Ас-Саади · Тафсир · на урду
المدثر
Аль-Муддассир
Завернувшийся · Мекканская · 56 аятов
74:1–7Страница 575
يَٰٓأَيُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ ١
О завернувшийся!
قُمۡ فَأَنذِرۡ ٢
Встань и увещевай!
وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ ٣
Господа своего величай!
وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ ٤
Одежды свои очищай!
وَٱلرُّجۡزَ فَٱهۡجُرۡ ٥
Скверны (идолов) сторонись!
وَلَا تَمۡنُن تَسۡتَكۡثِرُ ٦
Не оказывай милости, чтобы получить большее!
وَلِرَبِّكَ فَٱصۡبِرۡ ٧
Ради Господа твоего будь терпелив!
اے لپٹنے والے کپڑے میں!(1) اٹھیے، پھر ڈرائیے(2) اور اپنے رب ہی کی پس بڑائی بیان کیجیے(3) اور اپنے کپڑے پس پاک رکھیے(4) اور پلیدی کو پس چھوڑ دیجیے(5) اور نہ احسان کیجیے زیادہ طلب کرنے کے لیے(6) اور اپنے رب کے لیے پس صبر کیجیے(7) پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10) چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[2,1] گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ ﴿الۡمُزَّمِّلُ﴾ اور ﴿الۡمُدَّثِّرُ﴾کا ایک ہی معنی ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺ کو حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادات قاصرہ اور متعدیہ میں پوری کوشش کریں۔ وہاں یہ بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عبادات فاضلہ و قاصرہ اور اپنی قوم کی اذیت رسانی پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کوحکم دیا کہ آپ اپنی نبوت کا اعلان فرما دیں اور کھلم کھلا لوگوں کو تنبیہ کریں، چنانچہ فرمایا:﴿قُمۡ﴾ یعنی کوشش اور نشاط کے ساتھ کھڑے ہوں ﴿ فَاَنۡذِرۡ﴾ یعنی لوگوں کو ایسے اقوال و افعال کے ذریعے سے تنبیہ کیجیے ، جن سے مقصد حاصل ہو، ان امور کا حال بیان کر کے ڈرائیے جن سے متنبہ کرنا مطلوب ہے تاکہ یہ اس کو ترک کرنے پر زیادہ آمادہ کرے۔
[3]﴿وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ﴾ یعنی توحید کے ذریعے سے اس کی عظمت بیان کیجیے، اپنے انذار و تنبیہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقصد بنائیں، نیز اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بندے اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس کی عبادت کریں۔
[4]﴿وَثِيَابَكَ فَطَهِّرۡ﴾ ’’اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھیں۔‘‘ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال ہے کہ (ثِیَاب) ’’کپڑے‘‘ سے مراد تمام اعمال ہوں اور ان کی تطہیر سے مراد ہے ان کی تخلیص، ان کے ذریعے سے خیر خواہی، ان کو کامل ترین طریقے پر بجا لانا اور ان کو تمام مبطلات، مفسدات اور ان میں نقص پیدا کرنے والے امور ، یعنی شرک، ریا، نفاق، خود پسندی، تکبر، غفلت وغیرہ سے پاک کرنا، جن کے بارے میں بندۂ مومن کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عبادات میں ان سے اجتناب کرے۔ اس میں کپڑوں کی نجاست سے تطہیر بھی داخل ہے کیونکہ یہ تطہیر اعمال کی تطہیر کی تکمیل ہے، خاص طور پر نماز کے اندر جس کے بارے میں بہت سے علماء کا قول ہے کہ نجاست کو زائل کرنا، نماز کا حق اور اس کی شرائط میں سے ایک شرط ہے، یعنی طہارت اس کی صحت کی شرائط میں سے ہے۔یہ بھی احتمال ہے کہ(ثِیَاب) سے مراد معروف لباس ہو اور آپ کو ان کپڑوں کی تمام اوقات میں تمام نجاستوں سے تطہیر کا حکم دیا گیا ہے، خاص طور پر نماز میں داخل ہوتے وقت۔
[5] جب آپ ظاہری طہارت پر مامور ہیں کیونکہ ظاہری طہارت، باطنی طہارت کی تکمیل کرتی ہے تو فرمایا:﴿وَالرُّجۡزَ فَاهۡجُرۡ﴾ ’’اور ناپاکی سے دور رہیں۔‘‘ ایک احتمال یہ ہے کہ (الرُّجْزَ) سے مراد بت اور مورتی ہوں، جن کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عبادت کی جاتی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کو ترک کر دیں، ان سے براء ت کا اعلان کریں، نیز ان تمام اقوال و افعال سے بیزار ہوں جو ان کی طرف منسوب ہیں۔ایک احتمال یہ بھی ہے کہ (اَلرُّجْزَ)سے مراد تمام اعمال شر اور اقوال شر ہوں، تب آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ تمام چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور باطنی گناہ چھوڑ دیں۔ اس حکم میں شرک اور اس سے کم تر تمام گناہ داخل ہیں۔
[6]﴿وَلَا تَمۡنُنۡ تَسۡتَكۡثِرُ﴾ یعنی آپ نے لوگوں پر جو دینی اور دنیاوی احسانات کیے ہیں، انھیں جتلائیں نہیں کہ اس احسان کے بدلے زیادہ حاصل کریں اور ان احسانات کی وجہ سے اپنے آپ کو لوگوں سے افضل سمجھیں بلکہ جب بھی آپ کے لیے ممکن ہو آپ لوگوں پر احسان کریں ، پھر ان پر اپنے اس احسان کو بھول جایے اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کیجیے۔ جس پر آپ نے احسان کیا ہے اسے اور دوسروں کو برابر سطح پر رکھیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کسی کو کوئی چیز اس لیے عطا نہ کریں کہ آپ کا ارادہ ہو کہ وہ آپ کو اس سے بڑھ کر بدلہ عطا کرے، تب یہ نبی ٔاکرمﷺ کے ساتھ مختص ہے۔
[7]﴿وَلِرَبِّكَ فَاصۡبِرۡ﴾ یعنی اپنے صبر پر اجر کی امید رکھیے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔ پس رسول اللہ ﷺنے اپنے رب کے حکم کی اطاعت کی اور اس کی تعمیل کے لیے آگے بڑھے۔ پس آپ نے لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا اور آپ نے ان کے سامنے آیات بینات اور تمام مطالب الٰہیہ کو واضح کیا، اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی اور مخلوق کو اس کی تعظیم کی طرف بلایا، آپ نے اپنے تمام ظاہری اور باطنی اعمال کو ہر قسم کی برائی سے پاک کیا، آپ نے ہر اس ہستی سے براءت کا اظہار کیا جو اللہ تعالیٰ سے دور کرتی تھی اور اس کی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے ساتھ عبادت کی جاتی تھی، یعنی بتوں، بت پرستوں، شر اور شر پسندوں سے بیزاری کا اعلان کیا۔لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسان کے بعد آپ کا احسان ہے بغیر اس کے کہ آپ اس پر ان سے کسی جزا یا شکر گزاری کا مطالبہ کریں۔ آپ نے اپنے رب کی خاطر کامل ترین صبر کیا۔ پس آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی نافرمانی سے اجتناب پر اور اس کی تکلیف دہ قضا و قدر پر صبر کیا، یہاں تک کہ آپ اولوالعزم انبیاء و مرسلین پر بھی فوقیت لے گئے۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ أَجْمَعِینَ ۔
74:8–10Страница 575
فَإِذَا نُقِرَ فِي ٱلنَّاقُورِ ٨
Когда же протрубят в рог,
فَذَٰلِكَ يَوۡمَئِذٖ يَوۡمٌ عَسِيرٌ ٩
то день тот будет Днем тяжким,
عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ غَيۡرُ يَسِيرٖ ١٠
нелегким для неверующих.
پس جب پھونکا جائے گا صور میں(8) تو وہ اس دن، دن ہو گا سخت دشوار (9) کافروں پر، نہیں آسان (10)
[10-8] جب مردوں کو قبروں سے کھڑا کرنے اور تمام خلائق کو دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لیے جمع کرنے کے لیے صور پھونکا جائے گا ﴿ فَذٰلِكَ يَوۡمَىِٕذٍ يَّوۡمٌ عَسِيۡرٌ﴾ تو ہولناکیوں اور سختیوں کی کثرت کی بنا پر وہ دن بڑا ہی سخت ہو گا۔ ﴿ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ غَيۡرُ يَسِيۡرٍ﴾’’کافروں پرآسان نہ ہوگا۔‘‘ کیونکہ وہ ہر بھلائی سے مایوس ہو چکے ہوں گے اور انھیں اپنی ہلاکت اور تباہی کا یقین ہوجائے گا۔ اس آیت کریمہ کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ وہ دن اہل ایمان پر آسان ہو گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿ يَقُوۡلُ الۡكٰفِرُوۡنَ هٰؔذَا يَوۡمٌ عَسِرٌ﴾(القمر:54؍8) ’’کفار کہیں گے کہ یہ دن بڑا ہی سخت ہے۔ ‘‘
74:11–31Страница 575
ذَرۡنِي وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيدٗا ١١
Оставь Меня с тем, кого Я сотворил одиноким,
وَجَعَلۡتُ لَهُۥ مَالٗا مَّمۡدُودٗا ١٢
даровал ему большое богатство
وَبَنِينَ شُهُودٗا ١٣
и сыновей, которые находились рядом с ним,
وَمَهَّدتُّ لَهُۥ تَمۡهِيدٗا ١٤
и распростер перед ним этот мир полностью.
ثُمَّ يَطۡمَعُ أَنۡ أَزِيدَ ١٥
После всего этого он желает, чтобы Я добавил ему.
كـَلَّآۖ إِنَّهُۥ كَانَ لِأٓيَٰتِنَا عَنِيدٗا ١٦
Но нет! Он упрямо отрицает Наши знамения.
سَأُرۡهِقُهُۥ صَعُودًا ١٧
Я возложу на него подъем (восхождение на гору в Аду).
إِنَّهُۥ فَكَّرَ وَقَدَّرَ ١٨
Он подумал и рассчитал.
فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ١٩
Да сгинет он! Как он рассчитал?!
ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ ٢٠
Да сгинет он еще раз! Как он рассчитал?!
ثُمَّ نَظَرَ ٢١
Затем он задумался.
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ ٢٢
Затем он нахмурился и насупился.
ثُمَّ أَدۡبَرَ وَٱسۡتَكۡبَرَ ٢٣
Затем он повернулся спиной и возгордился
فَقَالَ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ يُؤۡثَرُ ٢٤
и сказал: «Это - не что иное, как пересказанное колдовство.
إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا قَوۡلُ ٱلۡبَشَرِ ٢٥
Это - не что иное, как слова человека».
سَأُصۡلِيهِ سَقَرَ ٢٦
Я брошу его в Преисподнюю.
وَمَآ أَدۡرَىٰكَ مَا سَقَرُ ٢٧
Откуда ты мог знать, что такое Преисподняя?
لَا تُبۡقِي وَلَا تَذَرُ ٢٨
Она не щадит и не оставляет.
لَوَّاحَةٞ لِّلۡبَشَرِ ٢٩
Она сжигает кожу.
عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ ٣٠
Их (ангелов) над ней - девятнадцать.
وَمَا جَعَلۡنَآ أَصۡحَٰبَ ٱلنَّارِ إِلَّا مَلَٰٓئِكَةٗۖ وَمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ إِلَّا فِتۡنَةٗ لِّلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيَسۡتَيۡقِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَيَزۡدَادَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِيمَٰنٗا وَلَا يَرۡتَابَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَ وَلِيَقُولَ ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٞ وَٱلۡكَٰفِرُونَ مَاذَآ أَرَادَ ٱللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَمَا يَعۡلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكۡرَىٰ لِلۡبَشَرِ ٣١
Стражами Огня мы сделали только ангелов, а количество их сделали искушением для неверующих, чтобы удостоверились те, кому было даровано Писание, чтобы усилилась вера у верующих, чтобы не сомневались те, кому было даровано Писание, и верующие, и чтобы спросили те, чьи сердца поражены недугом, и неверующие: «Что хотел Аллах этой притчей?». Так Аллах вводит в заблуждение, кого пожелает, и ведет прямым путем, кого пожелает. Воинство твоего Господа не знает никто, кроме Него. Это же - не что иное, как Напоминание для человечества.
چھوڑ دیجیے مجھے اور اسے جسے میں نے پیدا کیا اکیلا ہی (11) اور کیا میں نے اس کے لیے مال پھیلا ہوا (12) اور (دیے) بیٹے حاضر رہنے والے (13) اور فراخی کی میں نے اس کے لیے خوب فراخی کرنا (14) پھر طمع کرتا ہے وہ یہ کہ میں (اور) زیادہ دوں (اسے)(15) ہرگز نہیں! بلاشبہ وہ ہے ہماری آیات سے سخت عناد رکھنے والا (16) عنقریب میں چڑھاؤں گا اسے دشوار گزار گھاٹی پر (17) بلاشبہ اس نے (غور و ) فکر کیا اور اندازہ لگایا (18) پس ہلاک کیا جائے وہ کیسا اندازہ لگایا اس نے؟(19) پھر ہلاک کیا جائے وہ، کیسا اندازہ لگایا اس نے؟ (20) پھر اس نے دیکھا (21) پھر اس نے تیوری چڑھائی اور منہ بسورا (22) پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا (23) پھر اس نے کہا، نہیں ہے یہ (قرآن) مگر جادو جو نقل کیا جاتا ہے (24) نہیں ہے یہ مگر قول ایک بشر ہی کا (25) عنقریب میں داخل کروں گا اسے جہنم میں (26) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے جہنم (27) نہ وہ باقی رکھے گی اور نہ وہ چھوڑے گی (28) جھلسا دینے والی ہے چمڑے کو(29) اس پر (مقرر) ہیں انیس (فرشتے)(30) اور نہیں بنائے ہم نے نگران آگ کے مگر فرشتے ہی، اور نہیں بنائی ہم نے (یہ) تعداد ان کی مگر آزمائش کے لیے ان لوگوں کی جنھوں نے کفر کیا، تاکہ یقین کر لیں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور زیادہ ہوں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں، ایمان میں اور (تاکہ) نہ شک کریں وہ لوگ کہ دیے گئے ہیں وہ کتاب اور مومن، اور تاکہ کہیں وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور کافر، کس چیز کا ارادہ کیا ہے اللہ نے ساتھ اس (عدد) کے ازروئے مثال کے؟ اسی طرح گمراہ کرتا ہے اللہ جسے چاہتا ہے اور وہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور (کوئی) نہیں جانتا لشکر آپ کے رب کے مگر وہ (خود ہی)، اور نہیں ہے وہ (جہنم) مگر نصیحت (جنس) بشر کے لیے (31)
[30-11] یہ آیات کریمہ معاند حق اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف کھلی جنگ کرنے والے، ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ایسی مذمت کی ہے کہ ایسی مذمت کسی کی نہیں کی، یہ ہر اس شخص کی جزا ہے جو حق کے ساتھ عناد اور دشمنی رکھتا ہے، اس کے لیے دنیا کے اندر رسوائی ہے اور آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کن ہے۔ فرمایا:﴿ ذَرۡنِيۡ وَمَنۡ خَلَقۡتُ وَحِيۡدًا﴾ ’’مجھے اوراس شخص کو چھوڑدو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا۔‘‘ یعنی میں نے اسے اکیلا کسی مال اور اہل و عیال وغیرہ کے بغیر پیدا کیا، پس اس کی پرورش کرتا اور اسے عطا کرتا رہا۔ ﴿ وَّجَعَلۡتُ لَهٗ مَالًا مَّمۡدُوۡدًا﴾ اور میں نے اسے بہت زیادہ مال دیا ﴿وَّ﴾ ’’اور‘‘ اسے عطا کیے ﴿ بَنِيۡنَ﴾ ’’بیٹے‘‘ ﴿ شُهُوۡدًا﴾ جو ہمیشہ اس کے پاس موجود رہتے ہیں، وہ ان سے متمتع ہوتا ہے، ان کے ذریعے سے اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے اور (دشمنوں کے خلاف) ان سے مدد لیتا ہے ﴿ وَّمَهَّدۡتُّ لَهٗ تَمۡهِيۡدًا﴾ میں نے دنیا اور اس کے اسباب پر اسے اختیار دیا، یہاں تک کہ اس کے تمام مطالب آسان ہو گئے اور اس نے ہر وہ چیز حاصل کر لی جو وہ چاہتا تھا اور جس کی اسے خواہش تھی ﴿ ثُمَّ﴾پھر ان نعمتوں اور بھلائیوں کے باوجود ﴿يَطۡمَعُ اَنۡ اَزِيۡدَ﴾’’خواہش رکھتا ہے کہ میں اورزیادہ دوں۔‘‘ یعنی وہ چاہتا ہے کہ اسے آخرت کی نعمتیں بھی اسی طرح حاصل ہوں جس طرح اسے دنیا کی نعمتیں حاصل ہوئی ہیں۔﴿ كَلَّا﴾ یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ وہ چاہتا ہے بلکہ وہ اس کے مطلوب و مقصود کے برعکس ہو گا۔اس کا سبب یہ ہے کہ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰيٰتِنَا عَنِيۡدًا﴾ وہ ہماری آیتوں سے عناد رکھتا ہے، اس نے ان آیات کو پہچان کر ان کا انکار کر دیا، ان آیات نے اسے حق کی طرف دعوت دی مگر اس نے ان کی اطاعت نہ کی۔ اس نے صرف ان سے روگردانی کرنے اور منہ موڑنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف جنگ کی اور ان کے ابطال کے لیے بھاگ دوڑ کی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فرمایا:﴿ اِنَّهٗ فَؔكَّـرَ ﴾ یعنی اس نے اپنے دل میں غور کیا ﴿ وَقَدَّرَ﴾ جس کے بارے میں غور کیا، اس کو تجویز کیا تاکہ وہ ایسی بات کہے جس کے ذریعے سے وہ قرآن کا ابطال کر سکے۔ ﴿ فَقُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَۙ۰۰ثُمَّ قُتِلَ كَيۡفَ قَدَّرَ﴾ ’’پس وہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی، پھروہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔‘‘ کیونکہ اس نے ایسی تجویز سوچی جو اس کی حدود میں نہیں، اس نے ایسے معاملے میں ہاتھ ڈالا جو اس کی اور اس جیسے دوسرے لوگوں کی پہنچ میں نہیں۔ ﴿ ثُمَّ نَظَرَ﴾ پھر اس نے جو کچھ کہا اس میں غور کیا ﴿ ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ﴾ ، پھر اس نے تیوری چڑھائی اور اپنے منہ کو بگاڑا اور حق سے نفرت اوربغض ظاہر کیا ﴿ ثُمَّ اَدۡبَرَ﴾ ، پھر پیٹھ پھیر کر چل دیا ﴿ وَاسۡتَكۡبَرَ﴾ اپنی فکری، عملی اور قولی کوشش کے نتیجے میں تکبر کیا اور کہا:﴿ فَقَالَ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ يُّؤۡثَرُۙ۰۰ اِنۡ هٰؔذَاۤ اِلَّا قَوۡلُ الۡبَشَرِ﴾ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ انسان کا کلام ہے، نیز یہ کسی نیک انسان کا کلام نہیں بلکہ انسانوں میں سے اشرار، فجار، جھوٹے اور جادوگر کا کلام ہے۔ ہلاکت ہو اس کے لیے، راہ صواب سے کتنا دور، خسارے اور نقصان کا کتنا مستحق ہے! یہ بات ذہنوں میں کیسے گھومتی ہے یا کسی انسان کا ضمیر یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ سب سے اعلیٰ اور عظیم ترین کلام، رب کریم، صاحب مجد و عظمت کا کلام، ناقص اور محتاج مخلوق کے کلام سے مشابہت رکھتا ہے؟ یا یہ عناد پسند جھوٹا شخص، اللہ تعالیٰ کے کلام کو اس وصف سے موصوف کرنے کی کیوں کر جرأت کرتا ہے؟پس یہ سخت عذاب کے سوا کسی چیز کا مستحق نہیں، بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿سَاُصۡلِيۡهِ سَقَرَ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا سَقَرُ ۰۰لَا تُبۡقِيۡ وَ لَا تَذَرُ﴾ ’’ہم عنقریب اس کو ’’سقر‘‘ میں داخل کریں گےاورتمہیں کیا معلوم کہ سقر کیا ہے؟ (وہ آگ ہے) کہ باقی رکھے گی نہ چھوڑے گی‘‘ یعنی جہنم کوئی ایسی سختی نہیں چھوڑے گی جو عذاب دیے جانے والے کو نہ پہنچے ﴿لَوَّاحَةٌ لِّلۡبَشَرِ﴾ ’’چمڑی جھلسا دینے والی ہے‘‘ یعنی جہنم ان کو اپنے عذاب میں جھلس ڈالے گی اور اپنی شدید گرمی اور شدید سردی سے انھیں بے چین کر دے گی۔ ﴿عَلَيۡهَا تِسۡعَةَ عَشَرَ﴾ ، یعنی جہنم پر انیس فرشتے داروغوں کے طور پر متعین ہیں جو نہایت سخت اور درشت خو ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
[31]﴿وَمَا جَعَلۡنَاۤ اَصۡحٰؔبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓىِٕكَةً﴾ ’’ہم نے جہنم کے داروغے، فرشتے بنائے ہیں۔‘‘ یہ ان کی سختی اور قوت کی بنا پر ہے۔ ﴿وَّمَا جَعَلۡنَا عِدَّتَهُمۡ اِلَّا فِتۡنَةً لِّلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور ہم نے ان کی گنتی کافروں کی آزمائش کے لیے کی ہے۔‘‘ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ صرف آخرت میں ان کو عذاب اور عقوبت اور جہنم میں ان کو زیادہ سزا دینے کے لیے ہے۔ عذاب کو فتنہ سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَوۡمَ هُمۡ عَلَى النَّارِ يُفۡتَنُوۡنَ﴾(الذاریات:51؍13) ’’اس دن جب ان کو جہنم میں عذاب دیا جائے گا۔‘‘ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہم نے تمھیں ان کی تعداد کے بارے میں صرف اس لیے بتایا ہے تاکہ ہم جان لیں کہ کون تصدیق کرتا اور کون تکذیب کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ ﴿لِيَسۡتَيۡقِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَيَزۡدَادَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِيۡمَانًا﴾ ’’تاکہ اہل کتاب یقین کرلیں اور مومنوں کا ایمان اور زیادہ ہو۔‘‘ کیونکہ اہل کتاب کے پاس جو کچھ ہے، جب قرآن اس کی مطابقت کرے گا تو حق کے بارے میں ان کے یقین میں اضافہ ہو گا اور جب بھی اللہ تعالیٰ کوئی آیت نازل کرتا ہے تو اہل ایمان اس پر ایمان لاتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿وَّلَا يَرۡتَابَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’نیز اہل کتاب اور مومن شک نہ کریں۔‘‘ یعنی تاکہ ان سے شک و ریب زائل ہو جائے۔ان جلیل القدر مقاصد کو خرد مند لوگ ہی درخور اعتنا سمجھتے ہیں ، یعنی یقین میں کوشش، ایمان میں ہر وقت اضافہ، دین کے مسائل میں سے ہر مسئلہ پر ایمان میں اضافہ اور شکوک و اوہام کو دور کرنا جو حق کے بارے میں پیش آتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اپنے رسول پر نازل کیا ہے، اسے ان مقاصد جلیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ، سچے اور جھوٹے لوگوں کے درمیان امتیاز کی میزان قرار دیا ہے، بنابریں فرمایا:﴿وَلِيَقُوۡلَ الَّذِيۡنَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ﴾ ’’تاکہ وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے، کہیں:‘‘ یعنی شک و شبہ اور نفاق کا مرض ہے﴿وَّالۡكٰفِرُوۡنَ مَاذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰؔذَا مَثَلًا﴾ ’’اور کافر (کہیں) کہ اس مثال سے اللہ کا مقصود کیاہے؟‘‘ وہ یہ بات حیرت، شک اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کی وجہ سے کہتے ہیں اور یہ اس شخص کے لیے ہدایت ہے جسے وہ ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے اور اس شخص کے لیے گمراہی ہے جسے وہ گمراہ کرتا ہے، اس لیے فرمایا:﴿كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِيۡ مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’اسی طرح اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔‘‘ پس اللہ جس کو ہدایت عطا کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا، اسے اس کے حق میں رحمت، اور اس کے دین و ایمان میں اضافے کا باعث بنا دیتا ہے اور جسے گمراہ کر دے تو جو کچھ اس نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اسے اس کے حق میں ظلمت اور اس کے لیے بدبختی اور حیرت کا سبب بنا دیتا ہے ۔ واجب ہے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے خبر دی ہے اسے اطاعت و تسلیم کے ساتھ قبول کیا جائے۔فرشتوں وغیرہ میں سے کوئی بھی تمھارے رب کے لشکروں کو نہیں جانتا ﴿اِلَّا هُوَ﴾ ’’سوائے اس (اللہ ) کے۔‘‘ پس جب تم اللہ تعالیٰ کے لشکروں کے بارے میں علم نہیں رکھتے تھے اور علیم و خبیر نے ہی تمھیں ان کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے تو تم پر واجب ہے کہ تم اس کی خبر کی کسی شک و ریب کے بغیر تصدیق کرو۔ ﴿وَمَا هِيَ اِلَّا ذِكۡرٰى لِلۡبَشَرِ﴾ یعنی اس نصیحت اور تذکیر کا مقصد محض عبث اور لہو و لعب نہیں، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ انسان اس سے نصیحت پکڑیں جو چیز ان کو فائدہ دے اس پر عمل کریں اور جو چیز ان کو نقصان دے اسے ترک کر دیں۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии