Ас-Саади · Тафсир · на урду
Сад 38:41–64
38:41–44Страница 455
وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَآ أَيُّوبَ إِذۡ نَادَىٰ رَبَّهُۥٓ أَنِّي مَسَّنِيَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بِنُصۡبٖ وَعَذَابٍ ٤١
Помяни Нашего раба Айюба (Иова). Он воззвал к своему Господу: «Дьявол причинил мне вред и мучения!».
ٱرۡكُضۡ بِرِجۡلِكَۖ هَٰذَا مُغۡتَسَلُۢ بَارِدٞ وَشَرَابٞ ٤٢
Ему было сказано: «Топни ногой! Вот прохладная вода для купания и питье».
وَوَهَبۡنَا لَهُۥٓ أَهۡلَهُۥ وَمِثۡلَهُم مَّعَهُمۡ رَحۡمَةٗ مِّنَّا وَذِكۡرَىٰ لِأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ ٤٣
Мы даровали ему его семью и еще столько же вместе с ними по Нашей милости и как напоминание для обладающих разумом.
وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثٗا فَٱضۡرِب بِّهِۦ وَلَا تَحۡنَثۡۗ إِنَّا وَجَدۡنَٰهُ صَابِرٗاۚ نِّعۡمَ ٱلۡعَبۡدُ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٞ ٤٤
Возьми в руку пучок, ударь им жену и не преступай клятвы». Воистину, Мы нашли его терпеливым. Как прекрасен был этот раб! Воистину, он всегда обращался к Аллаху.
اور یاد کر ہمارے بندے ایوب کو، جب پکارا اس نے اپنے رب کو کہ بلاشبہ پہنچائی مجھے شیطان نے تکلیف اور ا یذا (41)(فرمایا)تومار(زمین پر) اپنا پیریہ (پانی ) ہے غسل کرنے کو ٹھنڈا اور پینے کو (42) اورعطا کیے ہم نے اس کو اس کے گھر والے اور ان کے برابر (اور) ان کے ساتھ، اپنی رحمت سے اور نصیحت واسطے عقل مندوں کے (43) اور پکڑ اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا تنکوں کا(یعنی جھاڑو)اور مار ساتھ اس کے (اپنی بیوی کو) اور نہ توڑ قسم، بے شک پایا ہم نے اسے صابر، اچھا بندہ تھاوہ، بلاشبہ وہ بہت رجوع کرنے والا تھا (44)
[41]﴿وَاذۡكُرۡ ﴾ ’’اور یاد کرو‘‘ یعنی نصیحت والی اس کتاب عظیم کے اندر ﴿عَبۡدَنَاۤ اَيُّوۡبَ ﴾ ’’ہمارے بندے ایوب کا‘‘ بہترین پیرائے میں ذکر کیجیے اور احسن طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے جب انھیں تکلیف اور مصیبت پہنچی تو انھوں نے اس تکلیف پر صبر کیا اور غیر کے سامنے اپنے رب کا شکوہ کیا نہ اس کے سوا کسی اور کا سہارا لیا ﴿اِذۡ نَادٰى رَبَّهٗۤ ﴾ جب ایوبu نے غیراللہ کے پاس نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس شکوہ کرتے اور اس سے دعا کرتے ہوئے اسی کو پکارا اور عرض کیا اے میرے رب! ﴿اَنِّيۡ مَسَّنِيَ الشَّيۡطٰنُ بِنُصۡبٍ وَّعَذَابٍ﴾ یعنی شیطان نے مجھے مشقت انگیز اور نہایت تکلیف دہ عذاب میں ڈال دیا ہے۔ شیطان کو آپ کے جسد پر تسلط حاصل ہو گیا اس نے پھونک ماری تو جسم پر پھوڑے بن گئے ، پھر ان سے پیپ بہنے لگی اور اس کے بعد معاملہ بہت سخت ہو گیا اور اسی طرح ان کا مال اور ان کے اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے۔
[42] ان سے کہا گیا ﴿اُرۡؔكُضۡ بِرِجۡلِكَ ﴾ یعنی اپنی ایڑی زمین پر ماریں آپ کے لیے ایک چشمہ زمین سے پھوٹ پڑے گا، اس چشمے کا پانی پیجیے اور اس سے غسل کیجیے۔ آپ کی بیماری اور تکلیف دور ہو جائے گی۔ آپ نے ایسا ہی کیا آپ کی بیماری دور ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا بخش دی۔
[43]﴿وَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اَهۡلَهٗ﴾ ’’اور ہم نے انھیں ان کے اہل و عیال عطا کردیے۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو زندہ کر دیا تھا۔ ﴿وَمِثۡلَهُمۡ مَّعَهُمۡ ﴾ اور دنیا میں اتنے ہی اور عطا کر دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت زیادہ مال سے بہرہ مند کر کے نہایت مال دار کر دیا ﴿رَحۡمَةً مِّؔنَّا ﴾ یعنی ہماری طرف سے ہمارے بندے ایوب پر رحمت تھی کیونکہ انھوں نے صبر کیا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دنیاوی اور اخروی ثواب سے بہرہ مند کیا۔ ﴿وَذِكۡرٰى لِاُولِي الۡاَلۡبَابِ ﴾ تاکہ عقل مند لوگ حضرت ایوبu کی حالت سے نصیحت اور عبرت پکڑیں اور انھیں معلوم ہو جائے کہ جو کوئی مصیبت میں صبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دنیاوی اور اخروی ثواب سے نوازتا ہے اور جب وہ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے۔
[44] اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت ایوبu کو حکم دیا ﴿وَخُذۡ بِيَدِكَ ضِغۡثًا ﴾ ’’اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو۔‘‘ یعنی درخت کی باریک شاخوں کا گٹھا ﴿فَاضۡرِبۡ بِّهٖ وَلَا تَحۡنَثۡ ﴾ ’’اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔‘‘ مفسرین کہتے ہیں کہ ایوبu بیماری اور تکلیف کے دوران کسی معاملے میں اپنی بیوی سے ناراض ہو گئے تھے، اس پر آپ نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے۔ ان کی بیوی، انتہائی نیک اور آپ کے ساتھ بھلائی کرنے والی خاتون تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس خاتون پر اور حضرت ایوبu پر رحم فرمایا اور فتویٰ دیا کہ وہ درخت کی باریک سو شاخوں کا گٹھا لے کر اس سے ایک ہی دفعہ ماریں ان کی قسم پوری ہو جائے گی۔ ﴿اِنَّا وَجَدۡنٰهُ صَابِرًا ﴾ یعنی ہم نے آپ کو بہت بڑی بیماری اور تکلیف کے ذریعے سے آزمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی خاطر صبر کیا۔ ﴿نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ﴾ ’’وہ بہترین بندے تھے‘‘ جنھوں نے خوشی اور مصیبت، خوش حالی اور بدحالی میں عبودیت کے مراتب کی تکمیل کی ﴿اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ ﴾ یعنی آپ اپنے دینی اور دنیاوی مطالب میں اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والے، اپنے رب کا بہت زیادہ ذکر کرنے والے، اس کو بہت زیادہ پکارنے والے، اس سے محبت اور اس کی عبادت کرنے والے تھے۔
38:45–47Страница 456
وَٱذۡكُرۡ عِبَٰدَنَآ إِبۡرَٰهِيمَ وَإِسۡحَٰقَ وَيَعۡقُوبَ أُوْلِي ٱلۡأَيۡدِي وَٱلۡأَبۡصَٰرِ ٤٥
Помяни Наших рабов Ибрахима (Авраама), Исхака (Исаака) и Йакуба (Иакова), могучих и прозорливых.
إِنَّآ أَخۡلَصۡنَٰهُم بِخَالِصَةٖ ذِكۡرَى ٱلدَّارِ ٤٦
Мы избрали их за то, что они искренне поминали Последнюю обитель.
وَإِنَّهُمۡ عِندَنَا لَمِنَ ٱلۡمُصۡطَفَيۡنَ ٱلۡأَخۡيَارِ ٤٧
Воистину, они у Нас - в числе избранных, лучших.
اوریاد کیجیے! ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب اصحاب قوت و بصیرت کو (45) بے شک چن لیا تھا ہم نے ان کو ایک خاص (خصلت) کے ساتھ (وہ ہے) یاد آخرت (46) اور بے شک وہ ہمارے نزدیک البتہ برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے (47)
[45] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاذۡكُرۡ عِبٰدَنَاۤ﴾ ’’ہمارے اور بندوں کا ذکر کیجیے‘‘ جنھوں نے خالص ہماری عبادت کی اور ہمیں اچھی طرح یاد کیا ﴿اِبۡرٰهِيۡمَ ﴾ ’’ابراہیم‘‘ خلیل اللہ ﴿وَ﴾ ’’اور‘‘ ان کے بیٹے ﴿اِسۡحٰقَ وَ﴾ ’’اسحاق اور ان (ابراہیمu) کے پوتے ﴿يَعۡقُوۡبَ اُولِي الۡاَيۡدِيۡ ﴾ ’’یعقوب یہ سب قوت والے تھے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے قوت رکھتے تھے۔ ﴿وَالۡاَبۡصَارِ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کے دین میں بصیرت سے بہرہ مند تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان سب کو علم نافع اور عمل صالح سے موصوف کیا۔
[46]﴿اِنَّـاۤ اَخۡلَصۡنٰهُمۡ بِخَالِصَةٍ ﴾ ’’بے شک ہم نے انہیں ایک امتیازی بات کے ساتھ خاص کیا۔‘‘ یعنی بہت بڑی خالص صفت کے ساتھ جو کہ ﴿ذِكۡرَى الدَّارِ﴾ ’’آخرت کی یاد ہے‘‘ یعنی ہم نے آخرت کی یاد ان کے دلوں میں جاگزیں کر دی، عمل صالح کو ان کے وقت کا مصرف، اخلاص اور مراقبہ کو ان کا دائمی وصف بنا دیا۔ ہم نے ان کو اس طرح آخرت کی یاد بنا دیا کہ نصیحت پکڑنے والا ان کے احوال سے نصیحت اور عبرت حاصل کرنے والا عبرت حاصل کرتا ہے اور یہ بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔
[47]﴿وَاِنَّهُمۡ عِنۡدَنَا لَمِنَ الۡمُصۡطَفَيۡنَ ﴾ ’’اور یقینا وہ ہمارے نزدیک منتخب لوگوں میں سے ہیں‘‘ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بہترین مخلوق میں سے چن لیا۔ ﴿الۡاَخۡيَارِ﴾ ’’بہترین لوگ ہیں‘‘ یعنی وہ لوگ اخلاق کریمہ اور عمل صالح کے حامل ہیں۔
38:48–49Страница 456
وَٱذۡكُرۡ إِسۡمَٰعِيلَ وَٱلۡيَسَعَ وَذَا ٱلۡكِفۡلِۖ وَكُلّٞ مِّنَ ٱلۡأَخۡيَارِ ٤٨
Помяни Исмаила (Измаила), Альясу (Елисея) иЗулькифла. Все они принадлежат к числу лучших.
هَٰذَا ذِكۡرٞۚ وَإِنَّ لِلۡمُتَّقِينَ لَحُسۡنَ مَـَٔابٖ ٤٩
Это - Напоминание, и богобоязненным уготовано прекрасное место возвращения -
اوریاد کیجیے ! اسماعیل اور یسع اور ذوالکفل کو، اور ہر ایک (ان میں سے) نیکوں میں سے تھا (48) یہ ایک نصیحت ہے اور بے شک واسطے متقیوں کے البتہ اچھا ٹھکانا ہے(49)
[48] یعنی ان انبیائے کرام کو احسن طریقے سے یاد کیجیے اور بہترین طریقے سے ان کی مدح و ثنا کیجیے کیونکہ یہ سب بہترین لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے چن لیا، ان کو کامل ترین احوال، بہترین اعمال واخلاق، قابل تعریف اوصاف اور درست خصائل کا حامل بنایا۔
[49]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ یعنی انبیاء و مرسلین اور ان کے اوصاف کا تذکرہ تو ﴿ذِكۡرٌ ﴾ ’’نصیحت ہے‘‘ اس نصیحت کرنے والے قرآن کریم تاکہ ان کے احوال سے نصیحت حاصل کرنے والے نصیحت حاصل کریں، اقتدا کرنے والے ان کے اوصاف حمیدہ کی پیروی کے مشتاق ہوں اور ان اوصاف زکیہ اور ثنائے حسن کی معرفت حاصل ہو، جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو سرفراز فرمایا۔ یہ بھی ذکر کی ایک قسم ہے، یعنی اہل خیر کا تذکرہ، اہل خیر اور اہل شر کی جزا و سزا کا تذکرہ بھی ذکر ہی کی ایک قسم ہے، اس لیے فرمایا:﴿وَاِنَّ لِلۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ یعنی ان تمام مومنین اور مومنات کے لیے جو اپنے رب کے حکم کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کے ذریعے سے تقویٰ اختیار کرتے ہیں ﴿لَحُسۡنَ مَاٰبٍ﴾ بہترین ٹھکانا اور خوب ترین مرجع ہے۔
38:50–54Страница 456
جَنَّٰتِ عَدۡنٖ مُّفَتَّحَةٗ لَّهُمُ ٱلۡأَبۡوَٰبُ ٥٠
сады Эдема, врата которых будут раскрываться перед ними.
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدۡعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٖ كَثِيرَةٖ وَشَرَابٖ ٥١
Они будут возлежать там, прислонившись, и просить принести им множество фруктов и питье.
۞ وَعِندَهُمۡ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرۡفِ أَتۡرَابٌ ٥٢
Рядом с ними будут сверстницы с потупленными взорами.
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوۡمِ ٱلۡحِسَابِ ٥٣
Это - то, что обещано вам ко Дню расчета.
إِنَّ هَٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ ٥٤
Это - Наш неиссякаемый удел.
باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے، کھولے جائیں گے ان کے لیے (ان کے) دروازے (50) تکیہ لگائے ہوں گے ان میں، منگوائیں گے وہ ان میں میوے بہت سے اور شراب (51) اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہ رکھنے والیں ہم عمر(بیویاں)(52)(انھیں کہا جائے گا)یہ ہے (وہ جزا)جس کا وعدہ دیے جاتے تھے تم واسطے یوم حساب کے (53) بے شک یہ البتہ ہمارا رزق ہے، نہیں ہے اس کے لیے ختم ہونا (54)
[50] پھر اللہ تعالیٰ نے اس بہترین ٹھکانے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَنّٰتِ عَدۡنٍ ﴾ یعنی ہمیشہ سرسبز وشاداب رہنے والے باغات، ان کے کمال اور ان کی نعمتوں کے باعث یہاں کے رہنے والے ان کو کبھی بدلنا نہیں چاہیں گے۔ وہ وہاں سے خود نکلیں گے نہ ان کو نکالا جائے گا ﴿مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الۡاَبۡوَابُ﴾ یعنی ان کی خاطر جنت کی منازل و مساکن کے دروازے کھلے رکھے جائیں گے، ان کو خود دروازے کھلوانے کی حاجت نہیں ہو گی بلکہ ان کی خدمت کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں مکمل امن و امان ہو گا۔ جنت عدن میں کوئی ایسی خطرے کی بات نہ ہو گی جو دروازے بند رکھنے کی موجب ہو۔
[51]﴿مُتَّـكِـــِٕيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ سجائی ہوئی نشست گاہوں اور آراستہ کیے ہوئے تختوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے ﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا ﴾ یعنی وہ اپنے خدام کو حکم دیں گے ﴿بِفَاكِهَةٍ كَثِيۡرَةٍ وَّشَرَابٍ ﴾ کہ وہ ان کی خدمت میں بکثرت پھل اور مشروبات پیش کریں، جن کو ان کے نفس پسند کریں گے اور ان کی آنکھیں لذت حاصل کریں گی۔ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ وہاں ان کو کامل نعمت، کامل راحت و طمانینت اور کامل لذت حاصل ہو گی۔
[52]﴿وَعِنۡدَهُمۡ ﴾ ’’ان کے پاس‘‘ گوری چٹی موٹی آنکھوں والی بیویاں ہوں گی۔ ﴿قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ﴾ یعنی دونوں میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کے حسن و جمال اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے باعث نظریں جھکائے ہوئے ہوں گے، وہ دونوں میاں بیوی کسی اور طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھیں گے، وہ اپنے ساتھی کو بدلنا چاہیں گے نہ اس کے عوض کچھ اور چاہیں گے ﴿اَتۡرَابٌ ﴾ یعنی وہ میاں بیوی ہم عمر ہوں گے۔ وہ جوانی کے بہترین دور اور انتہائی لذت انگیز عمر میں ہوں گے۔
[53]﴿هٰؔذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ ﴾ ’’(اے تقویٰ شعار لوگو!) یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا‘‘ ﴿لِيَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴾ ’’حساب کے دن کے لیے‘‘ یہ تمھارے نیک اعمال کی جزا ہے۔
[54]﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزۡقُنَا ﴾ ’’یقینا یہ ہمارا رزق ہے‘‘ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنۡ نَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
38:55–64Страница 456
هَٰذَاۚ وَإِنَّ لِلطَّٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٖ ٥٥
Вот так! Воистину, для преступивших границы дозволенного уготовано скверное место возвращения -
جَهَنَّمَ يَصۡلَوۡنَهَا فَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ ٥٦
Геенна, в которой они будут гореть. Как же скверно это ложе!
هَٰذَا فَلۡيَذُوقُوهُ حَمِيمٞ وَغَسَّاقٞ ٥٧
Это - кипяток и гной. Пусть же они вкушают его.
وَءَاخَرُ مِن شَكۡلِهِۦٓ أَزۡوَٰجٌ ٥٨
Им уготованы и другие виды подобных мучений.
هَٰذَا فَوۡجٞ مُّقۡتَحِمٞ مَّعَكُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِهِمۡۚ إِنَّهُمۡ صَالُواْ ٱلنَّارِ ٥٩
Неверующие скажут: «Вот толпа, ввергаемая вместе с вами. Нет им приветствия! Воистину, они будут гореть в Огне!».
قَالُواْ بَلۡ أَنتُمۡ لَا مَرۡحَبَۢا بِكُمۡۖ أَنتُمۡ قَدَّمۡتُمُوهُ لَنَاۖ فَبِئۡسَ ٱلۡقَرَارُ ٦٠
Они скажут: «О нет! Это вам не будет приветствия! Это вы преподнесли его нам. Как же скверно это местопребывание!».
قَالُواْ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدۡهُ عَذَابٗا ضِعۡفٗا فِي ٱلنَّارِ ٦١
Они скажут: «Господь наш! Приумножь многократно мучения в Огне тем, кто преподнес это нам».
وَقَالُواْ مَا لَنَا لَا نَرَىٰ رِجَالٗا كُنَّا نَعُدُّهُم مِّنَ ٱلۡأَشۡرَارِ ٦٢
Они скажут: «Что с нами? Почему мы не видим мужей, которых мы считали плохими?
أَتَّخَذۡنَٰهُمۡ سِخۡرِيًّا أَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ ٱلۡأَبۡصَٰرُ ٦٣
Неужели мы несправедливо глумились над ними? Или же просто взоры не падают на них?».
إِنَّ ذَٰلِكَ لَحَقّٞ تَخَاصُمُ أَهۡلِ ٱلنَّارِ ٦٤
Воистину, препирательство обитателей Огня является истиной.
یہ ہے (معاملہ اہل خیر کا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے البتہ بہت برا ٹھکانا ہے (55)(یعنی ) جہنم، داخل ہوں گے وہ اس میں، پس بری ہے آرام کرنے کی جگہ (56) یہ ہے، پس چکھیں وہ اس کو، کھولتا ہوا پانی اور پیپ (57) اور دوسرے (عذاب) ہیں، اس کی مثل ہی، کئی قسم کے (58) یہ ہے ایک گروہ جو گھسا چلا آتا ہے تمھارے ساتھ، نہ زمین کی فراخی ہو ان کے لیے، بے شک یہ داخل ہونے والے ہیں آگ میں(59) وہ کہیں گے، نہ زمین کی فراخی ہو تمھارے لیے، تم ہی آگے لائے ہو اس کو ہمارے، پس بری قرار گاہ ہے (60) وہ کہیں گے، اے ہمارے رب! جو آگے لایا ہمارے یہ(عذاب) پس زیادہ کر اس کو عذاب دگنا آگ میں (61) اور وہ کہیں گے، کیا ہے ہمارے لیے، نہیں ہم دیکھتے ان آدمیوں کو کہ تھے ہم شمار کرتے ان کو برے لوگوں میں؟ (62) کیا بنائے رکھا ہم نے ان کو(دنیا میں) مذاق(غلط طور پر) یا پھر گئیں ان سے(ہماری) نگاہیں؟ (63) بلاشبہ یہ البتہ حق ہے، باہم جھگڑنا اہل دوزخ کا (64)
[55]﴿هٰؔذَا ﴾ ’’یہ‘‘ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِيۡنَ ﴾ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ﴾ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
[56] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾ ’’جہنم ہے‘‘ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿يَصۡلَوۡنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
[57]﴿هٰؔذَا ﴾ یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلۡيَذُوۡقُوۡهُ۠ حَمِيۡمٌ ﴾ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ﴾ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
[58]﴿وَّاٰخَرُ مِنۡ شَكۡلِهٖۤ ﴾ یعنی اس کی ایک اور قسم ﴿اَزۡوَاجٌ﴾ یعنی عذاب کی متعدد انواع و اقسام ہوں گی جن میں ان کو مبتلا کیا جائے گا اور اس عذاب کے ذریعے سے ان کو رسوا کیا جائے گا۔ جب وہ جہنم میں داخل ہوں گے تو ایک دوسرے کو سب و شتم کرتے ہوئے کہیں گے۔
[59، 60]﴿هٰؔذَا فَوۡجٌ مُّقۡتَحِمٌ مَّعَكُمۡ ﴾ ’’یہ ایک فوج ہے جو تمھارے ساتھ گھسی چلی آرہی ہے‘‘ آگ میں ﴿لَا مَرۡحَبًۢا بِهِمۡ١ؕ اِنَّهُمۡ صَالُوا النَّارِ ﴾ ’’ان کے لیے کوئی خیرمقدم نہیں ہے یہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔‘‘ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ گھسے چلے آنے والے لوگ کہیں گے: ﴿بَلۡ اَنۡتُمۡ١۫ لَا مَرۡحَبًۢا بِكُمۡ١ؕ اَنۡتُمۡ قَدَّمۡتُمُوۡهُ ﴾ ’’بلکہ تم ہی ہو تمھارا خیر مقدم نہ ہو تم ہی تو لائے تھے اسے‘‘ یعنی عذاب کو ﴿لَنَا ﴾ ’’ہمارے پاس‘‘ کیونکہ تم نے ہمیں دعوت دی، ہمیں فتنے میں مبتلا کر کے گمراہ کیا اور تم ہی ہمارے لیے اس عذاب کا سبب بنے ہو۔ ﴿فَبِئۡسَ الۡقَرَارُ ﴾ اب ہم سب کے لیے یہ بدترین ٹھکانا ہے۔
[61] پھر وہ ان گمراہ کنندہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے اور ﴿قَالُوۡا رَبَّنَا مَنۡ قَدَّمَ لَنَا هٰؔذَا فَزِدۡهُ عَذَابًا ضِعۡفًا فِي النَّارِ ﴾ ’’کہیں گے: اے ہمارے رب! جو اس کوہمارے سامنے لایا ہے، اسے دوزخ میں دوگنا عذاب دینا۔‘‘ ایک دوسری آیت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لِكُلٍّ ضِعۡفٌ وَّلٰكِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’سب کے لیے دوگنا عذاب ہے، مگر تم جانتے نہیں۔‘‘
[62]﴿وَقَالُوۡا﴾ اور وہ جہنم کے اندر کہیں گے: ﴿مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ﴾ یعنی ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ جن کے بارے میں ہم سمجھتے تھے کہ یہ برے لوگ ہیں اور جہنم کے عذاب کے مستحق ہیں وہ آج ہمیں نظر نہیں آرہے؟ مراد اہل ایمان ہیں، جہنمی ان کو جہنم میں تلاش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کا برا کرے، کیا وہ ان کو جہنم میں نظر آئیں گے؟
[63]﴿اَتَّؔخَذۡنٰهُمۡ سِخۡرِيًّا اَمۡ زَاغَتۡ عَنۡهُمُ الۡاَبۡصَارُ ﴾ ’’کیا ہم نے ان سے مذاق کیا تھا یا ہماری آنکھیں پھر گئی ہیں۔‘‘ یعنی ان کا ہمیں نظر نہ آنا دو اسباب میں سے ایک سبب پر مبنی ہے یا تو ہم ان کو اشرار شمار کرنے میں غلطی پر تھے، حالانکہ وہ اچھے لوگ تھے۔ تب ان کے بارے میں ہماری باتیں تمسخر و استہزا کے زمرے میں آئیں گی۔ حقیقت فی الواقع یہی ہے جیسا کہ جہنمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِنَّهٗ كَانَ فَرِيۡقٌؔ مِّنۡ عِبَادِيۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الرّٰحِمِيۡنَۚۖ۰۰ فَاتَّؔخَذۡتُمُوۡهُمۡ سِخۡرِيًّا حَتّٰۤى اَنۡسَوۡؔكُمۡ ذِكۡرِيۡ وَؔكُنۡتُمۡ مِّؔنۡهُمۡ تَضۡحَكُوۡنَ ﴾(المؤمنون: 23؍109-110) ’’بے شک میرے بندوں میں سے کچھ لوگ جب یہ کہتے، اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں بخش دے، ہم پر رحم فرما اور تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے، تو تم نے ان کا تمسخر اڑایا اور انھیں نشانۂ تضحیک بنایا کرتے تھے۔‘‘ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید وہ ہمارے ساتھ عذاب میں مبتلا ہوں مگر وہ ہماری نظروں سے اوجھل رہ گئے ہوں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ ان کا اہل ایمان کے بارے میں یہ موقف، دنیا میں ان کے دلوں میں جڑ پکڑ کر عقائد میں ڈھل گیا تھا، انھوں نے اہل ایمان کے بارے میں نہایت کثرت سے جہنمی ہونے کا حکم لگایا، وہ ان کے دلوں میں بیٹھ گیا تھا اور ان کے دل اسی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اسی حال میں انھوں نے متذکرہ بالا الفاظ کہے۔ یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا کلام، خلاف واقعہ اور ملمّع سازی کے زمرے میں آتا ہے، جیسا کہ وہ دنیا میں ملمع سازی کیا کرتے تھے، حتی کہ انھوں نے جہنم میں بھی ملمع سازی کی اسی لیے اہل اعراف اہل جہنم سے کہیں گے:﴿اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا يَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحۡمَةٍ١ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّةَ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡكُمۡ وَلَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴾(الاعراف: 7؍49) ’’کیا یہ وہی لوگ نہیں جن کے بارے میں تم لوگ قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے بہرہ مند نہیں کرے گا۔ ان کو یوں حکم ہوگا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم پر کوئی خوف ہے نہ تم غمگین ہوگے۔‘‘
[64] اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی دی ہوئی خبر کی تاکید کے طور پر فرمایا اور وہ سب سے زیادہ سچ کہنے والا ہے۔ ﴿اِنَّ ذٰلِكَ ﴾ ’’بے شک یہ‘‘ جس کا میں نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے ﴿لَحَقٌّ ﴾ ’’حق ہے‘‘ اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ یہ ﴿تَخَاصُمُ اَهۡلِ النَّارِ ﴾ ’’اہل جہنم کا ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا اور تنازعہ ہے۔‘‘
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии