Ас-Саади · Тафсир · на урду
Ат-Тавба 9:19–29
9:19–22Страница 189
۞ أَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ ٱلۡحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِ كَمَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَجَٰهَدَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۚ لَا يَسۡتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّٰلِمِينَ ١٩
Неужели утоление жажды паломника и содержание Заповедной мечети вы приравниваете к деяниям тех, кто уверовал в Аллаха и в Последний день и сражался на Его пути? Они не равны перед Аллахом, и Аллах не ведет прямым путем несправедливых людей.
ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَٰهَدُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمۡوَٰلِهِمۡ وَأَنفُسِهِمۡ أَعۡظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَآئِزُونَ ٢٠
Те, которые уверовали, совершили переселение и сражались на пути Аллаха своим имуществом и своими душами, выше пред Ним. Они являются преуспевшими.
يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُم بِرَحۡمَةٖ مِّنۡهُ وَرِضۡوَٰنٖ وَجَنَّٰتٖ لَّهُمۡ فِيهَا نَعِيمٞ مُّقِيمٌ ٢١
Господь обрадует их вестью о Своей милости, Своем довольстве и Райских садах, в которых им уготовано вечное блаженство.
خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًاۚ إِنَّ ٱللَّهَ عِندَهُۥٓ أَجۡرٌ عَظِيمٞ ٢٢
Они пребудут в них вечно. Воистину, Аллах вознаграждает великой наградой.
کیا ٹھہرا لیا ہے تم نے پانی پلانے کو حاجیوں کے اورآباد کرنے کو مسجد حرام کے، مانند اس شخص کے (عمل کے) جو ایمان لایا اللہ پر اور یوم آخرت پر اور جہاد کیا اس نے اللہ کی راہ میں، نہیں برابر ہوسکتے وہ (دونوں) نزدیک اللہ کےاوراللہ نہیں ہدایت دیتا ظالموں کو(19)وہ لوگ جو ایمان لائے اورانھوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ساتھ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے، وہ سب سے بڑھ کر ہیں درجے میں نزدیک اللہ کےاور یہی لوگ ہیں کامیاب(20) خوش خبری دیتا ہے ان کو ان کا رب، رحمت کی اپنی طرف سے اور رضامندی کی اور ایسے باغوں کی کہ ان کے لیے ان میں نعمت ہے ہمیشہ رہنے والی(21) ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں ابد تک، بے شک اللہ،اسی کے پاس ہے اجر بہت بڑا(22)
[19] جب بعض مسلمانوں کے درمیان یا بعض مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان اس امر میں اختلاف واقع ہوگیا کہ مسجد حرام کی تعمیر، اس کے اندر نماز پڑھنا، اس میں عبادت کرنا اور حاجیوں کو پانی پلانا افضل ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا؟ تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ان دونوں کے درمیان بہت تفاوت ہے، چنانچہ فرمایا ﴿ اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَآجِّ ﴾ ’’کیا کر دیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے کو‘‘ یعنی ان کو آب زم زم پلانا جیسا کہ معروف ہے جب پلانے کا ذکر مطلق کیا جائے تو اس سے مراد آب زم زم پلانا ہی ہوتا ہے ﴿ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ١ؕ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’اور مسجد حرام کے بسانے کو۔ اس شخص کے برابر جو ایمان لایا اللہ اور یوم آخرت پر اور لڑا اللہ کی راہ میں ، یہ برابر نہیں ہیں اللہ کے نزدیک۔‘‘پس جہاد اور ایمان باللہ حاجیوں کو آب زمزم پلانے اور مسجد حرام کی تعمیر سے کئی درجے افضل ہیں کیونکہ ایمان دین کی اساس ہے اور اسی کے ساتھ اعمال قابل قبول ہوتے ہیں اور خصائل کا تزکیہ ہوتا ہے۔رہا جہاد فی سبیل اللہ تو وہ دین کی کوہان ہے جہاد ہی کے ذریعے سے دین اسلام کی حفاظت ہوتی ہے اور اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ جہاد ہی کے ذریعے سے حق کی مدد کی جاتی ہے اور باطل بے یارومددگار ہوتا ہے۔رہا مسجد حرام کو آباد کرنا اور حاجیوں کو آب زمزم پلانا، یہ اگرچہ نیک اعمال ہیں مگر ان کی قبولیت ایمان باللہ پر موقوف ہے اور ان اعمال میں وہ مصالح نہیں ہیں جو ایمان باللہ اور جہاد میں ہیں ۔ اسی لیے فرمایا: یہ اللہ کے ہاں برابر نہیں ۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ہی ظلم ہے جو بھلائی کی کسی چیز کو بھی قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ بلکہ برائی کے سوا کوئی چیز ان کے لائق نہیں ۔
[20] پھر نہایت صراحت کے ساتھ اہل ایمان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِيۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ ﴾ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا اپنے مالوں کے ساتھ‘‘ یعنی اپنا مال جہاد میں اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کو جہاد کا سامان مہیا کرنے میں خرچ کرتے ہیں ۔ ﴿ وَاَنۡفُسِهِمۡ ﴾ ’’اور اپنی جانوں کے ساتھ‘‘ اور خود جہاد کے لیے نکلتے ہیں ﴿ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ١ؕ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفَآىِٕزُوۡنَ۠﴾ ’’ان کے لیے بڑا درجہ ہے اللہ کے ہاں اور یہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے‘‘ یعنی کوئی شخص اپنا مطلوب حاصل کر سکتا ہے نہ کسی ڈر سے نجات پا سکتا ہے سوائے اس کے جو ان کی صفات سے متصف ہوتا ہے اور ان کے اخلاق کو اپناتا ہے۔
[21]﴿ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ ﴾ ’’ان کو ان کا رب بشارت دیتا ہے‘‘ اپنی طرف سے رحم و کرم، ان پر لطف و احسان اور ان سے اعتناء اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ﴿ بِرَحۡمَةٍ مِّؔنۡهُ ﴾ ’’اپنی طرف سے رحمت کی‘‘ جس کے ذریعے سے وہ ان سے برائیوں کو دور کرتا اور ہر طرح کی بھلائی ان تک پہنچاتا ہے۔ ﴿وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اپنی رضامندی کی‘‘ جو جنت میں سب سے بڑی اور نہایت جلیل القدر نعمت ہو گی۔ پس وہاں اللہ تعالیٰ اہل جنت کے سامنے اپنی رضامندی کا اعلان فرمائے گا اور پھر کبھی ان پر ناراض نہیں ہو گا۔ ﴿ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ﴾ ’’اور باغوں کی جن میں ان کو آرام ہے ہمیشہ کا‘‘ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی ہر قسم کی نعمتیں موجود ہوں گی جن کی دل خواہش کریں گے اور جن سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی جن کے اوصاف اور مقدار کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جو یہ نعمتیں عطا کرے گا۔ ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہدین کے لیے جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ اگر تمام مخلوق ایک درجہ میں جمع ہو جائے تو اس ایک درجہ میں سما جائے۔
[22]﴿ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا﴾ ’’اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ وہ وہاں سے منتقل ہوں گے، نہ وہاں سے نکلنا چاہیں گے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ کے پاس ہے بڑا اجر‘‘ اجر کی کثرت اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوئی بعید نہیں اور نہ اس اجر کا بڑا اور اچھا ہونا اس ہستی کے بارے میں کوئی تعجب خیز ہے جو کسی چیز سے جب کہتی ہے ’’ہو جا‘‘! تو وہ ہو جاتی ہے۔
9:23–24Страница 190
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَتَّخِذُوٓاْ ءَابَآءَكُمۡ وَإِخۡوَٰنَكُمۡ أَوۡلِيَآءَ إِنِ ٱسۡتَحَبُّواْ ٱلۡكُفۡرَ عَلَى ٱلۡإِيمَٰنِۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمۡ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ ٢٣
О те, которые уверовали! Не берите своих отцов и братьев себе в помощники и друзья, если они предпочли вере неверие. А те из вас, которые берут их себе в помощники и друзья, являются беззаконниками.
قُلۡ إِن كَانَ ءَابَآؤُكُمۡ وَأَبۡنَآؤُكُمۡ وَإِخۡوَٰنُكُمۡ وَأَزۡوَٰجُكُمۡ وَعَشِيرَتُكُمۡ وَأَمۡوَٰلٌ ٱقۡتَرَفۡتُمُوهَا وَتِجَٰرَةٞ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا وَمَسَٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَآ أَحَبَّ إِلَيۡكُم مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَجِهَادٖ فِي سَبِيلِهِۦ فَتَرَبَّصُواْ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ ٱللَّهُ بِأَمۡرِهِۦۗ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلۡفَٰسِقِينَ ٢٤
Скажи: «Если ваши отцы, ваши сыновья, ваши братья, ваши супруги, ваши семьи, приобретенное вами имущество, торговля, застоя в которой вы опасаетесь, и жилища, которые вы облюбовали, милее вам, чем Аллах, Его Посланник и борьба на Его пути, то ждите, пока Аллах не придет со Своим велением. Аллах не наставляет на прямой путь нечестивых людей».
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ اپنے باپوں کو اور اپنے بھائیوں کو دوست، اگر وہ پسند کریں کفر کو ایمان پراور جو دوستی رکھے گا ان سے تم میں سے تو یہی لوگ ہیں ظالم(23) کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارا قبیلہ کنبہ اور وہ مال جو کمائے تم نے اور وہ تجارت کہ ڈرتے ہو تم اس کے مندے پڑ جانے سے اور وہ گھر کہ پسند کرتے ہو تم انھیں، زیادہ محبوب تمھیں، اللہ سے اوراس کے رسول سے اور جہاد کرنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو تم، یہاں تک کہ لائے اللہ اپنا حکم اور اللہ نہیں ہدایت دیتا ان لوگوں کو جو نافرمانی کرنے ولے ہیں(24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے۔ ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ﴾ ’’اے مومنو!‘‘ ایمان کے تقاضوں کے مطابق عمل کرو۔ جو ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اس کے ساتھ موالات رکھو، جو ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ان سے عداوت رکھو اور ﴿ لَا تَتَّؔخِذُوۡۤا اٰبَآءَكُمۡ وَاِخۡوَانَؔكُمۡ اَوۡلِيَآءَؔ ﴾ ’’نہ بناؤ تم اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست‘‘ جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ تمھارے قریب ہیں ۔ اور دوسرے لوگوں کے بارے میں تو زیادہ اولیٰ ہے کہ تم ان کو دوست نہ بناؤ۔ ﴿اِنِ اسۡتَحَبُّوا الۡكُفؔۡرَ عَلَى الۡاِيۡمَانِ ﴾ ’’اگر وہ کفر کو پسند کریں ایمان کے مقابلے میں ‘‘ یعنی اگر وہ برضا و رغبت اور محبت سے ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ ﴿ وَ مَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّؔنۡكُمۡ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَؔ ﴾ ’’اور جو بھی دوستی کرے گا ان سے تم میں سے، پس وہی لوگ ہیں ظالم‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کی اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کو اپنا دوست بنایا، چونکہ ولایت اور دوستی کی اساس محبت اور نصرت ہے اور ان کا کفار کو دوست بنانا، کفار کی اطاعت اور ان کی محبت کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت و محبت پر مقدم رکھنے کا موجب ہے۔
[24] بنابریں اللہ تعالیٰ نے اس سبب کا ذکر فرمایا ہے جو اس کا موجب ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی محبت۔ اس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہر چیز پر مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی محبت کو اس محبت کے تابع کیا ہے۔فرمایا: ﴿ قُلۡ اِنۡ كَانَ اٰبَآؤُكُمۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے! اگر ہیں تمھارے باپ‘‘ اسی طرح یہ حکم ماؤں کے بارے میں بھی ہے ﴿ وَاَبۡنَآؤُكُمۡ وَاِخۡوَانُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھارے بیٹے اور بھائی‘‘ یعنی نسبی اور خاندانی اعتبار سے۔ ﴿ وَاَزۡوَاجُكُمۡ وَعَشِيۡرَتُكُمۡ ﴾ ’’اور تمھاری بیویاں اور دیگر عمومی رشتہ دار‘‘ ﴿ وَاَمۡوَالُ اِ۟ اقۡتَرَفۡتُمُوۡهَا ﴾ ’’اور وہ مال جو تم کماتے ہو‘‘ جس کے حصول میں مشقت برداشت کرتے ہو۔ کمائے ہوئے مال کا خاص طور پر اس لیے ذکر کیا ہے کیونکہ یہ اصحاب اموال کے نزدیک مرغوب ترین مال ہوتا ہے اور انھیں اس مال کی نسبت جو انھیں بغیر کسی محنت اور مشقت کے حاصل ہوتا ہے، زیادہ محبوب و مرغوب ہوتا ہے۔ ﴿ وَتِجَارَةٌ تَخۡشَوۡنَ كَسَادَهَا ﴾ ’’اور وہ سوداگری جس کے مندا ہونے سے تم ڈرتے ہو‘‘ یعنی سامان کے ارزاں ہونے اور اس میں نقصان واقع ہونے سے ڈرتے ہو۔ اس میں تجارت اور کاروبار کی تمام اقسام شامل ہیں ، مثلاً: ہر قسم کا سامان تجارت، مال کی قیمتیں ، برتن، اسلحہ، اشیائے استعمال، غلہ جات، کھیتیاں اور مویشی وغیرہ سب اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ ﴿ وَمَسٰكِنُ تَرۡضَوۡنَهَاۤ ﴾ ’’اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو‘‘ ان کی خوبصورتی، سجاوٹ اور ان کا تمھاری خواہشات اور پسند کے مطابق ہونے کی وجہ سے۔ ﴿ اَحَبَّ اِلَيۡكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَجِهَادٍ فِيۡ سَبِيۡلِهٖ ﴾ ’’اگر یہ تمام چیزیں ، تمھیں اللہ اور اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘ تو تم فاسق و فاجر اور ظالم ہو۔ ﴿ فَتَرَبَّصُوۡا ﴾ ’’تو انتظار کرو۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہونے کا انتظار کرو ﴿ حَتّٰى يَاۡتِيَ اللّٰهُ بِاَمۡرِهٖ﴾ ’’یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے‘‘ جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ ﴿ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ ﴾ ’’اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے دائرۂ اطاعت سے باہر نکلنے والے اور اللہ تعالیٰ کی محبت پر مذکورہ بالا اشیا کی محبت کو ترجیح دینے والے کو اللہ تعالیٰ ہدایت سے نہیں نوازتا۔یہ آیت کریمہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کی محبت فرض ہے اور دیگر تمام اشیا کی محبت پر مقدم ہے۔ نیز آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے نہایت سخت وعید اور شدید ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے جسے یہ مذکورہ اشیاء اللہ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے دو امور پیش ہوں ان میں ایک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کو محبوب ہو مگر اس میں اس کے نفس کی چاہت کا کوئی پہلو نہ ہو اور دوسرے معاملے کو نفس پسند کرتا ہو مگر اس کو اختیار کرنے سے اس چیز سے محروم ہو جاتا ہو جسے اللہ اور اس کا رسول پسند کرتے ہیں یا اس چیز میں کمی واقع ہو جاتی ہو... اس صورت میں اگر وہ اس چیز کو اس امر پر ترجیح دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ظالم اور اس امر کا تارک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں پر اپنے احسان کا ذکر فرماتا ہے کہ اس نے بہت سی لڑائیوں اور جنگی معرکوں میں انھیں اپنی نصرت سے نوازا حتیٰ کہ ’’حنین‘‘ کی جنگ میں جبکہ وہ انتہائی شدید صورت حال سے دوچار تھے، وہ دیکھ رہے تھے کہ لوگ ان کو چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں اور زمین اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو رہی ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہﷺ کو خبر پہنچی کہ بنو ہوازن آپ پر حملہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں ، چنانچہ آپ صحابہ کرامy اور فتح مکہ کے بعد مسلمان ہونے والے قریش کو ساتھ لے کر مقابلے کے لیے نکلے اس وقت ان کی تعداد بارہ ہزار اور مشرکین کی تعداد چار ہزار تھی۔ کچھ مسلمانوں نے اس کثرت تعداد پر اتراتے ہوئے کہا ’’آج ہم پر کوئی غالب نہیں آسکے گا۔‘‘جب بنو ہوازن اور مسلمانوں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو انھوں نے مسلمانوں پر یک بارگی حملہ کیا جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور شکست کھا کر بھاگ اٹھے اور انھوں نے پلٹ کر ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھا۔ رسول اللہﷺ کے ساتھ سو کے لگ بھگ آدمی رہ گئے تھے جو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ رسول اللہﷺ کے ساتھ ڈٹے مشرکین سے لڑ رہے تھے۔ رسول اللہﷺ اپنے خچر کو ایڑ لگا کر مشرکین کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور فرما رہے تھے۔ ( اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِالْمُطَّلِب) ’’میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں ۔‘‘جب آپ نے مسلمانوں کی یہ ہزیمت دیکھی تو آپ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو، جو کہ بلند آواز شخص تھے، حکم دیا کہ وہ انصار اور باقی مسلمانوں کو آواز دیں ، چنانچہ انھوں نے پکار کر کہا :’’اے اصحاب بیعت رضوان! اے اصحاب سورہ بقرہ‘‘!جب بھاگنے والوں نے حضرت عباسt کی آواز سنی تو وہ یک بارگی واپس پلٹے اور مشرکین پر ٹوٹ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو زبردست شکست سے دوچار کیا۔ میدان جنگ مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ ان کے اموال اور عورتیں مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں ۔
9:25–27Страница 190
لَقَدۡ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٖ وَيَوۡمَ حُنَيۡنٍ إِذۡ أَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنكُمۡ شَيۡـٔٗا وَضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ ٱلۡأَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّيۡتُم مُّدۡبِرِينَ ٢٥
Аллах одарил вас победой во многих местах и в день Хунейна, когда вы радовались своей многочисленности, которая ничем вам не помогла. Земля стала тесной для вас, несмотря на ее просторы, и вы повернули вспять.
ثُمَّ أَنزَلَ ٱللَّهُ سَكِينَتَهُۥ عَلَىٰ رَسُولِهِۦ وَعَلَى ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُودٗا لَّمۡ تَرَوۡهَا وَعَذَّبَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ ٢٦
Потом Аллах ниспослал спокойствие Своему Посланнику и верующим, ниспослал воинов, которых вы не видите, и подверг мучениям тех, кто не верует. Таково возмездие неверующим!
ثُمَّ يَتُوبُ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ عَلَىٰ مَن يَشَآءُۗ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٢٧
А после этого Аллах примет покаяния тех, кого пожелает, ибо Аллах - Прощающий, Милосердный.
البتہ تحقیق مدد کی تمھاری اللہ نے بہت سی جگہوں میں اوردن حنین کے(بھی) جبکہ خوش فہمی میں ڈال دیا تھا تم کو تمھاری کثرت نے، پس نہ کام آئی وہ تمھارے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود فراخی کے ، پھر لوٹے تم پیٹھ پھیرتے ہوئے(25) پھر نازل کی اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنوں پر اورنازل کیے اس نے ایسے لشکر کہ نہیں دیکھا تم نے ان کو اور عذاب دیا ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیااور یہی سزا ہے کافروں کی(26) پھر توجہ فرمائے گا اللہ، بعد اس کے، جس پر چاہے گا اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے(27)
[25] اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدۡ نَصَرَؔكُمُ اللّٰهُ فِيۡ مَوَاطِنَ كَثِيۡرَةٍ١ۙ وَّيَوۡمَ حُنَيۡنٍ ﴾ ’’یقینا اللہ نے تمھاری مدد فرمائی بہت سی جگہوں میں اور حنین کے دن‘‘ حنین، مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان وہ مقام ہے جہاں حنین کا معرکہ ہوا تھا۔ ﴿ اِذۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ كَثۡرَتُكُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡكُمۡ شَيۡـًٔـا ﴾ ’’جب تمھیں تمھاری کثرت نے گھمنڈ میں مبتلا کر دیا پس اس نے تمھیں کچھ فائدہ نہیں دیا‘‘ تمھاری کثرت نے تمھیں تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ ﴿ وَّضَاقَتۡ عَلَيۡكُمُ الۡاَرۡضُ ﴾ ’’اورزمین تم پر تنگ ہوگئی۔‘‘ یعنی جب تمھیں شکست ہوئی اور تم پر غم و ہموم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تم پر زمین تنگ ہوگئی۔ ﴿ بِمَا رَحُبَتۡ ﴾ ’’اپنی کشادگی اور وسعت کے باوجود‘‘ ﴿ ثُمَّؔ وَلَّيۡتُمۡ مُّدۡبِرِيۡنَ ﴾ ’’پھر تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔‘‘
[26]﴿ ثُمَّؔ اَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَتَهٗ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَعَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی‘‘ سکینت اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو ہلا دینے والے تباہ کن واقعات اور زلزلوں کے وقت اللہ تعالیٰ دل میں پیدا کرتا ہے جو دل کو سکون عطا کر کے مطمئن کرتی ہے۔ یہ سکون قلب بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے﴿ وَاَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡهَا ﴾ ’’اور ایسے لشکر اتارے جو تمھیں نظر نہیں آتے تھے‘‘ وہ فرشتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حنین کی جنگ میں مسلمانوں کی مدد کے لیے نازل فرمایا جو مسلمانوں کو ثابت قدم رکھتے تھے اور انھیں فتح و نصرت کی خوشخبری دیتے تھے۔ ﴿ وَعَذَّبَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’اور کافروں کو عذاب دیا‘‘ اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست، قتل، ان کے اموال و اولاد اور ان کی عورتوں پر مسلمانوں کے قبضہ کے ذریعے سے عذاب کا مزا چکھا دیا۔ ﴿ وَذٰلِكَ جَزَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور یہ ہے سزا کافروں کی‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں عذاب دے گا اور آخرت میں انھیں سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔
[27]﴿ ثُمَّؔ يَتُوۡبُ اللّٰهُ مِنۢۡ بَعۡدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ﴾ ’’پھر اللہ اس کے بعد جس پر چاہتا ہے، رجوع فرماتا ہے‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ نے، ہوازن کے کفار میں سے جن کے ساتھ جنگ ہوئی، اکثر کی توبہ قبول فرما لی اور وہ اسلام قبول کر کے تائب ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیے۔ ﴿ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ﴾ ’’اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ بے انتہا مغفرت اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے، وہ توبہ کرنے والے کے بڑے بڑے گناہ بخش دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ اور اطاعت کی توفیق عطا کر کے، ان کے جرائم سے درگزر کر کے اور ان کی توبہ قبول کر کے ان پر رحم کرتا ہے۔ پس کسی نے کتنے ہی بڑے بڑے گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کیوں نہ کیا ہو، اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش سے ہرگز مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
9:28Страница 191
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡمُشۡرِكُونَ نَجَسٞ فَلَا يَقۡرَبُواْ ٱلۡمَسۡجِدَ ٱلۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هَٰذَاۚ وَإِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةٗ فَسَوۡفَ يُغۡنِيكُمُ ٱللَّهُ مِن فَضۡلِهِۦٓ إِن شَآءَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٞ ٢٨
О те, которые уверовали! Воистину, многобожники являются нечистыми. И пусть они после этого их года не приближаются к Заповедной мечети. Если же вы боитесь бедности, то Аллах обеспечит вас богатством из Своей милости, если пожелает. Воистину, Аллах - Знающий, Мудрый.
اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بلاشبہ مشرکین تو ناپاک ہیں، پس نہ قریب جائیں وہ مسجد حرام کے، بعد اپنے اس سال کےاوراگر تم خوف کرتے ہو مفلسی سے تو عنقریب غنی کردے گا تم کو اللہ اپنے فضل سے اگر اس نے چاہا، یقینا اللہ خوب جاننے والا بڑا حکمت والا ہے(28)
[28]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’اے ایمان والو! بے شک مشرکین‘‘ یعنی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور اس کے ساتھ غیروں کی عبادت کی ﴿ نَجَسٌ ﴾ ’’ناپاک ہیں ۔‘‘ یعنی اپنے عقائد و اعمال میں ناپاک ہیں ۔اور اس شخص سے بڑھ کر ناپاک اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے ہیں جو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان اور نہ وہ کوئی کام آسکتے ہیں اور ان لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے، اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنے، باطل کی مدد کرنے، حق کو ٹھکرانے اور زمین میں اصلاح کی بجائے فساد کے لیے کام کرنے جیسے افعال پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ اس لیے تم پر فرض ہے کہ تم سب سے زیادہ شرف کے حامل اور سب سے زیادہ پاک گھر سے مشرکین کو پاک رکھو۔ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾’’پس یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ جائیں ‘‘ اور یہ ۹ ھ کا سال تھا جب حضرت ابوبکر صدیقt نے لوگوں کے ساتھ حج کیا تھا۔ رسول اللہﷺ نے اپنے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالبt کو روانہ فرمایا کہ حج کے روز ’’براء ت‘‘ کا اعلان کر دیں ، چنانچہ انھوں نے اعلان کیا کہ سال رواں کے بعد کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آئے گا اور نہ کوئی شخص عریاں ہو کر بیت اللہ کا طواف کرے گا۔یہاں نجاست سے مراد بدن کی نجاست نہیں ۔ کیونکہ کافر کا بدن بھی دوسرے لوگوں کے بدن کی طرح پاک ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کتابیہ عورت کے ساتھ مباشرت جائز قرار دی ہے مگر اس کا پسینہ وغیرہ لگ جانے کی صورت میں اسے دھونے کا حکم نہیں دیا۔ مسلمان ہمیشہ سے کفار کے ساتھ بدنی اختلاط رکھتے چلے آئے ہیں مگر ان سے یہ بات منقول نہیں کہ انھوں نے کفار کو اس طرح ناپاک سمجھا ہو جس طرح وہ گندگی کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ درحقیقت اس سے مراد جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے..... معنوی نجاست، یعنی شرک ہے۔﴿ وَاِنۡ خِفۡتُمۡ عَيۡلَةً ﴾ ’’(اے مسلمانو!) اگر تمھیں محتاجی کا خوف ہو۔‘‘ یعنی مشرکین کو مسجد حرام کے قریب جانے سے روک دینے کی وجہ سے تمھارے اور ان کے درمیان دنیاوی امور میں قطع تعلق کی بنا پر فقر و احتیاج کے لاحق ہونے کا ڈر ہو۔ ﴿ فَسَوۡفَ يُغۡنِيۡكُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖۤ ﴾ ’’تو اللہ اپنے فضل سے تمھیں غنی کر دے گا‘‘ رزق کا ایک ہی دروازہ اور ایک ہی جگہ تو نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس اگر رزق کا ایک دروازہ بند ہو جاتا ہے تو بے شمار دوسرے دروازے کھل جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بے انتہا فضل و کرم اور بہت بڑے جود و سخا کا مالک ہے۔ خاص طور پر اس شخص کے لیے جو محض اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی چیز کو ترک کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا کیونکہ اس نے اپنے فضل و کرم سے مسلمانوں کو غنی کر دیا۔ انھیں اس قدر کشادہ رزق عطا کیا کہ وہ بڑے بڑے مال داروں اور بادشاہوں میں شمار ہونے لگے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ﴿ اِنۡ شَآءَ﴾ ’’اگر اس نے چاہا‘‘ اللہ تعالیٰ کا غنی کرنا اس کی مشیت کے ساتھ معلق ہے کیونکہ دنیا کے اندر غنا کا حاصل ہونا لوازم ایمان میں شمار ہوتا ہے، نہ اللہ تعالیٰ کی محبت پر دلالت کرتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی مشیت کے ساتھ معلق کیا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ دنیا، ہر ایک کو دیتا ہے، اپنے محبوب بندے کو بھی اور اس کو بھی جس سے وہ محبت نہیں کرتا مگر وہ ایمان اور دین صرف اسے عطا کرتا ہے جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔ ﴿ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ﴾ ’’بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘ اس کا علم بڑا وسیع ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون غنا عطا کیے جانے کے لائق ہے اور کون ہے جو اس کے لائق نہیں اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے۔آیت کریمہ ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ دلالت کرتی ہے کہ مشرکین مکہ بیت اللہ کی وجہ سے ریاست اور بادشاہی کے مالک تھے پھر فتح مکہ کے بعد حکومت اور اقتدار رسول اللہﷺ اور مومنین کے پاس آگیا اور مشرکین مکہ بیت اللہ اور مکہ مکرمہ میں مقیم رہے، پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جب نبی اکرمﷺ نے وفات پائی تو (وفات کے وقت) آپ نے حکم دیا کہ مشرکین کو سرزمین حجاز سے نکال دیا جائے۔ حجاز میں بیک وقت دو دین نہیں رہ سکتے.... اور یہ اس وجہ سے تاکہ ہر کافر کو مسجد حرام سے دور رکھا جائے۔ پس ہر کافر اللہ تعالیٰ کے حکم ﴿ فَلَا يَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِهِمۡ هٰؔذَا﴾ میں داخل ہے۔
9:29Страница 191
قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ لَا يُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَلَا بِٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ ٱلۡحَقِّ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ حَتَّىٰ يُعۡطُواْ ٱلۡجِزۡيَةَ عَن يَدٖ وَهُمۡ صَٰغِرُونَ ٢٩
Сражайтесь с теми из людей Писания, которые не веруют ни в Аллаха, ни в Последний день, которые не считают запретным то, что запретили Аллах и Его Посланник, которые не исповедуют истинную религию, пока они не станут собственноручно платить дань, оставаясь униженными.
لڑو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر اورنہ یوم آخرت پر اورنہیں حرام سمجھتے اس چیز کو جس کو حرام ٹھہرایا اللہ نے اوراس کے رسول نے اورنہیں قبول کرتے دین حق کو، ان لوگوں میں سے جنھیں دی گئی کتاب، یہاں تک کہ دیں وہ جزیہ اپنے ہاتھ سے، اس حال میں کہ وہ ذلیل ہوں(29)
[29] اس آیت کریمہ میں یہود و نصاریٰ کے ساتھ قتال کا حکم ہے۔ ﴿ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَلَا بِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ ﴾ ’’جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں لاتے‘‘ ایسا ایمان جس کی تصدیق ان کے افعال و اعمال کرتے ہوں ۔ ﴿ وَلَا يُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ﴾ ’’اور نہ حرام سمجھتے ہیں ان چیزوں کو جن کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے‘‘ یعنی محرمات کی تحریم میں اللہ تعالیٰ کی شریعت کی اتباع نہیں کرتے۔ ﴿ وَلَا يَدِيۡنُوۡنَ دِيۡنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور نہ وہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں ۔‘‘اگرچہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک دین رکھتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک باطل دین پر عمل پیرا ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دین میں تغیر و تبدل اور تحریف واقع ہوگئی ہے اور یہ (تحریف شدہ) وہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع نہیں کیا یا وہ اس دین پر عمل پیرا ہیں جو منسوخ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع فرمایا تھا، پھر محمد مصطفیﷺ کی شریعت کے ذریعے سے منسوخ کر دیا۔ پس اس کے منسوخ ہونے کے بعد اس کے ساتھ تمسک کرنا جائز نہیں ۔پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب دی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو اپنے باطل نظریات کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ اس سے لوگوں کو اس سبب سے بہت نقصان پہنچتا ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور اس قتال و جہاد کی غایت و انتہا یہ مقرر کی ہے۔ ﴿ حَتّٰى يُعۡطُوا الۡجِزۡيَةَ ﴾ ’’یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں ‘‘ یعنی وہ مال ادا کریں جو ان کے خلاف مسلمانوں کے قتال ترک کرنے اور مسلمانوں کے درمیان اپنے مال و متاع سمیت پر امن رہنے کا عوض ہے جو ہر سال ہر شخص سے اس کے حسب حال خواہ وہ امیر ہے یا غریب، وصول کیا جائے گا۔ جیسا کہ امیر المومنین حضرت عمرt اور دیگر سربراہان نے کیا تھا۔ ﴿عَنۡ يَّدٍ ﴾ ’’اپنے ہاتھوں سے‘‘ یعنی مطیع ہو کر اور اقتدار چھوڑ کر یہ مالی عوض ادا کریں اور اپنے ہاتھ سے ادا کریں اور اس کی ادائیگی کے لیے خادم وغیرہ نہ بھیجیں بلکہ یہ جزیہ صرف انھی کے ہاتھ سے وصول کیا جائے۔ ﴿ وَّهُمۡ صٰغِرُوۡنَ﴾ اور وہ زیردست اور مطیع بن کر رہیں ۔جب ان کا یہ حال ہو اور وہ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرنا، مسلمانوں کے غلبہ اور ان کے احکامات کے تحت آنا قبول کر لیں ، حالات ان کے شر اور فتنہ سے مامون ہوں ۔ وہ مسلمانوں کی ان شرائط کو تسلیم کر لیں جو ان پر عائد کی گئی ہوں جن سے ان کے اقتدار اور تکبر کی نفی ہوتی ہو اور جو ان کی زیردستی کی موجب ہوں .... تو مسلمانوں کے امام یا اس کے نائب پر واجب ہے کہ وہ ان کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ اگر وہ معاہدے کو پورا نہ کریں اور زیردست رہ کر جزیہ ادا نہ کریں تو ان کو امان دینا جائز نہیں بلکہ ان کے ساتھ قتال کیا جائے یہاں تک کہ اطاعت کر لیں ۔اس آیت کریمہ سے جمہور اہل علم استدلال کرتے ہیں کہ جزیہ صرف اہل کتاب سے لیا جائے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صرف اہل کتاب سے جزیہ وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ رہے اہل کتاب کے علاوہ دیگر کفار تو ان کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا ذکر ہے جب تک کہ وہ اسلام قبول نہ کر لیں ۔ جزیہ ادا کرنے اور اس کے عوض مسلمانوں کے شہروں میں رہنے کے احکام میں مجوس بھی شامل ہیں ۔ رسول اللہﷺ نے علاقہ ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا، پھر امیر المومنین حضرت عمر فاروقt نے ایران کے مجوسیوں سے جزیہ وصول کیا۔بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب تمام کفار سے جزیہ قبول کیا جائے گا کیونکہ یہ آیت کریمہ مشرکین عرب کے ساتھ قتال سے فراغت کے بعد اور اہل کتاب وغیرہ کے ساتھ قتال شروع ہونے پر نازل ہوئی ہے۔ تب یہ قید واقعہ کی خبر ہے اس کا مفہوم نہیں ۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مجوسیوں سے جزیہ لیا گیا ہے حالانکہ وہ اہل کتاب میں شمار نہیں ہوتے۔ نیز صحابہ کرامy اور بعد میں آنے والے مسلمانوں سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ جس قوم کے خلاف جنگ کرتے انھیں سب سے پہلے تین میں سے ایک چیز قبول کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ (۱) اسلام قبول کرنا۔ (۲) جزیہ ادا کرنا۔ (۳) یا تلوار کا فیصلہ قبول کرنا... اور اس میں انھوں نے اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں رکھا۔
Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии