور اللہ تعالیٰ ان کو بحری، بادبانی اور بھاپ سے چلنے والی، فضا میں پرندوں کی مانند تیرنے والی کشتیوں اور خشکی پر چلنے والی سواریوں کی صنعت کی تعلیم دے گا اور یہ عظیم نشانی صرف ان کی ذریت کے زمانے ہی میں پائی جائے گی۔اللہ تعالیٰ نے کتاب کریم میں اپنی نشانیوں کی تمام انواع میں سے، اعلیٰ ترین نشانی کی طرف اشارہ کیا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِي الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِ﴾ ’’اور ان کے لیے ایک نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی اولاد کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔‘‘ یعنی سواریوں اور سامان سے بھری ہوئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان سواریوں پر سوار کرایا اور ان اسباب کے ذریعے سے ان کو ڈوبنے سے بچایا جو اس نے انھیں سکھائے تھے۔
[43] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی طرف توجہ دلائی کہ اس نے ان کو غرق کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود ڈوبنے سے بچایا، چنانچہ فرمایا:﴿وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو انھیں غرق کردیں ، پھر ان کا کوئی فریاد رس نہ ہو۔‘‘ یعنی کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس مصیبت میں چیخ و پکار سن کر ان کی مدد کر سکے اور ان کی مصیبت کو دور کر سکے۔ ﴿وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَ﴾ ’’اور نہ وہ کسی طرح بچائے جا سکیں گے‘‘ اس مصیبت سے جس میں وہ مبتلا ہیں۔
[44]﴿اِلَّا رَحۡمَةً مِّؔنَّا وَمَتَاعًا اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’مگر یہ ہماری رحمت اور ایک مدت تک کے فائدے ہیں۔‘‘ یعنی ہم نے ان سے لطف و کرم کرنے اور ایک مدت تک ان کو متمتع کرنے کی بنا پر ان کو ڈبویا نہیں، شاید! وہ ہماری طرف رجوع کریں یا اپنی کوتاہیوں کی تلافی کریں۔
[45]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمُ اتَّقُوۡا مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡكُمۡ وَمَا خَلۡفَكُمۡ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا گیا کہ جو تمھارے آگے ہے کہ جو تمھارے پیچھے ہے اس سے ڈرو‘‘ یعنی برزخ اور قیامت کے احوال اور دنیاوی سزاؤں سے اپنا بچاؤ کرو۔ ﴿لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’شاید! تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ تو انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے روگردانی کی اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آئی، مگر انھوں نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔
[46] اس لیے فرمایا: ﴿وَمَا تَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ اٰيَةٍ مِّنۡ اٰيٰتِ رَبِّهِمۡ اِلَّا كَانُوۡا عَنۡهَا مُعۡرِضِيۡنَ ﴾ ’’ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے جو بھی نشانی آتی یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔‘‘ آیات کی، ان کے رب کی طرف اضافت ان آیات کے کامل اور واضح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے زیادہ کوئی چیز واضح نہیں۔ اپنے بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی جملہ تربیت میں سے ایک چیز کہ اس نے اپنی آیات اپنے بندوں تک پہنچائیں جن کے ذریعے سے وہ ان امور میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں جو ان کے لیے دین و دنیا میں فائدہ مند ہیں۔
[47]﴿وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ﴾ ’’اور جب ان سے کہا جاتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے میں سے کچھ دو‘‘ یعنی اس رزق سے خرچ کرو جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے، اگر وہ چاہتا تو وہ اسے تم سے سلب کر لیتا۔ ﴿قَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا لِلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا ﴾ ’’کافروں نے مومنوں سے کہا‘‘ یعنی کفار نے حق کی مخالفت اور مشیت کو حجت بناتے ہوئے کہا: ﴿اَنُطۡعِمُ مَنۡ لَّوۡ يَشَآءُ اللّٰهُ اَطۡعَمَهٗۤ١ۖ ۗ اِنۡ اَنۡتُمۡ ﴾ ’’(اے مومنو!) کیا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں، جن کو اگر اللہ کھلانا چاہتا تو کھلا دیتا نہیں ہو تم‘‘ ﴿اِلَّا فِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ ﴾ ’’مگر کھلی گمراہی میں‘‘ کیونکہ تم ہمیں اس بات کا حکم دے رہے ہو۔ان کا یہ قول ان کی جہالت یا تجاہل پر دلالت کرتا ہے کیونکہ مشیت الٰہی کسی نافرمان کی نافرنی کے لیے ہرگز دلیل نہیں۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو سکتا تاہم اس نے اپنے بندوں کو اختیار عطا کیا ہے اور انھیں قوت سے نوازا ہے جس کے ذریعے سے وہ اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر سکتے ہیں۔ اگر وہ کسی ایسی چیز کو ترک کرتے ہیں جس کی تعمیل کا انھیں حکم دیا گیا ہے تو وہ اپنے اختیار سے ترک کرتے ہیں اور ان پر کوئی جبر نہیں ہوتا۔
[48، 49]﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ ﴾ وہ تکذیب کرتے اور عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہوئے کہتے ہیں ﴿مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔‘‘ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا کہ وہ قیامت کو دور نہ سمجھیں وہ بہت قریب ہے۔ ﴿مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’وہ صرف ایک سخت چیخ کا انتظار کررہے ہیں‘‘ اور وہ صور پھونکنے کی آواز ہو گی۔ ﴿تَاۡخُذُهُمۡ ﴾ یعنی صور کی چنگھاڑ انھیں آ لے گی ﴿وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ﴾ ’’جبکہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے‘‘ اور وہ اس آواز کے بارے میں غافل ہوں گے۔ ان کے آپس میں جھگڑے کی حالت میں، جو کہ اکثر غفلت کے وقت ہوتا ہے اور ان کے دل میں اس کے بارے میں خیال بھی نہ گزرا ہوگا۔
[50] جب وہ چنگھاڑ ان کی غفلت کے وقت ان کو آ لے گی تو اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ دی جائے گی۔ ﴿فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ۠ تَوۡصِيَةً ﴾ وہ تھوڑی یا زیادہ کسی قسم کی وصیت نہ کر سکیں گے۔ ﴿وَّلَاۤ اِلٰۤى اَهۡلِهِمۡ يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ اپنے گھروں کو لوٹ ہی سکیں گے۔‘‘
36:51–54Страница 443
وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلۡأَجۡدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يَنسِلُونَ ٥١
Протрубят в Рог, и вот они устремляются к своему Господу из могил.
قَالُواْ يَٰوَيۡلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرۡقَدِنَاۜۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحۡمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلۡمُرۡسَلُونَ ٥٢
Они скажут: «О горе нам! Кто поднял нас с места, где мы спали?». Это - то, что обещал Милостивый, и посланники говорили правду».
إِن كَانَتۡ إِلَّا صَيۡحَةٗ وَٰحِدَةٗ فَإِذَا هُمۡ جَمِيعٞ لَّدَيۡنَا مُحۡضَرُونَ ٥٣
Будет один только глас, и все они будут собраны у Нас.
فَٱلۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗا وَلَا تُجۡزَوۡنَ إِلَّا مَا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ ٥٤
Сегодня ни одной душе не будет причинено никакой несправедливости, и вам воздастся только за то, что вы совершали.
اور پھونکا جائے گا صور، تو یکایک وہ اپنی قبروں سے (نکل کر) اپنے رب کی طرف تیزی سے دوڑیں گے (51) کہیں گے، ہائے افسوس! کس نے اٹھایا ہمیں ہماری خواب گاہ سے؟ یہی ہے وہ جو وعدہ کیا تھا رحمٰن نے اور سچ کہا تھا رسولوں نے (52) نہیں ہو گی وہ مگر زور کی ایک آواز، پس یکایک وہ سب ہمارے پاس حاضر کیے جائیں گے (53) پس آج نہیں ظلم کیا جائے گا کسی جان پر کچھ بھی اور نہ بدلہ دیے جاؤ گے تم مگر وہی جو تھے تم عمل کرتے (54)
[51] صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہو گی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لیے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کر سکیں گے۔
[52] اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے:﴿يٰوَيۡلَنَا مَنۢۡ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَا ﴾ ’’ہائے افسوس ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟‘‘ یعنی ہمیں ہماری قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا۔ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا:﴿هٰؔذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ﴾ یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمھارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمھاری آنکھوں کے سامنے ان کی صداقت ظاہر ہو گئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لیے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہو گا، مثلاً: فرمایا: ﴿اَلۡمُلۡكُ يَوۡمَىِٕذِنِ الۡحَقُّ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(الفرقان: 25؍26) ’’اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمان کا ہو گا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَخَشَعَتِ الۡاَصۡوَاتُ لِلرَّحۡمٰنِ ﴾(طٰہٰ: 20؍108) ’’اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔‘‘ اور اس طرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر فرمایا ہے۔
[53]﴿اِنۡ كَانَتۡ ﴾ ’’نہیں ہوگا‘‘ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا ﴿اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ۔‘‘ اسرافیلu صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے ﴿فَاِذَا هُمۡ جَمِيۡعٌ لَّـدَيۡنَا مُحۡضَرُوۡنَ ﴾ اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کیے جائیں گے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔
[54]﴿فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡـًٔؔا ﴾ ’’پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برائیوں میں اضافہ۔ ﴿وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی جس خیروشر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمھیں جزا و سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہیے۔
36:55–58Страница 444
إِنَّ أَصۡحَٰبَ ٱلۡجَنَّةِ ٱلۡيَوۡمَ فِي شُغُلٖ فَٰكِهُونَ ٥٥
Воистину, обитатели Рая сегодня будут заняты тем, что будут наслаждаться.
هُمۡ وَأَزۡوَٰجُهُمۡ فِي ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلۡأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ ٥٦
Они и их супруги будут лежать в тенях на ложах, прислонившись.
لَهُمۡ فِيهَا فَٰكِهَةٞ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ ٥٧
Там для них есть фрукты и все, что они потребуют.
سَلَٰمٞ قَوۡلٗا مِّن رَّبّٖ رَّحِيمٖ ٥٨
Милосердный Господь приветствует их словом: «Мир!».
بے شک جنتی آج (اپنے) شغل میں خوش ہوں گے (55) وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے (56) ان کے لیے اس میں میوہ ہو گا(ہر قسم کا) اور ان کے لیے وہ ہو گا جو وہ مانگیں گے (57) سلام کہا جائے گا (انھیں) نہایت مہربان رب کی طرف سے (58)
[55، 56] جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ہر شخص کو صرف اس کے اعمال کی جزا ملے گی تو دونوں فریقوں کی جزا و سزا کا ذکر بھی کیا۔ پہلے اہل جنت کی جزا کا ذکر کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ اہل جنت اس روز ﴿فِيۡ شُغُلٍ فٰكِهُوۡنَ﴾ ’’لطف اٹھانے میں مشغول ہوں گے۔‘‘ یعنی ایسے مشاغل میں مشغول ہوں گے جن سے نفس کو لطف اور لذت محسوس ہو گی، ہر وہ چیز جو نفس چاہیں گے، آنکھیں جس سے لذت حاصل کریں گی اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے۔ ان نعمتوں میں خوبصورت دوشیزاؤ ں سے ملاقات شامل ہے، جیسا کہ فرمایا:﴿هُمۡ وَاَزۡوَاجُهُمۡ ﴾ ’’وہ اور ان کی بیویاں‘‘ خوبصورت آنکھوں والی جو خوبصورت چہروں اور خوبصورت بدنوں والی ہونے کے ساتھ ساتھ خوب سیرت بھی ہوں گی۔ ﴿فِيۡ ظِلٰلٍ عَلَى الۡاَرَآىِٕكِ ﴾ ’’سایوںمیں مسہریوں میں ہوں گے‘‘ یعنی وہ ایسی مسندوں پر بیٹھیں گے جو خوبصورت لباس سے مزین ہوں گی۔ ﴿مُتَّـكِــُٔوۡنَ ﴾ مسند پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے ان کا تکیہ لگانا، کمال راحت، طمانیت اور لذت پر دلالت کرتا ہے۔
[57]﴿لَهُمۡ فِيۡهَا فَاكِهَةٌ ﴾ اس میں ان کے لیے تمام قسم کے لذیذ پھل اور میوے بکثرت ہوں گے ، مثلاً: انگور، انجیر اور انار وغیرہ۔ ﴿وَّلَهُمۡ مَّا يَدَّعُوۡنَ﴾ یعنی جو کچھ بھی وہ طلب کریں گے اور تمنا کریں گے، پا لیں گے۔
[58] نیز ان کو ﴿سَلٰمٌ ﴾ ’’سلام‘‘ حاصل ہوگا ﴿مِّنۡ رَّبٍّ رَّحِيۡمٍ ﴾ ’’مہربان رب کی طرف سے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت کے ساتھ کلام فرمائے گا اور ان پر اس کا سلام ہو گا اور اسے اپنے ارشاد ﴿قَوۡلًا ﴾ کے ذریعے سے مؤکد کیا اور جب رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا تو انھیں ہر لحاظ سے مکمل سلامتی حاصل ہو گی۔ انھیں سلام کہا جائے گا جس سے بڑھ کر کوئی سلام نہیں اور اس جیسی کوئی نعمت نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے بادشاہوں کے بادشاہ، رب عظیم اور رؤ ف و رحیم کی طرف سے اکرام و تکریم کے گھر میں رہنے والے ان لوگوں کو بھیجا گیا سلام کیسا ہو گا، جن پر اس کی رضا سایہ کناں اور ناراضی ہمیشہ کے لیے دور ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے موت مقدر کی ہوتی یا فرحت و سرور کی وجہ سے حرکت قلب کا بند ہو جانا مقرر کیا ہوتا تو وہ خوشی سے ضرور مر جاتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہیں کرے گا اور ہمیں اپنے چہرۂ اقدس کا دیدار کرائے گا۔
36:59–67Страница 444
وَٱمۡتَٰزُواْ ٱلۡيَوۡمَ أَيُّهَا ٱلۡمُجۡرِمُونَ ٥٩
Отделитесь сегодня, грешники!
۞ أَلَمۡ أَعۡهَدۡ إِلَيۡكُمۡ يَٰبَنِيٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعۡبُدُواْ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّهُۥ لَكُمۡ عَدُوّٞ مُّبِينٞ ٦٠
Разве Я не завещал вам, сыны Адама, не поклоняться дьяволу, который является вашим явным врагом,
وَأَنِ ٱعۡبُدُونِيۚ هَٰذَا صِرَٰطٞ مُّسۡتَقِيمٞ ٦١
и поклоняться Мне? Это - прямой путь.
وَلَقَدۡ أَضَلَّ مِنكُمۡ جِبِلّٗا كَثِيرًاۖ أَفَلَمۡ تَكُونُواْ تَعۡقِلُونَ ٦٢
Он уже ввел в заблуждение многих из вас. Неужели вы не разумеете?
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِي كُنتُمۡ تُوعَدُونَ ٦٣
Вот Геенна, которая была вам обещана.
ٱصۡلَوۡهَا ٱلۡيَوۡمَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٦٤
Горите в ней сегодня за то, что вы не веровали».
ٱلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلَىٰٓ أَفۡوَٰهِهِمۡ وَتُكَلِّمُنَآ أَيۡدِيهِمۡ وَتَشۡهَدُ أَرۡجُلُهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ ٦٥
Сегодня Мы запечатаем их уста. Их руки будут говорить с Нами, а их ноги будут свидетельствовать о том, что они приобретали.
وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلَىٰٓ أَعۡيُنِهِمۡ فَٱسۡتَبَقُواْ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبۡصِرُونَ ٦٦
Если Мы пожелаем, то лишим их зрения, и тогда они бросятся к Пути. Но как они будут видеть?
وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيّٗا وَلَا يَرۡجِعُونَ ٦٧
Если Мы пожелаем, то обезобразим их на их местах, и тогда они не смогут ни двинуться вперед, ни вернуться.
الگ ہو جاؤ آج، اے مجرمو! (59)کیا نہیں وصیت (تاکید)کی تھی میں نے تمھیں، اے بنی آدم! اس بات کی کہ نہ عبادت کرنا تم شیطان کی، بلاشبہ وہ تمھارا دشمن ہے کھلم کھلا (60) اور یہ کہ عبادت کرو تم میری، یہی ہے راستہ سیدھا (61) اور البتہ تحقیق گمراہ کی اس نے تم میں سے مخلوق بہت سی، کیا پس نہیں تھے تم عقل رکھتے؟ (62) یہ ہے جہنم وہ جس کا تھے تم وعدہ دیے جاتے (63) داخل ہو جاؤ اس میں آج بہ سبب اس کے جوتھے تم کفر کرتے (64) آج ہم مہر لگا دیں گے اوپر ان کے مونہوں کے، اور کلام کریں گے ہم سے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر، ساتھ اس کےجوتھے وہ کماتے(کرتے)(65) اور اگر ہم چاہیں تو البتہ مٹا دیں ان کی آنکھیں، پھر وہ دوڑیں راستہ(تلاش کرنے) کو، پس کیوں کروہ دیکھ سکیں (66) اور اگر ہم چاہیں، تو البتہ مسخ کر دیں ہم ان کی صورتیں ان کی جگہوں پر ہی، پھر وہ نہ طاقت رکھیں (آگے) چلنے کی اور نہ ہی لوٹ سکیں وہ (67)
[59] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اہل تقویٰ کی جزا کا ذکر کرنے کے بعد مجرموں کی سزا بیان کی ہے۔ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کو قیامت کے روز کہا جائے گا: ﴿امۡتَازُوا الۡيَوۡمَ اَيُّهَا الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴾ یعنی اے مجرمو! تم اہل ایمان سے الگ ہو جاؤ۔ یہ حکم اس لیے ہوگا تاکہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں داخل کرنے سے قبل برسرعام زجروتوبیخ کرے اور ان سے کہے:
[60]﴿اَلَمۡ اَعۡهَدۡ اِلَيۡكُمۡ ﴾ یعنی کیا میں نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے تمھیں حکم نہیں دیا تھا اور تمھیں وصیت نہیں کی تھی اور تم سے یہ نہیں کہا تھا ﴿يٰبَنِيۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّيۡطٰنَ ﴾ ’’اے آدم کی اولاد! شیطان کی عبادت نہ کرنا۔‘‘ یعنی اس کی اطاعت نہ کرو؟ یہ زجروتوبیخ ہے اور اس میں ہر قسم کے کفرومعصیت پر زجروتوبیخ داخل ہے، کیونکہ کفرومعاصی کی تمام اقسام شیطان کی اطاعت اور اس کی عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ ﴿اِنَّهٗ لَكُمۡ عَدُوٌّ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔‘‘ پس میں نے تمھیں اس سے انتہائی حد تک بچنے کی ہدایت کی، تمھیں اس کی اطاعت سے ڈرایا اور وہ تمھیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے میں نے تمھیں اس سے خبردار کیا تھا۔
[61]﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ میں نے تمھیں حکم دیا تھا: ﴿اَنِ اعۡبُدُوۡنِيۡ ﴾ کہ میرے اوامر کی تعمیل کرتے اور میری نافرمانی سے بچتے ہوئے میری عبادت کرو۔ ﴿هٰؔذَا﴾ یعنی میری عبادت، میری اطاعت اور شیطان کی نافرمانی کرنا ﴿صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ﴾ ’’سیدھا راستہ ہے۔‘‘ پس صراط مستقیم کے علوم و اعمال انھی مذکورہ دو امور کی طرف راجع ہیں۔تم نے میرے عہد کی حفاظت کی نہ میری وصیت پر عمل کیا بلکہ تم نے اپنے دشمن یعنی شیطان سے دوستی رکھی۔
[62]﴿اَضَلَّ مِنۡكُمۡ جِبِلًّا كَثِيۡرًا ﴾ اور اس نے تم میں سے بہت زیادہ مخلوق کو گمراہ کیا۔ ﴿اَفَلَمۡ تَكُوۡنُوۡا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ یعنی کیا تم میں عقل نہیں جو تمھیں تمھارے رب اور حقیقی سرپرست کے ساتھ موالات رکھنے کا حکم دے اور تمھیں تمھارے بدترین دشمن کو اپنا دوست اور سرپرست بنانے سے روکے۔ اگر تمھاری عقل صحیح ہوتی تو تم ہرگز ایسا نہ کرتے۔
[63] اب جبکہ تم نے شیطان کی اطاعت کی، رحمان کے ساتھ عداوت کی، اس کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، قیامت یعنی دار جزا میں آ وارد ہوئے اور تم عذاب کے مستحق ٹھہرے تو ﴿هٰؔذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِيۡؔ كُنۡتُمۡ تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’یہ ہے وہ جہنم جس کا تم وعدہ دیے جاتے تھے‘‘ اور تم جھٹلایا کرتے تھے اب اس کو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھو، یہاں دل دہل جائیں گے، آنکھیں پھر جائیں گی اور بہت بڑی گھبراہٹ کا وقت ہو گا۔
[64] پھر اس کی تکمیل ہو گی اور ان کو جہنم میں ڈال دیے جانے کا حکم ہو گا اور ان سے کہا جائے گا: ﴿اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ یعنی جہنم میں داخل ہو جاؤ جہاں آگ تمھیں جلائے گی، آگ کی حرارت تمھیں گھیر لے گی، آیات الٰہی کے انکار اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کے سبب سے آگ تمھارے جسم کے ہر حصے کو جلائے گی۔
[65] اللہ تبارک وتعالیٰ نے بدبختی کے اس گھر میں ان کے بدترین احوال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡيَوۡمَ نَخۡتِمُ عَلٰۤى اَفۡوَاهِهِمۡ ﴾ ’’آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے۔‘‘ یعنی ہم ان کو گونگا بنا دیں گے پس وہ بول نہ سکیں گے کفر اور تکذیب پر مبنی اپنے اعمال کا انکار کرنے پر قادر نہیں ہوں گے ﴿وَتُكَلِّمُنَاۤ اَيۡدِيۡهِمۡ وَتَشۡهَدُ اَرۡجُلُهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کچھ یہ کرتے رہے تھے ان کے ہاتھ ہم سے بیان کردیں گے اور ان کے پاؤ ں گواہی دیں گے۔‘‘ یعنی ان کے اعضاء ان کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے اور وہ ہستی انھیں قوت گویائی عطا کرے گی جس نے ہر چیز کو قوت گویائی عطا کی ہے۔
[66]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَطَمَسۡنَا عَلٰۤى اَعۡيُنِهِمۡ ﴾ یعنی ہم اگر چاہیں تو ان کی بینائی سلب کر لیں جس طرح ہم نے ان کی گویائی سلب کر لی۔ ﴿فَاسۡتَبَقُوا الصِّرَاطَ ﴾ یعنی سیدھے راستے کی طرف سبقت کرو کیونکہ جنت تک پہنچنے کا صرف یہی راستہ ہے: ﴿فَاَنّٰى يُبۡصِرُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ کہاں سے دیکھ سکیں گے‘‘ کیونکہ ان کی آنکھوں کی بینائی سلب کر لی گئی ہے۔
[67]﴿وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ ﴾ ’’اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں۔‘‘ یعنی ہم ان کی حرکت سلب کر لیں ﴿فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا ﴾ ’’تو وہ چل پھر نہ سکتے‘‘ یعنی آگے کی جانب ﴿وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ ﴾ اور نہ آگ سے دور رہنے کے لیے پیچھے لوٹ سکیں۔ معنی یہ ہے کہ ان کفار کے لیے عذاب ثابت ہو گیا ، لہٰذا ان کو ضرور عذاب دیا جائے گا اور اس مقام پر جہنم کے سوا کچھ نہیں جو سامنے ہے اور اس پر بچھے ہوئے پل کو عبور کیے بغیر نجات کا کوئی راستہ نہیں اور اہل ایمان کے سوا اس پل کو کوئی عبور نہیں کر سکے گا۔ اہل ایمان اپنے ایمان کی روشنی میں پل کو عبور کریں گے۔ رہے یہ کفار تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے نجات کا کوئی وعدہ نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کی بینائی کو سلب کرلے اور ان کی حرکت کو باقی رکھے تب اگر یہ راستے کی طرف بڑھیں تو اس تک پہنچ نہیں پائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی حرکت کو بھی سلب کرلے تب یہ آگے بڑھ سکیں گے نہ پیچھے لوٹ سکیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ کفار پل صراط کو عبور کر سکیں گے نہ انھیں جہنم سے نجات حاصل ہو گی۔
36:68Страница 444
وَمَن نُّعَمِّرۡهُ نُنَكِّسۡهُ فِي ٱلۡخَلۡقِۚ أَفَلَا يَعۡقِلُونَ ٦٨
Тому, кому Мы даруем долгую жизнь, Мы придаем противоположный облик. Неужели они не разумеют?
اور جو شخص کہ عمر دیں ہم اس کو (زیادہ) تو الٹا دیتے ہیں ہم اس کو پیدائش میں، کیا پس نہیں وہ عقل رکھتے؟ (68)
[68]﴿وَمَنۡ نُّعَمِّرۡهُ ﴾ ’’اور ہم جس کو بڑی عمر دیتے ہیں۔‘‘ یعنی بنی آدم میں سے ﴿نُنَكِّسۡهُ فِي الۡخَلۡقِ ﴾ یعنی وہ اسی حالت کی طرف لوٹ آتا ہے جس سے ابتدا کی تھی، یعنی ضعف عقل اور ضعف قوت کی طرف۔ ﴿اَفَلَا يَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا وہ سمجھتے نہیں۔‘‘ آدمی ہر لحاظ سے ناقص ہے۔ پس انھیں چاہیے کہ وہ اپنی قوت اور عقل کا تدارک کریں اور انھیں اپنے رب کی اطاعت میں استعمال کریں۔
36:69–70Страница 444
وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ وَقُرۡءَانٞ مُّبِينٞ ٦٩
Мы не учили его (Мухаммада) поэзии, и не подобает ему это. Это - не что иное, как Напоминание и ясный Коран,
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيّٗا وَيَحِقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧٠
чтобы он предостерегал тех, кто жив, и чтобы сбылось Слово относительно неверующих.
اور نہیں سکھایا ہم نے اس (رسول) کو شعر کہنا اور نہ(یہ) لائق ہی تھا اس کے، نہیں ہے وہ (کلام الٰہی) مگر ایک نصیحت اور قرآن واضح(69) تاکہ ڈرائے وہ اس کو جو ہے زندہ اور ثابت ہو جائے بات (اللہ کی) اوپر کافروں کے (70)
[69] مشرکین نبی مصطفی ﷺ پر شاعر ہونے کا بہتان لگایا کرتے تھے نیز یہ کہ جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں وہ شاعری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو شاعری سے منزہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۢۡبَغِيۡ لَهٗ﴾ یعنی آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ آپ شاعری کریں۔ یعنی آپ کا شاعر ہونا جنس محال میں سے ہے۔ آپ تو ہدایت یافتہ ہیں جبکہ شعراء گمراہ ہوتے ہیں اور گمراہ لوگ ہی ان شعراء کی پیروی کرتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ سے تمام شبہات کو دور کر دیا جن کا یہ گمراہ لوگ سہارا لیا کرتے ہیں ، چنانچہ اس شبہ کو بھی ختم کر دیا کہ آپ لکھ سکتے ہیں یا پڑھ سکتے ہیں اور آگاہ فرمایا کہ اس نے آپ کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ شاعری آپ کے شایان شان ہے:﴿اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾یعنی یہ چیز جو محمد رسول ﷺ لے کر آئے ہیں ’’ذکر‘‘ ہے جس سے عقل مند لوگ تمام دینی مطالب میں راہنمائی حاصل کرتے ہیں، وہ تمام دینی مطالب پر کامل ترین طریقے سے مشتمل ہے اور وہ عقلوں کو اس چیز کی یاددہانی کرواتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اچھے کام کرنے کے حکم اور برے کاموں سے ممانعت کے طور پر انسانی فطرت میں ودیعت کر دیا ہے۔﴿وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور واضح قرآن ہے‘‘ یعنی جن امور کی تبیین مطلوب ہے ان سب کو بیان کرتا ہے۔ اس لیے معمول کو حذف کر دیا تاکہ وہ اس حقیقت پر دلالت کرے کہ وہ پورے حق کو اور باطل کے بطلان کو اجمالی اور تفصیلی دلائل کے ذریعے سے بیان کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول ﷺ پر اسی طرح نازل فرمایا۔
[70]﴿لِّيُنۡذِرَ مَنۡ كَانَ حَيًّا ﴾ ’’تاکہ اس شخص کو، جو زندہ ہو، متنبہ کرے۔‘‘ یعنی جو شخص دل زندہ رکھتا ہے وہی اس قرآن کے لائق ہے، اسی شخص کے علم و عمل میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن اس کے دل کے لیے وہی حیثیت رکھتا ہے جو نہایت عمدہ اور زرخیز زمین کے لیے بارش کی حیثیت ہوتی ہے۔ ﴿وَّيَحِقَّ الۡقَوۡلُ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور کافروں پر بات پوری ہوجائے۔‘‘ کیونکہ ان پر حجت الٰہی قائم ہو گئی اور ان کی حجت منقطع ہو گئی اور ان کے پاس ایک ادنیٰ سا عذر اور شبہ باقی نہیں رہا جس کا وہ سہارا لے سکیں۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии