Ас-СаадиЮсуф · 12:93–109

Ас-Саади · Тафсир · на урду

Юсуф 12:93–109

12:93–98Страница 246

ٱذۡهَبُواْ بِقَمِيصِي هَٰذَا فَأَلۡقُوهُ عَلَىٰ وَجۡهِ أَبِي يَأۡتِ بَصِيرٗا وَأۡتُونِي بِأَهۡلِكُمۡ أَجۡمَعِينَ ٩٣

Ступайте с моей рубахой и накиньте ее на лицо моего отца, и тогда он прозреет, а потом привезите ко мне всю свою семью».

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ ٩٤

Как только караван покинул Египет, их отец сказал: «Воистину, я чувствую запах Йусуфа (Иосифа), если только вы не считаете меня выжившим из ума стариком».

قَالُواْ تَٱللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَٰلِكَ ٱلۡقَدِيمِ ٩٥

Они сказали: «Клянемся Аллахом, ты пребываешь в своем старом заблуждении».

فَلَمَّآ أَن جَآءَ ٱلۡبَشِيرُ أَلۡقَىٰهُ عَلَىٰ وَجۡهِهِۦ فَٱرۡتَدَّ بَصِيرٗاۖ قَالَ أَلَمۡ أَقُل لَّكُمۡ إِنِّيٓ أَعۡلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ ٩٦

Когда же прибыл добрый вестник, накинул рубаху на его лицо и тот прозрел, он сказал: «Разве я не говорил вам, что мне известно от Аллаха то, чего вы не знаете?».

قَالُواْ يَٰٓأَبَانَا ٱسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوبَنَآ إِنَّا كُنَّا خَٰطِـِٔينَ ٩٧

Они сказали: «Отец наш! Попроси прощения нашим грехам. Воистину, мы были грешниками».

قَالَ سَوۡفَ أَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ ٩٨

Он сказал: «Я попрошу моего Господа простить вас, ведь Он - Прощающий, Милосердный».

لے جاؤ تم قمیص میری یہ پس ڈال دو اسے اوپر چہرے میرے باپ کے، ہو جائے گا وہ دیکھنے والا اور لے آؤ تم میرے پاس اپنے اہل و عیال کو سب کو (93) اور جب نکلا قافلہ (مصر سے) تو کہا ان کے باپ نے، بے شک میں پاتا ہوں مہک یوسف کی، اگر نہ بہکا ہوا کہو تم مجھے (94) انھوں نے کہا! قسم اللہ کی، بے شک تو البتہ اپنی پرانی غلطی میں ہے (95) پس جب آیا خوشخبری دینے والا تو ڈالی اس نے وہ قمیص اوپر اس کے چہرے کے تو پھر سے ہو گیا وہ دیکھنے والا، یعقوب نے کہا، کیا نہیں کہا تھا میں نے تم سے بے شک میں جانتا ہوں اللہ کی طرف سے وہ جو نہیں جانتے تم (96) انھوں نے کہا، اے ہمارے باپ! مغفرت طلب کر ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بے شک ہم ہی تھے خطا کار (97) اس نے کہا، عنقریب میں مغفرت طلب کرو ں گا تمھارے لیے اپنے رب سے بے شک وہی غفور ہے رحیم ہے (98)

[93] یوسفu نے اپنے بھائیوں سے کہا: ﴿ اِذۡهَبُوۡا بِقَمِيۡصِيۡ هٰؔذَا فَاَلۡقُوۡهُ عَلٰى وَجۡهِ اَبِيۡ يَاۡتِ بَصِيۡرًا﴾ ’’تم میری یہ قمیص لے جاؤ اور اسے میرے باپ کے چہرے پر ڈال دینا، وہ آنکھوں سے دیکھتا ہوا آئے گا‘‘ کیونکہ ہر بیماری کا علاج اس کی ضد کے ذریعے سے کیا جاتا ہے۔ اس قمیص میں چونکہ یوسفu کی خوشبو کا اثر تھا جس کی جدائی نے اپنے باپ کے دل کو اس قدر حزن و غم سے لبریز کر دیا تھا… جسے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے… حضرت یوسفu چاہتے تھے کہ یہ قمیص ان کے باپ کو سونگھائی جائے تو ان کی روح ان کا نفس اور ان کی بصارت لوٹ آئے گی۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتیں اور اسرار پنہاں ہیں جن کو بندے نہیں جانتے مگر اس معاملے پر یوسفu کو مطلع کیا گیا۔ ﴿ وَاۡتُوۡنِيۡ بِاَهۡلِكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور میرے پاس اپنا سارا گھر لے آؤ‘‘ یعنی اپنے بال بچوں ، قبیلے والوں اور دیگر تمام متعلقہ لوگوں کو میرے پاس لاؤ تاکہ ملاقات کی تکمیل ہو اور تمھاری معاشی بدحالی اور رزق کی تنگی دور ہو۔

[94]﴿ وَلَمَّا فَصَلَتِ الۡعِيۡرُ ﴾ ’’اور جب قافلہ جدا ہوا‘‘ یعنی مصر سے فلسطین کی طرف روانہ ہوا تو یعقوبu نے قمیص کی خوشبو سونگھ لی۔ کہنے لگے: ﴿ اِنِّيۡ لَاَجِدُ رِيۡحَ يُوۡسُفَ لَوۡلَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ﴾ ’’میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں ، اگر تم میرا تمسخر نہ اڑاؤ‘‘ اور یہ نہ سمجھو کہ بات مجھ سے غیر شعوری طور پر صادر ہوئی ہے کیونکہ یعقوبu نے اس حال میں ان کی طرف سے تعجب کا مظاہرہ ہی دیکھا جو اس قول کا موجب بنا۔

[95] پس وہی کچھ ہوا جو حضرت یعقوبu سمجھتے تھے۔ کہنے لگے: ﴿ قَالُوۡا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِيۡ ضَلٰلِكَ الۡقَدِيۡمِ﴾ ’’اللہ کی قسم آپ تو اسی پرانی غلطی میں ہیں ‘‘ یعنی آپ تو ہمیشہ محبت کے سمندر میں سرگرداں رہیں گے، آپ نہیں جانتے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔

[96]﴿ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِيۡرُ ﴾ ’’پس جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔‘‘ یعنی جب ایلچی حضرت یوسفu، ان کے بھائیوں اور ان کے باپ کے اجتماع کی خوشخبری لے کر آیا ﴿ اَلۡقٰىهُ ﴾ ’’تو ڈال دیا اس کو‘‘ یعنی قمیص کو ﴿ عَلٰى وَجۡهِهٖ فَارۡتَدَّ بَصِيۡرًا﴾ ’’ان کے چہرے پر، جس سے وہ دوبارہ دیکھنے والے ہو گئے‘‘ یعنی یعقوبu اپنی پہلی سی بصارت والی حالت میں آگئے حالانکہ غم و اندوہ کی و جہ سے ان کی آنکھیں سفید ہوگئی تھیں ۔ یعقوبu نے ان لوگوں سے… جو وہاں موجود تھے اور جو ان کی رائے کو جھٹلاتے رہے تھے اور ان پر تعجب کررہے تھے… اللہ تعالیٰ کی نعمت پر خوش ہو کر فاتحانہ انداز میں کہا:﴿ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّـكُمۡ١ۙۚ اِنِّيۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’کیا میں نے تمھیں نہیں کہا تھا کہ میں اللہ سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے‘‘ کیونکہ میں یوسفu کے ملنے کی امید رکھتا تھا اور حزن و غم کے ختم ہونے کا منتظر تھا۔

[97] جب یعقوبu کے بیٹوں نے اپنے گناہ کا اقرار کرتے ہوئے کہا: ﴿ قَالُوۡا يٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِــِٕيۡنَ ﴾ ’’ابا جان! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی بخشش طلب کریں ! بے شک ہم گناہ گار تھے‘‘ کیونکہ ہم نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی بنا پر ہم خطا کار ہیں ۔

[98]﴿ قَالَ ﴾ یعقوبu نے ان کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے جواب دیا: ﴿ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَكُمۡ رَبِّيۡ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ﴾ ’’میں ضرور تمھارے لیے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بلاشبہ وہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ اور مجھے امید ہے کہ وہ تمھیں بخش دے گا، تم پر رحم کرے گا اور تمھیں اپنی رحمت سے ڈھانپ دے گا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب نے ان کے لیے استغفار کو فضیلت والے وقت سحر تک موخر کر دیا تاکہ استغفار کامل ترین اور قبولیت کے قریب ترین ہو۔

12:99–100Страница 247

فَلَمَّا دَخَلُواْ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيۡهِ أَبَوَيۡهِ وَقَالَ ٱدۡخُلُواْ مِصۡرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ ٩٩

Когда они вошли к Йусуфу (Иосифу), он прижал к себе родителей и сказал: «Входите в Египет без опаски, если этого пожелает Аллах».

وَرَفَعَ أَبَوَيۡهِ عَلَى ٱلۡعَرۡشِ وَخَرُّواْ لَهُۥ سُجَّدٗاۖ وَقَالَ يَٰٓأَبَتِ هَٰذَا تَأۡوِيلُ رُءۡيَٰيَ مِن قَبۡلُ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّي حَقّٗاۖ وَقَدۡ أَحۡسَنَ بِيٓ إِذۡ أَخۡرَجَنِي مِنَ ٱلسِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُم مِّنَ ٱلۡبَدۡوِ مِنۢ بَعۡدِ أَن نَّزَغَ ٱلشَّيۡطَٰنُ بَيۡنِي وَبَيۡنَ إِخۡوَتِيٓۚ إِنَّ رَبِّي لَطِيفٞ لِّمَا يَشَآءُۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡحَكِيمُ ١٠٠

Он поднял своих родителей на трон, и они вместе с братьями пали ниц перед ним. Он сказал: «Отец мой! Это - толкование моего давнего сна. Господь мой сделал его явью. Он облагодетельствовал меня, освободив из темницы, и привел вас из пустыни после того, как дьявол посеял вражду между мною и моими братьями. Воистину, мой Господь добр, к кому пожелает. Воистину, Он - Знающий, Мудрый.

پس جب داخل ہوئے وہ اوپر یوسف کے تو اس نے جگہ دی اپنے پاس اپنے ماں باپ کو اور کہا، داخل ہو تم مصر میں اگر چاہا اللہ نے امن سے (99) اور اس نے اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو اوپر تخت کےاورگر پڑے وہ سب واسطے اس کے سجدہ کرتے ہوئےاور یوسف نے کہا، اے میرے باپ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے (دیکھا) تھا، تحقیق کر دیا ہے اسے میرے رب نے سچااور تحقیق احسان کیا اس نے میرے ساتھ جب اس نے نکالا مجھے قید خانے سے اور لے آیا تمھیں (یہاں ) صحرا سے، بعد اس کے کہ اختلاف ڈال دیا تھا شیطان نے درمیان میرے اور درمیان بھائیوں کے، بے شک میرا رب خوب تدبیر کرنے والا ہے واسطے اس کے جو وہ چاہتا ہے، بے شک وہی ہے خوب جاننے والا بڑا حکمت والا(100)

[99]﴿فَلَمَّا ﴾ جب یعقوبu، ان کے بیٹے اور تمام گھر والے تیار ہو کر اپنے ملک فلسطین سے روانہ ہوئے، ان کا مقصد مصر میں حضرت یوسفu کے پاس پہنچ کر وہاں آباد ہونا تھا۔ پس جب وہ مصر پہنچ گئے ﴿دَخَلُوۡا عَلٰى يُوۡسُفَ اٰوٰۤى اِلَيۡهِ اَبَوَيۡهِ ﴾ ’’وہ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے ماں باپ کو اپنے پاس جگہ دی‘‘ یعنی حضرت یوسفu نے اپنے ماں باپ کو اپنے ساتھ بٹھایا ان کو اپنا قرب عطا کیا اور ان کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک اور نہایت تعظیم و تکریم سے پیش آئے۔ ﴿وَقَالَ ﴾ اور اپنے تمام گھر والوں سے کہا: ﴿ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِيۡنَ ﴾ ’’داخل ہو مصر میں ، اگر اللہ نے چاہا، بے خوف ہو کر‘‘ ہر قسم کے خطرناک حالات اور سختیوں سے محفوظ ہو۔ وہ اسی حالت میں مصر میں داخل ہوئے ان سے تمام سختی اور معاشی تنگی دور ہوگئی اور بہجت و سرور حاصل ہوگیا۔

[100]﴿وَرَفَعَ اَبَوَيۡهِ عَلَى الۡعَرۡشِ ﴾ ’’اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر‘‘ یعنی انھیں شاہی تخت اور مقام عزت پر بٹھایا ﴿ وَخَرُّوۡا لَهٗ سُجَّدًا﴾ ’’اور سب اس کے آگے سجدے میں گرپڑے۔‘‘ یعنی یوسفu کے والدین اور ان کے بھائی ان کی تعظیم اور عزت و اکرام کے لیے ان کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ ﴿وَقَالَ﴾ جب یوسفu نے انھیں اس حالت میں دیکھا کہ وہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں تو کہنے لگے: ﴿ يٰۤاَ بَتِ هٰؔذَا تَاۡوِيۡلُ رُءۡيَايَ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’ابا جان! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا‘‘ یعنی جب یوسفu نے خواب میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند انھیں سجدہ کر رہے ہیں ۔ یہ تھی اس خواب کی تعبیر، جو اس مقام پر پہنچ کر پوری ہوئی۔ ﴿ قَدۡ جَعَلَهَا رَبِّيۡ حَقًّا ﴾ ’’میرے رب نے اسے سچ کردیا۔‘‘ یعنی میرے رب نے اس خواب کو حقیقت بنا دکھایا اور اسے خواب پریشان نہ بنایا۔ ﴿ وَقَدۡ اَحۡسَنَ بِيۡۤ ﴾ ’’اور اس نے مجھ پر بڑا احسان کیا‘‘ ﴿ اِذۡ اَخۡرَجَنِيۡ مِنَ السِّجۡنِ وَجَآءَ بِكُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ ﴾ ’’جب اس نے مجھے قید خانے سے نکالا اور تم کو گاؤں سے (یہاں )لے آیا‘‘ یہ یوسفu کی مہربانی اور حسن تخاطب ہے کہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے لیے اتمام عفو کی خاطر اپنی حالت قید کا تو ذکر کیا مگر اندھے کنوئیں میں ان پر جو کچھ گزری، اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ انھوں نے اپنے بھائیوں کے قصور کا ذکر کیا نیز ان کو صحرا سے مصر لانے میں اللہ تعالیٰ کے احسان کا ذکر کیا۔یوسفu نے یہ پیرایہ بھی اختیار نہیں کیا کہ ’’تمھیں بھوک اور بدحالی سے نکال کر یہاں لایا‘‘ نہ یہ کہا ’’اس نے تم پر احسان کیا‘‘ بلکہ کہا ’’اس نے مجھ پر احسان فرمایا‘‘ اور اللہ تعالیٰ کے احسان کو اپنی طرف لوٹایا۔ نہایت بابرکت ہے وہ ذات جو اپنے بندوں میں سے جسے چاہتی ہے اپنی رحمت کے لیے مختص کر لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی طرف سے بے پایاں رحمت سے نوازتا ہے وہ بہت زیادہ نوازشات کرنے والا ہے۔﴿ مِنۢۡ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان جھگڑا ڈال دیا‘‘ اور یہ نہیں کہا: ﴿نَّزَغَ الشَّيۡطٰنُ بَيۡنِيۡ وَبَيۡنَ اِخۡوَتِيۡ﴾ ’’شیطان نے میرے بھائیوں کو بہکا دیا‘‘ بلکہ پیرایہ یہ استعمال کیا گیا گویا گناہ اور جہالت دونوں طرف سے صادر ہوئی… تمام ستائش اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے شیطان کو رسوا کر کے دھتکار دیا اور اس انتہائی تکلیف دہ جدائی کے بعد اس نے ہمیں پھر اکٹھا کر دیا۔ ﴿ اِنَّ رَبِّيۡ لَطِيۡفٌ لِّمَا يَشَآءُ﴾ ’’بے شک میرا رب تدبیر سے کرتا ہے جو چاہتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اپنے کرم اور احسان سے اس طرح نوازتا ہے کہ اسے شعور تک نہیں ہوتا اور بعض ناپسندیدہ امور کے ذریعے سے بلند ترین منازل پر پہنچا دیتا ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ هُوَ الۡعَلِيۡمُ﴾ ’’بے شک وہ جاننے والا۔‘‘ یعنی وہ تمام معاملات کے ظاہر و باطن کو جانتا ہے تو وہ، بندوں کے ضمیر میں نہاں رازوں کو بھی جانتا ہے۔ ﴿ الۡحَكِيۡمُ ﴾وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے اور تمام امور کو ان کے اوقات مقررہ پر وقوع پذیر کرتا ہے۔

12:101Страница 247

۞ رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّٰلِحِينَ ١٠١

Господи! Ты даровал мне власть и научил толковать сновидения. Творец небес и земли! Ты - мой Покровитель в этом мире и в Последней жизни. Умертви меня мусульманином и присоедини меня к праведникам».

اے میرے رب! تحقیق دی تو نے مجھے کچھ بادشاہی اور سکھائی تو نے مجھے تعبیر خوابوں کی، اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے! تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا اور آخرت میں تو فوت کر مجھے مسلمان اور ملا دے مجھے ساتھ صالحین کے (101)

[101] جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے یوسفu کو زمین میں مکمل اقتدار عطا کر دیا اور ان کے والدین اور بھائیوں کی ملاقات کے ذریعے سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی کر دیں تو یوسفu نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کا اقرار کرتے، اس پر اس کا شکر ادا کرتے اور اسلام پر ثبات اور استقامت کی دعا کرتے ہوئے کہا:﴿ رَبِّ قَدۡ اٰتَيۡتَنِيۡ مِنَ الۡمُلۡكِ ﴾ ’’اے رب تو نے مجھے بادشاہی سے حصہ دیا‘‘ یہ انھوں نے اس لیے کہا تھا کہ وہ زمین کے خزانوں کے منتظم اور بادشاہ کے بہت بڑے وزیر تھے۔ ﴿ وَعَلَّمۡتَنِيۡ مِنۡ تَاۡوِيۡلِ الۡاَحَادِيۡثِ ﴾ ’’اور مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔‘‘ یعنی تو نے مجھے آسمانی کتاب کی تفسیر اور خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا ﴿ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ١۫ اَنۡتَ وَلِيّٖ فِي الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِيۡ مُسۡلِمًا ﴾ ’’اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے… مجھے اسلام پر موت دے‘‘ یعنی مجھے اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھ حتیٰ کہ اسلام ہی پر مجھے وفات دے۔ یہ دعا موت کے جلدی آنے کی دعا نہیں ہے۔ ﴿ وَّاَلۡحِقۡنِيۡ بِالصّٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’اور مجھے نیک بندوں میں داخل کردیجیے۔‘‘ یعنی مجھے انبیاء و ابرار، اپنے چنے ہوئے اور بہترین بندوں میں شامل کر۔

12:102Страница 247

ذَٰلِكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلۡغَيۡبِ نُوحِيهِ إِلَيۡكَۖ وَمَا كُنتَ لَدَيۡهِمۡ إِذۡ أَجۡمَعُوٓاْ أَمۡرَهُمۡ وَهُمۡ يَمۡكُرُونَ ١٠٢

Все это - часть повествований о сокровенном, которые Мы ниспосылаем тебе в откровении. Ты не был с ними, когда они вместе принимали решение и строили козни.

یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں یہ آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ پاس ان (برادران یوسف) کے جب اتفاق کیا تھا انھوں نے اپنے معاملے پراور وہ مکرو فریب کرتے تھے (102)

[102] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفیﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ ﴿ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’غیب کی خبریں ہیں ، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ‘‘ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ ﴿ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے۔‘‘ ﴿ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ ﴾ ’’جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر‘‘ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ ﴿ وَهُمۡ يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ چال چل رہے تھے۔‘‘ جبکہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰu کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہاں فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ…﴾(القصص: 28؍44) ’’اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔‘‘ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔

12:103–107Страница 247

وَمَآ أَكۡثَرُ ٱلنَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ بِمُؤۡمِنِينَ ١٠٣

Большая часть людей не уверует, даже если ты страстно будешь желать этого.

وَمَا تَسۡـَٔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ لِّلۡعَٰلَمِينَ ١٠٤

Ты не просишь у них вознаграждения за это, ведь это - только Напоминание для миров.

وَكَأَيِّن مِّنۡ ءَايَةٖ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ يَمُرُّونَ عَلَيۡهَا وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُونَ ١٠٥

Как же много на небесах и на земле знамений, мимо которых они проходят и отворачиваются.

وَمَا يُؤۡمِنُ أَكۡثَرُهُم بِٱللَّهِ إِلَّا وَهُم مُّشۡرِكُونَ ١٠٦

Большая часть их верует в Аллаха, приобщая к Нему сотоварищей.

أَفَأَمِنُوٓاْ أَن تَأۡتِيَهُمۡ غَٰشِيَةٞ مِّنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ أَوۡ تَأۡتِيَهُمُ ٱلسَّاعَةُ بَغۡتَةٗ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ١٠٧

Неужели они не опасаются того, что покрывало наказания Аллаха окутает их или что Час настанет внезапно, когда они об этом и думать не будут?

اور نہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ حرص رکھیں ، ایمان لانے والے (103)اور نہیں مانگتے آپ ان (مشرکین مکہ) سے اوپر اس (تبلیغ) کے کوئی اجر، نہیں ہے وہ (قرآن) مگر نصیحت جہان والوں کے لیے (104)اور کتنی ہی نشانیاں ہیں (توحید اور قدرت الٰہی کی) آسمانوں اور زمین میں کہ وہ گزرتے ہیں ان پر سےاور وہ ان سے اعراض کرنے والے ہوتے ہیں (105) اور نہیں ایمان لاتے اکثر ان کے، ساتھ اللہ کے مگر وہ مشرک ہی ہوتے ہیں (106) کیا پس وہ بے خوف ہیں اس سے کہ آئے ان کے پاس چھا جانے والا کوئی عذاب اللہ کا یا آئے ان کے پاس قیامت اچانک اور وہ نہ آگاہی رکھتے ہوں ؟(107)

[103] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَمَاۤ اَكۡثَرُ النَّاسِ وَلَوۡ حَرَصۡتَ ﴾ ’’اور نہیں ہیں اکثر لوگ، اگرچہ آپ ان کے ایمان کی شدید خواہش رکھتے ہوں ۔‘‘ ﴿ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’ایمان لانے والے‘‘ کیونکہ ان کے مدارک و مقاصد فاسد ہو چکے ہیں اس لیے خیر خواہوں کی خیر خواہی انھیں کوئی فائدہ نہیں دے گی اگرچہ موانع معدوم ہی کیوں نہ ہوں ، یعنی اگرچہ یہ خیر خواہ انھیں تعلیم دیتے رہیں انھیں ان امور کی طرف بلاتے رہیں جن میں ان کے لیے بھلائی اور ان سے شر کا دفعیہ ہے، خواہ یہ خیر خواہ اپنی صداقت پر شواہد، آیات اور دلائل ہی کیوں نہ پیش کریں ۔

[104] بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا تَسۡـَٔؔلُهُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ اَجۡرٍ١ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ لِّلۡعٰلَمِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ ان سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، یہ تو صرف جہانوں کے لیے نصیحت ہے‘‘ اس کے ذریعے سے یہ نصیحت حاصل کرتے ہیں کہ کون سی چیز فائدہ مند ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور کون سی چیز نقصان دہ ہے تاکہ اسے چھوڑ دیں ۔

[105]﴿ وَؔكَاَيِّنۡ ﴾ ’’اور کتنی ہی‘‘ ﴿ مِّنۡ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ يَمُرُّوۡنَ عَلَيۡهَا ﴾ ’’نشانیاں ہیں آسمانوں اور زمین میں ، جن پر ان کا گزر ہوتا رہتا ہے‘‘ جو توحید الٰہی پر دلالت کرتی ہیں ﴿ وَهُمۡ عَنۡهَا مُعۡرِضُوۡنَ ﴾ ’’اور یہ ان سے روگردانی کرتے ہیں ۔‘‘

[106]﴿ وَ ﴾ ’’اور‘‘ ان میں سے کچھ لوگوں میں کچھ ایمان پایا بھی جاتا ہے تو ﴿وَ مَا يُؤۡمِنُ اَ كۡثَرُهُمۡ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمۡ مُّشۡرِكُوۡنَ ﴾ ’’ان اللہ کے ماننے والوں کی اکثریت مشرک ہے۔‘‘ یعنی وہ اگرچہ توحید ربوبیت کا اقرار کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، رازق اور تمام امور کی تدبیر کرنے والا ہے مگر وہ توحید الوہیت میں شرک کرتے ہیں ۔

[107] پس یہ لوگ اب اس حالت کو پہنچ گئے ہیں کہ ان پر نزول عذاب کے سوا کوئی بات باقی نہیں رہی اور یہ کہ ان کے پاس اچانک عذاب آجائے اور وہ اپنے آپ کو محفوظ اور مامون سمجھتے ہوں ۔بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَاَمِنُوۡۤا ﴾ ’’کیا یہ بے خوف ہیں ۔‘‘ یعنی کیا ان افعال کا ارتکاب کرنے اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ﴿ اَنۡ تَاۡتِيَهُمۡ غَاشِيَةٌ مِّنۡ عَذَابِ اللّٰهِ ﴾ ’’ان پر اللہ کا ایسا عذاب نازل ہو، جو سب کو ڈھانپ لے‘‘ اور ان کی جڑ کاٹ دے۔ ﴿اَوۡ تَاۡتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغۡتَةً ﴾ ’’یا ان پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے۔‘‘ ﴿ وَّهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ ﴾ ’’اور ان کو خبر نہ ہو‘‘ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مستحق بن چکے ہیں ۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں توبہ کریں اور ان اسباب کو ترک کر دیں جو ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں۔

12:108–109Страница 248

قُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَ ١٠٨

Скажи: «Таков мой путь. Я и мои последователи призываем к Аллаху согласно убеждению. Пречист Аллах, и я не являюсь одним из многобожников».

وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن قَبۡلِكَ إِلَّا رِجَالٗا نُّوحِيٓ إِلَيۡهِم مِّنۡ أَهۡلِ ٱلۡقُرَىٰٓۗ أَفَلَمۡ يَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَيَنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبۡلِهِمۡۗ وَلَدَارُ ٱلۡأٓخِرَةِ خَيۡرٞ لِّلَّذِينَ ٱتَّقَوۡاْۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ ١٠٩

До тебя Мы направляли посланниками только мужей из селений, которым мы внушали откровение. Разве они не странствовали по земле и не видели, каким был конец тех, которые жили до них? Воистину, обитель в Последней жизни лучше для богобоязненных. Неужели они не разумеют?

(اے پیغمبر!) کہہ دیجیے، یہی ہے راستہ میرا، میں بلاتا ہوں (تمھیں ) طرف اللہ کی، اوپر بصیرت کے ہوں میں اور وہ لوگ جنھوں نے میری پیروی کی اور پاک ہے اللہ (شریکوں سے)اور نہیں میں مشرکوں میں سے (108) اور نہیں بھیجے ہم نے پہلے آپ سے مگر مرد ہی، ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، بستیوں کے رہنے والوں میں سے، کیا پس نہیں سير کی انھوں نے زمین میں ، پس دیکھتے وہ کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے؟ اور البتہ گھر آخرت کا بہت بہتر ہے واسطے ان لوگوں کے جنھوں نے تقویٰ اختیار کیا، کیا پس نہیں عقل پکڑتے تم؟(109)

[108] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ قُلۡ ﴾ ’’(لوگوں سے) کہہ دیجیے!‘‘ ﴿ هٰؔذِهٖ سَبِيۡلِيۡۤ ﴾ ’’یہ میرا راستہ ہے‘‘ جس کی طرف میں دعوت دیتا ہوں ، یہ راستہ اللہ تعالیٰ اور اس کے کرامت کے گھر تک پہنچاتا ہے جو علم حق، اس پر عمل کرنے، اس کو ترجیح دینے اور اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص دین کو متضمن ہے۔ ﴿ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ﴾ ’’میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ۔‘‘ یعنی میں تمام مخلوق اور تمام بندوں کو اپنے رب کے پاس پہنچنے پر آمادہ کرتا ہوں اور انھیں اس کی ترغیب دیتا ہوں اور انھیں ان تمام امور سے ڈراتا ہوں جو انھیں اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ﴿ عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا﴾ ’’سمجھ بوجھ کر‘‘ یعنی میں اپنے دین کے بارے میں بغیر کسی شک و شبہ کے پورے علم و یقین پر ہوں ۔ ﴿ وَمَنِ اتَّبَعَنِيۡ﴾ ’’اور میرے متبعین بھی‘‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں جیسے میں اللہ تعالیٰ کے معاملے میں پوری بصیرت اور یقین کے ساتھ اس کی طرف بلاتا ہوں ۔ ﴿ وَسُبۡحٰؔنَ اللّٰهِ ﴾ ’’اور اللہ پاک ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے تمام امور کی نسبت سے پاک ہے جو اس کے کمال کے منافی ہیں اور اس کے جلال کے لائق نہیں ۔ ﴿ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ﴾ ’’ میں کسی بھی معاملے میں مشرکین میں شامل نہیں ‘‘ بلکہ دین کو صرف اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں ۔

[109]﴿ وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ اِلَّا رِجَالًا ﴾ ’’اور ہم نے آپ سے پہلے صرف مرد ہی رسول بنا کر بھیجے‘‘ یعنی ہم انسانوں کی ہدایت کے لیے فرشتے یا کوئی اور مخلوق نہیں بھیجتے۔ تب آپﷺ کی قوم کو آپ کی رسالت میں کون سی چیز انوکھی نظر آرہی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس کو ان پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ پس آپ کے لیے انبیائے سابقین میں اسوۂ حسنہ ہے۔ ﴿ نُّوۡحِيۡۤ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَهۡلِ الۡقُرٰى ﴾ ’’ہم وحی کرتے تھے ان کی طرف، (وہ) بستیوں کے رہنے والے ہیں‘‘ یعنی یہ انبیائے کرام صحراؤں میں رہنے والے نہیں تھے بلکہ بستیوں میں رہنے والے تھے جو سب سے زیادہ کامل عقل اور سب سے زیادہ صحیح رائے کے حامل تھے تاکہ ان کا معاملہ نہایت واضح اور ان کی شان نمایاں ہو۔ ﴿ اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِي الۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا پس انھوں نے زمین کی سیر نہیں کی‘‘ جب وہ آپﷺ کی بات کی تصدیق نہیں کرتے تو پھر کیا انھوں نے چل پھر کر نہیں دیکھا ﴿ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا۔‘‘ یعنی اور وہ دیکھتے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک کر ڈالا۔ لہذا تم بھی اس رویہ کو اختیار کرنے سے بچو جس رویے پر وہ قائم رہے ہیں ورنہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے گا جو ان پر نازل ہوا تھا۔ ﴿ وَلَدَارُ الۡاٰخِرَةِ ﴾ ’’اور آخرت کا گھر‘‘ یعنی جنت اور جنت کی دائمی نعمتیں ﴿ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا﴾ ’’ان لوگوں کے لیے بہتر ہیں جو پرہیز گار ہیں ‘‘ جو اللہ تعالیٰ کے اوامر کی تعمیل اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں کیونکہ دنیا کی نعمتیں منقطع ہو کر ختم ہو جانے والی ہیں ۔ آخرت کی نعمت کامل اور کبھی نہ فنا ہونے والی ہے بلکہ وہ ہمیشہ بڑھتی چلی جاتی ہے ﴿عَطَآءً غَيۡرَ مَجۡذُوۡذٍ﴾(ھود:11؍108) ’’یہ (اللہ تعالیٰ کی) بخشش ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگی‘‘ ﴿ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴾ ’’کیا تم سمجھتے نہیں ۔‘‘ یعنی کیا تمھارے پاس اتنی سی بھی عقل نہیں جو اعلیٰ کو ادنیٰ پر ترجیح دے سکے۔

Текст: Quranic Universal Library (Tarteel) через spa5k/tafsir_api (MIT), в зафиксированной версии. Аяты: Quran Foundation. Источники и лицензии

Содержание

Аят аль-Курси36Аль-Кахфстр. 42джуз 15Бухари 1Муслим 2999

Вид

Тема
Размер текста
Вид

Read in English