Ас-Саади · Тафсир · на урду
Аль-Анам 6:33–50
6:33–35Страница 131
قَدۡ نَعۡلَمُ إِنَّهُۥ لَيَحۡزُنُكَ ٱلَّذِي يَقُولُونَۖ فَإِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَٰكِنَّ ٱلظَّٰلِمِينَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ يَجۡحَدُونَ ٣٣
Мы знаем, что тебя печалит то, что они говорят. Они не считают лжецом тебя - беззаконники отвергают знамения Аллаха!
وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٞ مِّن قَبۡلِكَ فَصَبَرُواْ عَلَىٰ مَا كُذِّبُواْ وَأُوذُواْ حَتَّىٰٓ أَتَىٰهُمۡ نَصۡرُنَاۚ وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِن نَّبَإِيْ ٱلۡمُرۡسَلِينَ ٣٤
До тебя посланников также считали лжецами, но они терпели то, что их так называли и обижали, пока не являлась к ним Наша помощь. Никто не исказит слов Аллаха, и до тебя уже дошли некоторые вести о посланниках.
وَإِن كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ إِعۡرَاضُهُمۡ فَإِنِ ٱسۡتَطَعۡتَ أَن تَبۡتَغِيَ نَفَقٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ أَوۡ سُلَّمٗا فِي ٱلسَّمَآءِ فَتَأۡتِيَهُم بِـَٔايَةٖۚ وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى ٱلۡهُدَىٰۚ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡجَٰهِلِينَ ٣٥
Если тебя тяготит их отвращение, то если ты сможешь отыскать проход в земле или лестницу на небо, то принеси им знамение. Если бы Аллах пожелал, то собрал бы их всех на прямом пути. Посему не будь одним из невежд.
تحقیق جانتے ہیں ہم بلاشبہ غمگین کرتی ہے آپ کو وہ بات جو وہ کہتے ہیں ، پس بے شک وہ نہیں جھٹلاتے آپ کو لیکن وہ ظالم تو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں (33) اور بلاشبہ جھٹلائے گئے کئی رسول آپ سے پہلے تو صبر کیا انھوں نے اوپر اس کے جو وہ جھٹلائے گئے اور ایذاء دیے گئے، حتی کہ آگئی ان کے پاس ہماری مدداور نہیں کوئی تبدیل کرنے والا اللہ کے کلمات کواور یقینا آچکی ہیں آپ کے پاس کچھ خبریں رسولوں کی(34) اور اگر ہو گراں آپ پر اعراض کرنا ان کا تو اگر استطاعت رکھتے ہیں آپ یہ کہ تلاش کریں کوئی سرنگ زمین میں یا سیڑھی آسمان میں، پھر لے آئیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی، (تو کر دیکھیں )اور اگر چاہتا اللہ تو جمع کر دیتا انھیں ہدایت پر، پس نہ ہوں آپ نادانوں سے(35)
[33] یعنی ہمیں علم ہے کہ آپ کی تکذیب کرنے والے آپ کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی ہے اور آپ غم زدہ ہوتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو صبر کرنے کا حکم محض اس لیے دیا ہے تاکہ آپ کو مقامات بلند اور گراں قیمت احوال حاصل ہوں ۔ پس آپ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ قول اس سبب سے صادر ہوا ہے کہ ان کو آپ کے بارے میں کوئی اشتباہ یا شک لاحق ہوا ہے ﴿ فَاِنَّهُمۡ لَا يُكَذِّبُوۡنَكَ ﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ کیونکہ وہ آپ کی صداقت، آپ کے اندر باہر اور آپ کے تمام احوال کو خوب جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ وہ آپﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کو ’’امین‘‘ کہا کرتے تھے ﴿ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجۡحَدُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ظالم لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات کو جھٹلاتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر ظاہر کیا۔
[34] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَصَبَرُوۡا عَلٰى مَا كُذِّبُوۡا وَاُوۡذُوۡا حَتّٰۤى اَتٰىهُمۡ نَصۡرُنَا ﴾ ’’آپ سے پہلے رسولوں کو بھی جھٹلایا گیا، پس انھوں نے اپنی تکذیب اور ایذا دیے جانے پر صبر کیا، یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی‘‘ پس جس طرح انھوں نے صبر کیا اسی طرح آپ بھی صبر کیجیے۔ جس طرح وہ ظفریاب ہوئے آپ بھی ظفریاب ہوں گے :﴿وَلَقَدۡ جَآءَكَ مِنۡ نَّبَاِي الۡمُرۡسَلِيۡنَ ﴾ ’’آپ کے پاس گزشتہ انبیا و مرسلین کی خبر پہنچ گئی ہے‘‘ جس سے آپ کے دل کو تقویت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
[35]﴿ وَاِنۡ كَانَ كَبُرَ عَلَيۡكَ اِعۡرَاضُهُمۡ ﴾ ’’اور اگر ان کی روگردانی آپ پر شاق گزرتی ہے۔‘‘ یعنی اگر ان کا اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ آپ ان کے ایمان کی بہت خواہش رکھتے ہیں تو آپ اس بارے میں اپنی پوری کوشش کر دیکھیے۔ پس اس شخص کو ہدایت دینا آپ کے بس میں نہیں جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینا نہ چاہتا ہو۔ ﴿ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِيَ نَفَقًا فِي الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِي السَّمَآءِ فَتَاۡتِيَهُمۡ بِاٰيَةٍ﴾ ’’پس اگر آپ سے ہو سکے کہ ڈھونڈ نکالیں کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیڑھی آسمان میں پھر لائیں آپ ان کے پاس کوئی نشانی‘‘ یعنی یہ سب کچھ کر دیکھیے ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو فائدہ نہیں دے گی۔ یہ آیت کریمہ اس قسم کے معاندین حق کی ہدایت کی تمنا اور امید کو منقطع کرتی ہے۔ ﴿ وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمۡ عَلَى الۡهُدٰؔى ﴾ ’’اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر دیتا‘‘ مگر حکمت الٰہی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنی گمراہی پر باقی رہیں ﴿ فَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡجٰؔهِلِيۡنَ ﴾ ’’پس آپ جاہلوں میں شامل نہ ہوں ‘‘ جو حقائق امور کی معرفت نہیں رکھتے اور ان امور کو ان کے مقام پر نہیں رکھتے۔
6:36Страница 132
۞ إِنَّمَا يَسۡتَجِيبُ ٱلَّذِينَ يَسۡمَعُونَۘ وَٱلۡمَوۡتَىٰ يَبۡعَثُهُمُ ٱللَّهُ ثُمَّ إِلَيۡهِ يُرۡجَعُونَ ٣٦
Отвечают только те, кто внимает. А мертвых Аллах воскресит, после чего они будут возвращены к Нему.
بلاشبہ قبول تو وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اور مردے، اٹھائے گا ان کو اللہ، پھر اسی کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے(36)
[36] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبیﷺ سے فرماتا ہے ﴿ اِنَّمَا يَسۡتَجِيۡبُ ﴾ ’’صرف وہی قبول کریں گے۔‘‘ آپ کی دعوت اور آپ کی رسالت پر صرف وہی لوگ لبیک کہیں گے اور آپ کے امر و نہی کے سامنے صرف وہی لوگ سرتسلیم خم کریں گے ﴿ الَّذِيۡنَ يَسۡمَعُوۡنَ ﴾ ’’جو سنتے ہیں ۔‘‘ یعنی جو اپنے دل کے کانوں سے سنتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور یہ عقل اور کان رکھنے والے لوگ ہیں ۔ یہاں سننے سے مراد دل سے سننا اور اس پر لبیک کہنا ہے ورنہ مجرد کانوں سے سننے میں نیک اور بد سب شامل ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی آیات کو سن کر تمام مکلفین پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی اور حق کو قبول نہ کرنے کا ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہا۔ ﴿ وَالۡمَوۡتٰى يَبۡعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَيۡهِ يُرۡجَعُوۡنَ ﴾ ’’اور مردوں کو، زندہ کرے گا اللہ، پھر اس کی طرف وہ لائے جائیں گے‘‘ اس میں اس امر کا احتمال ہے کہ یہ معنی، مذکور بالا معنی کے بالمقابل ہوں ، یعنی آپ کی دعوت کا جواب صرف وہی لوگ دیں گے جن کے دل زندہ ہیں ، رہے وہ لوگ جن کے دل مر چکے ہیں جنھیں اپنی سعادت کا شعور تک نہیں اور جنھیں یہ بھی احساس نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے جو انھیں نجات دلائے گی تو ایسے لوگ آپ کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے۔ اور نہ وہ آپ کی اطاعت کریں گے۔ ان کے لیے وعدے کا دن تو قیامت کا دن ہے اس روز اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کرے گا، پھر وہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کے ظاہری معنی مراد لیے جائیں ۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ معاد کو متحقق کر رہا ہے کہ وہ قیامت کے روز تمام مردوں کو زندہ کرے گا، پھر ان کو ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا۔یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہنے کی ترغیب اور اس کا جواب نہ دینے پر ترہیب کو متضمن ہے۔
6:37Страница 132
وَقَالُواْ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ قَادِرٌ عَلَىٰٓ أَن يُنَزِّلَ ءَايَةٗ وَلَٰكِنَّ أَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ ٣٧
Они говорят: «Почему ему не ниспослано знамение от его Господа?». Скажи: «Аллах способен ниспослать знамение». Но большинство их не обладает знанием.
[37]﴿ وَقَالُوۡا ﴾ ’’اور کہتے ہیں۔‘‘ یعنی عناد کی وجہ سے رسول کی تکذیب کرنے والے کہتے ہیں ﴿ لَوۡلَا نُزِّلَ عَلَيۡهِ اٰيَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ ﴾ ’’کیوں نہیں اتاری گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی ان کی خواہش کے مطابق نشانیاں نازل کی جائیں جن کا انتخاب وہ اپنی فاسد عقل اور گھٹیا آراء کے ذریعے سے کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًاۙ۰۰اَوۡ تَكُوۡنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنۡ نَّخِيۡلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الۡاَنۡهٰرَ خِلٰلَهَا تَفۡجِيۡرًاۙ۰۰ اَوۡ تُسۡقِطَ السَّمَآءَؔ كَمَا زَعَمۡتَ عَلَيۡنَا كِسَفًا اَوۡ تَاۡتِيَ بِاللّٰهِ وَالۡمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيۡلًا﴾(بنی اسرائیل: 17؍90-92) ’’اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تم زمین سے ہمارے لیے چشمہ جاری نہ کر دو یا تمھارے لیے کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ ہو اور اس باغ کے بیچوں بیچ نہریں جاری کرو یا جیسا کہ تم دعویٰ کیا کرتے ہو ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دو یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آؤ‘‘ ﴿قُلۡ ﴾ ان کا جواب دیتے ہوئے کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌؔ عَلٰۤى اَنۡ يُّنَزِّلَ اٰيَةً ﴾ ’’یقینا اللہ اس بات پر قادر ہے کہ کوئی نشانی اتار دے‘‘ اس کی قدرت ایسا کرنے سے قاصر نہیں اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ہر چیز اس کے غلبہ کے سامنے سرتسلیم خم کیے ہوئے اور اس کی قدرت و تسلط کی اطاعت کیے ہوئے ہے ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ پس وہ اپنی جہالت اور عدم علم کی بنا پر ایسی نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ نشانیاں ان کے پاس آجائیں تو بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے اور پھر ان پر جلدی سے عذاب نازل کر دیا جائے گا۔ جیسا کہ یہ سنت الٰہی ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ بایں ہمہ اگر ان کا مقصود وہ نشانیاں ہیں جو حق کو واضح کر کے راہ حق کو روشن کر دیں تو جناب محمد مصطفیﷺ ہر قسم کی قطعی دلیل اور روشن برہان پیش کرتے ہیں جو اس حق پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ آپﷺ مبعوث ہوئے۔ کیونکہ بندہ دین کے ہر مسئلہ میں متعدد عقلی اور نقلی دلائل پاتا ہے کہ اس کے دل میں ادنیٰ سا شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ پس نہایت بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے رسول (ﷺ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور واضح دلائل کے ساتھ اس کی تائید کی تاکہ جو کوئی ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو کوئی زندہ رہے، دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
6:38Страница 132
وَمَا مِن دَآبَّةٖ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَلَا طَٰٓئِرٖ يَطِيرُ بِجَنَاحَيۡهِ إِلَّآ أُمَمٌ أَمۡثَالُكُمۚ مَّا فَرَّطۡنَا فِي ٱلۡكِتَٰبِ مِن شَيۡءٖۚ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُونَ ٣٨
Все живые существа на земле и птицы, летающие на двух крыльях, являются подобными вам сообществами. Мы ничего не упустили в Писании. А затем они будут собраны к своему Господу.
اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین پراور نہ کوئی پرندہ جو اڑتا ہے ساتھ اپنے دونوں پروں کے مگر امتیں ہیں وہ تمھاری ہی طرح، نہیں چھوڑی ہم نے کتاب میں کوئی چیز، پھر اپنے رب کی طرف وہ اکٹھے کیے جائیں گے(38)
[38] زمین میں رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے، بہائم، جنگلوں میں رہنے والے وحشی جانور اور پرندے سب تمھاری طرح گروہ ہیں ان کو بھی ہم نے اسی طرح پیدا کیا ہے جس طرح تمھیں پیدا کیا ہے، اسی طرح ہم ان کو بھی رزق عطا کرتے ہیں جس طرح تمھیں عطا کرتے ہیں ۔ ہماری قدرت اور مشیت ان پر بھی اسی طرح نافذ ہے جس طرح تم پر نافذ ہے۔ ﴿ مَا فَرَّطۡنَا فِي الۡكِتٰبِ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’ہم نے کتاب میں کسی چیز میں کوتاہی نہیں کی۔‘‘ یعنی ہم نے کسی چیز کو لوح محفوظ میں لکھنے میں کوتاہی اور غفلت نہیں کی بلکہ تمام چھوٹی بڑی چیزیں جیسی بھی وہ ہیں لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں ۔ پس تمام حوادث اس کے مطابق واقع ہوتے ہیں جو قلم سے لکھے جاچکے ہیں ۔ یہ آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ سب سے پہلے لوح محفوظ میں تمام کائنات کی تقدیر لکھ دی گئی۔ یہ قضا و قدر کے مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔ قضا و قدر کے چار مراتب ہیں ۔ (۱) اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم تمام اشیا کو شامل ہے۔ (۲) اس کی کتاب (یعنی لوح محفوظ) تمام موجودات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (۳) اس کی مشیت اور قدرت عامہ ہر چیز پر نافذ ہے۔ (۴) تمام مخلوقات کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، حتی کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی وہی ہے۔ اس آیت مبارکہ میں یہ احتمال ہو سکتاہے کہ ’’کتاب‘‘ سے مراد قرآن ہو، تب اس کے معنی قرآن کریم کی اس آیت کی مانند ہوں گے ﴿ وَنَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡكِتٰبَ تِبۡيَانًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ ﴾(النحل: 16؍89) ’’اور ہم نے تم پر کتاب نازل کی جس میں ہر چیز بیان کر دی گئی ہے۔‘‘ ﴿ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمۡ يُحۡشَرُوۡنَ ﴾ ’’پھر سب اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے۔‘‘ یعنی تمام امتوں کو قیامت کے میدان میں اللہ تعالیٰ کے حضور جمع کیا جائے گا۔ یہ انتہائی ہولناک مقام ہو گا۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے عدل و احسان سے سب کو جزا دے گا اور ان پر اپنا فیصلہ نافذ کرے گا، جس کی تعریف اولین و آخرین، آسمانوں والے اور زمین والے سب کریں گے۔
6:39Страница 132
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا صُمّٞ وَبُكۡمٞ فِي ٱلظُّلُمَٰتِۗ مَن يَشَإِ ٱللَّهُ يُضۡلِلۡهُ وَمَن يَشَأۡ يَجۡعَلۡهُ عَلَىٰ صِرَٰطٖ مُّسۡتَقِيمٖ ٣٩
Те, которые считают ложью Наши знамения, глухи и немы во мраках. Аллах вводит в заблуждение, кого пожелает, и наставляет на прямой путь, кого пожелает.
اور جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں ، جسے چاہے اللہ، گمراہ کرتا ہے اس کواور جسے چاہے کر دیتا ہے اسے اوپر صراط مستقیم کے(39)
[39] اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا حال بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے آپ پر ہدایت کے دروازے بند کر کے ہلاکت کے دروازے کھول لیے۔ اور وہ ﴿ صُمٌّ ﴾ ’’بہرے‘‘ یعنی حق سننے سے بہرے ہیں ﴿ بُكۡمٌ ﴾ ’’گونگے‘‘ یعنی حق بولنے سے گونگے ہیں ، پس باطل کے سوا کچھ نہیں بولتے ﴿ فِي الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اندھیروں میں ‘‘ یعنی جہالت، کفر، ظلم، عناد اور نافرمانی کی تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کا ان کو گمراہ کر دینا ہے۔ کیونکہ ﴿ مَنۡ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضۡلِـلۡهُ١ؕ وَمَنۡ يَّشَاۡ يَجۡعَلۡهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ﴾ ’’وہ جس کو چاہتا ہے، گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے‘‘ کیونکہ وہی اکیلا اپنی حکمت اور فضل و کرم کے تقاضوں کے مطابق ہدایت دیتا یا گمراہ کرتا ہے۔
6:40–41Страница 132
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ أَوۡ أَتَتۡكُمُ ٱلسَّاعَةُ أَغَيۡرَ ٱللَّهِ تَدۡعُونَ إِن كُنتُمۡ صَٰدِقِينَ ٤٠
Скажи: «Скажите мне, станете ли вы призывать кого-либо наряду с Аллахом, если вас поразит наказание Аллаха или наступит Час, если только вы говорите правду?».
بَلۡ إِيَّاهُ تَدۡعُونَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُونَ إِلَيۡهِ إِن شَآءَ وَتَنسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُونَ ٤١
О нет! Вы будете призывать только Его. Если Он пожелает, то избавит вас от того, по поводу чего вы станете взывать к Нему, и тогда вы забудете о тех, кого приобщали в сотоварищи.
کہہ دیجیے! مجھے بتلاؤ! اگر آئے تم پر عذاب اللہ کا یا آجائے تم پر قیامت تو کیا غیر اللہ کو پکارو گے تم؟ اگر ہو تم سچے(40)بلکہ صرف اسی کو پکارو گے تم، پھر دور کر دے گا (اللہ) وہ تکلیف کہ پکارو گے تم اس کے لیے، اگر چاہے گا وہ اور فراموش کر دو گے تم جنھیں شریک ٹھہراتے تھے(41)
[40]﴿قُلۡ ﴾ اللہ تعالیٰ کے ہمسر ٹھہرانے والے مشرکین سے کہہ دیجیے ﴿ اَرَءَيۡتَكُمۡ اِنۡ اَتٰؔىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ اَوۡ اَتَتۡكُمُ السَّاعَةُ اَغَيۡرَ اللّٰهِ تَدۡعُوۡنَ١ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰؔدِقِيۡنَ ﴾ ’’بھلا بتلاؤ، اگر تمھارے پاس اللہ کا عذاب آجائے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا اوروں کو پکارو گے، اگر تم سچے ہو؟‘‘ یعنی جب تم ان تکالیف اور کرب و غم میں مبتلا ہوتے ہو اور تم ان کوہٹانے پر مجبور ہوتے ہو، تب اس وقت تم اپنے خداؤں اور بتوں کو پکارتے ہو یا تم اپنے رب بادشاہ حقیقی کو پکارتے ہو؟
[41]﴿ بَلۡ اِيَّاهُ تَدۡعُوۡنَ فَيَكۡشِفُ مَا تَدۡعُوۡنَ اِلَيۡهِ اِنۡ شَآءَ وَتَنۡسَوۡنَ مَا تُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’بلکہ تم صرف اسی کو پکارتے ہو، پھر دور کر دیتا ہے اس مصیبت کو جس کے لیے اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہے اور ان کو بھول جاتے ہو جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو‘‘ جب سختیوں کے وقت تمھارا اپنے معبودوں کے بارے میں یہ حال ہے کہ تم ان کو بھول جاتے ہو کیونکہ تمھیں علم ہے کہ وہ نفع و نقصان کے مالک ہیں نہ موت و حیات کے اور نہ وہ قیامت کے روز دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہیں اور تم نہایت اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہو کیونکہ تم جانتے ہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی نفع و نقصان کا مالک ہے، وہی ہے جو مجبور کی دعا قبول کرتا ہے۔ تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ فراخی اور خوشحالی کے وقت تم شرک کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہراتے ہو۔ کیا عقل یا نقل نے تمھیں اس راہ پر لگایا ہے یا تمھارے پاس کوئی دلیل ہے یا تم اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑ رہے ہو؟
6:42–45Страница 132
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَأَخَذۡنَٰهُم بِٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُونَ ٤٢
Мы уже отправляли посланников к народам до тебя. Мы подвергали их нищете и недугам, дабы они проявили смирение.
فَلَوۡلَآ إِذۡ جَآءَهُم بَأۡسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَٰكِن قَسَتۡ قُلُوبُهُمۡ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مَا كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٤٣
Почему же, когда их поражало Наше наказание, они не проявили смирение? Их сердца ожесточались, а дьявол приукрашивал для них то, что они совершали.
فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَبۡوَٰبَ كُلِّ شَيۡءٍ حَتَّىٰٓ إِذَا فَرِحُواْ بِمَآ أُوتُوٓاْ أَخَذۡنَٰهُم بَغۡتَةٗ فَإِذَا هُم مُّبۡلِسُونَ ٤٤
Когда они позабыли о том, что им напоминали, Мы распахнули перед ними врата ко всякой вещи. Когда же они возрадовались дарованному, Мы схватили их внезапно, и они пришли в отчаяние!
فَقُطِعَ دَابِرُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْۚ وَٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ ٤٥
Беззаконники были уничтожены до основания. Хвала Аллаху, Господу миров!
اور تحقیق بھیجے ہم نے امتوں کی طرف (رسول) آپ سے پہلے، پھر پکڑا ہم نے ان کو ساتھ سختی اور تکلیف کے تاکہ وہ عاجزی کریں (42) پھر کیوں نہ، جب آیا ان پر ہمارا عذاب، عاجزی کی انھوں نے؟ لیکن سخت ہوگئے ان کے دل، مزین کر دیا ان کے لیے شیطان نے جو تھے وہ عمل کرتے (43) پس جب بھلا دیا انھوں نے اس کو کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ اس کی تو کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہرچیزکے،یہاں تک کہ جب وہ اتراگئے ساتھ ان چیزوں کے جو وہ دیے گئے،تو پکڑلیا ہم نے انھیں نا گہاں ،تب وہ ناامید ہوگئے (44) پس قطع کردی گئی جڑ اس قوم کی جنھوں نے ظلم کیا تھا، او ر ہر قسم کی حمد اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے(45)
[42]﴿ وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے۔‘‘ یعنی ہم نے سابقہ اور گزرے ہوئے زمانوں میں رسول بھیجے۔ انھوں نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری آیات کا انکار کیا ﴿ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ ﴾ ’’ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے۔‘‘ یعنی ان پر رحم کرتے ہوئے فقر و مرض اور آفات و مصائب کے ذریعے سے ان کی گرفت کی ﴿ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ ﴾ ’’تاکہ وہ عاجزی کریں۔‘‘ شاید کہ وہ اللہ کے پاس عاجزی سے گڑگڑائیں اور سختی کے وقت اس کے پاس پناہ طلب کریں ۔
[43]﴿ فَلَوۡلَاۤ اِذۡ جَآءَهُمۡ بَاۡسُنَا تَضَرَّعُوۡا وَلٰكِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾ ’’پس کیوں نہ گڑگڑائے جب آیا ان پر عذاب ہمارا لیکن سخت ہو گئے دل ان کے‘‘ یعنی ان کے دل پتھر ہو گئے ہیں جو حق کے سامنے نرم نہیں پڑتے ﴿ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور بھلے کر دکھلائے ان کو شیطان نے جو کام وہ کر رہے تھے‘‘ اس لیے وہ سمجھتے رہے کہ جس راستے پر وہ گامزن ہیں یہی دین حق ہے، پس وہ اپنے باطل میں غلطاں کچھ عرصہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور شیطان ان کی عقلوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔
[44]﴿ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَبۡوَابَ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’پھر جب وہ بھول گئے اس نصیحت کو جو ان کو کی گئی تھی تو کھول دیے ہم نے ان پر دروازے ہر چیز کے‘‘ یعنی ان پر دنیا، اس کی لذتوں اور اس کی غفلتوں کے دروازے کھول دیے ﴿ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً فَاِذَا هُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب وہ خوش ہوئے ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا، پس اس وقت وہ ناامید ہو کر رہ گئے‘‘ یعنی وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو گئے۔ یہ عذاب کی سخت ترین نوعیت ہے کہ انھیں اچانک غفلت اور اطمینان کی حالت میں پکڑ لیا جائے تاکہ ان کی سزا سخت اور مصیبت بہت بڑی ہو۔
[45]﴿فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا ﴾ ’’پھر کٹ گئی جڑ ظالموں کی‘‘ یعنی عذاب سے وہ برباد ہو گئے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو گئے ﴿وَالۡحَمۡدُ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا پالنے والا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر نے جھٹلانے والوں کی جو ہلاکت مقدر کی ہے اس پر پروردگار عالم کی تعریف ہے۔ کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے اولیا کی عزت و تکریم، اس کے دشمنوں کی ذلت و رسوائی اور رسولوں کی تعلیمات کی سچائی ظاہر ہوتی ہے۔
6:46–47Страница 133
قُلۡ أَرَءَيۡتُمۡ إِنۡ أَخَذَ ٱللَّهُ سَمۡعَكُمۡ وَأَبۡصَٰرَكُمۡ وَخَتَمَ عَلَىٰ قُلُوبِكُم مَّنۡ إِلَٰهٌ غَيۡرُ ٱللَّهِ يَأۡتِيكُم بِهِۗ ٱنظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ ٱلۡأٓيَٰتِ ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُونَ ٤٦
Скажи: «Как вы думаете, если Аллах отнимет ваш слух и ваше зрение и запечатает ваши сердца, какое божество, кроме Аллаха, вернет вам все это?». Посмотри, как Мы разъясняем знамения, однако они все еще отворачиваются.
قُلۡ أَرَءَيۡتَكُمۡ إِنۡ أَتَىٰكُمۡ عَذَابُ ٱللَّهِ بَغۡتَةً أَوۡ جَهۡرَةً هَلۡ يُهۡلَكُ إِلَّا ٱلۡقَوۡمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٤٧
Скажи: «Как вы думаете, если наказание Аллаха поразит вас неожиданно или открыто, разве будет погублен кто-либо, кроме несправедливых людей?».
کہہ دیجیے، مجھے بتلاؤ! اگر چھین لے اللہ، تمھارے کان اور تمھاری آنکھیں اور مہر لگادے تمھارے دلوں پر تو کون معبودہے سوائے اللہ کے ،جو لادے تمھیں یہ(چیزیں )؟ دیکھیے!کس طرح پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ہم آیتیں ، پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں (46) کہہ دیجیے،مجھے بتلاؤ! اگر آجائے تم پر عذاب اللہ کا یکایک یا علانیہ تو نہیں ہلاک کیے جائیں گے مگر ظالم لوگ ہی(47)
[46] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ جس طرح وہ تمام کائنات کی تخلیق و تدبیر میں متفرد ہے اسی طرح وہ وحدانیت اور الوہیت میں بھی متفرد ہے۔ فرمایا ﴿قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰهُ سَمۡعَكُمۡ وَاَبۡصَارَؔكُمۡ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے بتلاؤ! اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمھارے کان اور آنکھیں اور مہر لگا دے تمھارے دلوں پر‘‘یعنی تم اس حالت میں باقی رہ جاؤ کہ تمھاری سماعت ہو نہ بصارت اور نہ سوچنے سمجھنے کی قوت: ﴿ مَّنۡ اِلٰهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِهِ ﴾ ’’تو کون ایسا معبود ہے اللہ کے سوا جو تم کو یہ چیزیں لا دے۔‘‘جب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ہستی ایسی نہیں جو یہ چیز عطا کر سکے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی ہستیوں کی عبادت کیوں کرتے ہو جن کے پاس کچھ بھی قدرت و اختیار نہیں مگر جب اللہ چاہے۔ یہ آیت کریمہ توحید کے اثبات اور شرک کے بطلان کی دلیل ہے اس لیے فرمایا ﴿اُنۡظُرۡؔ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’دیکھو! ہم کیوں کر طرح طرح سے بیان کرتے ہیں باتیں ‘‘ یعنی ہم اپنی آیات کو کس طرح متنوع بناتے ہیں ، ہم ہر اسلوب میں اپنی نشانی لاتے ہیں ۔ تاکہ حق روشن اور مجرموں کی راہ واضح ہو جائے ﴿ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُوۡنَ ﴾ ’’پھر بھی وہ اعراض کرتے ہیں ‘‘ یعنی اس کامل تبیین و توضیح کے باوجود بھی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے روگردانی اور اعراض کرتے ہیں ۔
[47]﴿قُلۡ اَرَءَيۡتَكُمۡ ﴾ یعنی مجھے خبر دو ﴿ اِنۡ اَتٰىكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ بَغۡتَةً اَوۡ جَهۡرَةً ﴾ ’’اگر تم پر اللہ کا عذاب بے خبری میں یا خبر آنے کے بعد آئے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک آ جائے یا اس عذاب کے مقدمات ظاہر ہو جائیں جن سے تمھیں اس عذاب کے وقوع کا علم ہو جائے ﴿ هَلۡ يُهۡلَكُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’تو کیا ظالموں کے سوا کوئی اور بھی ہلاک ہوگا۔‘‘ یعنی وہی ظالم لوگ ہلاک ہوں گے جو اپنے ظلم و عناد کی وجہ سے اس عذاب کے وقوع کا سبب بنے۔ اس لیے ظلم پر قائم رہنے سے بچو کیونکہ ظلم ابدی ہلاکت اور دائمی بدبختی ہے۔
6:48–49Страница 133
وَمَا نُرۡسِلُ ٱلۡمُرۡسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَۖ فَمَنۡ ءَامَنَ وَأَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ ٤٨
Мы отправляем посланников только добрыми вестниками и предостерегающими увещевателями. Те, которые уверовали и совершали праведные деяния, не познают страха и не будут опечалены.
وَٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِنَا يَمَسُّهُمُ ٱلۡعَذَابُ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ ٤٩
А тех, которые считают ложью Наши знамения, коснутся мучения за то, что они были нечестивцами.
اور نہیں بھیجتے ہم رسولوں کو مگر بشارت دینے اور ڈرانے والے بناکر، پھر جو شخص ایمان لے آئے اور اصلاح کرلے تو نہیں کوئی خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (48)اور جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیات کو، پہنچے گا انھیں عذاب بوجہ اس کے جو تھے نافرمانی کرتے(49)
[48] اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انذار۔ یہ چیز مُبَشِّرْ ، مُبَشَّرْ بِہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح یہ مُنْذِر، مُنْذَرْ بِہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انذار کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیا و مرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں :﴿ فَمَنۡ اٰمَنَ وَاَصۡلَحَ ﴾ ’’پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کر لے۔‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے ایمان، اعمال اور نیت کی اصلاح کرتے ہیں ﴿ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ ﴾ ’’تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا۔‘‘ آنے والے امور سے انھیں کوئی خوف نہ ہو گا ﴿ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ﴾ ’’اور نہ وہ غم زدہ ہوں گے۔‘‘ اور گزرے ہوئے امور پر وہ غمزدہ نہ ہوں گے۔
[49]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّهُمُ الۡعَذَابُ ﴾ ’’اور جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچے گا‘‘ اور وہ اس کا مزا چکھیں گے ﴿ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ ﴾ ’’اس پاداش میں کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے۔‘‘
6:50Страница 133
قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ إِنۡ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَيَّۚ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي ٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡبَصِيرُۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ ٥٠
Скажи: «Я не говорю вам, что при мне сокровищницы Аллаха, и я не ведаю сокровенного. Я не говорю вам, что являюсь ангелом. Я следую лишь тому, что ниспосылается мне в откровении». Скажи: «Разве равны слепой и зрячий? Неужели вы не поразмыслите?».
کہہ دیجیے!نہیں کہتا میں تم سے کہ میرے پاس خزانے ہیں اللہ کے، اور نہ میں جانتا ہوں غیب اور نہیں کہتا میں تم سے کہ یقیناً میں فرشتہ ہوں ، نہیں پیروی کرتا میں مگر اسی چیز کی جو وحی کی جاتی ہے میری طرف ۔ کہہ دیجیے! کیا برابر ہوسکتا ہے نا بینا او بینا؟کیا پس نہیں غو رکرتے تم؟(50)
[50] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺسے فرماتا ہے کہ وہ معجزات کا مطالبہ کرنے والوں سے کہہ دیں یا جو آپ سے یہ کہتے ہیں کہ ’’تو صرف اس لیے ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم تجھے بھی اللہ کے ساتھ الہ مان لیں ‘‘ ﴿ لَّاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ عِنۡدِيۡ خَزَآىِٕنُ اللّٰهِ ﴾ ’’میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے رزق اور رحمت کی کنجیاں ﴿ وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَيۡبَ ﴾ ’’اور نہ میں غیب جانتا ہوں ‘‘ غیب کا علم تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جس کی صفت ہے: ﴿ مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا١ۚ وَمَا يُمۡسِكۡ١ۙ فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾(فاطر: 35؍2) ’’اللہ تعالیٰ لوگوں پر رحمت کا جو دروازہ کھول دے اسے کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو دروازہ وہ بند کر دے تو اس کے بعد کوئی کھول نہیں سکتا۔‘‘ یعنی وہ اکیلا ہی ہے جو غائب اور موجود کا علم رکھتا ہے ﴿ عٰلِمُ الۡغَيۡبِ فَلَا يُظۡهِرُ عَلٰى غَيۡبِهٖۤ اَحَدًا ۰۰ اِلَّا مَنِ ارۡتَضٰى مِنۡ رَّسُوۡلٍ ﴾(الجن: 72؍26۔27) ’’وہ کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے اس رسول کے جسے وہ پسند کرے۔‘‘ ﴿ وَلَاۤ اَقُوۡلُ لَكُمۡ اِنِّيۡ مَلَكٌ ﴾ ’’اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ‘‘ کہ میں اللہ تعالیٰ کے تصرفات کو نافذ کرنے والا ہوں ، میں اپنے اس مرتبہ و مقام سے بڑھ کر کوئی دعویٰ نہیں کرتا جس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھے فائز کیا ہے۔ ﴿ اِنۡ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَيَّ ﴾ ’’میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے آتا ہے۔‘‘ یعنی یہ میرے معاملے کی غایت و انتہا ہے، میں وحی کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتا، میں خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں اور تمام مخلوق کو بھی اسی پر عمل کرنے کی دعوت دیتا ہوں ۔ جب میں نے اپنا مرتبہ اور مقام پہچان لیا ہے تو تلاش کرنے والا میرے پاس کیا چیز تلاش کرتا ہے یا مجھ سے ایسی کس چیز کا مطالبہ کرتا ہے جس کا میں نے کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا۔ کیا انسان پر اس کے سوا کوئی چیز لازم ہے جس کے وہ درپے ہے؟ جب میں تمھیں اس چیز کی طرف بلاتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔ تو تم کس بنا پر مجھ پر یہ لازم کرتے ہو کہ میں کسی ایسی چیز کا دعویٰ کروں جو میرے مرتبہ کے شایاں نہیں ، کیا یہ محض تمھارا ظلم، عناد اور سرکشی نہیں ؟ جو آپ کی دعوت قبول کرتے ہیں اور آپ کی طرف بھیجی گئی وحی کی اتباع کرتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ قُلۡ هَلۡ يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَؔكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’کہہ دیجیے کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں ، کیا تم غور نہیں کرتے؟‘‘ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے کہ تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مرتبے اور مقام پر رکھو اور اسی چیز کو اختیار کرو جو اختیار کیے جانے اور ترجیح دیے جانے کی مستحق ہے۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии