Ас-СаадиАль‑Араф · 7:103–171

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Аль-Араф 7:103–171, продолжение

[143]﴿ وَلَمَّا جَآءَ مُوۡسٰؔى لِـمِيۡقَاتِنَا ﴾ ’’اور جب پہنچے موسیٰ اپنے وعدے پر‘‘ یعنی وہ وعدہ جو ہم نے کتاب نازل کرنے کے لیے کر رکھا تھا ﴿ وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ﴾ ’’اور ان کے رب نے ان سے کلام کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے کلام کے ذریعے سے وحی نازل کی اور ان کو اوامر و نواہی سے نوازا تو اپنے رب کی محبت اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کی چاہت پیدا ہوئی۔ ﴿قَالَ رَبِّ اَرِنِيۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَيۡكَ﴾ ’’عرض کیا، اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کروں ‘‘ ﴿ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِيۡ ﴾ ’’فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔‘‘ یعنی اس وقت تو میرے دیدار کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے مخلوق کو اس کائنات میں اس طرح پیدا کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں کر سکتے اور نہ وہ اس کے دیدار کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ چیز اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ جنت میں بھی اس کا دیدار نہیں کر سکیں گے۔ کیونکہ قرآن اور احادیث نبوی کی نصوص دلالت کرتی ہیں کہ اہل جنت اپنے رب کا دیدار کریں گے اور اس کے چہرۂ انور کے جلوے سے متمتع ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو جنت میں ایسی کامل تخلیق سے نوازے گا جس کی بنا پر وہ اس کا دیدار کر سکیں گے۔ اسی لیے اس آیت کریمہ میں اللہ نے اپنے دیدار کے بارے میں موسیٰu کی دعا کی عدم قبولیت پر تسلی کے لیے اپنی تجلی کے سامنے پہاڑ کے قائم رہ سکنے کی شرط عائد کی، چنانچہ فرمایا :﴿ وَلٰكِنِ انۡظُرۡ اِلَى الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَكَانَهٗ ﴾ ’’لیکن پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا‘‘ یعنی جب پہاڑ پر اللہ تعالیٰ اپنی تجلی فرمائے اور پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ جائے۔ ﴿ فَسَوۡفَ تَرٰىنِيۡ﴾’’تو تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘﴿ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلۡجَبَلِ ﴾ ’’جب موسیٰ کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی‘‘ جو کہ نہایت سخت اور ٹھوس تھا۔ ﴿ جَعَلَهٗ دَكًّا ﴾ ’’تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے پہاڑ ریت کے ذروں کی مانند ہوگیا ﴿ وَّخَرَّ مُوۡسٰؔى صَعِقًا﴾ ’’اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔‘‘ یعنی پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھ کر بے ہوش ہوگئے اور گر پڑے۔ ﴿ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ ﴾ ’’جب وہ ہوش میں آئے۔‘‘ یعنی جب موسیٰu کو ہوش آیا تو ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ جب پہاڑ اللہ تعالیٰ کی تجلی کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا تو موسیٰ کا اس کو برداشت کرنا بدرجہ اولیٰ ناممکن تھا۔ موسیٰu نے اس سوال پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی جو بے موقع اور بے محل ان سے صادر ہوا تھا۔ اس لیے انھوں نے عرض کیا ﴿ سُبۡحٰؔنَكَ ﴾ ’’تیری ذات پاک ہے۔‘‘ یعنی تو بہت بڑا اور ہر اس چیز سے پاک اور منزہ ہے جو تیری شان کے لائق نہیں ۔ ﴿ تُبۡتُ اِلَيۡكَ ﴾ ’’اور میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام گناہوں اور اس سوء ادبی سے جو میں تیری جناب میں کر بیٹھا ہوں تیرے پاس توبہ کرتا ہوں ۔ ﴿ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور میں سب سے پہلے یقین لایا‘‘ یعنی موسیٰu نے اس چیز کے ساتھ اپنے ایمان کی تجدید کی جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی تکمیل فرمائی اور اس چیز کو ترک کر دیا جس کے بارے میں وہ اس سے قبل لاعلم تھے۔

[144] جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے دیدار سے محروم کر دیا حالانکہ موسیٰu دیدار الٰہی کے بہت مشتاق تھے.... تو اللہ تعالیٰ نے ان کو خیر کثیر سے نواز دیا۔﴿ قَالَ يٰمُوۡسٰۤى اِنِّي اصۡطَفَيۡتُكَ عَلَى النَّاسِ ﴾ ’’اے موسیٰ! میں نے تجھ کو لوگوں میں سے ممتاز کیا ہے۔‘‘ یعنی میں نے تجھے چن لیا، تجھے فضیلت عطا کی اور تجھے خاص طور پر عظیم فضائل اور جلیل القدر مناقب سے نوازا ﴿ بِرِسٰؔلٰتِيۡ ﴾ ’’اپنی رسالت کے لیے‘‘ جو ایسا منصب ہے جو بطور خاص صرف مخلوق میں سے بہترین شخص کو عطا کرتا ہوں ۔ ﴿ وَبِكَلَامِيۡ ﴾’’اور اپنے کلام کے لیے‘‘ میں نے بلاواسطہ تجھ سے کلام کیا۔ یہ فضیلت بطور خاص موسیٰu کو عطا ہوئی اور وہ تمام انبیاء و مرسلین میں اسی صفت سے معروف ہیں ۔﴿فَخُذۡ مَاۤ اٰتَيۡتُكَ ﴾ ’’تو جو میں نے تم کو عطا کیا ہے اسے پکڑ رکھو۔‘‘ یعنی میں نے تمھیں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے استفادہ کرو اور میں نے جو احکام امر و نہی نازل کیے ہیں انھیں شرح صدر اور اطاعت مندی کے ساتھ قبول کرو ﴿ وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ ’’اور (میرا) شکر بجالاؤ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تجھے فضیلت عطا کی ہے اور تجھے اپنا خاص بندہ بنایا، اس پر اس کا شکر ادا کرو۔

[145]﴿ وَؔكَتَبۡنَا لَهٗ فِي الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ كُلِّ شَيۡءٍ ﴾ ’’اور ہم نے (تورات کی) تختیوں میں ان کے لیے ہر چیز لکھ دی۔‘‘ یعنی ہر وہ چیز جس کے بندے محتاج ہوتے ہیں۔ ﴿ مَّوۡعِظَةً ﴾ ’’اور نصیحت‘‘ یعنی لوگوں کو بھلائی کے کاموں کی ترغیب دیتی اور برائی کے کاموں سے ڈراتی ہے۔ ﴿ وَّتَفۡصِيۡلًا لِّكُلِّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور ہر چیز کی تفصیل‘‘ یعنی احکام شریعت، عقائد، اخلاق اور آداب وغیرہ کی پوری تفصیل موجود ہے۔ ﴿ فَخُذۡهَا بِقُوَّةٍ﴾ ’’پس پکڑ لو ان کو زور سے‘‘ یعنی ان احکام کو قائم کرنے کی بھرپور جدوجہد کیجیے۔ ﴿ وَّاۡمُرۡ قَوۡمَكَ يَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِهَا﴾ ’’اور حکم کرو اپنی قوم کو کہ پکڑے رہیں اس کی بہتر باتیں ‘‘ اس سے مراد واجب اور مستحب احکامات ہیں کیونکہ یہی بہترین احکام ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر شریعت میں اللہ تعالیٰ کے احکام نہایت کامل، عادل اور اچھائی پر مبنی ہوتے ہیں ۔ ﴿ سَاُورِيۡكُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’عنقریب میں دکھلاؤں گا تم کو نافرمانوں کا گھر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کے گھروں کو باقی رکھتا ہے، ان سے توفیق یافتہ اور متواضع مومن نصیحت پکڑتے ہیں ۔

[146] رہے اہل ایمان کے علاوہ دیگر لوگ تو ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰيٰتِيَ ﴾ ’’میں اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا‘‘ یعنی آفاق اور انفس میں موجود نشانیوں سے عبرت پکڑنے اور کتاب اللہ کی آیات کے فہم سے، میں ان کو روک دوں گا۔ ﴿ الَّذِيۡنَ يَتَكَبَّرُوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ ﴾ ’’ان کو جو تکبر کرتے ہیں زمین میں ناحق‘‘ یعنی جو بندوں کے ساتھ تکبر سے پیش آتے ہیں ، حق کے ساتھ تکبر کا رویہ رکھتے ہیں اور ہر اس شخص کو تکبر سے ملتے ہیں جو ان کے پاس آتا ہے اور جس کا یہ رویہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی بھلائی سے محروم کر دیتا ہے اور اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ سکتا ہے نہ فائدہ اٹھا سکتا ہے..... بلکہ بسااوقات اس کے سامنے حقائق بدل جاتے ہیں اور وہ بدی کو نیکی سمجھنے لگ جاتا ہے۔ ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡا بِهَا﴾ ’’اگر وہ دیکھ لیں ساری نشانیاں ، ایمان نہ لائیں ان پر‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے روگردانی کرتے ہیں اور ان پر اعتراضات کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) کی مخالفت کرتے ہیں ﴿ وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الرُّشۡدِ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ ہدایت کا راستہ‘‘ یعنی ہدایت اور استقامت کی راہ.... اور یہ وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ تک اور عزت و اکرام کے گھر تک پہنچاتا ہے۔ ﴿ لَا يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا ﴾ ’’تو نہ ٹھہرائیں اس کو راہ‘‘ یعنی وہ اس راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور نہ اس پر گامزن ہونے کی رغبت رکھتے ہیں ۔ ﴿وَاِنۡ يَّرَوۡا سَبِيۡلَ الۡغَيِّ ﴾ ’’اور اگر دیکھیں وہ گمراہی کا راستہ‘‘ یعنی جو اپنے چلنے والے کو بدبختی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ ﴿يَتَّؔخِذُوۡهُ سَبِيۡلًا﴾ ’’تو اس کو ٹھہرا لیں راہ‘‘ یعنی اسی راستے پر رواں دواں رہتے ہیں ۔ ان کے اس انحراف کا سبب یہ ہے ﴿ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا وَؔكَانُوۡا عَنۡهَا غٰفِلِيۡنَ ﴾ ’’یہ اس لیے کہ انھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور ان سے بے خبر رہے‘‘ پس ان کا آیات الٰہی کو ٹھکرا دینا اور ان کے بارے میں غفلت اور حقارت کا رویہ اختیار کرنا یہی ان کو گمراہی کے راستوں پر لے جانے اور رشد و ہدایت کی راہ سے ہٹانے کے موجب بنے ہیں ۔

[147]﴿ وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا ﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ہماری (ان عظیم) آیات کو جھٹلایا‘‘ جو اس چیز کی صحت پر دلالت کرتی ہیں جس کے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو مبعوث کیا ہے۔ ﴿ وَلِقَآءِ الۡاٰخِرَةِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ﴾ ’’اور آخرت کی ملاقات کو، برباد ہو گئے اعمال ان کے‘‘ کیونکہ ان کی کوئی اساس نہ تھی اور ان کے صحیح ہونے کی شرط مفقود تھی۔ اعمال کے صحیح ہونے کی شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات پر ایمان رکھا جائے اور اس کی جزا و سزا کی تصدیق کی جائے ﴿ هَلۡ يُجۡزَوۡنَ ﴾ ’’وہی بدلہ پائیں گے‘‘ ان کے اعمال کے اکارت جانے اور ان کے مقصود کے حصول کی بجائے اس کے متضاد امور کے حاصل ہونے میں ﴿ اِلَّا مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’جو کچھ وہ عمل کرتے تھے‘‘ کیونکہ اس شخص کے اعمال، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا، وہ ان اعمال پر کسی ثواب کی امید نہیں رکھتا اور نہ ان اعمال کی غرض و غایت ہی ہوتی ہے، پس بنابریں یہ اعمال باطل ہوگئے۔

[148]﴿ وَاتَّؔخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰؔى مِنۢۡ بَعۡدِهٖ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا﴾ ’’اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا، ایک بدن۔‘‘بچھڑے کے اس بت کو سامری نے بنایا تھا۔ اس نے فرشتے کے نشان قدم سے مٹھی بھر مٹی لے کر بچھڑے کے بت پر ڈال دی۔ ﴿ لَّهٗ خُوَارٌ ﴾ ’’اس کی آوازتھی۔‘‘ اس میں سے بچھڑے کی آواز آنے لگی۔ بنی اسرائیل نے اس کو معبود مان لیا اور اس کی عبادت کرنے لگے۔سامری نے کہا ’’یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے، موسیٰ اسے بھول گیا ہے اور اسے تلاش کرتا پھر رہا ہے‘‘… یہ ان کی سفاہت اور قلت بصیرت کی علامت ہے ان پر زمین اور آسمانوں کے پروردگار اور ایک بچھڑے کے درمیان کیسے اشتباہ واقع ہوگیا۔ بچھڑا تو کمزور ترین مخلوق ہے؟ اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اس بچھڑے کے اندر ایسی صفات ذاتی یا صفات فعلی موجود نہیں ہیں جو اس کے معبود ہونے کے استحقاق کو ثابت کرتی ہوں ، چنانچہ فرمایا:﴿ اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمۡ ﴾ ’’کیا انھوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا‘‘ یعنی کلام کرنے سے محرومی ایک بہت بڑا نقص ہے، وہ خود اس حیوان سے زیادہ کامل حالت کے مالک ہیں جو بولنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ﴿ وَلَا يَهۡدِيۡهِمۡ سَبِيۡلًا﴾ ’’اور نہیں بتلاتا ان کو راستہ‘‘ یعنی وہ کسی دینی طریقے کی طرف ان کی راہنمائی نہیں کر سکتا اور نہ انھیں کوئی دنیاوی فائدہ عطا کر سکتا ہے۔انسانی عقل و فطرت میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی ایسی ہستی کو خدا بنانا جو کلام نہیں کر سکتی جو کسی کو نفع و نقصان نہیں دے سکتی، سب سے بڑا باطل اور سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِتَّؔخَذُوۡهُ وَؔكَانُوۡا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’انھوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظالم تھے‘‘ کیونکہ انھوں نے ایسی ہستی کی عبادت کی جو عبادت کی مستحق نہ تھی، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے کلام کا انکار کرتا ہے تو وہ تمام خصائص الہیہ کا منکر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ کلام نہ کرنا اس ہستی کے الہ ہونے کی عدم صلاحیت پر دلیل ہے جو کلام نہیں کر سکتی۔

[149]﴿ وَلَمَّا ﴾ ’’اور جب‘‘ یعنی جب موسیٰu اپنی قوم میں واپس آئے، ان کو اس حالت میں پایا اور ان کو ان کی گمراہی کے بارے میں آگاہ فرمایا تو انھیں بڑی ندامت ہوئی۔ ﴿ سُقِطَ فِيۡۤ اَيۡدِيۡهِمۡ ﴾ ’’پچھتائے‘‘ یعنی وہ اپنے فعل پر بہت غم زدہ اور بہت نادم ہوئے ﴿ وَرَاَوۡا اَنَّهُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ﴾ ’’اور دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘‘ تو انھوں نے نہایت عاجزی کے ساتھ اس گناہ سے براء ت کا اظہار کیا۔ ﴿ قَالُوۡا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا ﴾ ’’اور انھوں نے کہا، اگر ہمارا رب ہم پر رحم نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی اگر وہ ہماری راہنمائی نہ کرے اور ہمیں اپنی عبادت اور نیک اعمال کی توفیق سے نہ نوازے۔ ﴿ وَيَغۡفِرۡ لَنَا ﴾ ’’اور ہم کو معاف نہیں کرے گا۔‘‘ یعنی بچھڑے کی عبادت کا گناہ جو ہم سے صادر ہوا ہے اسے بخش نہ دے۔ ﴿ لَنَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ تو ہم یقینا ان لوگوں میں شامل ہو جائیں گے جنھیں (دنیا و آخرت) میں خسارہ ملا۔

[150]﴿ وَلَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤى اِلٰى قَوۡمِهٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔‘‘ یعنی موسیٰu ان کے بارے میں غیظ و غضب سے لبریز واپس لوٹے۔ کیونکہ ان کی غیرت اور (اپنی قوم کے بارے میں ) ان کی خیر خواہی اور شفقت کامل تھی۔ ﴿ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِيۡ۠ مِنۢۡ بَعۡدِيۡ﴾ ’’کہنے لگے تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔‘‘ یعنی بہت ہی برے اطوار تھے جن کے ساتھ تم نے میرے جانے کے بعد میری جانشینی کی۔ یہ ایسے احوال اطوار تھے جو ابدی ہلاکت اور دائمی شقاوت کے موجب بنتے ہیں ۔ ﴿ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّكُمۡ﴾ ’’کیا تم نے اپنے رب کے حکم کے بارے میں جلدی کی‘‘ کیونکہ اس نے تمھارے ساتھ کتاب نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ پس تم اپنی فاسد رائے کے ذریعے سے جلدی سے اس قبیح خصلت کی طرف آگے بڑھے۔ ﴿ وَاَلۡقَى الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’اور (تورات کی) تختیاں ڈال دیں ۔‘‘ یعنی نہایت غصے سے ان کو پھینک دیا۔ ﴿ وَاَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِيۡهِ ﴾ ’’اور اپنے بھائی کے سر (اور داڑھی) کو پکڑ کر۔‘‘ ﴿ يَجُرُّهٗۤ اِلَيۡهِ ﴾ ’’اپنی طرف کھینچا‘‘ اور ان سے کہا: ﴿ مَا مَنَعَكَ اِذۡ رَاَيۡتَهُمۡ ضَلُّوۡۤاۙ۰۰اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَيۡتَ اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍92۔93) ’’جب تم نے ان کو دیکھا کہ وہ بھٹک گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے میری پیروی کرنے سے روکا۔ کیا تم نے میری حکم عدولی کی؟‘‘ یعنی میرے حکم ﴿ اخۡلُفۡنِيۡ فِيۡ قَوۡمِيۡ وَاَصۡلِحۡ وَلَا تَتَّبِـعۡ سَبِيۡلَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾(الاعراف: 7؍142) کی نافرمانی کی۔ ہارونu نے عرض کیا ﴿يَبۡنَؤُمَّ لَا تَاۡخُذۡ بِلِحۡيَتِيۡ وَلَا بِرَاۡسِيۡ١ۚ اِنِّيۡ خَشِيۡتُ اَنۡ تَقُوۡلَ فَرَّقۡتَ بَيۡنَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ وَلَمۡ تَرۡقُبۡ قَوۡلِيۡ﴾(طٰہ: 20؍94)’’اے میرے ماں جائے بھائی! مجھے میری داڑھی اور سر کے بالوں سے نہ پکڑیے میں تو اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں آپ یہ نہ کہیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میرے حکم کو ملحوظ نہ رکھا۔‘‘﴿ قَالَ ابۡنَ اُمَّ ﴾ ’’کہا اے ماں جائے‘‘ یہاں صرف ماں کا ذکر، بھائی کو نرم کرنے کے لیے کیا ہے ورنہ ہارونu ماں اور باپ دونوں کی طرف سے موسیٰu کے بھائی تھے۔ ﴿ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِيۡ ﴾ ’’لوگوں نے مجھ کو کمزور سمجھا‘‘ یعنی جب میں نے ان سے کہا ﴿ يٰقَوۡمِ اِنَّمَا فُتِنۡتُمۡ بِهٖ١ۚ وَاِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحۡمٰنُ فَاتَّبِعُوۡنِيۡ۠ وَاَطِيۡعُوۡۤا اَمۡرِيۡ﴾(طٰہ: 20؍90)’’اے میری قوم! اس سے تمھاری آزمائش کی گئی ہے، تمھارا پروردگار تو اللہ رحمن ہے۔ پس میری اتباع کرو اور میرے حکم کی تعمیل کرو۔‘‘﴿ وَؔكَادُوۡا يَقۡتُلُوۡنَنِيۡ۠﴾ ’’اور قریب تھے کہ مجھ کو مار ڈالیں ‘‘ یعنی مجھے قصور وار نہ سمجھیں ﴿ فَلَا تُشۡمِتۡ بِيَ الۡاَعۡدَآءَؔ ﴾ ’’پس نہ ہنساؤ مجھ پر دشمنوں کو‘‘ یعنی مجھے ڈانٹ ڈپٹ اور میرے ساتھ برا سلوک کر کے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں ۔ کیونکہ دشمن تو چاہتے ہیں کہ وہ میری کوئی غلطی پکڑیں یا انھیں میری کوئی لغزش ہاتھ آئے۔ ﴿ وَلَا تَجۡعَلۡنِيۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایے۔‘‘ یعنی مجھے ظالم لوگوں کے ساتھ شامل کر کے میرے ساتھ ان جیسا معاملہ نہ کریں ۔

[151]جناب موسیٰu نے عجلت میں ، اپنے بھائی کی براء ت معلوم کرنے سے پہلے ہی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا اس پر انھیں سخت ندامت ہوئی۔﴿ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِيۡ وَلِاَخِيۡ ﴾ ’’موسیٰu نے عرض کی کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے۔‘‘ ﴿ وَاَدۡخِلۡنَا فِيۡ رَحۡمَتِكَ﴾ ’’اور تو ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔‘‘ تیری بے پایاں رحمت ہمیں ہر جانب سے گھیر لے۔ کیونکہ تیری رحمت تمام برائیوں کے مقابلے میں ایک مضبوط اور محفوظ قلعہ ہے اور ہر بھلائی اور مسرت کا سرچشمہ ہے۔ ﴿ وَاَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰؔحِمِيۡنَ ﴾ ’’اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘ یعنی تو ہمارے ماں ، باپ، اولاد، ہر رحم کرنے والے بلکہ خود ہم سے زیادہ ہم پر رحم کرنے والا ہے۔

[152] اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوا الۡعِجۡلَ ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا‘‘ ﴿ سَيَنَالُهُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ وَذِلَّةٌ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ان کو پہنچے گا غضب ان کے رب کی طرف سے اور ذلت دنیا کی زندگی میں ‘‘ جیسا کہ انھوں نے اپنے رب کو ناراض کیا اور اس کے حکم کی تحقیر کی۔ ﴿وَؔكَذٰلِكَ نَجۡزِي الۡمُفۡتَرِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کو‘‘ پس ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے، اس کی شریعت پر جھوٹ گھڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف وہ باتیں منسوب کرتا ہے جو اس نے نہیں کہیں تو اسے اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سامنا کرنا ہوگا اور دنیا کی زندگی میں اسے ذلت اٹھانا پڑے گی۔

[153] چنانچہ انھیں اللہ تعالیٰ کے غضب کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں اور اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت تک خوش نہیں ہوگا جب تک کہ وہ یہ فعل سر انجام نہ دیں ۔ پس انھوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور مقتولین کی کثرت سے میدان بھر گیا، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک عام حکم ذکر فرمایا جس میں یہ لوگ اور دیگر لوگ شامل ہیں ، فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ عَمِلُوا السَّيِّاٰتِ ﴾ ’’اور جنھوں نے برے اعمال کیے۔‘‘ یعنی جنھوں نے شرک، کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ﴿ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’پھر اس کے بعد توبہ کرلی۔‘‘ یعنی گزشتہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ ساتھ ان کے ارتکاب سے رک گئے اور عزم کر لیا کہ وہ ان گناہوں کا اعادہ نہیں کریں گے۔ ﴿ وَاٰمَنُوۡۤا ﴾اور وہ اللہ تعالیٰ اور ان تمام امور پر ایمان لے آئے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا ہے اور ایمان، اعمال قلوب اور اعمال جوارح، جو ایمان کا نتیجہ ہیں ، کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔﴿ اِنَّ رَبَّكَ مِنۢۡ بَعۡدِهَا ﴾ ’’بے شک تمھارا رب اس کے بعد۔‘‘ یعنی اس حالت کے بعد، یعنی گناہوں سے توبہ اور نیکیوں کی طرف رجوع کے بعد ﴿لَغَفُوۡرٌؔ ﴾ ’’بخشنے والا۔‘‘ وه گناہوں کو بخش کر انھیں مٹا دیتا ہے خواہ یہ زمین بھر کیوں نہ ہوں ۔ ﴿ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’رحم کرنے والا ہے۔‘‘ وہ توبہ قبول کر کے اور بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا کر کے اپنی بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے۔

[154]﴿ وَلَمَّا سَكَتَ عَنۡ مُّوۡسَى الۡغَضَبُ ﴾ ’’اور جب موسیٰ (u) کا غصہ فرو ہوا۔‘‘ یعنی جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور وہ آپے میں آکر پوری صورت حال کو سمجھ گئے تو وہ اہم تر امور میں مشغول ہوگئے۔ ﴿ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ﴾ ’’انھوں نے ان تختیوں کو اٹھایا‘‘ جن کو انھوں نے غصے میں آکر پھینک دیا تھا۔ یہ جلیل القدر تختیاں تھیں ۔ ﴿وَفِيۡ نُسۡخَتِهَا ﴾ ’’اور ان میں جو لکھا ہوا تھا‘‘ یعنی یہ تختیاں مشتمل تھیں ﴿هُدًى وَّرَحۡمَةٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور رحمت تھی۔‘‘ ان میں گمراہی اور ہدایت کو واضح کیا گیا تھا۔ حق اور باطل، اعمال خیر، اعمال شر، بہترین اعمال کی طرف راہ نمائی، اخلاق و آداب کو ان تختیوں میں کھول کھول کر بیان کیا گیا تھا اور ان تختیوں میں ان لوگوں کے لیے رحمت اور سعادت ہے جو ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے احکام اور معانی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ مگر ہر شخص اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رحمت کو قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو صرف وہی لوگ قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں ۔ ﴿ لِّلَّذِيۡنَ هُمۡ لِرَبِّهِمۡ يَرۡهَبُوۡنَ ﴾ ’’جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے روز اس کے حضور کھڑے ہونے سے نہیں ڈرتا تو اس سے اس کی سرکشی اور روگردانی میں اضافہ ہی ہوگا اور اس بارے میں اس پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو جائے گی۔

[155] جب بنی اسرائیل نے توبہ کر لی اور وہ رشد و ہدایت کی راہ پر لوٹ آئے۔ ﴿ وَاخۡتَارَ مُوۡسٰؔى قَوۡمَهٗ ﴾ ’’اور چن لیے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے‘‘ ﴿سَبۡعِيۡنَ رَجُلًا﴾ ’’بہترین، ستر آدمی‘‘ تاکہ وہ اپنی قوم کی طرف سے رب کے حضور معذرت پیش کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا تھا تاکہ اس وقت وہ اللہ کے حضور حاضر ہوں اور جب وہ حاضر ہوئے تو انھوں نے موسیٰu سے کہا ﴿اَرِنَا اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(النساء: 4؍153) ’’ان ظاہری آنکھوں سے ہمیں اللہ کا دیدار کروا۔‘‘پس انھوں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں جسارت اور اس کے حضور بے ادبی کا مظاہرہ کیا۔ ﴿ اَخَذَتۡهُمُ الرَّجۡفَةُ ﴾ ’’تو ان کو زلزلے نے پکڑ لیا‘‘ پس وہ بے ہوش ہو کر ہلاک ہوگئے۔پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور فروتنی اور تذلل سے گڑگڑاتے رہے۔ انھوں نے عرض کیا ﴿ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَهۡلَكۡتَهُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَاِيَّايَ ﴾ ’’اے میرے رب! اگر تو ان کو ہلاک ہی کرنا چاہتا تو مجھے اور ان کو میقات کی طرف سے نکلنے سے پہلے ہی ہلاک کر دیتا‘‘ ﴿اَتُهۡلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا﴾ ’’کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس کام پر جو ہماری قوم کے بے وقوفوں نے کیا‘‘ یعنی جو کچھ کم عقل اور بے وقوف لوگوں نے کیا ہے۔ پس موسیٰu اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑائے اور معذرت کی کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ جسارت کی ہے وہ کامل عقل کے مالک نہیں ہیں ، ان کی بے وقوفی کے قول و فعل سے صرف نظر کر۔ وہ ایک ایسے فتنے میں مبتلا ہوگئے جس میں انسان خطا کا شکار ہو جاتا ہے اور دین کے چلے جانے کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ موسیٰu نے عرض کیا ﴿ اِنۡ هِيَ اِلَّا فِتۡنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنۡ تَشَآءُ وَتَهۡدِيۡ مَنۡ تَشَآءُ١ؕ اَنۡتَ وَلِيُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا وَاَنۡتَ خَيۡرُ الۡغٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’یہ سب تیری آزمائش ہے، گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور سیدھا رکھتا ہے جس کو چاہتا ہے تو ہی ہمارا کار ساز ہے، پس ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے‘‘ یعنی تو بخش دینے والوں میں سے بہترین ہستی ہے۔ سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور عطا کرنے والوں میں سب سے زیادہ فضل و کرم کا مالک ہے۔ گویا کہ حضرت موسیٰu نے اللہ تعالیٰ کے حضور یوں عرض کیا ’’اے ہمارے رب ہم سب کا اولین مقصد تیری اطاعت کا التزام اور تجھ پر ایمان لانا ہے اور جس میں عقل اور سمجھ موجود ہے اور تیری توفیق جس کے ہم رکاب رہے گی وہ ہمیشہ راہ راست پر رواں دواں رہے گا۔رہا وہ شخص جو ضعیف العقل ہے، جو کمزور رائے رکھتا ہے اور جس کو فتنے نے گمراہی کی طرف پھیر دیا تو وہی شخص ہے جس نے ان دو اسباب کی بنا پر اس جسارت کا ارتکاب کیا۔ بایں ہمہ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور سب سے زیادہ بخش دینے والا ہے پس تو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما۔‘‘پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت موسیٰu کی دعا قبول کر لی اور ان (ستر آدمیوں ) کو موت دینے کے بعد دوبارہ زندہ کر دیا اور ان کے گناہ بخش دیے۔

[156] موسیٰu نے اپنی دعا کو مکمل کرتے ہوئے عرض کی ﴿ وَاكۡتُبۡ لَنَا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةً ﴾ ’’اور لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا میں بھلائی‘‘ یعنی اس دنیا میں علم نافع، رزق واسع اور عمل صالح عطا کر۔ ﴿وَّفِي الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت میں ‘‘ یہ وہ ثواب ہے جو اس نے اپنے اولیائے صالحین کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ﴿ اِنَّا هُدۡنَاۤ اِلَيۡكَ ﴾ ’’ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔‘‘ ہم اپنی کوتاہی کا اقرار کرتے اور اپنے تمام امور تیرے سپرد کرتے ہوئے تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ ﴿قَالَ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿ عَذَابِيۡۤ اُصِيۡبُ بِهٖ مَنۡ اَشَآءُ ﴾ ’’میرا عذاب، پہنچاتا ہوں میں اس کو جس کو چاہوں ‘‘ یعنی اس کو جو بدبخت ہے اور بدبختی کے اسباب اختیار کرتا ہے۔ ﴿وَرَحۡمَتِيۡ وَسِعَتۡ كُلَّ شَيۡءٍ﴾ ’’اور میری رحمت، اس نے گھیر لیا ہے ہر چیز کو۔‘‘میری بے پایاں رحمت نے عالم علوی اور عالم سفلی، نیک اور بد، مومن اور کافر سب کو ڈھانپ رکھا ہے۔ کوئی مخلوق ایسی نہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت سایہ کناں نہ ہو اور اس کے فضل و کرم نے اس کو ڈھانپ نہ رکھا ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت جو دنیا و آخرت کی سعادت کی باعث ہوتی ہے وہ ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس رحمت کے بارے میں فرمایا ﴿ فَسَاَكۡتُبُهَا لِلَّذِيۡنَ يَتَّقُوۡنَ﴾ ’’سو اس کو لکھ دوں گا ان کے لیے جو ڈر رکھتے ہیں ‘‘ جو صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں ﴿وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور جو (مستحق لوگوں کو) زکاۃ دیتے ہیں ‘‘ ﴿ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِاٰيٰتِنَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’اور جو ہماری آیات پر یقین رکھتے ہیں ‘‘

[157] اللہ تعالیٰ کی آیات پر کامل ایمان یہ ہے کہ ان کے معانی کی معرفت حاصل کی جائے اور ان کے تقاضوں کے مطابق عمل کیا جائے اور انھی میں سے دین کے اصول و فروع میں ، ظاہری اور باطنی طور پر نبی اکرمﷺ کی اتباع ہے۔﴿ اَلَّذِيۡنَ يَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِيَّ الۡاُمِّيَّ ﴾ ’’وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی جو نبئ امی ہے‘‘ یہاں تمام انبیائے کرام کے ذکر سے احتراز کیا ہے کیونکہ یہاں صرف حضرت محمد مصطفی بن عبداللہ بن عبدالمطلبﷺ مقصود ہیں ۔ یہ آیت بنی اسرائیل کے حالات کے سیاق میں ہے، ان کے لیے ایمان میں داخل ہونے کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نبی اکرمﷺ پر ایمان لائیں ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت مطلق جو اس نے اپنے بندوں کے لیے لکھ رکھی ہے صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اس نبی اکرم (ﷺ) پر ایمان لا کر اس کی اتباع کرتے ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ﴿اَلۡاُمِّيَّ﴾ کے وصف سے موصوف فرمایا ہے کیونکہ آپ عربوں میں سے ہیں اور عرب ایک ان پڑھ امت ہیں جو لکھ سکتے ہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور قرآن مجید سے پہلے ان پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ ﴿الَّذِيۡ يَجِدُوۡنَهٗ مَكۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِي التَّوۡرٰىةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ ﴾ ’’وہ آپ(ﷺ کا نام اور آپﷺ کی صفات)کو تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ۔‘‘ اور ان میں سب سے بڑی اور جلیل ترین صفت وہ ہے جس کی طرف آپﷺ دعوت دیتے ہیں اور جس چیز سے آپ منع کرتے ہیں ۔﴿ٞيَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ﴾ ’’وہ معروف کا حکم دیتے ہیں ۔‘‘ اور (مَعْروف) سے مراد ’’ہر وہ کام ہے جس کی اچھائی، بھلائی اور اس کا فائدہ مند ہونا معروف ہو۔‘‘ ﴿ وَيَنۡهٰىهُمۡ عَنِ الۡمُنۡؔكَرِ ﴾ ’’اور برے کاموں سے روکتے ہیں ۔‘‘ (منکر) سے مراد ’’ہر وہ برا کام ہے جس کی برائی اور قباحت کو عقل اور فطرت سلیم تسلیم کرتی ہو‘‘ پس وہ نماز، زکٰوۃ، روزے، حج، صلہ رحمی، والدین کے ساتھ نیک سلوک، ہمسایوں اور غلاموں کے ساتھ نیکی، تمام مخلوق کو فائدہ پہنچانے، سچائی، پاکبازی، نیکی، خیر خواہی اور دیگر اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک، قتل ناحق، زنا، شراب اور نشہ دار مشروبات پینے، تمام مخلوق پر ظلم کرنے، جھوٹ، فسق و فجور اور دیگر برائیوں سے روکتا ہے۔رسول اللہﷺ کے رسول ہونے کی سب سے بڑی دلیل وہ کام ہیں جن کا آپ حکم دیتے ہیں ، جن سے آپ روکتے ہیں ، جن کو آپ حلال قرار دیتے ہیں اور جن کو آپ حرام قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے ﴿ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰؔتِ ﴾ ’’وہ حلال کرتا ہے ان کے لیے سب پاک چیزیں ‘‘ یعنی آپ ماکولات اور مشروبات میں سے طیبات اور پاک عورتوں کو حلال قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيُحَرِّمُ عَلَيۡهِمُ الۡؔخَبٰٓؔىِٕثَ ﴾ ’’اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام ٹھہراتے ہیں ۔‘‘ یعنی ماکولات اور مشروبات میں سے ناپاک چیزوں ، ناپاک اقوال و افعال اور ناپاک عورتوں کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ﴿ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَالۡاَغۡلٰلَ الَّتِيۡ كَانَتۡ عَلَيۡهِمۡ﴾’’اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان کے سر پر اور گلے میں تھے اتارتے ہیں ۔‘‘ یعنی آپﷺ کا ایک وصف یہ ہے کہ آپ کا لایا ہوا دین نہایت آسان، نرم اور کشادہ ہے۔ اس دین میں کوئی بوجھ، کوئی ناروا بندش، کوئی مشقت اور کوئی تکلیف نہیں ہے۔﴿ فَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَعَزَّرُوۡهُ ﴾ ’’پس وہ لوگ جو آپ پر ایمان لائے اور جنھوں نے آپ کی توقیر و تعظیم کی‘‘ ﴿ وَنَصَرُوۡهُ وَاتَّبَؔعُوا النُّوۡرَ الَّذِيۡۤ اُنۡزِلَ مَعَهٗۤ ﴾ ’’اور آپ کی مدد کی اور تابع ہوئے اس نور کے جو آپ کے ساتھ اترا ہے‘‘ نور سے مراد قرآن ہے جس سے شک و شبہات اور جہالت کے تیرہ و تار اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اور مقالات و نظریات کے اختلاف میں اس کو راہ نما بنایا جاتا ہے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴾ ’’وہی مراد پانے والے ہیں ۔‘‘ یہی لوگ ہیں جو دنیا و آخرت کی بھلائی سے ظفر یاب ہوں گے اور یہی لوگ دنیا و آخرت کے شر سے نجات پائیں گے۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو فلاح کا سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کے ہاں حاضر ہوئے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اس نبی امیﷺ پر ایمان نہ لائے، انھوں نے آپ کی تعظیم و توقیر کی، نہ آپ کی مدد کی اور نہ اس نور کی اتباع کی جو آپ کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ پس یہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔

[158] چونکہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں سے اہل تورات کو رسول اللہﷺ کی اتباع کی دعوت دی ہے اور بسا اوقات کوئی شخص اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل تک محدود ہے.... اس لیے وہ اسلوب اختیار کیا جو عمومیت پر دلالت کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ اِلَيۡكُمۡ جَمِيۡعًا ﴾ ’’کہہ دیجیے، اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں ۔‘‘ یعنی اہل عرب، اہل عجم، اہل کتاب اور دیگر تمام قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ ﴿ الَّذِيۡ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ﴾ ’’جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں ‘‘ وہ اپنے احکام تکوینی، تدابیر سلطانی اور احکام دینی کے ذریعے سے کائنات میں تصرف کرتا ہے۔ اس کے احکام دینی و شرعی میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اس نے تمھاری طرف ایک عظیم رسول مبعوث کیا۔ جو تمھیں اللہ تعالیٰ اور اس کے عزت و اکرام کے گھر کی طرف دعوت دیتا ہے اور تمھیں ہر اس چیز سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو تمھیں اس گھر سے دور کرتی ہے۔ ﴿ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ﴾ ’’اس (اللہ تعالیٰ) کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں ‘‘ وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ۔ اس کی عبادت کی معرفت صرف اس کے انبیاء و مرسلین کے توسط ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔ ﴿ يُحۡيٖ وَيُمِيۡتُ ﴾’’وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے۔‘‘ اس کی جملہ تدابیر و تصرفات میں سے زندہ کرنا اور مارنا ہے، جس میں کوئی ہستی شریک نہیں ہو سکتی۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے موت کو ایک ایسا پل بنایا ہے جسے عبور کر کے انسان دار فانی سے دارالبقا میں داخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اس دارالبقا پر ایمان لاتا ہے تو وہ اللہ کے رسول محمد مصطفیﷺ کی یقینا تصدیق کرتا ہے۔﴿ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهِ النَّبِيِّ الۡاُمِّيِّ ﴾ ’’پس اللہ پر اور اس کے رسول پیغمبر امی پر ایمان لاؤ۔‘‘ یعنی اس نبی امی پر ایسا قلبی ایمان لاؤ جو اعمال قلوب اور اعمال جوارح کو متضمن ہو۔ ﴿ الَّذِيۡ يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَؔكَلِمٰتِهٖ ﴾ ’’جو یقین رکھتا ہے اللہ پر اور اس کی باتوں پر‘‘ یعنی اس رسول پر ایمان لاؤ جو اپنے عقائد و اعمال میں راست رو ہے ﴿ وَاتَّبِعُوۡهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ﴾ ’’اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ پاؤ‘‘ یعنی اگر تم اس کی اتباع کرو گے تو اپنے دینی اور دنیاوی مصالح میں ہدایت پاؤ گے کیونکہ جب تم اس نبی کی اتباع نہیں کرو گے تو بہت دور کی گمراہی میں جا پڑو گے۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English