Ас-Саади · Тафсир · на урду
Ад-Духан 44:38–59
44:38–42Страница 497
وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَا لَٰعِبِينَ ٣٨
Мы не сотворили небеса, землю и то, что между ними, забавляясь.
مَا خَلَقۡنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٩
Мы сотворили их (небеса и землю) только ради истины, но большинство их не знает этого.
إِنَّ يَوۡمَ ٱلۡفَصۡلِ مِيقَٰتُهُمۡ أَجۡمَعِينَ ٤٠
Воистину, День различения - это срок, установленный для каждого из них.
يَوۡمَ لَا يُغۡنِي مَوۡلًى عَن مَّوۡلٗى شَيۡـٔٗا وَلَا هُمۡ يُنصَرُونَ ٤١
Это будет день, когда близкий ничем не поможет своему близкому и когда помощь не будет оказана никому,
إِلَّا مَن رَّحِمَ ٱللَّهُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ٤٢
кроме тех, над кем смилостивится Аллах. Воистину, Он - Могущественный, Милосердный.
اور نہیں پیدا کیا ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو ان کے درمیان میں ہے، کھیلتے ہوئے (38) نہیں پیدا کیا ہم نے ان دونوں کو مگر ساتھ حق (ایک مقصد) کے، اور لیکن اکثر ان میں سے نہیں جانتے(39) بلاشبہ دن فیصلے کا، ٹھہرایا ہوا وقت ہے ان کا سب کا (40) اس دن نہیں کام آئے گا کوئی دوست کسی دوست کے کچھ بھی اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (41) مگر جس پر رحم کیا اللہ نے، بلاشبہ وہ بڑا زبردست، بہت رحم کرنے والا ہے (42)
[38، 39] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت تامہ کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو کھیل تماشے کے طور پر، عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو حق کے ساتھ پیدا کیا ، ان کا پیدا کرنا ہی حق ہے اور ان کی پیدائش حق ہی پر مشتمل ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس لیے وجود بخشا ہے تاکہ وہ اللہ واحد کی عبادت کریں تاکہ وہ اپنے بندوں کو حکم دے اور منع کرے، ان کو ثواب عطا کرے اور سزا دے۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان سب میں سے اکثر نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے انھوں نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں کبھی غوروفکر نہیں کیا۔
[40]﴿اِنَّ يَوۡمَ الۡفَصۡلِ ﴾ ’’بے شک فیصلے کا دن۔‘‘ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، جب اللہ اولین و آخرین اور اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ﴿مِيۡقَاتُهُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ﴾ یعنی تمام خلائق کے لیے ایک وقت مقرر ہے اس وقت میں اللہ تعالیٰ سب کو جمع کرے گا، ان کو اور ان کے اعمال کو اپنے سامنے حاضر کرے گا اور ان کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دے گا۔
[41] اس دن کوئی رشتہ دار اپنے کسی رشتہ دار کے کام آئے گا اور نہ کوئی دوست کسی دوست کے کام آئے گا﴿وَّلَا هُمۡ يُنۡصَرُوۡنَ﴾ ’’اور نہ انھیں کہیں سے کوئی مدد ملے گی۔‘‘ نہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچایا جا سکے گا کیونکہ مخلوق میں سے کوئی ہستی کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتی۔
[42]﴿اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَزِيۡزُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’مگر جس پر اللہ مہربانی کرے۔ وہ تو غالب، مہربان ہے۔‘‘ پس یہی لوگ ہوں گے جو فائدہ اٹھائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بلند مراتب پر فائز ہوں گے جس کو انھوں نے دنیا کے اندر مراتب کے حصول کا سبب بنایا اور اس کے لیے پوری کوشش کی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:
44:43–50Страница 498
إِنَّ شَجَرَتَ ٱلزَّقُّومِ ٤٣
Воистину, дерево заккум будет
طَعَامُ ٱلۡأَثِيمِ ٤٤
пищей грешника.
كَٱلۡمُهۡلِ يَغۡلِي فِي ٱلۡبُطُونِ ٤٥
Подобно осадку масла (или расплавленной меди), оно будет кипеть в животах так,
كَغَلۡيِ ٱلۡحَمِيمِ ٤٦
как кипит кипяток.
خُذُوهُ فَٱعۡتِلُوهُ إِلَىٰ سَوَآءِ ٱلۡجَحِيمِ ٤٧
Схватите его и волоките (или несите) до самой середины Ада.
ثُمَّ صُبُّواْ فَوۡقَ رَأۡسِهِۦ مِنۡ عَذَابِ ٱلۡحَمِيمِ ٤٨
Затем налейте ему на голову кипяток, причиняющий страдания.
ذُقۡ إِنَّكَ أَنتَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡكَرِيمُ ٤٩
Вкушай, ведь ты - могущественный, благородный!
إِنَّ هَٰذَا مَا كُنتُم بِهِۦ تَمۡتَرُونَ ٥٠
Вот то, в чем вы сомневались!
بلاشبہ درخت تھوہر کا (43) کھانا ہے گناہ گار کا (44) مانند پگھلے ہوئے تانبے کے، کھولے گا وہ پیٹوں میں (45) مانند کھولنے تیز گرم پانی کے (46) پکڑو اسے اور دھکیل کر لے جاؤ اسے عین درمیان جہنم کے (47) پھر انڈیلو اوپر اس کے سر کے عذاب تیز گرم پانی کا (48)(کہا جائے گا:)چکھ! بے شک تو (اپنے خیال میں) بڑا معزز مکرم تھا(49) بلاشبہ یہ (عذاب) وہ ہے کہ تھے تم اس کی بابت شک کرتے (50)
[50-43] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے قیامت کا ذکر فرمایا نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا، تو اس کے بعد فرمایا کہ بندے دو گروہوں میں تقسیم ہوں گے، ان میں سے ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک گروہ جہنم میں اور جہنم میں جانے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر اور معاصی کا ارتکاب کیا اور ﴿اِنَّ﴾ ’’بے شک‘‘ ان کا کھانا ﴿شَجَرَتَ الزَّقُّوۡمِ﴾ ’’زقوم کا درخت ہو گا‘‘ جو بدترین اور سب سے گندا درخت ہے۔ اس درخت کا ذائقہ ﴿كَالۡمُهۡلِ ﴾ بدبودار پیپ کے مانند ہے، جس کی بو اور ذائقہ انتہائی گندا اور وہ سخت گرم ہو گا۔وہ ان کے پیٹوں میں اس طرح جوش کھائے گا۔ ﴿ كَغَلۡيِ الۡحَمِيۡمِ ﴾ ’’جس طرح کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔‘‘ عذاب میں گرفتار مجرم سے کہا جائے گا ﴿ذُقۡ ﴾ اس دردناک عذاب اور بدترین سزا کا مزا چکھ ﴿اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَزِيۡزُ الۡكَرِيۡمُ ﴾ ’’تو اپنے آپ کو بڑا معزز اور شریف سمجھتا تھا۔‘‘ یعنی تو اپنے زعم کے مطابق بہت زبردست اور طاقت ور تھا اور سمجھتا تھا کہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے گا اور تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو بہت باعزت سمجھتے ہوئے خیال کرتا تھا کہ وہ تجھے عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا۔ پس آج تجھ پر واضح ہو گیا کہ تو انتہائی ذلیل و رسوا ہے۔ ﴿اِنَّ هٰؔذَا ﴾ بے شک یہ عذاب عظیم وہ ہے ﴿مَا كُنۡتُمۡ بِهٖ تَمۡتَرُوۡنَ ﴾ جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے، اب تمھیں اس کے بارے میں حق الیقین حاصل ہو گیا۔
44:51–59Страница 498
إِنَّ ٱلۡمُتَّقِينَ فِي مَقَامٍ أَمِينٖ ٥١
Воистину, богобоязненные пребудут в безопасном месте,
فِي جَنَّٰتٖ وَعُيُونٖ ٥٢
в Райских садах и среди источников.
يَلۡبَسُونَ مِن سُندُسٖ وَإِسۡتَبۡرَقٖ مُّتَقَٰبِلِينَ ٥٣
Они будут облачены в атлас и парчу и будут восседать друг против друга.
كَذَٰلِكَ وَزَوَّجۡنَٰهُم بِحُورٍ عِينٖ ٥٤
Вот так! Мы сочетаем их с черноокими, большеглазыми девами.
يَدۡعُونَ فِيهَا بِكُلِّ فَٰكِهَةٍ ءَامِنِينَ ٥٥
Там они будут просить любые фрукты, будучи в безопасности.
لَا يَذُوقُونَ فِيهَا ٱلۡمَوۡتَ إِلَّا ٱلۡمَوۡتَةَ ٱلۡأُولَىٰۖ وَوَقَىٰهُمۡ عَذَابَ ٱلۡجَحِيمِ ٥٦
Там они не вкусят смерти после первой смерти. Он защитил их от мучений в Аду
فَضۡلٗا مِّن رَّبِّكَۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ ٥٧
по милости от твоего Господа. Это и есть великое преуспеяние.
فَإِنَّمَا يَسَّرۡنَٰهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّرُونَ ٥٨
Мы облегчили его (Коран) на твоем языке, чтобы они могли помянуть назидание.
فَٱرۡتَقِبۡ إِنَّهُم مُّرۡتَقِبُونَ ٥٩
Подожди же, ведь они тоже ждут.
بے شک متقین امن چین کی جگہ میں ہوں گے (51) باغات میں اور چشموں میں (52) پہنیں گے وہ باریک ریشم اور گاڑھا ریشم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے (53) اسی طرح ہو گا، اور بیویاں بنا دیں گے ہم ان کی موٹی آنکھوں والی حوروں کو (54) طلب کریں گے وہ اس میں ہر قسم کا پھل اطمینان سے (55) نہیں چکھیں گے وہ اس میں موت (کی تلخی) ، سوائے پہلی موت (کی تلخی) کے اور بچایا اس (اللہ) نے ان کو عذاب دوزخ سے (56) فضل کی وجہ سے آپ کے رب کی طرف سے، یہی ہے کامیابی بڑی (57) پس بلاشبہ ہم نے آسان کر دیا اس (قرآن) کو آپ کی زبان میں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (58) پس آپ انتظار کیجیے! بلاشبہ وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں(59)
[53-51] یہ تقویٰ شعار لوگوں کی جزا ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب سے ڈر کر گناہوں کو ترک کیا اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جب ان سے اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کے عذاب کی نفی ہوگئی تو ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا ثابت ہو گئی۔ نیز ثواب عظیم کے طور پر انھیں بے شمار درختوں کے گھنے سائے، پھل اور چشمے عطا ہوں گے، ان درختوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی جن کو اہل ایمان نعمتوں بھری جنت میں اپنے لیے نکال لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی اضافت نعمتوں کی طرف کی ہے، کیونکہ جنت جن چیزوں پر مشتمل ہے وہ سب نعمتیں ہیں جو ہر لحاظ سے کامل ہوں گی اور کسی طرح بھی ان میں کوئی رکاوٹ اور کسی قسم کا کوئی تکدر نہ ہو گا۔ جنت کے اندر ان کے لیے سبز ریشم اور اطلس کے لباس ہوں گے، یعنی ان کے من پسند دبیز اور باریک ریشم کے لباس ہوں گے۔ ﴿مُّتَقٰبِلِيۡنَ﴾ یعنی مکمل راحت، اطمینان، محبت، حسن معاشرت اور بہترین آداب کے ساتھ، ان کے دل اور چہرے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے۔
[54]﴿كَذٰلِكَ ﴾ یہ نعمت تامہ اور سرور کامل اسی طرح ہوں گے۔ ﴿وَزَوَّجۡنٰهُمۡ بِحُوۡرٍ ﴾ اور حسین و جمیل عورتوں کے ساتھ ہم ان کا نکاح کریں گے، جن کے حسن کی وجہ سے نگاہیں حیرت زدہ، ان کے جمال کو دیکھ کر عقل مبہوت اور ان کے کمال کو دیکھ کر خرد فریفتہ ہو جائے گی۔ ﴿عِيۡنٍ﴾ یعنی وہ بڑی بڑی اور خوبصورت آنکھوں والی ہوں گی۔
[55]﴿يَدۡعُوۡنَ فِيۡهَا﴾ ’’وہ اس میں منگوائیں گے۔‘‘ یعنی جنت کے اندر ﴿بِكُلِّ فَاكِهَةٍ ﴾ ہر قسم کا پھل جن میں سے بعض کا تو دنیا میں نام ہے اور بعض کا دنیا میں نام ہے نہ نظیر ہے۔ وہ جب کبھی بھی انواع و اقسام کے پھل اور میوے طلب کریں گے، ان کے سامنے بغیر کسی مشقت اور تکلیف کے حاضر کر دیے جائیں گے۔ ﴿اٰمِنِيۡنَ﴾ وہ ان پھلوں کے ختم ہونے اور ان کے کسی ضرر کے خوف سے مامون، ہر قسم کے تکدر سے پاک اور جنت سے نکالے جانے اور موت سے محفوظ ہوں گے۔
[56]﴿لَا يَذُوۡقُوۡنَ فِيۡهَا الۡمَوۡتَ اِلَّا الۡمَوۡتَةَ الۡاُوۡلٰى ﴾ ’’وہ وہاں پہلی موت کے علاوہ کسی موت کا ذائقہ نہیں چکھیں گے۔‘‘جنت میں بالکل موت نہیں آئے گی، اگر جنت میں کوئی موت اس آیت کریمہ سے مستثنیٰ ہوتی تو اللہ تعالیٰ پہلی موت، جو دنیا کی موت ہے، مستثنیٰ قرار نہ دیتا۔ پس جنت میں ان کے لیے ہر محبوب و مطلوب کی تکمیل ہوگی۔ ﴿وَوَقٰىهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ۰۰ ﴾ ’’اور اللہ تعالیٰ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے گا۔‘‘
[57]﴿فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكَ ﴾ ’’یہ آپ کے رب کا فضل ہوگا۔‘‘ یعنی نعمتوں کا حاصل ہونا اور عذاب کا دور ہونا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے ان کو اعمال صالحہ کی توفیق سے نوازا جن کی بنا پر وہ آخرت کی بھلائی سے سرفراز ہوئے، نیز اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ کچھ عطا کیا جو ان کے اعمال کی پہنچ سے باہر تھا۔ ﴿ذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ﴾ ’’یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی جنت سے بہرہ مند ہونے اور اس کی ناراضی اور عذاب سے سلامت رہنے سے بڑھ کر کون سی کامیابی ہو سکتی ہے؟
[58]﴿فَاِنَّمَا يَسَّرۡنٰهُ ﴾ ’’پس ہم نے اس (قرآن) کو آسان بنایا۔‘‘ ﴿بِلِسَانِكَ ﴾ ’’آپ کی زبان میں۔‘‘ یعنی ہم نے اسے آپ کی زبان کے ذریعے سے سہل بنایا جو علی الاطلاق فصیح ترین اور جلیل ترین زبان ہے، اس کے الفاظ اور معانی نہایت آسان ہیں۔ ﴿لَعَلَّهُمۡ يَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘ کہ وہ ان فوائد پر غور کریں اور جس کام میں ان کا نفع ہے، وہ کر لیں اور جس میں ضرر ہے، وہ ترک کر دیں۔
[59]﴿فَارۡتَقِبۡ ﴾ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ جس بھلائی اور نصرت کا وعدہ کیا ہے اس کا انتظار کیجیے۔ ﴿اِنَّهُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴾ وہ بھی اس عذاب کے منتظر ہیں، جو ان پر نازل ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کے انتظار میں فرق کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ دنیا اور آخرت کی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے برعکس کفار دنیا و آخرت کے شر کا انتظار کرتے ہیں۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии