Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аз-Зумар 39:64–75
39:64–66Страница 465
قُلۡ أَفَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَأۡمُرُوٓنِّيٓ أَعۡبُدُ أَيُّهَا ٱلۡجَٰهِلُونَ ٦٤
Скажи: «Неужели вы повелеваете мне поклоняться кому-либо другому вместо Аллаха, о невежды?».
وَلَقَدۡ أُوحِيَ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ لَئِنۡ أَشۡرَكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٦٥
Тебе и твоим предшественникам уже было внушено: «Если ты станешь приобщать сотоварищей, то тщетными будут твои деяния и ты непременно окажешься одним из потерпевших убыток».
بَلِ ٱللَّهَ فَٱعۡبُدۡ وَكُن مِّنَ ٱلشَّٰكِرِينَ ٦٦
Поклоняйся же одному Аллаху и будь в числе благодарных.
کہہ دیجیے:کیا غیر اللہ کی بابت تم حکم دیتے ہو مجھے کہ میں (ان کی) عبادت کروں؟ اے جاہلو! (64) اور البتہ تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے، کہ البتہ اگر شرک کیا آپ نے تو یقیناً ضائع ہو جائیں گے آپ کے عمل اوریقیناً ہو جائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے (65)بلکہ اللہ ہی کی آپ عبادت کریں اورہو جائیں شکر گزاروں میں سے (66)
[64]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے:﴿اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّيۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔‘‘ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔
[65] بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’(اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنۡ اَشۡرَؔكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ ﴾ ’’اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔ سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍88) ’’یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔‘‘ ﴿وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔
[66] پھر فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ ’’بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبیﷺ کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔
39:67Страница 465
وَمَا قَدَرُواْ ٱللَّهَ حَقَّ قَدۡرِهِۦ وَٱلۡأَرۡضُ جَمِيعٗا قَبۡضَتُهُۥ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطۡوِيَّٰتُۢ بِيَمِينِهِۦۚ سُبۡحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشۡرِكُونَ ٦٧
Не ценили они Аллаха должным образом, а ведь вся земля в День воскресения будет всего лишь Пригоршней Его, а небеса будут свернуты Его Десницей. Пречист Он и превыше того, что они приобщают к Нему в сотоварищи.
اور نہیں قدر کی انھوں نے اللہ کی جیسا حق ہے اس کی قدر کر نے کا اور زمین سب اس کی مٹھی میں ہو گی دن قیامت کے اور آسمان لپٹے ہوں گے اس کے دائیں ہاتھ میں وہ پاک ہے اور بلند اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (67)
[67] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مشرکین نے اپنے رب کی قدر اور تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی قدروتعظیم کا حق ہے بلکہ اس کے برعکس انھوں نے ایسے افعال سرانجام دیے جو اس کی تعظیم سے متناقض ہیں، مثلاً: ایسی ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جو اپنے اوصاف و افعال میں ناقص ہیں۔ ان کے اوصاف ہر لحاظ سے ناقص ہیں، اور ان کے افعال ایسے ہیں کہ وہ کسی کو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، وہ کسی کو عطا کر سکتی ہیں نہ محروم، وہ کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں۔ پس انھوں نے اس ناقص مخلوق کو، خالق کائنات، رب عظیم کے برابر ٹھہرا دیا جس کی عظمت باہرہ اور قدرت قاہرہ یہ ہے کہ قیامت کے روز، تمام زمین رحمٰن کی مٹھی میں ہوگی اور ساتوں آسمان اپنی وسعتوں اور عظمتوں کے باوجود اس کے دائیں ہاتھ پر لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تعظیم نہیں کی جیسا کہ اس کی تعظیم کرنے کا حق ہے جس نے دوسری ہستیوں کو اس کے مساوی ٹھہرا دیا۔ جس نے یہ کام کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ظالم ہے؟ ﴿سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَ ﴾ اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے منزہ، پاک اور بہت بلند ہے۔
39:68–70Страница 466
وَنُفِخَ فِي ٱلصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِي ٱلۡأَرۡضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۖ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخۡرَىٰ فَإِذَا هُمۡ قِيَامٞ يَنظُرُونَ ٦٨
Но подуют в Рог, и тогда потеряют сознание (или умрут) те, кто на небесах, и те, кто на земле, кроме тех, кого Аллах пожелает оставить. Потом в нее подуют еще раз, и тогда они встанут и будут смотреть.
وَأَشۡرَقَتِ ٱلۡأَرۡضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ ٱلۡكِتَٰبُ وَجِاْيٓءَ بِٱلنَّبِيِّـۧنَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ ٦٩
Земля озарится светом своего Господа. Будет положено Писание, и будут приведены пророки и свидетели. Между ними рассудят по справедливости, и с ними не поступят несправедливо.
وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٖ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُونَ ٧٠
Каждой душе воздастся сполна за то, что она совершила. Ему лучше знать о том, что они делают.
اور پھونک ماری جائے گی صور میں تو بیہوش ہو جائے گا جو ہے آسمانوں میں اور جو ہے زمین میں مگر جسے چاہے گا اللہ ، پھر پھونک ماری جائے گی اس میں دوسری مرتبہ تو یکایک وہ کھڑے(ہو کر)دیکھتے ہوں گے (68) اورچمک اٹھے گی زمین اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور گواہ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے حق کے ساتھ اور وہ نہیں ظلم کیے جائیں گے(69) اور پورا دیا جائے گا ہر نفس کو (بدلہ اس کا) جو اس نے کیا ہو گا اور وہ خوب جانتا ہے(اس کو)جو وہ کر رہے ہیں (70)
[68] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اپنی عظمت کا خوف دلانے کے بعد، قیامت کے احوال کے ذریعے سے انھیں ڈرایا اور انھیں ترغیب و ترہیب دی ہے ، چنانچہ فرمایا:﴿وَنُفِخَ فِي الصُّوۡرِ ﴾ ’’اور صور میں پھونکا جائے گا۔‘‘ یہ بہت بڑا سینگ ہے جس کی عظمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی شخص نہیں جانتا یا صرف اس شخص کو علم ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مطلع کر دیا ہو، اس صور میں اسرافیلu، جو اللہ تعالیٰ کے مقرب اور اس کا عرش اٹھانے والے فرشتوں میں سے ہیں، پھونک ماریں گے ﴿فَصَعِقَ ﴾ ’’تو بے ہوش ہو جائیں گے یا مر جائیں گے۔ اس بارے میں یہ دونوں قول منقول ہیں۔ ﴿مَنۡ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘ یعنی زمین اور آسمانوں کی تمام مخلوق جب صور پھونکنے کی آواز سنے گی تو اس کی شدت، اور ان احوال کے بارے میں علم ہونے کے باعث گھبرا اٹھے گی، جن کا یہ آواز مقدمہ ہے۔ ﴿اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰهُ ﴾ ’’مگر جسے اللہ (بچانا) چاہے۔‘‘ یعنی ان لوگوں کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ مضبوط اور ثابت قدم رکھے، مثلاً: شہداء اور بعض دیگر لوگ، ان پر بے ہوشی طاری نہیں ہو گی۔ یہ پہلی پھونک نَفْخَۃُ الصَّعْق اور نَفْخَۃُ الْفَزَعْ ہے۔ ﴿ثُمَّ نُفِخَ فِيۡهِ ﴾ ’’ پھر اس میں (ایک اور) پھونک ماری جائے گی۔‘‘ یہ نَفْخَۃُ الْبَعْث ہے ﴿فَاِذَا هُمۡ قِيَامٌ يَّنۡظُرُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ فوراً اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ یعنی وہ حساب و کتاب کے لیے اپنی قبروں میں سے اٹھ کھڑے ہوں گے، جبکہ ان کی تخلیقِ اجساد اور تخلیقِ ارواح مکمل ہوچکی ہو گی۔ ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی ہوں گی، وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
[69]﴿وَاَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّهَا ﴾ ’’اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ موجودہ تمام روشنیاں قیامت کے روز مضمحل ہو کر ختم ہو جائیں گی اور حقیقت میں ایسا ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ (قیامت کے روز)سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی ختم ہو جائے گی، ستارے بکھر جائیں گے اور لوگ تاریکی میں ڈوب جائیں گے، تب اس وقت زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی جب وہ تجلی فرمائے گا اور بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل ہوگا۔ اس دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو ایسی قوت اور ایسی تخلیق عطا کرے گا جس کی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی تجلی کو برداشت کرنے کی قوت سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ کا نور ان کو جلا نہیں ڈالے گا، اس دن ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا ممکن ہو گا، ورنہ اللہ تعالیٰ کا نور اس قدر عظیم ہے کہ اگر وہ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے تو جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کے چہرے کا نور تمام مخلوق کو جلا کر راکھ کر ڈالے۔﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ ﴾ ’’اور (اعمال کی) کتاب رکھ دی جائے گی۔‘‘ یعنی اعمال نامہ کھول کر پھیلا دیا جائے گا تاکہ بندہ اپنی نیکیوں اور گناہوں کو پڑھ لے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَوُضِعَ الۡكِتٰبُ فَتَرَى الۡمُجۡرِمِيۡنَ مُشۡفِقِيۡنَ مِمَّا فِيۡهِ وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا١ؕ وَلَا يَظۡلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا﴾(الکہف: 18؍49) ’’اور اعمال نامہ رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال نامے کے مندرجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے ہماری ہلاکت! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس نے درج نہ کیا ہو۔ وہ اپنے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔‘‘ اور عمل کرنے والے سے مکمل عدل و انصاف کے ساتھ کہا جائے گا: ﴿اِقۡرَاۡ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفۡسِكَ الۡيَوۡمَ عَلَيۡكَ حَسِيۡبًا﴾(بنی اسراء یل:17؍14) ’’اپنی کتاب (اعمال نامہ )پڑھ، آج اپنا حساب لینے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘﴿وَجِايۡٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ ﴾ ’’اور نبیوں کو لایا جائے گا۔‘‘ تاکہ ان سے تبلیغ اور ان کی امتوں کے رویے کے بارے میں سوال کیا جائے اور یہ ان پر گواہی دیں ﴿وَالشُّهَدَآءِ ﴾ ’’اور گواہ‘‘ یعنی فرشتے، زمین اور انسان کے اعضاء گواہی دیں گے ﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیاجائے گا۔‘‘ یعنی پورے عدل اور کامل انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ حساب ایسی ہستی کی طرف سے کیاجائے گا جو ذرہ بھر ظلم نہیں کرتی اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کی کتاب یعنی لوح محفوظ ان کے تمام اعمال پر مشتمل ہے۔ کراماً کاتبین اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے، بندے جو عمل بھی کرتے ہیں یہ ان کے اعمال ناموں میں درج کر لیتے ہیں۔ عادل ترین گواہ اس فیصلے میں گواہی دیں گے اور فیصلہ وہ ہستی کرے گی جو اعمال کی مقدار اور ان کے ثواب و عقاب کے استحقاق کی مقدار کو خوب جانتی ہے۔ فیصلہ ہو گا اور تمام مخلوق اس کا اقرار کرے گی۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے عدل کا اعتراف کرے گی وہ اس کی عظمت، اس کے علم و حکمت، اور اس کی رحمت کا اس طرح اعتراف کریں گے کہ دل میں کبھی اس کا خیال گزرا ہوگا نہ ان کی زبانوں نے کبھی اس کی تعبیر کی ہوگی۔
[70] اس لیے فرمایا: ﴿وَوُفِّيَتۡ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُوَ اَعۡلَمُ بِمَا يَفۡعَلُوۡنَ ﴾ ’’جس شخص نے جو عمل کیا اس کو اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کو سب کی خبر ہے۔‘‘
39:71–75Страница 466
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِلَىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا فُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَآ أَلَمۡ يَأۡتِكُمۡ رُسُلٞ مِّنكُمۡ يَتۡلُونَ عَلَيۡكُمۡ ءَايَٰتِ رَبِّكُمۡ وَيُنذِرُونَكُمۡ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هَٰذَاۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَلَٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ ٱلۡعَذَابِ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٧١
Тех, которые не уверовали, толпами погонят в Геенну. Когда они подойдут в ней, ее врата будут распахнуты, и ее стражи скажут им: «Разве не приходили к вам посланники из вас самих, которые читали вам аяты вашего Господа и предупреждали вас о встрече с этим днем вашим?». Они скажут: «Конечно!». Но сбылось относительно неверующих Слово о мучениях.
قِيلَ ٱدۡخُلُوٓاْ أَبۡوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَاۖ فَبِئۡسَ مَثۡوَى ٱلۡمُتَكَبِّرِينَ ٧٢
Будет сказано: «Войдите во врата Геенны и пребудьте там вечно!». Как же скверна обитель возгордившихся!
وَسِيقَ ٱلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْ رَبَّهُمۡ إِلَى ٱلۡجَنَّةِ زُمَرًاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَٰبُهَا وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا سَلَٰمٌ عَلَيۡكُمۡ طِبۡتُمۡ فَٱدۡخُلُوهَا خَٰلِدِينَ ٧٣
А тех, которые боялись своего Господа, толпами проводят в Рай. Когда они приблизятся, и его врата распахнутся, его стражи скажут им: «Мир вам! Вы были хороши. Входите же сюда навечно!».
وَقَالُواْ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي صَدَقَنَا وَعۡدَهُۥ وَأَوۡرَثَنَا ٱلۡأَرۡضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ ٱلۡجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُۖ فَنِعۡمَ أَجۡرُ ٱلۡعَٰمِلِينَ ٧٤
Они скажут: «Хвала Аллаху, Который дал нам правдивое обещание и позволил нам унаследовать райскую землю. Мы можем поселиться в Раю, где пожелаем. Как же прекрасна награда тружеников!».
وَتَرَى ٱلۡمَلَٰٓئِكَةَ حَآفِّينَ مِنۡ حَوۡلِ ٱلۡعَرۡشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡۚ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡحَقِّۚ وَقِيلَ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٧٥
Ты увидишь ангелов, окружающих Трон и прославляющих хвалой своего Господа. Между ними рассудят по справедливости, и будет сказано: «Хвала Аллаху, Господу миров!».
اور ہانک کر لے جائے جائیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا جہنم کی طرف گروہ گروہ یہاں تک کہ جب آئیں گے وہ اس کےپاس تو کھول دیے جائیں گے دروازے اس کےاور کہیں گے ان سے داروغے اس کے، کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے جو پڑھتے (تھے) تم پر آیتیں تمھارے رب کی اور ڈراتے (تھے) تم کو تمھاری اس دن کی ملاقات سے؟ وہ کہیں گے(ہاں)کیوں نہیں، اور لیکن ثابت ہو گئی بات عذاب کی اوپر کافروں کے (71) کہا جائے گا: داخل ہو جاؤ تم جہنم کے دروازوں میں ہمیشہ رہو گے اس میں، پس برا ہے ٹھکانا تکبر کرنے والوں کا (72) اور لے جائے جائیں گے وہ لوگ جو ڈرتے تھے اپنے رب سے، طرف جنت کی گروہ گروہ حتی کہ جب آئیں گے وہ اس کے پاس اورکھلے ہوں گے دروازے اس کےاورکہیں گے ان سے اس کےدربان ، سلام ہو تم پر، تم پاکیزہ رہے، پس داخل ہو جاؤ تم اس میں ہمیشہ رہنے والے (73) اور وہ کہیں گے: سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ جس نے سچا کیا ہم سے اپنا وعدہ اور وارث کر دیا ہمیں اس زمین کا ہم ٹھکانا بنائیں جنت میں جہاں ہم چاہیں، پس اچھا ہے اجر عمل کرنے والوں کا (74) اور دیکھیں گے آپ فرشتوں کو گھیرے ہوئے عرش کے اردگردکو، پاکیزگی بیان کرتے ہوں گے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور فیصلہ کیا جائے گا درمیان ان کے سا تھ حق کے اور کہا جائے گا سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں(75)
[71] اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کا ذکر فرمایا جن کو اس نے تخلیق، رزق اور تدبیر میں اکٹھا کیا، دنیا کے اندر وہ سب اکٹھے رہے، قیامت کے روز بھی اکٹھے ہوں گے مگر ان کی جزا کے وقت ان کے درمیان اسی طرح تفریق کر دی جائے گی جس طرح دنیا میں ایمان اور کفر، تقویٰ اور فسق و فجور کے اعتبار سے ان کے درمیان فرق تھا ، چنانچہ فرمایا:﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِلٰى جَهَنَّمَ ﴾ ’’اور جن لوگوں نے کفر کیا انھیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔‘‘ یعنی کافروں کو نہایت سختی سے جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ انتہائی سخت فرشتے کوڑوں سے مارتے ہوئے، بہت برے قید خانے، بدترین جگہ یعنی جہنم کی طرف لے جائیں گے۔ جہاں ہر قسم کا عذاب جمع ہو گا اور ہر قسم کی بدبختی موجود ہو گی۔ جہاں ہر سرور زائل ہو جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾(الطور: 52؍13) ’’جس روز انھیں آتش جہنم کی طرف دھکیل دھکیل کر لے جایا جائے گا۔‘‘ یعنی ان کو دھکے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا کیونکہ وہ جہنم میں داخل ہونے سے مزاحمت کریں گے، ان کو جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔ ﴿زُمَرًا ﴾ متفرق جماعتوں کی صورت میں ہرگروہ اس گروہ کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اس کے اعمال مناسبت رکھتے ہوں گے اور جن کے کرتوت ایک دوسرے کے مشابہ ہوں گے۔ وہ ایک دوسرے کو لعنت ملامت اور ایک دوسرے سے براء ت اور بیزاری کا اظہار کریں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ یعنی جب جہنم کے قریب پہنچیں گے ﴿فُتِحَتۡ﴾ ’’کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے یعنی ان کی خاطر ﴿اَبۡوَابُهَا ﴾ ’’اس کے دروازے۔‘‘ ان کی آمد اور مہمانی کرتے ہوئے جہنم کے دروازے کھولے جائیں گے۔ ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَاۤ ﴾ جہنم کے داروغے ابدی بدبختی اور سرمدی عذاب کی مبارک دیں گے اور ان اعمال پر، جن کے سبب سے وہ اس بدترین جگہ پر پہنچے، انھیں زجروتوبیخ کرتے ہوئے کہیں گے:﴿اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ ﴾’’کیا تمھارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے۔‘‘ یعنی تمھاری جنس میں سے، جنھیں تم پہچانتے اور ان کی صداقت کو خوب جانتے تھے اور تم ان سے ہدایت حاصل کر سکتے تھے؟﴿يَتۡلُوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِ رَبِّكُمۡ ﴾ ’’وہ تم کو تمھارے رب کی آیتیں پڑھ کر سناتے تھے۔‘‘ جن آیات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان انبیاء و مرسلین کو مبعوث فرمایا تھا جو روشن ترین دلائل و براہین کے ذریعے سے حق الیقین پر دلالت کرتی تھیں۔ ﴿وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور وہ تمھیں اس دن کے پیش آنے (ملاقات) سے ڈراتے تھے۔‘‘ اور یہ چیز اس دن کے ڈر کو مد نظر رکھتے ہوئے تمھارے ان رسولوں کی اتباع اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی موجب تھی، مگر تمھارا حال اس مطلوبہ حال کے بالکل برعکس تھا۔ ﴿قَالُوۡا ﴾ وہ اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہونے کا اعتراف و اقرار کرتے ہوئے کہیں گے: ﴿بَلٰى ﴾ کیوں نہیں! ہمارے پاس ہمارے رب کے رسول واضح دلائل اور نشانیوں کے ساتھ آئے، انھوں نے ان نشانیوں کو ہمارے سامنے پوری طرح واضح کر دیا تھا اور انھوں نے ہمیں آج کے دن سے ڈرایا تھا ﴿وَلٰكِنۡ حَقَّتۡ كَلِمَةُ الۡعَذَابِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’لیکن عذاب کا حکم (وعدہ) کافروں پر ثابت ہوکر رہا۔‘‘ یعنی ان کے کفر کے سبب سے ان پر عذاب واجب ہو گیا۔ یہ عذاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتا ہے اور اس چیزکو جھٹلاتا ہے جسے لے کر انبیاء ورسل مبعوث ہوئے۔ پس یہ کفار اپنے گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی حجت کے قائم ہونے کا اعتراف کریں گے۔
[72]﴿قِيۡلَ ﴾ انھیں ذلیل و رسوا کرتے ہوئے کہا جائے گا: ﴿ادۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَهَنَّمَ ﴾ ’’دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ ۔‘‘ ہر گروہ اس دروازے سے جہنم میں داخل ہو گا جو اس کے مناسب اور موافق حال ہو گا۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا ﴾ وہ وہاں ابدا لآباد تک رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی کوچ نہیں کریں گے، ایک گھڑی کے لیے ان سے عذاب دور نہیں کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی۔ ﴿فَبِئۡسَ مَثۡوَى الۡمُتَكَبِّرِيۡنَ ﴾ ’’پس تکبر کرنے والوں کا برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی جہنم ان کا ٹھکانا ہے جو بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ سب کچھ اس پاداش میں ہے کہ وہ حق کے مقابلے میں تکبر کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی جزا ان کے عمل کی جنس سے دی ہے، اہانت، ذلت اور رسوائی ان کی سزا ہے۔
[73] پھر اہل جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَسِيۡقَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے انھیں لے جایا جائے گا‘‘ متقین کو اللہ تعالیٰ کی توحید، ان کے عمل اور اطاعت کے سبب سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ وفدوں کی صورت میں ﴿اِلَى الۡؔجَنَّةِ زُمَرًا ﴾ ’’جنت کی طرف گروہ در گروہ۔‘‘ وہ خوش و خرم جنت میں جائیں گے۔ ہر جماعت ایسی جماعت کی معیت میں جنت میں داخل ہو گی جس کے ساتھ وہ عمل میں مشابہت رکھتی ہوگی۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡهَا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے‘‘ یعنی جب یہ لوگ کشادہ اورخوبصورت جنتوں میں پہنچیں گے، بادنسیم کے جھونکے ان کااستقبال کریں گے، یہ نعمتیں اور جنتیں ہمیشہ رہیں گی۔ ﴿وَفُتِحَتۡ﴾ ’’اور کھول دیے جائیں گے‘‘ ان کے لیے ﴿ اَبۡوَابُهَا ﴾’’اس کے دروازے۔‘‘ سب سے زیادہ باعزت مخلوق کے لیے، عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے تاکہ جنت میں ان کی عزت و تکریم ہو ﴿وَقَالَ لَهُمۡ خَزَنَتُهَا ﴾ اور جنت کے دربان ان کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہیں گے ﴿سَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر سلامتی ہو‘‘ تم ہر آفت اوربرے حال سے سلامت اور محفوظ ہو ﴿طِبۡتُمۡ ﴾ تمھارے دل اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور اس کی خشیت کے باعث، تمھاری زبانیں اس کے ذکر اور تمھارے جوارح اس کی اطاعت کے باعث اچھے رہے، لہٰذا اپنی اچھائی کے سبب سے ﴿فَادۡخُلُوۡهَا خٰؔلِدِيۡنَ ﴾ ’’اس جنت میں ہمیشہ کے لیے داخل ہوجاؤ۔‘‘ یہ پاک اور طیب گھر ہے اور طیبین کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہنم کے بارے میں فرمایا: ﴿فُتِحَتۡ اَبۡوَابُهَا ﴾ اور جنت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَفُتِحَتۡ ﴾ یعنی واؤ کے ساتھ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اہل جہنم کے وہاں مجرد پہنچنے پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں گے، انھیں انتظار کی مہلت نہیں دی جائے گی، جہنم کے دروازے ان کے پہنچنے پر اور ان کے سامنے ، اس لیے کھلیں گے کہ اس کی حرارت بہت زیادہ اور اس کا عذاب انتہائی شدید ہوگا۔ رہی جنت، تو یہ بہت ہی عالی مرتبہ مقام ہے، جہاں ہر شخص نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے جو ان وسائل کو اختیار کرتا ہے جو جنت تک پہنچاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ جنت میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل تکریم ہستی کی سفارش کے محتاج ہوں گے۔ مجرد وہاں پہنچنے پر ان کے لیے جنت کے دروازے نہیں کھول دیے جائیں گے بلکہ وہ جناب نبی مصطفیٰ محمد ﷺ سے سفارش کرائیں گے، آپ اہل ایمان کی سفارش کریں گے اور اللہ تعالیٰ آپﷺ کی سفارش کو قبول فرمائے گا۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ جہنم اور جنت کے دروازے ہوں گے، جو کھولے اور بند کیے جا سکیں گے۔ اور ہر دروازے پر داروغہ مقرر ہو گا۔ یہ خالص گھر ہیں جہاں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو ان کا مستحق ہو گا بخلاف عام گھروں اور جگہوں کے، جہاں ہر کوئی داخل ہو سکتا ہے۔
[74]﴿وَقَالُوا ﴾ وہ جنت میں داخل ہو کر، اپنے اپنے ٹھکانے پر پہنچ کر، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے ہدایت عطا کرنے پر، اس کی حمدوثنا بیان کرتے ہوئے کہیں گے:﴿الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ الَّذِيۡ صَدَقَنَا وَعۡدَهٗ﴾ ’’اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچا کر دکھایا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی زبانوں پر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے اور نیک عمل کیے تو وہ ہمیں جنت عطا کرے گا ۔پس اس نے اپنا وعدہ ایفاء کر کے ہماری آرزو پوری کر دی ﴿وَاَوۡرَثَنَا الۡاَرۡضَ ﴾ ’’اور ہمیں زمین کا وارث بنایا‘‘ یعنی جنت کی زمین کا۔ ﴿نَتَبَوَّاُ مِنَ الۡؔجَنَّةِ حَيۡثُ نَشَآءُ ﴾ یعنی ہم جنت میں جس جگہ بھی چاہیں ٹھہر سکتے ہیں اور اس کی نعمتوں سے جو چیز بھی چاہیں لے سکتے ہیں۔ ہمارے لیے کوئی چیز ممنوع نہیں جس کا ارادہ کریں ﴿فَنِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِيۡنَ ﴾ ’’پس (نیک) عمل کرنے والوں کا بدلہ بھی کیسا خوب ہے۔‘‘ جنھوں نے ختم ہو جانے والی نہایت قلیل سی مدت میں اپنے رب کی اطاعت کے لیے کوشش کی اور اس کے بدلے انھوں نے خیرعظیم حاصل کی جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ یہ ہے وہ گھر جو حقیقی مدح کا مستحق ہے جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو سرفراز فرمائے گا، جوادوکریم اللہ نے ان کے لیے جنت کے گھر کی مہمانی کو پسند فرمایا ہے، اللہ نے اس گھر کو نہایت بلند اور خوبصورت بنایا ہے۔ اس میں اپنے ہاتھوں سے انواع و اقسام کے درخت اور پودے لگائے ہیں۔ اسے اپنی رحمت و تکریم سے لبریز کیاہے جس کے ادنیٰ حصے سے غم زدہ کو فرحت حاصل ہو گی اور تمام تکدر ختم ہو کر صفا کی تکمیل ہو جائے گی۔
[75]﴿وَتَرَى الۡمَلٰٓىِٕكَةَ ﴾ اے دیکھنے والے! تو اس عظیم دن، فرشتوں کو دیکھے گا کہ ﴿حَآفِّيۡنَ مِنۡ حَوۡلِ الۡعَرۡشِ ﴾ وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے سامنے سرافگندہ، اس کے جمال میں مستغرق ہو کر اور اس کے کمال کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے عرش کے اردگرد اس کی خدمت میں جمع ہوں گے۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾یعنی وہ اپنے رب کی ہر اس وصف سے تنزیہ و تقدیس کریں گے جو اس کے جلال کے لائق نہیں، جو مشرکین نے اس کی طرف منسوب کیے ہیں یا نہیں کیے۔﴿وَقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ یعنی اولین و آخرین تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا ﴿بِالۡحَقِّ ﴾ ’’ حق کے ساتھ۔‘‘ جس میں کوئی اشتباہ ہو گا نہ وہ شخص انکار کر سکے گا جس کے ذمہ یہ حق ہو گا۔ ﴿وَقِيۡلَ الۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور کہا جائے گا: ہر طرح کی حمد و تعریف اللہ ہی کو سزاوار ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘ یہاں قائل کا ذکر نہیں کیا گیا تاکہ اس بات کی دلیل ہو کہ تمام مخلوق اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے میں اس کی حکمت پر اس کی حمد بیان کرے گی یعنی فضل و احسان کی حمد اور عدل و حکمت کی حمد۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии