Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аз-Зумар 39:27–44
39:27–31Страница 461
وَلَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٖ لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٢٧
Мы уже привели для людей в этом Коране всевозможные притчи, чтобы они могли помянуть назидание.
قُرۡءَانًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِي عِوَجٖ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُونَ ٢٨
Мы ниспослали Коран, в котором нет неправды, на арабском языке, чтобы они устрашились.
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا رَّجُلٗا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَٰكِسُونَ وَرَجُلٗا سَلَمٗا لِّرَجُلٍ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٢٩
Аллах приводит в качестве притчи мужа, принадлежащего нескольким несговорчивым партнерам, и мужа, принадлежащего только одному человеку. Равны ли они в притче? Хвала надлежит Аллаху, но большинство их не знает этого.
إِنَّكَ مَيِّتٞ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ٣٠
Воистину, ты смертен, и они смертны.
ثُمَّ إِنَّكُمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُونَ ٣١
А потом, в День воскресения, вы будете препираться у своего Господа.
اور البتہ تحقیق بیان کی ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (27) قرآن عربی (زبان) میں ہے، نہیں ہے کجی والا، تاکہ وہ ڈریں (28) بیان کی اللہ نے مثال ایک آدمی کی، اس میں کئی شریک ہیں باہم اختلاف رکھنے والے، اور ایک(اور)آدمی کہ (وہ) خالص ہے ایک ہی آدمی کے لیے ، کیا برابر ہوسکتے ہیں وہ دونوں مثال میں؟ سب تعریف اللہ کے لیے ہے، بلکہ اکثر ان کے نہیں علم رکھتے(29) بلاشبہ آپ بھی مرنے والے ہیں اور بے شک وہ بھی مرنے والے ہیں (30) پھر بلاشبہ تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے (31)
[27] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں تمام مثالیں بیان کی ہیں۔ اہل خیر کی مثالیں، اہل شر کی مثالیں اور توحید و شرک کی مثالیں، نیز ہر وہ مثال بیان کی ہے جو اشیاء کے حقائق اور ان کی حکمتوں کو ذہن کے قریب لاتی ہے ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ﴾ ’’تاکہ وہ نصیحت پکڑیں‘‘ جب ہم ان پر حق واضح کریں اور اس کو جان لینے کے بعد اس پر عمل کریں۔
[28]﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی ہم نے اس قرآن عظیم کو عربی میں واضح الفاظ اور آسان معانی والا بنایا ہے، خاص طور پر اہل عرب کے لیے بہت سہل ہے ﴿غَيۡرَ ذِيۡ عِوَجٍ ﴾ یعنی کسی بھی لحاظ سے اس میں کوئی خلل اور کوئی نقص نہیں ہے، نہ اس کے الفاظ میں اور نہ اس کے معانی میں۔ یہ وصف اس کے کمال اعتدال اور کمال استقامت کو مستلزم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡۤ اَنۡزَلَ عَلٰى عَبۡدِهِ الۡكِتٰبَ وَلَمۡ يَجۡعَلۡ لَّهٗ عِوَجًا﴾(الکہف: 18؍12) ’’ہر قسم کی ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی جس میں کوئی کجی نہ رکھی، ٹھیک ٹھیک کہنے والی کتاب۔‘‘ ﴿لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں‘‘ کیونکہ ہم نے ان کے لیے اس عربی قرآنِ مستقیم کے ذریعے سے، جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر مثال بیان کی ہے… علمی اور عملی تقویٰ کی راہ استوار کر دی ہے۔
[29] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک اور توحید کی تفہیم کے لیے مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلًا ﴾ ’’اللہ ایک آدمی کی مثال بیان فرماتا ہے۔‘‘ یعنی غلام کی ﴿فِيۡهِ شُرَؔكَآءُ مُتَشٰكِسُوۡنَ ﴾ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والے بہت سے لوگ اس غلام کی ملکیت میں شریک ہیں جو کسی حالت میں کسی بھی معاملے پر متفق نہیں ہوتے کہ وہ اس کے لیے آرام کرناممکن ہوسکے بلکہ وہ ایک دوسرے سے اختلاف کرتے اور جھگڑتے ہیں۔ ہر ایک شریک کا اپنا اپنا مفاد ہے جسے وہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تمھارے خیال میں، ان اختلاف کرنے والے اور جھگڑنے والے شرکاء کے مابین، اس غلام کی کیا حالت ہو گی؟﴿وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ ﴾ اور ایک آدمی جو خالص صرف ایک شخص کی ملکیت میں ہے۔ وہ اپنے آقا کے مقاصد کو پہچانتا ہے اور اسے کامل راحت حاصل ہے ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ ﴾ ’’کیا یہ دونوں شخص برابر ہوسکتے ہیں۔‘‘ ﴿مَثَلًا ﴾ ’’اس حالت میں‘‘ یہ دونوں شخص کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ مشرک کی یہی حالت ہے اس میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے والی بہت سی ہستیاں شریک ہیں۔ وہ کبھی اس کو پکارتا ہے اور کبھی اس کو پکارتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ اسے قرار آتا ہے نہ کسی مقام پر اسے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس موحد اپنے رب کے لیے مخلص ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو غیر کی شرکت سے پاک رکھا ہے اس لیے وہ کامل راحت اور کامل اطمینان میں ہوتا ہے۔ ﴿هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا١ؕ اَلۡحَمۡدُ لِلّٰهِ ﴾ ’’کیا دونوں کی حالت مساوی ہو سکتی ہے؟ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں‘‘ یعنی باطل میں سے حق کو واضح کرنے اور ان جہلاء کو سیدھی راہ دکھانے پر اللہ تعالیٰ کی ستائش ہے۔ ﴿بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے۔‘‘
[30]﴿اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ﴾ ’’(اے نبی!) بلاشبہ آپ کو مرنا ہے اور یہ بھی مرنے والے ہیں‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کو مرنا ہے۔ ﴿وَمَا جَعَلۡنَا لِبَشَرٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ الۡخُلۡدَ١ؕ اَفَاۡىِٕنۡ مِّؔتَّ فَهُمُ الۡخٰؔلِدُوۡنَ﴾(الانبیاء:21؍34) ’’دائمی زندگی، ہم نے آپ سے پہلے بھی کسی بشر کے لیے نہیں رکھی اگر آپ کو موت آ گئی تو کیا یہ لوگ ہمیشہ زندہ رہیں گے؟‘‘
[31]﴿ثُمَّ اِنَّـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ تَخۡتَصِمُوۡنَ ﴾ یعنی قیامت کے روز ان امور کے بارے میں تم اپنے رب کے پاس جھگڑو گے جو تمھارے درمیان متنازع ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنے عدل و انصاف پر مبنی حکم کے ذریعے سے تمھارے درمیان فیصلہ کر دے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کی جزا دے گا ﴿اَحۡصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوۡهُ ﴾(المجادلة: 58؍6) ’’جسے اللہ تعالیٰ نے شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اسے بھلا بیٹھے ہیں۔‘‘
39:32–35Страница 462
۞ فَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى ٱللَّهِ وَكَذَّبَ بِٱلصِّدۡقِ إِذۡ جَآءَهُۥٓۚ أَلَيۡسَ فِي جَهَنَّمَ مَثۡوٗى لِّلۡكَٰفِرِينَ ٣٢
Кто может быть несправедливее того, кто возвел навет на Аллаха и счел ложью правду, когда она явилась ему? Разве не в Геенне обитель неверующих?
وَٱلَّذِي جَآءَ بِٱلصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهِۦٓ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ ٣٣
Но тот, кто явился с правдой, и тот, кто признал ее истинность, действительно являются богобоязненными.
لَهُم مَّا يَشَآءُونَ عِندَ رَبِّهِمۡۚ ذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡمُحۡسِنِينَ ٣٤
Для них у их Господа уготовано то, чего они пожелают. Таково воздаяние творящим добро!
لِيُكَفِّرَ ٱللَّهُ عَنۡهُمۡ أَسۡوَأَ ٱلَّذِي عَمِلُواْ وَيَجۡزِيَهُمۡ أَجۡرَهُم بِأَحۡسَنِ ٱلَّذِي كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٣٥
Это произойдет для того, чтобы Аллах простил им наихудшее из того, что они совершили, и воздал им наградой за лучшее из того, что они совершали (или лучшим, чем то, что они совершали).
پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جس نے جھوٹ بولا اوپر اللہ کے اور جھٹلایا سچائی کو جب آئی وہ اس کےپاس، کیا نہیں ہے جہنم میں ٹھکاناکافروں کے لیے؟ (32) اوروہ جو آیا ساتھ سچائی کے اور جس نے تصدیق کی اس کی، یہی لوگ ہیں متقی (33) ان کے لیے ہے جو وہ چاہیں گے ان کے رب کے پاس، یہی ہے بدلہ نیکی کرنے والوں کا (34) تاکہ دور کر دے اللہ ان سے برائی، وہ جو انھوں نے کی اور دے ان کواجر ان کا بدلے میں نیکی کے جوتھے وہ کرتے (35)
[32] اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے اور خبردار کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ﴿مِمَّنۡ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ ﴾ ’’جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا‘‘ یا تو کسی ایسی چیز کو اس کی طرف منسوب کیا جو اس کے جلال کے لائق نہیں یا اس نے نبوت کا دعویٰ کیا یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں خبر دی کہ وہ یوں کہتا ہے یا یوں خبر دیتا ہے یا اس طرح کاحکم دیا ہے، جبکہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔اگر کسی نے جہالت کی بنا پر ایسی بات کہی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتا ہے:﴿وَّاَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾(الاعراف:7؍33) ’’(اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام ٹھہرا دیا)کہ تم اللہ کے بارے میں کوئی ایسی بات کہو جسے تم نہیں جانتے۔‘‘ ورنہ یہ بدترین بات ہے۔﴿وَؔكَذَّبَ بِالصِّدۡقِ اِذۡ جَآءَهٗ﴾ یعنی اس شخص سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس کے پاس حق آیا، واضح دلائل جس کی تائید کرتے تھے، مگر اس نے حق کی تکذیب کی۔ اس کی تکذیب بہت بڑا ظلم ہے۔ کیونکہ حق واضح ہو جانے کے بعد اس نے حق کو رد کیا۔ اگر اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے اور حق کی تکذیب کو جمع کیا تو یہ ظلم در ظلم ہے۔ ﴿اَلَيۡسَ فِيۡ جَهَنَّمَ مَثۡوًى لِّلۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں۔‘‘ جہنم کے عذاب میں مبتلا کرکے اس سے بدلہ لیاجائے گا اور ہر ظالم اور کافر سے اللہ تعالیٰ کا حق وصول کیا جائے گا۔ ﴿اِنَّ الشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيۡمٌ ﴾(لقمٰن: 31؍13) ’’بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘
[33] اللہ تبارک وتعالیٰ نے جھوٹے اور جھٹلانے والے کا جرم اور اس کی سزاکا ذکر کرنے کے بعد، صاحب صدق اور حق کی تصدیق کرنے والے اور اس کے ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَالَّذِيۡ جَآءَؔ بِالصِّدۡقِ ﴾’’اور جو شخص سچی بات لے کر آئے۔‘‘ یعنی جو اپنے قول و عمل میں صدق کا حامل ہے۔ اس آیت کریمہ میں انبیاء علیہ السلام اور ان کے متبعین داخل ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی خبروں اور احکام کی تصدیق کی اور خصائل صدق کو اپنایا۔﴿وَصَدَّقَ بِهٖۤ ﴾ یعنی صدق (حق بات) کی تصدیق کی۔ انسان کبھی کبھی صاحب صدق تو ہوتا ہے، مگر وہ صدق کی تصدیق نہیں کرتا اس کا سبب کبھی تو اس کا متکبر ہونا ہوتا ہے اور کبھی اس کا سبب وہ حقارت ہوتی ہے جو وہ صدق لانے والے کے لیے اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لیے مدح میں صدق اور تصدیق دونوں لازم ہیں۔ پس اس کا صدق اس کے علم اور عدل پر دلالت کرتا ہے اور اس کی تصدیق اس کے تواضع اور عدم تکبر پر دلالت کرتی ہے۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جنھیں ان دونوں امور کو جمع کرنے کی توفیق سے نوازا گیا۔ ﴿هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴾ ’’وہی متقی ہیں۔‘‘ کیونکہ تقویٰ کے تمام خصائل و اوصاف صدق اور تصدیق حق کی طرف لوٹتے ہیں۔
[34]﴿لَهُمۡ مَّا يَشَآءُوۡنَ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ جو چاہیں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس ہے۔‘‘ ان کے لیے ان کے رب کے پاس ایسا ثواب ہے جسے کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی بشر کے حاشیۂ خیال میں اس کا کبھی گزر ہوا ہے۔ لذات و خواہشات میں سے جس چیز کا بھی ارادہ کریں گے وہ ان کو حاصل ہو گی اور ان کو مہیا کر دی جائے گی۔ ﴿ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ ’’نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کیفیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ وہ اسے دیکھ رہے ہیں اگر ان میں یہ کیفیت نہ ہو تو انھیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں دیکھ رہا ہے۔ ﴿الۡمُحۡسِنِيۡنَ﴾ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ بھلائی کرتے ہیں۔
[35]﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ اللہ ان سے برائیوں کو جو انھوں نے کیں دور کرے اور نیک کاموں کا جو وہ کرتے رہے بہتر بدلہ دے۔‘‘ انسانی عمل کے تین احوال ہیں: اول: بدترین عمل ۔دوم: بہترین عمل۔ سوم: نہ برا نہ اچھا۔ یہ آخری قسم مباحات کے زمرے میں آتی ہے، جن پر کوئی ثواب وعقاب مترتب نہیں ہوتا۔ بدترین اعمال سب معاصی اور بہترین اعمال سب نیکیاں ہیں۔ اس تفصیل سے آیت کریمہ کا معنی واضح ہو جاتا ہے۔ فرمایا:﴿لِيُكَـفِّرَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ اَسۡوَاَ الَّذِيۡ عَمِلُوۡا ﴾ یعنی ان کے تقویٰ اور احسان کے سبب سے ان کے صغیرہ گناہوں کو مٹا دے گا۔ ﴿وَيَجۡزِيَهُمۡ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ الَّذِيۡ كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ یعنی ان کی نیکیوں اور تقویٰ کے سبب سے ان کو ان کی تمام نیکیوں کا اجر ملے گا۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ﴾(النساء:4؍40) ’’اللہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتااگر نیکی ہو تو وہ اسے دوگنا کر دیتا ہے اور اسے اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرتا ہے۔‘‘
39:36–37Страница 462
أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِكَافٍ عَبۡدَهُۥۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِٱلَّذِينَ مِن دُونِهِۦۚ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٖ ٣٦
Разве Аллаха не достаточно для Его раба? Они устрашают тебя теми, которые ниже Него. А кого Аллах введет в заблуждение, тому не будет наставника.
وَمَن يَهۡدِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّضِلٍّۗ أَلَيۡسَ ٱللَّهُ بِعَزِيزٖ ذِي ٱنتِقَامٖ ٣٧
А кого Аллах наставит на прямой путь, того никто не введет в заблуждение. Разве Аллах - не Могущественный, Способный на возмездие?
کیا نہیں ہے اللہ کافی اپنے بندے کو؟اوروہ ڈراتے ہیں آپ کو ان لوگوں سے جواس کےسوا ہیں، اور جس کو گمراہ کر دے اللہ، تو نہیں ہے اس کو کوئی ہدایت دینے والا (36) اور جس کو ہدایت دے اللہ، تو نہیں ہے اسے کوئی گمراہ کرنے والا، کیا نہیں ہے اللہ غالب انتقام لینے والا؟ (37)
[36، 37]﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبۡدَهٗ﴾ ’’کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘ یعنی کیا یہ اللہ کا اپنے اس بندے پر جودوکرم اور اس کی عنایت نہیں جو اس کی عبودیت پر قائم ہے، اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ بندہ جو تمام مخلوق میں عبودیت کے کامل ترین مرتبے پر فائز ہے یعنی محمد مصطفیﷺ۔ اللہ تعالیٰ ان کے تمام دینی اور دنیاوی امور میں ان کے لیے کافی ہو گا اور جو کوئی آپ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے آپ کی مدافعت کرے گا۔﴿وَيُخَوِّفُوۡنَكَ بِالَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ﴾ یعنی وہ آپ کو بتوں اور خود ساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں کہ آپ پر ان کی مار پڑے گی، یہ ان کی گمراہی ہے ﴿وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ هَادٍۚ۰۰ وَمَنۡ يَّهۡدِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنۡ مُّضِلٍّ ﴾ ’’اور اللہ جسے گمراہی میں مبتلا کر دے توکوئی اسے راستہ نہیں دکھا سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں۔‘‘ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے ہاتھ میں ہدایت اور گمراہی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے جو نہیں چاہتا وہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا ﴿اَلَيۡسَ اللّٰهُ بِعَزِيۡزٍ ﴾ ’’کیا اللہ غالب نہیں؟‘‘ یعنی وہ کامل قہر اور غلبے کا مالک ہے جس کے ذریعے سے وہ ہر چیز پر غالب ہے اسی غلبہ و قہر کی بنا پر وہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے اور اس سے ان کی سازشوں اور مکروفریب کو دور کرتا ہے ﴿ذِي انۡتِقَامٍ ﴾ جو کوئی اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ اس سے انتقام لیتا ہے۔ اس لیے ان تمام امور سے بچو جو اس کی ناراضی کے موجب ہیں۔
39:38Страница 462
وَلَئِن سَأَلۡتَهُم مَّنۡ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُۚ قُلۡ أَفَرَءَيۡتُم مَّا تَدۡعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ إِنۡ أَرَادَنِيَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ هَلۡ هُنَّ كَٰشِفَٰتُ ضُرِّهِۦٓ أَوۡ أَرَادَنِي بِرَحۡمَةٍ هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكَٰتُ رَحۡمَتِهِۦۚ قُلۡ حَسۡبِيَ ٱللَّهُۖ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ ٣٨
Если ты спросишь их: «Кто создал небеса и землю?». - они непременно скажут: «Аллах». Скажи: «Видели ли вы тех, к кому вы взываете вместо Аллаха? Если Аллах захочет навредить мне, разве они смогут отвратить Его вред? Или же, если Он захочет оказать мне милость, разве они смогут удержать Его милость?». Скажи: «Довольно мне Аллаха. На Него одного уповают уповающие».
اور البتہ اگر آپ پوچھیں ان سے کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو؟ تو ضرور کہیں گے وہ: اللہ نے، کہہ دیجیے:بھلا دیکھو تو، جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا اگر ارادہ کرے میرے حق میں اللہ تکلیف کا، تو کیا وہ دور کر سکتے ہیں اس کی تکلیف کو؟ یاوہ ارادہ کرے میرے حق میں مہربانی کا تو کیا وہ روک سکتے ہیں اس کی مہربانی کو؟ کہہ دیجیے: کافی ہے مجھے اللہ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں بھروسہ کرنے والے (38)
[38] یعنی اگر آپ ان گمراہ لوگوں سے پوچھیں جو آپ کو اللہ کے سوا خودساختہ معبودوں سے ڈراتے ہیں، جبکہ آپ نے ان کے خلاف انھی کے نفسوں سے دلیل قائم کی ہے، اور ان سے کہیں :﴿مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا؟‘‘ تو یہ مشرکین اس بات کو ثابت کرنے سے قاصر رہیں گے کہ ان کی تخلیق میں ان کے معبودوں کا کچھ حصہ ہے۔ ﴿لَيَقُوۡلُنَّ اللّٰهُ ﴾ وہ ضرور کہیں گے کہ اس کائنات کو اکیلے اللہ تعالیٰ نے تخلیق فرمایا ہے۔ ﴿قُلۡ ﴾ اللہ تعالیٰ کی قدرت واضح ہونے کے بعد ان کے معبودوں کی بے بسی ثابت کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَفَرَءَيۡتُمۡ ﴾ ’’مجھے بتاؤ ‘‘ ﴿مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ اِنۡ اَرَادَنِيَ اللّٰهُ بِضُرٍّ ﴾ ’’جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ مجھے (کسی بھی قسم کا) نقصان دینا چاہے‘‘ ﴿هَلۡ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖۤ ﴾’’کیا وہ اس کی تکلیف کو دور کرسکتے ہیں۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے پہنچائے ہوئے ضرر کا مکمل ازالہ یا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل کر کے اس ضرر میں کوئی تخفیف کر سکتے ہیں؟﴿اَوۡ اَرَادَنِيۡ بِرَحۡمَةٍ ﴾ یا وہ میرے ساتھ رحمت وفضل کا معاملہ کرنا چاہے جس کے ذریعے سے وہ مجھے کوئی دینی یا دنیاوی منفعت عطا کرے، ﴿هَلۡ هُنَّ مُمۡسِكٰؔتُ رَحۡمَتِهٖ﴾ کیا وہ خود ساختہ معبود اس رحمت کو مجھ تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں؟ یقینا وہ یہی جواب دیں گے کہ ان کے معبود کسی نقصان کو دور کر سکتے ہیں نہ اللہ کی رحمت کو روک سکتے ہیں۔ یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ ان کے معبود کسی نقصان کو دور کرسکتے ہیں نہ اللہ کی ر حمت کو روک سکتے ہیں۔قطعی دلیل کے واضح ہو جانے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہی معبود برحق ہے وہی تمام کائنات کا خالق ہے، نفع و نقصان صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اس کے سوا دیگر معبودان باطل ہر لحاظ سے کچھ پیدا کرنے اور کوئی نقصان پہنچانے سے عاجز ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کی کفایت کے حصول اور ان مشرکین کے مکروفریب سے بچنے کی دعا کرتے ہوئے کہہ دیجیے:﴿حَسۡبِيَ اللّٰهُ١ؕ عَلَيۡهِ يَتَوَكَّلُ الۡمُتَوَؔكِّلُوۡنَ ﴾ یعنی اپنے مصالح کے حصول اور دفع ضررکے لیے بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ ہستی جو اکیلی کفایت کی مالک ہے، میرے لیے کافی ہے وہ میرے اہم اور غیر اہم امور میں میری کفایت کرے گی۔
39:39–40Страница 462
قُلۡ يَٰقَوۡمِ ٱعۡمَلُواْ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمۡ إِنِّي عَٰمِلٞۖ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُونَ ٣٩
Скажи: «О мой народ! Действуйте по своему усмотрению, и я тоже буду действовать. Скоро вы узнаете,
مَن يَأۡتِيهِ عَذَابٞ يُخۡزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٞ مُّقِيمٌ ٤٠
кого постигнет мучение, которое опозорит его, и на кого падут вечные мучения».
کہہ دیجیے:اے میری قوم! عمل کرو تم اپنی جگہ پر، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں، پس عنقریب تم جان لوگے(39) کون ہے کہ آتا ہے اس کےپاس عذاب جو رسوا کر دے اس کواور اترتا ہے اس پرعذاب ہمیشہ دائمی رہنے والا (40)
[39، 40]﴿قُلۡ ﴾ ’’(اے رسول! ان سے) کہہ دیجیے: ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کیے جاؤ‘‘ یعنی تم اسی حالت میں عمل کرتے رہو جس پر تم اپنے لیے راضی ہو، یعنی ان ہستیوں کی عبادت کرتے رہو جو عبادت کی مستحق نہیں ہیں نہ انھیں کسی چیز کا کوئی اختیار ہے۔ ﴿اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ اور میں تمھیں اکیلے اللہ تعالیٰ کے لیے دین کو خالص کرنے کی دعوت دیتا رہوں گا۔ ﴿فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ﴾ ’’تمھیں عنقریب معلوم ہو جائے گا‘‘ کہ کس کا انجام اچھا ہے۔ ﴿مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ ﴾ ’’اور کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا؟‘‘ یعنی دنیا میں ﴿وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور نازل ہوگا اس پر‘‘ یعنی آخرت میں ﴿عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’ہمیشہ کا عذاب۔‘‘آخرت میں اس کو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں ڈالا جائے گا، یہ عذاب اس سے ہٹایا جائے گا نہ ختم ہو گا۔ یہ مشرکین کے لیے سخت تہدید ہے۔ انھیں بھی معلوم ہے کہ وہ دائمی عذاب کے مستحق ہیں، مگر ظلم اور عناد ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوگیا ہے ۔
39:41Страница 463
إِنَّآ أَنزَلۡنَا عَلَيۡكَ ٱلۡكِتَٰبَ لِلنَّاسِ بِٱلۡحَقِّۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٍ ٤١
Мы ниспослали тебе Писание для людей с истиной. Тот, кто последовал прямым путем, поступил во благо себе. А тот, кто впал в заблуждение, поступает во вред только себе, и ты не являешься их попечителем и хранителем.
بلاشبہ نازل کی ہم نے آپ پر کتاب لوگوں کے لیے ساتھ حق کے، پس جس نے ہدایت پائی، تو اپنے ہی لیے اور جو گمراہ ہوا تو وہ گمراہ ہوتا ہے اپنے ہی نقصان کو اورنہیں ہیں آپ ان پرکوئی ذمے دار(41)
[41]اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے اپنے رسولﷺپر کتاب نازل فرمائی جو اپنی خبر اور اپنے اوامرونواہی میں حق پر مشتمل ہے، جو ہدایت کی اصل بنیاد اور ہر اس شخص کے لیے پیغام ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر پہنچنا چاہتا ہے۔ نیز اس کتاب کے ذریعے سے تمام جہانوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔﴿فَمَنِ اهۡتَدٰؔى ﴾ پس جس نے اس کی روشنی سے راہنمائی حاصل کی اور اس کے احکامات کی پیروی کی ﴿فَلِنَفۡسِهٖ﴾ تو اس کا فائدہ اسی کی طرف لوٹے گا ﴿وَمَنۡ ضَلَّ ﴾ جو ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد بھی گمراہ ہوا ﴿فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا ﴾ ’’تو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔‘‘ اور وہ اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ ’’اور آپ ان پر نگران نہیں ہیں‘‘ کہ آپ ان کے اعمال پر نگاہ رکھیں، ان پر ان کا محاسبہ کریں اور جس کام پر چاہیں ان کو مجبور کریں۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ وہ چیز ان تک پہنچا دیتے ہیں جسے پہنچا دینے کا آپ کو حکم دیا جاتا ہے۔
39:42Страница 463
ٱللَّهُ يَتَوَفَّى ٱلۡأَنفُسَ حِينَ مَوۡتِهَا وَٱلَّتِي لَمۡ تَمُتۡ فِي مَنَامِهَاۖ فَيُمۡسِكُ ٱلَّتِي قَضَىٰ عَلَيۡهَا ٱلۡمَوۡتَ وَيُرۡسِلُ ٱلۡأُخۡرَىٰٓ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمًّىۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٤٢
Аллах забирает души в момент смерти, а ту, которая пока не умирает, - во время сна. Он удерживает ту, которой предопределил смерть, а другую отпускает до определенного срока. Воистину, в этом - знамения для людей размышляющих.
اللہ ہی قبض کرتا ہے جانوں کووقت ان کی موت کے ، اورجو نہیں مریں(انھیں بھی قبض کرتا ہے) ان کی نیند میں ، پس وہ روک لیتا ہے اس (روح) کو کہ فیصلہ کردیا اس نے اس پر موت کا اور بھیج دیتا ہے دوسری کوایک وقت مقرر تک، بلاشبہ اس میں البتہ نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو غور و فکر کرتی ہے (42)
[42] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اکیلا ہی بندوں پر، ان کی نیند اور بیداری میں، ان کی زندگی اور موت میں، تصرف کرتا ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الۡاَنۡفُسَ حِيۡنَ مَوۡتِهَا ﴾ ’’اللہ لوگوں کے مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے۔‘‘ یہ وفاتِ کبریٰ، موت ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ خبر دینا کہ وہ وفات دیتا ہے اور فعل کی اپنی طرف اضافت کرنا، اس بات کے منافی نہیں کہ اس نے اس کام کے لیے ایک فرشتہ اور اس کے کچھ اعوان و مددگار مقرر کر رکھے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا:﴿قُلۡ يَتَوَفّٰىكُمۡ مَّلَكُ الۡمَوۡتِ الَّذِيۡ وُكِّلَ بِكُمۡ ﴾(السجدۃ: 32؍11) ’’کہہ دیجیے کہ وہ فرشتہ تمھیں وفات دیتا ہے جو تمھارے لیے مقرر کیا گیا ہے‘‘ نیز فرمایا: ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَؔ اَحَدَؔكُمُ الۡمَوۡتُ تَوَفَّتۡهُ رُسُلُنَا وَهُمۡ لَا يُفَرِّطُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍61)’’حتیٰ کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی روح قبص کر لیتے ہیں اور وہ کوتاہی نہیں کرتے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تمام امور کی اضافت اس اعتبار سے اپنی طرف کی ہے کہ وہی خالق اور تدبیر کرنے والا ہے اور ان امور کو اس اعتبار سے ان کے اسباب کی طرف مضاف کرتا ہے کہ اس کی سنت اور حکمت ہے کہ اس نے ہر کام کا کوئی سبب مقرر فرمایا ہے۔﴿وَالَّتِيۡ لَمۡ تَمُتۡ فِيۡ مَنَامِهَا ﴾ ’’اور اس جان کو بھی (عارضی وفات دیتا ہے) جو اپنی نیند میں نہیں مرتی۔‘‘ اور یہ موت صغریٰ ہے یعنی وہ اس نفس کو روک رکھتا ہے جو نیند کے دوران حقیقی موت سے ہم کنار نہیں ہوتا ﴿فَيُمۡسِكُ ﴾ پھر ان دو نفسوں میں سے اس نفس کو روک رکھتا ہے ﴿الَّتِيۡ قَضٰى عَلَيۡهَا الۡمَوۡتَ ﴾ ’’جس کے بارے موت کا فیصلہ کردیتا ہے۔‘‘ اس سے مراد وہ نفس ہے جس پر حقیقی موت وارد ہوتی ہے یا نیند کے دوران اس پر موت آتی ہے۔ ﴿وَيُرۡسِلُ الۡاُخۡرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ﴾ ’’اور دوسرے نفس کو ایک مقررہ وقت تک کے لیے چھوڑ دیتا ہے‘‘ یعنی ان کے رزق اور مدت کی تکمیل تک کے لیے۔ ﴿اِنَّ فِيۡ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوۡمٍ يَّتَفَؔكَّـرُوۡنَ۠ ﴾ ’’اس میں ان کے لیے نشانیاں ہیں(جو اس کے کامل اقتدار، مرنے کے بعد اس کی دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت پر) غوروفکر کرتے ہیں۔‘‘ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ روح اور نفس ایک جسم ہے اور بنفسہ قائم ہے، اس کا جو ہر بدن کے جو ہر سے مختلف ہے، یہ بھی مخلوق ہے اللہ تعالیٰ کے دست تدبیر کے تحت ہے، وفات دینے، روک لینے اور چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ کا تصرف اس پر ہے۔ زندوں کی اور مردوں کی ارواح عالم برزخ میں ایک دوسرے سے ملاقات کرتی ہیں وہ اکٹھی ہو کر آپس میں باتیں کرتی ہیں، پس اللہ زندوں کی ارواح کو چھوڑ دیتا ہے اور مردوں کی روحوں کو روک لیتا ہے۔
39:43–44Страница 463
أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ شُفَعَآءَۚ قُلۡ أَوَلَوۡ كَانُواْ لَا يَمۡلِكُونَ شَيۡـٔٗا وَلَا يَعۡقِلُونَ ٤٣
Или же они взяли себе заступников помимо Аллаха? Скажи: «А если они не владеют ничем и не разумеют?».
قُل لِّلَّهِ ٱلشَّفَٰعَةُ جَمِيعٗاۖ لَّهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ ثُمَّ إِلَيۡهِ تُرۡجَعُونَ ٤٤
Скажи: «Аллаху принадлежит заступничество целиком. Ему принадлежит власть над небесами и землей, и к Нему вы будете возвращены».
کیا بنائے ہیں انھوں نے اللہ کے سواسفارشی، کہہ دیجیے:اگرچہ ہوں وہ نہ اختیار رکھتے کسی چیز کا اور نہ عقل رکھتے( ہوں)(43) کہہ دیجیے: اللہ ہی کے لیے ہے سفارش سب، اسی کے لیے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے (44)
[43] اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر سخت نکیر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو سفارشی بناتے ہیں، ہ ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ﴿قُلۡ ﴾ ان کی جہالت اور ان کے خود ساختہ معبودوں کے عبادت کے مستحق نہ ہونے کو واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿اَوَلَوۡ كَانُوۡا﴾ ’’خواہ وہ۔‘‘ یعنی جن کو تم نے اپنا سفارشی بنا رکھا ہے۔ ﴿لَا يَمۡلِكُوۡنَ شَيۡـًٔؔا ﴾ زمین اور آسمان میں، چھوٹی یا بڑی، کسی ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہ ہوں، بلکہ ﴿وَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ﴾ان میں عقل ہی نہیں کہ وہ مدح کے مستحق ہوں کیونکہ یہ جمادات، پتھر، درخت، بت یا مرے ہوئے لوگ ہیں۔ کیا اس شخص میں، جس نے ان کو اپنا معبود بنایا ہے، کوئی عقل ہے؟ یا وہ دنیا کا گمراہ ترین، جاہل ترین اور سب سے بڑا ظالم ہے؟
[44]﴿قُلۡ ﴾ آپ ان مشرکین سے کہہ دیجیے: ﴿لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيۡعًا ﴾ ’’سفارش تو سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘ کیونکہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں۔ ہر سفارش کرنے والا اللہ سے ڈرتا ہے۔ کسی کی مجال نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس، اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے اور جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو اچھے سفارشی کو اپنے ہاں سفارش کرنے کی اجازت عطا کر دیتا ہے۔ یہ اس کی طرف سے ان دونوں پر رحمت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے متحقق فرمایا کہ شفاعت تمام تر اسی کا اختیار ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’آسمانوں اور زمین کی حکومت اسی کے لیے ہے‘‘ یعنی ان میں ذوات، افعال اور صفات جو کچھ بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں ہیں، لہٰذا واجب ہے کہ سفارش اسی سے طلب کی جائے جو اس کا مالک ہے اور اسی کے لیے عبادات کو خالص کیا جائے ﴿ثُمَّ اِلَيۡهِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘ اور وہ صاحب اخلاص کو ثواب جزیل عطا کرے گا اور جس نے شرک کیا اسے دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии