Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аль-Анам 6:13–32
6:13–20Страница 129
۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِي ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلۡعَلِيمُ ١٣
Ему принадлежит все, что покоится днем и ночью, и Он - Слышащий, Знающий.
قُلۡ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّٗا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُۗ قُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَكُونَ أَوَّلَ مَنۡ أَسۡلَمَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٤
Скажи: «Неужели я возьму своим покровителем кого-либо, кроме Аллаха, Творца небес и земли? Он кормит, а Его не кормят». Скажи: «Мне велено быть первым из тех, кто покорился». Не будь же в числе многобожников.
قُلۡ إِنِّيٓ أَخَافُ إِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّي عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيمٖ ١٥
Скажи: «Я боюсь, что если я ослушаюсь моего Господа, то меня постигнут мучения в Великий день».
مَّن يُصۡرَفۡ عَنۡهُ يَوۡمَئِذٖ فَقَدۡ رَحِمَهُۥۚ وَذَٰلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡمُبِينُ ١٦
Тот, кто будет отвращен от них (мучений) в тот день, того Он помиловал. Это будет очевидное преуспеяние.
وَإِن يَمۡسَسۡكَ ٱللَّهُ بِضُرّٖ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَۖ وَإِن يَمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٖ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ ١٧
Если Аллах коснется тебя бедой, то никто не сможет избавить от нее, кроме Него. Если же Он коснется тебя благом, то ведь Он способен на всякую вещь.
وَهُوَ ٱلۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهِۦۚ وَهُوَ ٱلۡحَكِيمُ ٱلۡخَبِيرُ ١٨
Он - Одолевающий и находится над Своими рабами. Он - Мудрый, Ведающий.
قُلۡ أَيُّ شَيۡءٍ أَكۡبَرُ شَهَٰدَةٗۖ قُلِ ٱللَّهُۖ شَهِيدُۢ بَيۡنِي وَبَيۡنَكُمۡۚ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَٰذَا ٱلۡقُرۡءَانُ لِأُنذِرَكُم بِهِۦ وَمَنۢ بَلَغَۚ أَئِنَّكُمۡ لَتَشۡهَدُونَ أَنَّ مَعَ ٱللَّهِ ءَالِهَةً أُخۡرَىٰۚ قُل لَّآ أَشۡهَدُۚ قُلۡ إِنَّمَا هُوَ إِلَٰهٞ وَٰحِدٞ وَإِنَّنِي بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُشۡرِكُونَ ١٩
Скажи: «Чье свидетельство является самым важным?». Скажи: «Аллах - Свидетель между мною и вами. Этот Коран дан мне в откровение, чтобы я предостерег посредством него вас и тех, до кого он дойдет. Неужели вы действительно свидетельствуете, что наряду с Аллахом существуют другие боги?». Скажи: «Я не свидетельствую об этом». Скажи: «Он является Единственным Богом, и я не причастен к тому, что вы приобщаете в сотоварищи».
ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمُۘ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُونَ ٢٠
Те, кому Мы даровали Писание, знают его, как знают своих сыновей. Те, которые потеряли самих себя, никогда не уверуют.
اور اسی کا ہے جو سکون کرتا ہے رات اور دن میں (اور جو حرکت کرتا ہے) اور وہ سننے جاننے والا ہے(13) کہہ دیجیے! کیا سوائے اللہ کے بنا لوں میں معبود؟ پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کااور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (اسے) نہیں کھلایا جاتا، کہہ دیجیے! بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ہو جاؤں میں پہلا وہ جو اسلام لایااور نہ ہوں آپ مشرکین میں سے(14) کہہ دیجیے! بے شک میں خوف کرتا ہوں ، اگر نافرمانی کی میں نے اپنے رب کی، عذاب سے ایک بہت بڑے دن کی(15) جو شخص کہ ہٹا لیا گیا (عذاب) اس سے اس دن تو یقینا رحم کر دیا اس پر اس (اللہ) نےاور یہی ہے کامیابی ظاہر(16) اور اگر پہنچائے آپ کو اللہ کوئی تکلیف تو نہیں کوئی دور کرنے والا اسے مگر وہی اور اگر پہنچائے وہ آپ کو کوئی بھلائی تو وہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور وہ غالب ہے اوپر اپنے بندوں کےاور وہی ہے خوب حکمت والا خبردار(18) کہیے! کون سی چیز زیادہ بڑی ہے شہادت کے اعتبار سے؟ کہہ دیجیے! اللہ ہی، گواہ ہے میرے اور تمھارے درمیان اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ قرآن تاکہ ڈراؤں میں تمھیں اس کے ذریعے سےاور جس کو یہ پہنچے، کیا تم شہادت دیتے ہو کہ یقینا اللہ کے ساتھ معبود ہیں دوسرے (بھی)؟ کہہ دیجیے! نہیں شہادت دیتا میں ، کہہ دیجیے! بس وہ تو ایک ہی معبود ہےاور یقینا میں بری ہوں اس سے جو تم شریک ٹھہراتے ہو(19) وہ لوگ کہ دی ہم نے انھیں کتاب، پہچانتے ہیں وہ اسے، جس طرح پہچانتے ہیں وہ اپنے بیٹوں کو، وہ لوگ جنھوں نے خسارے میں ڈالا اپنے آپ کو تو وہ نہیں ایمان لاتے(20)
[13] چنانچہ فرمایا: ﴿ وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ ﴾ ’’اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں ‘‘ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور مالک قاہر کے سامنے مسخر ہیں ۔۔۔ کیا عقل و نقل کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے کہ ان غلام اور مملوک ہستیوں کی عبادت کی جائے جو کسی نفع و نقصان پر قادر نہیں اور خالق کائنات کے لیے اخلاص کو ترک کر دیا جائے جو کائنات کی تدبیر کرتا ، اس کا مالک اور نفع و نقصان کا اختیار رکھتا ہے؟ یا عقل سلیم اور فطرت مستقیم اس بات کی داعی ہے کہ اللہ رب العالمین کے لیے ہرقسم کی عبادت کو خالص کیا جائے، محبت، خوف اور امید صرف اسی سے ہو؟ ﴿ وَهُوَ السَّمِيۡعُ﴾ ’’وہ سنتا ہے۔‘‘ اختلاف لغات اور تنوع حاجات کے باوجود وہ تمام آوازوں کو سنتا ہے ﴿الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’وہ جانتا ہے۔‘‘ وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جو تھیں اور جو مستقبل میں ہوں گی اور ان کو بھی جانتا ہے جو نہ تھیں کہ اگر وہ ہوتیں تو کیسی ہوتیں ، اللہ تعالیٰ ظاہر و باطن ہر چیز کی اطلاع رکھتا ہے۔
[14]﴿قُلۡ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ یعنی آپ اللہ تعالیٰ سے شرک کرنے والوں سے کہہ دیجیے ﴿ قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَتَّؔخِذُ وَلِيًّا﴾ ’’کیا اللہ کے سوا کسی اور کو میں مددگار بناؤں ؟‘‘ ان عاجز مخلوقات میں سے کون میرا سرپرست و مددگار بنے گا؟ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا والی اور مددگار نہیں بناتا کیونکہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا مالک ہے یعنی ان کا خالق اور ان کی تدبیر کرنے والا ہے ﴿ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُ ﴾ ’’وہ سب کو کھلاتا ہے، اسے کوئی نہیں کھلاتا‘‘ یعنی وہ تمام مخلوقات کو رزق عطا کرتا ہے بغیر اس کے کہ اس کو ان میں سے کسی کے پاس کوئی حاجت ہو۔ تب یہ کیسے مناسب ہے کہ میں کسی ایسی ہستی کو اپنا والی بنا لوں جو پیدا کرنے والی ہے نہ رزق عطا کرنے والی، جو بے نیاز ہے نہ قابل تعریف۔ ﴿ قُلۡ اِنِّيۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ ﴾ ’’کہہ دیجیے! مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں ‘‘ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی اطاعت کے ساتھ اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں ۔ کیونکہ میں ہی سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہوں کہ اپنے رب کے احکام کی اطاعت کروں ﴿ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں ‘‘ یعنی مجھے اس بات سے بھی روک دیا گیا ہے کہ میں مشرکوں میں شامل ہوں ، یعنی ان کے اعتقادات میں ، نہ ان کے ساتھ مجالست میں اور نہ ان کے ساتھ اجتماع میں ۔ اور یہ حکم میرے لیے سب سے بڑا فرض اور سب سے بڑا واجب ہے۔
[15]﴿ قُلۡ اِنِّيۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّيۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ ﴾ ’’کہہ دیجیے، میں ڈرتا ہوں ، اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بڑے دن کے عذاب سے‘‘ کیونکہ شرک ہمیشہ جہنم میں رہنے اور اللہ جبار کی ناراضی کا موجب ہے۔
[16] اور یوم عظیم سے مراد وہ دن ہے جس کے عذاب سے خوف کھایا جاتا ہے اور اس کی سزا سے بچا جاتا ہے کیونکہ جو اس روز عذاب سے بچا لیا گیا وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہو گا اور جس نے اس عذاب سے نجات پا لی وہی درحقیقت کامیاب ہے جیسے جس کو اس دن کے عذاب سے نجات نہ ملی تو وہ بدبخت ہلاک ہونے والا ہے۔
[17] یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کے دلائل ہیں کہ صرف وہی ایک ہستی ہے جو تکلیفوں کو دور کرتی ہے اور صرف وہی ہے جو بھلائی اور خوشحالی عطا کرتی ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ ﴾ ’’اور اگر اللہ تم کو کوئی سختی پہنچائے۔‘‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کسی فقر، مرض، عسرت یا غم و ہموم وغیرہ میں مبتلا کر دے ﴿فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ ’’تو اسے کو ئی دور کرنے والا نہیں ، سوائے اسکے اور اگر پہنچائے وہ تجھ کو کوئی بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘ پس جب وہی اکیلا نفع و نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہے تو وہی اکیلا عبودیت و الوہیت کا بھی مستحق ہے۔
[18]﴿ وَهُوَ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ ﴾ ’’اور وہ غالب ہے اپنے بندوں پر‘‘ پس اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی تصرف کر سکتا ہے نہ کوئی حرکت کرنے والا حرکت کر سکتا ہے اور نہ اس کی مشیت کے بغیر کوئی ساکن ہو سکتا ہے۔ مملوک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی ملکیت اور تسلط سے نکل سکے، وہ اللہ کے سامنے مغلوب و مقہور اور اس کے دائرۂ تدبیر میں ہیں ۔ جب اللہ تعالیٰ غالب و قاہر ہے اور دوسرے مغلوب و مقہور تو ظاہر ہوا کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عبادت کا مستحق ہے ﴿وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’اور وہ دانا ہے۔‘‘ وہ اپنے اوامر و نواہی ، ثواب و عقاب اور خلق و قدر میں حکمت سے کام لیتا ہے ﴿ الۡخَبِيۡرُ ﴾ ’’خبردار ہے۔‘‘ وہ اسرار و ضمائر اور تمام مخفی امور کی اطلاع رکھتا ہے اور یہ سب توحید الٰہی کے دلائل ہیں ۔
[19]﴿ قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے۔‘‘ چونکہ ہم نے ان کے سامنے ہدایت کو بیان کر دیا اور سیدھی راہوں کو واضح کر دیا ہے اس لیے ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَيُّ شَيۡءٍ اَكۡبَرُ شَهَادَةً ﴾ ’’سب سے بڑھ کر کس کی شہادت ہے۔‘‘ یعنی اس اصول عظیم کے بارے میں کون سی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ قُلِ اللّٰهُ ﴾ کہہ دیجیے اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت ہے ﴿ شَهِيۡدٌۢ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَؔكُمۡ ﴾ ’’وہ گواہ ہے میرے اور تمھارے درمیان‘‘ پس اس سے بڑا کوئی شاہد نہیں ، وہ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے میری گواہی دیتا ہے، میں جو کچھ کہتا ہوں ، اللہ تعالیٰ اس کو متحقق کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِيۡلِۙ۰۰لَاَخَذۡنَا مِنۡهُ بِالۡيَمِيۡنِ۰۰ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ الۡوَتِيۡنَ﴾(الحاقہ: 69؍44۔46) ’’اگر یہ ہمارے بارے میں کوئی جھوٹ گھڑتا تو ہم اس کو داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے۔‘‘ پس اللہ تبارک و تعالیٰ قادر اور حکمت والا ہے اس کی حکمت اور قدرت کے لائق نہیں کہ ایسے جھوٹے شخص کو برقرار رکھے جو یہ دعویٰ کرے کہ وہ اللہ کا رسول ہے حالانکہ وہ اللہ کا رسول نہ ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان لوگوں کو دعوت دینے کا حکم دیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہ دیا ہو اور یہ کہ جو اس کی مخالفت کریں گے، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ان کا خون، ان کا مال اور ان کی عورتیں مباح کر دی ہیں ۔ اس فریب کاری کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے اقرار و فعل کے ذریعے سے اس کی تصدیق کرے، وہ جو کچھ کرے معجزات باہرہ اور آیات ظاہرہ کے ذریعے سے اس کی تائید کرے اور اسے فتح و نصرت سے نوازے جو اس کی مخالفت کرے اور اس سے عداوت رکھے، اسے اپنی نصرت سے محروم کر دے۔ پس اس گواہی سے بڑی کون سی گواہی ہے؟ ﴿ وَاُوۡحِيَ اِلَيَّ هٰؔذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَؔكُمۡ بِهٖ وَمَنۢۡ بَلَغَ ﴾ ’’اور اتارا گیا میری طرف قرآن تاکہ ڈراؤں میں تم کو اس کے ساتھ اور جس کو یہ پہنچے‘‘ یعنی تمھارے فائدے اور تمھارے مصالح کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن میری طرف وحی کیا ہے تاکہ میں تمھیں دردناک عذاب سے ڈراؤں ۔ (اِنْذَار) یہ ہے کہ جس چیز سے ڈرانا مقصود ہو، اسے بیان کیا جائے۔ جیسے ترغیب و ترہیب، اعمال اور اقوال ظاہرہ و باطنہ۔ جو کوئی ان کو قائم کرتا ہے وہ گویا انذار کو قبول کرتا ہے۔ پس اے مخاطبین یہ قرآن تمھیں اور ان تمام لوگوں کو جن کے پاس، قیامت تک یہ پہنچے گا، برے انجام سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ قرآن میں ان تمام مطالب الہیہ کا بیان موجود ہے جن کا انسان محتاج ہے۔
[20] جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی گواہی کا ذکر فرمایا جو سب سے بڑی گواہی ہے تو اپنے رسولﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خبر کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلانے والوں سے کہہ دیجیے ﴿اَىِٕنَّـكُمۡ لَتَشۡهَدُوۡنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخۡرٰى١ؕ قُلۡ لَّاۤ اَشۡهَدُ ﴾ ’’کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ، کہہ دیجیے! میں تو گواہی نہیں دیتا‘‘ یعنی اگر وہ گواہی دیں تو ان کے ساتھ گواہی مت دیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے لاشریک ہونے پر ایک طرف اللہ کی گواہی ہے جو سب سے زیادہ سچا اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے اور اسی طرح مخلوق میں سے پاکیزہ ترین ہستی (آخری رسول) کی گواہی ہے جس کی تائید میں قطعی دلائل اور روشن براہین ہیں اور دوسری طرف مشرکین کی شہادت ہے جن کی عقل اور دین خلط ملط ہو گئے ہیں جن کی آراء اور اخلاق خرابی کا شکار ہو گئے ہیں اور جنھوں نے عقل مندوں کو اپنے آپ پر ہنسنے کا موقع فراہم کیا ہے، ان دونوں شہادتوں کے درمیان موازنہ کیا جائے۔ بلکہ ان مشرکین کی گواہی تو خود ان کی اپنی فطرت کے خلاف ہے اور ان کے اقوال اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے خداؤں کے اثبات کے بارے میں متناقض ہیں ۔ بایں ہمہ جس چیز کی وہ مخالفت کرتے ہیں اس کے خلاف دلائل تو کجا ایک ادنیٰ سا شبہ بھی وارد نہیں ہو سکتا۔ اگر تو سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو اپنے لیے ان دونوں میں سے کوئی سی گواہی چن لے۔ ہم تو اپنے لیے وہی چیز اختیار کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کے لیے اختیار کی ہے اور اس کی پیروی کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا ﴿قُلۡ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے۔‘‘ یعنی وہ اکیلا معبود ہے اور اس کے سوا کوئی عبودیت اور الوہیت کا مستحق نہیں ، جیسے وہ تخلیق و تدبیر میں منفرد ہے ﴿ وَّاِنَّنِيۡ بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اور میں بیزار ہوں تمھارے شرک سے‘‘ یعنی تم جن بتوں اور دیگر خداؤں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہو اور وہ تمام چیزیں جن کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنایا جاتا ہے۔ میں ان سے براء ت کا اظہار کرتا ہوں ۔ یہ ہے توحید کی حقیقت، یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اثبات اور اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے اس کی نفی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر اپنی اور اپنے رسول کی شہادت کا ذکر فرمایا اور اس کے برعکس مشرکین کی شہادت کا بھی ذکر کیا جن کے پاس کوئی علم نہیں۔ تو اہل کتاب میں سے یہود و نصاریٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ يَعۡرِفُوۡنَهٗ ﴾ ’’وہ پہچانتے ہیں اسے‘‘ یعنی وہ توحید کی صحت کو جانتے ہیں ﴿ كَمَا يَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَهُمۡ ﴾ ’’جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ‘‘ یعنی اس کی صحت میں ان کے ہاں کسی بھی پہلو سے کوئی شک نہیں جیسے انھیں اپنی اولاد کے بارے میں کوئی اشتباہ واقع نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ بیٹے جو غالب طور پر اپنے باپ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر رسول اللہﷺ کی طرف لوٹتی ہو تب اس کے معنی ہوں گے کہ آپﷺ کی رسالت کے حق ہونے میں اہل کتاب کو کوئی اشتباہ تھا نہ کوئی شک۔ کیونکہ ان کے پاس آپ کی بعثت کے بارے میں بشارتیں موجود تھیں اور وہ تمام صفات (جو ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی تھیں ) آپﷺ کے سوا کسی پر منطبق ہوتی تھیں نہ آپﷺ کے سوا کسی کے شایان شان تھیں ۔ دونوں معنی ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں ۔ ﴿ اَلَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اپنے نفسوں کو نقصان میں ڈالا‘‘ یعنی جس ایمان اور توحید کے لیے ان کے نفوس کو تخلیق کیا گیا تھا انھوں نے اپنے نفوس کو ان سے بے بہرہ کر دیا اور بزرگی کے مالک، بادشاہ حقیقی کے فضل سے ان کو محروم کر دیا ﴿ فَهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’پس وہ ایمان نہیں لائیں گے‘‘ پس جب ان کے اندر ایمان ہی موجود نہیں تو اس خسارے اور شر کے بارے میں مت پوچھ جو ان کو حاصل ہوگا۔
6:21Страница 130
وَمَنۡ أَظۡلَمُ مِمَّنِ ٱفۡتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوۡ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓۚ إِنَّهُۥ لَا يُفۡلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢١
Кто может быть несправедливее того, кто возвел на Аллаха навет или счел ложью Его знамения? Воистину, не преуспеют беззаконники.
اور کون زیادہ ظالم ہے اس شخص سے، جو باندھے اوپر اللہ کے جھوٹ یا جھٹلائے اس کی آیات کو، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(21)
[21] یعنی ظلم اور عناد میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس میں ان دونوں اوصاف میں سے کوئی ایک وصف ہو، چہ جائیکہ جس میں دونوں ہی جمع ہوں :(۱) اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا۔ (۲) اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانا جنھیں رسول لے کر آئے ہیں ۔ یہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کرتے ہوئے اس کے شریک اور معاون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا جائز ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے کوئی بیوی یا بیٹا بنایا ہے۔ اور اس وعید میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جنھوں نے حق کو جھٹلایا جسے لے کر انبیا و مرسلین مبعوث ہوئے اور جس کے علم بردار ان کے جانشین (داعیان حق) ہوئے۔
6:22–24Страница 130
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُوٓاْ أَيۡنَ شُرَكَآؤُكُمُ ٱلَّذِينَ كُنتُمۡ تَزۡعُمُونَ ٢٢
В тот день Мы соберем их вместе, а затем скажем тем, кто приобщал сотоварищей: «Где сотоварищи, о существовании которых вы предполагали?».
ثُمَّ لَمۡ تَكُن فِتۡنَتُهُمۡ إِلَّآ أَن قَالُواْ وَٱللَّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِينَ ٢٣
Тогда у них не будет никакого оправдания, кроме слов: «Клянемся Аллахом, нашим Господом, мы не были многобожниками!».
ٱنظُرۡ كَيۡفَ كَذَبُواْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمۡۚ وَضَلَّ عَنۡهُم مَّا كَانُواْ يَفۡتَرُونَ ٢٤
Посмотри, как они лгут о самих себе! Но покинет их (или исчезнет) то, что они измышляли.
اور جس دن ہم اکٹھا کریں گے ان سب کو، پھر ہم کہیں گے ان لوگوں کو جو شریک ٹھہراتے تھے، کہاں ہیں تمھارے وہ شریک کہ جنھیں تھے تم (شریک) گمان کرتے؟(22) پھر نہ ہوگی معذرت ان کی مگر یہ کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ، ہمارے رب کی! نہیں تھے ہم مشرک(23) دیکھیں ! کیسا جھوٹ بولیں گے وہ اپنے آپ پر اور گم ہو جائے گا ان سے جو تھے وہ افتراء باندھتے(24)
[22] اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا ﴿اَيۡنَ شُرَؔكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴾ ’’تمھارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں ، یہ محض زعم باطل اور تمھاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیے۔
[23]﴿ ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡنَتُهُمۡ ﴾ ’’پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب‘‘ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہو گا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کر دیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں گے کہ وہ مشرک نہیں ہیں۔
[24]﴿ اُنۡظُرۡؔ ﴾ ’’دیکھیے‘‘ یعنی ان پر اور ان کے احوال پر تعجب کرتے ہوئے دیکھیے ﴿ كَيۡفَ كَذَبُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’کیسے جھوٹ بولا انھوں نے اپنے پر‘‘ یعنی انھوں نے ایسا جھوٹ باندھا کہ… اللہ کی قسم!… اس کا خسارہ اور انتہائی نقصان انھی کو پہنچے گا ﴿ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ ﴾ ’’اور کھو گئیں ان سے وہ باتیں جو وہ بنایا کرتے تھے‘‘ یعنی وہ شریک جو وہ گھڑا کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ الوہیت میں شریک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس افتراپردازی سے بالا و بلند تر ہے۔
6:25Страница 130
وَمِنۡهُم مَّن يَسۡتَمِعُ إِلَيۡكَۖ وَجَعَلۡنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ أَكِنَّةً أَن يَفۡقَهُوهُ وَفِيٓ ءَاذَانِهِمۡ وَقۡرٗاۚ وَإِن يَرَوۡاْ كُلَّ ءَايَةٖ لَّا يُؤۡمِنُواْ بِهَاۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُوكَ يُجَٰدِلُونَكَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلۡأَوَّلِينَ ٢٥
Среди них есть такие, которые слушают тебя, но Мы накинули на их сердца покрывала, чтобы они не могли понять его (Коран), и поразили их уши глухотой. Какое бы знамение они ни увидели, они все равно не уверуют в него, и поэтому, когда они приходят к тебе, чтобы препираться с тобой, неверующие говорят: «Это - всего лишь легенды древних народов».
اور بعض ان میں سے وہ ہیں جو کان لگاتے ہیں آپ کی طرف اور کر دیے ہم نے ان کے دلوں پر پردے کہ وہ اسے سمجھ ہی (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ ہےاور اگر دیکھ لیں وہ ساری نشانیاں ، نہیں ایمان لائیں گے وہ ان پر، حتی کہ جب آتے ہیں وہ آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے آپ سے تو کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، نہیں ہیں یہ مگر داستانیں پہلوں کی(25)
[25] یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کر دیتے ہیں مگر یہ سننا قصدِ حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنابریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا ﴿وَجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً ﴾ ’’اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں ‘‘ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے ﴿ وَفِيۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا ﴾ ’’اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔‘‘ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا ﴾ ’’اور اگر وہ دیکھ لیں تمام نشانیاں ، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے‘‘ اور یہ ظلم و عناد کی انتہا ہے کہ وہ حق کو ثابت کرنے والے واضح دلائل کو مانتے ہیں نہ ان کی تصدیق کرتے ہیں بلکہ حق کو نیچا دکھانے کے لیے باطل کی مدد سے جھگڑتے ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوۡكَ يُجَادِلُوۡنَكَ يَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِيۡرُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں جھگڑنے کو تو کافر کہتے ہیں ، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ‘‘ یعنی یہ سب کچھ پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے ماخوذ کیا گیا ہے جو اللہ کی طرف سے ہیں نہ اس کے رسولوں کی طرف سے۔ یہ ان کا کفر محض ہے ورنہ اس کتاب کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کیسے کہا جا سکتا ہے جو گزرے ہوئے اور آنے والے لوگوں ، انبیا و مرسلین کے لائے ہوئے حقائق، حق اور ہرپہلو سے کامل عدل و انصاف پر مشتمل ہے؟
6:26Страница 130
وَهُمۡ يَنۡهَوۡنَ عَنۡهُ وَيَنۡـَٔوۡنَ عَنۡهُۖ وَإِن يُهۡلِكُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُونَ ٢٦
Они удерживают других от него (прямого пути), и сами сторонятся его, однако они губят только самих себя, не ощущая этого.
اور وہ روكتے ہیں اس سے (دوسروں کو) اور دور رہتے ہیں (خود بھی) اس سےاور نہیں ہلاک کرتے وہ مگر اپنے آپ کواور وہ نہیں شعور رکھتے(26)
[26]﴿ وَهُمۡ ﴾ ’’اور وہ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسولﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں ، وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں ، انھیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ﴿وَاِنۡ يُّهۡلِكُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’وہ اپنے آپ کو ہی ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں ‘‘ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں ۔
6:27–29Страница 130
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَى ٱلنَّارِ فَقَالُواْ يَٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ ٢٧
Если бы ты только увидел их, когда их остановят перед Огнем. Они скажут: «О, если бы нас вернули обратно! Мы не считали бы ложью знамения нашего Господа и стали бы верующими!».
بَلۡ بَدَا لَهُم مَّا كَانُواْ يُخۡفُونَ مِن قَبۡلُۖ وَلَوۡ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُهُواْ عَنۡهُ وَإِنَّهُمۡ لَكَٰذِبُونَ ٢٨
О нет! Им открылось то, что они скрывали прежде. Если бы их вернули обратно, то они непременно вернулись бы к тому, что им было запрещено. Воистину, они - лжецы.
وَقَالُوٓاْ إِنۡ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا ٱلدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوثِينَ ٢٩
Они говорят: «Есть только наша мирская жизнь, и мы не будем воскрешены».
اور اگر آپ دیکھیں جبکہ کھڑے کیے جائیں گے وہ اوپر آگ کے تو کہیں گے، اے کاش! ہم لوٹا دیے جائیں تو نہ جھٹلائیں گے ہم آیات اپنے رب کی اور ہوں گے ہم مومنوں سے(27)بلکہ ظاہر ہو جائے گا ان کے لیے جو تھے وہ چھپاتے پہلےاور اگر وہ لوٹا دیے جائیں تب بھی کریں گے وہ ، پھر وہی کام کہ روکے گئے تھے وہ ان سےاور یقینا وہ جھوٹے ہیں (28) اور کہتے ہیں وہ کہ نہیں ہے یہ (زندگی) مگر زندگی ہماری دنیا کی اور نہیں ہم اٹھائے جائیں گے(29)
[27] اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کیے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلَى النَّارِ ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کیے جائیں گے وہ دوزخ پر‘‘ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے.... تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے ﴿ فَقَالُوۡا يٰلَيۡتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پس وہ کہیں گے، اے کاش ہم پھر بھیج دیے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہو جائیں ہم ایمان والوں میں سے‘‘
[28]﴿ بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ بلکہ ظاہر ہو گیا جو وه چھپاتے تھے پہلے‘‘ اس لیے کہ وہ اپنے دل میں اس حقیقت کو چھپاتے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں اور ان کے دلوں کا جھوٹ بسا اوقات ظاہر ہو جاتا تھا۔ مگر ان کی فاسد اغراض ان کو حق سے روک دیتی تھیں اور ان کے دلوں کو بھلائی سے پھیر دیتی تھیں ، وہ اپنی ان تمناؤں میں جھوٹے ہیں ، ان کا مقصد محض اپنے آپ کو عذاب سے ہٹانا ہے۔ ﴿ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَكٰذِبُوۡنَ ﴾ ’’اگر ان کو واپس لوٹا بھی دیا گیا تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے ان کو روکا گیا ہے۔ اور بے شک یہ سخت جھوٹے ہیں ۔‘‘
[29]﴿وَقَالُوۡۤا ﴾ ’’اور وہ کہتے ہیں ۔‘‘ یعنی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا انکار کرنے والے کہتے ہیں ﴿اِنۡ هِيَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے۔‘‘ یعنی حقیقت حال یہ ہے کہ ہمیں وجود میں لانے کا اس دنیا کی زندگی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ﴿ وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ۠ ﴾ ’’ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔‘‘
6:30Страница 131
وَلَوۡ تَرَىٰٓ إِذۡ وُقِفُواْ عَلَىٰ رَبِّهِمۡۚ قَالَ أَلَيۡسَ هَٰذَا بِٱلۡحَقِّۚ قَالُواْ بَلَىٰ وَرَبِّنَاۚ قَالَ فَذُوقُواْ ٱلۡعَذَابَ بِمَا كُنتُمۡ تَكۡفُرُونَ ٣٠
Если бы ты только увидел их, когда их остановят перед их Господом. Он скажет: «Разве это не истина?». Они скажут: «Конечно, клянемся нашим Господом!». Он скажет: «Вкусите же мучения за то, что вы не верили!».
اور کاش کہ دیکھیں آپ جب کھڑے کیے جائیں گے وہ سامنے اپنے رب کے، کہے گا وہ، کیا نہیں ہے یہ حق؟ وہ کہیں گے، کیوں نہیں ، قسم ہے ہمارے رب کی! تو فرمائے گا وہ، پس چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کفر کرتے(30)
[30]﴿ وَلَوۡ تَرٰۤى ﴾ ’’اگر آپ دیکھیں ‘‘ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں ﴿ اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ ﴾ ’’جبکہ انھیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا‘‘ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ ﴿ قَالَ ﴾ اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اَلَيۡسَ هٰؔذَا بِالۡحَقِّ ﴾ ’’کیا یہ برحق نہیں۔‘‘ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں ؟ ﴿ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا ﴾ ’’وہ کہیں گے کیوں نہیں ، قسم ہے اپنے رب کی‘‘ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انھیں کوئی فائدہ نہ دے گا ﴿ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔‘‘
6:31Страница 131
قَدۡ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِلِقَآءِ ٱللَّهِۖ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَتۡهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ قَالُواْ يَٰحَسۡرَتَنَا عَلَىٰ مَا فَرَّطۡنَا فِيهَا وَهُمۡ يَحۡمِلُونَ أَوۡزَارَهُمۡ عَلَىٰ ظُهُورِهِمۡۚ أَلَا سَآءَ مَا يَزِرُونَ ٣١
Те, которые отрицали встречу с Аллахом, уже оказались в убытке. Когда же внезапно для них настанет Час, они, неся свои ноши на спинах, скажут: «Горе нам за то, что мы упустили там!». Как же скверно то, что они понесут!
یقینا خسارے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا اللہ کی ملاقات کو، یہاں تک کہ جب آئے گی ان کے پاس قیامت اچانک تو کہیں گے وہ ہائے افسوس! اس پر جو کوتاہی کی ہم نے اس کی بابت اور وہ اٹھائے ہونگے اپنے بوجھ اوپر اپنی پیٹھوں کے خبردار! برا ہے جو (بوجھ) وہ اٹھائیں گے(31)
[31] جس کسی نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملاقات کو جھٹلایا، وہ خائب و خاسر ہوا اور ہر قسم کی بھلائی سے محروم کر دیا گیا۔ پس یہ تکذیب محرمات کے انکار کی جسارت اور ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال کے اکتساب کی جرأ ت کی موجب ہوتی ہے ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً﴾ ’’یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک‘‘ اور وہ اس وقت بدترین اور قبیح ترین حال میں ہوں گے تب وہ انتہائی ندامت کا اظہار کریں گے ﴿ قَالُوۡا يٰحَسۡرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطۡنَا فِيۡهَا ﴾ ’’کہیں گے، اے افسوس، کیسی کوتاہی ہم نے کی اس میں ‘‘ مگر حسرت اور ندامت کے اظہار کا وقت جا چکا ہو گا ﴿ وَهُمۡ يَحۡمِلُوۡنَ اَوۡزَارَهُمۡ عَلٰى ظُهُوۡرِهِمۡ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا يَزِرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر، سن لو! کہ برا ہے وہ بوجھ جس کو وہ اٹھائیں گے‘‘ کیونکہ ان کا بوجھ ایسا بوجھ ہو گا جو ان کے لیے سخت بھاری ہو گا اور وہ اس سے گلوخلاصی پر قادر نہ ہوں گے، وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ جبار کی ابدی ناراضی کے مستحق ہوں گے۔
6:32Страница 131
وَمَا ٱلۡحَيَوٰةُ ٱلدُّنۡيَآ إِلَّا لَعِبٞ وَلَهۡوٞۖ وَلَلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ٣٢
Мирская жизнь - всего лишь игра и потеха, а последняя обитель лучше для тех, кто богобоязнен. Неужели вы не разумеете?
اورنہیں ہے زندگی دنیا کی مگر کھیل اور تماشہ اور گھر آخرت کا بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں کیا پس نہیں عقل رکھتے تم؟(32)
[32] یہی دنیا اور آخرت کی حقیقت ہے۔ رہی دنیا کی حقیقت تو یہ محض لہو و لعب ہے۔ بدن کا کھیل تماشہ۔ اور قلب کا کھیل تماشہ، پس دل لہو و لعب پر فریفتہ، نفوس اس پر عاشق اور ارادے اس سے پیوست رہتے ہیں اور لہو و لعب میں مشغولیت اس میں ایسے ہوتی ہے جیسے بچے کھیل میں مگن ہوتے ہیں ۔ رہی آخرت تو وہ ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ ﴾ اپنی ذات و صفات اور بقا و دوام کے اعتبار سے اہل تقویٰ کے لیے بہتر ہے۔ اس میں ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کریں گے ،جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی، یعنی قلب و روح کی نعمت اور مسرت و فرحت کی کثرت۔ مگر یہ نعمتیں اور مسرتیں ہر ایک کے لیے نہیں ہوں گی بلکہ صرف متقی لوگوں کے لیے ہوں گی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی منہیات کو ترک کرتے ہیں ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم عقل نہیں رکھتے؟‘‘ کیا تمھارے پاس عقل نہیں جس کے ذریعے سے تم یہ ادراک کر سکو کہ دنیا اور آخرت میں سے کون سا گھر ترجیح دیے جانے کا مستحق ہے؟
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии