Ас-СаадиАш‑Шура · 42:1–16

Ас-Саади · Тафсир · на урду

الشورى

Аш-Шура

Совет · Мекканская · 53 аята

42:1–9Страница 483

حمٓ ١

Ха. Мим.

عٓسٓقٓ ٢

Айн. Син. Каф.

كَذَٰلِكَ يُوحِيٓ إِلَيۡكَ وَإِلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِكَ ٱللَّهُ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ ٣

Так внушает откровение тебе и твоим предшественникам Аллах Могущественный, Мудрый.

لَهُۥ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَلِيُّ ٱلۡعَظِيمُ ٤

Ему принадлежит то, что на небесах, и то, что на земле. Он - Возвышенный, Великий.

تَكَادُ ٱلسَّمَٰوَٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِن فَوۡقِهِنَّۚ وَٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ يُسَبِّحُونَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَيَسۡتَغۡفِرُونَ لِمَن فِي ٱلۡأَرۡضِۗ أَلَآ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٥

Небеса готовы разверзнуться сверху (от величия Аллаха; или от многочисленных ангелов; или от слов многобожников). Ангелы прославляют хвалой своего Господа и просят прощения для тех, кто на земле. Воистину, Аллах - Прощающий, Милосердный.

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهُ حَفِيظٌ عَلَيۡهِمۡ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡهِم بِوَكِيلٖ ٦

Аллах является Хранителем для тех, которые взяли себе иных покровителей и помощников помимо Него (сохраняет их злодеяния для того, чтобы они получили воздаяние), и ты не являешься их попечителем и хранителем.

وَكَذَٰلِكَ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ قُرۡءَانًا عَرَبِيّٗا لِّتُنذِرَ أُمَّ ٱلۡقُرَىٰ وَمَنۡ حَوۡلَهَا وَتُنذِرَ يَوۡمَ ٱلۡجَمۡعِ لَا رَيۡبَ فِيهِۚ فَرِيقٞ فِي ٱلۡجَنَّةِ وَفَرِيقٞ فِي ٱلسَّعِيرِ ٧

Так Мы внушили тебе в откровении Коран на арабском языке, чтобы ты предостерегал Мать селений (жителей Мекки) и тех, кто вокруг нее, и предостерегал от Дня собрания, в котором нет сомнения. Одна часть людей окажется в Раю, а другая часть окажется в Пламени.

وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَهُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُدۡخِلُ مَن يَشَآءُ فِي رَحۡمَتِهِۦۚ وَٱلظَّٰلِمُونَ مَا لَهُم مِّن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ ٨

Если бы Аллах пожелал, то сделал бы их одной общиной верующих. Однако Он вводит в Свою милость того, кого пожелает. А у беззаконников не будет ни покровителя, ни помощника.

أَمِ ٱتَّخَذُواْ مِن دُونِهِۦٓ أَوۡلِيَآءَۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلۡوَلِيُّ وَهُوَ يُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ٩

Неужели они взяли себе покровителей и помощников вместо Него? Аллах является Покровителем. Он оживляет мертвых, и Он способен на всякую вещь.

حٰمٓ (1)عٓسٓقٓ(2) اسی طرح وحی کرتا ہے آپ کی طرف اور ان لوگوں کی طرف جو آپ سے پہلے (تھے) اللہ زبردست، خوب حکمت والا(3) اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور وہ بلند ہے خوب عظمت والا(4) قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں اپنے اوپر سے، اور فرشتے تسبیح کرتے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اور مغفرت مانگتے ہیں ان کے لیے جو زمین میں ہیں، خبردار! بلاشبہ اللہ، وہی ہے بڑا بخشنے والا نہایت مہربان(5) اور وہ لوگ جنھوں نے بنا لیے اس کے سوا (دوسرے) کارساز، اللہ نگہبان ہے ان پر اور نہیں ہیں آپ ان پر نگران(6) اور اسی طرح وحی کی ہم نے آپ کی طرف ایک قرآن عربی کی، تاکہ ڈرائیں آپ مکہ (والوں)کو اور ان کو جو ارد گرد ہیں اس کےاور ڈرائیں آپ جمع ہونے کے دن سے کہ نہیں ہے شک جس میں، ایک گروہ جنت میں ہو گا اور ایک گروہ بھڑکنے والی آگ میں(7) اور اگر چاہتا اللہ تو یقیناً کر دیتا ان (سب)کو امت ایک ہی اور لیکن داخل کرتا ہے وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں اور ظالم، نہیں ہے ان کے لیے کوئی دوست اور نہ کوئی مدد گار(8) کیا بنا لیے انھوں نے اس کے سوا (دوسرے)کارساز؟ پس اللہ ہی ہے کارساز اور وہی زندہ کرے گا مردوں کو اور وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(9)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔

[5-1] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے یہ قرآن عظیم، نبی کریم ﷺ کی طرف وحی کیا ہے جس طرح آپ سے پہلے انبیاء و مرسلین کی طرف وحی کی۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ذکر ہے کہ اس نے گزشتہ زمانوں میں اور بعد میں آنے والے زمانوں میں کتابیں نازل کیں اور انبیاء و رسل مبعوث کیے۔ نیز یہ کہ محمد مصطفیﷺ کوئی انوکھے رسول نہیں۔ آپ کا طریقہ وہی ہے جو پہلے انبیاء و مرسلین کا طریقہ تھا۔ آپ کے احوال، گزشتہ انبیاء کے احوال سے مناسبت رکھتے ہیں۔ جو دعوت آپ لے کر آئے ہیں، وہ گزشتہ انبیاء کی دعوت سے مشابہت رکھتی ہے کیونکہ ان کی دعوت اور آپ کی دعوت سب حق اور سچ ہے۔ اور یہ کتابیں اسی ہستی کی طرف سے نازل کی گئی ہیں، جو الوہیت، غلبۂ عظیم اور حکمت بالغہ سے موصوف ہے، تمام عالم علوی اور عالم سفلی، اس کی ملکیت اور اس کی تدبیر قدری اور تدبیر شرعی کے تحت ہیں۔ ﴿الۡعَلِيُّ ﴾ وہ اپنی ذات، اپنی قدرت اور اپنے قہروغلبہ کے ساتھ بلند ہے ﴿ الۡعَظِيۡمُ ﴾’’وہ عظمت والا ہے۔‘‘ جس کی عظمتِ شان سے ﴿تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِهِنَّ ﴾ ’’قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔‘‘ باوجود اپنی عظمت اور مضبوطی کے ﴿وَالۡمَلٰٓىِٕكَةُ ﴾ اور مکرم و مقرب فرشتے اس کی عظمت کے سامنے سرنگوں، اس کے غلبہ کے سامنے عاجز اور اس کی ربوبیت کے سامنے مطیع اور فروتن ہیں۔ ﴿يُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ یعنی وہ اس کی تعظیم اور ہر نقص سے اس کی تنزیہ کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کمال سے اسے متصف قرار دیتے ہیں۔ ﴿وَيَسۡتَغۡفِرُوۡنَ۠ لِمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’اور جو زمین میں ہیں ان کے لیے وہ مغفرت طلب کرتے ہیں۔‘‘ ان سے جو ایسی باتیں صادر ہوتیں ہیں، جو ان کے رب کی عظمت اور کبریائی کے لائق نہیں، اس پر ان کے لیے بخشش مانگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’اللہ ہی بڑا بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔‘‘ اگر اس کی مغفرت اور رحمت نہ ہوتی تو مخلوق پر فورا عذاب بھیج دیتا جو ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا۔ اس امر کا ذکر کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و مرسلین کو عام طور پر اور نبی مصطفیٰ محمد ﷺ پر خاص طور پر وحی بھیجی، ان اوصاف سے اپنے آپ کو موصوف کرنے میں، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن کریم میں ایسے دلائل و براہین ہیں جو اللہ تعالیٰ کے کمال، اس کے ان اسمائے عظیم سے اپنے آپ کو موصوف کرنے پر دلالت کرتے ہیں جو اس بات کے موجب ہیں کہ قلوب اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت، اس کی تعظیم اور اس کے جلال و اکرام سے لبریز ہوں، اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبودیت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے ہم سر بنانا، جن کے ہاتھ میں کوئی نفع و نقصان نہیں، سب سے بڑا ظلم اور قبیح ترین قول ہے۔ یہ خود ساختہ ہم سر و معبود تو محض مخلوق ہیں اور اپنے تمام احوال میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔

[6] بنا بریں اس کے بعد فرمایا: ﴿وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَؔ﴾ ’’اور جنھوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں۔‘‘ ان کی اس طرح عبادت اور اطاعت کرتے ہیں، جس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معبود حقیقت میں والی اور مددگار نہیں ہیں۔ ان مشرکین نے محض باطل کو اختیار کر رکھا ہے۔ ﴿اللّٰهُ حَفِيۡؔظٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’اللہ ان پر نگران ہے۔‘‘ وہ ان کے اعمال کو (ان کے نامۂ اعمال) میں محفوظ کرتا ہے۔ سو وہ ان کے اچھے برے اعمال کی جزا دے گا۔ ﴿وَمَاۤ اَنۡتَ عَلَيۡهِمۡ بِوَؔكِيۡلٍ ﴾ اور آپ ان کے ذمہ دار نہیں۔‘‘ کہ آپ سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے۔ آپ تو صرف پہنچا دینے والے ہیں اور آپ نے اپنا فرض پورا کر دیا۔

[7] پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور لوگوں پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا کہ اس نے نازل کیا ہے﴿قُرۡاٰنًا عَرَبِيًّا ﴾ ’’عربی قرآن ۔‘‘ جو اپنے الفاظ و معانی میں واضح ہے۔ ﴿لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰى ﴾ ’’تاکہ آپ اہلِ مکہ کو ڈرائیں۔‘‘ اس سے مکہ مکرمہ ہی مراد ہے۔ ﴿وَمَنۡ حَوۡلَهَا ﴾ اور جو مکہ مکرمہ کے ارد گرد عرب بستیاں ہیں اور پھر یہ ڈرانا تمام مخلوق کو شامل ہوجاتا ہے۔ ﴿وَتُنۡذِرَ ﴾ تاکہ آپ لوگوں کو ڈرائیں ﴿يَوۡمَ الۡجَمۡعِ ﴾ اس دن سےجس میں اللہ تعالیٰ اولین و آخرین کو جمع کرے گا۔ اور انھیں آگاہ کیجیے کہ ﴿لَا رَيۡبَ فِيۡهِ ﴾ اس دن کے آنے میں کوئی شک نہیں اور اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ﴿فَرِيۡقٌ فِي الۡجَنَّةِ ﴾ ’’ایک گروہ جنت میں ہوگا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے انبیاء و مرسلین کی تصدیق کی ﴿وَفَرِيۡقٌ فِي السَّعِيۡرِ﴾ ’’اور ایک گروہ آگ میں ہوگا۔‘‘ یہ لوگ کفار اور اہل تکذیب کی تمام اصناف پر مشتمل ہیں۔

[8]﴿وَ ﴾ ’’اور‘‘ بایں ہمہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو بنا دیتا تمام لوگوں کو ﴿اُمَّةً وَّاحِدَةً ﴾ ’’ایک امت ‘‘ جو راہ ہدایت پر چلتی کیونکہ وہ قادر مطلق ہے، کسی چیز کو اس کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں مگر اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی مخلوق کے خاص بندوں میں سے جسے چاہے اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ رہے ظالم لوگ جن سے کوئی نیکی نہیں ہوتی تو وہ اس کی رحمت سے محروم رہیں گے۔ ﴿مَا لَهُمۡ﴾ ’’نہیں ہے ان کے لیے۔‘‘ اللہ کے سوا ﴿ مِّنۡ وَّلِيٍّ ﴾’’کوئی کارساز۔‘‘ جو ان کی مدد کر سکے اور اس طرح ان کو اپنا محبوب و مرغوب مقصد حاصل ہو سکے۔ ﴿وَّلَا نَصِيۡرٍ ﴾ ’’اور نہ کوئی مددگار ہو گا۔‘‘، جو ان سے کسی تکلیف دہ امر کو دور کر سکے۔

[9]﴿اَمِ اتَّؔخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اَوۡلِيَآءَ ﴾ ’’کیا ان لوگوں نے دوسروں کو اپنا کارساز بنا رکھا ہے؟‘‘ جو ان کی عبادت کے ذریعے سے ان کو اپنا مددگار بناتے ہیں، وہ قبیح ترین غلطی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی والی و مددگار ہے، اس کا بندہ اس کی عبادت و اطاعت اور ہر ممکن وسیلۂ تقرب کے ذریعے سے اس کو اپنا سرپرست بناتا ہے اور اللہ تعالیٰ عمومی طور پر تمام بندوں کا اپنی تدبیر اور ان پر قدرت کے نفاذ کے ذریعے سے سرپرست ہے اور خاص طور پر اپنے مومن بندوں کی اس طرح سرپرستی فرماتا ہے کہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے، اپنے لطف و کرم سے ان کی تربیت کرتا اور تمام امور میں ان پر اپنی اعانت کا فیضان کرتا ہے۔ ﴿وَهُوَ يُحۡيِ الۡمَوۡتٰى ١ٞ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’اور وہی مردے زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قارد ہے۔‘‘ یعنی زندگی و موت اور نفوذ مشیت و قدرت میں وہی تصرف کرتا ہے اور وہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔

42:10–12Страница 483

وَمَا ٱخۡتَلَفۡتُمۡ فِيهِ مِن شَيۡءٖ فَحُكۡمُهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبِّي عَلَيۡهِ تَوَكَّلۡتُ وَإِلَيۡهِ أُنِيبُ ١٠

Решение всего, в чем вы расходитесь во мнениях, остается за Аллахом. Скажи: «Таков Аллах, мой Господь! Я уповаю только на Него и к Нему обращаюсь».

فَاطِرُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۚ جَعَلَ لَكُم مِّنۡ أَنفُسِكُمۡ أَزۡوَٰجٗا وَمِنَ ٱلۡأَنۡعَٰمِ أَزۡوَٰجٗا يَذۡرَؤُكُمۡ فِيهِۚ لَيۡسَ كَمِثۡلِهِۦ شَيۡءٞۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡبَصِيرُ ١١

Творец небес и земли! Он создал для вас супруг из вас самих, а также скот парами. Так Он размножает вас. Нет никого подобного Ему, и Он - Слышащий, Видящий.

لَهُۥ مَقَالِيدُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَبۡسُطُ ٱلرِّزۡقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقۡدِرُۚ إِنَّهُۥ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٞ ١٢

Ему принадлежат ключи небес и земли. Он увеличивает или ограничивает удел, кому пожелает. Он знает о всякой вещи.

اور جو کچھ کہ اختلاف کیا تم نے اس میں کسی چیز سے تو فیصلہ اس کا اللہ کی طرف ہے، یہی اللہ میرا رب ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں (10)(وہ) پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا، بنائے اس نے تمھارے لیے تمھارے ہی نفسوں سے جوڑے اور چوپاؤ ں سے بھی (ان کے) جوڑے، پھیلاتا ہے وہ تم کو اس میں، نہیں ہے اس کی مثل کوئی چیز اور وہ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے (11) اسی کے لیے ہیں کنجیاں آسمانوں اور زمین کی وہ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اور وہی تنگ کرتا ہے، بلاشبہ وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے (12)

[10]﴿وَمَا اخۡتَلَفۡتُمۡ فِيۡهِ مِنۡ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور جن باتوں میں تم آپس میں اختلاف رکھتے ہو۔‘‘ یعنی اپنے دین کے اصول و فروع میں اگر تم ایک دوسرے سے متفق نہ ہو۔ ﴿فَحُكۡمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ ﴾ تو اسے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کی طرف لوٹایا جائے وہ دونوں جو فیصلہ کریں، وہی حق ہے اور جو ان دونوں کے خلاف ہو، وہ باطل ہے۔ ﴿ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّيۡ ﴾ ’’یہی اللہ میرا رب ہے۔‘‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کائنات کا رب، خالق، رازق اور مدبر ہے، اسی طرح وہ اپنے بندوں کے درمیان ان کے تمام امور میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ کسی امر پر اتفاقِ امت حجتِ قطعی ہے کیونکہ جن امور میں ہمارے درمیان اختلاف نہ ہو اسے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تب معلوم ہوا کہ جس چیز پر ہم اتفاق کریں تو امت کا اتفاق، اس کے حق ہونے کی دلیل کے لیے کافی ہے کیونکہ امت مجموعی طور پر معصوم عن الخطا ہے۔ اس لیے یہ لازمی امر ہے کہ کسی مسئلہ پر امت کا اتفاق، کتاب و سنت کے موافق ہو۔ ﴿عَلَيۡهِ تَوَؔكَّلۡتُ ﴾ ’’میں نے اسی پر بھروسا کیا۔‘‘ جلب منفعت، دفع مضرت اور اپنی حاجت کے پورا ہونے کے بارے میں پورے وثوق کے ساتھ اسی پر اعتماد کرتا ہوں ﴿وَاِلَيۡهِ اُنِيۡبُ ﴾ اور میں اپنے دل و جان سے اس کی طرف اور اس کی عبادت و اطاعت کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔یہ دو ایسے اصول ہیں جن کا اللہ تعالیٰ اپنی کتاب عظیم میں نہایت کثرت سے ذکر فرماتا ہے، کیونکہ ان دونوں کے جمع ہونے سے بندۂ مومن کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں کے نہ ہونے یا ان میں سے کسی ایک سے محروم ہونے سے بندۂ مومن کمال سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿اِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَاِيَّاكَ نَسۡتَعِيۡنُ﴾(الفاتحۃ:1؍4) ’’ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد کے طلب گار ہیں‘‘ اور فرمایا: ﴿فَاعۡبُدۡهُ وَتَوَكَّلۡ عَلَيۡهِ ﴾(ہود:11؍123) ’’اس کی عبادت کیجیے اور اس پر بھروسہ کیجیے۔‘‘

[11]﴿فَاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت، مشیت اور حکمت سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے۔ ﴿جَعَلَ لَكُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِكُمۡ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اسی نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے جوڑے بنائے۔‘‘ تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کر سکو، تمھاری نسل بڑھ سکے اور تمھیں فائدہ حاصل ہو ﴿وَّمِنَ الۡاَنۡعَامِ اَزۡوَاجًا ﴾ ’’اور چوپایوں کے جوڑے بنائے۔‘‘ تمام اصناف سے نر اور مادہ دونوں اقسام بنائیں تاکہ ان کی نسل باقی رہ کر بڑھتی رہے اور تمھاری بہت سی ضرورتیں پوری ہوں۔ اس لیے اس کو ’’لام‘‘ کے ذریعے سے متعدی بنایا ہے، جو تعلیل پر دلالت کرتا ہے، یعنی اس نے یہ جوڑے تمھارے لیے اور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کے لیے بنائے ہیں ، اس لیے فرمایا:﴿يَذۡرَؤُكُمۡ فِيۡهِ ﴾ یعنی وہ تمھیں پھیلاتا اور بڑھاتا ہے اور تمھارے مویشیوں کو بھی بڑھاتا ہے، اس طریقے سے کہ اس نے تمھارے لیے تم میں سے تمھارے جوڑے بنائے اور تمھارے لیے تمھارے مویشیوں کے جوڑے بنائے۔ ﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ ’’ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں۔‘‘ یعنی اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کی ذات میں، اس کے اسماء میں، اس کی صفات میں اور اس کے افعال میں مشابہت رکھتی ہے نہ مماثلت کیونکہ اس کے تمام اسماء، اسمائے حسنیٰ ہیں اور اس کی تمام صفات، صفات کمال و عظمت ہیں۔ اس نے اپنے افعال کے ذریعے سے اتنی بڑی کائنات کو بغیر کسی مددگار کے وجود بخشا۔ پس اس جیسی کوئی چیز نہیں کیونکہ وہ ہر لحاظ سے اپنے کمال میں واحد اور متفرد ہے۔ ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ ﴾ ’’اور وہ خوب سننے والا ہے۔‘‘ یعنی مخلوقات کی مختلف زبانوں اور متنوع حاجات کے باوجود وہ سب کی آوازیں سنتا ہے ﴿الۡبَصِيۡرُ ﴾ ’’خوب دیکھنے والا ہے۔‘‘ وہ سیاہ رات میں، ٹھوس پتھر پر سیاہ چیونٹی کے رینگنے کو بھی دیکھتا ہے۔ وہ چھوٹے سے چھوٹے حیوان کے جسم میں سرایت کرتی ہوئی خوراک اور درخت کی باریک سے باریک ٹہنی میں سرایت کرتے ہوئے پانی کو بھی دیکھتا ہے۔ یہ آیت کریمہ، صفات کے اثبات اور مخلوقات سے مماثلت کی نفی کے بارے میں اہل سنت و الجماعت کے مذاہب پر دلالت کرتی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿لَيۡسَ كَمِثۡلِهٖ شَيۡءٌ ﴾ میں مشبہہ ’’اہل تشبیہ‘‘ کا رد ہے اور ﴿وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡبَصِيۡرُ ﴾ میں معطلہ ’’صفاتِ الٰہی کا انکار کرنے والوں‘‘ کا رد ہے۔

[12]﴿لَهٗ مَقَالِيۡدُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’اس کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔‘‘ آسمانوں اور زمین کے اقتدار کا وہی مالک ہے اور اسی کے ہاتھ میں رحمت و رزق اور ظاہری و باطنی نعمتوں کی کنجیاں ہیں۔ تمام مخلوق ہر حال میں جلب مصالح اور دفع ضرر کے لیے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے۔ کسی کے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اسی کے ہاتھ میں نفع و نقصان ہے، بندوں کے پاس جو بھی نعمت ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور اس کے سوا کوئی ہستی شر کو دور نہیں کر سکتی۔ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾(فاطر:35؍2) ’’اللہ لوگوں پر جس رحمت کا دروازہ کھول دے، اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے، اس کے بعد اسے کوئی بھیجنے (کھولنے) والا نہیں۔‘‘ ﴿يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ ﴾ وہ اصناف رزق میں سے جس کے لیے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کشادہ رزق عطا کرتا ہے ﴿وَيَقۡدِرُ ﴾ جس کے لیے چاہتا ہے اس کا رزق تنگ کر دیتا، یہاں تک کہ اسے صرف بقدر حاجت رزق عطا کرتا ہے اور حاجت سے زیادہ عطا نہیں کرتا۔ یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت کے تابع ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهٗ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيۡمٌ ﴾ ’’وہ اپنے بندوں کے احوال کو خوب جانتا ہے۔‘‘ ہر شخص کو وہی کچھ عطا کرتا ہے جو اس کی مشیت تقاضا کرتی ہے اور جو اس کی حکمت کے لائق ہے۔

42:13Страница 484

۞ شَرَعَ لَكُم مِّنَ ٱلدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِۦ نُوحٗا وَٱلَّذِيٓ أَوۡحَيۡنَآ إِلَيۡكَ وَمَا وَصَّيۡنَا بِهِۦٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰٓۖ أَنۡ أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُواْ فِيهِۚ كَبُرَ عَلَى ٱلۡمُشۡرِكِينَ مَا تَدۡعُوهُمۡ إِلَيۡهِۚ ٱللَّهُ يَجۡتَبِيٓ إِلَيۡهِ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَن يُنِيبُ ١٣

Он узаконил для вас в религии то, что заповедал Нуху (Ною), и то, что Мы внушили тебе в откровении, и то, что Мы заповедали Ибрахиму (Аврааму), Мусе (Моисею) и Исе (Иисусу): «Исповедуйте религию и не расходитесь во мнениях относительно нее». Тяжко для многобожников то, к чему ты их призываешь. Аллах избирает для Себя того, кого пожелает, и направляет к Себе того, кто обращается к Нему.

مقرر کیا ہے اس نے تمھارے لیے(وہ)دین کہ وصیت کی اس نے اس کی نوح کو اور وہ جس کی وحی کی ہم نے آپ کی طرف اور وہ کہ وصیت کی ہم نے اس کی ابراہیم اور موسٰی اور عیسٰی کو، یہ کہ قائم رکھو تم اس دین کو اور نہ جدا جدا ہو تم اس میں، گراں گزرتی ہے مشرکین پر وہ (بات)کہ بلاتے ہیں آپ ان کو اس کی طرف، اللہ چن لیتا ہے اپنی طرف جسے چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے اپنی طرف اس کو جو رجوع کرتا ہے (13)

[13]یہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے بندوں کو سرفراز فرمایا۔ اس نے ان کے لیے دین اسلام مشروع کیا، جو تمام ادیان میں سب سے افضل اور سب سے پاک دین ہے۔ دین اسلام کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چنے ہوئے بندوں کے لیے مشروع کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے چنے ہوئے بندوں میں سے بھی خاص بندوں کے لیے اس دین کو مشروع کیا، جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا، جو ہر لحاظ سے تمام مخلوق میں سب سے کامل اور جن کا درجہ سب سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین ان کے لیے مشروع فرمایا، ضروری ہے کہ وہ مقدس ہستیوں کے مناسب حال اور ان کے کمال کے موافق ہو۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے دین کو قائم کرنے کے سبب سے کمال سے سرفراز فرمایا اور اپنے لیے چن لیا۔ اگر دین اسلام نہ ہوتا تو تمام مخلوق میں کوئی بھی بلندی پر نہ پہنچ سکتا۔ اسلام سعادت کی روح اور کمال کی بنیاد ہے۔ اسلام وہی ہے جو اس کتاب کریم میں دیا گیا ہے اور جس کی طرف یہ کتاب دعوت دیتی ہے، یعنی توحید، اعمال صالحہ، مکارم اخلاق اور آداب وغیرہ۔﴿اَنۡ اَقِيۡمُوا الدِّيۡنَ ﴾ یعنی اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ تم دین کے تمام اصول و فروع کو قائم کرو۔ ان کو خود اپنی ذات پر نافذ کرو، پھر دوسروں پر نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کرو۔ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو۔ ﴿وَلَا تَتَفَرَّقُوۡا فِيۡهِ ﴾ ’’اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔‘‘ تاکہ تم دین کے اصول و فروع پر متفق رہو۔ اس امر پر پوری توجہ رکھو کہ مسائل تم میں تفرقہ ڈال کر کہیں تمھیں گروہ در گروہ تقسیم نہ کر دیں اور یوں تم ایک دوسرے کے دشمن نہ بن جاؤ باوجودیکہ تمھارا دین ایک ہے۔ دین پر اجتماع اور عدم تفرقہ میں وہ اجتماعات عامہ بھی شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ، مثلاً: حج، عیدین، جمعہ، نماز پنجگانہ اور جہاد وغیرہ ۔ یہ ایسی عبادات ہیں جو اجتماعات اور عدم تفرق کے بغیر مکمل نہیں ہوتیں۔ ﴿كَبُرَ عَلَى الۡمُشۡرِكِيۡنَ مَا تَدۡعُوۡهُمۡ اِلَيۡهِ ﴾ یعنی جب آپ ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کی دعوت دیتے ہیں تو یہ بات ان پر بے انتہا شاق گزرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحۡدَهُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ١ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖۤ اِذَا هُمۡ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۠ ﴾(الزمر39؍45) ’’جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جب اللہ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔‘‘ جیسا کہ مشرکین کہتے تھے: ﴿اَجَعَلَ الۡاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖ ۚ اِنَّ هٰؔذَا لَشَيۡءٌ عُجَابٌ ﴾(ص:38؍5) ’’کیا اس نے ان سارے معبودوں کی بجائے ایک ہی معبود بنا دیا، یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے۔‘‘ ﴿اَللّٰهُ يَجۡتَبِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ﴾ ’’اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ میں برگزیدہ بنالیتا ہے۔‘‘ اللہ اپنی مخلوق میں ان لوگوں کو اپنے لیے منتخب کرتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت، اس کی ولایت اور اس کی نعمت کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ اس طرح اس نے اس امت کا انتخاب کیا اور اسے تمام امتوں پر فضیلت سے نوازا اور اس کے لیے بہترین دین چنا۔ ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ ’’اور جو اس کی طرف رجوع کرے وہ اسے اپنی طرف راستہ دکھاتا ہے۔‘‘ بندے کی طرف سے یہ سبب جس کے ذریعے سے وہ ہدایت الٰہی کی منزل تک پہنچتا ہے، اپنے رب کی طرف انابت، دلی محرکات کا اس کی طرف میلان اور اپنے رب کی رضا کو اپنا مقصد بنانا یہ تمام اسباب، طلب ہدایت کے حصول کو آسان بناتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ﴾(المائدہ:5؍16) ’’اس کتاب کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی رضا چاہتے ہیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں فرمایا: ﴿وَيَهۡدِيۡۤ اِلَيۡهِ مَنۡ يُّنِيۡبُ ﴾ اور فرمایا: ﴿وَّاتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ مَنۡ اَنَابَ اِلَيَّ ﴾(لقمن:31؍15) ’’اور چلو اس شخص کے طریق پر جو ہماری طرف رجوع کیے ہوئے ہو۔‘‘ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں صحابہ کرام کے احوال معلوم ہیں اور ان کی شدت انابت بھی جو اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام خاص طور پر خلفائے راشدین کا قول حجت ہے۔ (y)

42:14–15Страница 484

وَمَا تَفَرَّقُوٓاْ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡعِلۡمُ بَغۡيَۢا بَيۡنَهُمۡۚ وَلَوۡلَا كَلِمَةٞ سَبَقَتۡ مِن رَّبِّكَ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗى لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُورِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ لَفِي شَكّٖ مِّنۡهُ مُرِيبٖ ١٤

Они распались только после того, как к ним явилось знание, по причине зависти и несправедливого отношения друг к другу. И если бы не было прежде Слова от твоего Господа об отсрочке до назначенного срока, то их спор был бы решен. Воистину, те, которые унаследовали Писание после них, испытывают к нему смутные сомнения.

فَلِذَٰلِكَ فَٱدۡعُۖ وَٱسۡتَقِمۡ كَمَآ أُمِرۡتَۖ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡۖ وَقُلۡ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَٰبٖۖ وَأُمِرۡتُ لِأَعۡدِلَ بَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡۖ لَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡۖ لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمُۖ ٱللَّهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَاۖ وَإِلَيۡهِ ٱلۡمَصِيرُ ١٥

Посему проповедуй и следуй прямым путем, как тебе было велено. Не потакай их желаниям и говори: «Я уверовал в то, что Аллах ниспослал из Писания, и мне велено относиться к вам справедливо. Аллах - наш Господь и ваш Господь. Нам достанутся наши деяния, а вам - ваши деяния. Нет места доводам (дальнейшим спорам) между нами и вами. Аллах соберет всех нас, и к Нему предстоит прибытие».

اور نہ جدا جدا ہوئے وہ، مگر بعد اس کے کہ آ گیا ان کے پاس علم (محض) سرکشی سے آپس میں، اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے سے (طے) تھی آپ کے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک، تو ضرور فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان، اور بلاشبہ وہ لوگ جو وارث بنائے گئے اس کتاب کے ان کے بعد، البتہ شک میں ہیں اس کی بابت، جو اضطراب انگیز ہے (14) پس اسی (دین) کی طرف آپ بلائیں اور ثابت قدم رہیں جیسے حکم دیا گیا ہے آپ کو اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور کہہ دیجیے: ایمان لایا میں ساتھ اس کےجو نازل کی اللہ نے کتاب سے، اور حکم دیا گیا ہوں میں کہ انصاف کروں تمھارے درمیان، اللہ رب ہے ہمارا اور رب ہے تمھارا، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال، نہیں کوئی جھگڑا ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان اللہ (روز قیامت)یکجائی کر دے گا ہمارے درمیان اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (15)

[14] اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر مجتمع رہنے کا حکم دیا اور تفرقہ سے منع کیا۔ اس کے بعد انھیں خبردار کیا کہ وہ اس بات پر غرور نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کتاب نازل فرمائی۔ کیونکہ اہل کتاب نے کتاب نازل ہونے کے بعد جو اجتماع و اتحاد کی موجب تھی، ایک دوسرے سے اختلاف کیا ، لہٰذا ان کا عمل کتاب اللہ کے حکم کے خلاف تھا اور یہ سب کچھ ان کی طرف سے بغاوت اور عدوان کی وجہ سے صادر ہوا۔ کیونکہ انھوں نے آپس میں بغض، کینہ اور حسد کا رویہ رکھا جس سے ان کے درمیان عداوت پیدا ہوئی اور اس طرح اختلاف پیدا ہوا۔ اے مسلمانو! ان جیسا رویہ اختیار کرنے سے بچو۔ ﴿وَلَوۡلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’اور اگر تمھارے رب کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لیے فیصلہ نہ ٹھہر چکا ہوتا۔‘‘ یعنی فیصلہ کن عذاب کو ایک مدت مقررہ تک مؤخر کر دینے کا فیصلہ ﴿لَّقُضِيَ بَيۡنَهُمۡ ﴾ ’’تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔‘‘ مگر اللہ کی حکمت اور اس کا حکم اس تاخیر کے متقاضی تھے۔ ﴿وَاِنَّ الَّذِيۡنَ اُوۡرِثُوا الۡكِتٰبَ مِنۢۡ بَعۡدِهِمۡ ﴾ ’’اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے۔‘‘ یعنی علم سے انتساب رکھنے والے لوگ جو ان کے وارث ہوئے اور ان کے جانشین ٹھہرے۔ ﴿لَفِيۡ شَكٍّ مِّؔنۡهُ مُرِيۡبٍ ﴾ بہت زیادہ شک و اشتباہ میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان میں اختلاف واقع ہو گیا۔ جہاں ان کے اسلاف نے بغاوت اور عناد کے سبب سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاف کیا وہاں اخلاف نے بھی شک و ریب کی بنا پر اختلاف کیا۔ اختلاف مذموم میں سب لوگ شریک تھے۔

[15]﴿فَلِذٰلِكَ فَادۡعُ ﴾ یعنی اس دین قویم اور صراط مستقیم کی طرف اپنی امت کو دعوت دیجیے جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل فرمائیں اور رسول مبعوث کیےاور انھیں اس کی ترغیب دیجیے اور اس کی خاطر ان لوگوں سے جہاد کیجیے جو اس کو قبول نہیں کرتے۔ ﴿وَاسۡتَقِمۡ ﴾ ’’اور خود بھی استقامت اختیار کیجیے‘‘ ﴿كَمَاۤ اُمِرۡتَ ﴾ ’’جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے۔‘‘ استقامت سے مراد اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت ہے، جس میں کوئی افراط و تفریط نہ ہو بلکہ اس میں دائمی طور پر اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب ہو۔ سو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی تکمیل کے لیے استقامت کے التزام اور دوسروں کی تکمیل کے لیے اس کی طرف دعوت دینے کا حکم دیا نیز ہمیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیے گئے حکم کا اطلاق امت پر بھی ہوتا ہے، مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ حکم صرف آپ کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ ﴿وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ ﴾ یعنی دین سے منحرف لوگوں ، یعنی کفارومنافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کیجیے۔ یہ اتباع یا تو ان کے دین کے کسی حصے کی اتباع کے ذریعے سے یا اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت کو ترک کرنے یا استقامت کو ترک کرنے سے واقع ہوتی ہے۔ اگر آپ نے علم کے آ جانے کے بعد بھی، ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ارشاد میں )وَلَا تَتَّبِـعْ دِینَھُمْ( نہیں کہا کیونکہ حقیقت میں ان کا دین جس کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مشروع فرمایا ہے، وہی دین ہے جو تمام انبیاء و مرسلین کا دین ہے، مگر ان کے متبعین نے اس دین کی پیروی نہ کی بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ ﴿وَقُلۡ ﴾ ان کے مناظرہ اور بحث کرنے پر کہہ دیجیے ﴿اٰمَنۡتُ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنۡ كِتٰبٍ ﴾ ’’جو کتاب اللہ نے نازل کی ہے میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔‘‘ یعنی ان کے ساتھ آپ کا بحث و مناظرہ، اس عظیم اصول پر مبنی ہونا چاہیے جو اسلام کے شرف و جلال پر دلالت کرتا ہے اور تمام ادیان پر اس کے نگران ہونے کا اور یہ اہل کتاب جس دین پر چلنے کے دعویدار ہیں، وہ بھی اسلام کا ایک جزو ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی طرف راہ نمائی کی گئی ہے کہ اگر اہل کتاب، بعض کتابوں اور بعض رسولوں پر ایمان لا کر اور دیگر کا انکار کر کے مناظرہ کریں تو یہ قابل قبول نہیں کیونکہ جس کتاب کی طرف یہ لوگ دعوت دیتے ہیں اور جس رسول کی طرف یہ اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، اس کی صداقت کی شرط یہ ہے کہ وہ اس قرآن کی اور اس کو لانے والے کی تصدیق کرتا ہو۔ پس ہماری کتاب اور ہمارا رسول (ﷺ) ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰi تورات اور انجیل پر ایمان لائیں جن کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے ان کے بارے یہ بھی خبر دی ہے کہ وہ قرآن کی تصدیق اور اس کی صحت کا اقرار کرتی ہیں۔ مجرد تورات و انجیل اور حضرت موسیٰ و عیسیٰi، جو ہمارے اوصاف بیان کرتے ہیں نہ ہماری کتاب کی موافقت کرتے ہیں، تو ان پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم نہیں دیا۔ ﴿وَ اُمِرۡتُ لِاَعۡدِلَ بَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھارے درمیان انصاف کروں۔‘‘ یعنی ان امور میں فیصلہ کرتے وقت جن میں تم آپس میں اختلاف کرتے ہو ۔ اے اہل کتاب! تمھاری عداوت اور میرے خلاف تمھارا بغض مجھے تمھارے درمیان انصاف کرنے سے روک سکتا ہے نہ اہل کتاب وغیرہ میں مختلف اقوال کے قائلین کے درمیان فیصلے میں عدل سے باز رکھ سکتا ہے اور نہ ان کے ساتھ جو حق ہے اسے قبول کرنے اور ان کے باطل کو رد کرنے سے روک سکتاہے۔ ﴿اَللّٰهُ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ ﴾ ’’اللہ ہی ہمارا اور تمھارا رب ہے۔‘‘ یعنی وہ سب کا رب ہے، تم ہم سے زیادہ اس کے مستحق نہیں ہو۔ ﴿لَنَاۤ اَعۡمَالُنَا وَلَكُمۡ اَعۡمَالُكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اچھے برے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمھارے اچھے برے اعمال تمھارے لیے ہیں۔‘‘ ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾ ’’ہمارے اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے۔‘‘ حقائق کے عیاں ہو جانے، باطل میں سے حق اور گمراہی میں سے ہدایت کے واضح ہو جانے کے بعد حجت بازی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ کیونکہ بحث و مباحثہ کا مقصد محض حق اور باطل کو واضح کرنا ہوتا ہے تاکہ ہدایت یافتہ شخص اس سے راہ نمائی حاصل کرے اور گمراہ پر حجت قائم ہو جائے۔ اس سے مراد یہ نہیں کہ اہل کتاب مباحثہ نہیں کرتے اور یہ مراد ہو بھی کیسے سکتی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تُجَادِلُوۡۤا اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِيۡ هِيَ اَحۡسَنُ ﴾(العنکبوت:29؍46) ’’اہل کتاب کے ساتھ بحث مباحثہ نہ کرو، مگر احسن طریقے سے۔‘‘ اس سے مراد وہی ہے جو ہم نے ذکر کر دی ہے۔ ﴿اَللّٰهُ يَجۡمَعُ بَيۡنَنَا١ۚ وَاِلَيۡهِ الۡمَصِيۡرُ﴾ یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہمیں جمع کرے گا ، پھر وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس وقت واضح ہو جائے گا کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون۔

42:16Страница 485

وَٱلَّذِينَ يُحَآجُّونَ فِي ٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ مَا ٱسۡتُجِيبَ لَهُۥ حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمۡ وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٞ وَلَهُمۡ عَذَابٞ شَدِيدٌ ١٦

Доводы тех, которые препираются относительно Аллаха после того, как Ему ответили верующие, бесполезны перед их Господом. На них падет гнев, и им уготованы тяжкие мучения.

اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں اللہ کے بارے میں، بعد اس کے کہ مان لیا گیا اس کو، ان کی دلیل کمزور ہے نزدیک ان کے رب کے اور اوپر ان کے غضب ہے اور ان کے لیے ہے عذاب سخت (16)

[16] یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿لَا حُجَّةَ بَيۡنَنَا وَبَيۡنَكُمۡ ﴾(الشوریٰ: 15/42) کا بیان ہے، چنانچہ یہاں آگاہ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ يُحَآجُّوۡنَ فِي اللّٰهِ ﴾ ’’جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔‘‘ یعنی باطل دلائل اور متناقض شبہات کے ذریعے سے ۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا اسۡتُجِيۡبَ لَهٗ﴾ ’’اس (الله كی ذات) کے تسلیم کیے جانے کے بعد۔‘‘ یعنی اس کے بعد کہ جب عقل سے بہرہ مند لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک کہا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے قطعی دلائل اور روشن براہین بیان کر دیے تھے تو وہ لوگ جو حق کے واضح ہو جانے کے بعد، حق کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں۔ ﴿حُجَّتُهُمۡ دَاحِضَةٌ ﴾ ان کی حجت باطل اور ناقابل قبول ہے۔ ﴿عِنۡدَ رَبِّهِمۡ ﴾ ’’ان کے رب کے نزدیک۔‘‘ کیونکہ یہ ایسے امور پر مشتمل ہے جو حق کے خلاف ہیں اور جو چیز حق کے خلاف ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ ﴿وَعَلَيۡهِمۡ غَضَبٌ ﴾ ان کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کے دلائل و براہین سے روگردانی اور ان کو جھٹلانے کے سبب سے، ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے۔ ﴿وَّلَهُمۡ عَذَابٌ شَدِيۡدٌ ﴾ ’’اور ان کے لیے شدید عذاب ہے۔‘‘ یہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے غضب کا نتیجہ ہے اور یہ ہر اس شخص کی سزا ہے جو باطل دلائل سے حق کے خلاف جھگڑتا ہے۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English